بھارت کا آئینی نظام اور اس سے تعامل کی شرعًا جائز صورت

مفتی صباح الدین ملک فلاحی قاسمی

ملک کے نظام اور اس کے ساتھ مسلمانوں کے مطلوب تعلق کی نوعیت پر تحریک کے ایک ممتاز عالم دین کی یہ تحریر ایک نقطہ نظر کے طور پر پیش کی جارہی ہے-اس پر اہل نظر کی رایوں کا خیر مقدم ہے۔

یہ عنوان دو وظائف کا مقتضی ہے: ایک، بھارت کے سیاسی نظام کی تصویر۔ دوسرے، اس سے تعامُل کی صورت کی تعیین۔

بھارت کا سیاسی نظام کیا ہے؟ اس کی ماہیت کیا ہے؟ اس سوال کا مستند جواب آئینِ ہند کی وہ دفعات ہیں جو اس نظام کے بنیادی (فیچرز) کی تصریح کرتی ہیں۔

آئین کا تاریخی پس منظر

یہ آئین اس قراردادِ مقاصد (Objectives Resolution) پر مبنی ہے، جو جواہر لال نہرو کے ذریعہ ڈرافٹ کرکے ۱۳؍ دسمبر ۱۹۴۶ء کو آئین ساز اسمبلی کو پیش کیا گیا تھا۔ ۲۶؍ نومبر ۱۹۴۹ء کو آئین ساز اسمبلی کے ذریعہ اختیار کیا گیا اور ۲۶؍ جنوری ۱۹۵۰ء سے نافذ العمل ہوا ۔ یہ ایک تمہید اور ۲۲ حصوں پر مشتمل ہے، جن میں ۳۹۵ دفعات ہیں۔ ضمیمہ کے طور پر نو فہرست بند ہیں۔ حصہ اول: یونین اور اس کا علاقہ، اور حصہ دوم: شہریت کے عنوان سے ہے۔

مطلوبہ مقصد کے لیے آئینِ ہند میں متعلقہ مقامات حسب ذیل ہیں:

۱) تمہید (Preamble) ۲) حصہ سوم:بنیادی حقوق (Fundamental Rights) ۳) حصہ چہارم: ریاستی پالیسی کے رہنما اصول (Directive Principles of State Policy) ۴) حصہ چہارم الف: شہریوں کے بنیادی فرائض ( Fundamental Duties) ۵) حصہ ۲۰: آئین میں ترمیم (Amendment of The Constitution)، دفعہ۳۶۸

گفتگو کو مستند رکھنے کے لیے آئین کی عبارتوں کو، تھوڑی طوالت کے باوجود، من وعن نقل کیا جاتا ہے۔نیز ان کی معروف تشریح بھی پیش کی جاتی ہے۔

(۱) تمہید (Preamble)

متن حسب ذیل ہے:

(ہم بھارت کے عوام انتہائی سنجیدگی سے یہ فیصلہ لیتے ہیں کہ بھارت کو ایک مقتدر، سماج وادی، غیر مذہبی، عوامی جمہوریہ بنائیں،اور اس کے شہریوں کے لیے حاصل کریں:

انصاف: سماجی، معاشی اور سیاسی۔

آزادی: خیال، اظہار، عقیدہ، دین اور عبادت کی۔

مساوات: حیثیت اور مواقع کی۔ اور ان کے درمیان فروغ دیں اخوت کو، جس سے فرد کی تکریم اور قوم کے اتحاد و سا لمیت کا تیقن ہو۔

اپنی آئین ساز اسمبلی میں آج ۲۶؍ نومبر ۱۹۴۹ء کو یہ آئین بذریعہ ہذا اختیار کرتے ہیں، وضع کرتے ہیں اوراپنے آپ پر نافذ کرتے ہیں)۔

تشریح

آئین کی یہ تمہید ایک مختصر تعارفی بیان ہے جو اس دستاویز کے رہنما مقصد اور اصولوں کو متعین کرتا ہے۔ یہ اس مأخذ کو بتاتا ہے جس سے یہ دستاویز اپنی استناد (Authority) اخذ کرتا ہے، یعنی عوام۔ عوام کی امیدوں، عزائم نیز قوم کے آئیڈیلز کا بیان اس تمہید میں واضح الفاظ میں کیا گیا ہے۔ اس تمہید کو بطورِ پیش لفظ (Preface) رِفر کیا جا سکتا ہے جو پورے آئین پر روشنی ڈالتا ہے۔ اسے آئین کی روح (The Soul of Constitution) سمجھا جا سکتا ہے۔ اس سے آئین کا افتتاح ہوتا ہے۔آئین میں یہ تمہید، حصہ اول سے بھی پہلے ہے۔ سمجھنے کے لیے یہ بات کہ اس کی حیثیت، قرآن کی مثال میں سورہ فاتحہ کی سی ہے۔

٭ توضیعی فارمولا: ( Enacting Formula)

توضیع کے یہ الفاظ کہ ( ہم، بھارت کے عوام ۔۔۔ اپنی آئین ساز اسمبلی میں ۔۔۔ بذریعہ ہذا، اختیار کرتے، وضع کرتے اور اپنے آپ کو یہ آئین دیتے ہیں ) یہ الفاظ اس جمہوری اصول کامعنیٰ دیتے ہیں کہ اقتدار آخری طور پر عوام کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ تمام اختیارات عوام سے نکلتے ہیں، اور سیاسی نظام عوام کے سامنے جواب دہ اور ذمہ دار ہوگا۔ یہ اس بات کو بتاتا ہے کہ آئین بھارتی عوام کے ذریعہ عوام کے لیے بنایا گیا ہے، نہ کہ کسی بیرونی طاقت (جیسے برطانوی پارلیمنٹ ) کے ذریعہ۔

٭ بھارتی ریاست کے تعارف میں، تمہید میں مذکور اوصاف اور اقدار

۱) مقتدر Sovereign

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر بیرونی قوت سے آزاد، اور داخلی طور پر ایک ایسی آزاد حکومت جو عوام کے انتخاب سے بنی ہو، اور خود قوانین بناتی اور حکومت چلاتی ہو۔ عوامی اقتدارِ اعلیٰ ( Popular Sovereignty)، آئینِ ہند کے بنیادی ڈھانچہ کا اہم ستون ہے۔

۲) سماج وادیSocialist

۱۹۷۶ء کے ۴۲ ویں ترمیم سے پہلے بھی آئین میں اسٹیٹ پالیسی کے کچھ متعینہ رہنما اصولوں میں سماج وادی مضمون موجود تھا۔ یہاں اس اصطلاح کے معنیٰ ہیں: جمہوری سوشلزم، یعنی جمہوری، ارتقائی وتدریجی اور پر امن ذرائع سے سماج وادی اہداف (Goals) کا حصول۔ ایک مخلوط معیشت، جس میں پبلک سیکٹر اور پرائیویٹ سیکٹر دونوں اقتصادی ترقی کے دو پہیوں کی طرح ایک ساتھ مل کر سرگرم ہوں۔

۳) غیر مذہبی  Secular

سیکولرزم آئینِ ہند کا بنیادی عنصر ترکیبی ہے۔ اس کا مطلب ہے وہ رشتہ جو حکومت اور عوام کے درمیان ہوگا، جو آئین و قانون کے مطابق طے کیا جا ئے گا۔ حکومت تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے۔ وہ کسی خاص مذہب کو ترقی یا تنزلی نہیں دے سکتی ہے۔ بھارت کے لیے ریاستی مذہب (State Religion) جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ مقدمہ ایس آر بومئی بنام یو او آئی (۱۹۹۴ء) میں سپریم کورٹ نے صراحت کی کہ: (سیکولر اسٹیٹ وہ ہے جو کسی مذہب کو ریاست کا مذہب کے طور پر نہیں مانتی، یہ تمام مذاہب سے یکساں سلوک کرتی ہے)۔

مثبت طور پر، بھارتی سیکولرزم تمام مذاہب کو یکساں آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ تمام شہریوں کے لیے آزادیِ مذہب کے حق کا علم بردار ہے۔ بھارت میں سیکولرزم کا جو معنیٰ اختیار کیا گیا ہے، اس کی تشریح کرتے ہوئے الگزنڈر اووِکس نے لکھا ہے: سیکولرزم بھارتی آئین کی بنیادی ساخت کا ایک حصہ ہے۔ جس کا مطلب ہوتا ہے: تمام مذاہب کے لیے مساوی آزادی اور احترام۔

۴) عوامی   Democratic

تمہید میں یہ الفاظ کہ: ہم، بھارت کے عوام ۔۔۔ اپنے آپ کو یہ آئین دیتے ہیں۔ صاف طور پر یہ اعلان کرتے ہیںکہ بھارت ایک جمہوریہ ہے۔ عوام ہی ہر سطح پر اپنی حکومت منتخب کرتے ہیں ۔ ہر بالغ شہری، بغیر کسی امتیاز کے اس حق کا استعمال کرتا ہے۔ جمہوری صرف سیاسی معنیٰ میں نہیں ہے بلکہ سوشل اور اکنامک معنیٰ میں بھی ہے۔

۵) جمہوریہ   Republic

ری پبلک طرزِ حکومت میں ریاست کا صدر ایک منتخب شخص ہوتا ہے، نہ کہ خاندانی موروثی بادشاہ۔ (Hereditary Monarchy)۔ ری پبلک میں، ریاست کا ہیڈ متعین مدت کے لیے ہوتا ہے، جب کہ نظامِ شاہی میں وراثتی بنیاد پر تا حیات تخت پر بٹھایا جاتا ہے۔ صدر جمہوریۂ ہند ۵ سال کے لیے الکٹورل کالج کے ذریعہ منتخب ہوتا ہے۔ہر شہری صدر بننے کا اہل ہے۔اسٹیٹ کا لیڈر عوام کے ذریعہ منتخب ہوتا ہے۔ کوئی بھی پبلک منصب بطور مالکانہ حق (Properietary Right) کے نہیں ہوتا۔

٭ اقدارValues

الف) عدل و انصاف ( Justice): یہ ایک معروف انسانی قدر ہے۔ اس کے بغیر کوئی معاشرہ، انسانی معاشرہ نہیں کہلا سکتا۔ یہ کسی تشریح سے تقریبًا بے نیاز ہے۔عدل میں سماجی، اقتصادی اور سیاسی، تینوں پہلو شامل ہیں۔

ب) حریت و آزادی  Liberty

لبرٹی کے تصور کا مطلب ہے شہریوں کو سرگرمیوں کی آزادی ۔ یہ بتاتا ہے کہ بھارتی شہریوں پر اس سلسلہ میں کوئی غیر معقول بندش یا پابندی نہیں ہے کہ وہ کیا سوچتے ہیں، ان کا طریقِ اظہار کیا ہے، وہ کس طرح اپنے خیالات کو عمل میں لانے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ جمہوری فریم ورک پیدا کرنے میں یہ ایک اہم وسیلہ پایا گیا ہے۔بہر حال لبرٹی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی کچھ بھی کرے، بلکہ اسے لازمی طور پر آئینی حدود میں ہی استعمال کیا جائے گا۔

ج) مساوات Equality

اس کا مطلب ہے کہ سماج کا کوئی سیکشن خصوصی مراعات سے محظوظ نہیں ہوگا۔ افراد کو مناسب مواقع، بلا امتیاز فراہم کیے جائیں گے۔ قانون کے سامنے سب برابر ہوں گے۔ مساوات کے تین پہلو ہیں: سیاسی، اقتصادی اور سماجی۔

د) اخوت و بھائی چارہ   ٖFraternity

اس کا مطلب ہے، ملک کے عوام کے درمیان باہم احساسِ اخوّت اور ملک ووطن سے تعلق کا احساس۔ یہ تصور وطنی سا لمیت کا ایک نفسیاتی نیز جغرافیائی بُعد کا حامل ہے۔ یہ علاقائیت، فرقہ واریت، جاتی واد وغیرہ کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا، جو کہ اسٹیٹ کے اتحاد میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔ فریٹرنٹی کا آئیڈیا تجویز کرتے وقت ڈاکٹر امبیدکر (چیرمین) کا کہنا تھا کہ:

یہ ایک مکمل طریقِ زندگی ہے جو آزادی (Liberty)، مساوات اور اخوت (Fraternity) کو اصولِ حیات کے طور پر تسلیم کرتا ہے، اور جو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ حریت، مساوات سے الگ نہیں کی جا سکتی ۔ مساوات، حریت سے الگ نہیں کی جا سکتی۔ اسی طرح حریت اور مساوات، اخوت سے الگ نہیں کی جا سکتی۔ بغیر مساوات، حریت کچھ لوگوں کو زیادہ لوگوں پر برتری کا ذریعہ بنے گی۔ بغیر حریت، مساوات انفرادی پہل کو قتل کردے گی۔ بغیر اخوت، حریت اور مساوات امور کا فطری کورس نہیں بن پائے گی۔

٭ آئین کی جزئیت ( Integrity) اور ترمیم کی اہلیت ( Amendablity)

بیروبیری کیس (۱۹۶۰ء) میں سپریم کورٹ کی رائے تھی کہ تمہید آئین کا حصہ (انٹگرل پارٹ) نہیں ہے۔ مگر بعد میں مقدمہ کیسا ونندا بھارتی بنام کیرلا اسٹیٹ ( ۱۹۷۳ء) میں سابق فیصلوں کو منسوخ ( Over-rule) کر کے ایک جامع قانونی رائے (Verdict) کے تحت اس نے تمہید کو آئین کا حصہ قرار دیا، اور آئین کی کسی دفعہ میں ترمیم کی طرح اسے بھی پارلیمنٹ کے ترمیم کے تحت قرار دیا، بشرطیکہ یہ ترمیم آئین کی بنیادی ساخت کو مجروح نہ کرے۔ نیز تسلیم کیا کہ تمہید کو آئین کے ان مبہم حصوں کی تعبیر وتشریح کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں مختلف تعبیرات موجود ہوں۔ مقدمہ یونین گورنمنٹ بنام ایل آئی سی آف انڈیا (۱۹۹۵ء ) میں بھی سپریم کورٹ نے ایک بار پھر تصریح کی کہ تمہید آئینِ ہند کا لازمی حصہ ہے۔

تمہید صرف ایک بار بدلا گیا۔ ابتدائً جب تمہید تیار کیا گیا تو اس میں اسٹیٹ کو (مقتدر عوامی جمہوریہ) کے اوصاف میں بیان کیا گیا ۔۱۸؍ دسمبر ۱۹۷۶ء کو، ملک میں ایمر جنسی کے دوسرے سال، اندرا گاندھی کی حکومت میں، ۴۲ ویں ترمیم میں، ان کے ساتھ دو مزید وصف سماج وادی (سوشلسٹ) اور غیر مذہبی (سیکولر) کا اضافہ کیا گیا۔ نیز یونیٹی آف دَ نیشن کی ترکیب میں انٹگریٹی کا اضافہ کیا گیا۔

کچھ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ الفاظ تمہید سے کبھی بھی نکالے نہیں جا سکتے، کیوں کہ یہ آئین کی بنیادی ساخت کے حصے کی تشکیل کرتے ہیں، جسے سپریم کورٹ کی تائید حاصل ہے۔ اروِند داتار کا قول نقل کیا جاتا ہے کہ: (حتیٰ کہ وہ حکومت جس نے لوک سبھا کی مکمل ۵۴۳ سیٹیں جیت لی ہوں، اسے بدل نہیں سکتی)۔اس کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نظری طور پر ترمیم کا امکان ہونے کے باوجود عملا ترمیم ممکن نہیں ہے۔

(۲) حصہ سوم: بنیادی حقوق (متعلقہ دفعات)

بنیادی حقوق کا تحفظ: (دفعہ ۱۳)

دفعہ ۱۳: ۲) ریاست کوئی ایسا قانون نہ بنائے گی جو اس حصہ کے ذریعہ عطا کیے ہوئے حقوق کو چھین لے، یا ان میں کمی کرے۔ اور کوئی قانون جو اس فقرہ کی خلاف ورزی میں بنایا جائے، خلاف ورزی کی حد تک باطل ہوگا۔

۴) اس دفعہ کے کسی امر کا اطلاق اس آئین کی کسی ایسی ترمیم پر نہ ہوگا جو دفعہ ۳۶۸ (آئین کی ترمیم) کے تحت کی گئی ہو۔

حقِ مساوات: (دفعات ۱۴، ۱۵، ۱۶، ۱۷، ۱۸)

دفعہ ۱۴: مملکت کسی شخص کو بھارت کے علاقہ میں، قانون کی نظر میں مساوات یا قانون کے مساویانہ تحفظ سے محروم نہیں کرے گی۔

حق آزادی: (دفعات ۱۹، ۲۰، ۲۱، ۲۲)

دفعہ ۱۹: تمام شہریوں کو حق حاصل ہوگا: الف)تقریراور اظہار کی آزادی کا ب) جمع ہونے کا ج) انجمنیں یا یونین قائم کرنے کا

د) آزادانہ نقل وحرکت کا ھ) بود وباش کرنے کا و) کوئی بھی پیشہ اختیار کرنے کا۔

مذہب کی آزادی کا حق: (دفعات ۲۵، ۲۶، ۲۷، ۲۸)

دفعہ ۲۵: تمام اشخاص کو آزادیِٔ ضمیر، آزادی سے مذہب قبول کرنے، اس کی پیروی اور اس کی تبلیغ کرنے کا مساوی حق ہے، بشرطیکہ امنِ عامہ،

اخلاقِ عامہ، صحتِ عامہ اور اس حصہ کی دیگر توضیعات متأثر نہ ہوں۔

دفعہ ۲۶: ہر مذہبی فرقے کو حق ہوگا: مذہبی، خیراتی ادارے قائم کرنے کا، مذہبی امور کا انتظام خود کرنے کا۔

ثقافتی اور تعلیمی حقوق (اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ): (دفعات ۲۹، ۳۰ )

دفعہ ۳۰: تمام اقلیتوں کو (مذہبی یا لسانی) اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور انتظام کرنے کا حق ہوگا۔

(۳) حصہ چہارم: ریاستی پالیسی کے رہنما اصول (دفعات ۳۶ تا ۵۱)

دفعہ ۴۴: ریاست یہ کوشش کرے گی کہ بھارت کے پورے علاقے میں شہریوں کے لیے یکسا ں مجموعۂ قانونِ دیوانی کی ضمانت ہو۔

دفعہ ۵۱: ریاست کی کوشش ہوگی کہ وہ (الف) بین الاقوامی امن وسلامتی کو فروغ دے (ب) قوموں کے درمیان منصفانہ اور با عزت تعلقات قائم کرے (ج) منظم اقوام کے باہمی معاملات میں بین الاقوامی قانون اور عہد نامہ کے وجوب کے احترام کو بڑھائے اور قائم رکھے، اور (د) بین الاقوامی تنازعات کو ثالثی کے ذریعہ طے کرنے کی حوصلہ افزائی کرے۔

(۴) حصہ چہارم الف: شہریت کے بنیادی فرائض

دفعہ ۵۱ الف: بھارت کے ہر شہری کا فرض ہوگا کہ وہ:

الف) آئین پر کاربند رہے، اور اس کے نصب العین اور اداروں، قومی پرچم اور قومی ترانے کا احترام کرے۔

ب) ان اعلیٰ نصب العین کو عزیز رکھے اور ان کی تقلید کرے جو آزادی کی تحریک میں قوم کی رہنمائی کرتے رہے ہیں۔

ج) بھارت کے اقتدارِ اعلیٰ، اتحاد اور سالمیت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کر کے ان کا تحفظ کرے۔

د) ملک کی حفاظت کرے اور جب ضرورت پڑے قومی خدمت انجام دے۔

ھ) مذہبی، لسانی، علاقائی اور طبقاتی تفرقات سے قطعِ نظر بھارت کے عوام الناس کے ما بین یک جہتی اور عام بھائی چارے کے جذبہ کو فروغ دے۔

نیز ایسی حرکات سے باز رہے جن سے خواتین کے وقار کو ٹھیس پہنچتی ہو۔

و) ملک کی ملی جلی ثقافت کی قدر کرے اور اسے برقرار رکھے۔

ز) قدرتی ماحول کا تحفظ

ح) دانشورانہ رویہ سے کام لے کر انسان دوستی اور تحقیقی و اصلاحی شعور کو فروغ دے۔

ط) قومی جائیداد کا تحفظ اور تشدد سے گریز۔

ی) تمام انفرادی و اجتماعی شعبوں کی بہترکار کردگی کے لیے کاشاں رہے، تاکہ قوم متواتر ترقی وکامیابی کی منازل طے کرنے میں سرگرمِ عمل رہے۔

(۵) حصہ ۲۰ آئین کی ترمیم دفعہ۳۶۸:

۱)اس آئین میںکسی امر کے با وجود، پارلیمنٹ اپنے آئین سازی کے اختیار کے استعمال میں، اس آئین کی توضیعات میں اضافہ، تبدیلی یا تنسیخ کے

طور پر اس دفعہ میں مندرِج طریقِ کار کے مطابق ترمیم کر سکے گی۔

۳) دفعہ ۱۳ کے کسی امر کا اطلاق اس دفعہ کے تحت کی ہوئی کسی ترمیم پر نہ ہوگا۔

۵) شبہات رفع کرنے کے لیے بذریعہ ہذا قرار دیا جاتا ہے کہ اس دفعہ کے تحت اس آئین کی توضیعات میں اضافہ، تبدیلی یا تنسیخ کے طور پر ترمیم کرنےکا پارلیمنٹ کا آئین سازی کا اختیار کسی بھی طرح محدود نہیں ہوتا ہے۔

بھارتی نظام کی ماہیت ایک نظر میں

متعلقہ آئینی تفصیلات کا خلاصہ حسبِ ذیل ہے۔ اس سے، ایک نظر میں، بھارتی سیاسی نظام کی ماہیت اور اس کے عناصرِ ترکیبی سامنے آجاتے ہیں:

٭ تمہید: بھارت ایک مقتدر، سماج وادی، غیر مذہبی، عوامی جمہوریہ۔ شہریوں کے لیے انصاف: سماجی، معاشی اور سیاسی۔ آزادی: خیال، اظہار، عقیدہ، دین، اور عبادت کی۔ مساوات: حیثیت اور موقع کی۔ باہمی اخوت، جس سے فرد کی تکریم اور قوم کے اتحاد و سا لمیت کا تیقُّن ہو۔

٭ بنیادی حقوق کا تحفظ: ریاست کوئی ایسا قانون نہ بنائے گی جو اس حصہ کے ذریعہ عطا کیے ہوئے حقوق کو چھین لے، یا ان میں کمی کرے۔ اور کوئی قانون جو اس فقرہ کی خلاف ورزی میں بنایا جائے، خلاف ورزی کی حد تک باطل ہوگا۔

اس دفعہ کے کسی امر کا اطلاق اس آئین کی کسی ایسی ترمیم پر نہ ہوگا جو دفعہ ۳۶۸ (آئین کی ترمیم) کے تحت کی گئی ہو۔

حقِ مساوات: مملکت کسی شخص کو بھارت کے علاقہ میں، قانون کی نظر میں مساوات یا قانون کے مساویانہ تحفظ سے محروم نہیں کرے گی۔

حق آزادی: تمام شہریوں کو حق حاصل ہوگا: الف)تقریراور اظہار کی آزادی کا، ب) جمع ہونے کا ،ج) انجمنیں یا یونین قائم کرنے کا، د) آزادانہ نقل وحرکت کا، ھ) بود وباش کرنے کا ،و) کوئی بھی پیشہ اختیار کرنے کا۔

مذہب کی آزادی کا حق: تمام اشخاص کو آزادیِٔ ضمیر، آزادی سے مذہب قبول کرنے، اس کی پیروی اور اس کی تبلیغ کرنے کا مساوی حق ہے، بشرطیکہ امنِ عامہ، اخلاقِ عامہ، صحتِ عامہ اور اس حصہ کی دیگر توضیعات متأثر نہ ہوں۔

ہر مذہبی فرقے کو حق ہوگا: مذہبی، خیراتی ادارے قائم کرنے کا، مذہبی امور کا انتظام خود کرنے کا۔

ثقافتی اور تعلیمی حقوق: تمام اقلیتوں کو (مذہبی یا لسانی) اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور انتظام کرنے کا حق ہوگا ۔

٭ ریاستی پالیسی کے رہنما اصول:

ریاست یہ کوشش کرے گی کہ بھارت کے پورے علاقے میں شہریوں کے لیے یکسا ں مجموعۂ قانونِ دیوانی کی ضمانت ہو۔

ریاست کی کوشش ہوگی کہ وہ (الف) بین الاقوامی امن وسلامتی کو فروغ دے (ب) قوموں کے درمیان منصفانہ اور با عزت تعلقات قائم کرے۔ (ج) منظم اقوام کے باہمی معاملات میں بین الاقوامی قانون اور عہد نامہ کے وجوب کے احترام کو بڑھائے اور قائم رکھے، اور (د) بین الاقوامی تنازعات کو ثالثی کے ذریعہ طے کرنے کی حوصلہ افزائی کرے۔

٭ شہریت کے بنیادی فرائض: بھارت کے ہر شہری کا فرض ہوگا کہ وہ:

الف) آئین پر کاربند رہے، اور اس کے نصب العین اور اداروں، قومی پرچم اور قومی ترانے کا احترام کرے۔ ب) ان اعلیٰ نصب العین کو عزیز رکھے اور ان کی تقلید کرے جو آزادی کی تحریک میں قوم کی رہنمائی کرتے رہے ہیں۔ ج) بھارت کے اقتدارِ اعلیٰ، اتحاد اور سالمیت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کر کے ان کا تحفظ کرے۔ د) ملک کی حفاظت کرے اور جب ضرورت پڑے قومی خدمت انجام دے۔ ھ) مذہبی، لسانی، علاقائی اور طبقاتی تفرقات سے قطعِ نظر بھارت کے عوام الناس کے ما بین یک جہتی اور عام بھائی چارے کے جذبہ کو فروغ دے۔ نیز ایسی حرکات سے باز رہے جن سے خواتین کے وقار کو ٹھیس پہنچتی ہو۔ و) ملک کی ملی جلی ثقافت کی قدر کرے اور اسے برقرار رکھے۔ ز) قدرتی ماحول کا تحفظ۔ ح) دانشورانہ رویہ سے کام لے کر انسان دوستی اور تحقیقی و اصلاحی شعور کو فروغ دے۔ ط) قومی جائیداد کا تحفظ اور تشدد سے گریز۔ ی) تمام انفرادی و اجتماعی شعبوں کی بہترکار کردگی کے لیے کاشاں رہے، تاکہ قوم متواتر ترقی وکامیابی کی منازل طے کرنے میں سرگرمِ عمل رہے۔

٭ آئین کی ترمیم: اس آئین میںکسی امر کے با وجود، پارلیمنٹ اپنے آئین سازی کے اختیار کے استعمال میں، اس آئین کی توضیعات میں اضافہ، تبدیلی یا تنسیخ کے طور پر اس دفعہ میں مندرِج طریقِ کار کے مطابق ترمیم کر سکے گی۔

دفعہ ۱۳ کے کسی امر کا اطلاق اس دفعہ کے تحت کی ہوئی کسی ترمیم پر نہ ہوگا۔

شبہات رفع کرنے کے لیے بذریعہ ہذا قرار دیا جاتا ہے کہ اس دفعہ کے تحت اس آئین کی توضیعات میں اضافہ، تبدیلی یا تنسیخ کے طور پر ترمیم کرنے کا پارلیمنٹ کا آئین سازی کا اختیار کسی بھی طرح محدود نہیں ہوتا ہے۔

ملاحظات

۱۔ بھارت کے سیاسی انتظام کے لیے، اس کی آبادی کی طبیعت (Nature) کو ملحوظ رکھتے ہوئے، سب کے لیے ایک قابلِ قبول (سیاسی میثاق ) بطورِ آئین وضع کیا گیا۔ بھارت جیسی ریاست کے لیے غالبًا اس سے بہتر کوئی میثاق تیار کرنا ممکن نہیں تھا۔یہ کوئی مسلم آبادی والی ریاست نہیں تھی کہ آئین خالص قرآنی واسلامی اصولوں پر مبنی بنا یا جاتا۔ لہٰذااصل مسئلہ انسانی آبادی کو مسلم ( اللہ کا فرماں بردار) بنانے کا ہے۔

الف) مقتدر (ساورِن)، عوامی(ڈیموکریٹک) اور جمہوریہ (ری پبلک) ہونا بھارتی ریاست کے عناصرِ ترکیبی ہیں۔ ب) سماج وادی اور سیکولر ہونا، مختلف طبقات اور فرقوں کے سلسلہ میں ایک معتدل پالیسی ہے۔ اگر ریاست سیکولر نہ ہو کر مذہبی ہو تو بھارت میں اس کا ترجمہ ہوتا ہے: ہندو راشٹر۔ ت) انصاف، حریت، مساوات اور اخوت کی اقدار ریاست کو ایک باعزت انسانی معاشرہ اور باہم دگر پیوست قوم کی صورت گری کے لیے ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ریاست کے یہ متنوع اوصاف اور اقدارایک دوسرے کی مصلح ہیں۔ ایک دوسرے کو محدود کر کے معتدل بناتی ہیں۔

۲۔ بنیادی حقوق کے باب میں، اس کی حفاظت کی ضمانت دینے والی شق کے ساتھ، انصاف، حریت، مساوات کی قدروں کی مزید جزئی تفصیل کی گئی ہے۔ خصوصًا مذہبی آزادی کا حق: ۱) اپنی پسند کا مذہب قبول کرنے ۲) اس پر عمل کرنے ۳) اس کی تبلیغ کرنے ۴) مذہبی خیراتی ادارے قائم کرنے ۵) مذہبی تعلیمی ادارے قائم کرنے ۶) انجمنیں اور تنظیمیں بنانے کے حقوق نے اس آئین کو ایک اعلیٰ انسانی آئین بنا دیا ہے۔

۳۔ ریاستی پالیسی کے اصولوں میں امورِ خارجہ کے لیے معتدل پالیسی کا تذکرہ ہے۔ البتہ آئین میں، ریاست کی کل آبادی کو ایک یکساں سِوِل کوڈ کے تحت لانے کی کوشش والی ہدایت کی شمولیت، کئی اصولوں اور اقدار سے متصادم ہے۔اس کے پسِ پشت، میرے ذاتی احساس کے مطابق تین باتیں رہی ہوں گی: الف۔ دلت سماج کو، اس کے ذریعہ، ہندو فرقہ کے مین اسٹریم میں داخلہ اور اپر کاسٹ کے برابر ہو جانے کا موقع ملتا ہے۔ امبیدکر یہ بات سمجھ سکتے تھے۔ ب۔وہ لوگ یہ نہیں سمجھ پا رہے تھے کہ ریاست میں بعض ایسے مذہبی فرقے بھی ہیں، جن کا سِوِل کوڈ بھی، پرسنل لا کی حد تک، ان کے مذہبی وجود کا جزئِ لاینفک یا ماہیتی عنصر ہیں۔ چیزوں کو اپنے مذہب اور رسوم پر قیاس کیا۔ دوسرے یہ کہ مذہب میں اصلاح کا جذبہ رہا۔ تعلیم و طبیعت میں مغربی لا مذہبیت کے اثرات رہے۔ لہٰذا مسئلہ کو خفیف سمجھا۔تنبیہ کرانے پر بھی متوجہ نہیں ہوئے۔ یہ ظاہر کیا کہ ہر فرقہ خصوصا مسلمان اپنا تحفظ کرلیں گے۔ ت۔ہندتوا وادی سوچ اور ثقافتی قومیت کی سوچ والے جذباتیت پیدا کرتے رہے، جس کی ایک مثال، آئین ساز اسمبلی میں،کے ایم منشی کی تقریرہے۔

۴۔ شہریوں کے بنیادی فرائض میں، عہدِ وفاداری کے ساتھ جذبۂ وطنیت اور رواداری و خیر سگالی کی امید کی گئی ہے، جو کہ معقول طور پر ریاست کا حق ہے۔

۵۔ آئین کی ترمیم کے باب میں، تمہید سے لے کر، بنیادی حقوق، رہنما اصول، بنیادی فرائض سے لے کر آئین کی آخری دفعہ ۳۹۵ تک، ہر دفعہ قابلِ ترمیم قرار دی گئی ہے۔ خود آئین کی ترمیم کی دفعہ ۳۶۸ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔

۶۔ اصل اور اہم بات یہ ہے کہ بھارتی قوم کی اکثریت اور جمہور عوام ہی بالآخر آئین کی تمام ضمانتوں کی ضمانت ہیں، خود آئین نہیں۔ اس طرح یہ ایک ایڈہاک انتظام ہے۔ مگر اس میں اسلامی تحریک کے لیے، اپنی جد و جہد کے مختلف مراحل میں، احوال وظروف کو دیکھتے ہوئے، نافذ آئین اور قائم نظام کے ساتھ مثبت اور نتیجہ خیز تعامل کی راہ اپنا کر منزل تک پہنچنے کی قوی امیدیں ہیں۔یہیں پر فراستِ مومن کا امتحان ہے۔اللہ ہمیں اس میں کامیاب کرے، آمین۔

خلاصۂ بحث

بھارت کا سیکولر جمہوری آئین ونظام اس صورتِ واقعہ کی پیداوار ہے کہ یہاں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ ایک ایسا آئین ونظام جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو اور سب کے حقوق وترقی کا نگہبان ہو۔ یہاں کی آبادی کی عظیم اکثریت مسلمان نہیں ہے کہ قرآنی اسلامی آئین ونظام کے قیام کا سوال پیدا ہو۔ امت کی ذمہ داری ہے کہ انسانی آبادی کو خدا کا فرماں بردار بنائے، تاکہ بالآخر اسلامی نظام کے قیام کی منزل آسکے۔ تب تک کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ اس آئین ونظام کے ساتھ مسلمان ملت کے تعامل کی جائز حکیمانہ صورت کیا ہو؟

اس اصل سوال کا جواب چند ذیلی سوالات کے جواب پر منحصر ہے

۱۔ کیا مذہب قبول کرنے، اس پر عمل کرنے، اس کی تبلیغ کرنے، اس کے لیے ادارے، تعلیم گاہیںاور تنظیمیںبنانے کی آزادی اور حق موجود ہے یا نہیں؟

۲۔ دوسرے، آئین و نظام کو تبدیل کرنے کا آئینی راستہ موجود ہے یا نہیں؟

اگر یہ سارے حقوق، آزادیاں اور تبدیلی کا آئینی راستہ موجود ہیں، تو آئین و نظام سے ہمارا تعامل، تعاون، بِرّ اور اقساط کا ہوگا، عدمِ تعاون اور عِداء کا نہیں۔

جنوری 2020

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau