بدعات — محرکات اور نتائج

سلیم شاکر

کافروں سے مشابہت

کافروں سے مشابہت سب سے زیادہ بدعتوں میں مبتلا کرنے والی چیزوں میں سے ہے۔خصوصاً برصغیر ہندوستان میں غیر مسلموں کے ساتھ رہتے ہوئے اکثر مسلمان اپنے پڑوسی غیر مسلموں کی مشابہت اختیا کرلیتے ہیں۔ ابواقدلیثی کی حدیث میں ہے کہ ہم اللہ کے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین کی طرف نکلے اور ہمارے کفر کا زمانہ ابھی قریب ہی تھا ۔  مشرکوں کے لئے ایک بیری کا درخت تھا جہاں یہ لوگ ٹھہرتے تھے اور جس کے ساتھ اپنے ہتھیارلٹکاتے تھے جسے ذات انوات کہا جاتاتھا۔ ہمارا گزر بیری کے درخت کے پاس سے ہوا۔ ہم لوگوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے لئے بھی ذات انوات بنادیجئے جیسا ان کے لئے ہے۔ رسول اللہ ﷺ  نے تعجب کرتے ہوئے اللہ اکبر، یہی سنتیں ہیں کیا؟  اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ تم لوگوں نے ویسے ہی کہا جیسے کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیؑ سے کہا: ہمارے لئے بھی ایک معبودایسا ہی مقرر کردیجیئے جیسے ان کے یہ معبود ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔ تم لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقے ضرور اختیار کروگے۔

بدعت سنت کو مٹا دیتی ہے

موقوف حدیث میں ہے کہ جب کوئی قوم بدعت ایجاد کرتی ہے تواللہ تعالی اس سے اس جیسی سنت چھین لیتا ہے جسے قیامت تک نہیں لوٹاتا۔ (سنن دارمی) بدعت اختلاف و انشقاق کا دروازہ کھولتی ہے جبکہ اسلام میں اختلاف و افتراق سے سختی کے ساتھ منع کیاگیاہے۔بدعت کا ایجاد کرنے والارسول اکرم ﷺ پر خیانت کا الزام لگاتا ہے۔امام مالک رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس نے دین میں بدعت ایجاد کی تو گویا اس نے اللہ کے رسول ﷺ پر تبلیغ رسالت میں خیانت کا الزام لگایا۔

حضرت عمر فاروق ؓ سے مروی ہے کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم میری تعریف میں حد سے آگے نہ بڑھ جانا جس طرح نصاریٰ حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام کے بارے میں حد سے آگے بڑھ گئے تھے۔ میں اللہ کا بندہ ہوں اور مجھے تم اللہ کا بندہ کہو۔خیر کی زیادتی ہمہ وقت خیر نہیں ہوتی  بلکہ شر سے بدل جاتی ہے۔کوئی بھی جب حد سے آگے بڑھ جاتا ہے تواپنے ضد کی طرف لوٹ جاتا ہے۔اسی لئے اللہ کے رسول ﷺ نے دین میں غلو سے روکا ہے۔(سنن نسائی)

اہل بدعت کا انجام

بدعتی کا عمل مقبول نہیں اور نہ ہی اس کی توبہ قبول کی جاتی ہے جب تک وہ بدعت نہ چھوڑ دے۔ بدعتی حوض کوثر پرنہ جاسکے گا اور نہ ہی اسے اللہ کے رسول ﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی۔  بدعتی سے توبہ کی امید بہت کم ہوتی ہے کیونکہ وہ بدعت کے عمل کو کار ثواب سمجھ کر کرتا ہے اسی لئے شیطان معصیت سے زیادہ بدعت پر خوش ہوتا ہے۔ عصر حاضر میں بدعتوں کے چندنمونے مندرجہ ذیل میں پیش کئے گئے ہیں:

بدعات محرم

محرم اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ مہینہ رسوم و بدعات کا پلندہ بن کے رہ گیا ہے۔اللہ تعالی نے اس مہینہ کو بڑا محترم ٹھہرایا ہے۔اس مہینہ کی دو تاریخ کو دس نبیوں کو دس فضائل سے مخصوص فرمایا۔ حضرت آدم ؑ کی توبہ قبول فرمائی، حضرت ادریسؑ کو اونچے مقام پر ٹھہرایا، حضرت نوحؑ کی کشتی کو جودی پہاڑ پر ٹھہرایا،حضرت ابراہیم ؑ کو پیدا فرمایا، حضرت دائودؑ کی توبہ قبول فرمائی، حضرت سلیمان ؑ کو دوبارہ ملک عطافرمایا،حضرت ایوبؑ کو پرانی بیماری سے شفابخشی، حضرت موسی ؑ کو دریا سے نجات دلائی،حضرت یونس ؑ کو مچھلی کے پیٹ سے نکالااور حضرت عیسی ؑ کو آسمان پر اٹھایا۔ جبکہ مسلمانوں کے کچھ گروہ ان دنوں ماتمی لباس پہن کرحضرت حسین ؓ کی شہادت کا ماتم کرتے ہیں،  بچوں کو سبز رنگ کے کپڑے پہناکر حضرت حسین ؓ  کا منگتا بناتے ہیں،کو چوں اور چورستوں میں پانی اور دودھ کی سبیلیں لگاتے ہیں، اس مہینے میں شادی بیاہ اور خوشی کے تمام کاموں پرمستقل پابندی لگاکر سوگ مناتے ہیں،کھیر کے پیالے  بانٹتے ہیں، نیاز حسینؓ کے نام پر حلیم پکاتے ہیں، ماہ محرم کا چاند طلوع ہوتے ہی بازاروں اور دکانوں پر شہادت حسینؓ کے حوالے سے رلادینے والی تقاریر کرتے ہیں،اس مہینہ میں شادی کرنا بہت معیوب سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کو غم کا مہینہ مانتے ہیں، اس مہینے میں قبروں پر مٹی لیپ دی جاتی ہے، اور مرد اور عورتیں اکٹھے مٹی لیپتے ہیں۔ ایسے میں قبرستان ایک بازار سا لگتا ہے کیونکہ اس وقت بہت بھیڑ ہوتی ہے۔محرم کو سوگ کا مہینہ قرار دیاجاتاہے۔اپنے اوپر خوشیوں اور مسرتوں کوحرام ٹھہرایاجاتاہے۔بعض کہتے ہیں کہ اس مہینہ میں سیدناحضرت حسینؓ  شہید ہوئے تھے۔ اس لئے یہ سوگ کا مہینہ ہے۔

بدعات صفر: صفر اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے۔عرب والے دور جاہلیت میں صفر کے مہینے کو منحوس سمجھتے تھے اور آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی یہی عقیدہ چلا آرہا ہے۔اس مہینے میں شادی بیاہ نہیں کرتے، اپنی لڑکیوں کو رخصت نہیں کرتے،اور سفر کرنا بھی نامبارک سمجھا جاتا ہے۔بعض اس من گھڑت نحوست کو دور کرنے کے لئے چنوں کو ابال کر گھنگھنیاں تقسیم کرتے اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس سے نحوست اور بے برکتی دور ہوجاتی ہے۔جس طرح مغربی دنیا تیرہ (۱۳) کے عدد کو منحوس سمجھتی ہے اسی طرح مسلم قوم میں صفر کی خصوصاً ابتدائی تیرہ تاریخوں کو منحوس سمجھا جاتا ہے۔صفر کے آخری بدھ کی نسبت یہ بات مشہور ہے کہ اس دن نبی اکرم ﷺ کو بیماری سے صحت ملی۔ انہوں نے غسل صحت فرمایا اور سیروسیاحت کے لئے باہر تشریف لے گئے تھے۔اس لئے بعض لوگ سنت نبوی سمجھتے ہوئے آخری بدھ کو کاروبار بند کرکے خوبصورت کپڑے پہن کر سیر و سیاحت کے لئے  نکل جاتے ہیں اور واپس آکر شیرینی حلوہ پوریاں یا گندم  ابال کر بچوں اور غرباء میں تقسیم کرتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسولﷺ  نے فرمایا کہ مرض متعدی نہیں ہوتا (اللہ کے حکم کے بغیر کوئی مرض دوسرے کو  نہیں لگتا) اور نہ بدفالی ہے اور نہ ہامہ  نہ صفر۔

ہامہ  کا مطلب یہ ہے کہ اہل عرب یہ عقیدہ رکھتے تھے اگر کسی شخص کو قتل کردیا جائے تو اس کی کھوپڑی سے ایک جانور نکلتا ہے جس کا نام ھامہ ہے۔ وہ ہمیشہ ان الفاظ میں فریاد کرتا رہتا ہے۔ مجھے پانی دو۔ جب تک کہ قاتل کو قتل نہ کردیا جائے وہ فریاد کرتا رہتا ہے۔بعض کہتے ہیں کہ ھامہ  سے مراد الو ہے۔ عرب والے سمجھتے تھے کہ جس گھر پر الو بیٹھ جائے اور بولے  تو وہ گھر ویران ہوجاتاہے۔یا کوئی اس گھر سے مرجاتا ہے۔ماہ صفر کے متعلق مختلف اقوال ہیں جن میں یہ بھی ہے کہ عوام اس کو منحوس سمجھتے تھے اور اسے آفات کا موجب سمجھتے تھے۔

عرب کے لوگوں کی یہ عادت تھی کہ کسی کام کو نکلنے یا کسی جگہ جانے کا ارادہ کرتے تو پرندہ  یا ہرن کو چھچھکارتے ۔ اگر وہ دائیں جانب بھاگتا تو اسے مبارک سمجھتے ۔ اگر بائیں جانب جاتا تو اس کام کو اپنے لئے نفع بخش نہ سمجھتے اور اس کے کرنے سے رک جاتے۔نبی ﷺ  نے اس توہم پرستی سے روک دیا۔

کچھ بھائی ماہ صفر میں خاص ترتیب اور خاص مقدار میں تسبیحات پڑھتے ہوئے بعض ایسی نفل نمازیں پڑھتے اور اس کا حکم دیتے ہیں جن کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں ہے۔مثال کے طور پر ماہ صفر کی پہلی رات نماز عشاء کے بعد ہر مسلمان چار رکعت نماز پْرھے۔ پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ الکافرون پندرہ دفعہ پڑھے، دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص پندرہ مرتبہ پڑھے،سلام پھیرنے کے بعدچند بار ایاک نعبد وایاک نستعین پڑھے  پھر ستر مرتبہ درودشریف پڑھے اور اسی طرح دو رکعت نفل اور پڑھے  تو اللہ تعالی اس کا بہت بڑا اجر عطا فرمائیگا اور اسے ہر بلا سے محفوظ رکھے گا۔

عید میلاد النبیﷺ

جتنا دین ہمیں ہمارے پیارے رسول ﷺ دے گئے ہیں صرف اتنے پر ہی عمل کرنے سے انسان جنت کا حقدار بن جاتا ہے۔ محبت رسول ﷺ کا اظہار بھی اگر کوئی کرنا چاہے تو اسے بھی خالص اسی دین پر عمل کرنا ہوگا۔اس میں کمی کرے گا تو بھی مجرم ہے زیادتی کرے گا تو بھی مجرم۔ لیکن ہمارے اکثر بھائی لاعلمی کی بناء پر یا لاشعوری طورپرمحبت رسول ﷺ میں ایسے کام کربیٹھتے ہیں جن کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ان ہی کاموں میں ایک مروجہ عید میلادالنبی ﷺ کا دن ہے۔ جسے ربیع الاول کی ۱۲ تاریخ کو یوں منایا جاتا ہے کہ یکم ربیع الاول سے ہی مساجد اور مدارس کے طالب علم الٹی ٹوپیاں اور برتن اٹھائے راستوں میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور آنے جانے والوں سے میلادلنبی ﷺ کے لئے ایک ایک دو دو روپیہ مانگتے ہیں۔پھر ۱۲  ربیع الاول کو اس جمع شدہ رقم کا ختم دلایا جاتا ہے، جلوس نکالے جاتے ہیں، اہالیان جلوس پر لوگ پھول اور پھل نچھاور کرتے ہیں، سبیلیں لگتی ہیں، جانوروں کی سہرابندی کی جاتی ہے۔منچلے نوجوان دن کے وقت پگڑیاں باندھ کرنقلی داڑھی مونچھیں لگائے گلی محلوں میں باجے اور شہنائیاں بجاتے ہیں۔ جب رات کا اندھیرا پھیلنے لگتا ہے تو سماع کی محفلیں اور ناچ گانے شروع ہوجاتے ہیں اور روضہء رسول ﷺ کے ماڈل، کھلونے اور پہاڑیوں کی نمائش لگتی ہے جسے مرد اور عورتیں بلاامتیاز دیکھتے ہیں۔اس میں مردوں اور عورتوں کا بلاتکلف اختلاط ہوتاہے جو نہایت ہی فحش ہے۔

رسول اکرم ﷺ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت ملی، نبوت کے بعد ۲۳ مرتبہ ان کی زندگی میں یہ دن آیا، انہوں نے اپنی ولادت کا دن اس طرح نہیں منایا۔خلفائے راشدین ؓ نبی ﷺ سے بڑی محبت کرنے والے تھے۔صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین میں سے آخری صحابی  ﷺ سے بے حد محبت کرتے تھے۔میلادالنبی ﷺ کی عید منانے کا آغاز ملک المعظم مظفرالدین کوکبوری نے کیا۔یہ شخص ۵۷۶ھ میں شہر اربل کا گورنرمقرر ہوا اور ۶۰۴ھ میں اس نے محفل میلاد کا آغاز کیا۔شاہ اربل نے ایک مجلس قائم کی ہے، جس کو وہ بڑی عقیدت اور شان و شوکت سے انجام دیتا ہے۔ تو بغداد، موصل، جزیرہ سجاوند اور دیگر بلاد عجم سے گویے، شاعر اور واعظ بادشاہ کو خوش کرنے کے لئے ناچ گانے کے آلات لیکر محرم ہی سے شہر اربل میں آنا شروع ہوجاتے۔قلعہ کے نزدیک ہی ایک ناچ گھر تیار کیاگیا تھا جس میں کثرت سے قبے اور خیمے تھے۔ شاہ اربل ان خیموں میں آتا، گانا سنتا اور کبھی کبھی مست ہوکران گویوں کے ساتھ خود بھی رقص کرتا تھا۔

بدعات رجب

سال کے خاص مہینوں میں ایک خاص مہینہ رجب المرجب ہے۔اس مہینہ کی سب سے پہلی خصوصیت اس مہینہ کا اشہر حرم میںسے ہوناہے۔ حضرت انس ؓ  فرماتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ رجب کا چاند دیکھتے تویہ دعا فرماتے تھے:اللّٰھم بارک لنا فی رجب و شعبان و بلغنا رمضان (مشکوۃ المصابیح، کتاب الجمعہ، الفصل الثالث، رقم الحدیث ۱۳۶۹، دارالکتب العلیہ) ۔  اے اللہ ہمارے لئے رجب اور شعبان کے مہینوں میں برکت عطا فرما، اور ہمیں رمضان کے مہینہ تک پہنچادے۔رجب میں روزہ رکھنے کے متعلق کوئی خاص فضیلت منقول نہیں ہے۔البتہ روزہ خود ایک نیک عمل ہے۔اور پھر رجب کا اشہر حرم میں سے ہونا، تو یہ دونوںمل کر عام دنوں سے زائدحصول اجر کا باعث بن جاتے ہیں۔ لہٰذا اس مہینہ میں کسی بھی دن کسی خاص متعین اجر کے اعتقاد کے بغیرروزہ رکھنا،یقینا مستحب  اور خیر کا ذریعہ ہوگا۔چنانچہ کسی دن کو خاص کرکے روزہ رکھنے اور اس کے بارے میں عجیب و غریب فضائل بیان کرنے کی مثال  ۲۷ رجب کا روزہ ہے۔جو عوام الناس میں ہزاری روزہ کے نام سے مشہور ہے۔اس بارے میں یہ مشہور ہے کہ اس ایک دن کے روزے کا اجر ایک ہزار روزوں کے اجر کے برابر ہے۔ اسلام سے قبل ہی سے ماہ رجب میں بہت سی رسومات اور منکرات رائج تھیں، جن کو اسلام نے یکسر ختم کرکے رکھ دیا، ان میں رجب کے مہینہ میں قربانی کا اہتمام، جس کو حدیث پاک کی اصطلاح میں عتیرہ کے نام سے واضح کردیا گیا ہے۔اسی مہینہ میں زکوۃ کی ادائیگی  اور پھر موجودہ زمانے میں ان کے علاوہ بی بی فاطمہ کی کہانی،  ۲۲ رجب کے کونڈوں کی رسم،  ۲۷ رجب کی شب جشن معراج اور اگلے دن کا روزہ جس کو ہزاری روزہ کہا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ ایسی رسومات و بدعات ہیں جن کا اسلام میں کوئی ثبوت نہیں۔رجب کی ستائیسویں  شب میں موجودہ زمانے میں طرح طرح کی خرافات پائی جاتی ہیں۔اس رات حلوہ پکانا، رنگین جھنڈیاں، آتش بازی، اور مٹی کے چراغوں کو جلا کے گھروں کے درودیوار پر رکھناوغیرہ۔نہ تو ان سب امور کو ہمارے نبی کریم ﷺ نے بنفس نفیس کیا، نہ ان کے کرنے کا حکم کیا اور نہ ہی آپ ﷺ کے صحابہ کرامؓ  نے کیا اور نہ ان کے کرنے کا حکم دیا۔ان میں فضول خرچی، اسراف اور آتش بازی کی صورت میں جانی نقصان کا خدشہ ہوتاہے،اس لئے یہ سب امور شرعاً حرام ہیں،ان تمام امور کو اس بنیاد پر سرانجام دیا جاتا ہے کہ ۲۷ رجب  میں نبی کریم ﷺ کو سفر معراج کروایا گیا۔عوام کے اس رات اس اہتمام سے پتہ چلتا ہے کہ رجب کی ستائیسویں شب کو ہی حتمی اورقطعی طور پر شب معراج سمجھاجاتا ہے حالانکہ آپ ﷺ کو کب سفرمعراج کروایاگیا؟اس بارے میں تاریخ، مہینے بلکہ سال میں بھی بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے۔جس کی بناء پر ستائیسویں شب کو ہی شب معراج قراردینایکسر غلط ہے۔

شب برات

نبی ﷺ مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے اور نمازباجماعت کا باضابطہ سلسلہ شروع ہوا۔لیکن اذان کے احکام ا بھی نازل نہیں ہوئے تھے۔نماز کو بلانے کا طریقہ اختیارکرنے کے لئے مشورہ کے واسطے صحابہ کرام ؓ جمع ہوئے۔ کسی نے کہا کہ نصارٰی کی طرح  ناقوس بجایا جائے تاکہ لوگ نماز کے لئے اکٹھاہوجائیں۔کسی نے کہا کہ یہودیوں کی طرح سنکھ بجایاجائے۔ اس کی آواز پر لوگ  متوجہ ہوجائیں۔ ایک تجویز یہ بھی تھی کہ مجوسیوں کی طرح عبادت کے وقت آگ روشن کردیاجائے۔مگر ان سارے طریقوں کو نبی ﷺ نے قبول نہیں کیا۔اللہ کے حکم سے نبی ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو اذان دینے کا حکم دیا۔آپ ﷺ نے اس مقصدکے لئے اذان کے کلمات سیکھ لئے۔اب یہ سوال اٹھتاہے کہ جب مجوسیوں کی طرح آگ جلانے کو نبی ﷺ نے منظور نہیں کیا تو شب برات منانے کے لئے پٹاخوں اورآتش بازی کے لئے کس طرح راضی ہوئے ہونگے؟  تاریخ اسلام کے روشن صفحات پکارپکار کر اس  بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ خوشی یا غم کے موقع پر آتش بازی یا آتش پرستی سے مسلمانوں کاکوئی واسطہ نہیں رہا۔

۱۳۲ھ میں جب بنو عباس نے بنوامیہ سے اقتدار چھیننے کے لئے سازشوں کے جال بچھائے تو انہوں نے دیکھا کہ بنو امیہ کو شکست دینا آسان کام نہیں۔ اسلئے کہ عرب کے جنگجولوگ اموی حکومت کے ساتھ ہیں۔ چنانچہ انہوں نے ایرانیوں اور عجمیوں سے تعاون لینے کا سوچا۔ ا یرانی آتش پرست تھے مگر فاروقی اور عثمانی حکومت کی فتوحات نے مجوسی آتش کدوں کو سرد کردیاتھا اور آتش پرست ایرانی مسلمانیت کالبادہ اوڑھ کر اسلام میں داخل ہوگئے۔ایرانیوں کا ایک مشہور خاندان  ـ’خاندان برامکہ ’  تھا۔ برمک کہتے ہیں آتشکدے کی آگ روشن کرنے اور اس کی نگرانی کرنے والے کو۔یہ مجوسیوں کے ہاں سب سے بڑامذہبی عہدہ تھا۔جب مسلمانوں کی آمد سے برمک کے عہدے بھی ختم ہوگئے  تو برمکی خاندان کے لوگوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ لیا مگر اندرون خانہ آگ سے محبت برقرار رکھی۔جب بنو عباس نے بنوامیہ سے اقتدار چھینا توایسے ہی نومسلم عجمیوں سے تعاون لیا۔جس کانتیجہ یہ نکلا کہ ایرانی امورسلطنت میں شامل ہوگئے۔بلکہ برمکی خاندان نے تو حکومت اسلامیہ میںبڑے بڑے عہدے حاصل کرلئے اور خالد برمکی تو وزارت کے عہدے تک جا پہنچا۔ ۱۶۳ھ میں خالد کا انتقال ہوا تو خلیفہ ہارون رشید نے اس کے بیٹے یحیٰی برمکی کو وزارت کا قلمدان سونپ دیا۔ برمکی چونکہ سابقہ آگ پرست تھے ا سلئے یحیٰی برمکی نے خلیفہ ہارون رشید کے دور میں مقدس آگ کو روشن کرنے کا ایک عجیب طریقہ ایجاد کیا۔اور خصوصاً شعبان کی پندرھویں رات کو نیک اعمال سے منسوب کرکے اس رات کثرت سے چراغاں کیا۔ آگ روشن کرنے کا مقصدلوگوں کے دلوں میں آگ کا تقدس اور وقار پیداکرناتھا۔ مسجد میں چراغاں کی بدعت کو اسی نے ایجاد کیا تاکہ لوگ اس طرح آگ کی پوجا کرسکیں۔ گویا آتش بازی اور چراغاں کی رسم اسلام میں ڈیڑھ سو سال بعد جاری ہوئی۔پھر زمانہ کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں آتی رہیں اور آتش بازی کی جدیدصورت آج ہمارے سامنے ہے۔

شب برات کو اصل اہمیت ہمارے واعظین اور صوفیاء قسم کے لوگوں نے من گھڑت اور ضعیف روایات کے ذریعے بخشی ہے۔بالغرض اگر کچھ فضیلت تھی بھی تو وہ بھی مبالغہ آمیزی کے غبار میں چھپ کر رہ گئی۔ پھر اس رات کی جانب ایسی ایسی باتیں منسوب کی گئی ہیں جن کا سرے سے کوئی وجودہی نہیں۔بعض کہتے ہیں کہ عرش کے نیچے ایک درخت ہے جس پر تمام دنیا والوں کے نام لکھے ہوئے ہیں۔پندرہ شعبان سے لے کر ایک سال تک جنہیں مرنا ہے ان کے پتے جھڑجاتے ہیں اور جنہیں پیداہوناہے ان کے پتے اگ آتے ہیں۔جب کہ ایسی کسی چیز کا کوئی ثبوت کسی بھی صحیح حدیث سے نہیں ملتا۔

شعبان کے مہینہ میں سوجی اور میدہ جس قدر فروخت ہوتاہے شاید ہی کسی اور مہینے میں فروخت ہوتاہوگا۔ پندرہ شعبان کو عوام کا اتنا کثیر مقدار میں والہانہ حلوہ پکانا  یقیناً ایک دینی شعور رکھنے والے آدمی کے لئے معنی خیز ہے اور قابل تجسس بھی۔اس لئے کہ تاریخ اسلام میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ملتا۔ خاص طور پردور نبوی ﷺ سے لے کر ائمہ اربعہ تک کبھی پندرہ شعبان کو اس طرح اجتماعی حلوہ خوری کا واقعہ رونماہواہو۔

گیارھویں شریف

شیخ عبدالقادر جیلانیؒ  ۱۱  ربیع الثانی  ۵۶۱ھ  (۱۱۶۶ء) کو وفات پاگئے۔شیخ مختلف القاب سے پکارے جاتے تھے جیسے غوث الاعظم، شیخ سیدنامحی الدین، حسنی حسینی، بغدادی وغیرہ۔ان کی وفات کے بعد ان کے معتقدین نے ساری دنیا میں ان کی برسی کو منانا شروع کیا جو گیارہویں شریف کے نام سے مشہور ہے۔  اس میں لوگ ایصال ثواب کی خاطر نذرونیازاور فاتحہ شریف کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں۔ایصال ثواب کے لئے ایک حدیث بیان کرتے ہیں۔ حضرت انس بن مالک ؓ  عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ ﷺ!  جب ہم کسی وفات شدہ کی طرف سے نذرونیاز اداکریں یا حج ادا کریں تو کیا اس کا ثواب مرحوم کو پہنچے گا؟  رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ بلاشبہ ان کو  ثواب پہنچے گا۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہ بھی اسی طرح خوش ہونگے جیسا کہ کوئی تحفہ ملنے پر خوش ہوتاہے، دوسری حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی سورہ اخلاص گیارہ مرتبہ پڑھ کرمرحومین پر بخشیں گے تو پڑھنے والے کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کہ مرحومین کو۔

مختلف بدعات جن کا اوپرذکر نہیں

اوربھی بہت زیادہ بدعات معاشرے میں موجود ہیں جن میں زیادہ نمایاں حسب ذیل ہیں:

(۱)جب بھی ہمارے پیارے نبی ﷺ کا نا م اذانوں میں یا درس وتدریس میں لیا جاتا ہے تو لوگ اپنے انگوٹھے کو آنکھوں سے لگاکر چوم لیتے ہیں ۔یہ فعل کسی حدیث یا صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے اعمال سے ثابت نہیں ہیں۔(۲)خصوصاًعصر کی نماز کے بعد امام صاحبان اور مقتدیاں کھڑے ہوکربآوازبلندیا نبی سلام علیک، یا رسول سلام علیک کا ورد کرتے ہیں۔ یہ بھی کسی حدیث یا صحابہ سے ثابت نہیں ہے۔(۳) مؤذن صاحبان ہر اذان سے پہلے درود پڑھتے ہیں اور فرض کی جماعت شروع کرنے سے پانچ منٹ پہلے بآواز بلند الصلٰوۃ کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ جمعہ کے خطبے سے پہلے امام صاحب منبر پر چڑھتے ہی  مؤذن ایک حدیث کو عربی میں بیان کرتے ہیں اور پھر اذان دیتے ہیں۔یہ افعال بھی کسی سنت یا صحابہ کرامؓ  کے اعمال سے ثابت نہیں ہیں۔

(۴) ایک رسم جو ہندوؤں سے ہمارے جنوبی ہند کے مسلمانوں میں نقل ہوئی ہے وہ ہے گودھ بھرائی کی رسم ۔ یہ رسم  تامل ہندوؤں میں ولاکاپو (Valakaappu )،  شمالی ہند کے ہندوؤں میں گودھ بھرائی، اور مہاراشٹر، گجرات، بنگال وغیرہ میں سیماندھم (Seemandham) اور مغربی ممالک میں بے بی شاور(Baby Shower ) اور دکنی مسلمانوں میں ستواسہ کہلاتی ہے۔ اس میں عورت شادی کے بعد پہلی مرتبہ اپنے حمل کے ساتویں مہینہ میں داخل ہوتی ہے تو یہ رسم  دھوم دھام سے منائی جاتی ہے۔ لوگوں کو مدعو کیاجاتاہے۔ حاملہ عورت کوہال کے بیچ میں بٹھاکر اس کی ساڑھی کے پلو میں ناریل، پان، سپاری اور مصری رکھی جاتی ہے ۔ اس کواپنے  میکے سے مٹھائی، کپڑے، کانچ کی چوڑیاں، چپل یا جوتے وغیرہ تحفے میں دیا جاتاہے۔کبھی کبھی میکے والے سونے کے زیورات بھی تحفے میں دیتے ہیں۔مختلف قسم کے کھانے پکاکر دوستوں اور رشتہ داروں کو کھلایاجاتا ہے اور ان سے تحفے وصول کئے جاتے ہیں۔اس رسم کے بعد حاملہ عورت کو اس کے میکہ کو بھیج دیا جاتا ہے جہاں وہ زچگی اور چلہ کی رسم تک رہتی ہے۔(۵)دوسری رسم جوہندوؤں سے نقل کی گئی ہے اور دھوم دھام سے منائی جاتی ہے وہ ہے بچہ اور زچہ کا چلہ۔ یہ بچہ کی پیدائش کی چالیسویں د ن منائی جاتی ہے۔ اس رسم میں میکے اور سسرال والے اپنے سارے رشتہ داروں اور دوست احباب کو مدعو کرتے ہیں ۔بچہ، زچہ اور بچہ کے والد کو پھول پہنائے جاتے ہیں۔اور بڑے جوش و خروش کے ساتھ یہ رسم پوری کی جاتی ہے۔

بدعات سے کس طرح بچا جائے؟

(۱) ان بدعات سے بچنے کے لئے سب سے افضل ضرورت علم کی ہے۔ ہر گھر کے تمام بچوں کو سب سے پہلے دینی تعلیم دینی ضروری ہے۔ گھر کے بالغ افراد بھی علم حاصل کرنے کی تگ ودو میں لگے رہیں تاکہ دینی معلومات سے خبرداررہیں۔(۲)چونکہ نبی ﷺ نے حجت الوداع کے خطبے میں فرمایاکہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہاہوں ایک قرآن اور دوسری میری سنت۔ اگر تم ان دونوں پر قائم رہو تو فلاح پاؤگے۔ لہٰذا ہمیں آپ ﷺ کے فرمان کی تعمیل کرنی چاہئے اور رسول ﷺکی اتباع کرنی چاہئے۔(۳) قرآن عربی میں نازل ہواہے اور ہم عربی سے ناواقف ہیں۔ہمارا افضل ترین فریضہ یہ ہے کہ ہم عربی سیکھیں۔ اس کے علاوہ آج کل اتنی سہولتیں موجودہیںجن کا سہارا لیاجاسکتاہے۔ قرآن مجیدکے ترجمے اور تفاسیر اب کئی زبانوں میں شائع ہوچکے ہیں۔ اس لئے عربی سے ناواقفیت کا کوئی بہانہ نہیں رہا۔ سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے ترجمے اور تفاسیر انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہیں۔ہمیں ان سے استفادہ حاصل کرنا چاہئے۔ روزانہ کم از کم ایک صفحہ قرآن کا مطالعہ کرناچاہئیے تاکہ قرآن سے کبھی دوری نہ ہو۔(۴ )نبی ﷺ کی سیرت طیبہ اورصحابہ کرام ؓ کی سیرت کا مطالعہ بے حد ضروری ہے۔(۵) جہاں جہاں علمائے کرام کے بیانات ہوتے ہیں ان میںاور دینی اجتماعات میں شامل ہونا چاہئیے تاکہ ان سے بھی استفادہ حاصل ہوجائے۔(۶) کبھی کبھی اپنے گھر پر فیملی دروس کا بھی اہتمام کریں تاکہ صاحب خانہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ قرآن اور سیرت طیبہ کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ اس سے دینی شغف بڑھتا رہتاہے اور اہل خانہ بھی علم حاصل کرنے میں کبھی پیچھے نہ رہیں۔اس کے ساتھ اپنے محلے میں دینی اجتماع کا بھی اہتمام کریں تاکہ اپنے پڑوسی دینی معلومات سے محروم نہ رہیں۔(۷) اسلامی کتب، اخبارات اور جریدوں کا مطالعہ بھی ساتھ ساتھ جاری رکھیں تاکہ دینی معلومات اور روزمرہ حالات سے واقفیت جاری رہے۔(۸) اگر قرآن کی کسی آیت یا اس کی تفسیرکے کسی حصے میں یا کسی مسئلہ پر کوئی شک آجائے تو کسی عالم سے رجو ع کریں تاکہ ان شبہات کو مکمل طور پر دور کرسکیں۔(۹) کوئی بھی قدم آگے بڑھانے سے پہلے یا کوئی بھی رسم شروع کرنے سے پہلے ہزار بار اس پر غور کیجئے کہ آیا یہ سنت ہے یا بدعت۔ جب آپ کو معلوم ہوجائے کہ یہ بدعت ہے تو اس سے دور رہئے۔ اگر اس میں شک بھی رہے تو اس سے باز رہئے(۱۰) اگر کسی کو بدعت کرتے ہوئے دیکھیں تو اس کو نرمی سے سمجھائیے اورروکئے ۔ بتائیے کہ بدعت سے کیا نقصانات ہیں اور اس کی وجہ سے ہم کس طرح ہمارے رب اور رسول ﷺ سے دور ہوجاتے ہیں۔

حواشی: (۱) اسلامی مہینوں کے غیر شرعی رسوم و رواج۔ تالیف تفضیل احمدغیغم ۔ نظر ثانی حافظ عبدالسلام بن محمد۔ مکتبہ اہل حدیث۔امین پور بازار۔ فیصل آباد(۲) عید میلادالنبی ﷺ حقیقت کے آئینے میں۔از محمد شاہ ہنواز عالم قاسمی۔جامعہ ملیہ اسلامیہ۔ نئی دہلی(۳)بدعت: تعریف۔اقسام اور احکام ۔ تالیف از فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزن ۔ ترجمہ از اسرارالحق عبیداللہ اور نظر ثانی از محمد اسمٰعیل عبدالحکیم۔ مطبعۃ دارطیبۃ۔ الریاض۔ مملکۃ العربیۃ السعودیۃ (۴) اسلام میں بدعت وضلالت کے محرکات۔ تالیف از ڈاکٹر ابوعدنان سہیل۔ نظرثانی از ڈاکٹر محمدلقمان السلفی۔ درالداعی للنشروالتوزیع۔ ریاض۔ مملکۃ العربیۃ السعودیۃ(۵ )اسلامی مہینوں میں غیر شرعی رسوم و رواج ۔ تالیف از تفضیل احمد ضیغم۔ نظر ثانی از الشیخ عبدالسلام بھٹوی۔ مکتبہ اھل حدیث۔ امین پور بازار۔ فیصل آباد۔ پاکستان

۵۔ Indian Newborn Traditional Celebrations – Journal Article published by Parentree, an Indian Parenting Community, published on Jan 29, 2009

اگست 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau