ادارے اور اختراع و ایجاد

اسلامی فلاحی اداروں  کی کام یابی اور تاثیر کے لیے ایک اور اہم صفت جو درکار ہے وہ اختراع و ایجاد اور تخلیقی صلاحیت (innovation and creativity) ہے۔ اداروں ہی میں نہیں بلکہ یہ صفت تو ہر میدان میں غیر معمولی ترقی کے لیے درکار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا بنائی ہی اس طرح ہے کہ اس میں ہر آن تبدیلیاں واقع ہورہی ہیں اور ہر لحظہ، نئے آئیڈیا اور نئی تدبیروں و ترکیبوں کا تقاضا کررہا ہے۔ اس لیے سماجی کام  ہویا صنعت و تجارت، سیاست ہو یا دعوت و تحریک ہر محاذ پر اختراع و ایجاد کی ضرورت مسلسل پیش آتی رہتی ہے۔ آگے بڑھنا ان ہی لوگوں کے لیے ممکن ہوتا ہےجو نئی راہوں اور نت نئے طریقوں کی تلاش میں مستقل مصروف رہتے ہیں،زمانے کی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ان تبدیلیوں کے مطابق اپنے اندر بھی تبدیلیاں لاتے ہیں۔ ان کے اندر زمانہ کی تبدیلیوں کو محسوس کرنے اور  اس کے مطابق تیزی سے خود کو بدلنے  کی صلاحیت ہوتی ہے۔ تبدیلی ان کے لیے ایک آسان اور فطری عمل ہوتا ہے۔

اس کے مقابلے میں تبدیلی واختراع سے خوف اور بے زاری، ہمارے پیروں میں زنجیریں ڈال دیتی ہے۔ دوسری بہت سی خوبیوں کے باوجود ہم اس لیے کام یاب نہیں ہوپاتے کہ حالات کے لحاظ سے جس اختراع  (innovation)کی ضرورت تھی وہ ہم نہیں کرسکے۔حالیہ زمانوں میں مسلمانوں کے زوال کے بڑے اسباب میں سے ایک ان کی جمود پسندی  بھی ہے۔دنیا میں کوئی بھی اعلانیہ تبدیلی کا مخالف نہیں ہوتا لیکن مزاج میں غیر محسوس طریقے سے جمود پسندی اس طرح رچ بس جاتی ہے  کہ ہم  عملاً نئی راہوں اور نئے خیالات و طریقوں کا خیرمقدم نہیں کرپاتے۔  مانوس روایات اور اطوار سے ہٹ کر سوچنا اور عمل کرنا دشوار ہوتا ہے۔

آئین نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اڑنا         منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

سماجی کاموں میں تو اختراع و ایجاد کی ضرورت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ سماج کے پیچیدہ مسائل کو حل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اکثر مسائل  وقت کی غالب اور حد درجہ طاقت ور قوتوں اور ان کے مفادات کے پیدا کردہ ہوتے ہیں۔ ان مسائل کو فروغ دینے میں بے پناہ  وسائل کی قوت استعمال ہوتی ہے۔ ان سب کے مقابلے میں  اور زمانے کی دھارا کے خلاف،سماج کےمحروم و کم زور لوگوں کو اوپر اٹھانا آسان نہیں ہوتا۔پھر فلاحی کام کرنے والے ہمیشہ وسائل اور افراد کار کی قلت کے شکار رہتے ہیں۔ تجارت و سیاست  جیسے میدانوں میں کام کرنے والوں کی طرح  بے پناہ وسائل ان کی دسترس میں نہیں رہتے۔ وہ  موٹی تنخواہوں پر باصلاحیت افراد کی خدمات آسانی سے حاصل نہیں کرسکتے۔ کئی دفعہ حکومتوں کے قوانین اور بڑی طاقتوں کے نظام ان کی راہوں میں مزاحم ہوتے ہیں۔ان سب چو طرفہ پیچیدگیوں کے درمیان مواقع تلاش کرنا، راہیں نکالنا  اور کم سے کم وسائل کے ساتھ بھی، مشکلات سے نبرد آزما ہوتے ہوئے زیادہ سے زیادہ انسانوں کو فیض یاب کرنا، صرف ایک عملی چیلنج نہیں ہے بلکہ  ایک بڑا ذہنی چیلنج بھی ہے۔اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے جہاں جرأت و حوصلہ مندی، صبر و استقامت اور جہد مسلسل جیسی عملی صفات درکار ہیں وہیں ذہانت و طباعی، حکمت و دانش مندی اور اختراع و ایجاد جیسی ذہنی صلاحیتیں بھی مطلوب ہیں۔[1]

اسلامی فلاحی اداروں کے سامنے ایک اور بڑا چیلنج بھی ہے۔وہ ایک نئے نظام تمدن (civilization)کے داعی اور علم بردار ہیں۔دنیا کی غالب تمدنی قوتوں اور وقت کے اصل تمدنی دھارے  (civilizational mainstream)کے خلاف انھیں نئی قدروں اور نئے تصورات کو فروغ دینا ہے۔ وہ صرف معاصر اداروں اور  رجحانات کی نقالی  کرکے اپنے ادارے کو کام یاب نہیں بناسکتے۔ دوسرے  معاصر اداروں اور ان کے تجربات سے سیکھنے اور فائدہ اٹھانے کے مواقع ان کے لیے محدود ہو تے ہیں۔ بے شک  بہت سے اموروہ دوسروں سے سیکھ بھی سکتے ہیں اور انھیں سیکھنا بھی چاہیے (بلکہ خود اس مضمون میں بعض معاصر مثالیں بطور نمونہ زیر بحث لائی جارہی ہیں) لیکن اپنے مخصوص نظریاتی،تہذیبی اور اخلاقی  امتیاز کی وجہ سے بعض  امور ایسے  بھی ہوتےہیں جن میں  ان کے سامنے کوئی ماڈل نہیں ہوتا۔انھیں اپنی دنیا خود بنانی ہوتی ہےاور جو امور دوسروں سے سیکھ کر انجام دیے جاتے ہیں، ان میں بھی اپنے تہذیبی معیارات کے مطابق ضروری اصلاح و ترمیم کے لیے اختراع و طباعی کے جوہر دکھانے ہوتے ہیں۔

سماجی اختراع کیا ہے؟

آج دنیا بھر میں فلاحی تنظیمیں اور ادارے سماجی خدمت کے نت نئے طریقے اختیار کررہی ہیں اور سماجی اختراع (social innovation)كو  فروغ دینے کی ہر سطح  پر کوشش ہورہی ہے۔ سماجی اختراع کیا ہے؟ یورپی یونین اس کی تعریف اس طرح بیان کرتا ہے۔

ایسے نئے آئیڈیا (پروڈکٹ،خدمت، ماڈل) کی تشکیل اور ان کا نفاذ جن سے سماج کی ضرورتیں زیادہ بہتر  طریقے سے پوری ہوسکیں اور مفید تر سماجی تعلقات اورباہمی اشتراکات (collaborations)تشکیل پاسکیں۔سماجی اختراع سے  نئے سماجی مسائل کے ایسے بہتر حل سامنے آتے ہیں جن کے ذریعے کم سے کم خرچ سے انسانی زندگی کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنایا جاسکتا ہے اور جو لوگ انسانوں کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں ان کی محنت و کاوش کو زیادہ سے زیادہ نتیجہ خیز بنایا جاسکتا ہے۔[2]

اس تعریف میں اختراع کا عمل محض ایک ذہنی عمل نہیں ہے  بلکہ فکر ونفاذ کا مجموعہ ہے۔ تخلیقیت (creativity)یعنی کام کرنے کے انوکھے اور نئے طریقے سوچنے اورایجاد کرنے یا مسائل کے بالکل انوکھے حل ڈھونڈنے کی صلاحیت بھی درکا رہے اور ساتھ ہی  ان آئیڈیاکو نافذ کرنے اور اس کے لیے  جوکھم لینے کی صلاحیت (risk taking)بھی ضروری ہے۔

اسلام نے اس عمل کی بھرپور ہمت افزائی کی ہے۔اجتہاد ِفکر اسلام کا بڑا اہم اصول ہے۔ یہ اسلام کی خصوصیت ہے کہ اس نے انسانی زندگی کےمتغیر اور پائیدار دونوں اجزا کا نہایت توازن اور خوب صورتی سے لحاظ رکھا ہے۔ بنیادی باتیں جو قرآن وسنت میں مذکور ہیں، آفاقی اور دائمی اصولوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان اصولوں کے دائرے کے باہر، زندگی کے بہت سے معاملات کو اسلام نے اجتہاد کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ اسلام کی یہ خصوصیت اختراع و ایجاد  کے راستے میں رکاوٹ نہیں بلکہ معاون ہے۔عام  لوگ نئی چیزوں سے اس لیے گھبراتے ہیں کہ ہر جدت انھیں اپنی تہذیب، اپنی اقدار اور اپنے تشخص کے لیے خطرہ محسوس ہوتی ہے۔ اسلام کے ماننے والوں کو اس ڈر کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں یہ فرق بہت واضح ہے کہ کون سی چیزیں دائمی ہیں جو اہل اسلام کے  مستقل تشخص کا حصہ اور ان کی تہذیب کی اساسیات ہیں اور کون سی چیزیں قابل تغیر ہیں۔ اس لیے اختراع و ایجاد سب سے زیادہ اہل اسلام کے لیے آسان ہونا چاہیے۔واضح رہے کہ یہاں اجتہاد سے ہماری مراد صرف فقہی اجتہاد یا خالص دینی معاملات میں حکم شرعی کی تعیین نہیں ہے۔ زندگی کے ہر معاملے میں قرآن و سنت کی رہ نمائی میں عقل کا موثر استعمال کرتے ہوئے بہتر سے بہتر راستہ تلاش کرنے کی کوشش اجتہادی عمل ہے۔ یہ عمل اداروں میں بھی مطلوب ہے۔

اصل مخترع تو خالق کائنات ہے جس کے لیے قرآن مجید میں بڑی خوب صورت اصطلاح’بديع السموات والأرض‘[3] استعمال ہوئی ہے۔

قرآن مجید میں مسلمانوں کی قیادتوں کی یعنی  اہل امر کی خصوصیات بتاتے ہوئے یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنبِطُونَهُ مِنْهُمْ( اگر وہ اسے اولی الامر کی طرف لوٹاتے تو  حقیقت کووہ لوگ جان لیتے جو استنباط کی صلاحیت رکھتے ہیں )[4]۔ استنباط کا مطلب یہی ہے کہ  قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں اپنی عقل کا استعمال کرتے ہوئے بہتر سے بہتر حل ڈھونڈ نکالے جائیں[5]۔ مشہور مفسر امام رازی ؒنے اس آیت کو اجتہاد کی دلیل قرار دیا ہے۔ وہ اس آیت کی تشریح میں  استنباط یعنی قرآن و سنت کی روشنی میں نئے مسائل کے حل معلوم کرنے کو قرآنی حکم قرار دیتے ہیں[6]۔ امام رازیؒ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ آیت صرف جنگ کے لیے نہیں بلکہ ہر طرح کے حالات کے لیے ہے۔ ہر طرح کے حالات میں مسلمانوں کے  اولوالامر ( لیڈرشپ) کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں راستہ تلاش کریں اور عوام کی ذمے داری ہے کہ وہ اس نئے راستے کی پیروی کریں[7]۔

معاصر دنیا کی ایک بڑی خصوصیت اختراع و ایجاد کی حیران کن تیز رفتاری ہے۔ بدقسمتی سے اختراع و ایجاد کا یہ جوش اُس امت میں ناپید ہے جو اجتہاد جیسے طاقت ور اصول کی امین ہے۔ نیچے ہم کچھ مثالیں دے رہے ہیں۔ ان میں سماجی کاموں کی مثالیں بھی ہیں اور بعض  ایسے تجارتی کاموں کے نمونے بھی ہیں جنھوں نے سماج پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ ان سب مثالوں میں قدر مشترک وہی ہے جس کا سماجی اختراع کی  مذکورہ بالا تعریف میں ذکر کیا گیا ہے۔ کم خرچ میں بہتر خدمت، سماجی تعلقات کو نیا رخ  دے کر زیادہ آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش، غیرمعمولی سرمایہ،طویل محنت و کاوش یا اقتدار و طاقت وغیرہ کے بغیر محض ایک نئے آئیڈیا اور اس کے سلیقہ مند نفاذ سے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات وغیرہ۔

یہ وضاحت ضروری ہے  کہ بطور نمونہ پیش کیے جارہے ان اداروں کے نظریاتی و اخلاقی پہلو اس وقت زیر بحث نہیں ہیں۔ ان میں سے بعض کے کاموں  پر نظریاتی و اخلاقی لحاظ سے ہمیں بھی  بہت سے اعتراضات ہیں۔ یہاں صرف اختراع اور اس کی طاقت کو ظاہر کرنے کے لیے ان نمونوں کو زیر گفتگو لایا جارہا ہے۔

۱۔ پلیٹ فارم معیشت(platform economy): ڈجیٹل پلیٹ فارم (ویب سائٹ، سوشل میڈیا یا ایپ) کے ذریعے تاجروں یا  دوسرے سے جوڑنا اور اس کے ذریعے زیادہ سہولت پیدا کرنے کو پلیٹ فارم معیشت کہتے ہیں[8]۔امیزون (Amazon)،ایر بی این بی (Airbnb)،اوبر (Uber)،اولا (Ola)، سویگی (Swiggy)، زوماٹو (Zomato)، بلنکٹ (Blinkit) وغیرہ جیسی خدمات اس معیشت کے نمونے ہیں۔

پلیٹ فارم معیشت کی ایجاد[9] کا سہرا ایک ایرانی نژاد نوجوان پرویز مراد امید یار(پیدائش 1967) کے سر جاتا ہے جس نے  انٹرنیٹ کے ابتدائی زمانے یعنی 1995میں امریکی شہر سان جوس میں،اشیا کی خرید و فروخت کے ایک آن لائن نظام ’آکشن ویب‘  (Auctionweb)کی شروعات کی تھی جو بعد میں اِ ی بے (ebay)کے نام سے ایک مشہور کمپنی بن گئی [10]۔  یہ اختراع تیزی سے مقبول ہوئی اور آنے والے دنوں میں تجارتی دنیا کا سب سے بڑا نیا رجحان (trend)بن گئی۔ اس وقت دنیا کی دس سب سے بڑی کمپنیوں میں سے سات کا تعلق پلیٹ فارم معیشت سے ہے[11]۔ میکنسی کی رپورٹ کے مطابق 2025 تک عالمی تجارت کا ایک تہائی حصہ پلیٹ فارم معیشت پر مبنی ہوگا اور یہ تجارت 60 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گی[12] (اس وقت دنیا کی مجموعی جی ڈی پی لگ بھگ سو ٹریلین ڈالر ہے)ہمارے ملک میں نیتی آیوگ کے مطابق، اس دوران پلیٹ فارم معیشت ڈھائی کروڑ لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کا ذریعہ بنے گی[13]۔

پلیٹ فارم معیشت کے تمام پلیٹ فارم  اختراع کی غیر معمولی قوت کے مظاہر ہیں۔ انھوں نے لوگوں کی زندگیوں میں بڑی آسانیاں پیدا کردی ہیں۔ ایر بی این بی (Airbnb)نے جہاں عام صارف کے لیے سستے ہوٹل اپنے گھر سے بک کرلینا آسان کردیا ہے وہیں کروڑوں لوگوں کو جن کے پاس اضافی عمارتیں تھیں، ان عمارتوں کو نفع بخش اورآمدنی کا ذریعہ بنادینا ممکن کردیا ہے[14]۔ سویگی(Swiggy) اور زوماٹو (zomato)نے نہ صرف چھوٹے ریستورانوں کے لیے آسانی پیدا کردی ہے بلکہ لاکھوں خواتین کے لیے ممکن بنادیا ہے کہ وہ گھر میں کھانا پکاکر اسے اپنی آمدنی کا ذریعہ بنائیں[15]۔ اربن کمپنی (Urban Company) نے پلمبنگ، الیکٹریشین اور دیگر گھر کے کاموں کو بہت آسان کردیا ہے اور ہزاروں ورکروں کو بہ سہولت روزگار فراہم کرنے کا ذریعہ بن گئی ہے[16]۔

یقینا ًاس معیشت کے اپنے مسائل ہیں۔  ورکروں(gig workers) کے استحصال، چھوٹے کاروباروں کےنقصان، صارفیت (consumerism)کے فروغ وغیرہ کی وجہ سے اسے پلیٹ فارم کیپٹلزم(platform capitalism ) بھی کہا جاتا ہے[17]۔  اس کو منضبط (regulate) کرنے کی ضرورت ہے جو حکومت کی ذمے داری ہے اور اس حوالے سے ہمارے اپنے خیالات اور آئیڈیا بھی ہیں، جن پرگفتگو کا یہ محل نہیں ہے۔ یہاں صرف یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ کس طرح ایک سادہ اختراع، کروڑوں لوگوں کی زندگیوں پر اثر ڈال سکتی ہے اور بہت ساری نئی سہولتیں اور آسانیاں پیدا کرسکتی ہے۔

۲۔’اروند آئی کیر ‘اور’صحت کہانی‘: پچاس سال پہلے تمل ناڈوکے شہر مدورائی میں ایک ماہر امراض چشم ڈاکٹر جی وینکٹ سوامی (1918-2006)نے  آنکھوں کا چھوٹا سا پرائیوٹ دواخانہ قائم کیا۔انھوں نے دیکھا کہ غریب مریضوں کی ایک بڑی تعداد موتیا کےمعمولی مرض کا بروقت علاج نہ ہوپانے کی وجہ سے بینائی سے محروم ہوجاتی ہے[18]۔ ( آج بھی چالیس لاکھ لوگ سالانہ معمولی اور آسانی سے قابل علاج امراض کے شکار ہوکر اندھے ہوجاتے ہیں اور دنیابھر کے نابینا افراد کی چوتھائی تعداد ہمارے ملک میں رہتی ہے[19]) انھوں نے اس کے حل کا ایک نیا طریقہ ایجادکیا:   امیروں کی فیس سے غریبوں کے مفت علاج کا طریقہ (cross subsidization)۔ جملہ مریضوں کی نصف تعداد فیس دے گی اور نصف تعداد کا علاج مفت ہوگا[20]۔ فیس دینے والوں اور نہ دینے والوں کے علاج کے معیارمیں کوئی فرق نہیں ہوگا،البتہ اضافی سہولتوں (روم یا وارڈ وغیرہ) میں فرق ہوسکتا ہے۔  یہ ماڈل بہت مقبول ہوا اور اسے تیزی سے فروغ حاصل ہوا۔ اس وقت اروند کے 135 چھوٹے بڑے ہسپتال ہیں۔ ان ہسپتالوں میں اب تک ایک کروڑ سے زیادہ آپریشن ہوچکے ہیں اور نو کروڑ مریضوں کا علاج ہوچکا ہے[21]۔ اسے عالمی ادارے دنیا کا سب سے بڑاآنکھوں کا علاج کرنے والا ادارہ (eyecare provider) قرار دیتے ہیں اور جنوبی ہندوستان میں آنکھوں کے مسائل  کے حل میں اس کے کردار کو کلیدی تصور کرتے ہیں۔[22] اروندکےماڈل نے بعد میں کئی ہسپتالوں کو اس کی نقل کےلیے آمادہ کیا اور اب ساری دنیا میں متعدد ہسپتال خصوصاً آنکھوں کے علاج سےمتعلق ہسپتال وجود میں آچکے  ہیں جو اروند کےماڈل کےمطابق کراس سبسڈی(cross subsidy) کے اصول پر علاج فراہم کرتے ہیں[23]۔

طبی خدمات کے میدان میں ایک قابل ذکر تجربہ پڑوسی ملک کے شہر کراچی کا ہے جہاں   دو خاتون ڈاکٹروں ڈاکٹر  عفت ظفر ایم ڈی اور ڈاکٹر سارہ  سعید خرم ایم ڈی نے2017میں محسوس کیا کہ ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے والی ہزاروں لڑکیاں ہیں جو شادی کے بعد اپنی گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے گھروں میں بیٹھ جاتی ہیں اور دوسری طرف دیہاتوں  اور سلم علاقوں میں کروڑوں خواتین علاج کی سہولتوں سے محروم ہیں۔ انھوں نے  دونوں کو جوڑنے کے لیے ‘صحت کہانی ‘ کے نام سے  ایک ٹیلی میڈیسین پلیٹ فارم بنادیا۔  [24]ابتدا میں تیس ڈاکٹروں کو اس سے جوڑا۔ پھر دیہاتوں اور سلم علاقوں میں ایسے کلینک قائم کیے جہاں ایک چھوٹے سے کمرے میں صرف ایک نرس موجود ہوتی ہے۔ آنے والے مریضوں کا ابتدائی چیک اپ نرس کرتی ہے اور پھر ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کسی ڈاکٹر سے مریض کوجوڑ دیتی ہے۔ [25]بہت کم خرچ کی وجہ سے یہ ممکن ہوگیا کہ غریب ترین لوگوں کی بستیوں میں بڑی تعداد میں ایسے ‘کلینک’ قائم کیے جاسکیں۔  چناں چہ حیرت انگیز تیزی سے اس طرح کے دواخانوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ اس  تجربے کو ورلڈ اکنامک فورم اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن جیسے عالمی ادارے ایک قابل تقلید تجربہ قرار دے رہے ہیں اور اس کے بانیوں کو متعدد عالمی ایوارڈ دیے گئے ہیں[26]۔ اس وقت دس ہزار کے لگ بھگ ڈاکٹر (جن مین نوے فی صد خواتین ڈاکٹر ہیں)اس سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے اکثر خواتین ڈاکٹر اس سے پہلے اپنے پیشے کو ترک کرکے گھریلو  ذمے داریوں میں مصروف تھیں [27]۔ آج انھیں گھر بیٹھے اپنے علم و صلاحیت کوغریب انسانوں کے فائدے کے لیے استعمال کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ آمدنی بھی ہورہی ہے اور لاکھوں مریضوں کا فائدہ بھی ہورہا ہے۔ اب تک 32 لاکھ مریض اس سے مستفید ہوچکے ہیں[28]۔ ان میں بڑی تعداد ایسے مریضوں کی ہے جنھیں عام حالات میں طبی سہولت میسر ہی نہیں آسکتی تھی۔  کمپنی کا ہدف یہ ہے کہ 2030تک پچاس ہزار ڈاکٹر اس سے جڑ جائیں، اگر یہ ہدف حاصل ہوجاتا ہے تو یہ ایک بڑا انقلاب ہوگا۔

۳۔بیئر فٹ کالج:دُون اسکول اور اسٹیفن کالج کے فارغ بنکر رائے اوران کی آئی اے ایس آفیسر بیوی ارونا رائے نے پچاس سال پہلے پُر تعیش شہری زندگی کو چھوڑ کر دیہات میں جابسنے اور دیہی زندگی میں تبدیلی لانے کا عزم کیا۔ ارونا رائے نے آئی اے ایس سے استعفی دیا اور یہ جوڑا راجستھان کے ایک پسماندہ دیہات(تِلونیا  ضلع اجمیر) میں منتقل ہوا[29]۔ ان لوگوں کی دل چسپیاں متنوع تھیں۔ ماحولیات کا تحفظ، دیہاتوں میں بہتر سہولتوں کی فراہمی، خشک سالی سے متاثر علاقوں میں پانی کی فراہمی اور گاندھی جی کے نظریات کے مطابق دیہاتوں کو خودکفیل بنانا، وغیرہ  جیسے متنوع عزائم کو سامنے رکھ کر ان لوگوں نے ایک اختراعی منصوبہ بنایا اور ’بیئر فٹ کالج‘ (barefoot college)قائم کیا۔دیہات کی کچی عمارت، مٹی کا فرش اور زمین پربیٹھ کر پڑھائی،پڑھنے والے ناخواندہ ننگے پیر دیہاتی مرد و خواتین، انھوں نے ‘کالج’ کاماحول بالکل دیہاتی  انداز کا بنایا تاکہ دیہاتیوں کو کوئی  تکلف محسوس نہ ہو۔ اس ‘کالج ‘ میں ان پڑھ دیہاتی مردوں اور عورتوں کو  داخلہ دے کرمختلف فنون کی ٹریننگ دینی شروع کی۔ واٹر پمپ مشینوں کی مرمت، بورویل  کی تنصیب، ابتدائی طبی امداد کی فراہمی، ڈینٹسٹ(dentistry)،  دائی کا کام (midwives)، بنیادی حساب کتاب، سولر پاور کی تنصیب، اور اس طرح کے وہ مختلف کام جن کی ہر گھر میں لوگوں کو ضرورت پیش آتی رہتی ہے اور  جن کے لیے شہروں سے مہنگے پروفیشنل بلانے پڑتے اور ان کے انتظار میں کئی کئی دن کام رکے رہتے[30]۔بنکر رائے کا نظریہ تھا کہ بہت سے ٹیکنیکل کاموں کے لیے باقاعدہ تعلیم و ڈگری کی بلکہ خواندگی کی بھی ضرورت نہیں ہے اور ناخواندہ لوگ بھی بہت سے کام اچھے سے کرسکتے ہیں۔ شام میں ٹریننگ دی جاتی اور دن میں یہ لوگ اپنے اپنے کام کرتے۔ جو بچے باقاعدہ تعلیم حاصل کرسکتے انھیں باقاعدہ تعلیم (formal education) اور امتحانات بھی دلائے جاتے اور بڑے لوگ  صرف فنون سیکھتے۔

اس انوکھے طریقے سے ہزاروں لوگ مختلف کاموں کو انجام دینے اور ان سے پیسہ کمانے کے لائق ہوگئے۔دیہات کے لوگوں کو سستی اور آسانی سے قابل حصول خدمات میسر آگئیں اور سب سے بڑھ کر فنون کی تربیت نے دیہاتوں میں بہت سی ایسی سہولتیں فراہم کرنا ممکن بنادیا جو پہلےناقابل تصور تھیں۔ مثلاً یہاں کے فارغین (واٹر پروفیشنل)نے کئی جگہ بارش کے پانی کو جمع کرنے (rainwater harvesting) کا کام شروع کیا اور پانی کے مسائل حل کیے۔[31] ان پڑھ خاتون سولر انجینیروں (solar mamas)نے سولر انرجی کی مدد سے دیہی سڑکوں اور گھروں کو روشن کردیا[32]۔ ان کا یہ پروگرام اتنا مقبول ہوا کہ دنیا کے مختلف ممالک سے دیہی خواتین کو یہاں (solar mama)سولر ماما بننے کے لیے بھیجا جانے لگا اور اب تک 96 ملکوں کی تین ہزار خواتین نے ٹریننگ حاصل کی اور دنیا بھر میں پچہتر ہزار سے زیادہ ایسے گھروں کو روشن کردیا جہاں بجلی کی رسائی کا امکان بہت کم تھا۔[33]  بیئر فٹ کالج کے منصوبوں نے اس کی ویب سائٹ کے مطابق ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں کی زندگیوں میں ٹھوس تبدیلی پیداکی ہے اور پانچ ہزار سے زیادہ دیہاتوں کا روپ بدل دیا ہے۔[34] وژن او ر تصورات کو کیسے حقیقت کا روپ دیا جاسکتا ہے، بیر فٹ کالج  اس کی خوب صورت مثال ہے۔  خود کفیل دیہی زندگی کے گاندھیائی تصور کو جو خواب و خیال سمجھا جانے لگا تھا، ان میاں بیوی نے اپنی ذہانت، لگن اور محنت سے ٹھوس حقیقت میں بدل دیا۔ بنکر رائے کو متعدد عالمی ایوارڈ مل چکے ہیں اور ٹائم میگزین نے انھیں اُن سو عالمی شخصیات میں شمار کیا ہے جنھوں نے ہمارے زمانے پر سب سے زیادہ اثرات ڈالے ہیں۔[35]

۴۔خان اکیڈمی: امریکی شہر لیوسیانا میں سلمان امین خان نامی ایک نوجوان نے2004میں، یاہو کی سہولتوں کا استعمال کرکے انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے رشتے داروں کو  پڑھانا شروع کیا۔ جب 2005میں یوٹیوب شروع ہوا تو اس نے اپنے لیکچروں کو ریکارڈکرکے یوٹیوب پر اپ لوڈ کرنا شروع کیا۔ اس کے لیکچرمقبول ہوئے تو اگلے سال یعنی 2006میں اس نے اپنی نوکری چھوڑی اور خان اکیڈمی قائم کی۔[36] بہت جلد اکیڈمی تعلیم کے میدان میں ایک رجحان ساز سرگرمی بن گئی۔ اس وقت اکیڈمی 190ملکوں میں اور چالیس زبانوں میں دو کروڑ طلبہ کو تعلیم دیتی ہے۔ ہر مہینہ تین سے چار کروڑ طلبہ اس کو وزٹ کرتے ہیں[37]۔ متعد د بین الاقوامی مطالعات نے تصدیق کی کہ خان اکیڈمی پر جو طلبہ پچیس تیس گھنٹے صرف کرتے ہیں ان کے اسکور میں بیس فیصد تک اضافہ ہوجاتا ہے۔ [38]سلمان امین  کی خدمات کا دنیا بھر میں اعتراف ہوا۔ انھیں ویبی ایوارڈ اور شارٹی ایوارڈ سے نوازا گیا۔[39] بل گیٹس نے یہ کہہ کر ان کے ساتھ اشتراک شروع کیا کہ اس کے بچوں کو خان اکیڈمی سے غیر معمولی فائدہ ہوا[40]۔ حکومت ہند نے بھی 2016میں سلمان امین کوچوتھے بڑے ہندوستانی ایوارڈ پدم شری سے سرفراز کیا[41]۔ ٹائم میگزین نے انھیں، اُن سو لوگوں میں شامل کیا جنھوں نےموجودہ زمانے میں دنیا پر سب سے زیادہ مثبت اثرات ڈالے ہیں[42]۔سلمان امین کی اختراعات کا سلسلہ اس میدان میں مسلسل جاری ہے۔ تازہ ترین اختراع خان میگو(Khanmigo)   ہےجو طلبہ کے لیے ڈیزائن کیاگیا آرٹیفیشیل انٹلی جنس اسسٹنٹ ہے اور تعلیم کے عمل میں ان کی مدد کرنے کا کام کرتا ہے[43]۔

ہم نے یہ چار نمونے محض بطور مثال ذکر کیے ہیں۔ ایسی دسیوں مثالیں مل سکتی ہیں۔ ان سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ اختراع و ایجاد کے لیے بڑے سرمائے کی، طویل تحقیقات کی  یا غیر معمولی مہارتوں کی ہمیشہ ضرورت نہیں ہوتی۔ عام لوگ ایسے انوکھے آئیڈیا تخلیق کرسکتے ہیں اور محض اپنے جذبے اور خلوص سے  انھیں اس طرح روبعمل لاسکتے ہیں کہ جن کے ذریعے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو آسان بنایا جاسکے اور دنیا میں ٹھوس مثبت تبدیلی لائی جاسکے۔

اختراع پسند مزاج

اس کے لیے پہلی ضرورت یہ ہے کہ مزاج میں اختراع پسندی ہو۔ اداروں کی کام یابی کےلیے ضروری ہے کہ ان کے منتظمین میں،منصوبہ سازوں میں اور عملے کے ارکان میں مزاج کی درج ذیل خصوصیات پروان چڑھائی جائیں۔

۱۔ سوال کرنے کا مزاج (the inquisitive mind): ہر معاملےپر خود سے سوال کرنے کا مزاج پیدا کریں۔ قرآن وحدیث کے منصوص احکام کو چھوڑ کر ہربات تبدیل ہوسکتی ہے اور اُس  پر سوال کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے اصول وضوابط ہوں یا کام کے طریقے، روایات ہوں یا رجحانات، ذرائع وسائل ہوں یا انداز پیش کش، ہر چیز پر خود سے سوال کریں کہ اسے کیوں اختیار کیا گیا ہے، اس سے کیا فائدے ہیں اور اگر ہیں تو فائدے غالب ہیں یا نقصانات؟ سوال کرنے اور غوروفکر کرنے کا یہ مزاج قرآن کا پیدا کردہ مزاج ہے۔ قرآن نے جگہ جگہ غوروفکر کی دعوت دی ہے۔ توحید، رسالت اورآخرت جیسے بنیادی عقائد پر بھی اس نے خود ہی سوالات اٹھائے ہیں اور اس کے اطمینان بخش جوابات دیے ہیں۔ ہرحکم کی اس نے عقلی توجیہ کی ہے۔ اس کا مقصد یہی ہے کہ قرآن وحدیث کے دائرہ کے باہرجو بھی معاملہ ہو اس کو ہم غوروفکر کا موضوع بنائیں۔ ایسے کچھ سوالات کی مثالیں اس مضمون کے اگلے حصوں میں زیر بحث لائی جارہی ہیں۔

۲۔ بہتر متبادل کی تلاش (search of better alternative): اپنے مشاہد ے اور سوالات کی روشنی میں غور کریں کہ کیا  کوئی اور بہتر متبادل ممکن ہے۔  ہر معاملے میں خواہ وہ کتنا ہی پرانا معاملہ ہو اور اس کو کتنی ہی گہری روایت کی حیثیت حاصل ہوگئی ہو، اسے اختیار کرنے سے پہلے ہم سوچیں کہ اس کا بہتر متبادل کیا ہوسکتاہے۔  کیا اس ادارے  کا کوئی بہتر متبادل ممکن ہے؟ہسپتال کی ضرورت ہے یا طبی خدمت کو آسان بنانے کے لیے کسی اور قسم کا ادارہ زیادہ بڑی خدمت کرسکتا ہے؟  ہم اسکول ہی قائم کریں یاموجود اسکولوں میں پڑھنے والے کروڑوں بچوں کو کوئی ایسی انوکھی خدمت فراہم کریں جس سے اسکولوں کے نقائص کی تلافی ہوسکے؟ جو کچھ ہمارا ادارہ کررہاہے اس کے بجائے کرنے کے کیا بہتر، زیادہ مفید، زیادہ کارگر کام ممکن ہیں؟  ہم ان تمام سوالات پر تحفظات کے بغیر کھلے ماحول میں غور وفکر کریں اور دنیا بھر میں مختلف لوگ جو تجربات کررہے ہیں ان پر بھی نظر رکھیں۔ کہیں بھی مفید بات پائیں، جو ہمارے مقصد کے لیے مفید بھی ہے اور اسلامی فکر اور شریعت سے ٹکراتی بھی نہیں ہے تو اسے مومن کی متاع گم شدہ  سمجھ کر قبول کریں۔

۳۔ آئیڈیا کا استقبال(welcoming the ideas) :ایک کام یاب ادارہ وہ ہوتا ہے جس  میں نئے خیالات اور آئیڈیا (بشرطیکہ وہ مناسب حدود میں ہوں) کا خوش دلی سے استقبال ہوتاہو۔ ہر ایک کو موقع ملنا چاہیے کہ وہ سوچے اور نئی تدبیر یں سجھائے۔ اگر تجویز مناسب ہو تو قبول کی جائے گی۔ لیکن غوروفکر کرنے اور تجویز دینے کے عمل کی ہمت افزائی ہوگی۔ موقع دینے کا مطلب صرف قانونی طور پر موقع فراہم کرنا نہیں ہے بلکہ ایسا ماحول بننا چاہیے کہ لوگ غوروفکر کریں اور اپنے غوروفکر کا حاصل پوری بے تکلفی سے پیش کریں۔ اس راہ میں کوئی رکاوٹ درپیش نہ ہو۔ انھیں یہ خدشہ نہ ہو کہ ان کی تجویز پر کوئی دھیان نہیں دیا جائے گا یا وہ مذاق کا موضوع بنے گی اور یہ ڈر بھی نہ ہو کہ ماحول اس قدر روایت پسند اور بے لچک ہے کہ اس طرح کی تجویز کے قبول ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ لوگوں کو یہ اعتماد ہو کہ ہمارےادارے میں مفید بات کھلے دل سے قبول کی جاتی ہے۔ اگر رد کی جاتی ہے تو دلائل کی بنیاد پر رد کی جاتی ہے یا حقیقی اور واقعی مجبوریوں کی بنا پر۔کہا جاتا ہے کہ ہر بڑا آئیڈیا ابتدا میں احمقانہ(silly) محسوس ہوتا ہے۔ایپل کمپنی کے بانی اسٹیو جاب  (Steve Jobs)کا مشہور نعرہ تھا Stay hungry, Stay foolish[44]۔اس کا مطلب یہی تھا کہ بے وقوفی کے طعنوں سے مت گھبراؤ۔ جس ماحول میں آئیڈیا کو تضحیک،  توہین    اور فوری رد (rejection) کا سامنا ہو وہاں کبھی غیر معمولی تدبیریں جنم نہیں لے سکتیں۔

۳۔ ہر سمت سے آئیڈیا کا بہاؤ  (flow of ideas from every side):کسی ادارے میں غوروفکر کا عمل اسی وقت مکمل اور کاملیت کے قریب تر ہوتا ہے جب اس عمل میں ہر طرح کے لوگ شامل ہوں۔ تجربہ کار اور سینئر افراد بھی اور نوخیز و نوواردافراد بھی۔انتظامیہ بھی، عملہ بھی اور استفادہ کنندگان بھی۔ اچھے اداروں میں ہر ایک سے مسلسل مشورے لیتے رہنے کا اہتمام ہوتا ہے۔ ہر خدمت کے بعد صارف سے پوچھا جاتا ہے کہ اس خدمت کو اور بہتر طریقے سے کیسے انجام دیا جاسکتا ہے؟  ہر طرح کی مانوس باتوں کے تاثر سے خالی ایک نوخیز ذہن زیادہ ندرتِ فکر وخیال کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔ اس کی ہمت افزائی ہونی چاہیے۔ اگر ہر طرف سے آئیڈیا کے بہاؤ کی ہمت افزائی کی جائے، تجربہ کار لوگ اپنے تجربات کی بنیاد پر سوچیں، نووارد لوگ اپنے تازہ ذہن سے سوچیں، ذمہ داران ذمہ دارانہ سطح  سے سوچیں، عملے کے لوگ اپنے عملی تجربات کی بنیاد پر سوچیں، صارفین اپنے ذاتی محسوسات کی اساس پر سوچیں، عطیہ دہندگان،خیر خواہان اور عام مشاہدین سے بھی رائیں لی جائیں،  اس طرح مختلف جہتوں سے اگر سوچنے کا عمل ہو اور ان مختلف سوچوں کی مسلسل پروسیسنگ ہوتی رہے تو مفیدتر اور کامل تر (perfect) قابل عمل نمونے وجود میں آسکتے ہیں۔

۵۔ تبدیل ہونے کی صلاحیت (change friendliness): سوچنے، آئیڈیا لانے اور نادر فیصلے کرنے کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم تبدیلیوں کو قبول کرنے اور تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت پیدا کریں۔ اداروں کے لئےاختراع کے عمل میں سب سے زیادہ آزمائشی مرحلہ یہی ہوتا ہے۔ وہ نئے طریقے سوچ بھی لیتے ہیں۔ اس کوباقاعدہ فیصلے کی شکل بھی دے لیتے ہیں۔ لیکن اس کی بنیاد پر اپنے مزاج کو بدلنا، مانوس کیفیات کو چھوڑ کر نئے طریقوں کو اختیار کرنا، اس کے مطابق اپنا ڈھب اور عادتیں بدلنا، یہ سب ان کے لیے دشوار ہوجاتا ہے۔انقلابی مزاج کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ متحرک(dynamic)  ہوتا ہے۔ تبدیلیوں کو اختیار کرنے اور تبدیل شدہ احوال کے مطابق خود کو ڈھال لینے میں اسے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ نئے حالات میں ٹکنالوجی کا نیااستعمال درکار ہےاور چند ہی دنوں میں نئی ٹکنالوجیاں اس کی عادت ثانیہ بن جاتی ہیں۔ وہ نظم وانتظام کے نئے انداز کے بارے میں پڑھتا اور متاثر ہوتا ہے اور فوراً ہی اس کا مینجمنٹ اسٹائل بدلنے لگتا ہے۔ مانوس طریقوں کو چھوڑنے میں اسے تکلف نہیں ہوتا۔ عادتیں اس کے لیے مثبت اور بہتر تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتیں۔ تبدیلیوں کو قبول کرنے کا یہ مزاج اداروں کا اجتماعی مزاج بننا چاہیے۔

۶۔ ٹکنالوجی دوستی (tech friendliness): ہمارے زمانے میں اکثر بڑی تبدیلیاں ٹکنالوجی کی دین ہیں۔ ٹکنالوجی نے ہر زمانے میں انسانی تمدن کو متاثر کیا ہے لیکن ہمارے عہد میں یہ اثرات بہت زیادہ ہمہ گیر اور گہرے ہیں۔ ٹکنالوجی نے کام کی رفتار کو کہیں سے کہیں پہنچادیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی آسان کردی ہے۔ پرانی ٹکنالوجیاں بہت مہنگی ہوا کرتی تھیں اور عام انسانوں کی دسترس سے باہر ہوا کرتی تھیں۔ ہمارے عہد کی اکثر ٹکنالوجیوں کی یہ خصوصیت ہے کہ اس نے ٹکنالوجی کی جناتی قوت کو عام آدمی کے ہاتھوں میں پہنچادیا ہے۔ اوپراختراع کے جن کام یاب نمونوں کا ذکر کیاگیا ہے ان میں سے اکثر کی اصل اختراع یہی ہے کہ انھوں نے اپنے مقاصد کے لیے، دستیاب ٹکنالوجی کے بالکل انوکھے استعمال کی راہ ڈھونڈ نکالی۔ ہمارے ادارے بدقسمتی سے اس حوالے سے بھی کافی پیچھے ہیں۔ ٹکنالوجی کا نیا  اور اختراعی استعمال تو دور، مروج استعمال بھی ہم نہیں کر پاتے۔ اختراع اور ایجاد کے لیے ہر سطح پر اور ہر ایک کے اندر ٹکنالوجی کاشعور اور اس کے استعمال پر قدرت پیدا کرنا ضروری ہے۔

۷۔اختراع پسندی  کی راہ میں درپیش رکاوٹوں  کا ازالہ:اختراع کے کلچر کو عام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی راہ میں جو رکاوٹیں اور خطرات درپیش ہیں قیادت کو ان کا شعور ہو اور ان کا لحاظ کرتے ہوئے اختراعی عمل کو آگے بڑھایا جائے۔ قیادت کے اندر یہ حکمت نہ ہو  تومتعدد دفعہ اختراع کا عمل سخت انتشار اور خلفشار کا ذریعہ بن جاتا ہے اور نتیجتاً ادارے کے ماحول میں اختراعات کے خلاف مزاحمت شدید تر ہوجاتی ہے۔ ہمارے خیال میں درج ذیل امور خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔

الف)بنیادی اصولوں  سے انحرافات:  یہ شعور بہت واضح ہو کہ کون سی باتیں قابل تغیر ہیں اور کون سی نہیں ہیں۔ اختراع کے عمل میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل بات یہی ہے۔  جب ادارے کی اساسی قدریں، بنیادی مقصد، اس کی اصل شناخت اور کیر کٹر ہی کو اختراعات  کی مہم جوئی ( ایڈونچرزم )کی زد میں لایا جاتا ہے تو  دیگر بڑے نقصانات کے ساتھ ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے  کہ اختراعی عمل پر لوگوں کا اعتماد درہم برہم ہوجاتا ہے اور اس کے سلسلے میں مزاحمت اور شدید ہوجاتی ہے۔

ب)شورائیت کی کمی اور اعتماد میں نہ لے پانا:بڑی اختراعات کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ  بھرپور شورائی عمل کے نتیجے میں اور زیادہ سے زیادہ اتفاق رائے سے فیصل ہوں۔انھیں فیصلوں کی شکل دینے سے پہلے لوگوں کو ان پر مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے۔  جو قائدین اختراع کے جوش میں،ادارے کے تمام متعلقین (stake holders)کواعتماد میں لیے بغیر یک طرفہ فیصلے  کرتے اور نئی تدبیریں بالجبر مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں  تووہ ماحول کو اور زیادہ اختراع دشمن بنادیتے ہیں۔ذمے داروں کے اندر یہ صبر ہونا چاہیے کہ چاہے جدتوں کے نفاذ میں تاخیر ہوجائے لیکن  بہرحال وہ لوگوں کے اعتماد سے  ہی نافذ ہوں۔

ج)عجلت پسندی: مزاج کی عجلت پسندی بھی اختراعی عمل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔نئی تدبیریں  نتائج پیدا کرنے کے لیے وقت چاہتی ہیں۔ نئے آئیڈیا کاجب نفاذ شروع ہوتا ہے تو چوں کہ اس کے لیے نہ افرادعادی ہوتے ہیں اور نہ ماحول، اس لیے  ابتدا میں خلل (disruption)اور مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ کام بجائے بہتر ہونے کے بگڑتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ مطلوب نتائج ظاہر ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ اس سے  گھبرا کر بار بار پلٹنے کی عادت بھی اختراع کے کلچر کوکم زور کرتی ہے۔ نئے آئیڈیا کو برگ و بار لانے کے لیے ضروری وقت دینا چاہیے اور تبدیلی کے عمل میں درپیش مشکلات (transitional challenges)کو خوش اسلوبی سے انگیز کرنے کا مزاج پروان چڑھانا چاہیے۔

د)اصلاح اور رجوع سے گریز: عجلت پسندی کےمقابلے میں دوسری انتہا یہ ہوتی ہے کہ کسی اختراع کو ایک بار اختیار کرلیا جائے تو اس کے مویدین نہ کسی ترمیم و اصلا ح کے لیے آمادہ ہوتے ہیں اور نہ ضرورت پڑنے پر رجوع (u-turn)کے لیے۔ نئے راستوں پر سفر کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ حسب ضرورت آپ  راستہ بدل بھی سکیں اور یوٹرن بھی لے سکیں،یہاں تک کہ درست ترین راستے تک پہنچ جائیں۔   ہر بڑی اختراع  کی ابتدائی شکل  اس کی کام یاب شکل سے مختلف ہوتی ہے۔ اختراعات کو تجربات کی بھٹی میں ترمیم و اصلاح کے عمل سے مسلسل گزارنا پڑتا ہے اسی کے بعد ہی وہ  فائدہ مند ہوتی ہیں۔ اس سے گریز اور ابتدائی کچی شکل (initial rough form)پر غیر متوازن اصرار بھی اختراعی ماحول کے لیے سم قاتل ہوتا ہے۔

ہ)تنقید کی حوصلہ شکنی: ایجاد و اختراع اور تنقیدی عمل کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اختراعی ماحول کے لیے یہ ضروری ہے کہ صالح تنقید کے آزاد ماحول کی ہمت افزائی ہو۔ آئیڈیا کو سنجیدہ تنقیدی عمل کی کسوٹی پر مسلسل پرکھا جاتا رہے۔ آئیڈیا پیش کرنے والے بھی  تنقید کا خوش دلی سے استقبال کریں بلکہ خود ان کی خواہش ہو کہ ان کے آئیڈیاکو دوسرے لوگ بھی ہر زاویے سے پرکھیں۔ ان پر زیادہ سے زیادہ مباحثے ہوں۔ اس کے دو فائدے ہوتے ہیں۔ ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس عمل سے آئیڈیا کے محاسن اور قباحتیں زیادہ واضح ہوکر سامنے آتی ہیں۔آئیڈیا کو نکھارنے، سنوارنے اور بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے اور دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس پر لوگوں کا زیادہ سے زیادہ اعتماد حاصل ہوجاتا ہے۔

و)ناکامی کا ڈر: ڈری سہمی اجتماعی نفسیات اور جوکھم (risk)سے بچنے کا اجتماعی مزاج بھی اختراعی عمل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہوتا ہے۔ جو کچھ ہوتا آرہا ہے اسے کرتے رہنا، دنیا کا آسان ترین کام ہے۔ آزمودہ راستوں پر ایک اندھا بھی آسانی سے چل لیتا ہے۔لیکن ہر منزل آزمودہ راستوں کے ذریعے سر نہیں ہوسکتی اور جب نقشے تیزی سے بدل رہے ہوں اور راستوں میں قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہوں یا آپ بالکل نئی منزلوں کی تلاش میں ہوں، اُس وقت نہ سفر کے پرانے تجربات اور پرانے راہرؤوں کے نقش ہائے قدم ہمیشہ  کام آتے ہیں اور نہ  ہر قدم پر بنے بنائے نقشوں سے مدد مل سکتی ہے۔نئے اور انجان راستوں کی کھوج اور ان پر آگے بڑھنے کا حوصلہ ہی ایسے مسافروں کا اصل سرمایہ ہوتا ہے۔ جب آپ نئے طریقوں کو اختیار کرتے ہیں اور نئے راستے ڈھونڈ نکالتے ہیں تو جہاں کام یابی کا امکان بڑھ جاتا ہے وہیں ناکامی، تنقیداور مخالفت کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے  اختراع کے لیے قیادت کے اندر بھی جرأت و حوصلہ مندی  درکارہے اور ادارے کے ماحول میں بھی جوکھم risk کے سلسلے میں مثبت رویہ پروان چڑھانا ضروری ہے۔

اختراع کن پہلوؤں سے؟

اداروں میں اختراع کئی پہلوؤں سے مطلوب ہے۔

بالکل نئے ادارے، مقصد، نوعیت اور بنیادی کام میں اختراع: یہ اختراع کا پہلا اور سب سے اعلیٰ محاذ ہے۔ اسلامی مقاصد کوسامنے رکھتے ہوئے بالکل نئے ادارے تشکیل و تخلیق کیے جائیں۔ہر تمدنی انقلاب بالکل نئے اور نامانوس اداروں کا بھی تقاضا کرتا ہے۔  اس لیے کہ  ہر ادارہ مخصوص تہذیب کی پیداوار ہوتا ہے اور ادارے کی ساری حرکیات (dynamics)اپنی مادری تہذیب کی ضرورتوں کے مطابق تشکیل پاتی ہیں۔ جب دوسری تہذیبیں اسے اختیار کرتی ہیں تو قدم قدم پر اُس تہذیب کی قدروں سے ادارے کی حرکیات کا ٹکراو ٔ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جدید بینک مخصوص سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار ہے اور اس کی اصل قوت سود ہے۔ سوچنے کا ایک زاویہ یہ ہے کہ ان بینکوں کو کیسے اسلامائز کیا جائے؟کیسے سود ہٹاکر بینک کو نیا رخ دیا جائے؟ (یا فقہ کے حیلوں سے کام لے کر کیسے  راستے نکالے جائیں؟) لیکن ایک دوسرا زاویہ یہ ہے کہ یہ سوچا جائے کہ کیا بینک ہی ضروری ہیں؟ کیا کوئی اور طریقہ ممکن ہے؟  اسلامی تہذیب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ باقی رہتی تو اس کے اندر سرمایہ کاری  کی جدید ضرورت کی تکمیل کا کیا طریقہ وجود میں آتا ؟ اس طرح سوچا جائے تو شاید اسلامی بینک کی  نہیں بلکہ کسی نئے اور انوکھے ادارے کی صورت گری ہوسکے۔ایک اصلاح شدہ این جی (reformed NGO)بنانا ایک الگ کام ہےاور مروج تمدنی رجحان کے بالمقابل اختراعی منصوبہ (counter-civilisational project)سامنے لانا دوسرا کام ہے۔ یہی اصل اختراع ہے۔  اوپر جو مثالیں پیش کی گئیں وہ زیادہ تر اسی سطح کے اختراع کی مثالیں ہیں۔ وہ  نہ موجود اداروں کی نقل ہیں اور نہ موجود اداروں میں جزوی تبدیلیاں کرکے (اروند ہاسپٹل کے استثنا کے ساتھ)  کوئی نیاماڈل تشکیل دیا گیا ہے۔  بلکہ وہ بالکل نئے ادارے ہیں۔انھوں نے اداروں کی ایک نئی دنیا اور ایک نئے تمدن کی بنا ڈالی ہے۔ اسلامی تاریخ کی درج ذیل مثالوں پر غور کریں جو اس سلسہ مضامین میں زیر گفتگو آچکی ہیں۔

الف۔ وقف اور اس سے منسلک سیکڑوں قسم کے ادارے: وقف کے موضوع پر جو تاریخی جائزہ  ہم نے لیا تھا[45]، اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے محض موجود اداروں کی نقل نہیں کی بلکہ اسلامی مقاصد کی خاطر ایسے انوکھے ادارے قائم کیے جن کا اس سے پہلے،کوئی تصور بھی ممکن نہیں تھا۔

ب۔ خانقاہیں، زاویے: یہ صوفیا کی حیرت انگیز ایجاد تھی۔ان کی خامیوں اور انحرافات سے قطع نظر، تزکیہ و تربیت کی اسلامی ضرورت کی تکمیل کو جس طرح انھوں نے ادارہ جاتی شکل دی،پوری دنیا میں اسے مقبول بنایا اور سیکڑوں برسوں تک کام یابی سے اس ماڈل کو اسلامی دنیا نے قبول کیا، وہ بامقصد اختراع کی ایک خوب صورت مثال ہے۔

اس طرح  کی اختراع کے لیے درج ذیل سوالوں پر مسلسل اور مستقل غور کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔

  1. ۔ سماج کی وہ بڑی ضرورتیں کیا ہیں جسےموجودہ تمدن اپنے مخصوص تصورات کے زیر اثر، ضرورت ہی نہیں مانتا لیکن اسلام اسے ضرورت سمجھتا ہے۔ یہ سب سے پہلا اور بنیادی سوال ہے۔صحیح معنوں میں اسلامی اختراعات اسی سوال کے جواب سے ابھرتی ہیں۔اسلامی تصورکے مطابق روٹی، کپڑا اور مکان کے ساتھ نکاح بھی انسان کی ضرورت ہے۔بچوں کی تعلیم ہی نہیں تربیت بھی ضروری ہے۔ ماحولیات کا تحفظ بھی درکار ہے۔ تزکیہ،عفت و حیا کا تحفظ، انسانی تکریم وعزت نفس، صلہ رحمی وغیرہ دسیوں اسلامی مقاصد ہیں جن کے فروغ  کی ادارہ جاتی کوششوں کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے۔
  2. ۔ وہ ضرورتیں کیا ہیں جن پر توجہ تو دی جاتی ہے لیکن وہ پوری نہیں ہوپارہی ہیں؟ جن کوحکومتیں اور موجود فلاحی ادارے پورا نہیں کررہے ہیں؟
  3. ۔ ان ضرورتوں کی تکمیل کے نئے زیادہ بہتر طریقے کیا ہوسکتے ہیں؟ کیسے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی ایسی ضرورتیں پوری ہوسکتی ہیں؟
  4. ۔مقاصد شریعت ہمارے پیش نظر ہوں، قواعد فقہ کو ہم سامنے رکھیں اور ان کی روشنی میں فیصلہ کرنا چاہیں تو کن ضرورتوں کی تکمیل زیادہ قابل ترجیح ہوگی؟ ان کی تکمیل کے انوکھے طریقے کیا ہوسکتے ہیں؟ اگر ڈیزائن کی بنیادی لاجک مقاصد شریعت اور قواعد فقہ ہوں تو کیسے ادارے ڈیزائن ہوسکتے ہیں؟
  5. ۔ مقاصد شریعت کو تقسیم کرکے بھی سوچا جانا چاہیے۔ شریعت کے روحانی مقاصد کیا ہیں؟ ان کی تکمیل کیسے ہوگی؟ سماجی مقاصد؟ تہذیبی مقاصد؟ سیاسی مقاصد؟ معاشی مقاصد؟ جمالیاتی مقاصد؟
  6. ۔اگر ہم ڈیڑھ ہزار سال پیچھے چلے جائیں اور مغربی دنیا کے بغیر محض ابوبکر و عمر ؓ اور ان کےاصحاب کے ہم راہ ترقی کرتے ہوئے اس زمانے میں آئیں تو کس طرح کے  ادارے قائم ہوتے؟ ان کی شکل کیا ہوتی؟
  7. ۔ اگر آج حضرت عمرؓ آتے تو سماج کے کس مسئلے کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے؟ اس کے لیے کس قسم کا ادارہ قائم فرماتے؟

خواب و خیال کی ایسی باتیں  اور تصورات کی لامحدود دنیا میں اس طرح کے ذہنی سفر کی عادت ہی غیر معمولی اختراعات کو جنم دیتی ہے۔ اس طرح سوچتے رہنا قیادت کا ایک اہم کام ہے۔ ہمارے اداروں کو اور اداروں کی سطح پر کام کرنے والوں کو بھی مسلسل اس طرح غور و فکر کرتے رہنا چاہیے۔

معاصر تمدنی ماڈلوں میں مناسب اصلاحات کے لیے اختراع: دوسری سطح یہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ موجود اداروں میں کس قسم کی تبدیلیاں درکار ہیں کہ وہ صحیح معنوں میں اسلام کی شہادت کا ذریعہ بن سکیں اورمنفرداسلامی خصوصیات کا نمونہ دنیا کے سامنے لاسکیں۔ اگر اسکول ہے تو وہ کیسے ‘اسلامی ‘ ہے؟ کردار سازی کے کیا انوکھے طریقے یہاں اختیار کیے جارہے ہیں؟ ہسپتال ہے تو کلی علاج (holistic treatment)کا کیا اپروچ یہاں نافذ ہے؟ انبیا علیہم السلام کی سیرت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے جہاں معاصر تمدن کے بہت سے مظاہر کو بالکل مسترد کرکے ان کی جگہ اسلامی مزاج کے مطابق بالکل نئے امور رائج کیے وہیں معاصر تمدن کے متعدد امور کو ضروری اصلا ح و ترمیم کے بعد قبول بھی کیا۔ معاشرت اور معاملات سے متعلق اسلامی فقہ کے متعدد اصول جاہلی عرب معاشرے کے عرف سے لیے گئے[46]۔ غزوہ احزاب میں اہل فارس کے طریقے کے مطابق خندق کھودنے کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ بعد کے ادوار میں یونان، روم، فارس حتی کہ  ہندوستان سے بھی بہت سے امور قبول کیے گئے، جس کی طرف اشارے اس سلسلہ مضامین میں مسلسل کیے جارہے ہیں۔

چوں کہ یہ موضوع مسلسل زیر بحث ہے اس لیےان اشاروں  پر یہاں اکتفا کرتے ہیں۔

حسن انتظام اور حسن کارکردگی کے لیے اختراع۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ إنَّ اللهَ تعالى يُحِبُّ إذا عمِلَ أحدُكمْ عملًا أنْ يُتقِنَهُ۔(بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جب بندہ کوئی بھی کام کرے تو اسے عمدگی کے ساتھ انجام دے[47]۔) اس  حکم کی تعمیل میں ایک مسلمان کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ  ہر کام میں حسن کارکردگی  کا اعلی ترین نمونہ پیش کرے۔ حسن کارکردگی کامطلب یہ ہوتا ہے کہ کم سے کم وسائل، توانائی  اور وقت لگے زیادہ سے زیادہ مطلوب مقاصد حاصل ہوں۔  اس کے لیے بھی مسلسل سوچنے اور اختراع و ایجاد کی ضرورت ہے۔ کام کے ایسے طریقے کیا ہوسکتے ہیں جن سے،جو کچھ کیا جارہا ہے اس سے اور زیادہ لوگ مستفید ہوسکیں؟  وہ کون سے مشینی انداز کے کام ہیں جو بجائے انسانوں کے زیادہ بہتر طریقے سے مشینوں سے لیے جاسکتے ہیں؟ ہمارے ادارے کے کام کے طریقوں میں وہ کیا امور ہیں جو صارفین کے لیے تناؤ، مشکل اور تاخیر کا سبب بنتے ہیں؟ ان عوامل پر کیسے قابو پایاجاسکتا ہے؟  ادارے کے کسی کام پرلگنے والا وقت کیا نصف کیا جاسکتا ہے؟ کیسے؟ کیا اسٹاف کو بہتر کارکردگی کے لیے ہمارا ماحول ترغیب و تحریک فراہم کرتا ہے؟  کون کون سی کاغذی کاروائیاں آسان تر اور سریع تر بنائی جاسکتی ہیں؟ حدیث رسول يسروا ولا تعسروا وسكنوا ولا تنفروا[48](آسانی پیدا کرو، تنگی نہ پیدا کرو، لوگوں کو تسلی اور تشفی دو نفرت نہ دلاؤ۔”) انتظام  کے لیے بھی ایک اہم اصول فراہم کرتی ہے۔ کارگر ادارہ وہ ہے جہاں کے ضوابط اور طریقے زیادہ سے زیادہ آسان اور ہر ایک کے لیے سہولت پیدا کرنے والے ہوں اور جن میں لوگوں کو آسانی اور فرحت کا احساس ہوتا ہو۔

اس بحث سے  کام یاب ادارہ جاتی  کوششوں کی ایک ایسی بڑی اہم ضرورت سامنے آتی ہے جس پر فی الحال  بہت کم توجہ ہے یعنی اختراعات و ایجادات کی ضرورت۔ بالکل نئے اداروں اور کام کے نادر طریقوں کی تشکیل کی ضرورت۔ اسلامی اداروں کے جس مطلوب کردار کو اس سلسلہ مضامین میں زیر بحث لایا جارہا ہے،یعنی یہ کہ وہ اسلام کی عملی شہادت کا ذریعہ بنیں، اسلامی رخ پر نئی پالیسیو ں،نئے معمولات اور نئے رجحانات کے فروغ کا فریضہ انجام دیں اور معاشرے کی اسلامی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کریں، اس کردار کو ادا کرنے کے لیے اختراع و ایجاد کی شدید ضرورت ہے۔ اندھی نقالی اور موجودہ تمدن کی کند ذہن تقلید سے خدمت کے کچھ کام تو ہوسکتے ہیں نئے تمدن کی تعمیر کا وہ مقدس فریضہ انجام نہیں پاسکتا جو اسلامی اداروں کا اصل ہدف ہونا چاہیے۔

حواشی و حوالہ جات

[1] اس موضوع پر ایک مفید کتاب

Mulgan, Geoff. Social Innovation: How Societies Find the Power to Change. United Kingdom: Policy Press, 2019.

[2] Helmut Anheier and Gorgi Krlev; Social Innovation: Comparative Perspectives. United States: Taylor & Francis, 2018, page 2008

[3]  البقرة117  الانعام 101

[4] النساء 83

[5] أبو عبد الله القرطبي؛ الجامع لأحكام القرآن; دار الكتب المصرية – القاهرة؛ 1964؛ ج 5 ص 291

[6] فخر الدين الرازي؛ التفسير الكبير؛ دار إحياء التراث العربي – بيروت؛ 2000 ج 10 ص 154

[7]  حوالہ سابق

[8] Acquier, Aurélien & Daudigeos, Thibault & Pinkse, Jonatan. (2017). Promises and paradoxes of the sharing economy: An organizing framework. Technological Forecasting and Social Change. 10.1016/j.techfore.2017.07.006.

[9] https://businessmodelnavigator.com/case-firm?id=112; retrieved on 11-7-2025

[10] For details see

Viegas, Jennifer. Pierre Omidyar: The Founder of Ebay. United States: Rosen Publishing Group, 2006.

[11] Jennifer Schenker, “The Platform Economy,” The Innovator, January 19, 2019.

[12] See Mckinsey report in

Winning in Digital Ecosystems; Digital Mckinsey Insights; January 2018

[13] See Niti Ayog Report

Niti Ayog; India’s Booming Gig and Platform Economy: Perspectives and Recommendations on  the Future of Work :POLICY BRIEF; June 2022

[14] Gallagher, Leigh. The Airbnb Story: How to Disrupt an Industry, Make Billions of Dollars … and Plenty of Enemies. United Kingdom: Virgin Books, 2018.

[15] https://startuptalky.com/swiggy-business-model/

[16] Arnab Chakraborty et al. (2022) published a case titled “Urban Company: The Road from Local to Global” in Delhi Business Review.

[17]  تنقیدی نقطہ نظر کے لیے ملاحظہ ہو:

Woodcock, Jamie. The Fight Against Platform Capitalism: An Inquiry Into the Global Struggles of the Gig Economy. United Kingdom: University of Westminster Press, 2021.

[18] https://aravind.org/our-story/

[19] See Times of India Report; Cataract remains a significant source of preventable blindne ..Times of India,June 30, 2025

[20] https://aravind.org/our-story/

[21] ibid

[22] https://www.weforum.org/organizations/aravind-eye-care-system-aecs/#:~:text=Aravind%20Eye%20Care%20System%20(AECS,the%20state%20of%20Tamil%20Nadu.

[23] https://www.devex.com/news/how-india-became-a-leader-in-low-cost-high-quality-eye-care-93749

[24] Resilient Health: Leveraging Technology and Social Innovations to Transform Healthcare for COVID-19 Recovery and Beyond. Netherlands: Academic Press, 2024. Pages 789-790

[25] https://humanitariangrandchallenge.org/seed-stories-sehat-kahani-story-of-health/

[26] https://www.weforum.org/people/sara-saeed-khurram/

[27] https://www.pioneerspost.com/news-views/20200323/the-doctor-brides-revolutionising-pakistan-s-healthcare

[28] https://solve.mit.edu/solutions/73217

[29] Mukherji, Sourav. Inclusive Business Models: Transforming Lives and Creating Livelihoods. United Kingdom: Cambridge University Press, 2022.page 66

[30] https://www.educationworld.in/barefoot-college-tilonia/

[31] https://barefoot.college/impact/water/

[32] https://mnre.gov.in/en/barefoot-college-tilonia/

[33] https://barefoot.college/impact/solar/

[34] https://barefoot.college/

[35] https://content.time.com/time/specials/packages/article/0,28804,1984685_1984745_1985478,00.html

[36] سلمان امین خان کی اپنی لکھی ہوئی تفصیل ملاحظہ ہو:

Khan, Salman. The One World Schoolhouse: Education Reimagined. United States: Grand Central Publishing, 2012.

[37] See the annual report

https://annualreport.khanacademy.org/

[38] https://annualreport.khanacademy.org/efficacy-results#:~:text=Using%20Khan%20Academy%20as%20recommended,36.

[39] Refer this

https://winners.webbyawards.com/2012/websites-and-mobile-sites/general-websites-and-mobile-sites/education/149779/khan-academy

https://www.hollywoodreporter.com/lists/shorty-awards-2016-winners-full-882622/

[40] https://www.inc.com/lisa-calhoun/bill-gates-uses-this-tool-to-teach-his-kids-should-you.html

[41] https://dashboard-padmaawards.gov.in/?Year=2016-2016&Award=Padma%20Shri

[42]https://content.time.com/time/specials/packages/article/0,28804,2111975_2111976_2111942,00.html

[43] https://www.khanmigo.ai/

[44]  جابس نے یہ تقریر اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے کانوکیشن میں 12 جون 2005 کو کی تھی۔ اسٹینفورڈ کے یوٹیوب چینل پر اس کا ویڈیو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

[45]   سید سعادت اللہ حسینی؛وقف: اسلامی ادارہ سازی کا تاریخی ماڈل؛ زندگی نو، فروری 2025

[46] اس موضوع پر ایک مفید مضمون ملاحظہ ہو:

صاحبزادہ محمد امانت رسول؛ اقوام عالم کے رواج و قوانین اور اسلام کا معیار رد و قبول؛ سہ ماہی تجزیات؛ اسلام آباد، اپریل 2015

[47] [1]  الطبراني المعجم الأوسط (897)، البيهقي شعب الإيمان(4929) روتہ ام المومنین عائشۃ ؓ؛ صححہ الالبانی صحیح الجامع 1880

[48]  صحیح البخاري (6125)، صحیح مسلم (1734)رواہ انس بن مالکؓ

مشمولہ: شمارہ اگست 2025

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2025

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223