دعوت اور خیر خواہی

عبد الحلیم فلاحی

داعیٔ حق انسانوں کا سچا خیرخواہ ہوتا ہے۔اس کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ حق وصداقت کی جو راہ اسے ملی ہے ۔ دنیا کے سارے انسان اس راہ کے راہی بن جائیں۔ علامہ اقبالؒ کے بقول:

’’محروم تماشا کو پھر دیدۂ بینا دے

دیکھا ہے جو کچھ میں نے اوروں کو بھی دکھلا دے‘‘

ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی داعیانہ زندگی میں اپنے مدعویین کے ساتھ ان کی ہمدردی و بہی خواہی کا پہلو بہت نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ ابراہیم میں ان کی اس درخواست کا جو انھوںنے نافرمان مخاطبین کے تعلق سے خداتعالیٰ کے حضور پیش کی ہے ،ذکر فرمایا ہے۔ اس درخواست میں انتہائی حسین اسلوب میں ابراہیم علیہ السلام نے نافرمانوں کے لئے مغفرت اوررحمت کی سفارش کی ہے۔

فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَاِنَّہٗ مِنِّىْ۝۰ۚ وَمَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔  (سورہ ابراہیم،۱۴:۳۶)

’’جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو آپ بہت معاف کرنےوالے بڑے مہربان ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس عرضداشت میں نافرمانوں کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے کردیا اور نہایت لطیف پیرائے میں اس بات کا اظہار بھی کردیا کہ اگر ان کے ساتھ آپ توفیق ارزانی فرما دیں تو یہ بھی آپ کے دامنِ رحمت و مغفرت میں جگہ پاسکتے ہیں۔

نرم دلی اور گداز قلبی ابراہیم علیہ السلام کے دو نمایاں وصف ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس وصف کو ’’اوّاہٌ حلیمٌ اور ’’اواہُ منیب‘‘ کے جامع الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جناب میں آہ وزاری اور انابت (ہرمعاملے   میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا) اور حلم وبردباری آپ کا شیوہ تھا۔ اس لیے ایسی بلند پایہ ہستی سے یہ توقع ہے کہ وہ نافرمانوں کی بھی خیرخواہ ہو۔

ان کی اسی نرم دل اور گدازیٔ قلب کا مظہر مشہور تاریخی واقعہ ہے۔ جب عذاب کے فرشتے لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب الٰہی نازل کرنے کے لئے آئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس گمراہ قوم سے عذاب ٹالنے کی اپنی سی کوشش کی۔ اس معاملے میں وہ برابر اللہ تعالیٰ سے التجا کرتے رہے۔ اور اصرار کے ساتھ عرض کرتے رہے کہ ابھی قوم لوط سے عذاب ٹال دیاجائے۔ اس روداد کو اللہ تعالیٰ نے سورۂ ہود میں بیان فرمایا ہے، اس سے خدا وبندے کے درمیان انتہا درجے کی محبت اور تعلق کا اظہار ہوتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

يُجَادِلُنَا فِيْ قَوْمِ لُوْطٍ۔(سورہ ہود،۱۱: ۷۴)

’’وہ قومِ لوط کے معاملے میں ہم سے بحث وتکرار کر رہا تھا‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس بحث وتکرار پر کوئی گرفت نہ کی اور نہ اسے کسی طرح نامناسب قرار دیا، بلکہ انسانوں کے ساتھ ان کی ہمدردی پر ستائش کی۔ اس کو ان کے طبعی حسن اخلاق پر محمول کیا اور کہا:

اِنَّ اِبْرٰہِيْمَ لَحَلِيْمٌ اَوَّاہٌ مُّنِيْبٌ۔(سورہ ھود،۱۱: ۷۵)

حقیقت میں ابراہیم بڑا حلیم و بردبار نرم دل و دردمند تھا اور ہر معاملے میں ہماری طرف رجوع کرتا تھا‘‘۔

اور اس محبت آمیز مکالمہ اور مجادلہ کا خاتمہ اس وقت ہوا ہے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں صاف جواب مل گیا کہ اب اس قوم میں بھلائی کی کوئی رمق باقی نہیں ہے اور یہ ہمہ وجوہ عذاب کی مستحق ہوگئی ہے۔ اس لئے اب ان کے لئے سفارش کا کوئی موقع باقی نہیں رہا ہے۔

يٰٓـــاِبْرٰہِيْمُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا۝۰ۚ اِنَّہٗ قَدْ جَاۗءَ اَمْرُ رَبِّكَ۝۰ۚ وَاِنَّہُمْ اٰتِيْہِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُوْدٍ۔(سورہ ہود،۱۱: ۷۶)

’’اے ابراہیم، یہ بحث چھوڑو، اب تمہارے رب کا حکم ہوچکا ہے اور ان پر ایک ایسا عذاب آنے والا ہے جو ٹالا نہ جاسکے گا‘‘۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے مخاطبین کے ساتھ یہ ہمدردی و بہی خواہی اس دنیا کی زندگی میں تھی۔ لیکن قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی مخاطب قوم کے ساتھ اسی طرح کی ہمدردی کا اظہار قیامت کے دن حیاتِ اُخروی میں بھی کریں گے۔

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے دریافت کریں گے: ’’کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی خدا بنالو‘‘؟ وہ جواب میں عرض کریں گے: ’’سبحان اللہ، میرا یہ کام نہ تھا کہ میں وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہ تھا، اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو آپ کو ضرور اس کا علم ہوتا‘‘۔ (سورۃ المائدہ، ۵:۱۱۶)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ان معروضات کا تذکرہ ’’المائدہ۔آیت ۱۱۷‘‘ پر مکمل ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے مخاطب لوگوں کے تعلق سے جو التجا اپنے رب کےحضور رکھتے ہیں اس کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا ہے:

اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُكَ۝۰ۚ وَاِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ (المائدہ،۵: ۱۱۸)

’’اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر انہیں معاف کردیں تو آپ صاحب اقتدار اور دانا ہیں)

اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی عرضداشت کو جس پُر جمال اسلوب اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا ہے، اس سے عمدہ اسلوب کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ آپ نے سب سے پہلے اپنے مخاطبین کے جرم پر اُن کے مستحق عذاب ہونے کا ذکر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ہے کہ اگر آپ انہیں عذاب دینا چاہیں تو یہ آپ کے غلام وبندے ہیں۔ یہ کہیں بھاگ کر نہیں جاسکتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے اقتدار، اس کے جاہ وجلال اور اس کی حکمت کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر آپ انہیں معاف کردیں تو یہ آپ ہی کے شایان شان ہے۔ کوئی دوسرا آپ کے فیصلے کے نفاذ کی راہ میں مزاحم نہیں ہوسکتا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس عرضداشت کو نامناسب نہیں ٹھہرایا۔ ہاں! ان کے جواب میں ایک اصولی بات ارشاد فرمائی، جس کی بنیاد پر یوم العرض (پیشی کے دن) لوگوں کے معاملات کا فیصلہ ہوگا۔ ارشاد ہوتا ہے:

قَالَ اللہُ ہٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُہُمْ۔(مائدہ،۵: ۱۱۹)

’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کی سچائی ان کے لئے نفع بخش ہوگی‘‘۔

اس مکالمے کے ذکرسے بتانا مقصود ہے کہ داعی کا دل اپنے مدعویین کے لئے کس قدر تڑپتا اور بے چین ہوتا ہے۔ انبیاء تو داعیوں کے سرخیل ہوتے ہیں، اس لیے ان کے جذبۂ خیرخواہی کی کوئی مثال نہیں دی جاسکتی۔

سورۂ یٰسین کا مطالعہ کرتے ہوئے یہی جذبۂ بہی خواہی ،تڑپ واضطراب اس مردِ مومن کے اندر بھی نظر آتا ہے، جس نے علی الاعلان کلمۂ توحید کا اقرار کیا تھا۔ اس کی قوم کے لوگوں نے اسے قتل کردیا۔ اس کے بعد اس مردِ شہید کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے معاملہ اچھا کیا اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں بھری جنت کا وہ مستحق قرار پایا۔ اس کے دلِ سوزاں میں اپنی مدعو قوم کے لیے جو جذبۂ خیرخواہی موجزن تھا ۔ اس کو قرآن ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:

قِيْلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ۝۰ۭ قَالَ يٰلَيْتَ قَوْمِيْ يَعْلَمُوْنَ۝بِمَا غَفَرَ لِيْ رَبِّيْ وَجَعَلَنِيْ مِنَ الْمُكْرَمِيْنَ۝(سورہ یٰسین،۲۶۔۲۷)

’’اس سے کہا گیا: ’’داخل ہوجائو جنت میں‘‘۔ اس نے کہا: ’’کاش میری قوم کو معلوم ہوجاتا کہ میرے رب نے کس چیز کی بدولت میری مغفر ت فرما دی اور مجھے باعزت لوگوں میں شامل فرمادیا‘‘۔

اس آیت کریمہ کی تفسیر مولانا صلاح الدین یوسف صاحب نے مولانا محمد جوناگڑھی صاحب کے ترجمۂ قرآن کے حواشی میں درج ذیل الفاظ میں کی ہے۔’’یعنی جس ایمان اورتوحید کی وجہ سے میرے رب نے بخش دیا، کاش میری قوم اس بات کو جان لے تاکہ وہ بھی ایمان و توحید کو اپناکر اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی نعمتوں کی مستحق ہوجائے۔ اس طرح اُس شخص نے مرنے کے بعد بھی اپنی قوم (گمراہ قوم) کی خیرخواہی کی۔ ایک مومن صادق (اور مخلص داعی حق) کو ایسا ہونا ہی چاہیے کہ وہ ہروقت (اور ہر حال میں) لوگوں کی خیرخواہی ہی کرے، بدخواہی نہ کرے۔ ان کی صحیح رہنمائی کرے، گمراہ نہ کرے۔ بے شک لوگ جو چاہیں کہیں اور جس قسم کا سلوک چاہیں کریں، حتیٰ کہ اسے مار ڈالیں‘‘۔

داعی ٔ اعظم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حیات طیبہ میں نمایاں طور پر یہ صفت سامنے آتی ہے کہ آپ کی ہستی سراپا خیرخواہی کا مظہر تھی۔ ربِ کائنات نے دنیائے انسانیت کے لئے آپؐ کو رحمت بناکر مبعوث فرمایا۔ ارشاد ہوتا ہے:

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِيْنَ۝(الانبیاء،۲۱: ۱۰۷)

’’اے نبیؐ، ہم نے آپ کو سارے عالم کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے‘‘۔

’’اپنی بعثت سے متعلق خود آپؐ کا ارشاد گرامی ہے:

اِنما اَنا رحمَۃٌ مُہْداۃٌ ۔ (صحیح الجامع الصغیر، حدیث ن: ۲۳۴۵)

’’میں رحمت مجسم بن کر آیا ہوں، جو (اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہلِ جہاں کے لیے) ایک ہدیہ ہے‘‘۔

حیاتِ مبارکہ میں انسانیت کے ساتھ ہمدردی و بہی خواہ کا عظیم الشان مظاہرہ ہمیں ملتا ہے۔ آپ ؐاہل طائف کے ناروا سلوک اور حد سے بڑھی ہوئی ظلم وزیادتی کو سہتے ہوئے مکہ کے لیے واپس ہوئے۔ سارا جسم زخموں سے چور تھا اور ایڑیوں کے زخم سے دونوں جوتے خون سے لبریز تھے۔ آپؐ جب قرنُ الثّعالب‘‘ کے مقام پر پہنچنے تو یکایک آسمان کی طرف سے بادلوں نے آپؐ پر سایہ کردیا۔ آپؐ نے نگاہ اوپر اٹھائی تو دیکھا کہ بادل میں جبریل علیہ السلام جلوہ فرما ہیں، اور وہ کہہ رہے ہیں، ’’اے محمدﷺ ! آپ کے رب نے وہ سب کچھ سن لیا ہے جو آپ کی قوم نے آپ کی دعوتِ اسلام کے جواب میںکہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے فرشتے کو میرے ساتھ بھیجا ہے۔ آپؐ جو حکم دیں گے، وہی وہ کرے گا‘‘۔

اتنے میں پہاڑوں کے فرشتے نے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر سلام عرض کیا اور بولا، ’’اے محمدﷺ ! آپؐ جو چاہیں حکم دیں۔ اگر آپ کہیں تو میں انہیں طائف کے دونوں پہاڑوں کے درمیان پیس کر رکھ دوں گا‘‘۔ آپؐ نے فرمایا: ’’نہیں ،نہیں، میں تم کو ایسا کرنے کا حکم ہرگز نہیں دے سکتا، کیونکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی آئندہ نسلوں میں ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو مجھ پر ایمان لائیں گے اور میرے لائے ہوئے دین کو حرزِ جاں بنائیں گے‘‘۔

غزوۂ حنین کے بعد طائف کا محاصرہ کم وبیش  بیس دن جاری رہا ، شہر فتح نہ ہوسکا تو آپنے بعض صحابہ کرامؓ کے مشورے کے بعد حکم دیا کہ محاصرہ اٹھا لیاجائے۔ بعض صحابہ کرامؓ نے عرض  کیا، آپؐ انہیں بددعا دیں، آپؐ نے بددعا کے بجائے انہیں یہ دعا دی۔

اللّٰہم اِھدِ ثقیفاً و انت بہمْ۔ (سیرۃ النبیؐ ،ج۔۱:۳۸۶،ص)

’’اے اللہ،ثقیف کو ہدایت دے اور انہیں توفیق دے کہ میرے پاس حاضر ہوجائیں‘‘۔

بنوثقیف کے لیے آپؐ کی مذکورہ بالا دعا اس بات کا مظہر ہے کہ آپ کے دل میں اپنے مخاطبین کے لیے خیرخواہی کا بے پناہ جذبہ تھا۔ اسی جذبۂ خیرخواہی کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یوں بیان کیا ہے:

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِہِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِہٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا۔(سورۃ الکہف،۱۸: ۶)

’’تو اے نبیؐ، شاید تم ان کے پیچھے کے غم کے مارے اپنی جان کھودینے والے ہو، اگر وہ اس بات (قرآن کریم) پر ایمان نہ لائے۔

بعینہ یہی بات سورہ ’’الشعراء‘‘ کے آغاز میں فرمائی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ۔ (سورۃ الشعرآء۲۶: ۳)

’’اے نبیؐ، شاید تم اِس غم میں اپنی جان کھودوگے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے‘‘۔

آپؐ نے خود درج ذیل حدیث میں اپنی کیفیت بیان کی ہے:

عَنْ ابِیْ ھُرَیرۃَ قال،قال رسول اللہ ﷺ : ’’اِنَّمَا مثلی ومثل اُمتی کمثل رجل استوقد ناراً، فجعل الدواب والفراش یقعن و انا اخذٌ بحجزکم وانتم تقتحمون فیہ‘‘۔ (صحیح مسلم)

’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، انھوں نےکہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری اور میری امت کی مثال تو اس آدمی کی طرح ہے جس نے آگ جلائی تو پروانے اور کیڑے مکوڑے اس میں ٹوٹے پڑ رہے ہیں اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم (جہنم) کی آگ میں چھلانگ لگانا چاہتے ہو اور میں تمہاری کمر پکڑ پکڑ کر تمہیں اس میں گرنے سے بچانا چاہتا ہوں‘‘۔ (صحیح مسلم)

نبی  کریم ﷺ نے انسانوں کے ساتھ خیرخواہی اور بہی خواہی کے جذبے کو صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھا ، بلکہ ہربندۂ مومن کے اندر یہ جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مندرجہ ذیل حدیث اسی بات کا مظہر ہے۔

عَن تمیم الداریؓ ان النبیّ ﷺ قال: الدین النصیحۃ ثلاثاً ،قلنا لمن؟ قال: للّٰہ ولکتابہ ولرسولہ ولاَئمۃ المسلمین وعامتہم‘‘۔  (صحیح بخاری ومسلم)

’’حضرت تمیم داریؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا: ’’دین نصح وخیرخواہی کا نام ہے‘‘۔ یہ بات آپؐ نے تین بار فرمائی۔ ہم نے عرض کیا کہ (یہ خیرخواہی) کس کے لئے ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’اللہ کے لئے، اس کی کتاب اور اس کے رسول کے لئے، مسلمانوں کے سربراہوں اور ان کے عام لوگوں کے لئے‘‘۔

نصح وخیر دین اسلام کا ایک لازمی جز ہے۔ دین سراپا خیرخواہی ہے۔ آج کی سب سے بڑی خیرخواہی یہ ہے کہ ان سے علی الاعلیٰ کہا جائے: ’’اے آدم کے بیٹو! ہمیں تمہارے دکھوں ، تمہاری الجھنوں اور مسائل کا بھرپور احساس و ادراک ہے۔ تم نے ان کے حل کیلئے کھوٹے ازموں اور راستوں کو اپنا کر دیکھ بھی لیا ہے۔ انھوں نے تمہاری مشکلات و مصائب کو دور کرنے کے بجائے ان میں اضافہ ہی کیا ہے۔ اب ہمارے پاس اسلام کے پیغام کی شکل میں ایک نسخۂ کیمیا ہے وہ نہ صرف تمہارے دکھوں کا مداوا کرے گا، بلکہ تمہیں امن وچین اور شانتی وسکون سے ہمکنار کرے گا۔ اگر تم نے اس پیغام الٰہی کو قبول کرلیا اور اس کے مطابق اپنی زندگی کا نقشہ تبدیل کرلیا تو اس کے  نتیجے میں تمہاری دنیا بھی سنورے گی اور اس کے بعد آنے والی دنیا (آخرت) بھی سنور جائے گی۔ تم دنیا وآخرت دونوں جگہ شاد کام وبامراد ہوگے۔ مخاطبین کو خیرخواہانہ  اور واضح طور پر یہ بتا دینا چاہئے                            ؎

دوستو! ہے اگر اَمن کی جستجو

چاہتے ہو کہ سُکھ چین آرام ہو،

امنِ عالم پیامِ الٰہی میں ہے

ہم نشینو! پیامِ خدا عام ہو

اپریل 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau