اشارات

ڈاکٹر محمد رفعتؒ

اُمتِ مسلمہ کے دردمند افراد اِس سوال پر ہمیشہ غور کرتے رہے ہیں کہ اُمت کی کامیابی کی سبیل کیا ہے؟ اپنے اپنے فہم کے مطابق اہلِ فکر نے کامیابی کی شرائط متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ غالباً بلا خوفِ تردید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اُمت کی کامیابی کی بنیادی شرائط میں سے ایک شرط— جس پر تمام اہلِ فکر کا اتفاق رہا ہے— یہ ہے کہ افرادِ امت کے اندر اُمت کی اصل حیثیت و منصب کا شعور موجود ہو اور زندہ و تابندہ ہو۔ دوسرے لفظوں میں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اُمت اُسی وقت کامیاب ہوسکتی ہے جب اُس کے افراد شعوری زندگی گزاریں۔ جو بات بھی وہ کہیں وہ سوچی سمجھی ہو اور جو قدم بھی وہ اٹھائیں اُس کے پیچھے صالح و مستحکم فکر موجود ہو۔ اس کے برعکس اگر اُمت کے افراد کے اقدامات منصبی شعور سے خالی ہوں اور محض زمانے کی ہوا اُن کے عمل کا رخ متعین کرتی ہو تو اُمت کامیاب نہیں ہوسکتی، خواہ بظاہر اُمت کے افراد محنت اور دوڑ دھوپ کرتے نظر آئیں اور اُمت کے لیے اُن کے اخلاص میں شبہ نہ کیا جاسکتا ہو۔

فطری طور پر ہمارے سامنے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ شعور کیا ہے جو افرادِ امت کے اندر مطلوب ہے؟ غور کیا جائے تو اِس شعور کی دو سطحیں سامنے آتی ہیں:

﴿۱﴾ شعور کی ایک سطح جو بنیادی ہے یہ ہے کہ دینِ حق پر ایمان افرادِ امت کے دلوں میں جاگزیں ہو اور پھر اس ایمان کے زندہ و تازہ رکھنے اور ترقی دینے کی کوشش بھی کی جاتی رہے۔ اُمت کی قیادت اور اس کے عام افراد ایمان کی تازگی کے سلسلے میں جتنے مستعد ہوں گے اُمت میں شعور کی سطح بھی اتنی ہی بلند ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ امت کی تاریخ میں جن اولوالعزم اصحاب نے بھی تجدیدِ دین کا کام انجام دیا ہے، بجا طور پر انھوں نے ایمان کی تجدید کو اپنی مساعی میں بنیادی اہمیت دی ہے اور اپنے ساتھیوں کو بھی اس کی اہمیت سے آگاہ کیا ہے۔

﴿۲﴾ جو شعور اُمت کے اندر مطلوب ہے اُس کی دوسری سطح یہ ہے کہ وقت کے ابھرتے ہوئے سوالات کے سلسلے میں اُمت درست موقف اختیار کرے اور اُس موقف کو موزوں اسلوب اور پیرائے میں بیان کرے۔ اُمت کا موقف عین حق و انصاف کے مطابق، انسانوں کے لیے قابل فہم اور حالات کے حقیقت پسندانہ تجزیے پر مبنی ہونا چاہیے۔ اِس موقف کے تعین کے لیے حالات سے باخبری ضروری ہے اور اسلام کے ابدی اصولوں کو بدلتے ہوئے حالات پر منطبق کرنے کی صلاحیت اور سلیقہ بھی درکار ہے۔ درست موقف کا تعین ہوجانے کے بعد اُس کو بیان کرنے کے لیے حکمت اور جرأت دونوں کی ضرورت ہے۔ موقف کا تعین اور اُس کا اظہار دونوں ایسے کام ہیں جو اصلاً اُمت کی قیادت کے کرنے کے ہیں، البتہ عام افرادِ اُمت کو اِس سلسلے میں قیادت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

ایمان کی افزائش و ترقی:

امتِ مسلمہ کے اندر منصبی شعور کو تازہ رکھنے کے لیے ایمان کی تجدید و افزائش ناگزیر ہے۔ قرآنِ مجید نے وہ تدابیر بتائی ہیں جن کو اختیار کرکے ایمان کو جِلا بخشی جاسکتی ہے۔ اِن میں سے ایک تدبیر آیاتِ الٰہی کی تلاوت اور اُن پر تدبر ہے:

انَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْْہِمْ آیَاتُہُ زَادَتْہُمْ اِیْمَاناً وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَo الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلاَۃَ وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنْفِقُوْنَo ﴿الانفال: ۲-۳﴾

‘‘بلاشبہ سچے اہلِ ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذِکر سن کر لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات اُن کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو اُن کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں۔ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے اُن کو دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں۔’’

وَاِذَا مَا أُنْ زِلَتْ سُوْرَۃٌ فَمِنْہُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ أَیُّکُمْ زَادَتْ ہُ ہٰ ذِہٰ اِیْمَاناً فَأَمَّا الَّذِیْنَ آمَنُوْا فَزَادَتْہُمْ اِیْمَاناً وَہُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَo وَأَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْہُمْ رِجْساً اِلٰی رِجْسِہِمْ وَمَاتُوْا وَہُمْ کَافِرُوْنَo   ﴿التوبۃ: ۱۲۴،۱۲۵﴾

‘‘جب کوئی نئی سورت نازل ہوتی ہے تو ان ﴿منافقوں﴾ میں سے بعض لوگ ﴿مذاق کے طور پر مسلمانوں سے﴾ پوچھتے ہیں کہ ‘‘کہو! تم میں سے کس کے ایمان میں اِس سے اضافہ ہوا؟’’ ﴿اِس کا جواب یہ ہے کہ ﴾ جو لوگ ایمان لائے ہیں اُن کے ایمان میں تو فی الواقع ﴿ہر نازل ہونے والی سورت نے﴾ اضافہ ہی کیا ہے اور وہ اُس سے دلشاد ہیں، البتہ جن لوگوں کے دلوں کو ﴿نفاق کا﴾ روگ لگا ہوا تھا، اُن کی سابق نجاست پر ﴿ہر نئی سورت نے﴾ ایک اور نجاست کا اضافہ کردیا اور وہ مرتے دم تک کفر ہی میں مبتلا رہے۔’’

عَلَیْْہَا تِسْعَۃَ عَشَرَo وَمَا جَعَلْنَا أَصْحَابَ النَّارِ اِلَّا مَلَا ئِکَۃً وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَہُمْ اِلَّا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیَسْتَیْْقِنَ الَّذِیْنَ أُوتُوْا الْکِتَابَ وَیَزْدَادَ الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِیْمَاناً وَلَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ أُوْتُوْا الْکِتَابَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَلِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِم مَّرَضٌ وَالْکَافِرُوْنَ مَاذَا أَرَادَ اللّٰہُ بِہَذَا مَثَلاً کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ یَّشَائُ وَیَہْدِیْ مَنْ یَّشَائُ وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ وَمَا ہِیَ اِلَّا ذِکْریٰ لِلْبَشَرِo  ﴿مدثر: ۳۰-۳۱﴾

‘‘اُس ﴿دوزخ﴾ پر اُنیس ﴿۹۱﴾ کارکن مقرر ہیں — ہم نے دوزخ کے یہ کارکن فرشتے بنائے ہیں اور اُن کی تعداد کو کافروںکے لیے فتنہ بنادیا ہے تاکہ اہلِ کتاب کو یقین آجائے اور ایمان لانے والوں کاا یمان بڑھے، اور اہلِ کتاب اور مومنین کسی شک میں نہ رہیں، اور دل کے بیمار ﴿منافق﴾ اور کفار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اِس عجیب بات سے کیا مطلب ہوسکتا ہے۔ اس طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخش دیتا ہے۔ اور تیرے رب کے لشکروں کو خود اُس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اُس ﴿دوزخ﴾ کا ذِکر اِس کے سوا کسی غرض کے لیے نہیں کیا گیا کہ لوگوں کو اس سے نصیحت ہو۔’’

ترقی ایمان کی دوسری تدبیر یہ ہے کہ حق و باطل کی کشمکش کے موقع پر بندہ مومن استقامت کا ثبوت دے اور اطاعتِ الٰہی کی راہ اختیار کرے۔

چنانچہ جب اہلِ ایمان حدیبیہ میں نبی ﷺ کی اطاعت پر ثابت قدم رہے تو اللہ نے اُن کو سکینت عطا فرمائی:

ہُوَ الَّذِیْ أَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ فِیْ قُلُوْبِ الْمُؤْمِنِیْنَ لِیَزْدَادُوْا اِیْمَاناً مَّعَ اِیْمَانِہِمْ وَلِلّٰہِ جُنُوْدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْماً حَکِیْماً  ﴿فتح: ۴﴾ ‘‘وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ایک ایمان اور بڑھالیں۔ زمین اور آسمان کے سب لشکر اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہیں اور وہ عزیز و حکیم ہے۔’’

حق و باطل کی جنگ کا ایک اور موقع وہ تھا جب جنگِ خندق پیش آئی جس میں اہلِ کفر کے لشکر ہجوم کرکے مدینہ پر حملہ آور ہوگئے تھے۔ جو اہلِ ایمان اس موقع پر ثابت قدم رہے اُن کے ایمان میں اضافہ ہوا:

وَلَمَّا رَأَی الْمُؤْمِنُوْنَ الْأَحْزَابَ قَالُوْا ہٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ وَصَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ وَمَا زَادَہُمْ اِلَّا اِیْمَاناً وَتَسْلِیْماًo مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوْا اللّٰہَ عَلَیْْہِ فَمِنْہُمْ مَّنْ قَضَی نَحْبَہُ وَمِنْہُمْ مَّنْ یَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلاً o           ﴿الاحزاب: ۲۲،۲۳﴾

‘‘سچے مومنوں ﴿کا حال اُس وقت یہ تھا کہ﴾ جب انھوں نے حملہ آور لشکروں کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ ’’یہ وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اللہ اور اُس کے رسول کی بات بالکل سچی تھی۔’’ اس واقعہ نے اُن کے ایمان اور سپردگی کو اور زیادہ بڑھا دیا۔ ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں، جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کردکھایا ہے۔ اُن میں کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔ انھوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔’’

اسی طرح جنگِ احد کے فوراً بعد نبی ﷺ نے کفار کا تعاقب کیا، جنگ احد میں اور خصوصاً اس نازک موقع پر جن سچے مومنین نے آپﷺکا ساتھ دیا اُن کی یہ عزیمت اُن کے ایمان میں افزائش کا سبب بنی:

الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَہُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِیْنَ أَحْسَنُوْا مِنْہُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِیْمٌo الَّذِیْنَ قَالَ لَہُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْ فَاخْشَوْہُمْ فَزَادَہُمْ اِیْمَاناً وَقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُo                         ﴿آل عمران: ۱۷۲،۱۷۳﴾

‘‘جن لوگوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہا اُن میں جو اشخاص نیکو کار ہیں، اُن کے لیے بڑا اجر ہے اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ ‘‘تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں، اُن سے ڈرو۔ تو یہ سن کر اُن کا ایمان اور بڑھ گیا اور انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔’’

ایمان کا اظہار

افزائشِ ایمان کی مذکورہ بالا تدبیروں کے اختیار کرنے کے علاوہ ایمان کے اظہار و اعلان سے بھی ایمان میں پختگی آتی ہے۔گرچہ ایمان کا اظہار ایک مومن کے عملی رویے سے بھی ہوتا ہے لیکن قول کے ذریعے بھی ایمان کا اظہار ضروری ہے۔ جب ایمان سنجیدہ قول کی شکل میں سامنے آتا ہے تو اُس کے اچھے اثرات خود قائل کی شخصیت پر بھی پڑتے ہیں اور پورے ماحول پر بھی۔ ایمان کے سنجیدہ اعلان کے بعد اگر مومن استقامت کا ثبوت دیتا ہے تو اللہ کے فرشتے دنیا اور آخرت میں اُس کے رفیق ہوتے ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْْہِمُ الْمَلَائِکَۃُ أَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَأَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَo نَحْنُ أَوْلِیَاؤُکُمْ فِیْ الْحَیَ اۃِ الدُّنْیَا وَفِیْ الْآخِرَۃِ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْ أَْنفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُوْنَo نُزُلاً مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍo وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّنْ دَعَا اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَo ﴿حٰمٓ السجدۃ: ۳۰-۳۳﴾

‘‘جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر وہ اُس پر ثابت قدم رہے، یقینا اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور اُن سے کہتے ہیں کہ ’’نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہوجاؤ۔ اُس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم اِس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔ وہاں جو کچھ تم چاہوگے تمہیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کروگے وہ تمہاری ہوگی۔ یہ ہے سامانِ ضیافت اُس ہستی کی طرف سے جو غفور و رحیم ہے۔’‘ اور اُس شخص کی بات سے اچھی بات کس کی ہوگی، جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں۔’’

اصحابِ کہف نے جب اپنے ایمان کا اعلان کیا تو اللہ نے اُن کے دل مضبوط کردیے اور معجزانہ طریقے پر اُن کو ظالموں کی زیادتی سے محفوظ رکھا:

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْْکَ نَبَأَہُمْ بِالْحَقِّ اِنَّہُمْ فِتْیَۃٌ آمَنُوْا بِرَبِّہِمْ وَزِدْنَاہُمْ ہُدًیo وَرَبَطْنَا عَلٰی قُلُوْبِہِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَ مِنْ دُونِہٰٓ اِلٰہاً لَّقَدْ قُلْنَا اِذاً شَطَطاًo   ﴿الکہف: ۱۳-۱۴﴾

’’ہم اُن کا اصل قصہ تمہیں سناتے ہیں۔ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے اُن کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی۔ ہم نے اُن کے دل اُس وقت مضبوط کردیے جب وہ اٹھے اور انھوں نے یہ اعلان کردیا کہ ہمارا رب تو بس وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اُسے چھوڑ کر کسی اور معبود کو نہ پکاریں گے۔ اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بے جا بات کریں گے۔‘‘

یہ مخلصانہ اظہارِ ایمان کا وہ نتیجہ ہے جو دنیا میں اصحابِ کہف کے سامنے آیا یعنی دل کی مضبوطی اور اللہ کی مدد۔ آخرت میں جو نتیجہ سچے اہلِ ایمان کے سامنے آئے گا وہ اللہ کی رضا اور جنتِ ابدی کی شکل میں ہوگا:

قَالَ اللّٰہُ ہٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصَّادِقِیْنَ صِدْقُہُمْ لَہُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا أَبَداً رَّضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُo لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا فِیْہِنَّ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْْئٍ قَدِیْرٌo                ﴿المائدۃ:۱۱۹-۱۲۰﴾

اللہ ﴿قیامت کے دن﴾ فرمائے گا: ’’یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو اُن کی سچائی نفع دیتی ہے۔’‘ اُن کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، یہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے، یہی بڑی کامیابی ہے۔ زمین اور آسمانوں اور تمام موجودات کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔‘‘

سنجیدہ قول کے مفید اثرات دنیا اور آخرت میں ہر جگہ سامنے آتے ہیں۔ اس کے برعکس غیرسنجیدگی کو پسند نہیں کیا گیا ہے۔ البتہ کوئی شخص اگر بے شعوری میں کوئی بات کہہ دے تو اللہ نے اپنے عفو وکرم کی بنا پر اِس کی امید دلائی ہے کہ اُس قول کی باز پرس نہ ہوگی۔ البتہ جو بات شعور کے ساتھ کہی گئی ہو اُس کے متعلق محاسبہ ہوگا:

لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْ أَیْْمَانِکُمْ وَلٰ کِنْ یُؤَاخِذُکُمْ بِمَا عَقَّدتُّمُ الأَیْْمَانَ فَکَفَّارَتُہ، اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسَاکِیْنَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ أَہْلِیْکُمْ أَوْ کِسْوَتُہُمْ أَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلَاث َۃِ أَیَّامٍ ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ أَیْْمَانِکُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوْا أَیْْمَانَکُمْ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ آیَاتِہٰ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَo ﴿المائدۃ:۸۹﴾

’’تم لوگ جو مہمل قسمیں کھالیتے ہو اُن پر اللہ گرفت نہیں کرتا، مگر جو قسمیں تم جان بوجھ کر کھاتے ہو اُن پر وہ ضرور تم سے مواخذہ کرے گا۔ ﴿ایسی قسم توڑنے کا﴾ کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو وہ اوسط درجے کا کھانا کھلاؤ جو تم اپنے بال بچوں کو کھلاتے ہو،یا انہیں کپڑے پہناؤ، یا ایک غلام آزاد کرو، اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو، وہ تین دن کے روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب کہ تم قسم کھاکر توڑ دو۔ اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو۔ اس طرح اللہ اپنے احکام تمہارے لیے واضح کرتا ہے شاید کہ تم شکر ادا کرو۔‘‘

جو لوگ اونچے اونچے دعوے کرتے ہیں اُن کو اللہ نے تنبیہ کی ہے۔ اللہ اُس دعوے کو پسند نہیں کرتا جو غیرسنجیدگی کے عالَم میں کیا جائے اور جس کے پیچھے عزم و ارادہ نہ ہو:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَo کَبُرَ مَقْتاً عِنْدَ اللّٰہِ أَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَo اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِہٰ صَفّاً کَأَنَّہُمْ بُنیَانٌ مَّرْصُوْصٌo ﴿الصف: ۲-۴﴾

‘‘ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں۔اللہ کو تو پسند وہ لوگ ہیں جو اُس کی راہ میں اِس طرح صف بستہ ہوکر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔‘‘

اِس آیتِ قرآنی کی روشنی میں ہم اپنا احتساب کرسکتے ہیں۔ آج کل مسلمانوں میںلمبے چوڑے دعوؤں اور لچھے دار تقریروں کا رواج عام ہے جو محض تفریحِ طبع کے لیے کی جاتی ہیں۔ نہ مقررین کی مسحور کن تقریروں کے پیچھے عمل کا کوئی ارادہ ہوتا ہے نہ سامعین میں ان کے سننے سے عمل کی کوئی تحریک پیدا ہوتی ہے۔ ایسی گفتگوئیں اور تقریریں امت کے زوال کی علامت بھی ہیں اور زوال کا ایک سبب بھی۔ اگر اُمت کو کامیابی کی طرف بڑھنا ہے تو افرادِامت کو اپنی باتوں کے اندر سنجیدگی پیدا کرنی ہوگی۔یہ سنجیدگی قیادت کے اندر بھی مطلوب ہے اور عام افراد کے اندر بھی۔ جب عوام کے ذوق کی اصلاح ہوگی تو مقررین بھی ایسی تقریروں سے گریز کریں گے جو محض زورِ بیان کی داد لینے کے لیے کی جاتی ہیں اور جِن میں کسی سنجیدہ پیغام کی ترسیل پیشِ نظر نہیں ہوتی۔

کلمۂ طیبہ

نظریہ حیات اور تصورِ کائنات کو پیش کرنے یا انسانی سماج کو درپیش کسی سوال کے سلسلے میں موقف کا اظہار کرنے کے لیے جو بات کہی جاتی ہے اُس کو قرآن مجید نے ‘‘قول’’ سے تعبیر کیا ہے۔ دوسرا لفظ جو قریب قریب ‘‘قول’’ کے ہم معنی ہے ‘‘کلمہ’’ ہے۔ اہلِ ایمان کا وصف یہ ہے کہ وہ ‘‘کلمۂ طیبہ’’ اور ‘‘کلمۂ خبیثہ’’ کے درمیان امتیاز کرتے ہیں اور کلمۂ طبیہ کو اختیار کرتے ہیں:

أَلَمْ تَرَ کَیْْفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرۃٍ طَیِّبَۃٍ أَصْلُہَا ثَابِتٌ وَفَرْعُہَا فِیْ السَّمَآئِ o تُؤْتِیْ أُکُلَہَا کُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّہَا وَیَضْرِبُ اللّٰہُ الأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَo وَمَثَلُ کَلِمَۃٍ خَبِیْثَۃٍ کَشَجَرَۃٍ خَبِیْثَۃٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الأَرْضِ مَا لَہَا مِنْ قَرَارٍo یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِیْ الآخِرَۃِ وَیُضِلُّ اللّٰہُ الظَّالِمِیْنَ وَیَفْعَلُ اللّٰہُ مَا یَشَائُo  ﴿ابراہیم: ۲۴-۲۷﴾

‘‘کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کلمۂ طیبہ کی مثال کیا بیان کی ہے۔ اُس کی مثال ایک پاکیزہ درخت کی سی ہے، جس کی جڑ مضبوط ہے اور اُس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ ہر آن اپنے رب کے اِذن سے پھل دے رہا ہے۔ اور اللہ یہ مثالیں اِنسانوں کے لیے بیان کرتا ہے تاکہ وہ سبق لیں۔ اور کلمۂ خبیثہ کی مثال بدذات درخت کی سی ہے جو زمین سے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے اور جس کو کوئی ثبات نصیب نہیں ہوتا۔ اللہ ایمان لانے والوں کو مستحکم قول کے ذریعہ حیاتِ دنیا میں اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے اور اللہ ظالموں کو بھٹکا دیتا ہے اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔’’

مولانا شبیر احمد عثمانی آیاتِ بالا کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

‘‘دونوں مثالوں کا حاصل یہ ہوا کہ مسلمانوں کا دعوائے توحید و ایمان پکا اور سچا ہے۔ جس کے دلائل نہایت صاف اور صحیح و مضبوط ہیں۔ موافقِ فطرت ہونے کی وجہ سے اُس کی جڑیں قلوب کی پہنائیوں میں اُتر جاتی ہیں اور اعمالِ صالحہ کی شاخیں آسمانِ قبول سے جالگتی ہیں. حق و صداقت اور توحید و معرفت کا درخت روز بروز پھولتا پھلتا اور بڑی پائیداری کے ساتھ اونچا ہوتا رہتا ہے۔ اس کے برخلاف جھوٹی بات اور شرک و کفر کے دعوائے باطل کی جڑ بنیاد کچھ نہیں ہوتی۔ ہوا کے ایک جھٹکے میں اُکھڑ کر جاپڑتا ہے۔ ناحق بات کے ثابت کرنے میں خواہ کتنے ہی زور لگائے جائیں، لیکن انسانی ضمیر اور فطرت کے مخالف ہونے کی وجہ سے اُس کی جڑیں دل کی گہرائی میں نہیں پہنچتیں۔.. اِس لیے مشہو ر ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے یعنی سچ کی طرح اپنے پاؤں نہیں چلتا ، نہ اُس سے دل میں نور پیدا ہوتا ہے۔’’

قرآنِ مجید یہ بھی واضح کرتا ہے کہ کلمۂ طیبہ اُسی وقت عروج حاصل کرتا ہے جب عمل اُس کی تصدیق کرے:

مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِیْعاً اِلَیْْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہُ وَالَّذِیْنَ یَمْکُرُوْنَ السَّیِّئَاتِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ وَمَکْرُ أُوْلٰئِکَ ہُوَ یَبُوْرُo ﴿فاطر:۱۰﴾

‘‘جو کوئی عزت چاہتا ہو تو ﴿اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ﴾ عزت ساری کی ساری اللہ کی ہے۔ اُس کی طرف پاکیزہ کلام رسائی حاصل کرتا ہے اور نیک عمل اُسے اوپر اٹھاتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو بُری چالیں چلتے ہیں تو اُن کے لیے سخت عذاب ہے اور اُن کا مکر اکارت جانے والا ہے۔’’

مولانا عثمانی اِس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:

‘‘ستھرے کلام کا ذاتی اقتضائ ہے اوپر چڑھنا۔ اس کے ساتھ دوسرے اعمالِ صالحہ ہوں تو وہ اُس کو سہارا دے کر اور زیادہ ابھارتے اور بلند کرتے رہتے ہیں۔ اچھے کلام کو بدون اچھے کاموں کے، پوری رفعتِ شان حاصل نہیں ہوتی. اللہ عملِ صالح کو بلند کرتا اور معراجِ قبول تک پہنچاتا ہے بہرحال غرض یہ ہے کہ بھلے کام اور اچھے کلام دونوں علو و رفعت چاہتے ہیں۔ لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ سے عزّت کا طالب ہو وہ اِن چیزوں کے ذریعے سے حاصل کرے۔’’

شعوری ایمان کے مظاہر

اہلِ ایمان کے قلوب کی گہرائیوں میں جب ایمان جڑ پکڑلیتا ہے تو اُ س کے مظاہر خارجی دنیا میں نظر آتے ہیں۔ اِس ایمان کا پہلا مظہر عملِ صالح اور مسلم معاشرے کے مابین ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کی روایت ہے:

وَالْعَصْرِo اِنَّ الْاِنسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ o اِلَّا الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِo ﴿العصر﴾

‘‘زمانہ گواہ ہے کہ انسان بلاشبہ خسارے میں ہے سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے جنھوں نے نیک عمل کیے۔ ایک دوسرے کو حق کی تلقین کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔’’

ایمان کا دوسرا مظہر انسانیت کی خیرخواہی ہے۔ یہ خیرخواہی انسانی سماج سے خطاب کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ جو شخص ایمان لاتا ہے وہ سوچ سمجھ کر راہِ حق کو اختیار کرتا ہے اِس لیے کہ اس کے نزدیک وہ کامیابی کی راہ ہے۔ اب یہ فطری بات ہے کہ انسانیت کا سچا خیر خواہ جو کامیابی اپنے لیے چاہتا ہے اُس کامیابی میں وہ دوسرے انسانوں کو بھی شریک کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ راہِ حق کی طرف دعوت، ایمان کا لازمی مظہر ہے۔ اور انسانیت کی خیرخواہی کا ناگزیر تقاضا ہے۔

دعوت کی اِس راہ میں سوالات بھی پیش آتے ہیں۔ موافقین کی جانب سے بھی اور مخالفین کی طرف سے بھی۔ اِن سوالات کا نوٹس لینا اور اُن کا موزوں جواب دینا ایک داعیٔ حق کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح انسانی سماج کے مسائل کی صحیح حقیقت سے انسانوں کو باخبر اور آگاہ کرنا بھی دعوتِ اسلامی کا اہم جز ہے۔ جب اُمتِ مسلمہ اِن امور پر توجہ کرتی ہے تو اُس کے شعور کی سطح بلند ہوتی ہے اور کامیابی کی جانب اُس کے قدم بڑھتے ہیں۔ اس کے برعکس اگرامت انسانی سماج اور اُس کے مسائل سے بے نیازی برتتی ہے اور فریضہ دعوت سے غافل ہوجاتی ہے تو اُمت کا زوال شروع ہوجاتا ہے اور کامیابی کے بجائے ناکامی اُس کے حصے میں آنے لگتی ہے۔ نتیجتاً خود اُمت کے شعور کی سطح پست ہونے لگتی ہے اور اُس کا ایمان مدھم پڑنے لگتا ہے۔

مسائل اور اہلِ حق کا موقف

مخاطَبینِ دعوت کی جانب سے جو سوالات اٹھائے جاتے ہیں انبیائ کرام نے اُن کی طرف توجہ کی ہے اور اُن کا موزوں جواب دیا ہے۔ یہ جوابات اہلِ ایمان کے لیے نمو نہ ہیں۔ ان نمونوں سے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ مختلف سوالات کے سلسلے میں کیا موقف اختیار کریں مثال کے طور پرفرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پچھلی نسلوں کے بارے میں پوچھا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کا حکیمانہ جواب قرآن میں نقل کیا گیا ہے:

قَالَ فَمَنْ رَّبُّکُمَا یَا مُوسٰیo قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْ أَعْطَی کُلَّ شَیْْئٍ خَلْقَہ، ثُمَّ ہَدَیo قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْأُولَیo قَالَ عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِتَابٍ لَّا یَضِلُّ رَبِّیْ وَلَا یَنْسَیo﴿طٰہٰ: ۴۹-۵۲﴾

‘‘﴿فرعون نے کہا﴾ ’’اچھا، تو پھر تم دونوں ﴿موسیٰ و ہارون﴾ کا رب کون ہے، اے موسیٰ؟’‘ موسیٰ نے جواب دیا: ’’ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو ساخت بخشی پھر اُس کو راستہ بتایا۔’‘ فرعون بولا: ’’اور پہلے جو نسلیں گزرچکی ہیں اُن کی پھر کیا حالت تھی؟’‘ موسیٰ نے کہا: ’’اس کا علم میرے رب کے پاس ایک نوشتے میں محفوظ ہے۔ میرا رب نہ چوکتا ہے، نہ بھولتا ہے۔’’

فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کو قتل کی دھمکی دی جس کا مقصد آپ کو اور آپ کے ساتھی اہلِ ایمان کو ڈرانا تھا اور ڈرا کر راہِ حق سے باز رکھنا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس دھمکی کا ایسا جواب دیا جس سے فرعون کے اقتدار کی ﴿اور ہر انسانی اقتدار کی﴾ ہیبت دلوں سے ختم ہوگئی:

وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْ أَقْتُلْ مُوْسٰی وَلْیَدْعُ رَبَّہُ اِنِّیْ أَخَافُ أَنْ یُبَدِّلَ دِیْنَکُمْ أَوْ أَنْ یُظْہِرَ فِیْ الْأَرْضِ الْفَسَادَo وَقَالَ مُوْسٰی اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّکُمْ مِّنْ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ o ﴿مومن: ۶۲-۶۷﴾

‘‘ایک روز فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا: ’’چھوڑو مجھے، میں اِس موسیٰ کو قتل کیے دیتا ہوں، اور پکار دیکھے یہ اپنے رب کو۔ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا، یا ملک میں فساد برپا کرے گا۔‘‘ ﴿اِس دھمکی کو سن کر﴾ موسیٰ نے کہا: ‘‘میں نے تو ہر اُس متکبّر کے مقابلے میں جو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا، اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے۔’’

حق و باطل کے درمیان نظریاتی و نفسیاتی جنگ ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ اسوہ انبیائ سے اہلِ ایمان یہ سبق سیکھ سکتے ہیں کہ اِس جنگ میں باطل کے علمبرداروں کی طرف سے جو باتیں کہی جائیں اور جو سوالات اٹھائے جائیں اُن کا موزوں، مطابقِ حق، بروقت اور حکیمانہ جواب کس طرح دیں۔ یہ سبق اہلِ ایمان کو ضرور سیکھنا چاہیے۔ جب اہلِ ایمان اسوئہ انبیائ کی اتباع کریں گے تو اُن کے شعور کی سطح بلند ہوگی اور اُمت کے قدم کامیابی کی طرف بڑھ سکیں گے۔ نظریاتی میدان میں باطل کی شکست عملی میدان میں اُس کی شکست کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔

جنوری 2011

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau