اشارات

ڈاکٹر محمد رفعت

جولائی کے شمارے میں معاشرے کی تعمیرکے موضوع پر گفتگو کرتے وقت صالح قدروں کی اہمیت واضح کی گئی تھی۔ بنیادی نکتہ یہ تھاکہ کسی معاشرے کی صالح تعمیر کے معنی ہی یہ ہیں کہ اُس معاشرے کی قدریں درست ہوجائیں۔ بالفاظ دیگر معاشرے میں رائج ردّو قبول کے پیمانوں اور خوب و ناخوب کے معیارات کی اِصلاح ہوجائے۔ عام فہم زبان میں کہاجائے تو یوں کہاجاسکتاہے کہ معاشرے کا ذوق اس حد تک بدل جائے کہ نیکی اور بھلائی فیشن بن جائے اور اُس کے مقابلے میں بدی اور بے راہ روی سے طبیعتیں بے گانہ ہوجائیں۔ فطری طورپر یہ سوال سامنے آتاہے کہ یہ کام کیسے ہو اور اتنی بڑی تبدیلی کیسے لائی جائے؟ اِس سوال کو یوں بھی پوچھاجاسکتا ہے کہ معاشرے کی قدروں میں تبدیلی کا یہ عمل کیا صرف مثبت تبلیغ و تلقین کے ذریعے انجام پاسکتاہے یا اس کے لیے کسی اور کاوِش کی بھی ضرورت ہے؟

اس سوال کے جواب کے لیے انبیاء علیہم السلام کے اُسوے پر نظر ڈالنا ضروری ہے جو اِنسانی تاریخ کے عظیم ترین مصلحین تھے اور کامیاب ترین بھی۔ اُن کی مساعی پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ معاشرے کی قدروں میں اِصلاح محض مثبت تلقین و تبلیغ سے نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مصلحین کو تین مزید کام کرنے ہوتے ہیں۔

﴿الف﴾ رائج الوقت غلط نظامِ اقدار کی مدلّل نفی

﴿ب﴾ اِنسان کے جذبہ خیر کی اِس حد تک آبیاری کہ لوگ حق کی خاطر قربانی دینے پرآمادہ ہوسکیں اور

﴿ج﴾ ایک ایسے گروہ کی تربیت جو اپنی زندگیوں کو عملاً صالح قدروں کے مطابق ڈھال لے۔

غلط معیارات کی تردید

معاشرے میں جو کچھ ہورہاہوتاہے عموماً لوگوں کی اکثریت اطمینان کے ساتھ اُس کی پیروی کرتی رہتی ہے اور یہ سوال اُن کے ذہن میں نہیں آتاکہ جو کچھ ہورہاہے وہ صحیح اور معقول بھی ہے یا نہیں۔ اگر کسی کو یہ خیال آبھی گیا تو وہ یہ سوچ کراپنے کو مطمئن کرلیتاہے کہ

چلو تم اُدھر کو ہوا ہو جدھر کی

اِس صورت حال کی بِناپر مصلحین کے کام کاآغاز ہی یہاں سے ہوتاہے کہ وہ لوگوں کی حِس کو بیدار کرتے ہیں اور اُن کی خوابیدہ عقل کو جگاتے ہیں۔ جب اِنسانوں کے ذہن بیدار ہوجاتے ہیں تو معاشرے کے چَلَن پرتنقیدی نگاہ ڈالنے کی وہ صلاحیت بروئے کار آنے لگتی ہے جو فطری طورپر اُن کے اندر موجود تھی۔ تب یہ بنیادی سوال پوچھاجانے لگتاہے کہ معاشرے میں جو روِش مقبول ہے اُس کے پیچھے کوئی دلیل ہے بھی یا نہیں اور ہے تو کیاہے؟ جب لوگوں کے ذہن اِس سوال کو پوچھنے پرآمادہ ہوجائیں تب وہ مصلحین کی باتوں پر سنجیدہ غورو فکر کرسکتے ہیں۔

چنانچہ مصلحین کا پہلا کام وقت کے غلط چلن کے سلسلے میں لوگوں کے اندر بے اطمینانی اور اضطراب پیدا کرنا ہے۔ بقول اقبال

ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق

جو تجھے حاضر و موجود سے بے زار کرے

مصلحین اپنی تنقید سے غلط رویوں کے سلسلے میں سماج میں پائے جانے والے خاموش اِجماع کو توڑدیتے ہیں۔ جِن غلط کاریوں پر ٹوکنے والا کوئی نہ تھا اُن پر سوالیہ نشان لگادیتے ہیں اور تب ایساہوتاہے کہ معاشرے میں جو زبانیں خاموش تھیں وہ بُرائیوں کے خلاف بولنے لگتی ہیں۔ جب لوگ اس حد تک بیدار ہوجاتے ہیں تو غلط کاری کے حامی خطرہ محسوس کرتے ہیں اور اپنے رویّے کے حق میں کچھ دلائل لے کر سامنے آتے ہیں۔ اِس مرحلے میںاِصلاح کی سعی کرنے والوں کے لیے ضروری ہوتاہے کہ فساد کے علمبرداروں کے دلائل کا کمزور اور غلط ہونا ثابت کریں۔

اگر سماج میں ’’صحیح کیاہے اور غلط کیاہے‘‘ کے موضوع پر گفتگو شروع ہوجائے تو یہ مصلحین کی پہلی کامیابی ہے۔ اس کے بعد اگر متضاد نقطہ ہائے نظر رکھنے والوں کے درمیان دلائل کی بنیاد پر تبادلہ خیال ہونے لگے تو یہ مصلحین کی دوسری کام یابی ہے۔ اِس لیے کہ غلط کاری اور فساد کے علمبردار دلائل کی جنگ نہیں جیت سکتے۔ اِس مرحلے میں اصلاح کی کوشش کرنے والوں کی ذمّے داری یہ ہے کہ وہ سماج کے مختلف عناصر کے درمیان اِس تبادلہ خیال کو نتیجہ خیز بنائیں۔ اس پورے کام میں دانش مندی، سنجیدگی، دل سوزی اور محکم استدلال کے ساتھ اپنے نقطہ نظر کو پیش کریںاور اشتعال انگیزی ﴿جو عین ممکن ہے﴾ کے جواب میں صبر اور شائستگی کا ثبوت دیں۔ اگر یہ مرحلہ کامیابی کے ساتھ طے کرلیاجائے تو غلط رویّوں کے لیے ذہنوں میں کوئی بنیادباقی نہیں رہے گی۔

غلط رویّوں کے حق میں تین طرح کے دلائل دیے جاتے ہیں ﴿الف﴾ اسلاف کی روش یہی ہے یا یہی دنیا کاچلن ہے۔ ﴿ب﴾مذہب نے یہی تعلیم دی ہے۔ ﴿ج﴾ ہمارا مفاد اسی کاتقاضا کرتا ہے۔ قرآن مجید نے بُرائیوں سے اجتناب کی تلقین کے ضمن میں اِن تینوں دلائل کاجائزہ لیا ہے اور ان کی تردید کی ہے۔ قرآنی اسوے کی پیروی کرتے ہوئے معاشرے کی اِصلاح کے لیے کام کرنے والوں کو بھی اِن دلائل کا ردکرنا ہوگا۔ ایک مثال سے اس کی وضاحت کی جاسکتی ہے۔

فحش کاموں کو عموماً اِنسانوں نے بُرا سمجھاہے اور انسانی فطرت بے حیائی سے گریز کرتی ہے۔ اِس کے باوجود بعض لوگ فحش کاموں کو درست ٹھہراتے ہیں اور اس کے لیے معاشرے کی روایت ﴿یعنی اسلاف کی روش﴾ کاحوالہ دیتے ہیں۔ اس نوعیت کے بعض ناپسندیدہ کاموں ﴿مثلاً عریانی﴾ کو مذہبی رسوم کے ساتھ بھی وابستہ کرلیاگیاہے۔ چنانچہ ان کو مذہبی بنیادپر درست قراردیاجاتا ہے۔ قرآن مجید نے اِس طرز فکر کی تردید کی ہے:

وَاِذَا فَعَلُواْ فَاحِشَۃً قَالُواْ وَجَدْنَا عَلَیْْہَا آبَائ نَا وَاللّہُ أَمَرَنَا بِہَا قُلْ اِنَّ اللّہَ لاَ یَأْمُرُ بِالْفَحْشَائ أَتَقُولُونَ عَلَی اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ oقُلْ أَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ وَأَقِیْمُواْ وُجُوہَکُمْ عِندَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ کَمَا بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ oفَرِیْقاً ہَدَی وَفَرِیْقاً حَقَّ عَلَیْْہِمُ الضَّلاَلَۃُ اِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیَاطِیْنَ أَوْلِیَائ مِن دُونِ اللّہِ وَیَحْسَبُونَ أَنَّہُم مُّہْتَدُون     ﴿سورہ اعراف، آیات:۲۸تا ۳۰﴾

’ یہ لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ داد کو اسی طریقے پر پایاہے اور اللہ نے ہم کو اسی کاحکم دیا ہے۔ آپ کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ فحش بات کی تعلیم نہیں دیتا۔ کیا خدا کی طرف سے ایسی بات منسوب کرتے ہو جِس کی تم سند نہیں رکھتے۔ آپ کہہ دیجیے کہ میرے رَب نے تو انصاف کرنے کاحکم دیاہے اوراُس کی ہدایت یہ ہے کہ تم ہر سجدے کے وقت اپنا رُخ سیدھارکھاکرو اور اُسی کو پکارو دین کواس کے لیے خالص کرتے ہوئے۔ جِس طرح اللہ نے تم کو پہلے پیداکیاتھااُسی طرح پھر تم دوبارہ پیدا ہوگے۔ بعض لوگوں کو اللہ نے ہدایت دی ہے اور بعض پر گمراہی کا ثبوت ہوچکاہے۔ اِن لوگوں نے اللہ کو چھوڑکر شیطانوں کو سرپرست بنالیا اور ﴿اس کے باوجود﴾ سمجھتے ہیں کہ راہِ راست پر ہیں۔‘

مذکورہ بالا آیات میں اُن دو دلائل کا ذِکر کیاگیاہے جو فحش کاموں کے حق میں پیش کیے جاتے تھے۔ ایک یہ کہ باپ دادا کاطریقہ یہی رہاہے اور دوسری دلیل یہ کہ خود اللہ نے اِن کاموں کاحُکم دیاہے۔ اِن دلائل کاتذکرہ کرنے کے بعد دوسری دلیل کی تردید کی گئی ہے۔ تردید کامنشا یہ ہے کہ ’’تم اللہ کی طرف بے سند ایک بات منسوب کرتے ہو۔ اگر اللہ نے واقعی ایسا حکم دیاہے تو سند لائو۔‘‘ ظاہر ہے کہ ایسی سند نہ اُس وقت کے غلط کاروں کے پاس موجود تھی اور نہ آج اُن لوگوں کے پاس موجود ہے جو مذہب کے نام پر غلط کاموںکو درست ٹھہراتے ہیں۔ اس تردید کے بعد دو اہم باتیں بتائی گئی ہیں۔ اُن کو بتایاگیاہے کہ اللہ نے فی الواقع کیا حکم دیاہے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ تم انصاف کرو اور دین کو اُس کے لیے خالص کرکے صرف اُس کی عبادت کرو۔ دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ یہ غلط کار لوگ حوالہ تو خدا اور مذہب کا دیتے ہیں لیکن فی الواقع یہ شیطانوں کو اپنا سرپرست بنائے ہوئے ہیں اور شیاطین جو کچھ تعلیم اُن کو دیتے ہیں اُسی پر عمل کرتے ہیں۔ اُن کے بے حیائی اور عریانی خدائی تعلیم کانہیں بلکہ شیطانی اُکساہٹ کا نتیجہ ہے۔

رہی پہلی دلیل یعنی تقلیدِ آبائ کی دلیل تو اس کی تردید قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر کی گئی ہے:

وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّہُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْْہِ آبَائ نَا أَوَلَوْ کَانَ الشَّیْْطَانُ یَدْعُوہُمْ اِلَی عَذَابِ السَّعِیْرِ oوَمَن یُسْلِمْ وَجْہَہُ اِلَی اللَّہِ وَہُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقَی وَاِلَی اللَّہِ عَاقِبَۃُ الْأُمُورِ   ﴿سورہ لقمان،آیات:۲۱ ،۲۲﴾

’اور جب ان سے کہاجاتاہے کہ اس ہدایت کا اتباع کرو جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ نہیں، ہم تو اُسی چیز کا اتباع کریںگے جس پرہم نے اپنے بڑوں کو پایاہے۔ کیا اگر شیطان اُن کے آبائ کو عذابِ دوزخ کی طرف بُلاتارہاہو تب بھی ﴿وہ اُن کا اتباع کیے چلے جائیںگے!﴾ اور جو شخص اپنا رُخ اللہ کی طرف جھکادے اور وہ مخلص بھی ہو تو اُس نے بڑا مضبوط سہارا تھام لیا اور سب کاموں کاانجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔‘

یہاں تقلید آباء کی بنیادپر غلط کام کرنے والوں اور غلط کو صحیح ٹھہرانے والوں کو بتایاگیاہے کہ تمہارے آبائ بھی اِنسان تھے۔ شیطان اُن کو بھی بہکاسکتاتھا، جس طرح تمھیں بہکاسکتا ہے۔اِس لیے بلاغور وفکر کیے، اُن کی روش پر چلنا معقول طرزِعمل نہیں ہے۔ اگر باپ دادا کے زمانے سے کوئی کام ہوتا آیاہے تو لازم نہیں ہے کہ وہ صحیح بھی ہو۔ جہاں اُس کے صحیح ہونے کااِمکان ہے وہیں غلط ہونے کا اِمکان بھی ہے۔ چنانچہ مطلق تقلید آبائ کا رویہ کسی مضبوط بنیاد پر قائم نہیں ہے۔ اس کے بالمقابل جو شخص اللہ کی مخلصانہ اِطاعت کاراستہ اختیارکرے اُس نے بڑا مضبوط سہارا تھام لیا۔ اس لیے کہ اللہ کی ہدایت میں کسی غلطی کا اِمکان نہیں۔

غلط رویوں کے حق میں تیسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ہمارا مفاد اِس کا تقاضا کرتاہے۔ مثلاً جو لوگ قتلِ اولادجیسے عظیم جُرم کے مرتکب تھے وہ یہ سمجھتے تھے کہ اولاد کو کھِلانا پڑے گا اور اِس طرح ہم مفلس ہوجائیں گے۔ قرآن مجید یہ بتاتاہے کہ مفاد کے متعلق لوگوں کا یہ تصور غلط بینی کا نتیجہ ہے۔ اوّل تو اِس دنیا میں رزق کی تقسیم اللہ کی مشیت کے تابع ہے اور اِنسان کو مشیت الٰہی پر راضی ہونا چاہیے۔ دوسری اہم تر حقیقت یہ ہے کہ زندگی یہاں ختم ہوجانے والی نہیں ہے بلکہ اس کے بعد آخرت بھی آئے گی اور اس میں قتلِ ناحق کے جُرم پر گرفت ہوگی۔

اِنَّ رَبَّکَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن یَشَائ ُ وَیَقْدِرُ اِنَّہُ کَانَ بِعِبَادِہِ خَبِیْراً بَصِیْراً oوَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلادَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلاقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُہُمْ وَاِیَّاکُم انَّ قَتْلَہُمْ کَانَ خِطْئ اً کَبِیْراo ﴿سورہ بنی اسرائیل، آیات:۳۰،۳۱﴾

’تیرا رَب جس کا رِزق چاہتاہے کشادہ کردیتا ہے اور جس کو چاہتاہے نَپا تُلا دیتاہے۔ وہ اپنے بندوں کے حالات سے باخبر ہے اور انھیں دیکھ رہاہے۔ اور اپنی اولادکو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ۔ ہم انھیں بھی رِزق دیتے ہیں اور تمھیں بھی دیںگے۔ بے شک اُن کا قتل ایک بڑی خطا ہے۔‘

وَاِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَت oوَاِذَا الْمَوْؤُودَۃُ سُئِلَتْ o بِأَیِّ ذَنبٍ قُتِلَتْo وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ o   ﴿سورہ تکویر،آیات:۷ تا ۹﴾

’جب ﴿قیامت کے دن﴾جانیں جِسموں سے جوڑدی جائیںگی تب زندہ گاڑی گئی لڑکی سے پوچھاجائے گا کہ اُسے کِس جرم کی پاداش میں قتل کیاگیا؟﴾

غلط رویوں کے مزعومہ دلائل کی تردید پر قرآن مجید جو توجہ صَرف کرتاہے اُس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ معاشرے میں صالح تبدیلی کے لیے محض نیکی کی مثبت تلقین کافی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ غلط طرزِفکر کی مدلّل تردید بھی ناگزیر ہے۔ اِس پُرزور تردید سے غلط نظامِ اقدار کی عمارت ہلنے لگتی ہے اور بالآخر منہدم ہوجاتی ہے۔ اس انہدام کے بعد ہی صالح اقدار دِلوں میں جگہ بناسکتی ہیں۔ جو لوگ فی الواقع معاشرے کی صالح تعمیر کرنا چاہتے ہوں اُن کو یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ غلط تصورات کی موثر اور مدلّل تردید کیے بغیر معاشرے کی اِصلاح نہیں ہوسکتی۔

جذبہ خیر کی آبیاری

جب فساد اور بگاڑ کے علمبردار یہ دیکھتے ہیں کہ معاشرے میں صحیح اور غلط کے سلسلے میں بحث چھڑگئی ہے اور جو غلط معیارات انھوں نے قائم کررکھے تھے اُن کو چیلنج کردیاگیاہے تو وہ ابتدا میں کچھ دلائل لے کر سامنے آتے ہیں اور اپنے غلط تصورات کا دِفاع کرتے ہیںلیکن بہت جلد اُن کو اندازہ ہوجاتاہے کہ وہ دلائل کی جنگ ہاررہے ہیں۔ اِس مرحلے میں اُن کی قوتِ برداشت جواب دے جاتی ہے اور وہ اِصلاح کے علمبرداروں کو بزورِ طاقت دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ چونکہ بگڑے ہوئے سماج میں سماجی اقتدار مفسدین کے پاس ہوتاہے اِس لیے وہ اِس اقتدار کے ذریعے مصلحین پر اور اُن کا ساتھ دینے والے افراد پر ظلم وستم شروع کردیتے ہیں۔ یہی وقت فیصلہ کُن ہوتا ہے۔ اگر خیر کے علمبردار استقامت کا ثبوت دیں تو معاشرے کی قدروں میں انقلاب آجاتاہے اور صالح قدروں کی بنیادپر سماج کی تعمیرنو ممکن ہوجاتی ہے۔ اِس کے برعکس اگر اِصلاح کے لیے اُٹھنے والے آزمائشوں اور مشکلات سے گھبراجائیں اور کمزوری دِکھانے لگیں تواُن کی تحریکِ اصلاح ناکام ہوجاتی ہے۔ یہ ناکامی ایک طویل عرصے تک اِصلاح کی کوششوں کاراستہ بند کردیتی ہے اور سماج میں خیر کی کامیابی کے سلسلے میں عام مایوسی اور بددلی طاری کردیتی ہے۔

کش مکش کے اِس مرحلے میں مصلحین اور اُن کے ساتھیوں کی ثابت قدمی کے لیے یہ ضروری ہے کہ خیرپسندی کاجذبہ جو ہر اِنسانی طبیعت میں موجود ہے اُس کو پروان چڑھایا جائے اور اِس جذبے کو اتنا مضبوط بنادیاجائے کہ لوگ آزمائشوں کے طوفان میں ثابت قدم رہ سکیں۔ اِسی بنا پر جذبہ خیر کی آبیاری کو انبیاء علیہم السلام نے اپنی مساعی میں بنیادی اہمیت دی ہے۔ اِنسان کی خیر پسندی کو تقویت پہنچانے والی چیزیں تین ہیں ﴿الف﴾ اللہ کی معیّت کا دِل آویز احساس ﴿ب﴾ خیر کے عالم گیر قافلے میں شمولیت کا سرور اور ﴿ج﴾آخرت کے خوشگوار انجام کی نوید۔

﴿الف﴾ پہلی چیز اللہ کی معیّت کا احساس ہے۔ اللہ تعالیٰ سے انتہائی قرب جِس کا اِس دنیا میں تصور کیاجاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کسی اِنسان کو اپنا مددگار قراردے۔

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آَمَنُوا کُونوا أَنصَارَ اللَّہِ کَمَا قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیِّیْنَ مَنْ أَنصَارِیْ اِلَی اللَّہِ قَالَ الْحَوَارِیُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللَّہِ فَآَمَنَت طَّائِفَۃٌ مِّن بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَکَفَرَت طَّائِفَۃٌ فَأَیَّدْنَا الَّذِیْنَ آَمَنُوا عَلَی عَدُوِّہِمْ فَأَصْبَحُوا ظَاہِرِیْنَ ﴿سورہ صف، آیت:۱۴﴾

’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے مددگار بنو جِس طرح عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں کو خطاب کرکے کہاتھا:’کون ہے اللہ کی طرف ﴿بُلانے میں﴾ میرا مددگار؟‘ اور حواریوں نے جواب دیاتھا:’ہم ہیں اللہ کے مددگار۔‘ اس وقت بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور دوسرے گروہ نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی اُن کے دشمنوںکے مقابلے میں تائید کی اور وہی غالب ہوکر رہے۔‘

اللہ کی معیّت کاِذکر حدیث قدسی میں کیاگیاہے:

’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ عزوجل فرماتاہے کہ میں اپنے بندے کے لیے وہی کچھ ہوں جو میرے بارے میں وہ گمان رکھتا ہے۔ جب وہ میرا ذِکر کرتاہے تو میں اس کے ساتھ ہوتاہوں، اگر اپنے دِل میں مجھے یاد کرتا ہے تو میں بھی دِل میں اُسے یاد کرتا ہوں، اور اگر وہ لوگوں کے اندرمیرا ذِکر کرتا ہے تو میں اُن سے بہتر گروہ میں اُس کا ذِکر کرتا ہوں۔ اگر وہ ایک بالشت میرے قریب ہوتاہے تو میں ایک ہاتھ اُس کے قریب ہوتاہوں۔ اگروہ میری طرف چل کر آتاہے تو میں اُس کی طرف دوڑکر جاتاہوں۔‘ ﴿بخاری ومسلم﴾

﴿ب﴾ جذبہ خیر کی آبیاری کرنے والا دوسرا خوشگوار احساس اعلیٰ ترین اِنسانوں کے قافلے میں شمولیت کااحساس ہے۔ یہ ایسے مثالی افراد کا قافلہ ہے جن کو خود رَبِّ کائنات نے ’قوتِ عمل رکھنے والے اور دیدہ ور‘قراردیا ہے:

واذْکُرْ عبادَنَا ابْرَاہِیْمَ وَاِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ أُوْلِیْ الْأَیْْدِیْ وَالْأَبْصَارo اِنَّا أَخْلَصْنَاہُم بِخَالِصَۃٍ ذِکْرَی الدَّارِ oوَاِنَّہُمْ عِندَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْْنَ الْأَخْیَارِo   ﴿سورہ ص، آیات:۴۵تا۴۷﴾

’اور ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کاذکر کرو۔ یہ بڑی قوتِ عمل رکھنے والے اوردیدہ ور لوگ تھے۔ ہم نے اُن کو ایک خالص صفت کی بِنا پر برگزیدہ کیاتھا اور وہ دارِ آخرت کی یاد تھی۔ یقینا ہمارے یہاں اُن کا شمار چنے ہوئے نیک اشخاص میں ہے۔‘

اللہ اور رسول کی اطاعت کاثمرہ مثالی اِنسانوں کی رفاقت ہے:

وَمَن یُطِعِ اللّہَ وَالرَّسُولَ فَأُوْلَ ئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ أَنْعَمَ اللّہُ عَلَیْْہِم مِّنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَائ وَالصَّالِحِیْنَ وَحَسُنَ أُولَ ئِکَ رَفِیْقاًoذَلِکَ الْفَضْلُ مِنَ اللّہِ وَکَفَی بِاللّہِ عَلِیْماًo       ﴿سورہ نساء، آیت ۶۹،۷۰﴾

’جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریںگے، وہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوںگے جِن پر اللہ نے انعام فرمایاہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہدائ اور صالحین۔ کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں۔ یہ حقیقی فضل ہے جو اللہ کی طرف سے مِلتاہے اور حقیقت جاننے کے لیے بَس اللہ ہی کا عِلم کافی ہے۔

ظاہر ہے کہ حق پر ثابت قدم رہنے والوں کو اِنسانیت کے اعلیٰ ترین مراتب پر فائز اِن افراد کی رفاقت دنیا میں بھی میسر آئے گی اور آخرت میںبھی۔

﴿ج﴾ جذبہ خیر کو پروان چڑھانے والابنیادی محرّک آخرت کا استحضار ہے۔ راہِ حق میں قربانیاں دینے والوں کو اللہ نے آخرت کے اچھے انجام کی خوش خبری دی ہے:

رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَی رُسُلِکَ وَلاَ تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِنَّکَ لاَ تُخْلِفُ الْمِیْعَادَo فَاسْتَجَابَ لَہُمْ رَبُّہُمْ أَنِّیْ لاَ أُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنکُم مِّن ذَکَرٍ أَوْ أُنثَی بَعْضُکُم مِّن بَعْضٍ فَالَّذِیْنَ ہَاجَرُواْ وَأُخْرِجُواْ مِن دِیَارِہِمْ وَأُوذُواْ فِیْ سَبِیْلِیْ وَقَاتَلُواْ وَقُتِلُواْ لأُکَفِّرَنَّ عَنْہُمْ سَیِّئَاتِہِمْ وَلأُدْخِلَنَّہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ ثَوَاباً مِّن عِندِ اللّہِ وَاللّہُ عِندَہُ حُسْنُ الثَّوَابo  ﴿سورہ آلِ عمران، آیات:۱۹۵،۱۹۴﴾

’﴿اہلِ ایمان کی دُعا یہ ہوتی ہے﴾’اے ہمارے رَب! جو وعدے تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے کیے ہیں، اُن کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رُسوائی میں نہ ڈال۔ بے شک تو اپنے وعدے کے خِلاف کرنے والا نہیں ہے۔‘ جواب میں اُن کے رَب نے فرمایا: ’میں تُم میں سے کسی کاعمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں، خواہ مرد ہو یا عورت۔ تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو، لہٰذا جِن لوگوں نے میری خاطر اپنے اپنے وطن چھوڑے اور جو میری راہ میں اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور میرے لیے لڑے اور مارے گئے اُن کے سب قصورمیں معاف کردوںگا اور انھیں ایسے باغوں میں داخل کروںگا جِن کے نیچے نہریں بہتی ہوںگی۔ یہ اُن کی جزا ہے اللہ کے یہاں، اور بہترین جزااللہ ہی کے پاس ہے۔‘

راہِ حق اور آزمائشیں

جذبہ خیر کو پرورش کرنے میں اس حقیقت کا اِدراک اور استحضار بھی کلیدی رول ادا کرتاہے کہ راہِ حق میں آزمائش ناگزیر ہے اور جو اِنسان سیدھے راستے پر چلے ہیں ﴿خواہ تاریخ کے کسی دور سے اُن کا تعلق رہاہو﴾ اُن کو آزمائشوں سے واسطہ پیش آیا ہے:

ام حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَأْتِکُم مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِکُم مَّسَّتْہُمُ الْبَأْسَائ وَالضَّرَّائ وَزُلْزِلُواْ حَتَّی یَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ مَعَہُ مَتَی نَصْرُ اللّہِ أَلا اِنَّ نَصْرَ اللّہِ قَرِیْبٌ ﴿سورہ بقرہ، آیت :۲۱۴﴾

’کیاتم لوگوں نے یہ سمجھ رکھاہے کہ یوں ہی جنت کا داخلہ تمھیں مل جائے گا حالاں کہ تم پر ابھی وہ سب کچھ نہیں گزرا ہے، جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزرچکا ہے؟ اُن پر سختیاں گزریں، مصیبتیں آئیں، ہِلا مارے گئے، حتیّٰ کہ وقت کا رسول اور اُس کے ساتھی اہلِ ایمان چیخ اُٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ ﴿اُس وقت انھیں تسلی دی گئی کہ﴾ ہاں اللہ کی مدد قریب ہے۔‘

الم oأَحَسِبَ النَّاسُ أَن یُتْرَکُوا أَن یَقُولُوا آمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُونَ o وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللَّہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکَاذِبِیْنَ o ﴿سورہ عنکبوت، آیات:۱ تا ۳﴾

’ا-ل-م- کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بَس اتنا کہنے پر چھوڑدیے جائیں گے کہ ’ہم ایمان لائے‘ اور اُن کو آزمایا نہ جائے گا؟ حالانکہ ہم اُن سب لوگوں کی آزمائش کرچکے ہیں جو ان سے پہلے ہوگزرے ہیں۔ اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچّے کون ہیں اور جھوٹے کون۔‘

صالح اقدار کاعملی نمونہ

غلط تصورات اورمعیارات کی مدلّل تردید اور عام اِنسانوں کے قلوب میں جذبہ خیر کی آبیاری کے ساتھ معاشرے میں صالح تبدیلی لانے کے لیے ایک تیسرا کام بھی ناگزیر ہے بلکہ اس کا رول فیصلہ کن ہے۔ وہ کام یہ ہے کہ معاشرے میں ایک ایسا گروہ وجود میں آئے خواہ کتنا ہی مختصر ہو، جو صالح اقدار کو اپنے اجتماعی رویّے میں بَرَت کر دِکھائے۔ ایک ایسے گروہ کی موجودگی حق و باطل کی کشمکش کو مجرد خیالات اور نظریات کی دنیا سے کھینچ کر عالمِ رنگ و بو میں لے آتی ہے۔ جب صالح قدریں عمل کے قالب میں ڈھلتی ہیںتو ان کی کشش اِنسانوں کی بہت بڑی تعداد کو متوجہ کرتی ہے اور غلط اور صحیح کا فرق لوگ اپنی نگاہوں سے دیکھ لیتے ہیں۔ صالح اقدار پر عامل ایک گروہ کی موجودگی اُن سب لوگوں کے لیے جائے پناہ بھی ثابت ہوتی ہے جو معاشرے کی بے راہ روی سے بے زار ہوتے ہیں لیکن خود اتنا حوصلہ نہیں رکھتے کہ عام روِش سے ہٹ کر چل سکیں۔

آج امت مسلمہ میں اُن لوگوں کی قابلِ لحاظ تعداد موجود ہے جو دینی جذبہ رکھتے ہیں، فرائض اور عبادات کو ادا کرتے ہیں اور دینی تنظیموں سے بھی وابستہ ہیں۔ ایسے سب لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ کیا وہ اور اُن کے ساتھی سماجی معاملات میں فساد زدہ معاشرے کے عام چَلَن کی پیروی کرتے ہیں یا اپنی الگ صالح روش بنانے کی انھوںنے کوشش کی ہے؟ اگر ساری تبلیغ اور وعظ و تلقین خود اُن لوگوں کے چھوٹے سے معاشرے کے اجتماعی رویّے کو بھی نہیں بدل پاتی جو ان دینی سرگرمیوں میں پیش پیش ہیں تو اِس سارے ہنگامے کا حاصل کیاہے۔

صوفی کی طریقت میں فقط مستی احوال

مُلاّ کی شریعت میں فقط مستی گفتار

مردانِ صفا کیش کی ہے مُنتظِر دنیا

ہو جِن کی رگ و پے میں فقط مستی کردار

ستمبر 2011

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau