اشارات

ڈاکٹر محمد رفعت

قارئین زندگی نو میں سے ایک دوست اپنے خط میں لکھتے ہیں:

’’جماعت اسلامی ہند کی پالیسی کا راقم الحروف نے بڑی گہرائی سے مطالعہ کیا اور اِس نتیجے پر پہنچاکہ اِس پالیسی میں بڑے Flaws﴿سقم﴾ پائے جاتے ہیں، جن کے بارے میں اکابرین جماعت نے شعوری یا لاشعوری طورپر اعراض بَرتا ہے یا پھر تجاہل عارفانہ سے کام لیاہے۔‘‘

جماعت اسلامی ہند کی پالیسی کے ناقص ہونے کے بارے میں مذکور بالا مجموعی تاثر کے اظہار کے بعد محترم مکتوب نے بعض متعین مسائل کاتذکرہ کیاہے۔ اپنے مشاہدے کے مطابق اِن کے سلسلے میں موصوف نے کی جماعت کی پالیسی اور کارکردگی کوغیراطمینان بخش پایاہے۔ ذیل کی سطور میں محترم مکتوب نگار کے اشکالات کاجائزہ لینا پیش نظر ہے۔ اِس سے پہلے یہ مناسب معلوم ہوتاہے کہ جماعت اسلامی ہند کی پالیسی برائے میقات ۱۱۰۲ تا ۵۱۰۲ پر ایک نظر ڈال لی جائے۔ پالیسی سے متعلق جماعت اسلامی ہند کے شعبہ تنظیم نے جو کتابچہ شائع کیاہے، اُس کا عنوان ہے ’جماعت اسلامی ہند کی میقاتی پالیسی اور پروگرام برائے اپریل ۱۱۰۲ تا مارچ ۵۱۰۲۔‘ اِس کتابچے کے مندرجات سات عنوانات پر مشتمل ہیں۔ تمہید، پس منظر، پالیسی، پالیسی کے تقاضے، مرکز توجہ امور، اہداف اور پروگرام۔ اِن میں مرکزی عنوان تیسرا ہے یعنی ’پالیسی‘۔ اِس کے تحت اُن مختلف گوشوں کاتذکرہ کیاگیا ہے، جن میں جماعت کام انجام دینا چاہتی ہے۔ کام کے یہ مختلف میدان درج ذیل ہیں:

دعوت، اِسلامی معاشرہ، ملی مسائل، ملکی وعالمی مسائل، خدمت خلق، تربیت، تنظیم۔

جماعت اسلامی ہند کی پالیسی

مذکور بالا سات میدانوں میں جو کام جماعت کے پیش نظر ہے، اُس کو ’پالیسی ‘ کے طورپر بیان کیاگیاہے۔ یہ پالیسی درج ذیل ہے:

۱-دعوت

جماعت دعوت کاکام اس طرح انجام دے گی کہ برادران وطن اسلام کی بنیادوں، توحید، رسالت ،آخرت اور ان کے لازمی تقاضوںسے واقف ہوجائیں اور یہ حقیقت ان پر واضح ہوجائے کہ اسلام ہی دین حق اور واحد نظام عدل ورحمت ہے، جس کااختیارکرنا دنیوی فلاح واخروی نجات کا ضامن اور جس کاانکار دنیا اور آخرت کے خسران کا موجب ہے۔ شرک والحاد اوردیگر عقائد و افکار و نظریات کے باطل ہونے اور اخلاقی بُرائیوں کی مضرتوں سے وہ بخوبی واقف ہوجائیں۔ وحدت بنی آدم، تکریم انسانیت اور انسانی مساوات کے اسلامی تصورات ان پر واضح ہوجائیں، رنگ ونسل اور زبان وعلاقہ کی عصبیتوں سے وہ آزاد ہوسکیں اوراسلام، مسلمانوں اور تحریک اِسلامی کے بارے میں ان کی جوغلط فہمیاں اور بدگمانیاں ہوں وہ دور ہوجائیں۔

۲-اسلامی معاشرہ

جماعت، اسلام کے صحیح اور جامع تصور نیز انفرادی و اجتماعی زندگی میں اس کے تقاضوں کو حکمت کے ساتھ اس طرح واضح کرے گی کہ ملت کے اندر آخرت کی جواب دہی کااحساس، رضائے الٰہی کی طلب اور محبت و اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جذبہ بیدار ہو۔ ان کا معاشرہ اور خاندان اسلامی تعلیمات کے آئینہ دار ہوں، ان کی زندگیاں فکر وعمل کی خرابیوں اور شرک و بدعت کی آلائشوں سے پاک اور اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہوں۔ مسلمانوں میں اپنے خیر امت ہونے کا شعور پیدا ہو اور وہ حقیقی دینی بنیادوں پر متحد ہوکر شہادت حق کافریضہ انجام دے سکیں اور اپنے نصب العین ، اقامتِ دین کے تقاضے پورے کرسکیں۔

۳-ملی مسائل

ملت اسلامیہ کے تحفظ و بقا، اس کے دینی و تہذیبی تشخص کی حفاظت اور اسلامی خطوط پر اس کی تعلیمی ترقی اور معاشی بہتری کے لیے جماعت کوشش کرے گی۔ مسلمانوں کو بھی اس کے لیے اجتماعی جدوجہد پر آمادہ کرے گی۔

۴-ملکی وعالمی مسائل

﴿الف﴾ جماعت ملکی سطح پر، اسلامی تعلیمات کی روشنی میں، عدل و قسط کے قیام، ظلم وناانصافی کے ازالے، بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ، سیاسی، سماجی اور معاشی انصاف کے حصول اور اخلاقی قدروں کے فروغ کی کوشش کرے گی۔

﴿ب﴾عالمی سطح پر جماعت سیاسی، معاشی اور تہذیبی استعمار سے آزادی، جبرو استبداد سے نجات، عدل و انصاف اور امن عالم کے قیام کی تائید کرے گی۔ عالم اسلام میں عوامی امنگوں کی ترجمان ان تحریکات کی جماعت تائید کرے گی جو معاشرے کی اسلامی خطوط پر تعمیر کے لیے کام کررہی ہیں۔جماعت عالم اسلام کے حقیقی اتحاد اور اسے مغرب کی ریشہ دوانیوں سے پاک کرنے کے لیے حتی الوسع کوشش کرے گی۔

۵-خدمت خلق

خلق خدا کی خدمت ایک اہم دینی فریضہ ہے۔ جماعت غربت، مرض وجہالت اور فقر و فاقہ کے ازالے کے لیے حتی الوسع جدوجہد کرے گی۔ مریضوں، معذوروں، حاجت مندوں، یتیموںاور بیواؤںکو سہارا دینے اور مصیبت زدہ لوگوں اور مظلوموں کو بلاامتیاز مذہب وملت حسب استطاعت امداد بہم پہنچانے کااہتمام کرے گی اور ملت کوبھی اس کام کے لیے آمادہ کرے گی۔ کوشش کی جائے گی کہ ان اجتماعی کاوشوں کے علاوہ انفرادی طورپر بھی وابستگان جماعت اور افراد ملت میں خدمت خلق کاجذبہ فروغ پائے۔

۶-تربیت

جماعت اپنے ارکان و کارکنان کی ذہنی وفکری، علمی وعملی اور دینی واخلاقی ہمہ جہت تربیت اور ان کی صلاحیتوں کے ارتقاکا خصوصی اہتمام کرے گی۔ جماعت کوشش کرے گی کہ اللہ تعالیٰ سے ان کا تعلق زیادہ سے زیادہ مضبوط ہو، ان کے اندر فکر آخرت اور محبت واطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کاجذبہ قوی ہو اور وہ اپنی پوری زندگی میں اسلام کے سچے پیرو، اقامتِ دین کے سرگرم کارکن اور ایثار و قربانی اور صبرو استقامت کے پیکر بن جائیں۔

۷-تنظیم

جماعت اپنی تنظیم پر اس طرح توجہ مرکوز کرے گی کہ ہر سطح پر قیادت اور متوسلین جماعت اپنی ذمے داریاں بہ حسن وخوبی انجام دیں، بہتر منصوبہ بندی اور جائزہ واحتساب کا اہتمام ہو، جماعت کا داخلی ماحول رُحمائُ بَینَہُم کاعکاس اور وابستگان جماعت کی اجتماعی کیفیت بُنیانٌ مَرصُوص کی آئینہ دار ہو۔

﴿’جماعت اسلامی ہند کی میقاتی پالیسی و پروگرام‘ص:۰۱-۲۱﴾

مذکور بالا سات عناوین اپنے اندر بڑی وُسعت رکھتے ہیں۔ اِس لیے بظاہر جماعتی پالیسی کے ناقص ہونے کا تاثر حیرت انگیز معلوم ہوتاہے۔ تاہم ہرانسانی کاوش کی طرح جماعت کی پالیسی میں بھی نقائص کا اِمکان بہرحال موجود ہے۔ البتہ اِس سلسلے میں کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اُن تفصیلات کو بھی پیش نظر رکھاجائے جو ’پالیسی کے تقاضے‘ اور ’مرکز توجہ اُمور‘ کے عنوانات کے تحت بیان ہوئی ہیں۔

محترم مکتوب نگار نے جن متعین موضوعات کے تحت اپنے اشکالات کااظہارکیا ہے وہ درجِ ذیل ہیں:

﴿الف﴾ باطل نظام سیاست

﴿ب﴾    مسلمان لڑکوں اور لڑکیوں میں اخلاقی بگاڑ

﴿ج﴾     جماعت کے بیت المالوں کی ناکامی

﴿د﴾       ہمہ وقتی احباب پر انحصار

﴿ہ﴾       خدمتِ خلق اور دعوت دین کے کاموں میں عدم توازن

﴿و﴾       سود کے جال میں گرفتارمسلمان غرباءکے مسائل

﴿ز﴾       کِسانوں کے مسائل خصوصاً سودی قرضوں کے بوجھ کامسئلہ

﴿ح﴾     جماعت کے تنظیمی انتخابات کاطریقہ

﴿ط﴾      شفافیت کی اہمیت کا شعور نہ ہونا

باطل نظامِ سیاست

محترم مکتوب نگار لکھتے ہیں:

’اس ملک میں خرابیوں ﴿کے فروغ﴾ اور اخلاقی بگاڑ کی ﴿اصل﴾ ذمّے داری باطل نظامِ سیاست اور باطل افکار ونظریات پر عائد ہوتی ہے۔ سیاست دانوں کااخلاقی بگاڑ سارے ملک پر اثرانداز ہورہاہے اور ملک میں ایک عظیم سیاسی اور اخلاقی بحران پیداہوگیا ہے۔ جماعت نے اپنی پالیسی و پروگرام میں کہیں بھی اس کاذِکر نہیں کیاہے کہ وہ کس طرح اِس اہم ترین مسئلے کو حل کرے گی۔‘

موصوف کی اِس بات سے ہمیں مکمل اتفاق ہے کہ ملک میں پائے جانے والے بگاڑ کی اصل جڑ باطل افکار و نظریات ہیں اور اِصلاح کی کامیاب کوشش کے لیے اِن باطل افکار کی مدلل تردید ضروری ہے۔ موصوف کی یہ بات بھی صحیح ہے کہ سیاست اور سیاست دانوں کا بگاڑ پورے سماج کو خرابی کی طرف لے جاتاہے۔ لیکن اُن کا یہ تاثر صحیح نہیں ہے کہ جماعت کی پالیسی میں اِس اہم مسئلے کا نوٹس نہیں لیاگیا ہے۔ جہاں تک جماعت کے لٹریچر کاتعلق ہے اُس کا اُبھرا ہوا پہلو ہی یہ ہے کہ اُس میں باطل افکارونظریات پر گہری ، مدلل اور واضح تنقید کی گئی ہے۔ لیکن خود پالیسی و پروگرام کے کتابچے میں بھی یہ اہم موضوع نظراندازنہیں ہوا ہے۔ ’پس منظر‘ بیان کرتے وقت مغربی نظریات کی ناکامی کا ذِکر اِن الفاظ میں کیاگیاہے:

’’جن مغربی نظریات کو ملک کی تعمیرنوکی بنیاد بنایاگیا، وہ قدیم ناانصافیوں کا مقابلہ کرنے میں مکمل طورپر ناکام رہے اور اِانسان کے قلب و نظر کو نہ بدل سکے، ٹکنالوجی اور جدید ذرائع اِبلاغ سے مالامال ہمارے ملک میں قدیم ناانصافیاں اُسی شان سے موجودہیںبلکہ بسااوقات جدید ذرائع نے ان کے مضر اثرات کو وسیع دائرے میں پھیلادیاہے۔’’               ﴿پالیسی و پروگرام ص: ۷﴾

’دعوت‘ کی پالیسی بیان کرتے ہوئے کہاگیاہے:

’’جماعت دعوت کاکام اِس طرح انجام دے گی کہ برادرانِ وطن شرک والحاد اور دیگر عقائد و افکار ونظریات کے باطل ہونے اور اخلاقی خرابیوں کی مضرت سے بخوبی واقف ہوجائیں۔‘‘    ﴿ایضاًص:۱۰﴾

‘مرکزتوجہ امور’کے تحت کہاگیاہے:

’’جماعت سرمایہ دارانہ استحصال کے خلاف اپنی جہدو جاری رکھے گی اور اُس کے متبادل کی حیثیت سے اسلامی نظام کو پیش کرے گی۔ نیز ملک عزیز میں پائے جانے والے کرپشن کے خلاف آواز اُٹھائے گی اور اس حقیقت کو واضح کرے گی کہ تصورِ خدا، آخرت کی جوابدہی ﴿کے استحضار﴾ اور موثر نظام احتساب کے بغیر اِس مسئلے سے نجات ممکن نہیں۔‘‘   ﴿ایضاً ص:۱۲﴾

مرکز جماعت کی جانب سے جو ‘تربیتی خاکہ’ جاری کیاگیاہے،اُس میں اسلامی لٹریچر کی بعض منتخب کتابوں کے مطالعے کی سفارش کی گئی ہے۔ اِن کتابوں میں درج ذیل کتب خاص طورپر باطل افکار ونظریات کی تردید میں لکھی گئی ہیں: اسلام اورجدید معاشی نظریات، سود، اِسلامی سیاست، تنقیحات، اسلام اور جدید مادی افکار، جدید ذہن کے شبہات، جدید جاہلیت، اسلام میں عدلِ اجتماعی۔

مسلمان لڑکوں اورلڑکیوں میں اخلاقی بگاڑ

محترم مکتوب نگار لکھتے ہیں:

’’ایک مسئلہ جِس کے سدباب کے لیے کسی بھی پروگرام کااعلان و اظہار نہیں کیاگیاہے، وہ ہے مسلمان لڑکوں اورلڑکیوں کا اخلاقی بگاڑ۔ ہر ریاست میں ایسے کئی ماڈرن خاندان ملیںگے جن کی لڑکیاں غیرمسلم لڑکوں سے شادیاں کررہی ہیں۔ غریب مسلم لڑکیاں جِن کی شادیاں نہیں ہورہی ہیں یا نوجوان بیوائیں اور مطلقہ لڑکیاں اِس بُرائی میںملوث ہورہی ہیں۔ ان کے عقد ثانی کے لیے کوئی کوشش نہیں ہورہی ہے۔ جب کہ قرآن مجید کی ہدایت ہے:

وَأَنکِحُوا الْأَیَامَی مِنکُمْ وَالصَّالِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَائِکُمْ اِن یَکُونُوا فُقَرَآئ یُغْنِہِمُ اللَّہُ مِن فَضْلِہِ    ﴿نور:۳۲﴾

﴿تم میں جو لوگ مجرد ہوں اور تمھارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں ان کے نکاح کردو۔ اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کوغنی کردے گا۔﴾

بیواؤں اور مطلقہ لڑکیوں کے سلسلے میں ہماری بے حسی برادرانِ وطن سے کسی طرح کم نہیں ہے۔‘‘

واقعہ یہ ہے کہ یہ ایک سنگین معاشرتی مسئلہ ہے، جس کی طرف ہمارے محترم دوست نے توجہ دلائی ہے۔ اس میقات میں جماعت نے خاندانی زندگی اور نکاح وطلاق سے متعلق اسلامی تعلیمات سے مسلمانوں کی اس عام غفلت کا خصوصی نوٹس لیاہے۔ چنانچہ یہ طے کیاگیاہے کہ ‘اسلامی معاشرہ’ کے عنوان کے تحت انجام دی جانے والی سرگرمیوں میں ‘اسلامی خاندان’ کے موضوع پر خصوصی توجہ کی جائے گی۔ پالیسی و پروگرام کی درج ذیل عبارَت ملاحظہ ہو:

’’میقاتِ رواں میں درجِ ذیل امور پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ توجہات، سرگرمیوں، قوتوں اور وسائل کا ایک بڑا حصہ اِن امور پر اِس طرح مرتکز کیاجائے گا کہ اختتام میقات تک اس سلسلے کے اثرات نمایاں ہوں۔ ﴿اِسلامی معاشرے کی تعمیر کے لیے﴾ جماعت کوشش کرے گی کہ اِسلام کی عائلی تعلیمات عام ہوجائیں اور مسلمان اپنے گھرانوں کو مثالی اِسلامی خاندان بنائیں۔‘‘ ﴿پالیسی و پروگرام ص:۲۰﴾

نیز یہ کہ

’’اسلام کی عائلی تعلیمات کو اِس طرح عام کیاجائے گا کہ فی رُکن و کارکن’ ﴿کم از کم﴾ دَس افرادِ امت ، اسلام کی عائلی تعلیمات سے اچھی طرح واقف ہوجائیں اور انھیں روبہ عمل لانے کی ممکنہ کوشش کریں۔‘‘      ﴿ایضاً ص:۲۲﴾

جماعت کے پیش نظر یہ ہے کہ’اسلامی خاندان‘ کے موضوع پر پوری میقات میں مہماتی انداز میں کام کیاجائے۔ اس موضوع میں جو ذیلی موضوعات شامل ہیں وہ یہ ہیں: ’عفت و پاکبازی کی تلقین، پردہ، نکاح وطلاق، جہیزکامسئلہ، زوجین کے حقوق اور ذمّے داریاں، اولاد کی تربیت، اولاد اور والدین کے حقوق، صلہ رحمی، احکامِ وراثت و وصیت اور دارالقضا کا قیام۔‘ اِن سب عنوانات کے تحت اسلامی تعلیمات کوبیان کیا جائے گا، غلط طریقوں اور بے جا رسوم سے بازآنے کی تلقین کی جائے گی اور اِسلامی قدروں کے فروغ کی کوشش کی جائے گی۔

جماعت کے بیت المال

محترم مکتوب نگار لکھتے ہیں:

’’جماعت کے تمام بیت المال ناکام ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کی نصف رقم مرکز اور حلقوں کو چلی جاتی ہے اور فی سبیل اللہ کا نام دیا جاتا ہے۔ مقامی جماعت صرف نصف رقم کا حساب پیش کرتی ہے۔

صرف ایک شہر میں ہزاروں ﴿مسلمان﴾ خواتین سودی قرضوں کی لعنت میں مبتلا ہیں مگر ہم ان میں سے ایک کو بھی اس لعنت سے نہ نکال پائے۔‘‘

موصوف نے ایک حقیقی مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ جماعت کے بہت سے مقامی بیت المال فقرائ و مساکین کی احتیاج کو دور کرنے میں نا کام رہے ہیں۔ ہمیں اِس نا کامی کا اعتراف کرنا چاہیے۔

اس کے بعد اِصلاحِ حال کی تدابیر ضروری ہیں۔ تاکہ فی الواقع زکوٰۃ کی رقم سے غرباء   کی محتاجی دور ہوسکے۔ اس سلسلے میں ذیل کے اِقدامات کیے جانے چاہییں:

﴿الف﴾ ایک مہم چلاکر زکوٰۃ ادا کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کیاجائے۔ جو مسلمان بھی صاحبِ نصاب ہیں اُن کو توجہ دلائی جائے کہ وہ زکوٰۃ لازماً ادا کریں۔

﴿ب﴾ زکوٰۃ ادا کرنے والوں میں جو لوگ جماعت پر اعتماد کرتے ہوں اُن کو آمادہ کیاجائے کہ وہ جماعت کے بیت المال کو زکوٰۃ کی رقوم سپرد کریں۔

﴿ج﴾ بستی کے حقیقی مستحقین کا پتا لگایا جائے اور آگے بڑھ کر درخواست دینے والوں کی مدد کرنے کی بجائے اُن خاموش ضرورت مندوں کی مدد کی جائے جو فی الواقع مستحق ہوں۔

﴿د﴾ حقیقی مستحقین کی نشاندہی کے کام میں متوسلین جماعت کے علاوہ تمام اہلِ خیر حضرات کا تعاون حاصل کیاجائے۔

﴿ہ﴾ کسی مستحق کی مدد کرنے کی ایسی صورتوں کو ترجیح دی جائے جس میں وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکے اورآیندہ مدد سے بے نیاز ہوجائے۔ اِسی طرح علامتی مدد (Token Help) کی بجائے کوشش یہ ہونی چاہیے کہ غریب شخص کا مسئلہ حل ہوسکے۔

﴿و﴾ اِطلاع عام کے لیے ہر سال بیت المال اپنے حسابات شائع کرے۔ تاکہ عام لوگوں کو معلوم ہوسکے کہ اُن کی دی گئی رقم کن کاموں میں صَرف کی گئی۔

﴿ز﴾ بیت المال کے ضوابط میں اِس کی گنجایش موجود ہے کہ اگر رقم پیش کرنے والا شخص کسی مَد کی صراحت کرے تو بیت المال اُس شخص کی دی گئی رقم کو اُسی خاص مد میں صَرف کرے گا۔ چنانچہ جو افراد چاہیں وہ زکوٰۃ کی رقم بیت المال کو دیتے وقت یہ صراحت کرسکتے ہیں کہ اُن کی دی گئی رقم کو صرف مقامی مستحقین پر خرچ کیاجائے۔ اِس طرح مقامی غرباء   پر خرچ ہونے والی رقم کے تناسب میں اضافہ کیاجاسکتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جماعت کے مقامی بیت المالوں کو فعال اور عوام الناس کے لیے مفید بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اِس کام کے کرنے میں پالیسی کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ صِرف عملی توجہ درکار ہے۔

ہمہ وقتی احباب پر انحصار

محترم مکتوب نگار لکھتے ہیں:

’میری تجویز یہ ہے کہ مرکز کے تمام قائدین اعزازی ہوں اور ہمہ وقتی احباب کی تعداد کو گھٹا کر جماعت کے عام ارکان سے اعزازی خدمات لی جائیں۔ اِس طرح اِخلاص کا جوہر بڑھ جائے گا۔ کفاف لینے والے اصحاب کی کثرت کی وجہ سے تحریک میں ایک پبلک سیکٹر کا سا نقشہ پیدا ہو گیا ہے۔‘

موصوف کی یہ تجویز غیرعملی ہے۔ اِس لیے کہ بہت سے شعبے ایسے ہیں جو کام کرنے والوں کا پورا وقت چاہتے ہیں۔ البتہ اُن کی تجویز کا یہ حصہ بہت قیمتی ہے کہ تمام ارکان، حتی الوسع، اپنے وقت کا زیادہ سے زیادہ حصہ، اعزازی طورپر اِسلامی تحریک کے لیے فارغ کریں۔ اگر عام ارکان میں یہ اسپرٹ موجود نہیں ہوگی تو نامطلوب ماحول پیدا ہوگا اور تحریک کا کام بھی سُکڑ جائے گا۔ اِس سلسلے میں مولانا مودودیؒ  نے ایک سوال کے جواب میں جو رہنمائی فرمائی تھی وہ قابل توجہ ہے:

سوال:      تحریکِ اسلامی کے فارغ کارکن بالعموم اس الجھن کو محسوس کرتے ہیں کہ ان کے روزمرّہ کے کام کا نتیجہ محسوس طورپر ظاہر نہیں ہوتا۔ بعض اوقات دن بھر میں ایک ہی ملاقات ہوتی ہے یا سفر کرکے دور دیہات میں جانے کے بعد مجوزہ پروگرام نہیں بنتا یا آدمی نہیں ملتا۔ تحریک کے رفقاء  توقع رکھتے ہیں کہ جب ایک کارکن فارغ کردیاگیا ہے تو کام کانتیجہ محسوس طورپر اعداد وشمار میں آنا چاہیے۔ اس اُلجھن کا علاج کیاہے؟

جواب:  اس الجھن کے دو پہلو ہیں اور دونوں پہلووں کا علاج ہونا چاہیے۔ ایک پہلو تو ہے اُس شخص کی الجھن کا جو فارغ کارکن ہے اور ایک پہلو ہے اُن لوگوں کی اُلجھن کا جو اس کارکن کو تحریک کا کام کرنے کے لیے فارغ کرتے ہیں، اُس کی کفالت کے لیے مال فراہم کرتے ہیں اور اس کے بعد یہ دیکھتے ہیں کہ وہ کام کررہاہے یا نہیں اور اگر کررہاہے تو کس طرح کررہاہے؟ جہاں تک پہلی چیز کا تعلق ہے سب سے پہلے ہر فارغ کارکن کو خود اپنا بے لاگ محاسبہ کرکے دیکھنا چاہیے کہ جب میں اسلام کے کام کے لیے فارغ کیاگیا ہوں اور میری ضروریات کا بوجھ جماعت نے اپنے ذمّے لے لیا ہے تو کیا میں اس کاحق ادا کررہا ہوں؟ یہ محاسبہ اُسے عنداللہ اپنی جواب دہی کا احساس کرتے ہوئے کرنا چاہیے۔ اگر اس کا اپنا ضمیر یہ محسوس کرے کہ اداے حق میں وہ کوتاہی کررہاہے تو اسے خود اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ خواہ جماعت اسلا می محاسبہ کرے یا نہ کرے۔ کیونکہ کوئی اور جانے یا نہ جانے، وہ خدا تو اس کوتاہی کو جانتاہے جو عالم الغیب والشہادۃ ہے۔ جماعت کو وہ بڑے معقول دلائل دے کر مطمئن کرسکتا ہے، مگر خدا کو تو کسی طرح دھوکا نہیں دے سکتا۔ اسے اس سارے معاملے پر اس لحاظ سے سوچنا چاہیے کہ اس وقت وہ کیا جواب دے گا، جب اس سے پوچھا جائے گا کہ اللہ کے بندے، تیرے لیے ضروریات زندگی فراہم کرنے کا انتظام بھی کردیاگیا اور ہمارے کام کے لیے تجھے فکرِ معاش سے بھی فارغ کردیاگیا، پھر بھی تو نے اس کام میں جان نہ لڑائی۔ اس طرح اپنا محاسبہ کرکے ہر فارغ کارکن اپنی الجھن کو خود دورکرسکتا ہے۔

رہی اُن لوگوں کی اُلجھن جو اسے فارغ کرتے ہیں، تو اُن کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ کوئی معمار کا کام تو ہے نہیں کہ روز آپ آکر گن لیں کہ آج کتنی اینٹیں رکھی گئیں۔ اس حساب سے اگر آپ نے دیکھنا شروع کیا تو ظاہر بات ہے کہ کوئی فارغ کارکن بھی، امیر جماعت سمیت، اس قابل نہیں رہے گا کہ اپنے کام سے آپ کومطمئن کرسکے۔ آپ کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ فارغ کارکن اپنا وقت اور اپنی محنت فرض شناسی اور دِل کی لگن کے ساتھ اُسی کام میں صَرف کررہاہے یا نہیں، جس کے لیے اُسے فارغ کیاگیاہے؟ وہ فضول کاموں میں تو اپنا وقت ضائع نہیں کررہاہے۔ وہ جماعت سے معاوضہ لے کر اپنے ذاتی مقاصد کے لیے دوڑ دھوپ کرنے میں تو نہیں لگارہتا۔ ایسی کوئی شکایت اُس سے نہ ہوتو آپ اس لحاظ سے اس کے کام کو نہ جانچیں کہ اس کی کوششوں سے نتائج کس قدر برآمد ہوئے ہیں۔ یہ کام تو ایسا ہے کہ بسااوقات ہفتوں اور مہینوں ہی نہیں، برسوں ایک شخص اپنی جان کھپاتا رہتا ہے اور پھر بھی ایسے نتائج برآمدنہیں ہوتے جنھیں ناپ کر اور تول کر دیکھاجاسکے۔ دعوت ہزارہا آدمیوں تک پہنچائی جاتی ہے مگر صرف چند آدمی اسے قبول کرتے ہیں اور اُن کے بارے میں بھی یہ ضمانت کسی کے پاس نہیں ہوتی کہ وہ کتنے مخلص ثابت ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے انبیائ کو بھی ان کی مساعی کے نتائج اور ماحصل کے لحاظ سے نہیں جانچا ہے، بلکہ اس لحاظ سے جانچا ہے کہ انھوںنے اپنا فرض کماحقہ ادا کردیاہے یا نہیں۔ نتائج کے لحاظ سے جانچا جاتاتو معاذ اللہ وہ انبیائ تک ناکام قرار پاتے جن کی کوششوں سے کوئی ایک شخص بھی ایمان نہ لایا۔ حضرت لوط(ع) ہی کی مثال دیکھ لیجیے جن کے متعلق قرآن مجیدمیں فرمایاگیا ہے کہ ’فَمَا وَجَدْنَا فِیْہَا غَیْرَبَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ‘ ﴿ہم نے وہاں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا﴾ اور یہ گھر خود حضرت لوط(ع) کاتھا جس میں ان کی بیوی تک عذاب کی مستحق پائی گئی۔    ﴿ ’تصریحات‘ص:۷۵۲-۹۵۲﴾

خدمت خلق اور تحریکی ترجیحات

محترم مکتوب نگار لکھتے ہیں:

’’ہمارا اصل کام دعوت اور اقامتِ دین ہے۔ ہم کو اپنی توانائی زیادہ تر اِقامت دین کے سلسلے میں لگانی چاہیے۔ ﴿خدمت خلق میں غیرمتوازن انہماک کو دیکھ کر﴾ مجھے تو یہ شبہ لاحق ہواکہ ہم نے اقامت دین کی جدوجہد کو Back Trackکرنے ﴿پس پشت ڈالنے﴾ کے لیے یہ بہانہ تلاش کیاہے کہ خدمت خلق کے بڑے بڑے منصوبے بنائے جائیں۔‘‘

موصوف نے جس مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے، اُس کی حقیقت یہ ہے کہ تعمیرو خدمت کے بڑے کاموں ﴿ تعلیمی و رفاہی اداروں وغیرہ﴾ کی نوعیت ہنگامی کاموں کی نہیں ہوتی جو ایک مرتبہ انجام دے دیے جائیں۔ بلکہ خدمت کے یہ کام مستقل کارکردگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ چنانچہ اطمینان بخش طورپر اُن کو انجام دینے کے لیے تنظیم کی بجائے ادارے کی ہیئت موزوں ہوتی ہے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جماعت اسلامی ہند اپنی ساخت کے لحاظ سے ایک تنظیم کی حیثیت رکھتی ہے نہ کہ ادارے کی۔ اِس لیے خدمت خلق کے بڑے منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے آزاد اداروں کا قیام بہرحال ضروری ہے۔ جو اصولاً بھی آزاد ہوں اور عملاً بھی۔ خدمت کے بڑے منصوبوں پر مستقل عمل درآمد کا کام کوئی تنظیم نہیں کرسکتی۔ البتہ اچھے کاموں کی اخلاقی تائید ضرور کرسکتی ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ ہندستان کے مسلمانوں کی بھی یہ ضرورت ہے اور عام اِنسانوں کی بھی کہ یہاں بڑے پیمانے پر خدمت اور تعمیر کا کام کیاجائے۔ چنانچہ جِن اصحابِ خیر نے اِس ضرورت کو سمجھ کر تعمیری کاموںکا آغاز کردیا ہے۔ انھوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔ بشرطیکہ یہ کام اِسلامی حدود کے اندر انجام دیے جائیں۔ البتہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اِن کاموں کے لیے موزوں ادارے تشکیل دیے جائیں اور کسی تنظیم سے یہ توقع نہ رکھی جائے کہ وہ محض اپنی تنظیمی ہیئت کے سہارے ان کاموں کو انجام دے سکے گی، جن کو ادارے ہی کرسکتے ہیں۔

سودی جال میں گرفتار عوام اور کسانوں کے مسائل

محترم مکتوب نگار لکھتے ہیں:

’’ایک ایک شہر میں ہزاروں ﴿مسلمان﴾ خواتین سود کی لعنت میںمبتلا ہیں مگر ہم اُن میں سے ایک کو بھی اس لعنت سے نہیں نکال پائے۔‘‘

ہم محترم مکتوب نگار کو یاد دِلاتے ہیں کہ سود کے مسئلے پر جماعت اِسلامی ہند مسلسل توجہ دیتی آرہی ہے۔ موجودہ پالیسی میں بھی اِس سے تعرض کیاگیاہے۔ اس سلسلے میں جماعت کے پیش نظر تین کام ہیں:

﴿الف﴾ عادلانہ نظامِ معیشت کا تعارف

﴿ب﴾     اسلامی بینکنگ کے آغاز کی کوشش

﴿ج﴾      سودی جال سے عوام کو نجات دِلانے کے لیے مائیکرو فائنانس کا اہتمام

اِس سلسلے میں پالیسی و پروگرام کی تصریحات درجِ ذیل ہیں:

’’﴿الف﴾                جماعت اسلام کے عادلانہ نظامِ معیشت کو واحد متبادل کے طورپر پیش کرے گی۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں درست معاشی پالیسیاں تجویز کرے گی اور ملک میں معاشی انصاف کے قیام کے لیے راہیں ہموار کرے گی۔‘‘ ﴿پالیسی و پروگرام، ص:۱۵﴾

﴿ب﴾     ’’جماعت، اسلامی بینکنگ کے حق میں پالیسی ساز اداروں میں اور عوامی سطح پر رائے عامہ اِس حد تک ہموار کرے گی کہ اِس کے نتیجے میں اسلامی بینک قائم کے جاسکیں۔‘‘

﴿ایضاً ص:۲۳﴾

﴿ج﴾  ’’جماعت معاشی پس ماندگی کے ازالے کے لیے مائیکرو فائنانس کے ادارے قائم کرے گی۔‘‘﴿ایضاًص:۲۱﴾

آخری نکتہ بہت اہم ہے۔ عوام کو سودی جال سے نجات دِلانے کے لیے غیرسودی بنیادوں پر قائم مائیکرو فائنانس کے ادارے بڑا کام انجام دے سکتے ہیں۔ ضرورت اِس جانب توجہ دینے کی ہے۔

محترم مکتوب نگار کسانوں کے مسائل کاتذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ملکی مسائل میں کسانوں کامسئلہ بڑی اہمیت کاحامل بَن گیا ہے۔ ہزاروں بلکہ لاکھوں کسانوں نے خودکشی کی ہے اور خودکشی کا یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ اِس سلسلے میں ہماری کُل ہند جماعت بہت کچھ کرسکتی ہے۔‘‘

موصوف نے کسانوں کے مسئلے کے سلسلے میں توجہ دلائی ہے۔ یہ ایک حقیقی مسئلہ ہے۔ کسانوں کی مشکلات کی دو وجوہ ہیں۔ سودی قرضے اور زراعت سے متعلق حکومت کی غلط پالیسیاں۔ اسلامی موقف یہ ہے کہ تمام سرکاری قرضوں پر ﴿خواہ وہ کسانوں کو دیے جائیں یا کسی اور مستحق طبقے کو﴾ سود ختم کردیاجانا چاہیے۔ ضرورت ہے کہ ہم اِس موقف کو بیان کریں اور حکومت سے مطالبہ کریں کہ غیرسودی قرض دینے کا آغاز کرے۔ اِسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کی جانب سے حکومت کی غیرمنصفانہ پالیسیوں پر تنقید کی جائے۔ مثلاً ہمارے ملک میں صنعتی ترقی کو زراعت کے مقابلے میں غیرمعمولی ترجیح دے دی گئی ہے۔ ضرورت ہے کہ اس عدم توازن کو دور کیاجائے۔ اِسی طرح حکومت کو اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ کسانوں کو زرعی پیداوار کی مناسب قیمت مل سکے۔ خصوصاً جب کہ حکومت خود خریدار ہو۔ جہاں تک کسانوںکی عملی مدد کا تعلق ہے مائیکرو فائنانس کے ادارے چھوٹے کسانوں کی تو مدد کرسکتے ہیں لیکن بڑے پیمانے پر زراعت کے لیے جِن قرضوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ تو حکومت ہی فراہم کرسکتی ہے۔ چنانچہ کسانوں کے مسائل کے حل کے لیے کوئی قابل ذکر عملی اقدام جماعت خودنہیں کرسکتی۔ البتہ قرضوں پر سود کے خاتمے اور پالیسیوں کی اِصلاح کا مطالبہ کرسکتی ہے۔ یہ مطالبہ جماعت کو ضرور کرنا چاہیے۔

جماعت کے تنظیمی انتخابات

محترم مکتوب نگار لکھتے ہیں:

’’﴿بعض احباب﴾ جماعت کے مناصب پر فائزرہنا چاہتے ہیں اوراقتدار بھی اپنے پاس رکھناچاہتے ہیں۔ اس کے لیے ایک مخصوص طریقہ الیکشن ایجاد کیا ہے۔ اس کے پیچھے یہ خواہش ضرور پوشیدہ ہوتی ہے کہ جماعت کی زمامِ کارانھی لوگوں کے ہاتھ میں رہے۔ جماعت کی ترقی میں یہ مسئلہ بڑی رکاوٹ ہے۔ اِس طریقے سے اِخلاص رخصت ہوجاتاہے اور ہمارے کاموں کاوہ اجر خدا کے پاس حاصل نہیں ہوگا جِس کی ہم توقع رکھتے ہیں۔‘‘

موصوف نے مندرجہ بالاسطور میں دونکات کاتذکرہ کیاہے:

﴿الف﴾ بعض افراد میں منصب واقتدار کی خواہش

﴿ب﴾     جماعت میں الیکشن کاطریقہ

جہاں تک پہلی بات یعنی منصب واقتدار کی طلب کاتعلق ہے وہ ایک اِنسانی کمزوری ہے، جو پائی جاسکتی ہے۔ اِس اِمکان کے پیشِ نظر ہی دستورِجماعت نے اس سلسلے میں خبردار کیاہے۔ مثلاً جماعتی مناصب میں سے اہم ترین منصب ’’امیرجماعت‘‘ کے سلسلے میں دستور کی دفعہ ۲۳میں کہاگیاہے:

’’امیر جماعت کے انتخاب میں حسبِ ذیل اوصاف کو ملحوظ رکھاجائے گا:

وہ امارت یا کسی اور جماعتی منصب کا امیدوار یا خواہش مند نہ ہو۔‘‘

مندرجہ بالا معیار کی تصریح کا ایک تقاضا یہ ہے کہ افرادخود اپنا احتساب کریں۔ اگر اپنے اندر وہ اقتدار ومنصب کی طلب پائیں تو اپنی نیت کی اِصلاح کریں اور اِخلاص نیت کا اہتمام کریں۔ اس معیار کاایک دوسرا تقاضا بھی ہے۔وہ یہ کہ ہم کسی ایسے شخص کو ذمّے دارانہ منصب کے لیے منتخب نہ کریں جِس کے اندر اقتدار کی طلب محسوس ہوتی ہو۔

موصوف نے دوسری بات جماعت کے اندر رائج الیکشن کے طریقے کے سلسلے میں کہی ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ رائج طریقہ الیکشن جماعت کی زمام کار کو چند مخصوص لوگوں کے ہاتھوں میں رکھتا ہے۔ اِس تاثر کی صحت کااندازہ کرنے کے لیے جماعت کے طریقِ انتخاب کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

دستورِ جماعت کی روشنی میں جماعت کے اندر خفیہ رائے دَہی (Secret Ballot) کاطریقہ رائج ہے۔ چنانچہ دومجالس ایسی ہیں جن کے لیے ارکانِ جماعت سے ﴿خفیہ﴾ رائیں طلب کی جاتی ہیں۔ مرکزی مجلس نمایندگان کے لیے اور جِس حلقے سے وہ رُکن متعلق ہو اُس کی مجلسِ شوریٰ کے لیے۔ اِ ن رایوں کو گِنا جاتا ہے اور کثرتِ رائے سے جو افراد منتخب ہوتے ہیں اُن کے ناموں کااِعلان کردیاجاتاہے۔ جہاں تک اس طریقے کا تعلق ہے اصولی اعتبار سے غالباً اِس میں کسی سقم کی نشاندہی نہیں کی جاسکتی۔ تاہم اگر کوئی بہتر طریقہ کسی کے ذہن میں ہوتو اس کی نشاندہی کرنی چاہیے تاکہ اس پر غور کیاجاسکے۔ البتہ جوعملی دشواریاں پیداہوسکتی ہیں وہ درجِ ذیل ہیں:

﴿الف﴾ بسااوقات رائے دہی ‘خفیہ’ نہیں رہ جاتی بلکہ لوگ مجلس میں بیٹھ کر رائیں تحریرکرتے ہیں اور اِس طرح ‘خفیہ رائے دہی’ کی مصلحتیں فوت ہوجاتی ہیں۔

﴿ب﴾     کچھ لوگ اپنے پسندیدہ افراد کے حق میں کنویسنگ کرتے ہیں اور بسااوقات ایسابھی ہوتا ہے کہ جن کو پسند نہیں کرتے اُن کے خلاف بھی کنویسنگ کرگزرتے ہیں۔

﴿ج﴾      کچھ لوگ رائے دینے سے قبل کوئی غوروفکر نہیں کرتے بلکہ جو مشہور نام اُن کے ذہن میں آجاتے ہیں، سہل انگاری کے ساتھ اُن کو تحریر کردیتے ہیں۔

اِن خرابیوںکی ذمّے داری طریقہ ٔ انتخاب پر عائد نہیں ہوتی بلکہ ان کی اِصلاح کے لیے افراد کے شعور کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہونا یہ چاہیے کہ ہرفرد ذمّے دارانہ طورپر رائے دے۔ موزوں اشخاص کے بارے میںمعلومات فراہم کرنے کے لیے کچھ محنت کرے۔ اپنی رائے کو فی الواقع ‘خفیہ’ رکھنے کا اہتمام کرے۔ مثبت یا منفی کنویسنگ سے باز رہے اور اگر ایسی کنویسنگ ہورہی ہوتو اس سے متاثر نہ ہو بلکہ اپنے علم کی روشنی میں افراد کا انتخاب کرے۔

شفافیت

محترم مکتوب نگار لکھتے ہیں:

’’میرے خیال میں شفافیت (Transparency) ایک اسلامی قدر ہے جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ؒ نے بھی اختیار کیا ہے۔ کیوں نہ ہماری جماعت بھی اسے اختیار کرے۔‘‘

شفافیت کے معنی یہ ہیں کہ عوام الناس کو یہ معلوم ہوکہ اجتماعی معاملات کس طرح چلائے جارہے ہیں۔ اس مفہوم کو پیش نظر رکھاجائے تو ‘شفافیت’ فی الواقع ایک اسلامی قدر ہے۔ چنانچہ مولانا مودودیؒ  نے اس کو ‘‘شورائیت’کا تقاضاقراردیاہے۔ مولانا لکھتے ہیں:

’’امرہم شوریٰ بینہم کا قاعدہ خود اپنی نوعیت اور فطرت کے لحاظ سے پانچ باتوں کا تقاضا کرتا ہے:

‘اوّل یہ کہ اجتماعی معاملات جن لوگوں کے حقوق اور مفاد سے تعلق رکھتے ہیں انھیں اظہارِ رائے کی پوری آزادی حاصل ہو اور وہ اِس بات سے پوری طرح باخبررکھے جائیں کہ اُن کے معاملات فی الواقع کِس طریقے سے چلائے جارہے ہیں اور انھیں اس امر کا بھی پورا حق حاصل ہو کہ اگر وہ اپنے معاملات کی سربراہی میں کوئی غلطی یا خامی یا کوتاہی دیکھیں تو اس پر ٹوک سکیں، احتجاج کرسکیں اور اصلاح ہوتی نہ دیکھیں تو سربراہ کاروں کو بدل سکیں۔ لوگوں کا منہ بند کرکے اور اُن کے ہاتھ پائوں کَس کر اور اُن کو بے خبررَکھ کر اُن کے اجتماعی معاملات چَلانا صریح بددیانتی ہے۔ جسے کوئی بھی شخص امرہم شوریٰ بینہم کے اصول کی پیروی نہیں مان سکتا۔‘‘

﴿تفہیم القرآن، جلد:پنجم، سورۂ شوریٰ، حاشیہ:۶۱﴾

محترم مکتوب نگار کا یہ خیال صحیح ہے کہ ہر اِسلامی تنظیم کو اس شفافیت کو اختیار کرنا چاہیے جو مولانامودودیؒ  کی مندرجہ بالا تشریح کے مطابق اسلامی اصولِ شورائیت کا عین تقاضا ہے۔ ہم موصوف کے شکرگزار ہیں کہ انھوں نے بہت سے اہم امور کی نشاندہی کی۔ اب ضرورت ہے کہ ہم سب اِصلاح کی طرف توجہ کریں۔ طرزفکر کی اِصلاح بھی اور طرزِعمل کی اِصلاح بھی۔

اکتوبر 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau