اشارات

ڈاکٹر محمد رفعت

جس وقت یہ شمارہ آپ کے ہاتھوں میں پہنچے گا، رمضان المبارک کا مہینہ قریب آچکا ہوگا۔ اس مہینے کی عظمت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے شایانِ شان استقبال کیا جائے۔ خود نبی کریم ک رمضان کی آمد سے قبل اہلِ ایمان کو اس مہینے کی برکات سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیا رکرتے تھے۔ اس سنت کی پیروی کرتے ہوئے ائمہ مساجد، خطبائ کرام اور اسلامی اداروں و تنظیموں کے سربراہوں کو عامۃ المسلمین کے درمیان رمضان سے فائدہ اٹھانے کے سلسلے میں تذکیر کا اہتمام کرنا چاہیے۔

استقبالِ رمضان

نبی کریم ﷺ کے استقبالِ رمضان سے متعلق ایک خطبے کا تذکرہ ہمیں بیہقی کی درج ذیل راویت میں ملتا ہے۔ اس خطبے سے استقبالِ رمضان کے نبوی معمول پر روشنی پڑتی ہے:

’’حضرت سلمان فارسیؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شعبان کی آخری تاریخ کو خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! تمہارے اوپر ایک بڑا بزرگ مہینہ سایہ فگن ہوا ہے۔ یہ بڑی برکت والا مہینہ ہے، یہ وہ مہینہ ہے جس کی ایک رات ﴿ایسی ہے کہ﴾ ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ﴿اس کے﴾ روزے فرض کیے ہیں اور اس کی راتوں کے قیام کو تطوع ﴿یعنی نفل﴾ قرار دیا ہے۔ جس شخص نے اس مہینے میں کوئی نیکی کرکے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کی تو وہ اس شخص کے مانند ہے، جس نے دوسرے دنوں میں کوئی فرض ادا کیا ﴿یعنی اُسے ایسا اجر ملے گا جیسا کہ دوسرے دنوں میں فرض ادا کرنے پر ملتا ہے﴾۔ اور جس نے اس مہینے میں فرض ادا کیا تو وہ ایسا ہے جیسے دوسرے دنوں میں اُس نے ستّر فرض ادا کیے۔ اور رمضان صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے، اور یہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کرنے کا مہینہ ہے۔ اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھایا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس میں کسی روزہ دار کا روزہ کھلوائے تو وہ اس کے گناہوں کی مغفرت اور اس کی گردن کو دوزخ کی سزا سے بچانے کا ذریعہ ہے اور اس کے لیے اتنا ہی اجر ہے جتنا اُس روزہ دار کے لیے روزہ رکھنے کا ہے، بغیر اس کے کہ اس روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی واقع ہو۔

حضرت سلمانؓ کہتے ہیں کہ ہم نے ﴿یعنی صحابہ کرام نے﴾ عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر ایک کو یہ توفیق میسر نہیں ہے کہ کسی روزہ دار کا روزہ کھلوائے۔ نبی ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہ اجر اُس شخص کو ﴿بھی﴾ دے گا جو کسی روزہ دار کو دودھ کی لسّی سے روزہ کھلوادے یاایک کھجور کھلادے یا ایک گھونٹ پانی پلادے۔ اور جو شخص کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلادے تو اللہ تعالیٰ اُس کو میرے حوض سے پانی پلائے گا۔ ﴿اِس حوض سے پانی پی کر﴾ پھر اُسے پیاس محسوس نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔

اور یہ وہ مہینہ ہے کہ جس کے آغاز میں رحمت ہے، وسط میں مغفرت ہے اور آخرمیں دوزخ سے رہائی ہے۔ اور جس نے رمضان کے زمانے میں اپنے غلام سے ہلکی خدمت لی، اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور اُس کو دوزخ سے آزاد کردے گا۔‘‘

رمضان کی عظمت

مندرجہ بالا خطبے میں رمضان المبارک کی عظمت کے چند پہلو بیان کیے گئے ہیں:

  1. اس مہینے میں ایک رات ﴿شبِ قدر﴾ ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
  2. اس ماہ کی نفل نیکی دوسرے ایام کے فرض کے مساوی حیثیت اور قدروقیمت رکھتی ہے۔
  3. اِس ماہ میں ایک فرض عبادت کی ادائیگی دوسرے دنوں کے ستّر فرائض کے برابر ہے۔
  4.  یہ مہینہ صبر کامہینہ ہے۔
  5. اس مہینے میں مومن کارزق بڑھا دیا جاتا ہے۔
  6. اس مہینے کے آغاز میں رحمت ہے، وسط میں مغفرت ہے اور آخر میں دوزخ سے رہائی ہے۔

رمضان کی عظمت واضح کرنے کے پہلو بہ پہلو نبی ﷺ نے اس مہینے کے جن اہم اعمالِ صالحہ کی طرف توجہ دلائی ہے وہ درجِ ذیل ہیں:

اس ماہ کے روزے فرض ہیں۔

اس مہینے کی راتوں میں اللہ کے حضور کھڑا ہونا ﴿گرچہ نفل ہے﴾بہت اہم نیکی ہے۔

یہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کرنے کا مہینہ ہے۔

روزہ دار کا روزہ کھلوانا بڑے اجر و ثواب کا فعل ہے۔

اس مہینے میں اپنے زیرِدست افراد سے ہلکی خدمت لینی چاہیے۔ توقع ہے کہ ایسا کرنے والے شخص کو اللہ تعالیٰ بخش دے گا اور دوزخ سے اُسے آزاد کردے گا۔

رمضان اور قرآن:

مندرجہ بالا حدیث میں بیان کردہ امور کے علاوہ ماہِ رمضان المبارک کی بنیادی خصوصیت نزولِ قرآن مجید سے اس کا تعلق ہے۔ سورہ البقرۃ میں اس پہلو کا تذکرہ کیا گیا ہے:

شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیَ أُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْہُدیٰ وَالْفُرْقَانِِ فَمَنْ شَہِدَ مِنکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ وَمَنْ کَانَ مَرِیْضاً أَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ أَیَّامٍ أُخَرَ یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلاَ یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ وَلِتُکْمِلُوْا الْعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُوْا اللّٰہَ عَلیٰ مَا ہَدَاکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَo ﴿البقرۃ :۱۸۵﴾

’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیاجو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کافرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں۔ لہٰذا اب سے جو شخص اِس مہینے کو پائے، اُس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔ اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو، تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے، اُس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔‘‘

رمضان کے مہینے میں قرآن کی عظیم نعمت انسانوں کو عطا کی گئی۔ اس نعمت کی قدر دانی کے اظہار کے لیے تین کام بتائے گئے:

﴿۱لف﴾ اس پورے مہینے ﴿۲۹ یا ۳۰/دن﴾ کے روزے رکھے جائیں۔ طرزِ کلام یہ ظاہر کرتا ہے کہ دنوں کی اس تعداد کی بھی اہمیت ہے چنانچہ بیماری یا سفر کی وجہ سے کچھ روزے اگر چھوٹ جائیں تو بقیہ دنوں میں اس تعداد کو پورا کرنا ضروری ہے۔

﴿ب﴾  اللہ کی کبریائی کا اعتراف و اعلان کیا جائے۔ اور

﴿ج﴾ اللہ کا شکر ادا کیا جائے۔

انسان قدردانی کے اظہار کے مندرجہ بالا کام توجہ، خوش دلی اور شوق کے ساتھ اُسی وقت انجام دے سکتا ہے جب اُسے قرآن کے نعمت ہونے کا احساس ہو۔ قرآن کن پہلوؤں سے نعمت ہے اس کا جواب بہت وسیع ہے لیکن آیتِ بالا میں جن پہلوؤں کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ یہ ہیں:

(i)  قرآن کتابِ ہدایت ہے۔

(ii) اس میں وہ بینات ہیں جو اپنا مدعا بالکل واضح طور پر بیان کرتی ہیں۔

(iii) یہ کتاب کسوٹی ﴿فرقان﴾ ہے یعنی حق اور باطل میں فرق کرتی ہے۔

کتابِ ہدایت:

انسان کے خالقِ حقیقی نے اُس کی مادّی ضروریات کی تکمیل کا سامان کیا ہے، اس طرح اُس نے انسان کے معنوی وجود کی ضروریات کی بھی تکمیل کی ہے۔ انسان کے معنوی وجود کی سب سے بڑی ضرورت ’’ہدایت‘‘ ہے۔ یہ ہدایت صرف اس علیم و خبیر ہستی سے حاصل ہوسکتی ہے جس کا علم مکمل اور بے عیب ہے اور جو ہرکمزوری اور نقص سے پاک ہے۔ یہ ہستی صرف خالقِ کائنات کی ہے۔ اس لیے اُس نے اعلان کیا ہے کہ انسان کو ہدایت دینا ہمارے ذمہ ہے۔

اِنَّ عَلَیْنَا لَلْہُدیٰ۔ ﴿الیل: ۱۲﴾

’’بے شک ہدایت دینا ہمارے ذمّہ ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی یہ ہدایت ہر زمانے میں آتی رہی ہے اور اس وقت قرآن مجید کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے:

الٓمٓ oذٰلِکَ الْکِتَابُ لاَ رَیْْبَ فِیْہِ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَo الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلاۃَ وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنْفِقُوْنَo والَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا أُنْزِلَ اِلَیْْکَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالآخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَo أُوْلٰئِکَ عَلیٰ ہُدًی مِّن رَّبِّہِمْ وَأُوْلٰ ئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَo ﴿البقرۃ:۱-۵﴾

’’الف لام میم۔ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے اُن پرہیزگار لوگوں کے لیے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے، اُس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے، ﴿یعنی قرآن﴾ اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں اُن سب پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے رب کی طرف سے راہِ راست پر ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘

سورہ آلِ عمران میں کہا گیا:

الٓمٓo اللّٰہُ لَا الٰہَ الاَّ ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُo نَزَّلَ عَلَیْْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقاً لِّمَا بَیْْنَ یَدَیْْہِ وَأَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ وَالاِنْجِیْلَo مِنْ قَبْلُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَأَنْزَلَ الْفُرْقَانَ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِآیَاتِ اللّٰہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍo         ﴿البقرۃ:۱-۴﴾

’’الف، لام، میم۔ اللہ وہ زندہ وجاوید ہستی ہے جو نظام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، حقیقت میں اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ اے نبی! اُس نے تم پر یہ کتاب نازل کی جو حق لے کر آئی ہے اور اُن کتابوں کی تصدیق کررہی ہے جو پہلے سے آئی ہوئی تھیں۔ اس سے پہلے وہ انسانوں کی ہدایت کے لیے تورات اور انجیل نازل کرچکا ہے اور ا(ع)س نے وہ کسوٹی اتاری ہے ﴿جو حق اور باطل کا فرق دکھانے والی ہے﴾ اب جو لوگ اللہ کے فرامین کو قبول کرنے سے انکار کردیں اُن کو یقینا سخت سزا ملے گی۔ اللہ بے پناہ طاقت کا مالک ہے اور برائی کا بدلہ دینے والا ہے۔‘‘

کتابِ ہدایت ہونے کی بنا پر قرآن مجید کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ زندگی کے ہر موڑ پر حق کے متلاشیوں کو سلامتی کے راستے بتاتا ہے اور اللہ کی رضا کے طالبین کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے:

یَا أَہْلَ الْکِتَابِ قَدْ جَائَ کُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیْراً مِّمَّا کُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتَابِ وَیَعْفُوْ عَنْ کَثِیْرٍ قَدْ جَائَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَکِتَابٌ مُّبِیْنٌo یَہْدِیْ بِہٰ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہُ سُبُلَ السَّلاَمِ وَیُخْرِجُہُم مِّنِ الظُّلُمَاتِ اِلَی النُّورِ بِاِذْنِہٰ وَیَہْدِیْہِمْ اِلیٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍo﴿المائدۃ: ۱۵،۱۴﴾

’’اے اہلِ کتاب! ہمارا رسول تمہارے پاس آگیا ہے جو کتابِ الٰہی کی بہت سی اُن باتوں کو تمہارے سامنے کھول رہا ہے جن سے تم پردہ ڈالا کرتے تھے، اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی کرجاتا ہے، تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آگئی ہے اور ایک ایسی حق نما کتاب جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو، جو اُس کی رضا کے طالب ہیں، سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے اِذن سے اُن کو اندھیروں سے نکال کر اُجالے کی طرف لاتا ہے اور راہِ راست کی طرف اُن کی رہنمائی کرتا ہے۔‘‘

واضح کتاب:

فطری طور پر انسان یہ توقع کرتا ہے کہ اللہ کی جانب سے جو ہدایت آئے گی وہ واضح ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب — قرآن مجید — اس توقع پر پوری اترتی ہے:

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ أَنزَلَ عَلٰی عَبْدِہٰ الْکِتَابَ وَلَمْ یَجْعَل لَّہُ عِوَجَاo قَیِّماً لِّیُنْذِرَ بَأْساً شَدِیْداً مِنْ لَّدُنْہُ وَیُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَہُمْ أَجْراً حَسَناًo          ﴿الکہف: ۱-۲﴾

’’ تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر یہ کتاب نازل کی اور اُس میں کوئی ٹیڑھ نہ رکھی۔ ٹھیک ٹھیک سیدھی بات کہنے والی کتاب، تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کردے اور ایمان لاکر نیک عمل کرنے والوں کو خوش خبری دے دے کہ اُن کے اچھا اجر ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

طس تِلْکَ آیَاتُ الْقُرْآنِ وَکِتَابٍ مُّبِیْنٍo ہُدًی وَبُشْریٰ لِلْمُؤْمِنِیْنَo ﴿النمل: ۱،۲﴾

’’ط، س۔ یہ آیات ہیں قرآن اور کتابِ مبین کی ہدایت اور بشارت ایمان لانے والوں کے لیے۔‘‘

وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ہٰذَا الْقُرْآنِِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَo قُرآناً عَرَبِیّاً غَیْْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَo﴿الزمر:۲۷،۲۸﴾

’’ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح کی مثالیں دی ہیں کہ یہ ہوش میں آئیں۔ ایسا قرآن جو عربی زبان میں ہے، جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے تاکہ یہ برے انجام سے بچیں۔‘‘

حٰمٓ o تَنزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ o کِتَابٌ فُصِّلَتْ آیَاتُہُ قُرْآناً عَرَبِیّاً لِّقَوْمٍ یَعْلَمُوْنَo﴿حم السجدۃ: ۱- ۳﴾

’’حٰ م، یہ خدائے رحمان و رحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے، ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں، عربی زبان کا قرآن اُن لوگوں کے لیے ہے جو علم رکھتے ہیں۔‘‘

قرآن کے ’’بیّنات‘‘پر مشتمل ہونے میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جس طرح یہ کتاب اپنا مدّعا صاف صاف اور واضح طور پر بیان کرتی ہے اسی طرح اس کا برحق ہونا بھی بالکل واضح ہے۔

یَا أَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَائَ کُم بُرْہَانٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَأَنْزَلْنَا اِلَیْْکُمْ نُوْراً مُّبِیْناًo فَأَمَّا الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِاللّٰہِ وَاعْتَصَمُوْا بِہٰ فَسَیُدْخِلُہُمْ فِیْ رَحْمَۃٍ مِِّنْہُ وَفَضْلٍ وَیَہْدِیْہِمْ اَیْْہِ صِرَاطاً مُّسْتَقِیْماًo﴿النسائ: ۱۷۴،۱۷۵﴾

اے لوگو! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلیلِ روشن آگئی ہے اور ہم نے تمہاری طرف ایسی روشنی بھیج دی ہے جو تمہیں صاف صاف راستہ دکھانے والی ہے۔ اب جو لوگ اللہ کی بات مان لیں گے اور اُس کی پناہ ڈھونڈیں گے اُن کو اللہ اپنی رحمت اور فضل و کرم کے دامن میں لے لے گا اور اپنی طرف آنے کا سیدھا راستہ اُن کو دکھا دے گا۔‘‘

المر تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ وَالَّذِیَ أُنْزِلَ اِلَیْْکَ مِنْ رَّبِّکَ الْحَقُّ وَلٰ کِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یُؤْمِنُوْنَo  ﴿الرعد: ۱﴾

’’ا، ل، م، ر۔ یہ کتابِ الٰہی کی آیات ہیں۔ اور جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے، وہ عین حق ہے۔ مگر ﴿تمہاری قوم کے﴾ اکثر لوگ مان نہیں رہے ہیں۔‘‘

وَبِالْحَقِّ أَنْزَلْنَاہُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ وَمَا أَرْسَلْنَاکَ اِلاَّ مُبَشِّراً وَنَذِیْراًo   ﴿بنی اسرائیل: ۱۰۵﴾

’’اس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور حق ہی کے ساتھ یہ نازل ہوا ہے۔ اور اے نبی! تمہیں ہم نے اس کے سوا اور کسی کام کے لیے نہیں بھیجا کہ ﴿جو مان لے﴾ اُسے بشارت دے دو اور ﴿جو نہ مانے اُسے﴾ متنبہ کردو۔‘‘

قرآن مجید کسوٹی ہے:

بینات پر مشتمل کتابِ ہدایت ہونے کے علاوہ قرآن مجید کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ ’’فرقان‘‘ ہے یعنی یہ کتاب ایسی کسوٹی ہے جو حق اور باطل میں فرق کرتی ہے۔ انسان کو اپنی زندگی میں بہت سارے سوالات سے واسطہ پیش آتا ہے۔ یہ سوالات حیات و کائنات کی حقیقت کے متعلق بھی ہوتے ہیں اور انسانی زندگی کے اجتماعی معاملات سے متعلق بھی۔ بہت سے سوالات ایسے ہوتے ہیں جن کے ممکن جوابات کے بارے میں انسانی عقل حتمی فیصلہ کرنے سے قاصر رہتی ہے کہ کون سا جواب صحیح ہے اور کون سا غلط۔ قرآن مجید نے ایسے معاملات میں انسانی عقل کی رہنمائی کی ہے اور اس طرح کے سوالات کے سلسلے میں واضح فیصلہ کردیا ہے۔

قرآن مجید کا فرقان ہونا اس کی عظمت و برکت کا ایک بہت اہم پہلو ہے، اس کی چند مثالیں درجِ ذیل ہیں:

﴿الف﴾ دنیا میں یہ بحث ہوتی رہی ہے اور آج بھی ہورہی ہے کہ قتلِ عمد کے مجرم سے قصاص لیا جانا چاہیے یا نہیں ﴿یعنی اُسے موت کی سزا ملنی چاہیے یا نہیں۔﴾ دونوں ممکن جوابات کے قائلین اپنی رائے کے حق میں دلائل دیتے ہیں۔جن لوگوں کی ہمدردیاں فرد کے ساتھ ہیں، خواہ وہ کتنا ہی ظالم اور غلط کار کیوں نہ ہو، وہ قتل کے جرم میں موت کی سزا کو غلط قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ سزا دورِ وحشت کی یادگار ہے، البتہ جو لوگ سماج کے اور امن و امان کو اہمیت دیتے ہیں، وہ موت کی سزا کے حق میں ہیں۔ قرآن مجید نے اس نزاع کا فیصلہ کردیا ہے:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الْقِصَاصُ فِیْ الْقَتْلیٰ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنْثیٰ بِالأُنْثیٰ فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیْہِ شَیْْئٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَأَدَائٌ اِلَیْْہِ بِاْسَانٍ ذٰلِکَ تَخْفِیْفٌ مِِّنْ رَّبِّکُمْ وَرَحْمَۃٌ فَمَنِ اعْتَدیٰ بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَہُ عَذَابٌ أَلِیْمٌo وَلَکُمْ فِیْ الْقِصَاصِ حَیَاۃٌ یَاْ أُولِیْْ الأَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ o ﴿البقرۃ: ۱۷۸،۱۷۹﴾

’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، تمہارے لیے قتل کے مقدموں میں قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے۔ آزاد آدمی نے قتل کیا ہو تو اُس آزاد ہی سے بدلہ لیا جائے، غلام قاتل ہو تو وہ غلام ہی قتل کیا جائے اور عورت اس جرم کی مرتکب ہو تو اُس عورت ہی سے قصاص لیا جائے۔ ہاں اگر کسی قاتل کے ساتھ اُس کا بھائی کچھ نرمی کرنے کو تیار ہو تو معروف طریقے کے مطابق خوں بہا کا تصفیہ ہونا چاہیے اور قاتل کو لازم ہے کہ راستی کے ساتھ خوں بہا ادا کرے۔یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔ اُس پر بھی جو زیادتی کرے اُس کے لیے دردناک سزا ہے۔ عقل و خرد رکھنے والو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔ امید ہے تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کروگے۔‘‘

﴿ب﴾  ہمارے ملک میں آج کل یہ بحث جاری ہے کہ اگر ازدواجی زندگی ناقابلِ برداشت حد تک ناخوش گوار ہوجائے تو ایسی صورت میں عدالت طلاق کا فیصلہ کرسکتی ہے یا نہیں؟ اس سوال کے پیچھے دراصل ایک اور بنیادی سوال موجود ہے، اور وہ یہ ہے کہ طلاق کا اختیار کس کو ہے؟ کیا شوہر خود طلاق دے سکتا ہے یا صرف عدالت ہی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ طلاق کا فیصلہ کرسکے۔ ہمارے ملک میں صورتحال یہ ہے کہ تہذیبی گروہوں کے پرسنل لائ کے علاوہ ہمارے ملک کا عام قانون شوہر کو طلاق کا اختیار نہیں دیتا بلکہ صرف عدالت کو یہ اختیار دیتا ہے۔ اس کی وجہ سے جو پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں اور فریقین کو جس طرح برسوں عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں، اُس کا احساس اب عام ہوچلا ہے، چنانچہ عدالتیں طلاق کو ’’آسان‘‘ بنانے کے بارے میں سوچ رہی ہیں مگر اب تک کسی اطمینان بخش نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہیں۔

قرآن نے اس سوال کا تشفی بخش جواب دیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اگر طلاق کے علاوہ کوئی اور چارہ نظر نہ آئے تو شوہر طلاق دے سکتا ہے اور عورت طلاق حاصل کرسکتی ہے۔ ﴿اس دوسری صورت کو خلع کہا جاتا ہے﴾

وَالْمُطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِہِنَّ ثَلاَثَۃَ قُرُوَئٍ وَلاَ یَحِلُّ لَہُنَّ أَنْ یَکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْ أَرْحَامِہِنَّ اِنْ کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَبُعُوْلَتُہُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیْ ذٰلِکَ اِنْ أَرَادُوْا اِصْلاَحاً وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْْہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْْہِنَّ دَرَجَۃٌ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکُیْمٌo الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَاِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانٍ وَلاَ یَحِلُّ لَکُمْ أَن تَأْخُذُوْا مِمَّا آتَیْْتُمُوْہُنَّ شَیْْئاً اِلاَّ أَنْ یَخَافَا أَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَانْ خِفْتُمْ أَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْْہِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٰ تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلاَ تَعْتَدُوْہَا وَمَنْ یَتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ فَأُوْلٰ ئِکَ ہُمُ الظَّالِمُوْنَ o﴿البقرۃ ۲۲۸، ۲۲۹﴾

’’جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، وہ تین مرتبہ ایام ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں، اور اُن کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ نے اُن کے رحم میں جو کچھ خلق فرمایا ہو،اُسے چھپائیں۔ انہیں ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے اگر وہ اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتی ہیں۔ اُن کے شوہر تعلقات درست کرلینے پر آمادہ ہوں تو وہ اس عدت کے دوران میں انھیں پھر اپنی زوجیت میں واپس لے لینے کے حق دار ہیں، عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے مردوں کے حقوق اُن پر ہیں۔ البتہ مردوں کو اُن پر ایک درجہ حاصل ہے۔ اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا موجود ہے۔

طلاق دو بار ہے۔ پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا پھر بھلے طریقے سے اُس کو رخصت کردیا جائے۔ اور رخصت کرتے ہوئے ایسا کرنا تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو، اُس میں سے کچھ واپس لے لو۔ البتہ یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ زوجین کو اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو۔ ایسی صورت میں اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدودِ الٰہی پر قائم نہ رہیں گے تو اُن دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہوجانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرلے۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں۔ ان سے تجاورز نہ کرو اور جو لوگ حدودِ الٰہی سے تجاوز کریں وہی ظالم ہیں۔‘‘

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’﴿شوہر کے ذریعے خود دی گئی طلاق کے علاوہ، علیحدگی کی اس دوسری شکل کو﴾ شریعت کی اصطلاح میں ’’خلع‘‘ کہتے ہیں۔ یعنی ایک عورت کا اپنے شوہر کو کچھ دے دلا کر اس سے طلاق حاصل کرنا۔ اس صورت میں مرد کے لیے جائز ہوگا کہ اپنا دیا ہوا مال یا اُس کا کوئی حصہ، جس پر بھی باہم اتفاق ہوا ہو، عورت سے واپس لے لے۔ البتہ اگر مرد نے خود ہی عورت کو طلاق دی ہو تو وہ اس سے اپنا دیا ہوا کوئی مال واپس نہیں لے سکتا۔‘‘   ﴿ترجمانی قرآن مجید﴾

﴿ج﴾   ہمارے ملک میں آج کل اس سلسلے میں بھی بحث جاری ہے کہ کن رشتہ داروں کے مابین باہم نکاح ہوسکتا ہے اور کن میں نہیں۔ ہریانہ اور یوپی وغیرہ میں رائج قدیم تصورات کے معتقد بہت سے لوگ ایک ہی برادری یا برادری کے ذیلی حصّے ﴿گوتر﴾ کے اندر شادی کو غلط قرار دیتے ہیں جبکہ جدید خیالات کے حامل لوگوں کے نزدیک اس طرح کی شادی درست ہے۔ اس سلسلے میں قرآن مجید نے واضح فیصلہ دیا ہے کہ کن عورتوں سے نکاح کیا جاسکتا ہے اور کن سے نہیں:

حُرِّمَتْ عَلَیْْکُمْ أُمَّہَاتُکُمْ وَبَنَاتُکُمْ وَأَخَوَاتُکُمْ وَعَمَّاتُکُمْ وَخَالاَتُکُمْ وَبَنَاتُ الأَخِِ وَبَنَاتُ الأُخْتِ وَأُمَّہَاتُکُمُ اللاَّتِیْ أَرْضَعْنَکُمْ وَأَخَوَاتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ وَأُمَّہَاتُ نِسَآئِکُمْ وَرَبَائِبُکُمُ اللاَّتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُم مِّنْ نِّسَآئِکُمُ اللاَّتِیْ دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْْکُمْ وَحَلاَئِلُ أَبْنَائِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ أَصْلاَبِکُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوْا بَیْْنَ الأُخْتَیْْنِ اَلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْراً رَّحِیْماً o﴿النسائ: ۳۲﴾

’’تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنھوں نے تم کو دودھ پلایا ہو، اور تمہاری دودھ شریک بہنیں، اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں، جنھوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہے۔ اُن بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلق زن و شو ہوچکا ہو۔ ورنہ اگر ﴿صرف نکاح ہوا ہو اور﴾ تعلقِ زن و شو نہ ہوا ہو تو ﴿انھیں چھوڑ کر اُن کی لڑکیوں سے نکاح کرلینے میں﴾ تم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ اور تمہارے اُن بیٹوں کی بیویاں جو تمہارے صُلب سے ہوں اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرو۔ مگر جو پہلے ہوگیا سو ہوگیا۔ اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘

یہ محض چند مثالیں تھیں۔اگر آج کی دنیا قرآن مجید کو نزاعی معاملات میں ’’فرقان‘‘ تسلیم کرلے تو بہت سے پریشان کن سوالات سے چھٹکارا پاسکتی ہے۔

نعمتِ قرآن کی قدردانی:

قرآن کے نعمت ہونے کے بنیادی پہلو یہ ہیں کہ وہ کتابِ ہدایت ہے، بینات ﴿یعنی واضح تعلیمات﴾ پر مشتمل ہے اور حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی کسوٹی ہے۔ اس نعمت کی قدردانی کے اظہار کے لیے ہدایت دی گئی ہے کہ رمضان کے روزے رکھو اور اللہ کی بڑائی بیان کرو۔ نبی کریم ﷺ نے اِس کے لیے جو کلمات سکھائے وہ یہ ہیں:

اللّٰہ اکبر۔ اللّٰہ اکبر۔ لا الٰ ہ الاَّ اللّٰہ۔ واللّٰہ اکبر۔ اللّٰہ اکبر۔ وللّٰہِ الحمد۔

ربِ حقیقی کی بڑائی بیان کرنے کا حکم صرف رمضان المبارک کے سیاق میں نہیں ہے، بلکہ نبی ﷺ کو دعوت الی اللہ کے فریضے کی ادائیگی کے لیے جو ابتدائی ہدایات دی گئی تھیں اُن میں بھی یہ حکم شامل تھا:

یَا أَیُّہَا الْمُدَّثِّرُo قُمْ فَأَنذِرْo وَرَبَّکَ فَکَبِّرْo ﴿المدثر:۱-۳﴾

’’اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے، اٹھو اور خبردار کرو۔ اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو۔‘‘

اگست 2010

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau