اشارات

ڈاکٹر محمد رفعت

ہم تاریخ کے جس مرحلے میں ہیں اس میں ‘تحریکِ اسلامی’ سے مراد وہ کوشش ہے جو اُمتِ مسلمہ کو اُس کے حقیقی منصب پر فائز کرنے کے لیے کی جائے۔ امت کا حقیقی منصب ’’شہدائ علی الناس‘‘ ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں اس کی ضرورت رہتی ہے کہ اُمت کو اس کا منصب یاد دلایا جائے اور اپنے منصبی تقاضوں کے پورا کرنے کے لیے اُس کی تربیت کی جائے۔ یہی کوشش ‘تحریکِ اسلامی’ ہے۔

قرآنی تعبیر

قرآنِ مجید میں اُمت کے اندر ایک ایسے گروہ کا تذکرہ کیا گیا ہے جو اُمت کو راہِ راست پر قائم رکھنے کی مسلسل کوشش کرتا ہے:

وَلْتَکُن مِّنکُمْ أُمَّۃٌ یَّدْعُونَ اِلی الْخَیْْرِ وَیَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَأُوْلٰ ئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ۔ ﴿آل عمران: ۱۰۴﴾

’’اور ایسا ہونا چاہیے کہ رہے تم میں ایک ایسی جماعت جو نیکی کی طرف بلائے، معروف کا حکم دے اور منکر سے روکے۔ اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘

اِس آیت کے مخاطب سارے اہلِ ایمان ہیں۔ اُن کے اجتماعی شعور سے یہ توقع کی گئی ہے کہ اُن میں ایک ایسا گروہ ضرور موجود رہے گا جو اُمت کو راہِ راست پر قائم رکھے۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اُمت کے اجتماعی شعور نے یہ توقع ہمیشہ پوری کی ہے اور تاریخ کے ہر دور میں اُمت کے اندر ایسی کوششیں ہوتی رہی ہیں، جن کا مطمحِ نظر اُمت کو دین پر قائم رکھنا رہا ہے۔ ایسی کوششوں کو ہم ‘تحریکِ اسلامی’ کہتے ہیں۔ تحریک اسلامی کے تین کام جو اِس آیت میں بتائے گئے ہیں، وہ دعوت الی الخیر، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان عظیم الشان امور کی انجام دہی کا کام ایسے ہی لوگ کرسکتے ہیں، جو اعلیٰ ایمانی و اخلاقی اوصاف کے حامل ہوں۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں ‘تحریکِ اسلامی’ کی درجِ ذیل تعبیر سامنے آتی ہے :

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُونَ کِتَابَ اللّٰہِ وَأَقَامُوْا الصَّلَاۃَ وَأَنفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنَاہُمْ سِرّاً وَعَلَانِیَۃً یَرْجُونَ تِجَارَۃً لَّن تَبُورَo لِیُوَفِّیَہُمْ أُجُورَہُمْ وَیَزِیْدَہُم مِّن فَضْلِہِ اِنَّہُ غَفُورٌ شَکُورٌ o وَالَّذِیْ أَوْحَیْْنَا اِلَیْْکَ مِنَ الْکِتَابِ ہُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقاً لِّمَا بَیْْنَ یَدَیْْہِ اِنَّ اللّٰہَ بِعِبَادِہٰ لَخَبِیْرٌ بَصِیْرٌ o ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہِ وَمِنْہُم مُّقْتَصِدٌ وَمِنْہُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْْرَاتِ بِاِذْنِ اللّٰہِ ذٰلِکَ ہُوَ الْفَضْلُ الْکَبِیْرُo ﴿الفاطر: ۲۹تا۳۲﴾

’’جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے اُن کو دیا ہے، اُس میں سے کھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں وہ ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میںخسارہ نہ ہوگا۔ تاکہ اللہ اُن کو پورا اجر دے اور مزید اپنے فضل سے نوازے۔ بے شک وہ بخشنے والا اور قدر داں ہے۔ ہم نے جو کتاب تم پر اتاری ہے وہ سراسر حق ہے اور پچھلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ بے شک اللہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور انہیں دیکھ رہاہے۔ پھر ہم نے اپنے بندوں میں سے کچھ کو منتخب کرکے کتاب کا وارث بنادیا۔ اُن میں کوئی تو ایسا ہے جو اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے۔ کسی کا رویہ بیچ والا ہے اور کوئی نیکیوں میں سبقت لے جانے والا ہے، اللہ کے اِذن سے۔ یہی بڑا فضل ہے۔‘‘

مندرجہ بالاآیات میں اُمتِ کے جن لوگوں کو ’’سابق بالخیرات‘‘ کہا گیا ہے، وہی اس کے اہل ہیں کہ ’’تحریکِ اسلامی‘‘ کہلائیں۔ وہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے کام انجام دینے کی صلاحیت رکھنے والے لوگ ہیں۔

تحریکِ اسلامی اور امتِ مسلمہ کا تعلق

مندرجہ بالا تعبیر سے تحریک اور امت کا تعلق بھی سامنے آجاتا ہے۔ جو لوگ ’’سابق بالخیرات‘‘ ہیں وہ آگے بڑھتے ہیں اور نیکیوں کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ وہ بقیہ امت کے لیے مثال اور نمونہ بن جاتے ہیں اور اُن کی کیفیت ’’ہراول دستے‘‘ جیسی ہوتی ہے۔ باقی امت اُن کا ساتھ دیتی ہے یا کم از کم اُس کے ایمانی شعور کا تقاضا یہی ہے کہ اُن کا ساتھ دے۔ اگر ’’تحریک اسلامی‘‘ فی الواقع تحریکِ اسلامی ہے تو اُمت کے صالح افراد، خواہ تیز رو ہوں یا سُست رو، اس کے ساتھ آئیں گے اور اُس کی تائید کریں گے۔ اُس کی مخالفت کرنے والے وہی ہوں گے، جو نفاق کے شکار ہوگئے ہیں یا مفاد پرستی نے اُن کو حق سے بے گانہ کردیا ہے۔ تحریکِ اسلامی اور امتِ مسلمہ کے اِس تعلق کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ امتِ مسلمہ کی صالح لیڈرشپ کا نام ’’تحریکِ اسلامی‘‘ ہے۔ یہ لیڈر شپ راستہ سجھاتی ہے، راستے نکالتی ہے ، رہنمائی کرتی ہے، راہیں ہموار کرتی ہے اور ہر قدم پر یہ واضح کرتی ہے کہ نِت نئے حالات کے اندر معروف کیا ہے اور منکر کیا اور پوری امت کو اپنے منصب پر فائز کرنے اور راہِ راست پر قائم رکھنے کی پوری کوشش کرتی ہے۔ اس طرح ’’تحریکِ اسلامی‘‘ کا مقام امت کے قائد یا رہنما گروہ کا قرار پاتا ہے۔

تحریکِ اسلامی کے امتیازات:

امتِ مسلمہ کے قائد یا رہنما کا رول ادا کرنے والی اس تحریک کی پانچ اہم امتیازی خصوصیات ہیں، جن کو ان عنوانات کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے:

مستند ماخذ پر اصرار (Authenticity)

اخلاص و للہیت (Sincerity)

صبر و استقامت (Perseverance)

ایثار و قربانی (Sacrifice)

عصری آگہی (Relevance)

مستند ماخذ پر اصرار

تحریکِ اسلامی کی یہ بنیادی خصوصیت ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کو دین کے مستند ماخذ ’’قرآن و سنت‘‘ کی طرف شعوری رجوع کے لیے آمادہ کرتی ہے۔ اصولی طور پر اِس معاملے میں اُمت کے اندر دو رائیں نہیں ہیں کہ قرآن و سنت ہی دین کے مستندماخذ ہیں، لیکن اِس اصولی موقف کے عملی انطباق میں کوتاہی ہوسکتی ہے اور ہوتی رہتی ہے۔ اس لیے مستند ماخذ پر اصرار کے مندرجہ بالا اصول کے جو تقاضے ’’تحریکِ اسلامی‘‘ نے سمجھے ہیںاُن تقاضوں کی نشاندہی بھی ضروری ہے:

  1. امت کو رہنمائی کے لیے استفادہ صرف قرآن و سنت سے کرنا چاہیے اور باطل فلسفوں اور نظریات کی طرف، بغرضِ استفادہ، نگاہ نہیں ڈالنی چاہیے۔ اس معاملے میں امت کا دانشور طبقہ، اس وقت بڑی بے راہ روی کا شکار ہے۔ اس صورت حال کی اصلاح ضروری ہے۔
  2. قرآن و سنت سے درست استفادے کی صلاحیت امت کے اہلِ علم طبقے کو اپنے اندر پروان چڑھانی چاہیے اور استفادے کی ضروری شرائط پوری کی جانی چاہئیں۔ اس وقت یہ صلاحیت دانشور کہلائے جانے والے طبقے میں بہت کم ہے اور روایتی علمائ کے گروہ میں معیارِ مطلوب کے مطابق نہیں ہے۔
  3. امت کے ماضی کا اور ماضی کی تمام علمی آرائ کا تنقیدی جائزہ لیا جانا چاہیے اور اس میں پوری احتیاط کے ساتھ ترک و اخذ کا کام کرنا چاہیے۔ مسلمانوں کا پورا ماضی جوں کا توں قابلِ قبول نہیں ہے۔اس سلسلے میں فقہ، تصوف اور علم الکلام سب پر تنقیدی غوروفکر کی ضرورت ہے۔
  4. دین کے مستند ماخذ – قرآن وسنت- سے استفادے کے سلسلے میں امت کے اہلِ علم طبقے کے درمیان بامعنی گفتگو، مکالمہ اور مذاکرے کا سلسلہ شروع ہونا چاہیے تاکہ جن رویوں کو ’’مکاتبِ فکر‘‘ کہا جاتا ہے اُن کی بے لچک ﴿RIGID﴾ دیواریں ٹوٹیں اور باہم تبادلہ خیال کے بعد امت- ’’اجماع’’﴿Consensus﴾ کی طرف قدم بڑھاسکے۔ مطلوب یہ ہے کہ افرادِ امت اپنے آپ کو ’’مکاتبِ فکر‘‘ سے منسوب کرنے کے بجائے صرف اسلام سے منسوب کریں۔ نتیجہ خیز تبادلہ خیال کے بعد ہی یہ فضا پیدا ہوسکتی ہے۔

اخلاص و للہیت

یہ تحریک اسلامی کی دوسری خصوصیت ہے۔ اسے جو ’’مزاج‘‘ – افرادِ تحریک اور امتِ مسلمہ کے اندر پیدا کرنا ہے، وہ اخلاص کا مزاج ہے یعنی تمام نیک کام صرف اللہ کی رضا کے لیے انجام دیے جائیں اور کسی کام کے کرنے یا اُس سے باز رہنے کا محرک صرف اللہ کی رضا جوئی کا جذبہ اور اس کی باز پرس سے بچنے کا داعیہ ہو۔ اخلاص و للہیت کا یہ اہتمام ذاتی مفاد سے افراد کو بے نیاز کردیتا ہے اور اس بے نیازی کا حصول زیادہ دشوار نہیں ہے ، لیکن اخلاص و للہیت کے منافی بعض دوسرے جذبات بھی ہیں اور اُن پر قابو پانے کے لیے زیادہ چوکنا رہنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اُن میں ایک نا مطلوب جذبہ ’’تنظیم‘‘ کے لیے کام کرنے کا ہے۔ آدمی بسا اوقات اپنے لیے تو کچھ نہیں چاہتا نہ نام و نمود نہ دولت اور وسائل اور نہ جاہ و اقتدار مگر اپنی ’’تنظیم‘‘ کے لیے یہ سب کچھ چاہتا ہے اور ان ’’مطلوب‘‘ چیزوں کے حصول کے لیے اصولوں کی قربانی میں بھی کوئی حرج نہیں سمجھتا۔ ’’تحریکِ اسلامی‘‘ کا مطلوبہ مزاج یہ چاہتا ہے کہ ذاتی مفاد کی طرح انسان اِس‘ تنظیمی مفاد’سے بھی بے نیاز ہوجائے اورصِرف اللہ کے لیے کام کرے۔ اخلاص و للہیت کی صفت تمام افراد میں مطلوب ہے اورجن کے کاندھوں پر رہنمائی کا جتنا زیادہ بار ہے ان کے اندر یہ صفت اتنی ہی زیادہ مطلوب ہے۔

صبر و استقامت

تحریک اسلامی کے سیاق میں صبر و استقامت کے وصف کے معنیٰ یہ ہیں کہ ’’درست موقف‘‘ پر قائم رہا جائے اور اس سے انحراف نہ کیا جائے۔ اس معاملے میں دو رویّوں کے درمیان باریک فرق کرنا ہوتا ہے اور اکثر یہ کام دشوار ثابت ہوتا ہے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم ایک موقف اختیار کرتے ہیں اور بعد کے کسی مرحلے میں مزید غوروفکر کے بعد سمجھ میں آتا ہے کہ اس موقف میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ اس شعور کے بعد بھی اسی سابقہ موقف پرجمے رہنا اور اس میں ضروری اصلاح نہ کرنا ایک غلط رویہ ہے۔ اس کو جمود یا Rigidityکہا جاسکتا ہے۔ یہ صبر و استقامت نہیں ہے۔ لیکن بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے سابقہ موقف پر ’’جمے رہنا‘‘ حالات کے ناموافق ہونے کی بنا پر دشوار محسوس ہونے لگتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اِس موقف پر قائم رہیں گے تو مخالفتوں سے سابقہ پیش آئے گا، آزمائشیں آئیں گی اور پریشانیوں سے دوچار ہونا پڑے گا اس لیے اس موقف میں کچھ ’’لچک‘‘ پیدا کرلینی چاہیے۔ یہ خیال محض ذاتی آزمائشوں کی بنا پر نہیں آتا بلکہ یہ خیال ہوتا ہے کہ امت یا تنظیم دشواریوں میں پڑجائے گی۔ اس طرح کے خیالات کی بنا پر درست موقف کو بدلنا صبرو استقامت کے خلاف ہے۔ بہت باریک بینی کے ساتھ اس امر کا جائزہ لے کر تحریک کو چاہیے کہ ہر طرح کی دشواریوں کے باوجود حق پر اور اس کے تقاضوں پر قائم رہے۔

ایثار و قربانی

’’سابق بالخیرات‘‘ ہونے کے معنیٰ یہ ہیں کہ نیکیوں میں سبقت کی جائے، سرگرمی دکھائی جائے، اوقات، صلاحیتوں اور وسائل کو اللہ کی راہ میں استعمال کیا جائے اور چستی و مستعدی سے کام کیا جائے۔ یہ سارے اوصاف ایثار و قربانی کا تقاضا کرتے ہیں۔ صبر و استقامت کے وصف سے ’’ایثار‘‘ کے وصف کا گہرا تعلق ہے۔ جب افراد اور اجتماعیتیں حق پر قائم رہتی ہیں تو اُن پر آزمائشیں بھی آتی ہیں۔ تحریکِ اسلامی کا مزاج یہ ہے کہ آزمائشوں کو دعوت نہ دی جائے، حکمت اور دانش مندی کے ساتھ کام کیا جائے اور راہیں نکالی جائیں لیکن اسی مزاج کا تقاضا یہ بھی ہے کہ آزمائش آجائے تو استقامت کا مظاہر کیا جائے اور حق پر جم جایا جائے۔ ایثار وقربانی کی ضرورت ہر مرحلے میں ہے، لیکن خاص طور پر آزمائش کے دور میں ایثار و قربانی ناگزیر ہے۔ اس کے چند تقاضے ہیں:

  1. ہنگامی اور نازک حالات میں بھی تحریک کو جاری رکھا جائے۔ اس کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کی جائے اور وسائل فراہم کیے جائیں۔
  2. جو افرادِ تحریک اور افرادِ امت راہِ حق میں آزمائشوں سے دوچار ہورہے ہوں، اُن کی ہمت بندھائی جائے، اُن کا ساتھ دیا جائے اور اُن کی ہر ممکن مدد کی جائے۔
  3. تحریک اور اُمت کا اجتماعی ماحول ایسا بنایا جائے جہاں افراد ایک دوسرے کے بہی خواہ، ہمدرد اور پشت پناہ ہوں۔
  4. اس پہلو سے تحریک اور امت کی اس وقت کی صورتِ حال تشویشناک ہے۔ ہمارا طرزِ عمل برادرانہ ہونے کے بجائے بسا اوقات دفتری اور رسمی تعلق کا ہوتا ہے۔ اس کی اصلاح کی شدید ضرورت ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ایثار و قربانی دعوت و اصلاح کے میدان میں بھی ضروری ہے اور راہِ حق کے رفقائ کی خبر گیری کے لیے بھی ضروری ہے۔ ان دونوں پہلوؤں پر توجہ کی جانی چاہیے۔

عصری آگہی:

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام یہ چاہتا ہے کہ ’’معروف کیا ہے اور منکر کیا‘‘ اصولاً اس کی صحیح معرفت ہمیں حاصل ہو۔ دوسری طرف یہ کام یہ بھی چاہتا ہے کہ بدلتے ہوئے حالات میں ان اصطلاحات کا اطلاق کن امور پر ہوتا ہے، اس کا بھی صحیح شعور ہو۔ اس دوسرے پہلو کو ’’عصری آگہی‘‘ کہا جاسکتا ہے۔ اس آگہی کی موجودگی تحریک کو بامعنی بناتی ہے اور نتیجتاً تحریک انسانوں کے لیے مفید ہوتی ہے۔ ورنہ اس کے بے معنی ﴿Irrelevant﴾ ہوجانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام محض سادہ طور پر تلقین کا کام نہیں ہے، بلکہ یہ کام ’’اجتہاد‘‘ چاہتا ہے۔ مثال کے طور پر آج کی دنیا کے سامنے یہ سوال ہے کہ ’’بایو ٹیکنالوجی‘‘ کے میدان میں وہ اخلاقی اصول کیا ہیں، جن کی پابندی اہلِ تحقیق کو کرنی چاہیے۔ اجتہاد کے بغیر مسلمان اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے۔ البتہ اگر مسلمان اہلِ علم محنت کرکے اس سوال کا جواب دریافت کریں تو وہ انسانیت کی بڑی خدمت کریں گے اور یہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کے انجام دہی ہوگی۔

عملی سوالات

تحریکِ اسلامی کے اس اصولی تعارف کے بعد بعض عملی سوالات سامنے آتے ہیں:

  • تحریک اسلامی کی امتیازی خصوصیات کیسے قائم رکھی جائیں؟
  • امت کے اند ہورہے دوسرے کاموں سے تحریک کا کیا تعلق ہونا چاہیے؟
  • تحریکِ اسلامی کی ترجیحات کیا ہوں؟

امتیازی خصوصیات کا بقا

تحریک اسلامی کی امتیازی خصوصیات برقرار رکھنے کی تدابیر بنیادی طور پر تین ہیں:

1)  افرادِ تحریک انفرادی اور اجتماعی طور پر قرآن مجید سے زندہ تعلق قائم کریں۔ تحریکاتِ اسلامی کے قدیم اور جدید لٹریچر کا قرآنِ مجید کی روشنی میں مطالعہ کریں ، اِس لٹریچر کا تنقیدی جائزہ لیں اور صحت مند علمی تبادلہ خیال کا ماحول پیدا کریں۔ اس ضمن میں یہ ضروری ہے کہ ایسے اجتماعی پروگراموں کا اہتمام کیا جائے جہاں قرآنِ مجید کا اجتماعی مطالعہ ہو اور امور و مسائل پر قرآن کی روشنی میں غوروفکر کیا جائے۔

2) دوسری ضروری تدبیر ’’رفاقت‘‘ ہے۔ صالح صحبت کا اہتمام کیا جائے اور تحریک کے اجتماعی ماحول میں ایسی خرابیوں کا وجود گوارا نہ کیا جائے جو اسلامی کردار کے منافی ہیں، مثلاً غیبت، سوئے ظن، تکبّر وغیرہ۔

3) تیسری ضروری تدبیر احتساب ہے جو ہر سطح پر ہونا چاہیے۔ احتساب کے بعد جو انفرادی و اجتماعی خرابیاں سامنے آئیں اُن کے سلسلے میں کوئی نرمی نہیں برتی جانی چاہیے۔

اس وقت احتساب کا نظام بہت توجہ کا طالب ہے۔ ضروری ہے کہ اس کو فعال، کارگر اور چست بنایا جائے۔ اس کے لیے رسمی اور غیر رسمی دونوں طریقے اختیار کیے جائیں۔

امت کی اصلاحی کوششیں اور تحریکِ اسلامی

امت کے اندر جو اصلاحی کام ہورہے ہیں، اصولاً ان کا اور تحریک اسلامی کا تعلق ’’تعاون‘‘ کا ہے۔ اس لیے کہ جو لوگ ’’سابقون بالخیرات‘‘ ہوں اُن کو تمام نیک کاموںمیں تعاون کرنا چاہیے۔ البتہ بعض عارضی وجوہ کی بنا پر تعاون کے بجائے ’’ٹکراؤ‘‘ کی فضا وجود میں آسکتی ہے۔ یہ وجوہ دو ہوسکتی ہیں:

  • نقطہ نظر کا اختلاف
  • تنظیمیت

مذکورہ بالا دونوں وجوہات پر قابو پانا ضروری ہے۔ اگر دو دینی تنظیموں کا کسی معاملے میں نقطۂ نظر مختلف ہے تو انہیں اپنا نقطۂ نظر دلائل کے ساتھ بیان کرنا چاہیے لیکن اس کے باوجود اگر اختلاف دور نہ ہو تو اُس اختلاف کو گوارا کرتے ہوئے انہیں باہم تعاون کرنا چاہے۔ سب سے پہلے تحریکِ اسلامی کو آگے بڑھ کر یہ رویہ اپنانا چاہیے۔ رہی ’’تنظیمیت‘‘ یعنی ‘‘تنظیم کے لیے کام کرنا‘’ ﴿نہ کہ رضائے الٰہی کے لیے﴾ تو یہ ایک نامطلوب وصف ہے اور تمام دینی تنظیموں کو چاہیے کہ اس پر قابو پائیں۔

امت کے ادارے

اُمت کی عمومی مصلحت کا تقاضا ہے کہ امت میں جو ادارے تعلیمی یا رفاہی خدمات انجام دے رہے ہوں وہ کسی تنظیم کے تحت نہ ہوں بلکہ رسماً بھی آزاد ہوں اور عملاً بھی۔ اس طرح وہ ادارے بہتر خدمت انجام دے سکیں گے۔ اُن کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا اور اُمت کے اندر تعاونِ باہمی کا جو ماحول مطلوب ہے وہ ماحول پروان چڑھے گا۔

ترجیحات

تحریکِ اسلامی کا میدانِ کار پوری امت اور پوری انسانیت ہے۔ اگر یہ تحریک ہر قسم کے کاموں کو عملاً اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے تو اس کی قوتیں اس کے لیے کفایت نہیں کریں گی اوراس کی کارکردگی متاثر ہوگی۔ اس لیے تحریکِ اسلامی کے لیے ضروری ہے کہ اپنی ترجیحات طے کرے۔ اس سلسلے میں اصولی بات یہ ہے کہ امت انسانیت کی رہنما ہے اور تحریکِ اسلامی امت کی رہنما ہے۔ اِس لیے تحریک کی توجہ کا اولین مرکز اُس کا ’’رہنمایانہ رول‘‘ ہونا چاہیے۔ تحریکِ اسلامی کو کوشش یہ کرنی چاہیے کہ امتِ مسلمہ کو دین کے ضروری امور کی انجام دہی کے لیے آمادہ کیا جائے بجائے اس کے کہ تحریک خود سارے کام کرنے کی کوشش کرے۔ تحریک کو جو کام خود کرنے چاہئیں وہ درجِ ذیل ہیں:

  • بدلتے ہوئے حالات میں امت کی صحیح رہنمائی کرنا جو امت کے منصب کے شایانِ شان ہو۔
  • امت کی اجتماعی سرگرمیوں اور اداروں کے لیے اسلامی بنیادوں پردرست ’’خطوطِ کار‘‘ تجویز کرنا اور امت میں ان کی ترویج کی کوشش کرنا۔
  • امت کے مسائل سے نبٹنے کے لیے جن نئے کاموں اور جن نئے اداروں کی ضرورت ہو ان کے آغاز کی تحریک کرنا۔
  • غیر مسلم حکومتوں اور اداروں سے صحیح تعلق کے سلسلے میں امت کی رہنمائی کرنا۔
  • امت کی دعوتی کاوشوں کو مربوط کرنا اور صحیح رخ دینا۔
  • انسانی دنیا کی تبدیلیوں کا جائزہ لے کر معروف و منکر کا تعین کرنا اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا۔

بقیہ تمام تعلیمی و رفاہی کاموں کو امت کے سپرد کرنا چاہیے۔ ان کاموں کے لیے ضروری ادارے قائم کرنے کی طرف متوجہ کرنا چاہیے اور تحریک کو کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی توانائیاں براہِ راست ان کاموں میں نہ لگائے بلکہ رہنمائی اور ترغیب پر اکتفا کرے۔ تحریک کی براہِ راست توجہ کا مرکز صرف وہ امور ہونے چاہئیں جو تحریک کے رہنمایانہ رول کا تقاضا ہیں۔

جنوری 2010

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau