ہم اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات سمجھتے ہیں جس میں سیاست، معاشرت، معیشت، اخلاق و معاملات اور بین الاقوامی تعلقات غرض جملہ شعبہ ہائے زندگی کے بارے میں واضح ہدایات دی گئی ہیں اور بحیثیت مسلمان ہمارے لیے ان ہدایات کی اتباع ضروری ہے۔
البتہ میں یہاں یہ وضاحت کردینا چاہتا ہوں کہ دین کو کلّی طورسے اختیار کرنے کا مطلب ہمارے نزدیک بھی یہ نہیں ہے کہ اس میں مجبوریوں کا کوئی اعتبار ہی نہیں ہے۔ ہم بھی ”لَا یكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا“ کے قائل ہیں اور اسی بنا پر شخصی اور جماعتی بہت سی مجبوریوں کے تحت ہمارے نزدیک بھی احکامِ دین کے بہت سے اجزا ہمارے لیے قابلِ عمل نہیں ہیں۔ لیکن ہمیں اختلاف دو باتوں سے ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اضطراری حالت کو واقعی حالت سمجھ لیا جائے اور اضطرار کو رفع کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور دوسری بات یہ ہے کہ اضطرار سے یہ غلط فائدہ اٹھایا جائے کہ اس کی وجہ سے ہم خود دین میں تحریف کے مرتکب بنیں۔ یعنی کسی مجبوری کے تحت اگر کسی حکمِ شریعت کے ہم عملًا مکلف نہ رہیں تو اس کی بنا پر ہم اسے جائز سمجھ لیں کہ ہم احکامِ شریعت کو توڑ مروڑ کر اس شکل میں پیش کریں کہ گویا وہ اصلًا ایسے ہی ہیں۔ جان بوجھ کر دین کو غلط شکل میں پیش کرنا صرف خلق کو دھوکا دینا ہی نہیں ہے بلکہ یہ تحریف ہے جو شریعت میں بدترین معصیت ہے اور یہ یاد رکھیے کہ تحریف صرف اظہار و بیان کےا لٹ پھیر ہی کا نام نہیں ہے بلکہ تحریف کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ ہم اپنے عمل سے دین کے مفہوم کو بدل دیں۔ اور یہ تحریف ان لوگوں کے حق میں بہت ہی سخت اور گھناؤنی ہے جن کے عمل کو لوگ اپنے لیے اسوہ بناتے ہوں۔ اس لیے ان کی ذمہ داریاں اس معاملہ میں سب سے زیادہ اور سخت ہیں۔ (جماعت اسلامی کا مقصد اور طریقہ کار، ص ۲۶ اور ۲۷)







