آٹھویں بیماری یاس و قنوطیت (مایوسی اور نا امیدی)
مایوسی اور نا امیدی دل کی بڑی بیماریوں میں سے ایک ہے۔ یہ دل کی وہ کیفیت ہے جب آدمی امید چھوڑ بیٹھتا ہے اور یاس و قنوطیت کی تاریکی میں چلا جاتا ہے۔ بسا اوقات وہ ڈپریشن میں چلا جاتا ہے اور اس کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ یہ بیماری دل میں ایمان کی کم زوری اور اللہ رب العزت پر توکل کی کمی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ بندۂ مومن کبھی بھی مایوس نہیں ہوتا۔ پریشانی آتی ہے، حادثات پیش آتے ہیں، کبھی وہ غمگین بھی ہوتا ہے، اس لیے کہ غمگین ہونا بشری تقاضا ہے۔ لیکن وہ کبھی قنوطیت کا شکار نہیں ہوتا۔ وہ بخوبی جانتا ہے کہ حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، رب ذوالجلال کی ہستی اس کے لیے کافی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
قَالُوا بَشَّرْنَاكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُن مِّنَ الْقَانِطِینَ قَالَ وَمَن یقْنَطُ مِن رَّحْمَةِ رَبِّهِ إِلَّا الضَّالُّونَ (الحجر 55۔56)
’’انھوں نے جواب دیا:ہم تمھیں برحق بشارت دے رہے ہیں، تم مایوس نہ ہو۔ ابراہیمؑ نے کہا: اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گم راہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔‘‘
دلوں میں خوشی پیدا کرنے والا اور مایوسی سے نجات دلانے والا رب ذوالجلال والاکرام ہے۔ بندۂ مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ اسے اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسا ہوتا ہے۔ بندے کو یقین ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت کی رحمت ہمیشہ مومنینِ مخلصین پر سایہ فگن ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس تو گم راہ اور کافر لوگ ہوتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
یا بَنِی اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِن یوسُفَ وَأَخِیهِ وَلَا تَیأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ لَا ییأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ (یوسف: 87)
’’میرے بچو، جا کر یوسفؑ اور اس کے بھائی کا کچھ سُراغ لو، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اس کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔‘‘
یاس و قنوطیت دل کی سنگین بیماری ہے۔ آدمی کو پہلے یاس لاحق ہوتا ہے اور پھر جب دل کی یہ بیماری شدت پکڑ لیتی ہے تو قنوطیت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ یاس کے بارے میں ابن جوزیؒ لکھتے ہیں:
الیأسُ: القَطعُ على أنَّ المَطلوبَ لا یتَحَصَّلُ؛ لتَحقیقِ فواتِه۔ (نزھة الاعین النواظر: 1/633)
’’مایوسی: مطلوب کے نہ ملنے پر یقین ہوجانے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی کیفیت کو کہتے ہیں۔‘‘
قنوطیت کے سلسلے میں راغب اصفہانی لکھتے ہیں:
القُنوطُ: الیأسُ مِنَ الخَیرِ (المفردات فی غریب القرآن، ص 685)
’’قنوط: خیر سے مایوسی کا نام ہے۔‘‘
یاس، قنوطیت سے کم درجے کی چیز ہے۔ یاس میں کسی درجے میں کچھ امید باقی رہتی ہے، لیکن قنوطیت میں وہ امید بھی ختم ہو جاتی ہے۔ ابن حجر ہیتمی لکھتے ہیں:
الیأسُ یكونُ مِن وُقوعِ شَیءٍ مِن أنواعِ الرَّحمةِ له مَعَ إسلامِه، فإذا انضَمَّ إلى هذا الیأسِ حالةٌ هی أشَدُّ منه، وهی التَّصمیمُ على عَدَمِ وُقوعِ الرَّحمةِ له، فهو القُنوط (الزواجر عن اقتراف الکبائر:1/ 150)
’’یاس میں اسلام کے ہوتے کسی نہ کسی شکل میں نزول رحمت کی امید رہتی ہے، لیکن اس کیفیت پر مزید جو شدید حالت واقع ہوتی ہے وہ نزول رحمت سے بالکلیہ ناامیدی کی ہے۔ اس کا نام قنوطیت ہے۔‘‘
یاس و قنوطیت سے اسلام میں منع کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ یہ چیز بندے کو ڈپریشن میں ڈھکیل دیتی ہے اور اس سے قوت عمل چھین لیتی ہے۔ پھر بندہ رب سے دور اور آسانی کے ساتھ شیطان کے حربوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کو کبائر میں شمار فرمایا ہے:
سُئلَ رسولُ اللَّه ﷺ ما الْكبائرُ؟ فقالَ: الشِّرْكُ باللَّهِ والیأسُ من رَوحِ اللَّهِ والأمنُ من مَكرِ اللَّهِ۔ (رواہ البزار)
’’رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ گناہِ کبیرہ کیا ہیں؟ تو آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا اور اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بے خوف ہوجانا۔‘‘
مایوسی کفر ہے۔ بندہ مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا طلب گار رہتا ہے۔ جعفر بن محمد ؒ کے پاس ایک شخص نے اپنی پریشانی اور مایوسی کا تذکرہ کیا تو آپ ؒ نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ کے یہ اشعار سنائے:
وَلَا تیأس فَإِن الْیأْس كفر لَعَلَّ الله یغنی عَن قَلِیل
وَلَا تَظنن بِرَبِّك غیر خیر فَإِن الله أولى بالجمیل
(الفرج بعد الشدة لابن ابی الدنیا، ص 90)
’’تم مایوس نہ ہو۔ کیوں کہ مایوسی کفر ہے۔ ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ تمھیں تھوڑی چیز کی بدولت مال دار کردے۔ اور تم اپنے رب کے بارے میں بہتر گمان رکھو۔ پس اللہ تعالیٰ بہتر گمان رکھنے کا زیادہ حق دار ہے۔‘‘
مایوسی آدمی کو کفر کی طرف لے جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونے کی وجہ سے بندہ گم راہ ہوتا اور ہلاکت و بربادی کا شکار ہو جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں:
الهلاك فی اثنتین، القنوط، والعجب (الزواجر عن اقتراف الکبائر،لابن حجر الھیتمی)
’’دو چیزوں میں ہلاکت ہے: ایک مایوسی اور دوسری خود پسندی۔‘‘
یاس و قنوطیت کے اسباب
یاس و قنوطیت کا سب سے بڑا سبب اللہ رب العزت کے کرم اور اس کی رحمتوں سے ناواقفیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ جب وہ چاہے حالات بدل سکتا ہے۔ اس کے یہاں معاملہ کن فیکون کا ہے۔ وہ بندے کے حالات سے بھی بخوبی واقف ہے اور اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اس کی رحمت ہمیشہ اپنی خلق پر سایہ فگن ہے۔ اس کے کرم سے پوری کائنات باقی ہے۔ پوری کائنات میں وہی واحد سہارا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قَالَ عَذَابِی أُصِیبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ ۖ وَرَحْمَتِی وَسِعَتْ كُلَّ شَیءٍ ۚ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِینَ یتَّقُونَ وَیؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالَّذِینَ هُم بِآیاتِنَا یؤْمِنُونَ. (الاعراف:156)
’’سزا تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں، مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے اور اُسے میں اُن لوگوں کے حق میں لکھوں گا جو نافرمانی سے پرہیز کریں گے، زکوٰة دیں گے اور میری آیات پر ایمان لائیں گے۔‘‘
پوری کائنات اللہ رب العالمین کی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے:
وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَیءٍ قَدِیرٌ۔ (آل عمران: 189)
’’زمین اور آسمان کا مالک اللہ ہے اور اس کی قدرت سب پر حاوی ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ دل میں اٹھنے والے ہر ایک وسوسے سے واقف ہے۔ بندے کی ہر پریشانی کو وہ جانتا ہے۔ پریشانیوں کو دور کرنے اور مایوسیوں کو ختم کرنے والا صرف وہی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
أَمَّن یجِیبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَیكْشِفُ السُّوءَ وَیجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ ۗ أَإِلَٰهٌ مَّعَ اللَّهِ ۚ قَلِیلًا مَّا تَذَكَّرُونَ . (النمل: 62)
’’ کون ہے جو بے قرار کی دُعا سُنتا ہے جب کہ وہ اُسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟ اور (کون ہے جو)تمھیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (یہ کام کرنے والا)ہے؟ تم لوگ کم ہی سوچتے ہو۔‘‘
یاس و قنوطیت کا ایک سبب صبر کی کمی اور تحمل کا فقدان ہے۔ جب کوئی پریشانی آئے تو بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اور صبر کرنا چاہیے۔ دل گرفتہ ہو کر مایوس نہیں ہو جانا چاہیے۔ بلکہ صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔ اس لیے کہ حالات بدلنے والا صرف اللہ رب العزت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَیءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِینَ (البقرة: 155)
’’اور ہم ضرور تمھیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمھاری آزمائش کریں گے۔‘‘
ابن قیمؒ نے لکھا ہے کہ ساری بیماریوں کی جڑ بے صبری ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق کے نتیجے میں صبر کے ذریعے بڑی سے بڑی مصیبتوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ صبر تریاق اعظم ہے:
أكثر أسقام البدن والقلب، إنما تنشأ من عدم الصبر، فما حفظت صحة القلوب والأبدان والأرواح بمثل الصبر، فهو الفاروق الأكبر، والتریاق الأعظم، ولو لم یكن فیه إلا معیة الله مع أهله، ومحبته لهم، فإن الله مع الصابرین. (الطب النبوی، ص 255)
’’جسم اور دل کی اکثر بیماریاں بے صبری کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ دلوں، جسموں اور روحوں کی حفاظت صبر ہی سے ممکن ہے۔ صبر فاروق اکبر ہے اور صبر تریاق اعظم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا استحضار اور اس کی محبت اگر شامل حال ہو تو اللہ تعالیٰ ایسے صابر بندوں کے ساتھ ہے۔‘‘
مایوسی کا ایک سبب جلد بازی بھی ہے۔ آدمی چاہتا ہے کہ مطلوب چیز اسے جلد حاصل ہو جائے۔ کسی بھی چیز میں وہ جلد از جلد نتیجہ دیکھنا چاہتا ہے۔ جلد بازی مایوسی لاتی ہے۔ بندے کو اللہ رب العزت پر بھروسا رکھنا چاہیے اور مایوسی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ چند چیزوں کے استثنا کے ساتھ ہر چیز میں جلدبازی سے منع کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر دعا کی قبولیت کے سلسلے میں جلد بازی سے منع کیا گیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:
یستجابُ لأحدِكم ما لم یعجَلْ، فیقولُ: دعوتُ ودعوتُ فلم أرَه یستجابُ لی، فیستحسرُ عندَ ذلك ویدعُ الدعاءَ. (رواہ البخاری)
’’تمھاری دعا قبول ہوتی ہے اگر جلد بازی نہ کی جائے۔ بندہ کہتا ہے میں نے دعا کرلی، میں نے دعا کرلی، اب مجھے نہیں لگتا کہ میری دعا قبول ہوگی۔ پس وہ اس وقت مایوس ہوکر بیٹھ جاتا ہے اور دعا کرنا چھوڑ دیتا ہے۔‘‘
ابن قیمؒ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ جلد باز کے اندر حکمت کا مادہ نہیں ہوتا۔ اگر اس کے اندر حکمت ہوتی تو وہ جلد بازی نہیں کرتا:
فلا حكمة لجاهل، ولا طائش، ولا عجول. (مدارج السالکین 2/449)
’’نادان، طیش میں آنے والے اور جلد باز کے اندر حکمت کا مادہ نہیں ہوتا۔‘‘
یاس و قنوطیت کا ایک سبب یہ ہے کہ بندہ اپنی قوت بازو اور وسائل و ذرائع پر بھروسا کرنے لگتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اللہ رب العزت کی توفیق اگر شاملِ حال نہ ہو تو صلاحیتیں اور وسائل دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ انسان جب پورے طور پر اپنے منصوبے، صلاحیت اور وسائل کی بنیاد پر امیدیں قائم کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ نتائج اس کی منشا کے مطابق ہوں گے، لیکن توفیق الٰہی شامل نہیں ہوتی اور اسے ناکامی ہاتھ آتی ہے تو وہ مایوس ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایک بندہ مومن اپنی صلاحیت اور وسائل سے کام لیتا ہے لیکن ان پر بھروسا نہیں کرتا، بلکہ اپنی حد تک کوشش کرنے کے بعد وہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے۔ کام یابی ملتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی جناب میں شکر ادا کرتا ہے اور اگر ناکامی ملتی ہے تو صبر کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی ایک مشہور حدیث ہے:
عَجَبًا لأمرِ المُؤمِنِ، إنَّ أمرَه كُلَّه خَیرٌ، ولیسَ ذاك لأحَدٍ إلَّا للمُؤمِنِ، إن أصابَتْه سَرَّاءُ شَكَرَ فكانَ خَیرًا له، وإن أصابَتْه ضَرَّاءُ صَبَرَ فكانَ خَیرًا له (رواہ مسلم)
’’مومن کا معاملہ نہایت خوش کن ہے۔ اس کے ہر معاملے میں بہتری ہے اور یہ صرف بندۂ مومن کے ساتھ خاص ہے۔ اگر اسے خوشی میسر ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ اور اگر اسے کوئی تکلیف دہ چیز پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔‘‘
یاس و قنوطیت کا ایک سبب خالص دنیادار ہوجانا ہے۔ کوئی شخص جب دن رات ہائے دنیا، ہائے دنیا میں لگا رہتا ہے اور اس کے اندر آخرت کا جذبہ سرد پڑ جاتا ہے تو دنیا کا کوئی بھی خسارہ اسے برداشت نہیں ہوتا۔ وہ مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے اور ڈپریشن میں مبتلا ہو کر اپنی زندگی تباہ کرلیتا ہے۔ ہمارے اسلاف کا شیوہ یہ تھا کہ وہ دنیا کا بڑے سے بڑا خسارہ برداشت کر لیتے تھے، لیکن آخرت کا خسارہ انھیں برداشت نہیں ہوتا تھا۔ اسی لیے وہ اللہ والے لوگ تھے۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں:
یقولُ العَبدُ: مالی، مالی، إنَّما له مِن مالِه ثَلاثٌ: ما أكَلَ فأفنى، أو لَبِسَ فأبلى، أو أعطى فاقتَنى، وما سِوى ذلك فهو ذاهِبٌ، وتارِكُه للنَّاسِ. (رواہ مسلم)
’’بندہ کہتا ہے: ہائے میرا مال! ہائے میرا مال! حالاں کہ اس کا مال تو صرف تین ہے: جو اس نے کھایا اور ختم کردیا، جو اس نے پہنا اور بوسیدہ کردیا اور جو اس نے اللہ کے راستے میں دیا اور ذخیرۂ آخرت کرلیا۔ اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے، اسے وہ لوگوں کے لیے چھوڑنے والا اور خود چلے جانے والا ہے۔‘‘
مایوسی کا ایک سبب یاس و قنوطیت کے شکار لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا بھی ہے۔ مایوس لوگوں کی صحبت بھی مایوسی کو بڑھا دیتی ہے۔ لہٰذا حوصلہ مند لوگوں کی صحبت اختیار کرنا چاہیے۔ امید و حوصلہ والے لوگوں کی صحبت سے آدمی کے اندر حوصلہ اور ولولہ پیدا ہوتا ہے اور مایوس لوگوں کی صحبت سے آدمی مایوس اور ناکارہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ صحبت صالح کی اہمیت کی جانب اسلام میں بہت زیادہ متوجہ کیا گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اسی اہمیت کے پیش نظر ہدایت فرمائی ہے کہ مومن کی صحبت اختیار کرنا ضروری ہے۔ مومن اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے گا، آخرت یاد دلائے گا اور دنیا کی بے ثباتی بیان کرے گا۔ اس سے آدمی کے اندر حوصلہ پیدا ہوگا اور مایوسی ختم ہوگی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
لا تُصاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا، ولا یأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِی (رواہ ابو داود)
’’تم صرف مومن کی صحبت اختیار کرو اورتمھارا کھانا صرف متقی اور پرہیزگار شخص کھائے۔‘‘
یاس و قنوطیت کا سبب یہ بھی ہے کہ بندہ دین میں تشدد اختیار کرنے لگتا ہے۔ رخصتوں پر عمل کرنا چھوڑ دیتا ہے اور آسانیوں سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو تنبیہ فرمائی کہ اعمال اتنے ہی کرو جتنے تم آسانی کے ساتھ کرسکتے ہو، ورنہ تم اکتا جاؤ گے۔ ایک روایت میں ہے:
’’نبی اکرم ﷺ ایک چٹائی کو اوٹ بنا کر اس پر رات میں نماز پڑھتے تھے اور دن میں اس کو بچھا کر اس پر بیٹھتے تھے، تو صحابہ کرامؓ نبی اکرم ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے اور آپؐ کی طرح نماز پڑھنے لگے۔ یہاں تک کہ صحابہؓ کی تعداد زیادہ ہوگئی۔ تو نبی اکرم ﷺ متوجہ ہوئے اور آپؐ نے فرمایا: اے لوگو! اعمال اتنے ہی کرو جتنے کی استطاعت رکھتے ہو۔ بے شک اللہ تعالیٰ ثواب عنایت فرمانے سے نہیں اکتائے گا یہاں تک کہ تم اعمال کرنے سے اکتا جاؤگے۔ اور بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ عمل وہ ہے جو مداومت کے ساتھ کیا جائے خواہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔‘‘(رواہ البخاری)
جب عزیمت پر عمل کرنا ضروری ہو، اس وقت عزیمت کی راہ کے علاوہ کوئی اور راہ نہیں ہوتی۔ لیکن روز مرہ کی زندگی میں ہر چیز میں تشدد اختیار کرنے سے مایوسی لازم آتی ہے اور وہ لوگ جو ایمان کے بلند مقام پر فائز نہیں ہیں اور اپنے آپ کو معیار مطلوب پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے لیے تو اور ضروری ہے کہ وہ دنیا میں رخصتوں اور آسانیوں سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے اوپر استطاعت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالیں۔ امام غزالیؒ احیاء علوم الدین میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’نبی ﷺ نے باخبر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس طرح اس بات کو پسند کرتا ہے کہ عزیمت پر عمل کیا جائے اسی طرح اس بات کو بھی پسند کرتا ہے کہ رخصتوں پر عمل کیا جائے۔ یہ ریاعت کم زوروں کے دلوں کو خوشی فراہم کرنے کے لیے ہے، تاکہ یہ کم زوری ان کو یاس و قنوطیت تک نہ پہنچا دے۔ پس وہ بلند درجہ اعمال انجام دینے سے معذور ہونے کی وجہ سے، جو کام آسانی سے کیا جا سکتا ہے اسے بھی نہ چھوڑ بیٹھیں۔ نبی اکرم ﷺ تو لوگوں کی اصناف اور درجات میں اختلاف کے باوجود سارے جہاں کے لیے رحمت للعالمین بنا کر بھیجے گئے ہیں۔‘‘(إحیاء علوم الدین: 4/ 278)
یاس و قنوطیت سے بچنے کے طریقے
یاس و قنوطیت سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے ایمان کو مضبوط کرے۔ اپنے رب پر توکل کی کیفیت کو مضبوط کرے اور اس کی رحمت سے ہمیشہ پُر امید رہے۔
بندے کو ہمیشہ اپنے ایمان کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے اور ایمان کی کیفیت کو ہمہ آن بڑھانے کی فکر کرتے رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کی روشنی میں معرفت الٰہی حاصل کرنا چاہیے۔ خاص طور پر وہ اسماء و صفات جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے عفو و درگزر سے متعلق ہیں۔ بندے کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر چیز پر سایہ فگن ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہی ہے جو بندے کو ہر پریشانی اور مصیبت سے نجات عطا فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بندے کے تمام گناہ معاف کرنے پر قادر ہے۔ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قُلْ یا عِبَادِی الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ یغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ ( الزمر:53)
’’(اے نبیؐ)کہہ دو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاوٴ، یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے، وہ تو غفور اور رحیم ہے۔‘‘
بندے کو جب یہ یقین ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر بھاری ہے تو مایوسی دور ہوگی اور اس کے اندر حوصلہ پیدا ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
إنَّ اللهَ كَتَبَ كِتابًا قَبلَ أن یخلُقَ الخَلقَ: إنَّ رَحمَتی سَبَقَت غَضَبی، فهو مَكتوبٌ عِندَه فوقَ العَرشِ. (رواہ البخاری)
’’بے شک اللہ تعالیٰ نے مخلوقات پیدا کرنے سے پہلے یہ بات اہتمام کے ساتھ تحریر فرمائی ہے: بے شک میری رحمت میرے غضب پر سبقت پا چکی ہے۔ پس یہ بات اللہ تعالیٰ کے پاس عرش کے اوپر لکھی ہوئی ہے۔‘‘
اگر بندے کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی مغفرت کا اندازہ ہو جائے تو وہ کبھی بھی مایوس نہیں ہوگا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، حدیث قدسی ہے:
قالَ اللَّهُ تبارَكَ وتعالى یا ابنَ آدمَ إنَّكَ ما دعوتَنی ورجوتَنی غفَرتُ لَكَ على ما كانَ فیكَ ولا أبالی، یا ابنَ آدمَ لو بلغت ذنوبُكَ عَنانَ السَّماءِ ثمَّ استغفرتَنی غفرتُ لَكَ، ولا أبالی، یا ابنَ آدمَ إنَّكَ لو أتیتَنی بقرابِ الأرضِ خطایا ثمَّ لقیتَنی لا تشرِكُ بی شیئًا لأتیتُكَ بقرابِها مغفرةً. (رواہ الترمذی)
’’ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے ابن آدم! تم نے مجھے پکارا اور مجھ سے امید رکھی تو تمھارے جو بھی گناہ ہوں میں نے معاف کردیے اور مجھے کسی کی کوئی پروا نہیں۔ اے ابن آدم! اگر تمھارے گناہ آسمان کو چھونے لگیں پھر تم مجھ سے مغفرت چاہو تو میں تمھاری مغفرت کردوں گا اور مجھے کسی کی کوئی پروا نہیں۔ اے ابن آدم! اگر تم زمین کے برابر گناہ لے کر آؤ اور مجھ سے اس حال میں ملو کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے ہو تو میں زمین کے برابرتمھاری مغفرت فرمادوں گا۔‘‘
یاس و قنوطیت سے نجات پانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بندے کو ہمیشہ اچھی امید رکھنی چاہیے اور ساری امیدیں رب ذوالجلال سے وابستہ رکھنی چاہییں۔ اس کی وجہ سے بندے کے اندر سے مایوسی ختم ہوگی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا،حدیث قدسی ہے:
یقولُ اللهُ تَعالى: أنا عِندَ ظَنِّ عَبدی بی، وأنا معهُ إذا ذَكَرَنی، فإن ذَكَرَنی فی نَفسِه ذَكَرتُه فی نَفسی، وإن ذَكَرَنی فی مَلَإٍ ذَكَرتُه فی مَلَإٍ خَیرٍ منهم، وإن تَقَرَّبَ إلی بشِبرٍ تَقَرَّبتُ إلیه ذِراعًا، وإن تَقَرَّبَ إلی ذِراعًا تَقَرَّبتُ إلیه باعًا، وإن أتانی یمشی أتَیتُه هَرولةً. (رواہ البخاری)
’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے۔ تو اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں اسے ان سے اچھی مجلس میں یاد کرتا ہوں۔ اور اگر وہ میری طرف ایک بالشت قریب آتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ قریب آتا ہوں۔ اور اگر وہ میری طرف ایک ہاتھ قریب آتا ہے تو میں اس کی طرف ایک گز قریب آتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف لپک کر پہنچ جاتا ہوں۔‘‘
اللہ رب العزت سے امید باندھنا بندۂ مومن کا شیوہ ہے۔ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے عفو و کرم کا طالب رہتا ہے۔ اسے اس بات پر یقین رہتا ہے کہ اس کی حالت کتنی بدتر کیوں نہ ہو اللہ رب العزت کی رحمت اسے ڈھانپ لے گی۔ امام شافعیؒ اللہ تعالیٰ کے عفو و کرم کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ولمَّا قَسا قَلبی وضاقَت مَذاهبی
جَعَلتُ رَجائی دونَ عَفوِك سُلَّمَا
تعاظَمَنی ذَنبی فلمَّا قَرَنتُه
بعَفوِك رَبِّی كان عَفوُك أعظَما
(سیرۃ اعلام النبلاء 10/ 74)
’’اور جب میرا دل سخت ہوگیا اور میرے راستے تنگ ہوگئے تو میں نے (اے رب) آپ کے عفو و درگزر کے سامنے اپنی امید کو سیڑھی بنالیا۔ میں نے دیکھا کہ میرے گناہ بہت بڑے ہیں لیکن (اے رب) میں نے جب آپ کے عفو و درگزر کو دیکھا تو اسے کہیں عظیم پایا۔ ‘‘
بندۂ مومن کو کبھی بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اس کو ہمیشہ یہ شعور رہنا چاہیے کہ اللہ رب العزت کا عفو و درگزر بے پناہ ہے۔ اس کی نظر کرم سے زندگیاں بدل جاتی ہیں اور دل خوشیوں سے بھر جاتے ہیں۔






