یہ مضمون ایک طویل مقالے سے ماخوذ ہے جو’’ تحریک اسلامی ہند کی چند اہم ضرورتیں‘‘ کے عنوان سے سہ روزہ دعوت(22 اپریل1996) میں شائع ہوا تھا۔ خصوصی افادیت کے پیش نظر اسلامی لٹریچر سے متعلق حصہ مکرر شائع کیا جارہا ہے۔ (مدیر)
گذشتہ نصف صدی کے اندر ہندوستان میں جو حالات پیش آئے ہیں اور ہندوستان سے باہر پوری دنیا میں جو اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں انھوں نے تحریک اسلامی ہند کے لیے چند مسائل پیدا کیے ہیں۔ ان مسائل میں سے بعض کا تعلق تحریک کے لائحۂ عمل اور پالیسی سے ہے اور بعض کا تحریک کے لٹریچر سے ہے۔ ذیل میں ہم صرف ان مسائل کا ذکر کریں گے جن کا تعلق لٹریچر سے ہے۔
تحریک اسلامی کے موجودہ لٹریچر کی ایک قسم وہ ہے جس میں اسلام کے بنیادی تصورات اور نظریات کی تفہیم کی گئی ہے۔ اسلام کو زندگی کے ایک جامع نظام کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے، اس کے مختلف شعبوں کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں اور ان کی برتری ثابت کی گئی ہے اور مخالف مغربی نظریات، اصولوں اور نظاموں پر تنقید کی گئی ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جس میں آزادی سے پہلے کے سیاسی حالات اور ان میں مسلمانوں کی مختلف جماعتوں کے مقاصد اور پروگراموں پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ تیسری قسم وہ ہے جس میں تحریک اسلامی کے نصب العین، طریقہ کار، لائحۂ عمل اور تاریخ کا بیان ہے۔ آخری قسم وہ ہے جس میں قرآن مجید کی تفسیر، سنت کے مقام کی وضاحت اور مختلف کلامی، فقہی اور اختلافی مسائل میں تحریک کے موقف کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اس سارے لٹریچر میں اصلًا مخاطب مسلمان ہیں۔ انھیں کے افکار و رجحانات، تاریخ اور مسائل زیر بحث آئے ہیں۔ ہندوستان کا غیر مسلم ان کا مخاطب نہیں ہے۔ ’’سلامتی کا راستہ‘‘ اور ’’بناؤ بگاڑ ‘‘ جیسی چند کتابیں اگر الگ کرلی جائیں تو پورے لٹریچر میں کوئی کتاب ایسی نہیں جو ہندو، سکھ، بدھ یا جین کسی مذہب کے ماننے والے کو مخاطب کرتی ہو یا غیر آریائی اصل کے کسی مذہبی فرقے سے تعرض کرتی ہو۔ قرآن مجید کی تفسیر میں چند عیسائی اور یہودی عقائد، تاریخی واقعات اور شخصیات زیر بحث آئی ہیں لیکن ضمنی طور پر۔ عیسائیوں اور یہودیوں تک اسلام کا پیغام پہنچانا پیش نظر نہیں رہا ہے۔ ان کتابوں میں سے کسی کتاب کو پڑھ کر کوئی ہندو یا عیسائی اگر متاثر ہوتا ہے یا قرآن کی تفہیم سے اثر پذیر ہوتا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اسے مخاطب کیا گیا ہے اور اس کے نظریات اور اس کے مسائل سے بحث کی گئی ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ بھی مسلمان کی طرح ایک انسان ہے اور اسی فطرت پر پیدا کیا گیا ہے جس پر مسلمان پیدا ہوا ہے، اس لیے وہ بھی ان باتوں سے متاثر ہوتا ہے جن سے مسلمان متاثر ہوتا ہے۔
تحریک اسلامی سے وابستہ بعض اہل قلم نے یقینا ہندوستان کے مختلف مذاہب پر چند کتابیں تصنیف کی ہیں لیکن وہ بیشتر تعارفی ہیں۔ ان کا بڑا مقصد مسلمانوں کو ان مذاہب سے واقف کرانا ہے۔ چند کتابیں ہندو مذہب کے بعض نظریات سے بھی بحث کرتی ہیں لیکن بہت سرسری اور ابتدائی ہیں۔ تحریکی حلقوں سے باہر بعض مصنفین نے ہندوؤں کے قدیم ویدک مذہب سے تعرض کیا ہے مگر ان کا انداز ویدوں میں اسلامی عقائد اور افکار کے مماثل تصورات تلاش کرنے اور انھیں نمایاں کرنے کا ہے۔ ان کا مقصد ویدوں کا معروضی، تحلیلی یا تاریخی جائزہ نہیں ہے۔
آزادی کے بعد ہندوستان کی تحریک اسلامی کو جس بڑی حقیقت کا سامنا کرنا پڑا وہ یہاں کی غیر مسلم آبادی تھی جس کی تعداد آج 75 کروڑ کے قریب ہے۔ جس میں ہندو 70 کروڑ، عیسائی دو کروڑ، سکھ ڈیڑھ کروڑ اور باقی میں بدھ، جین اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے شامل ہیں۔ تحریک اسلامی کو اس عظیم آبادی کو مخاطب کرنا تھا اور بڑی حد تک تن تنہا کرنا تھا۔ اس کے لیے اسے اول غیر مسلموں کی تاریخ، تہذیب، مذہب اور روایات کو سمجھنا تھا، ان کے ذہن اور نفسیات کا مطالعہ کرنا تھا۔ ان کے موجودہ مسائل اور مشکلات سے واقف ہونا تھا۔ پھر اس مطالعہ کی روشنی میں ان کے سامنے اسلام کو پیش کرنا تھا، اور اسلامی تصورات، اصولوں اور قدروں کی تفہیم کرنی تھی۔ اور یہ کام ہندو، سکھ، عیسائی اور تمام دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے لیے الگ الگ کرنا تھا۔
مسلمان ہندوستان میں ہزاروں سال سے رہ رہے ہیں لیکن انھوں نے یہاں کے رہنے والوں کے مذہب، کلچر اور روایات کو سمجھنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ البیرونی (م : 440/ 1048) ایک واحد شخصیت ہے۔ جس نے ہندوستان کے مذہب اور کلچر کا مطالعہ کیا۔ مگر وہ ہندوستان سے باہر ازبکستان کے شہر خوارزم کا رہنے والا تھا، پھر وہ ایک سائنسدان تھا، چناں چہ اس کی کتاب الہند میں زیادہ تر توجہ ہندوستان کے سائنسی علوم پر ہے۔ مذاہب میں سے اس نے ہندو دھرم کا مطالعہ کرنے کی کوشش کی۔ بدھ ازم اور جین ازم کی طرف اس نے توجہ نہیں کی۔ جہاں تک ہندوستان کے علما کا تعلق ہے انھوں نے برادران وطن کے مذہب اور کلچر کو لائق اعتنا نہیں گردانا۔
برادران وطن تک اسلام کا پیغام پہنچانے کی کوشش یقینًا کی گئی۔ علما، صوفیا اور سلاطین نے اپنے اپنے طریقے سے اس کام میں حصہ لیا۔ تاجروں اور عام مسلمانوں کی شرکت بھی رہی۔ لیکن یہ ساری کوششیں ایک حد ہی میں رہیں اور ان کے اثرات بھی بڑے محدود رہے۔ اسباب جو بھی رہے ہوں واقعہ یہ ہے کہ خدا کا کلام یا اس کے رسول کی حدیثیں اس ملک کی مختلف زبانوں میں ترجمہ نہیں کی گئیں تاکہ یہاں کے عام پڑھے لکھے افراد اسلام سے براہ راست واقف ہو سکیں۔ ہزار سال کے عرصہ میں ممکن ہے کہ کسی ایک یا دو زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ ہوا ہو اور وہ بھی کتنے لوگوں تک پہنچا ہوگا اللہ ہی کو معلوم ہے۔ یہ ایک ادنی مثال ہے اس بے اعتنائی کی جو مسلمان اپنے ہم وطنوں کے ساتھ برتتے رہے ہیں۔
آزادی کے بعد ہندوستان کا ہندو ایک دوسری فضا میں سانس لینے لگا ہے۔ اس میں تعلیم عام ہو رہی ہے۔ اپنی تہذیب اور اپنی روایات سے اس کی واقفیت بڑھ رہی ہے۔ اپنے مذہب کی تاریخ سے وہ بہتر آگاہ ہے۔ اسے معلوم ہے کہ خدا، انسان اور کائنات کے بارے میں اس کے نظریات کن مراحل سے گزرے ہیں . قدرت کے مختلف مظاہر کی پرستش اور دیویوں اور دیوتاؤں کی ان گنت تعداد کی بنیاد کتنی عقل اور علم پر ہے اور کتنی وہم و قیاس پر۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے کتنے بزرگوں نے شرک کے خلاف آواز اٹھائی اور توحید کا پر چار کرنا چاہا، لیکن کیوں ان کی آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی؟ کیوں رام موہن رائے، دیانند سرسوتی، نانک اور کبیر مقبول نہیں ہوئے؟ وہ واقف ہے کہ اس کی اولین سوسائٹی ایک سیدھی سادی سوسائٹی تھی، مختلف لوگ مختلف پیشوں اور کاموں میں لگے ہوئے تھے، مگر سب یکساں عزت و احترام کے مالک تھے۔ بعد میں ان میں طبقات اور ذاتیں پیدا ہوئیں اور پھر ان میں اونچ نیچ، شریف اور رذیل کے امتیازات پیدا ہوئے جو وقت گزرنے کے ساتھ سخت ہوتے گئے۔ پھر کس طرح اوپر کے طبقات نے نیچے کے طبقات کا استحصال کرنا شروع کیا۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ یہ امتیاز اور یہ استحصال آج بھی کس قدر شدید ہے۔
ہندوؤں کے ایک حصہ کو جو شرک سے بے زار تھا، مگر توحید کا کوئی واضح تصور نہ پاسکا اور جو انسانوں کے درمیان اونچ نیچ کے فرق کو صحیح نہیں سمجھتا تھا اور طبقاتی استحصال کا مخالف تھا، اسے کمیونزم کے اندر روشنی کی ایک کرن نظر آئی۔ چناں چہ ایسے نوجوانوں کی ایک اچھی تعداد کمیونزم پر ایمان لے آئی اور اس کی داعی اور مبلغ بن گئی۔ آج جب کمیونزم خود اپنے پیدائشی وطن میں ناکام ثابت ہوا ہے، اس کی نظریاتی بنیادوں کی صداقت اور اقتصادی عدل کے قیام کے لیے اس کی صلاحیت سے متعلق لوگوں کی رائیں بدل گئی ہیں تو کمیونزم کے ان داعیوں کی صفوں میں بھی مایوسی طاری ہے۔
ہندوؤں کا نچلا طبقہ جسے اونچی ذاتوں سے برابری کے سلوک، عزت و احترام، عدل و انصاف کی کوئی توقع نہیں رہی، جس نے ہندو دیوی دیوتاؤں کو بھی اونچ نیچ کے امتیازات اور سماجی ظلم و استحصال کا محافظ پاپا ان میں سے کچھ نے اپنی نجات بدھ ازم میں دیکھی۔ لیکن بدھ ازم باوجود اس کے کہ انسانی مساوات کا داعی اور مکارم اخلاق کا پرچارک رہا ہے، جس کی بنیاد پر اسے ہندوستان میں غیر معمولی کام یابی بھی حاصل رہی، مگر زندگی اور سماج کے بارے میں اس کے منفی رویہ نے اور نجات کو ترکِ دنیا سے وابستہ کرنے کے تصور نے اس کو بقا اور استمرار کی صلاحیت سے محروم کیا ہے۔ اس کے پاس انسانی معاشرہ کی تعمیر اور عدل و انصاف کے قیام کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ اس لیے وہ ہندوؤں کے نچلے طبقات کے مسائل کا کوئی حل پیش کرنے سے قاصر ہے۔
ہندوستان کی جنوبی ریاستوں میں عیسائیت فروغ پا رہی ہے۔ اسی طرح شمال مشرق کی بعض ریاستوں میں عیسائی مشن کام یاب ہو رہا ہے۔ مگر اس فروغ اور کام یابی کی وجہ یہ نہیں ہے کہ عیسائیت پر ایمان لانے والوں کو خدا کا کوئی صاف اور ستھرا تصور مل گیا ہے، شرک کے بجائے توحید خالص کی دولت نصیب ہوئی ہے۔ روحانی اضطراب کے بجائے روحانی سکون مل گیا ہے۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں ایک حد تک معاشرہ میں عزت کا مقام مل گیا ہے اور مادی فوائد حاصل ہو رہے ہیں، ان میں سے جن لوگوں کے نزدیک مالی فوائد اور سماجی سکون خدا اور اس سے تعلق کے مقابلہ میں کم اہمیت رکھتے ہیں، انھیں ہندوؤں کے متعدد الٰہ اور عیسائیوں کے تثلیث کے تصور میں کوئی بنیادی فرق نظر نہیں آتا۔ مندروں کی بت پرستی اور کلیسا میں مسیح اور مریم کی شبیہوں کے سامنے سجدہ ریزی میں کوئی امتیاز سمجھ میں نہیں آتا۔ عیسائیت ان جیسی بے چین روحوں کو کبھی سکون نہیں عطا کر سکتی۔ کچھ ایسے ہی وجوہ ہیں کہ جن کی بنا پر آج کا ہندو اسلام کے مطالعہ کی طرف مائل ہے۔ آپ کسی اخبار میں ایک اشتہار دے دیں کہ جس کسی کو اسلام کا مطالعہ کرنا ہو تو وہ ہمیں خط لکھے، ہم اسے اسلامی لٹریچر روانہ کریں گے تو آپ کو سیکڑوں خطوط موصول ہوں گے اور ہندوؤں کے کسی ایک طبقہ سے نہیں بلکہ تمام طبقات کی طرف سے ہوں گے۔ قرآن مجید کا ترجمہ کسی زبان میں کریں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا کوئی انتخاب کسی مقامی زبان میں شائع کریں تو ان کے اجراء کی تقریب میں ہندو بڑے ذوق و شوق سے شریک ہوتے ہیں اور یہ کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ مسلمانوں سے تو ہم لوگ ہزار سال سے متعارف ہیں لیکن اسلام کا تعارف اب ہو رہا ہے۔ ہندو برادران وطن میں جہاں ایک طرف حق کی جستجو بڑھ رہی ہے وہیں دوسری طرف بعض تنظیموں کی کوشش سے ہندو فرقہ پرستی کا رجحان بھی ترقی پارہا ہے۔ اگرچہ یہ کوشش ہندوستانیوں میں اتحاد اور یک جہتی پیدا کرنے کے نام پر کی جارہی ہے مگر اس اتحاد اور یک جہتی کا جو تصور پیش کیا جا رہا ہے اور اس کے لیے جو پروگرام اپنایا جارہا ہے افسوس ہے کہ اس میں مسلمانوں کو حریف بنا لیا گیا ہے اور زبان و قلم کی ساری قوت اس حریف کے علیحدہ وجود، اس کے دینی تشخص، اس کے پرسنل لا، زبان، اداروں اور عبادت گاہوں کے خلاف استعمال کی جارہی ہے۔ ان حالات میں اگر کچھ مسلمان اپنے دفاع کے لیے آئینی راہوں کے علاوہ بھی اور راہوں کے بارے میں سوچیں تو تعجب کی بات نہیں۔ لیکن ایسا کرنا نہ مسلمانوں کی کام یابی ہوگی اور نہ اسلام کی۔
جہاں تک اسلام کے تعارف اور اسلامی دعوت کا تعلق ہے اس کی کام یابی تو صبر و ضبط، افہام و تفہیم، ہمدردی اور خیر خواہی کی اس راہ کو اختیار کرنے میں ہوگی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مکی دور میں اختیار کی تھی۔ بے صبری اور اشتعال سے دعوت کی راہ کھلتی نہیں مسدود ہوتی ہے۔ دعوت کے سلسلے میں قرآن مجید کا یہ ارشاد ہمیشہ پیش نظر رہنا چاہیے۔ ’’نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت تھی وہ جگری دوست بن گیا۔ یہ صفت صرف ان کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور یہ مقام صرف ان کو حاصل ہوتا ہے جو بڑے نصیبے والے ہوتے ہیں۔‘‘ (حم السجدة:34-35)
ہندو ازم کی تاریخ میں متشدد قوم پرستی کے پہلو بہ پہلو صلح جو حق پسندی بھی ہمیشہ کار فرما رہی ہے۔ یہ امت اسلامیہ کا امتحان ہے کہ وہ کس طرح قوم پرستی کے بجائے حق پسندی کی قوتوں کو اپنا معاون اور ہمنوا بناتی ہے۔ گذشتہ دس برسوں کے اندر عالمی بساط پر جو غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ان میں ایک معاشی اور سیاسی آئڈیالوجی کی حیثیت سے کمیونزم کی ناکامی اور سوویت یونین کی شکست و ریخت اور اس میں شامل مختلف قومیتوں اور جمہوریتوں کی آزادی ہے۔ دوسری تبدیلی عالم اسلام میں اسلام کا احیا اور اسلام کو ایک متبادل نظام کی حیثیت سے پیش کرنے والی تحریکوں کی پیش قدمی اور اپنے ملک کی مخالف سیکولر قوتوں سے کشمکش ہے۔ کمیونزم کے زوال کی وجہ سے مغرب کی لبرل ڈیموکریٹک سرمایہ دار تہذیب کے اندر خود اعتمادی بڑھی ہے۔ لیکن احیائے اسلام کی کوششوں سے اسے خطرہ بھی محسوس ہونے لگا ہے۔ چند برسوں سے اس خطرہ کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ مغربی پریس اور میڈیا اسلام کی مخالفت پر کمربستہ ہو گیا ہے۔ اسلامی قدروں، اصولوں اور نظریات پر اس کی یورش بڑھتی جا رہی ہے۔ مغربی قوتیں اسلامی تحریکوں کو دبانے اور کچلنے کے لیے علانیہ اور خفیہ ہر طرح کی سرگرمیوں میں لگ گئی ہیں۔ انھیں یہ نہیں معلوم کہ ان اللہ لا یصلح عمل المفسدین (یونس – 10 ) – ’’اللہ مفسدین کی کوششوں کو کام یاب نہیں کرتا۔‘‘
تحریک اسلامی کے لٹریچر میں مغربی تہذیب کے بنیادی تصورات اور قدروں پر جو تنقید ہے اگرچہ قوی اور موثر ہے لیکن اصولی اور جزئی ہے۔ ضرورت ہے کہ مغربی نظام بحیثیت کل زیر بحث لایا جائے۔ مغربی اقدار کے چند اجزا ہی نہیں پورا نظام اقدار موضوع بنایا جائے۔ مغرب کے خاندانی نظام یا سرمایہ دارانہ معیشت پر ہی تنقید نہ ہو، مغربی زندگی کا پورا نظام، اقدار و ترجیحات کا پورا ڈھانچہ، اس کی تمام علمی اور عقلی بنیادیں زیر بحث آئیں اور اس کے مقابل اسلام کا پورا نظام زندگی اور نظام اقدار بحیثیت کل پیش کیا جائے۔ بتایا جائے کہ اسلام کے پیشِ نظر کن صفات کے انسان پیدا کرنا اور کن قدروں کا حامل معاشرہ برپا کرنا مطلوب ہے اور یہ کہ اسلام کے بنیادی اصول اور نظریات ایسے انسان اور ایسا معاشرہ پیدا کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتے ہیں، اور یہ کہ یہ صلاحیت صرف اسلام ہی میں ہے کسی اور مذہب اور تہذیب میں نہیں ہے۔ پھر یہ تنقیدی اور تعمیری کام اس طرح گہری اور علمی بنیادوں پر انجام دیا جائے جس طرح مغرب نے اپنی تہذیب کے حق میں گذشتہ تین سو برسوں میں انجام دیا ہے۔
اگرچہ یہ کام کسی ایک ملک کی اسلامی تحریک کا نہیں تمام تحریکوں کا ہے مگر دوسری تحریکوں کے مقابلہ میں ہندوستان کی تحریک اسلامی کی ذمہ داری زیادہ ہے۔ دوسری اسلامی تحریکیں اپنے ملک کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی مسائل کے حل میں اس طرح لگی ہوئی ہیں کہ انھیں بنیادی کاموں کے لیے زیادہ فرصت نہیں۔ ہندوستان کی تحریک ان کاموں کی طرف زیادہ توجہ کر سکتی ہے اور اپنی قوت کا ایک اچھا حصہ ان علمی کاموں میں لگا سکتی ہے۔ تحریک اسلامی کے لٹریچر میں بیشتر توجہ اسلام کے اجتماعی پہلو پر رہی ہے، اس پہلو کی معقولیت، صالحیت اور فوقیت ابھار کر پیش کی گئی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ گذشتہ صدیوں کے اسلامی لٹریچر میں یہ پہلو دب گیا تھا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس لٹریچر کے اصل مخاطب مسلمان ہیں جو اسلام کے بنیادی نظریات پر ایمان رکھتے ہیں۔ مگر ہندوستان جیسے ملک میں جہاں مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلمین بھی مخاطب ہیں اور اکثریت میں ہونے کی وجہ سے کہیں زیادہ توجہ کے طالب ہیں، اسلام کی تشریح و تفہیم میں اس کے بنیادی عقائد اور اصول و نظریات کو ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔ پھر جہاں تک دعوت اسلامی کی مقبولیت کا تعلق ہے اس میں فیصلہ کن اسلام کے بنیادی تصورات ہی ہوتے ہیں۔ پہلے بھی یہی تھے اور آج بھی یہی ہوں گے۔
مگر اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہندوستان میں دعوت اسلامی کی کام یابی کے لیے اسلامی تعلیمات کا وہ حصہ جس کا تعلق معاشرتی عدل و انصاف، پاکیزه معاشرت، عادلانہ معیشت اور ویلفیر اسٹیٹ سے ہے، غیر اہم ہے۔ نہیں وہ بھی اہم ہے بلکہ ہندوستان میں اسلام کی ان تعلیمات کا اطلاق کس طرح ہوگا اور اس کے نتیجہ میں ہندوستان کے سماجی مسائل اور اقتصادی مشکلات کس طرح حل ہوں گی اس پہلو کی وضاحت بھی بہت ضروری ہے۔ مسئلہ صرف ترجیح کا ہے۔
ہندوستان کی تحریک اسلامی کو جس لڑیچر کی ضرورت ہے اس کا ایک پہلو اور بھی ہے۔ باوجود ساری کوشش کے ہندوستانی علما کا گروہ اسلامی تحریک کی طرف متوجہ نہیں ہوا ہے۔ معروف دینی درسگاہوں کے متخرجین کی اکثریت تحریک سے الگ بلکہ اس کی مخالف ہے۔ اس کی ایک وجہ دین کا وہ روایتی تصور ہے جس میں علما و مشائخ اول اور قرآن و سنت بعد میں آتے ہیں، اور دوسری وجہ تصوف ہے۔ علما کا گروه بالعموم تصوف کا معتقد ہے اور اسے دین کا جزو لازم سمجھتا ہے۔ ان کی بڑی تعداد کے نزدیک دین میں اہمیت صرف عقائد کی صحت اور پختگی، عبادات میں شغف اور سیرت کی پاکیزگی کو حاصل ہے۔ یا زیادہ سے زیادہ انھیں چیزوں کی طرف مسلمانوں کو دعوت دینے کو۔ جہاں تک اسلام کے اجتماعی پہلو کا تعلق ہے وہ ان کے نزدیک غیر اہم ہے۔ اگر بالفرض اسلامی معیشت، سیاست اور قوانین و ضوابط کوئی اہمیت رکھتے بھی ہیں تو ہندوستان کے حالات میں نہ ان کی اقامت کا کوئی امکان ہے اور نہ مسلمان اس کی دعوت اور جدوجہد کے مکلف ہیں۔ اگرچہ علما کے گروہ کا بالعموم یہی خیال ہے لیکن ان میں سے چند ہی ہیں جو اس کا اظہار زبان یا قلم سے کرتے ہیں۔ تحریک اسلامی کے اہل قلم نے اس موضوع پر تفصیل سے لکھا ہے اور وسیع اور جامع معنی میں دین کی اقامت کی اہمیت اور فرضیت واضح کی ہے۔ مگر جہاں تک تصوف کا تعلق ہے وہ ہنوز کلام کا محتاج ہے۔ ضرورت ہے کہ قرآن و سنت کے تزکیہ کا تصور اور طریقہ تفصیل سے اور مرتب انداز میں بیان کیا جائے۔ صوفیا کے طریقہ پر گفتگو کر کے واضح کیا جائے کہ اس میں کون کون سی چیزیں نئی ہیں جو نبیؐ کے طریقہ میں نہیں تھیں وہ کب اور کس طرح تصوف میں داخل ہوئیں۔ ان کے لیے کیا نئی اصطلاحات استعمال کی گئیں، ان کے اثرات کیا مرتب ہوئے، تزکیہ کے مقاصد میں کیا تبدیلی آئی، اخلاص و محبت، صبر و شکر، توکل و رضا جیسی صفات کی کیا نئی تعبیریں کی گئیں، زندگی کی غایت کیا مقرر کی گئی، دنیا اور آخرت کا تعلق کیا بتایا گیا اور توحید کی حقیقت کیا بیان کی گئی۔ آخر میں یہ بھی جانا جائے کہ تصوف کس معنی میں اور کن حدود میں قابل قبول ہے اور وہ کیا حدود ہیں جن سے تجاوز کرنے کے بعد وہ قابلِ رد ہے۔ تحریک اسلامی کے لٹریچر میں اس مقابلہ میں صرف چند اشارے اور چند جملے ملتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ اس موضوع پر تفصیل سے کلام کیا جائے تاکہ تحریک اسلامی کے وابستگان کے سامنے نبوت کا طریقہ واضح ہو اور علما کے گروہ پر تصوف کے بارے میں تحریک اسلامی کا موقف کھل کر سامنے آجائے۔






