اسلامی تحریک

سرگرم افراد سے سرگرم خاندانوں تک

محی الدین غازی

تحریکی خاندان کی ایک درخشاں مثال سید قطب شہید کا خاندان ہے۔

سید قطب کے ایک بھائی محمد قطب تھے اور تین بہنیں نفیسہ قطب، حمیدہ قطب اور امینہ قطب تھیں۔ جب سید قطب کو احساس ہوا کہ زندگی کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اس سے دین کی خدمت ونصرت کا کام لیا جائے تو انہوں نے اپنی ساری توانائیاں دین کی خاطر وقف کردیں، اور اخوان المسلمون کے قافلے میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے اپنے بھائی بہنوں میں بھی یہ شعور اور جذبہ تقسیم کیا۔ اور پھر یہ پانچوں مل کر انصار اللہ کی ایک ایمان افروز کہکشاں بن گئے، یہ سب بہترین فکری اور ادبی صلاحیتوں کے مالک تھے، اور یہ اپنی تمام صلاحیتوں اور توانائیوں سے اسلامی تحریک اخوان المسلمون کو سیراب کرنے لگے۔

اخوان المسلمون پر جب ظلم وستم کے دور آئے اور بار بار آئے، تو یہ پورا خاندان ہمیشہ ظالموں کے پہلے نشانے پر رہا۔ نفیسہ قطب کی عمر پینسٹھ سال سے زیادہ تھی، انہیں اور ان کے دو بیٹوں کو جیل میں بند کردیا گیا، ظالم جلادوں نے ان کے ایک بیٹے رفعت کو ٹارچر کرتے کرتے شہید کردیا، دوسرے بیٹے عزمی کو بھی سخت اذیت دے کر نیم مردہ حالت تک پہونچا دیا، مگر ماں اور دونوں بیٹوں نے ذرا کمزوری نہیں دکھائی۔ دوسری بہن امینہ قطب اسلامی ادب کی ممتاز ادیب اور شاعر تھیں، ظالموں نے انہیں قید کرکے شدید ظلم وستم کا نشانہ بنایا، ان کے شوہر اخوانی رہنما کمال سنانیری مصر کے ظالموں کی جیلوں میں کئی برس ستائے گئے اور پھر شہید کردئے گئے۔ تیسری بہن حمیدہ قطب بھی فکر وادب میں ممتاز تھیں، وہ زینب غزالی کی دست راست تھیں، اخوان المسلمون کے قیدی کارکنوں کے خاندانوں کی کفالت کا انتظام کرنے میں پیش پیش رہتی تھیں، آخر کار انہیں بھی گرفتار کرلیا گیا اور ان کے خلاف دس سال قید بامشقت کا فیصلہ ہوا، انہوں نے جیل کی شدید مشقتیں اٹھاتے ہوئے قرآن مجید بھی حفظ کرلیا۔ محمد قطب سید قطب سے تیرہ سال چھوٹے تھے، ان پر بھی ظلم کے پہاڑ توڑے گئے، وہ برسہا برس جیل میں رہے۔ سید قطب کو برسوں جیل میں رکھا گیا، بے انتہا مظالم کئے گئے اور پھر بے رحمی کے ساتھ پھانسی دے دی گئی۔ سید قطب اور محمد قطب کی کتابیں اسلامی تحریک کے لٹریچر میں آج بھی ممتاز مقام رکھتی ہیں، لاکھوں نوجوانوں نے ان کتابوں کو پڑھ کر اپنے ایمانی جذبے اور دینی شعور کو پختہ کیا ہے۔

پانچ بھائی بہنوں پر مشتمل یہ خاندان اسلامی تحریک کے لیے دور حاضر کی ایک روشن اور تابناک مثال ہے۔ جب انہیں فرض منصبی کا احساس ہوا تو دنیا اور دنیا کی ساری رنگینیاں ان کے لیے بے قیمت ہوگئیں۔ انہوں نے ایک جان پانچ قالب بن کر اپنی ساری صلاحیتیں اسلامی تحریک کے لیے وقف کردیں، اور جب اس راہ میں مصیبتیں اور آزمائشیں آئیں تو پورے خاندان نے ہمت اور صبر کے ساتھ ان کا سامنا کیا۔

قطب خاندان کے کارناموں اور قربانیوں کی ایمان افروز داستانیں اسلامی تحریک کے افراد میں یہ تمنا جگاتی رہیں گی کہ ان کا پورا خاندان بھی اسی طرح اسلامی تحریک میں سرگرم ہوجائے۔

ابراہیم اور خاندان ابراہیم میں بہترین نمونہ ہے

عظیم پیغمبر ابراہیم علیہ السلام اور ان کی دوبیویوں اور دو بیٹوں پر مشتمل انسانی تاریخ کی بے نظیر کہکشاں اپنی چمک دمک اور آب وتاب سے ہر مومن کے ایمانی حوصلے کو تازہ کرتی ہے، اور اس کے اندر اپنے گھر کو اسلامی گھربنانے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔

ابراہیم علیہ السلام کی بیوی (اسماعیل علیہ السلام کی والدہ) اتنی باہمت اور باشعور تھیں، کہ اللہ کی مرضی کی خاطر اپنے شیر خوار بچے کے ساتھ مکہ کی بے آب وگیاہ سرزمین میں رہنا خوشی خوشی قبول کرلیا، وہ جانتی تھیں کہ یہ ایک بہت بڑے مشن کا ضروری حصہ ہے، سو انہوں نے مشن کی ضرورت اور اہمیت کو سامنے رکھا اور مشن کی دشواریوں اور صعوبتوں کو یکسر نظرانداز کردیا۔

ابراہیم علیہ السلام کی ایک اور بیوی (اسحاق علیہ السلام کی والدہ) کا کردار بھی نہایت عظیم ہے، انہوں نے اس وقت بھی ابراہیم علیہ السلام کا ساتھ دیا جب دنیا کی ساری بڑی قوتیں ابراہیم علیہ السلام کے خلاف اکٹھا ہوگئی تھیں، انہوں نے ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہجرت بھی کی، اور قدم قدم پر درپیش آزمائشوں میں ان کا ساتھ دیا۔ قرآن مجید بتاتا ہے کہ وہ نیک بی بی اپنے شوہر ابراہیم علیہ السلام سے بہت قریب تھیں، فرشتے مہمان بن کر آئے تو دیکھتے دیکھتے ان کے لیے اعلی ترین ضیافت کا انتظام کردیا، وہ ابراہیم علیہ السلام کی مہمانوں کے ساتھ گفتگو میں شریک رہیں، مہمانوں کے ساتھ گفتگو میں شرکت شوہر اور بیوی دونوں کی باہمی قربت کی معنی خیز تصویر ہے۔

ابراہیم علیہ السلام کے دونوں بیٹے اسماعیل اور اسحاق نہایت سعادت مند بیٹے تھے، اور آپ کی عظیم جدوجہد میں پیش پیش رہتے تھے۔ ابراہیم علیہ السلام کے پوتے یعقوب بھی بڑے ہوتے ہی اس مشن میں شامل ہوگئے۔ اس طرح یہ پورا خاندان پھیلنے کے باوجود دین کی خاطر ہر طرح سے متحد اور ہمہ تن مصروف رہا۔

اسلامی تحریک کے افراد کو دل میں تمنا پالنا چاہئے اور ہر آن کوشش کرنی چاہئے کہ ان کا خاندان ابراہیم علیہ السلام کے خاندان جیسا ہوجائے۔ جس طرح قرآن مجید میں ابراہیم اور اسماعیل ساتھ ساتھ خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے نظر آتے ہیں، ہر تحریکی باپ اپنے بیٹوں کے ساتھ دین کے بڑے بڑے کام کرتا نظر آئے۔

ابراہیم علیہ السلام کے بیٹوں میں جو غیر معمولی اوصاف تھے، ان کی نشوونما میں ابراہیم علیہ السلام کا بہت اہم کردار تھا، قرآن مجید میں ان کے لیے غلام علیم اور غلام حلیم کی صفتیں ذکر کی گئی ہیں، خاص بات یہ ہے کہ علم اور حلم ابراہیم علیہ السلام کے بھی نمایاں اوصاف تھے۔ بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے بے پناہ دعوتی مصروفیات کے باوجود اپنے بیٹوں کی خاص اس طرح تربیت کی کہ ان کے اعلی اوصاف بیٹوں میں بھی منتقل ہوجائیں۔

علم کا اعلی ترین درجہ اللہ کی ہدایت کا علم ہے، اور حلم اخلاق کا وہ سب سے اونچا درجہ ہے، جس پر دوسروں کی زیادتیوں کے باوجود آنچ نہیں آتی ہے۔ علم اور حلم اسلام کے داعی کی شخصیت کو بے انتہا پرکشش اور موثر بنادیتے ہیں، اگر آپ اپنے بچوں کو علم اور حلم کی صفتوں سے آراستہ کرنے میں کامیاب ہوگئے اور ساتھ ہی ”وأنا من المسلمین” یعنی فرض منصبی کا سچا شعور بھی پیدا کردیا تو سمجھیں کہ آپ نے اسلام کی دعوت کے لیے بہترین افراد تیار کردئے۔

یعقوب علیہ السلام کی قابل رشک وفات

یعقوب علیہ السلام نے اپنے تمام بیٹوں کو اپنے مشن کا امین بنادیا تھا۔ انہوں نے اپنے بچوں کو زندگی بھر اس عظیم مشن کے لیے تیار کیا، اور ان کی بہترین تربیت کی اور بالآخر مرتے وقت ان سے جب پوچھا: ’’میرے بعد کس کی بندگی کروگے؟‘‘ ماتعبدون من بعدی  (سورۃ البقرۃ)تو سب بچوں نے ایک زبان ہوکر وہ جواب دیا جو باپ کے لیے بہت اطمینان بخش تھا۔ یعقوب علیہ السلام کی سیرت میں اہل ایمان کے لیے بڑی نصیحت ہے۔ جو شخص اپنی زندگی میں اپنے بچوں کو فرض منصبی سے آشنا نہیں کرے، انہیں دینی ذمہ داری کا احساس اور اسلام سے عشق گھول گھول کر نہیں پلائے، ان کی دینی تربیت کے لیے محنت نہ کرے، وہ مرتے وقت اپنے بچوں کی زبان سے ایسی بات کیسے سن پائے گا، جو اس کی آنکھیں ٹھنڈی کرے۔

موسی اور ہارون دو مثالی بھائی

موسی علیہ السلام کا خاندان بھی تحریک اسلامی کے لیے قابل تقلید نمونہ ہے۔ ان کی والدہ اور ان کی بہن کا عظیم کردار قرآن مجید میں خاص طور سے ذکر کیا گیا ہے، موسی علیہ السلام کی بیوی بھی تاریک رات میں ان کے ساتھ مصر کی جانب نہایت پرخطر سفر کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے علاوہ قرآن مجید میں موسی علیہ السلام اور ان کے بھائی ہارون علیہ السلام کا باہمی رشتہ بہت زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔

موسی علیہ السلام نے انتہائی مشکل اور پرخطر مہم کے لیے اللہ سے اپنے بھائی کی رفاقت طلب کی۔ ان کے بھائی ہارون ایک جانثار ساتھی ثابت ہوئے۔ فرعون کے دربار میں ان کے ساتھ گئے، ہجرت بھی ساتھ کی، مشکل ترین ذمہ داریاں سنبھالیں اور بنی اسرائیل کی نہیں ختم ہونے والی شرانگیزیوں کو ساتھ ساتھ جھیلا۔ یہ دو بھائی بہترین نمونہ ہیں ان لوگوں کے لیے جو اپنے بھائیوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر دین کی راہ پر چلنے کی سچی خواہش رکھتے ہیں۔ تحریکی ساتھیوں سے فرد کو بہت قوت ملتی ہے، تاہم اگر تحریکی ساتھی سگا بھائی ہو تو بے پناہ قوت کا احساس ہوتا ہے۔

اسلامی تحریک میں جب بھائی بھائی شانہ بشانہ اپنے حقیقی فرض کی ادائیگی میں مصروف ہوں، ہر ایک اپنی تمام تر توانائیاں اللہ کی راہ میں جھونکنے کے لیے بے تاب ہو، تو اس سے نہ صرف ان کے مومن ماں باپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں، بلکہ ان کی آنے والی اسلامی نسل کو بھی ایمان افروز روشن مثالیں اور ناقابل شکست ایمانی حوصلہ ملتا ہے، ایسے بھائی پوری تحریک کے لیے نمونہ بنتے ہیں، فرد کی تنہا شمولیت کے مقابلے میں بھائیوں کے ساتھ شمولیت تحریک کو بہت زیادہ قوت پہونچاتی ہے۔

تمام بھائیوں کے تحریک میں شامل ہوجانے میں تحریکی ماں باپ کا کردار بہت اہم ہوتا ہے، کہ وہ اپنے کسی ایک بچے کی تحریک میں شمولیت کو کافی نہ سمجھیں، بلکہ اپنے ہر ہر بچے میں تحریکی جذبہ اور فرض منصبی کا شعور پیدا کرنے کی محنت کرتے رہیں، یہ ایسا کام نہیں ہے کہ کرتے کرتے وہ اکتا جائیں، یہ تو روزانہ تازہ دم ہوکر کرنے کا کام ہے۔ جس طرح پرندے روزانہ صبح دم تازہ دم ہوکر پرواز پر نکلتے ہیں۔

ماں باپ کے علاوہ اپنے بھائیوں کے تئیں اس بھائی کی ذمہ داری بہت بڑھی ہوئی ہوتی ہے جو سب سے پہلے تحریک سے آشنا ہوا ہو۔ درحقیقت زندگی کے نصب العین کا شعور سب سے بڑی دولت ہے، اس دولت کو جتنا تقسیم کریں اتنی اس میں برکت ہوتی ہے، جسے یہ دولت حاصل ہوجائے وہ سب سے پہلے اسے اپنے قریب ترین لوگوں میں تقسیم کرے۔ یہ کوتاہ ظرفی کی بات ہے کہ ایک بھائی اس دولت سے مالا مال ہو اور باقی بھائی اس سے دور ہی نہیں بالکل اس کی لذت سے بھی یکسر ناواقف ہوں۔

رشتے کے بھائی مشن کے ساتھی

”میرے گھر والوں میں سے مجھے ایسا ساتھی عطا کردے جو اس راہ میں میری قوت بڑھانے والا اور میری مدد کرنے والا ہو” وَاجْعَلْ لِی وَزِیرًا مِنْ أَہْلِی (سورۃطہ) موسی علیہ السلام کی یہ دعا بہت معنی خیز اور سبق آموز ہے۔ جہاں اجتماعی مناصب اور منافع کا معاملہ ہو وہاں اقربا پروری سے دور رہنا ضروری ہے، لیکن جہاں جدوجہد، آزمائش اور قربانی درپیش ہو، وہاں ایک مومن کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے عزیز وقریب دور نہ رہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ رہیں، اس کا حوصلہ بڑھائیں اور اس کی طاقت بنیں۔

موسی علیہ السلام کا اپنے بھائی کے بارے میں کہنا: ”میرے بھائی کے ذریعہ مجھے تقویت عطا فرما” اشدد بہ أزری (سورۃ طہ) اور اللہ پاک کا فرمانا: ”ہم تمھارے بھائی کے ذریعہ تمھارے بازو مضبوط کریں گے” سنشد عضدک بأخیک (سورۃ القصص) بہت حوصلہ بخش الفاظ ہیں۔ کیسا پیارا منظر ہوتا ہے جب اسلام کی نصرت کے لیے نکلنے والے تمام بھائی ایک دوسرے کی قوت بازو میں اضافہ کرتے ہیں۔ اور کیسا پیارا منظر ہوتا ہے جب تمام بھائی مل کر اللہ کی حمد وتسبیح کے گیت گاتے ہیں، اور اللہ کی بڑائی کا ساری دنیا میں اعلان کرتے ہیں۔ کَیْ نُسَبِّحَکَ کَثِیرًا. وَنَذْکُرَکَ کَثِیرًا (سورۃطہ).

واقعہ یہ ہے کہ اسلامی تحریک میں بھائیوں کی طاقت ور شمولیت اسلامی تحریک کو چار چاند لگادیتی ہے۔

مومن والدین اور مومن اولاد، درخشاں مثالیں

ایمان کی دولت سے سرشار والدین اور اولاد کا تعلق ویسا ہی ہونا چاہئے جیسا ابراہیم اور اسماعیل کا تھا، اور جیسا داود اور سلیمان کا تھا، اور جیسا یوسف اور ان کے والد کا تھا، اور جیسا زکریا اور یحیی کا تھا، اور جیسا مریم اور ان کی والدہ کا تھا، اور مریم اور ان کے بیٹے عیسی کا تھا۔ قرآن مجید غور سے پڑھنے والوں کے لیے ان تعلقات میں بڑی قیمتی رہنمائی اور بہت روشن خطوط کار ہیں۔

اس راستے پر اپنے عزیزوں سے الگ تنہا چلنے والوں کے دل کی اضطرابی کیفیت ویسی ہونی چاہئے جیسی کیفیت نوح کی اپنے بیٹے کے تعلق سے اور ابراہیم کی اپنے باپ کے تعلق سے قرآن مجید میں صاف صاف دیکھی جاسکتی ہے۔ ایک مومن کے لیے اس کے کسی قریبی عزیز کا آخرت کے سفر میں شریک سفر نہ ہونا، حقیقی کامیابی کی واحد منزل سے غافل ہوجانا، نہایت خطرناک قسم کی بے سمتی کا شکار ہوجانا، اور اپنی منصبی ذمہ داری کو نہ قبول کرنا بہت تکلیف کی بات ہوتی ہے، جو اسے بہت بے چین رکھتی ہے۔

عمر بن عبدالعزیز کا مثالی خاندان

رہنمائی لینے کے لیے مثالوں سے بھرپور ایک بہترین نمونہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کا خاندان بھی ہے۔ عمر بن عبدالعزیز کی بیوی کی پرورش اموی سلطنت کے شان دار محلوں میں ہوئی تھی، وقت کے سب سے بڑے حکمراں کی بیٹی اور پھر سب سے بڑے حکمراں کی بیوی ہونے کا عام اور رائج مطلب آسائشوں اور آرائشوں میں اپنے شب وروز بسر کرنا تھا، مگر عمر بن عبدالعزیز نے انہیں بتایا کہ ان کی منزل محل کی عشرتیں نہیں بلکہ زہد وتقوی اور قرب الہی کے زینے ہیں، پاک بی بی نے بلا تردد شوہر کے دشوار گزار سفر زندگی میں قدم قدم ساتھ دینے کا فیصلہ کرلیا۔ تاریخ کے طلبہ جانتے ہیں کہ عمربن عبدالعزیز کا تذکرہ ان کی بیوی کے تذکرے کے بغیر پورا نہیں ہوتا ہے، اور عمر بن عبدالعزیز کے بہترین تذکرے وہ ہیں جو ان کی بیوی نے ان کے بارے میں کئے ہیں۔

عمر بن عبدالعزیز کا تذکرہ ان کے بیٹے عبدالملک کے بغیر بھی مکمل نہیںہوتا ہے۔ عظیم باپ بیٹے کے مکالمات سنتے ہوئے آنکھیں آنسووں سے چھلک پڑتی ہیں، اور دل میں ایمان تازہ ہوجاتا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز نے خلیفہ بننے کے بعد اعیان مملکت کو جمع کیا اوربتایا کہ ظالم حجاج نے بہت سے لوگوں کی جائیدادیں غصب کرلی تھیں اور لوگوں میں تقسیم کردی تھیں، انہیں ان کے اصل مالکوں تک لوٹائے جانے کے بارے میں کیا رائے ہے؟ یہ سوال سب کے مفادات پر کاری ضرب لگانے والا تھا، تمام لوگوں نے کہا ایسا ہرگز نہ کریں، یہ آپ کے دائرہ اختیار سے باہر کی بات ہے۔ آخر میں ان کے بیٹے عبدالملک کی باری آئی، بیٹے نے کہا: ابو جان آپ بس اتنا جان لیں کہ اگر کوئی شخص اتنی قوت رکھتا ہے کہ حجاج کے ذریعہ ظالمانہ غصب کی گئی جائیدادیں ان کے اصل مالکوں تک لوٹادے، اور پھر بھی وہ ایسا نہ کرے تو وہ بھی اس کے ظلم میں برابر کا شریک مانا جائے گا۔ اس پر عمر بن عبدالعزیز نے کہا: اللہ کا شکر ہے جس نے میرے بیٹے عبدالملک کو میرا وزیر اور میری تقویت کا ذریعہ بنایا۔

عمر بن عبدالعزیز حکمت اور تدریج کے ساتھ عدل وانصاف کے قیام کے لیے ہر وقت کوشاں رہتے تھے، لیکن عبدالملک پھر بھی بے چین رہتے تھے۔ ایک بار عبدالملک نے کہا: ابو جان جو عدل آپ قائم کرنا چاہتے ہیں اس سے آپ کو کیا چیز روکتی ہے، خدا کی قسم مجھے ذرا پرواہ نہیں ہوگی اگر اس راہ میں مجھے اور آپ کو دیگوں میں ابال دیا جائے۔

ہر باپ چاہتا ہے کہ بیٹے کی آمدنی اس سے زیادہ ہوجائے، بیٹے کی تجارت اس کی تجارت سے زیادہ ترقی کرے، بیٹے کا گھر اس کے گھر سے زیادہ عالی شان ہو۔ لیکن بہترین باپ وہ ہے جو بیٹے کو اس طرح تیار کرے کہ وہ جنت کی طرف باپ کے ساتھ ساتھ تیز دوڑنے والا ہو، اسلامی تحریک میں باپ کے شانہ بشانہ سرگرم رول ادا کرے، اسلام کے راستے میں اس کی فتوحات باپ سے بھی زیادہ ہوں، ایسی ہی تربیت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے بچوں کی تھی۔

عمر بن عبدالعزیز کی وفات ہوئی تو ان کے گیارہ بچے تھے، انہوں نے اٹھارہ دینار ترکے میں چھوڑے تھے، تجہیز وتدفین میں نو دینار خرچ ہوئے، باقی نو دینار گیارہ بچوں میں تقسیم کئے گئے۔ وفات کے وقت لوگوں نے پوچھا: آپ نے اپنے بچوں کے لیے کیا چھوڑا؟، فرمایا: انہیں تقوی اور خدا ترسی سے مالا مال کردیا ہے، اگر وہ نیکی پر قائم رہے، تو اللہ نیک لوگوں کا انتظام کرنے والا ہے، اور اگر انہوں نے روش بدل لی، تو میں وہ کچھ کیوں ان کے لیے چھوڑوں جس سے انہیں اللہ کی نافرمانی کرنے میں مدد اور سہولت حاصل ہوجائے۔

اللہ نے عمر بن عبدالعزیز کے بچوں کے مال میں اتنی برکت اور دل میں نیکی کا ایسا جذبہ دیا کہ دیکھنے والے کہتے ہیں خدا کی قسم ایک دن ہم نے خود دیکھا کہ ان کا ایک بیٹا جہاد کی خاطر ساز وسامان سے لدے ہوئے سو گھوڑے اللہ کی راہ میں صدقہ کررہا تھا۔

خلیفہ وقت عمر بن عبدالعزیز کے گھر کا یہ منظر بھی قابل دید ہے، کہ بچے عید کے کپڑوں کے لیے انتظار کررہے ہیں، ابو جان خالی ہاتھ آتے ہیں، اور پوچھتے ہیں، میرے جگر کے ٹکڑو، کیا تم یہ پسند کرو گے کہ تم سب صبر کرو اور ہم سب ساتھ ساتھ جنت میں داخل ہوں، یا یہ پسند کرو گے کہ تم صبر نہیں کرو، اور تمہارے ابو دوزخ میں چلے جائیں۔ بچے بیک آواز کہتے ہیں: ابو جان ہم صبر کریں گے، تاکہ ہم سب ساتھ ساتھ جنت میں جائیں۔

سچی بات یہ ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کے تجدیدی کارناموں کی پشت پر ان کی بیوی اور بچوں کی زبردست تائید اور مدد کا بہت بڑا کردار تھا، انہوں نے بیوی بچوں کی اس طرح تربیت کی کہ انھوں نے ہمیشہ ان کی ڈھارس بندھائی، ان کا حوصلہ بڑھایا، اور اپنے سلسلے میں انہیں کبھی مایوس نہیں ہونے دیا۔ اسلامی تحریک کے ہر ہر فرد کو عمر بن عبدالعزیز کے خاندان کے بارے میں خوب خوب پڑھنا چاہئے، اور اپنے گھر والوں کو بھی پڑھانا چاہئے، تاکہ اسی طرح کے خاندان بنانے کا طاقت ور جذبہ گھر کے ہر فرد کے اندر پیدا ہوجائے۔

اپنے گھر کو اسلامی گھر بنادیں

بلاشبہ اسلامی تحریک کی بہترین صورت یہ ہے کہ تحریک میں تنہا فرد شامل نہیں ہو، بلکہ فرد کے ساتھ اس کا پورا خاندان شامل ہوجائے۔ مسلمانوں کے درمیان سے اٹھنے والی اسلامی تحریکوں میں اس ہدف کا حصول زیادہ مشکل نہیں ہے۔ کیوں کہ اسلام سے پورے خاندان کا تعلق پہلے سے ہی ہوتا ہے۔ صرف اس تعلق کے اندر منصبی ذمہ داری کا احساس شامل کرنا ہوتا ہے، جس کے بعد پورا خاندان اسلام کے رنگ میں رنگنے لگتا ہے۔

دراصل منصبی ذمہ داری کا احساس ہی ایک تحریکی مسلمان کو غیر تحریکی مسلمان سے ممتاز کرتا ہے۔ حقیقت میں تحریکی مسلمان وہ نہیں ہے جس کا کسی خاص اسلامی جماعت سے محض رسمی تعلق ہو، تحریکی مسلمان وہ ہے جو ان ذمہ داریوں کا شعور رکھتا ہو، اور ان کی ادائیگی کے لیے کمربستہ ہو، جو ذمہ داریاں اسلام کی طرف سے اسلام کی خدمت ونصرت اور تعارف ودعوت کے سلسلے میں ایک فرد پرعائد ہوتی ہیں۔

اجتماعی جدوجہد کا مزاج بچپن سے بناتے رہیں

قرآن مجید میں اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں آیا ہے، فلما بلغ معہ السعي’’جب بیٹا باپ کے ساتھ جدوجہد کی عمر کو پہونچا‘‘ یہ جملہ نصیحت سے بھرپور ہے، بیٹے کو باپ کی تربیت سے بھرپور رفاقت ملنی چاہئے، باپ دینی جدوجہد میں مصروف ہے تو بیٹے کو بھی جوانی میں قدم رکھتے ہی باپ کے ساتھ اس جدوجہد میں شامل ہوجانا چاہئے۔

اگر آپ تنہا دینی کام کرتے رہے، اور آپ کے بچے بھی تنہا تنہا دینی کام کرتے رہے، تو دیندار ہوجانے کے باوجود ،دین کے لیے اجتماعی جدوجہد والا مزاج نہیں بن سکے گا۔ لیکن اگر آپ نے اپنے بچوں کو ہر اچھے کام میں اپنے ساتھ رکھا تو ان کی اٹھان اور ان کا مزاج اجتماعی جدوجہد والا بنے گا۔

اجتماعی سرگرمی کا مزاج بنانے کے لیے اللہ کی طرف سے نماز باجماعت کا بہترین انتظام ہے۔ اگر آپ بچوں کے ساتھ مسجد جانے اور آنے کا معمول بنالیں، اور بچوں کو مسجد کی صالح اجتماعیت سے جوڑ دیں، تو آپ اجتماعیت کی ایک مضبوط بنیاد استوار کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اس بنیاد پر آپ مشترک اجتماعی جدوجہد کی اونچی عمارت کھڑی کرسکیں گے۔

گھر سے مسجد کا سفر ایک واضح پیمانہ ہے، اگر آپ کے بچے آپ کے ساتھ اس سفر میں شریک نہیں ہیں تو اس کا صاف مطلب ہے کہ آپ نے اسلامی تحریک کے سفر میں ان کو ساتھ نہ رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جو بچے اقامت نماز کی راہ میں اپنے باپ کے ساتھ نظر نہیں آئیں ان سے اقامت دین کے سفر میں شریک ہونے کی کیا توقع رکھی جائے۔

تاہم یاد رہے کہ اقامت نماز کے ہم سفروں کو اقامت دین کا ہم سفر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اقامت دین کی سرگرمیوں میں بھی جہاں ہوسکے انہیں ساتھ ساتھ رکھیں، اور جہاں ہوسکے انہیں پیش پیش رکھیں، ورنہ وہ اقامت نماز ہی تک محدود رہ جائیں گے۔

حکیم لقمان کے انداز تربیت میں اسلامی تحریک کے ہر فرد کے لیے بڑا سبق ہے، سورۃ لقمان پڑھیں اور دیکھیں کہ حکیم لقمان نے اپنے بیٹے کے ذہن میں شرک سے شدید نفرت پیدا کی۔ اس کے ساتھ ہی اقامت نماز کی مضبوط تحریک پیدا کی۔ اور اس کے ساتھ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کا طاقت ور جذبہ دے کر اصلاح اور دعوت کے میدان میں اتار دیا۔ اس میدان کی مشکلوں اور مصیبتوں کا مضبوطی سے سامنا کرنے کی تلقین کرکے دل سے ہر طرح کی جھجھک اور ڈر بھی نکال دیا۔ ساتھ ہی اخلاق وکردار کے بہترین داعیانہ اوصاف سے آراستہ کر کے اسے سچا داعی اسلام بنادیا۔

اسلامی تحریک کے مخلص کارکن جو اپنے بچوں کو تحریک اسلامی کا بہترین سپاہی بنانے کا شوق رکھتے ہیں، وہ حکیم لقمان کے انداز تربیت کو حرف بحرف اختیار کرسکتے ہیں۔

اپنے گھر کو ذہن سازی کا گہوارہ بنادیں

اگر گھر کے افراد کو اسلامی تحریک کے قافلے میں شریک کرنے کی سچی خواہش ہے، تو گھر میں اعلی مقصد والی باتوں کا زیادہ سے زیادہ تذکرہ ہونا چاہئے، جیسے:

اسلام کی خوبیوں کا تذکرہ ،تاکہ اسلام کی عظمت اور اس عظیم نعمت سے بہرہ مند ہونے کا احساس دل پر نقش ہوتا رہے، اور ایک قدر شناس اور شکر گزار شخصیت بن جائے۔

اسلام کے تقاضوں کا تذکرہ، تاکہ فرض منصبی کا احساس ذہن نشین ہوتا رہے، اور وہ چھوٹی چھوٹی خواہشوں کے مقابلے میں زیادہ طاقت ور ہوجائے۔

اللہ کے رسول ﷺ، تمام رسولوں اور صحابہ وصالحین کی جدوجہد کا تذکرہ ،تاکہ دین کی راہ میں جدوجہد کا شوق بڑھتا جائے۔

اسلامی تحریک کے کارناموں کا تذکرہ، اہل تحریک کی جدوجہد اور قربانیوں کا تذکرہ، تاکہ اسلامی تحریک سے محبت دل میں گھر کرلے۔

دور حاضر میں اسلامی تحریک کی ضرورت کا بیان، اور فرض منصبی کی ادائیگی میں اسلامی تحریک کی اہمیت کا ذکر، تاکہ گھر کے افراد پورے شعور اور سچے جذبے کے ساتھ تحریک میں شامل ہوں۔

غرض یہ وہ بنیادی پہلو ہیں، جن کا موثر اور دلنشین تذکرہ خاندان کے تمام افراد کو اسلامی تحریک سے بہت قریب کرسکتا ہے۔

دل میں یہ بات نقش کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اپنے دین کے لیے جدوجہد کرنے کو بہت اہم کام قرار دیا ہے۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ ساری باتیں آپ خود بیان نہیں کرسکیں گے، تو انہیں دوسروں کے ذریعہ سننے کے مواقع فراہم کریں۔

یقینی بنائیں کہ اسلامی تحریک میں شمولیت کو محض آپ کی خواہش کے طور نہیں دیکھا جائے، بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول اور اس کے دین سے محبت کا ضروری تقاضا بن کر سامنے آئے۔ اللہ کے رسول ﷺ کے مشن میں سب سے پہلے آپ کے قریب ترین لوگ شامل ہوئے، محض آپ کی خواہش کے احترام میں نہیں بلکہ آپ کے پیغام سے متأثر ہوکر، حق کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے، اللہ کو راضی کرنے کے لیے۔

گھر کی سطح بلند کریں، تحریکی قدروں سے واقف کرائیں

سماج میں رائج سطحی تصورات کے مقابلے میں تحریک کی اعلی قدروں کو گھر میں متعارف کرائیں، تاکہ گھر والے تحریک کے معاملات کو عام سطحی نظر سے نہ دیکھیں۔ مثال کے طور پر آپ کے بچے کبھی پوچھ سکتے ہیں کہ آپ کو اپنی جماعت میں کوئی عہدہ کیوں نہیں ملتا ہے۔ ایسی صورت میں آپ انہیں سمجھائیں گے کہ ہم تحریک میں کسی منصب کو حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے شامل ہوئے ہیں۔ اور اللہ کی رضا ایک مخلص اور محنتی کارکن سے بھی اتنی ہی قریب ہوتی ہے جتنی ایک مخلص اور محنتی امیر سے ہوتی ہے۔ آپ انہیں یہ بھی بتائیں گے کہ اسلامی تحریک میں منصب کی خواہش دل میں پالنا گناہ سمجھا جاتا ہے، اور منصب کو اعزاز کی بات نہ سمجھ کر بادل ناخواستہ اور بڑی بھاری ذمہ داری سمجھ کر ہی قبول کیا جاتا ہے۔ اسی لیے تحریک میں جسے کوئی منصب نہیں ملتا ہے وہ ذرا بھی برا محسوس نہیں کرتا ہے، بلکہ خوش رہتا ہے کہ اس پر اتنا بھاری بوجھ نہیں آیا۔

اگر تحریک کی طرف سے آپ کے اوپر کوئی ذمہ داری ڈالی جاتی ہے، تو آپ کے گھر والے اسے فخر کا سامان محسوس نہ کریں، بلکہ آزمائش سمجھ کر آپ کی اور بڑھ چڑھ کر مدد کریں، وہ اس آزمائش کے بوجھ کو آپ کے اوپر محسوس کریں۔

گھر کے لوگوں کو یہ بھی جاننا چاہئے کہ آپ تحریک میں تن من دھن سے سرگرم ہیں، تو آپ اس کا اجر صرف اللہ سے چاہتے ہیں، تحریک کے افراد سے نہ تو آپ تحسین وستائش چاہتے ہیں، اور نہ اپنی خدمات کا کوئی صلہ چاہتے ہیں۔ آپ کے گھر والوں کے دل میں کبھی یہ خیال بھی نہ آئے کہ تحریک نے ہمیں کیا دیا۔

گھر والوں کو یہ بھی بتایا جائے کہ تحریک کے فیصلے مشوروں سے ہوتے ہیں، اور جو فیصلہ مشورے سے ہوتا ہے، وہ سب کا فیصلہ بن جاتا ہے، خواہ اس سے کسی کو اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔ ان کے ذہنوں میں یہ بات نہیں آنی چاہئے کہ آپ چونکہ اس فیصلے کے حق میں نہیں تھے، اس لیے وہ فیصلہ ناقابل احترام ہے۔ بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ اجتماعی فیصلوں کا احترام کرنا اجتماعیت کے ہر فرد کا اخلاقی فریضہ ہے، اور اجتماعیت کی روح کا تقاضا ہے۔

غرض تحریک کی اعلی قدروں سے انہیں واقف کراتے رہیں، اور گھر میں رہتے ہوئے تحریک کے سلسلے میں اپنے رویے کو ہمیشہ مثبت رکھیں، تاکہ وہ آپ کی کسی بات سے تحریک کے سلسلے میں منفی پیغام نہ لیں۔

بچوں کی تحریکی صلاحیتیں آپ خود ابھاریں

مقامات کے دوروں اور ملاقاتوں کے دوران بہت سے لوگ بڑی دردمندی سے کہتے ہیں کہ ہمارا بیٹا آپ کے ادارے میں زیر تعلیم ہے، آپ اسے تحریکی فکر سے قریب کردیں۔ان کی یہ فکرمندی قابل ستائش ہے، لیکن افسوس اور تکلیف کی بات یہ ہے کہ ایسے بعضوں نے بچپن سے اب تک اپنے بیٹوں کے ذہنوں پر تحریک کا ذرا بھی نقش قائم نہیں کیا ہوتا ہے۔

اسلامی تحریک سے آپ کی وابستگی کس قدر اخلاص پر مبنی ہے، اس کی پہلی جانچ اس سے ہوتی ہے کہ آپ تحریک سے اپنے گھر والوں کو کس قدر (اگر متأثر نہیں تو کم از کم) متعارف کراسکے۔

اگر آپ اسلامی تحریک کو محض ایک پارٹی سمجھتے ہیں، جس سے اس لیے وابستہ ہوگئے کہ آپ کے احباب وابستہ ہیں، تو آپ اپنی تنہا انفرادی وابستگی پر ضرور مطمئن ہوسکتے ہیں، لیکن اگر اسلامی تحریک سے جڑنے کامحرک دینی ذمہ داریوں کا احساس اور فرض منصبی کی ادائیگی کا جذبہ ہے، اور تحریک سے وابستگی کا ہدف جہنم سے نجات اور آخرت کی کامیابی ہے۔ تب یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ محض اپنی انفرادی وابستگی پر مطمئن ہوجائیں۔ آپ یقینا چاہیں گے کہ ہر وہ فرد جس سے آپ محبت کرتے ہیں وہ اس تحریک سے وابستہ ہوجائے۔

یاد رکھیں، اپنے بچوں کو سچا داعی اور اسلامی تحریک کا فعال کارکن بنانے کی پوری ذمہ داری آپ کو خود قبول کرنی ہوگی۔ بچوں کے اسلامی سرکل اور طلبہ ونوجوانوں کی اسلامی تنظیم سے نہ یہ توقع رکھیں اور نہ ان پر یہ بوجھ ڈالیں کہ وہ آپ کے بچوں کو تیار کریں گی۔ لوگوں میں عام سوچ یہ ہے کہ بچے تنظیم سے وابستہ ہیں، اس لیے آپ کے بچوں کو تیار کرے گی، اس سوچ کو بالکل بدل کر اس طرح سوچیں کہ آپ کو اپنے بچے تیار کرکے تنظیم کو دینا ہیں۔ ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہئے، بچوں اور نوجوانوں کی تنظیموں کے پاس افراد تیار کرنے کا بھرپور انتظام نہیں ہوتا ہے، کیوں ان کے ممبران اور ذمہ داران خود تربیت کے مراحل سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن جب آپ اپنے بچوں کو تیار کر کے ان تنظیموں کے پاس بھیجیں گے، تو وہ بہت مضبوط ہوجائیں گی، اور آپ کے بچے وہاں جا کر اسلام کی خدمت ونصرت کے میدان میں بھرپور کردار ادا کرسکیں گے۔ اگر اسلامی تحریک کے تمام افراد اپنے بچوں کو دینی فکر وشعور سے آراستہ کرکے اور ان کی صلاحیتوں کو مشق وتمرین کے ذریعہ اجاگر کرکے اسلامی طلبہ تنظیم میں بھیجنے لگیں، تو یہ تنظیم بہت فعال اور طاقت ور ہوجائے گی، اور ملک کی نوجوان نسل تک اسلام کو پہونچانے اور ان کے ذہنوں میں مثبت تبدیلی لانے کا بہت بڑا کام کافی آسان ہوسکتا ہے۔

فرض منصبی کا شعور رکھنے والے مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنی بڑی ذمہ داریاں دوسروں پر ڈالنے والا بن جائے، اور اس پر مطمئن ہوجائے۔

یاد رکھیں کہ تحریک اسلامی سے آپ کے وابستہ ہونے کی وجہ سے آپ کے بچے بھی کسی نہ کسی حد تک تحریک سے نسبت کا احساس ضرور رکھتے ہیں، تاہم ان کے اندر شعوری وابستگی، جذباتی لگاؤ اور فعال سرگرمی کا فقدان ہوتا ہے۔ ان تینوں چیزوں کو پروان چڑھانے کے لیے آپ کو کوشش بھی کرنی چاہئے اور مواقع بھی مہیا کرنے چاہئیں۔

بچوں کے ساتھ تحریکی سفر بار بار کریں

کوئی تحریکی اجتماع ہو، یا آپ کا کہیں کا تحریکی دورہ ہو، تمام مصروفیات پر ترجیح دیتے ہوئے اپنے بچوں کے ساتھ قریب یا دور کا تحریکی سفر ضرور کریں اور بار بار کریں۔ سفر پر نکلنے سے پہلے یہ نیت کرلیں کہ یہ محض تفریحی نہیں بلکہ بچوں کے تحریکی شعور کو ترقی دینے والا سفر بن جائے۔

کوشش کریں کہ سفر کے دوران ان کے اندر اخلاقی قدریں پروان چڑھیں، جہاں جہاں موقع ملے وہ خدمت خلق کے کام کریں، ویسے بھی سفر میں خدمت خلق کے مواقع بہت زیادہ اور بہت قریب ہوتے ہیں۔

سفر میں لوگوں کے ساتھ گھل مل کر ان سے اچھی بھلی باتیں کرنے کے مواقع بھی بہت ملتے ہیں، ان مواقع کو حکمت کے ساتھ استعمال کرنے کی تربیت دیں۔

اس تحریکی سفر کی منزل پر بچے مشاہدہ کریں گے کہ اسلام کی خدمت کے لیے متحد ہوجانے والوں کے درمیان کیسی محبت ہوتی ہے، اور وہ ایک دوسرے کے لیے کتنی خیرخواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کا کتنا احترام اور ایک دوسرے کے لیے کتنا ایثار اور ایک دوسرے کے بارے میں کتنی فکرمندی رکھتے ہیں۔

ضروری ہے کہ اس موقع پر بچے مشاہدہ کریں کہ اللہ واسطے کی محبت کیسی ہوتی ہے۔

تحریکی سفر کی اس منزل پر بچوں کو تربیت کی بہت سی اچھی باتیں سننے کا موقع ملے گا، تحریک سے وابستہ اہل تربیت سے راست حکمت اور معرفت کی باتیں سننے کا بچوں کی شخصیت پر بہت اچھا اثر ہوتا ہے۔

اس سفر کے نتیجے میں توقع کی جاتی ہے کہ آپ کے بچوں کے بہت سے اچھے بچوں اور تحریکی بزرگوں سے اچھے تعلقات قائم ہوجائیں گے۔ ان تعلقات کا شخصیت کی تعمیر پر اچھا اثر ہوتا ہے۔

آپ جو نصیحت کی باتیں راست اپنے بچوں سے کہنے میں تکلف محسوس کرتے ہیں، وہ آپ اس دوران دوسروں کو مخاطب بناکر کہہ سکتے ہیں۔ عمومی مجلسوں اور عام لفظوں میں بیان ہونے والی نصیحتوں کا بسا اوقات زیادہ اچھا اثر ہوتا ہے۔

غرض یہ کہ تحریکی اسفار میں اپنے بچوں کو ساتھ رکھنے کے بے شمار فائدے ہیں، جن میں ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کے بچے تحریک میں آپ کے ہم سفر ہونے کے لیے دل ودماغ کے ساتھ تیار ہوجاتے ہیں۔

خود کمزور نہ بنیں، بچوں کو مضبوط بنائیں

کیا آپ ایک مضبوط باپ ہیں؟ آپ کی پوری زندگی بچوں کے مطالبات پورے کرنے میں گزرتی ہے۔ لیکن کیا آپ بھی اپنے بچوں سے کچھ مطالبے کرنے کا حق اپنے پاس رکھتے ہیں؟

آپ دن بھر پسینہ بہاکر بچوں کی پرورش کا سامان کرتے ہیں، تو کیا آپ کی بات میں اتنا وزن ہے کہ جب آپ بچوں سے کہیں کہ وہ آپ کے ساتھ کسی دینی اجتماع میں چلیں، تو وہ اپنی تمام مصروفیات اور تمام بہانوں کو ایک طرف رکھ کر آپ کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوجائیں؟

آپ نماز کے وقت انہیں اپنے ساتھ مسجد لے کر جائیں تو وہ آپ کے ساتھ خوشی خوشی جائیں؟

آپ خدمت خلق کے کسی کام سے نکلیں اور بچوں کو بھی اپنے ساتھ لے جاسکیں؟

یہاں بچوں سے ان کی آزادی چھین لینے کی بات نہیں ہے، بلکہ والدین کا اپنی ذمہ داری کو صحیح طور سے ادا کرنے کا معاملہ ہے۔ خیر وبھلائی اور تزکیہ وتربیت کے اہم مواقع سے بچوں کو بچپن سے ہی جوڑنا خود ان بچوں کی بہترنشوونما کے لیے مفید ہوتا ہے،اگرغفلت، لاپرواہی اور بے مقصد تفریحات انہیں ان مواقع سے دور اور محروم کررہی ہوں، تو ایک باپ کو اتنا مضبوط تو ہونا ہی چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو بگاڑ کے راستے سے کسی طرح کھینچ کر تعمیر کے راستے پر لاسکے۔

اولاد کے لیے باپ کی اطاعت اس وقت ضروری ہوجاتی ہے جب باپ انہیں اللہ کی اطاعت کی طرف بلائے۔ باپ کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ بچوں کو اللہ کے دین سے جوڑنے کی کوشش کرتا رہے۔ ایک باپ کو اتنا مضبوط ضرور ہونا چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو اللہ کی اطاعت اور اس کے دین کی نصرت کی طرف بلاسکے۔

ہوسکتا ہے کہ آپ اپنے بچوں کی خود تربیت کرنے کی صلاحیت اپنے اندر محسوس نہ کرپاتے ہوں، لیکن اپنے بچوں کو کسی تربیت گاہ میں لے جانے کا شوق اور اس کی استطاعت آپ کے اندر ضرور ہونی چاہئے۔

بچپن سے ہی والدین اور بچوں میں اس طرح کی انڈراسٹینڈنگ ہونی چاہئے، کہ بچوں کی فرمائشیں والدین پوری کریں گے، تو والدین کی فرمائشیں بچے بھی پوری کریں گے۔ یہ مزاج بن جانے کے بعد والدین کو بس یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ ان کی فرمائشیں کیا ہونی چاہئیں۔

جتنی کم سنی میں بچوں کے ساتھ یہ انڈراسٹینڈنگ ہوجائے، اتنا ہی اچھا ہے، جوان ہونے کے بعد پھر اس طرح کی انڈر اسٹینڈنگ کو پیدا کرنا کچھ مشکل ہوجاتا ہے۔

یاد رکھیں کہ آپ کے گھر میں آپ کی اصل طاقت یہ ہے کہ آپ کتنے محبوب ، کتنے اہم اور کتنے باوقار ہیں۔

آپ اپنے بچوں کے اس قدر محبوب بن جائیں کہ وہ آپ کے ساتھ چلنے میں خوشی محسوس کریں، اور آپ کی خوشی کے لیے اپنے بہت سے شوق قربان کرنے کو تیار رہیں۔

آپ اپنے بچوں کے درمیان اتنے باوقار رہیں، کہ آپ کی بات ٹالنا ان کے لیے آسان نہیں رہے۔آپ کی شخصیت ان کے لیے اتنی اہم ہونی چاہئے کہ جب آپ بچوں کو اچھے کاموں کی طرف بلائیں، تو بچے آپ کی بات کا پورا پورا احترام کریں، اورآپ کی بات کو یکسر نظر انداز نہ کردیں۔

اس سب کے باوجود آپ کوشش کریں کہ اچھے کاموں سے بچوں کا راست رشتہ قائم ہوجائے۔ آپ کے بچے آپ کی ہر بات خوشی خوشی مان لیتے ہوں، پھر بھی ان کے اندر اچھے کاموں اور اچھی سرگرمیوں کا شوق پیدا کریں، کیوں کہ بچے اپنے شوق کے ساتھ اچھے کام کرتے ہیں، تو انہیں کہیں زیادہ لطف ملتا ہے۔

آپ ایسا شوق پیدا کردیں کہ بچے دینی سرگرمیوں کو آپ کا کام سمجھ کر نہیں بلکہ اپنا کام سمجھ کر انجام دیں۔

شریک حیات کو شریک تحریک بنائیں

اللہ کے رسول ﷺ تہجد کے بعد کچھ وقت نکال کر اپنی اہلیہ سے گفتگو فرماتے تھے، یہ گفتگو کس قدر ایمان افروز اور حکمت سے لبریز ہوتی تھی اس کا اندازہ آپ کے مقام ومنصب کو جاننے والے بخوبی کرسکتے ہیں۔

آپ وقت نکال کر اپنی شریک حیات کے ساتھ تحریک اسلامی کی اہمیت اور اس سے وابستگی کے تقاضوں پر ضرور گفتگو کریں، اور بار بار گفتگو کریں۔ بہت ضروری ہے کہ تحریک اسلامی کا جو شعور آپ کی راہیں روشن رکھتا ہے اس شعور سے آپ کی بیوی بھی مالا مال ہوجائے، آپ کے دل کا وہ جذبہ جو آپ کو بیتاب رکھتا ہے، اس کی حرارت آپ کی بیوی کے دل تک پہونچے۔

آپ اپنے گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ متعدد تحریکی سرگرمیاں انجام دیں، جیسے:

ایک ساتھ بیٹھ کر اچھی تقریر یں سننا۔

ایک ساتھ بیٹھ کردینی مضامین اور کتابیں پڑھنا۔

مل کر کسی تحریکی ایشو پر گفتگو کرنا۔

مل کر بچوں کو تحریک کے لیے تیار کرنے کی کوشش کرنا۔

ایک ساتھ تحریکی اجتماعات میں جانا۔

رشتے داروں اور پڑوسیوں کو دین پسند بنانے کی مشترک کوشش کرنا۔

ایک دوسرے کی کامیابی کے لیے دعا کرنا۔

اپنے جذبات کواپنوں کے جذبات بنادیں۔

آپ تحریک میں شامل ہوتے ہیں، تجدید شہادت کرتے ہیں، اپنے رب سے عہد وپیمان کرتے ہیں، یہ سب کرتے ہوئے  ضرورآپ کے دل میں ایمانی جذبات امنڈ آتے ہیں۔

آپ تحریک کے مطالبے پر قربانی دیتے ہیں، بسا اوقات اپنے پورے کیریر کو قربان کردیتے ہیں، یہ سب کرتے ہوئے آپ کے دل میں ایمانی جذبہ ٹھاٹھیں ماررہا ہوتا ہے۔

آپ کسی یتیم کی کفالت کرتے ہیں، کسی غریب کی اپنی حد استطاعت سے بھی بڑھ کر مدد کرتے ہیں، ریلیف ورک کے لیے نکلتے ہیں، خدمت خلق کا کوئی بڑا کام کرتے ہیں، اور یہ سب آپ ایمانی جذبے کے ساتھ کرتے ہیں۔

غور سے دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ایمانی جذبات کا یہ دریا صرف آپ کے دل میں ہی موج زن رہتا ہے، یا آپ کے بیوی بچے بھی اس سے سیراب ہوپاتے ہیں۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ اللہ کی راہ میں قربانی دینے کا اثر تو گھر کے تما م افراد پر پڑتا ہو، اور قربانی کے جذبات سے صرف آپ لطف اندوز ہوتے ہوں؟

آپ کے تحریکی اسفار سے آپ کے بیوی بچے آپ کی شدید کمی محسوس کرتے ہوں، لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہو کہ آپ روز روز یہ مشقتیں کیوں برداشت کرتے ہیں، اور انہیں چھوڑ کر کیوں چلے جاتے ہیں۔

جب ہمارے گھر والے ہمارے سینے میں موج زن جذبات سے یکسر ناواقف رہتے ہیں، اور پھر ہماری تحریکی سرگرمیوں کو عام مصروفیات کی طرح محض ایک مصروفیت سمجھتے ہیں، تو وہ ہمارے ساتھ ساتھ چلنے کا ارادہ بھی نہیں کرپاتے ہیں۔ بلکہ بسا اوقات وہ اپنی بے مقصد مصروفیات کو ہماری بامقصد سرگرمیوں سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ یہ سب اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ہمارے نہایت اعلی جذبات ہمارے دل میں ہی رہ جاتے ہیں، ان کے دلوں تک نہیں پہونچ پاتے ہیں۔

گھر سے تحریک تک، اپنی خواتین کی مدد کرتے رہیں

اگر خواتین کی تحریکی سرگرمیوں کے مواقع ہوں تو ان میںاپنی شریک حیات اور گھر کی دوسری خواتین کو زیادہ سے زیادہ شریک ہونے کی ترغیب دیں۔ اس سلسلے میں آپ کو جو محنت کرنی پڑے اسے اپنے لیے زحمت نہ سمجھیں بلکہ اللہ کی طرف سے دیا ہوا قیمتی موقع سمجھیں۔ اگر عورتوں کی تحریکی سرگرمیوں کی وجہ سے آپ کے گھر کے کام متأثر ہورہے ہوں تو یہ کوشش نہ کریں کہ ان کی سرگرمیاں کم ہوجائیں، بلکہ کوشش یہ کریں کہ آپ کی مدد اور تعاون سے ان کے گھر کے کام کچھ کم ہوجائیں۔

اگر آپ کو واقعی احساس ہوجائے کہ مردوں اور عورتوں پر مشتمل موجودہ سماج کی اصلاح کے لیے کتنی زیادہ اور کیسی مسلسل جدوجہد درکار ہے، تو  یقیناآپ خانہ داری کے اس روایتی تصور پر اڑے رہنا مناسب نہیں سمجھیں گے، جس میں گھر کے سارے کام عورت کو کرنے ہوتے ہیں، اور مرد کا ان کاموں میں شریک ہونا خلاف مروت سمجھا جاتا ہے۔ اگر آپ کے گھر کی خواتین کو اللہ نے توفیق دی ہے کہ وہ عورتوں کے سماج کو اسلامی سماج بنانے کی جدوجہد میں شریک ہیں، تو اسے بہت بڑی سعادت سمجھ کر جس قدر ان کی مدد کرسکیں ضرور کریں۔ کچھ نہیں تو اتنا سہی کہ آپ ان کی گھریلو مصروفیتوں کو کم کرنے کے لیے اپنی فرمائشیں کم کرلیں۔

یقین کریں، اگر آپ آگے بڑھ کر اپنے گھر کی عورتوں کو درس وتقریر کی صلاحیتوں سے آراستہ کرسکیں تو یہ اسلامی تحریک میں آپ کا بہت بڑا رول ہوگا۔ عام طور سے ہوتا یہ ہے کہ جب خواتین درس وتقریر کی خود تیاری کرتی ہیں، تو انہیں مطلوبہ تیاری اور مہارت تک پہنچنے میں کافی وقت لگتا ہے، بلکہ کبھی تو کئی سال لگ جاتے ہیں، لیکن اگر تحریک میں سرگرم مرد حضرات اپنے اپنے گھر کی عورتوں کا ساتھ دیں اور ان کی تیاری میں مدد کریں، تو بہت کم وقت میں وہ خاصی دینی معلومات اور بیان کی اچھی مہارت حاصل کرلیتی ہیں۔

بہترین تحریکی گھر وہ ہے جہاں تحریک کے لیے مطلوب صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا ہمت افزا ماحول ہو، اس اعلی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مطالعہ کرنے اور سیکھنے کے مناسب انتظامات ہوں، اور جہاں مرد عورتیں اور بچے سب ایک دوسرے کا خوب تعاون کرتے ہوں۔ اور ان گھروں سے مشق اور تیاری کرکے نکلنے والے مرد عورتیں اور بچے اسلامی تحریک کے مختلف محاذوں پر سرگرم رول ادا کرتے ہوں۔

گاہے گاہے آپ کے گھر میں تحریکی مجلسیں منعقد ہونی چاہئیں، علاقے میں تحریک کے اہل علم وفکر اس میں شرکت کریں، وہاں بہت مثبت اور تعمیری گفتگو ہوا کرے، گھر کے بچے بھی وہاں بیٹھیں، عورتیں پردے کے پیچھے سے وہ گفتگوئیں سنیں۔ اور اس طرح گھر میں بہترین افکار اور خیالات کا خوب چرچا ہو۔

جب بھی موقع ملے تحریک کے تربیتی اجتماعات کرنے کے لیے اپنا گھر پیش کریں، اس طرح آپ کے گھر میں ہونے والی تربیتی تقریروں اور تذکیروں کا آپ کے گھر والوں کی شخصیت پر بہت اچھا اور دیرپا اثر واقع ہوگا۔

اسلام اور اسلامی تحریک سے بدگمان نہ ہونے دیں

گھر کے افراد کے درمیان اگر تحریک سے متعلق کوئی بدگمانی آجائے تو اسے پنپنے نہ دیں بلکہ دور کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے لیے خود بھی اپ ڈیٹ رہیں، اور تحریک کے اہل علم سے بھی رابطہ رکھیں۔ بدگمانیوں کو وہاں پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے جہاں علم اور معلومات کی کمی ہو۔

تحریک پر نکتہ چینی کو گھر کے ماحول میں ہرگز نہ شامل ہونے دیں، علم وتحقیق سے خالی نکتہ چینی بہت خراب عادت ہے۔فرد کے لیے اس کا مضر پہلو یہ ہے کہ تحریک کا کام کرنے کے مقابلے میں تحریک پر نکتہ چینی کرناایک آسان مشغلہ ہے، جسے یہ لت لگ جاتی ہے وہ پھر کسی کام کا نہیں رہتا ہے۔ پورے گھر کے لیے اس کا مضر پہلو یہ ہے، کہ گھر میں ایک فرد کی نکتہ چینی کی بری عادت پورے خاندان کو تحریک سے بدگمان اور اس کی برکتوں سے محروم رکھتی ہے۔

علمی تنقید کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن عامیانہ نکتہ چینی عام طور سے بے بنیاد اور محض پروپیگنڈا ہوتی ہے، یہ پروپیگنڈا مخالفین کے ذریعہ باہر پھیلتا ہے، لیکن اکثر تحریکی گھرانوں میں بھی چلا آتا ہے۔ میں نے اپنے بچپن میں تحریکی گھرانے کے ایک کم سن نوجوان کو اپنے گھر میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ جماعت والوں کے پاس امریکہ سے پیسے آتے ہیں، یہ اس زمانے میں روس نواز کمیونسٹوں کی جانب سے جماعت اسلامی کے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا تھا، جو پھیلتے پھیلتے تحریکی گھرانے کے نوجوان کی زبان پر بھی آگیا۔

اگر گھر کے باہر اسلامی تحریک کے خلاف پروپیگنڈا ہورہا ہو، اور بے سروپا الزامات لگاکر ذہنوں کو بدگمان کیا جارہا ہو، تو بہت زیادہ ضروری ہوجاتا ہے کہ گھر کے اندر تحریک اور اہل تحریک کی خوبیوں کے تذکرے ہوں، تاکہ گھر کے تمام افراد کی دفاعی پوزیشن مضبوط ہوسکے۔ اور وہ اس پروپیگنڈے کا بے خبری میں شکار نہ ہوجائیں۔

جاننا چاہئے کہ اسلامی تحریک کے خلاف ہر پروپیگنڈے کے خلاف سب سے پہلی تیاری تحریکی افراد کے گھروں میں ہونی ضروری ہے۔ تحریکی افراد کا گھر تحریک کی پہلی دفاعی لائن ہے۔

بدترین غیبت، اسلامی تحریک کی غیبت ہے

اپنے بچوں کو غیبت سے دور رکھیں، اور کسی ایسی مجلس میں نہ خود بیٹھیں اور نہ بچوں کو بیٹھنے دیں جہاں تحریک کے افراد کی غیبت ہورہی ہو۔

اسلامی تحریک کو سب سے زیادہ نقصان آپس کی غیبت سے پہونچتا ہے۔ ایک تحریکی کارکن کو دوسرے تحریکی کارکن سے شکایت ہوجاتی ہے، اور وہ اپنے گھر والوں کے سامنے اس کے سلسلے میں اپنے منفی جذبات کا اظہار کرتا ہے۔ گھر والے اس کارکن سے ہی نہیں بلکہ ایسی شکایتیں سنتے سنتے پوری جماعت سے متنفر ہونے لگتے ہیں۔ اگر منفی تبصروں کا ہدف جماعت کا کوئی ذمہ دار ہو تو گھر والوں کا جماعت سے تنفر اور زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ اور اگر منفی تبصرہ پوری قیادت کے سلسلے میں ہو تب تو پھر گھر میں تحریک ہمیشہ کے لیے ایک قابل نفرت چیز بن جاتی ہے۔

اگر انسان تنہائی میں سوچے کہ اس نے اپنی ہی تحریک، اپنے ہی قائد اور اپنے ہی کارکن ساتھیوں کے بارے میں اپنے گھر میں منفی تبصرے اور غیبت کر کے کیا کھویا اور کیا پایا، تو اس کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے، اور وہ چیخ اٹھے گا کہ میں نے اپنے اوپر، اپنی تحریک پر اور اپنے گھر والوں پر کتنا بڑا ظلم کیا، اور کتنے بڑے خسارے کا سودا کیا۔

غیبت بہت بڑا گناہ ہے، یہ اپنے مردار بھائی کا گوشت کھانے کی طرح ہے۔ یہ غیبت اس وقت بھی بہت بڑا گناہ ہے جب کہ اس غیبت کا اثر بہت محدود ہو، جیسے کہ ایک عام سے اجنبی انسان کی کوئی غیبت کردے۔ لیکن اگر غیبت سے اسلامی تحریک کا وقار مجروح ہورہا ہو، دلوں سے اسلامی جدوجہد کا احترام رخصت ہورہا ہو، فرض منصبی سے فرار کی راہیں ہموار ہورہی ہوں، تحریک کے افراد سے لوگ بدگمان ہورہے ہوں، گھر میں تحریک سے نفرت پھیل رہی ہو، تو اندازہ نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ایسی غیبت کتنا بھیانک جرم بن جاتی ہے، اور اللہ کے نزدیک اس کی سزا کتنی سخت ہوسکتی ہے۔

شیطان کے لیے بڑی کامیابی ہوتی ہے جب وہ اسلامی تحریک سے پورے مسلم خاندان کو بیزار کرکے اسے محض ایک فرد تک محدود کردیتا ہے۔ وہ خوشی کے شادیانے بجاتا ہے جب دیکھتا ہے کہ اسلامی تحریک کا ایک کارکن خود اپنے مسلم گھر اور خاندان میں بالکل اجنبی اور بے وزن بنا ہوا ہے، اور اسلامی تحریک سے اس کے تعلق کا خود اس کے مسلم گھر میں مذاق اڑایا جارہا ہے۔

اور شیطان ناکامی سے ہاتھ ملتا ہے جب کوئی پورا خاندان اسلام کی خدمت کے لیے سرگرم ہوجاتا ہے۔

وأنذر عشیرتک الأقربین

اللہ کے آخری رسول سیدنا محمد ﷺ کو حکم ہوا کہ اپنے قریب ترین رشتے داروں کو آگاہ کریں۔ اور پھردنیا نے دیکھا کہ آپ کے قریب ترین لوگ اسلامی تاریخ کے سابقون اولون بن گئے، آپ کی بیوی خدیجہ، آپ کے قریبی دوست ابوبکر، آپ کی سرپرستی میں رہنے والے علی، اور آپ کے منھ بولے بیٹے زید اور آپ کی تمام بیٹیاں،یہ سب آپ کے جانثار ساتھی بن گئے (اللہ ان سب سے راضی ہو)

آپ نے اسلام کی خاطر کمربستہ ہوجانے والے خاندانوں کے لیے نہایت اعلی نمونہ قائم کیا۔ کار نبوت کے عظیم مشن کو انجام دیتے ہوئے آپ کی تمام بیویاں، تمام بیٹیاں اور تمام داماد آپ کے ساتھ ساتھ رہتے ۔ سوچیں ایک بیوی کو اپنے دینی مشن کا مخلص ساتھی بنانا کتنا دشوارسمجھا جاتا ہے، رسول پاک ﷺ نے تو اپنی تمام بیویوں کو اپنے مشن کا بہترین ساتھی بنالیا تھا۔اس میں آپ کی امت کے لیے بہترین نمونہ اور زبردست پیغام ہے۔

ستمبر 2019

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau