اسلامی تحریکات بڑی کامیابیاں اور بڑے سوالات

راشد الغنوشی | ترجمہ واقتباس: محی الدین غازی

ملک وملت میں اصلاح ودعوت کی تیز رفتاراور ہدف رخی پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ صورت حال کابار بار جائزہ لیا جائے، اہل نظر کے بے لاگ تجزیوں سے استفادہ کیا جائے،  اورماضی کی غلطیوں کا تدارک کرتے ہوئے، بہتر سے بہتر وسائل اور اسالیب کی جستجو کی جائے۔ اسی کے پیش نظر، تونس کی اسلامی تحریک کے رہنما اور عالم اسلام کے ممتاز مفکر راشد غنوشی کی ایک فکری تحریر ہندوستان کے کچھ اہل فکر ونظر کے تبصروں کے ساتھ یہاں شائع کی جارہی ہے۔اس تحریر پر مزید رایوں کا ہم استقبال کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں موصول ہونے والی مختصر اور مفید تحریروں کو اگلے شمارے میں بشکل مراسلات شائع کیا جائے گا۔ امید ہے یہ سلسلہ زندگی نو کے قارئین میں فکری سرگرمی کو تحریک دے گا۔ (ادارہ)

اسلامی تحریکات کی کامیابیاں

اسلامی تحریک کو ورثے میں دور زوال کا بہت بڑا بوجھ ملا۔ فکر میں جمود وتعطل، اور تمدن کی سطح پر شخصی اور قبائلی قسم کی آمریت۔ مزید مغرب کی فکری یلغار نے اس بوجھ کو اور بھاری کردیا۔

اس سب کے باوجود اللہ کے فضل سے اسلامی تحریک نے چوتھائی صدی کی طویل جدوجہد کے بعد یہ کامیابی حاصل کرلی کہ اسلام پر چھائی ہوئی دور زوال کی گرد کو جھاڑ دیا، مغربی ثقافت کی بالادستی سے اسے آزاد کرالیا، اور امت کے سامنے دین کا ایسا ہمہ گیر تصور پیش کیا جس میں سلوک، عقیدہ اور معاشرت کے پہلو ساتھ ساتھ اور ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔

اسلامی تحریک عوامی رزم گاہ میں بھی دین کے اس ہمہ گیر تصور کو لے کر اتری اور بدعت وخرافات کے خلاف بھرپور جنگ کی۔

مغرب نے ثقافتی مراکز کو اپنے شاگردوں کے نام الاٹ کردیا تھا، انہوں نے ان کی کرسی قیادت پر قبضہ جمالیا تھا، اور اس طرح ثقافتی رہنمائی پر اجارہ داری قائم کرلی تھی، تاہم اسلام پسند عناصر اس میدان میں بھی پہنچے اور زبردست کشمکش کے بعد جدید نسل کے بڑے حصے کو مغرب اور زوال کے برے اثرات سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔

اگر ہم معاصر اسلامی تحریک کی فتوحات کو شمار کریں فکری سطح پر یا تحریک کی سطح پر تو گفتگو طویل ہوجائے گی، بس ان فتوحات کی اہمیت کا اندازہ اس سے کرلیں کہ انیسویں صدی میں عثمانی حکومت نے اسلامی قوانین کو بدل کر مغربی قوانین اختیار کرلیے تھے، لیکن اس پر مذہبی اداروں کی جانب سے ذرا بھی احتجاج نہیں ہوا تھا، کسی بزدلی کی وجہ سے نہیں، بلکہ یہ شعور ہی ختم ہوگیا تھا کہ یہ اسلامی قوانین اسلام میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، اور یہ اسلام کا جوہر ہیں۔

اسلامی تحریکات کا سب سے بڑا مسئلہ

اسلامی تحریکات کے کارناموں کی پوری اہمیت کو نہ سمجھنا، اور ان کی قدر گھٹانا، خاص طور سے اس نسل کی طرف سے جس نے شعور کی آنکھیں کھولیں تو خود کو اسلام کے صحیح تصورات، تربیت وذہن سازی کے وافر طریقوں اور نبرد آزما اسلامی تحریک کے سامنے پایا۔ یقینا نئی نسل کا یہ رویہ اسلامی تحریک کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوسکتا ہے۔

لیکن دوسری طرف اسلامی تحریکات میں لوگوں کی بڑی تعداد میں آمد ان تحریکات کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا کرتی ہے، یہ اسلامی تحریکات انسانوں کے اس ہجوم کا کیا کریں گی؟ تہذیبی منصوبے میں تبدیلی لانے کی اسکیم میں انہیں کس طرح مناسب کردار فراہم کریں گی؟

کہیں ان کا کام بھی اسی طرح کا نہ ہوجائے جیسا کہ مالک بن نبی نے پسماندہ انسانوں کے کاموں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کام تو بس ”الجمع والتکثیر” زیادہ سے زیادہ چیزیں اکٹھا کرلینا ہوتا ہے۔

یہ معلوم حقیقت ہے کہ پتھروں کے ڈھیر کتنے ہی زیادہ ہوجائیں وہ عمارت نہیں بناتے جب تک کہ انہیں ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق اپنی اپنی جگہ رکھا نہ جائے۔

یہیں سے اسلامی مشن کا حال فتحی یکن کے لفظوں میں ایسا ہوگیا کہ تکامل اور تآکل کی کیفیت ہے، ایک طرف تکمیل کا کام جاری ہے تو دوسری طرف گھن تیزی سے چاٹتے جاتے ہیں، اور کھوکھلا ہونا جاری رہتا ہے۔ غرض جب دیوار کچھ اوپر اٹھتی ہے اور ہم خوش ہونے لگتے ہیں کہ وہ پوری ہونے والی ہے تو یکایک کسی مضبوط ہاتھ کے پہلے دھکے میں گرپڑتی ہے، بلکہ کبھی تو اینٹوں میں باہم مضبوط پکڑ نہ ہونے کی وجہ سے خود ہی گرپڑتی ہے۔

اسلامی مشن کی یہ حالت پرانی صنعت تعمیر سے ملتی جلتی ہے۔ پرانی صنعت صرف تجربے کے سہارے چلتی ہے۔ روایتی معمار اور جدید انجینئر میں فرق یہ ہے کہ روایتی معمار کو واضح طور سے یہ نہیں معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح کی عمارت مطلوب ہے، وہ ایک خیال لے کر تعمیر شروع کردیتا ہے، اور تعمیر کے دوران اپنی غلطیوں کی اصلاح کرتا رہتا ہے۔ تعمیرات کا انجینئر عمارت کو زمین سے پہلے اپنے ذہن میں بناتا ہے، پھر اس ذہنی عمارت کو انجینئرنگ کے قواعد وضوابط کے مطابق کاغذ پر تعمیر کرتا ہے، اور جب کاغذ پر بنے ڈیزائن سے مطمئن ہوجاتا ہے تو انجینئرنگ کے علم کا سہارا لے کر زمین پر عمارت کھڑی کردیتا ہے۔ اس طرح فی الواقع صنعت علم کی تطبیقی شکل بن جاتی ہے۔ اور انسان کم محنت میں زیادہ کام کرلیتا ہے۔

مسلم معماروں کا حال یہ ہے کہ وہ محض صنعت پیشہ ہیں، وہ بہت اچھے ہوتے ہیں تو اپنی غلطی سے سیکھنے اور دوبارہ صحیح کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ ان کی سب سے اچھی حالت ہے،  بصورت دیگر یہ ہوتا ہے کہ مسلسل غلطی کرنے کے باوجود اسی ڈگر پر مسلسل چلتے رہتے ہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ مسلم دماغ تعطل کا شکار ہے۔ وہ اسلام کی وسعتوں کو بھی نہیں سمجھتا اور حالات کی پیچیدگیوں کو بھی نہیں سمجھتا ہے۔ اسے نہ وہ راستہ سجھائی دیتا ہے جس سے وہ اسلام کو صورت حال کے روبرو کرسکے، اور نہ وہ راستہ جس سے صورت حال کو اسلام کی سطح تک بلند کرسکے۔

مسلم دماغ صدیوں سے یا تو ابونواس والی مے خواری میں مدہوش رہا ہے، یا حلاج والے صوفیانہ حال میں مست رہا ہے، اور اگر کبھی کچھ ہوش مندی کی کیفیت ہوتی تو حجاج والی ضرب دوبارہ اس کے ہوش ٹھکانے لگادیتی ہے۔

اس مدہوشی کے اثرات ابھی تک نگاہوں پر پردہ ڈالے ہوئے ہیں، اور اس طرح حقیقی تجزیے کی روشنی میں صحیح ویژن اور سائنٹفک منصوبہ بندی کی راہ کو بند کیے ہوئے ہیں۔

تہذیبی انقلاب اور اس کے لیے لائحہ عمل

اس وقت جبکہ تمام سیاسی بازووں نے تبدیلی کے اپنے پروگرام پر ساری توانائیاں جھونک دی ہیں، اسلام پسندوں کا حال یہ ہے کہ وہ توانائیاں اکٹھا تو کررہے ہیں مگر ان سے کچھ کرنے کا کام نہیں لے رہے ہیں۔ یہ بہت بڑی یافت ہے کہ صالح نوجوانوں کی نشوونما ایسے معاشرے میں ہوپا رہی ہے جو گمراہ کن ترغیبات سے اٹا پڑا ہے۔ لیکن یہ تربیت بھی معاشرے میں تبدیلی لانے کے اسلامی تحریک کے لائحہ عمل سے جدا رہ کر نہیں ہونی چاہیے تھی۔

جس طرح فرد کے جسم میں دل ہوتا ہے، وہ اگر ٹھیک رہے تو پورا جسم ٹھیک رہتا ہے، اور وہ خراب ہوجائے تو پورا جسم خراب ہوجاتا ہے، اسی طرح معاشرے کے جسم میں بھی ایک خاص چیز ہوتی ہے، جس پر معاشرے کی تبدیلی کا سارا انحصار ہوتا ہے۔

نیشنلسٹ بازو نے اس خاص چیز کو متعین کیا، چنانچہ فوج پر ساری سرگرمیاں جھونک ڈالیں، یہاں تک کہ اس کے اعلی مناصب تک پہنچ گئے، اور وہاں سے پورے معاشرے پر تسلط قائم کرنے کے لیے آگے بڑھے۔

کمیونسٹ بازو نے وہ خاص چیز متعین کی، اور یونینوں کی طرف بڑھے، اور انہیں اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا، محنت کش طبقے کو طاقتور بنانے اور اقتدار کو کمزور کرنے پر محنت صرف کی، تاکہ وہ کمزور ہوجائے تو اس پر جھپٹیں، اور پھر پورے معاشرے پر جھپٹ پڑیں۔

جبکہ اسلامی تحریک نے اب تک اس خاص چیز کو متعین نہیں کیا ہے، اور وہ اپنی توانائیاں ہر سطح پر صرف کرتی ہے، اور اس طرح ہر سطح پر کمزور ہی رہتی ہے۔ وہ آگے بڑھ کر اپنے افراد کی قیادت نہیں کرتی ہے، بلکہ ان کے پیچھے دوڑتی ہے۔

مثال کے طور پر اسلامی تحریکات سے وابستہ طلبہ کو لے لیں، تحریک ان کی ایسی رہنمائی نہیں کرپاتی ہے کہ وہ ایسے مخصوص کیریر اور تخصصات اختیار کریں جو تحریک کی اسکیم میں رنگ بھر سکیں، وجہ یہ ہے کہ تحریک کے پاس کوئی اسکیم ہی نہیں ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اسلام پسند طلبہ کا میلان سائنس کے کالجوں اور میڈیکل اور انجینئرنگ کے کورسوں کی طرف ہوتا ہے، جس کی وجہ بس یہ ہے کہ ان میدانوں کے فارغین کا معاشی مستقبل روشن نظر آتا ہے، اس وجہ سے آرٹس کالجوں اور انسانی علوم کے تخصصات میں اسلام پسند عناصر بہت کمزور ہوگئے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام پسند عناصر تنفیذی منصوبوں کا حصہ بن کر رہ گئے، وہ پل بناتے ہیں، زراعتی منصوبوں میں کام آتے ہیں، اور حریفوں کے بیماروں کا علاج کرتے ہیں۔ جبکہ نیشنلسٹ اور کمیونسٹ عناصر ہمارے معاشروں کی سیاسی اور تہذیبی قیادت کے مراکز میں اچھی طرح نفوذ کرگئے۔ حد تو یہ ہے کہ اسلامی صحافت اور میڈیا میں صحافیوں اور نیوز اینکروں تک کا سخت کال پڑا ہوا ہے۔

اسلامی جدوجہد کی نصف صدی کے بعد صالح افراد تو تیار ہوئے، لیکن وہ بہت محدود تاثیر اور کردار والے افراد ہیں، بلکہ وہ انہی مشینوں کے پرزے ہیں جن سے ان کی جنگ ہے۔ وہ جتنا زیادہ اپنے پروفیشن میں کامیاب ہوتے ہیں اتنا ہی زیادہ اپنے مشن میں ناکام ہوتے ہیں۔

ان باتوں سے ان نعروں کی طرف دعوت دینا مقصود نہیں ہے جو اپنا رول کھو چکے ہیں، جیسے جاہلیت سے اعلان براء ت، ہجرت، تکفیر، بلکہ ہمارا مقصود تو اپنی تکلیف دہ صورت حال کی تشخیص کرنا ہے۔

اسلامی تحریک میں مسلم دماغ اپنے حالات کو سمجھنے اور اس کے لیے منصوبہ بندی کرنے میں ناکام ہوا تو اس کی وجہ زمانہ زوال کی چھائی ہوئی گرد، حال کے سلسلے میں پھیلے ہوئے اندیشے اور صورت حال کے خلاف گوناگوں رد عمل ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس طرح وہ حالات سے کنارہ کش ہوکر رہ گیا۔ اور یوں ہمارے معاشروں میں زندگی سے دین کی دوری ہنوز باقی رہی، دین سیاست سے، سیاست پر اثر انداز ہونے سے اور سیاست کا رخ بدلنے کے عمل سے ابھی بھی الگ تھلگ ہے، گو کہ اسلامی تحریک نے دین کو ریاست سے جدا کرنے کی مخالفت چھیڑ رکھی ہے۔ بہرحال لازم ہے کہ اسلامی مشن کے لیے ایسا لائحہ عمل بنایا جائے جو تحریک اور امت دونوں کو اس منجدھار سے باہر نکالے۔

تبصرہ (۱)

ڈاکٹر محمد جاوید مکرم*

جناب راشد غنوشی صاحب کی یہ تحریر جامع تجزیہ قرار نہیں دی جاسکتی ہے۔ اس لیے کہ تحریکات اسلامی کی اس طویل عرصے میں بنی نوع انساں بالعموم اور امت مسلمہ بالخصوص کا تعلق خالق کائنات سے جوڑنے کی مساعی ،  اس کے نتائج اور ان کوششوں سے اسلام کا جو تعارف عالمی سطح پر اہل فکر ونظر کو حاصل ہوا، اس کا بہت گہرائی وگیرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ یہ کوششیں جس طرح منفی پروپیگنڈے سے متأثر ہوئیں، اور مغرب کے دانشوروں نے ان کا سرسری جائزہ لیا یا بالکل ہی نہیں لیا، اس پر تنقید ضروری ہے۔ تاکہ مغرب کی اس دانستہ متعصبانہ ذہنیت کو سامنے لایا جائے۔

تحریکات اسلامی کے دانشوروں نے جس طرح پرت در پرت انسانی نفسیات کو کھولا اور دور حاضر کے علمی جیلنجس کا سامنا کیا، اور بالخصوص اسلامی عقائد اور ان کے فرحت بخش اثرات جو انسانی دنیا پر مرتب ہوسکتے ہیں انہیں بیان کیا، واقعہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں انتہائی علمی بد دیانتی کے ساتھ صرف نظر کیا گیا، اس کا ہمیں جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

انسانی مساوات ، معاشرتی اور معاشی مسائل  کے حل کے لیے تحریکات اسلامی نے جو لٹریچر تیار کیا اس سے بالعموم اعراض برتا گیا۔ اس کا تجزیہ کیا جائے اور جن علمی کوششوں کو عالم گیر سطح پر سراہا جارہا ہے ان کواسلامی لٹریچر کے بالمقابل رکھ کر علمی بحث کی جائے، مثال کے طور پر پروفیسر امرتیہ سین جو نوبل پرائز یافتہ ہیں، معاشیات میں جن چیزوں کو انہوں نے پیش فرمایا اس کا مقابلہ اسلامی تحریکات نے اس میدان میں جو لٹریچر تیار کیا اس سے کیا جائے۔ اسی طرح بنگلہ دیش کے معاشیات کے ماہر ڈاکٹر محمد یونس جو نوبل پرائز یافتہ بھی ہیں، انھوں نے جو حل دیا ہے اس کا جائزہ اور اس کا موازنہ تحریکی لٹریچر سے کیا جائے اورواضح کیا جائے کہ تحریکی لٹریچر انسانی فطرت سے زیادہ قریب اور معاشی مسائل کا دیرپا حل اپنے اندر رکھتا ہے۔

دوسری نوبل پرائز یافتہ ملالہ یوسف زئی کی لڑکیوں کی عصری تعلیم سے متعلق کوششوں کو جیسا کچھ سراہا جارہا ہے اس سے لگتا ہے کہ مسلمانوں کی صفوں سے تعلیم نسواں سے متعلق یہی پہلی آواز ہے۔ اس بارے میں تحریکات اسلامی کے حلقوں میں اسلامی لٹریچر جو اس موضوع پر تیار کیا گیا ہے اس سے موازنہ کرکے دنیا کوحقیقت حال بتائی جائے۔ یہ صرف تین مثالیں ہیں ۔ اس ضمن میں تحقیق وریسرچ کے بعد اور بہت سے حقائق کو بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔

اس سے تحریکی حلقوں کا اعتماد اور بڑھے گا اور یہ اسلامی تحریکات کے علمی کارناموں کی صحیح پذیرائی ہوگی۔درحقیقت راشد غنوشی صاحب نے اس کو زیادہ چھیڑا ہی نہیں ۔ موصوف نے اسلامی تحریکات کا سب سے بڑامسئلہ اور پھر اس کے حل کے لیے تہذیبی انقلاب اور اس کے لیے جو لائحہ عمل سجھایا ہے، میں سمجھتا ہوں اس میںحل نہیں ہے اور جو چیز مسائل کی ذمہ دار ہے اس پر ہنوز توجہ نہیں کروائی گئی ہے۔

اسلامی تحریکات کے لیے سب سے بڑا فکری مسئلہ اور اس کا حل

میرے نزدیک تحریکات اسلامی نے جس مسئلہ کے ساتھ زیادہ انصاف نہیں کیا یا جس کا حق ادا نہیں کیا وہ یہ ہے کہ امت مسلمہ کو معاشرتی اعتبار سے جو طاقت ور رول انجام دینا ہے اسے موضوع گفتگو بناکر اس پر جان دار لٹریچر تیار نہیں کیا گیا۔

امت مسلمہ کے سامنے یہ ہدف ہی نہیں رکھا گیا کہ انھیں دنیا کی اس چند روزہ لیکن بے انتہا اہم مہلت عمل کو کیسے برتنا ہے؟ انسانی دنیا کو کیا دینا ہے اور اس کے سلگتے ہوئے مسائل کو کیسے حل کرنا ہے؟ بس اسی بات کو تحریکات اسلامی دہراتی رہیں اورر اس موضوع کو کھولتی رہیں کہ دین کو سیاسی اعتبار سے عملا قائم کردینا ہے۔ اور پھر یہ فرض کرلیا گیا کہ اگر انسانی دنیا نے اسے عقلی اعتبار سے تسلیم کرلیا تو بس آنا فانا چیزیں اچھا سا  shape لے لیں گی اور بہترین متبادل نظام وجود میں آجائے گا۔ افراد خود بخود تیار ہوجائیں گے، تمام انڈسٹریز کو چلانے والے ماہرین، اور یونیورسٹیز میں بنیادی سائنس میں  ریسرچ کرنے والے خود بخود پیدا ہوجائیں گے، اور وہ یونہی اطاعت وفرمانبرداری کے ساتھ سرنگوں ہوجائیں گے، جب کہ امت مسلمہ کا کثیر طبقہ آج کے مسابقتی میدان سے کوسوں دور بلکہ خوف زدہ ہے۔

آج مسلم ممالک بہترین قدرتی ذرائع سے مالامال ہیں، لیکن پچھلی تقریبا تین صدیوں سے ان کی توجہ اس ہدف پر کروائی ہی نہیں گئی کہ انھیں ہر اعتبار سے ’’طاقت ور‘‘ رہنا ہے۔ارشاد ربانی ہے:

’’اور تم لوگ، جہاں تک تمھارا بس چلے ، زیادہ سے زیادہ طاقت ور اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلے کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعداء کو خوف زدہ کردو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا اورتمھارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہوگا‘‘ (سورۃ الانفال، آیت ۶۰)

ذرا اس آیت کا آہنگ ملاحظہ فرمائیے، کہ قرآن امت مسلمہ کو اس ’’مادی‘‘ دنیا میں کس قدر قوی اور باوقار دیکھنا چاہتا ہے۔ اور آج مسلمان کہاں کھڑے ہیں۔مسلم ملکوں کے ہاتھ دنیا کے چھوٹے بڑے ہر ملک کے آگے پھیلے ہوئے ہیں،  ہماری سڑکیں اورپل بنادو، ہمیں کاریں اور دوسرے ذرائع دے دو، ہمارے کشکول میں دوائیں ڈال دو۔۔۔وغیرہ۔ہم اپنی اس حالت زار کو اپنی توجہات کے قابل ہی نہیں سمجھتے، ہم سے تو سورۃ روم میں کہا گیا تھا:’’ پس اے نبی صبر سے کام کئے جائیے یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور ہرگز ہلکا نہ پائیں تم کو وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے‘‘۔ آج امت مسلمہ دنیا میں سب سے زیادہ ہلکا انسانی گروہ ہے۔ ہمارے بیشتر ممالک کھنڈر ہیں۔

تحریکات اسلامی کا لٹریچر اٹھاکر دیکھ لیجئے، کہیں بھی ہم اپنے روایتی طاقت ور قلم کااستعمال کرکے امت مسلمہ کو اس کمزوری کو دور کرنے اور پوری طاقت سے کھڑا ہونے کے لیے آمادہ نہیں کرتے۔ہم اسے دینی ضرورت ہی تسلیم نہیں کرتے۔ چونکہ تحریکات اسلامی نے اس موضوع کو چھیڑا ہی نہیں، اس لیے ان کی ژرف نگاہی اور ان   کاrelevance ہی ختم ہوکر رہ گیا۔

تحریک اسلامی ہند کے لیے کام کے بہترین مواقع منتظر ہیں۔ چند نکات ذیل میں درج ہیں:

٭امت مسلمہ ہند کے ذہن وشعور سے دین اور دنیا کی تفریق کو دور کریں۔ آخر دو سو سال پہلے امت مسلمہ پوری انسانی دنیا میں ایک تعلیم یافتہ اور طاقت ور انسانی گروہ کی صورت میں دیکھی جاتی تھی۔

٭وطن عزیز بھارت کے انسانی مسائل جیسے غربت کاا مسئلہ، تعلیم کا مسئلہ، صحت عامہ کا مسئلہ، عورتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم،، بے روزگاری کا مسئلہ۔۔ بالخصوص ایسے مسائل جو تما م باشندگان وطن کو درپیش ہیں۔ ان مسائل میں امت مسلمہ ہند ان کے حل کے لیے کیا لائحہ عمل رکھتی ہے۔ اور کس طرح مسلمانوں کو اور بالخصوص اپنے اہل خیر اور نوجوانوں کو عملی راہیں سجھاتی ہے۔ ان مسائل کے لیے ہمیں آگے بڑھ کر مختلف این جی اوز کے ساتھ کھل کر کام کرنا ہوگا۔

٭ہم اپنے نوجوانوں کو سخت محنت کا عادی بنائیں، وہ بلا تکان سولہ تا اٹھارہ گھنٹے کام کریں۔ ہر وہ عادت جو اس طرح کے کام میں رکاوٹ بنتی ہے جیسے گٹکا تمباکو نشہ آور ادویات کا استعمال، بسیار خوری وغیرہ کو سختی کے ساتھ رد کریں۔

٭وقت کی صحیح تنظیم اور صلاحیتوں کے فروغ کے لیے عام بیداری پیدا کریں

سوشل میڈیا اور یوٹیوب وغیرہ سے جو اوقات ضائع ہورہے ہیں، اور جو بے حیائی اور بے شرمی کا ایک سیلاب امنڈ آیا ہے، اس کی شرعی قباحتوں سے واقف کرواکر چھٹکارہ دلوائیں۔

٭ایک کھیپ کی کھیپ ایسے نوجوانوں کی تیار کریں جو فکری لحاظ سے بہت مضبوط اور تکنیکی لحاظ سے خوب طاقت ور ہوں، تاکہ ہم ملک عزیز کی ضرورت بن جائیں۔ اور اس حدیث کی چلتی پھرتی تصویر بن جائیں: ’’بہترین فرد وہ ہے جو لوگوں کو فائدہ پہونچائے‘‘۔

چونکہ ملک عزیز بھارت میں تعلیمی اعتبار سے ہر طرح کی سہولتیں میسر ہیں، اس سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم بھارت ہی کی نہیں بلکہ تمام مسلم ممالک کی ان تکنیکی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے افراد مہیا کرسکتے ہیں، جو ایک طرف اپنے دین پر پوری طرح کار بند ،اس کے فہم سے سرشار اور ساتھ ہی جدید تعلیم اور ضرورتوں کو پورا کرنے کی بدرجہ اتم صلاحیتوں کے بھی حامل ہوں۔

تحریک اسلامی ہند کے لیے یہ ایک بڑا challenging کام ہے۔ جو مشکل بھی ہے لیکن اس سے اس کی قدرومنزلت میں اضافہ ہوگا۔ اس کی significanceملک عزیز میں بڑھے گی۔ امت مسلمہ بالخصوص نوجوانوں کے لیے یہ چیلنج بڑا پرکشش ثابت ہوگا، اسے وہ دنیا اور آخرت میں سرخ روئی کا سبب جانیں گے۔ ملک عزیز کے ارباب حل وعقد اس کی ان شاء اللہ پذیرائی کریں گے، اور اس طرح سے ان کاموں کا سلسلہ دعوت اسلامی کا بڑا ذریعہ بن جائے گا۔

تبصرہ (۲)

محمد حسین ذوالقرنین*

زیر نظر مضمون جو مصنف کی ایک بیس سالہ پرانی کتاب (جو ان کی تقاریر اور مقالات کا مجموعہ ہے) سے مقتبس ہے۔ کتاب میں عرب ممالک کی تحریک اسلامی اور وہاں کے عوام (امت) کے تعلق سے ایک اچھا اور جرات مندانہ تجزیہ بھی ہے اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق مفید مشورے بھی۔ یہ سوال کہ کتاب کی اشاعت کے بعد وہاں کی تحریک نے اس تجزیہ سے کس حد تک استفادہ کیا اہل علم و تحقیق کی دلچسپی کا موضوع ہونا چاہئے۔

البتہ وہاں کے تیسرے عنصر یعنی غیر امت کو قلت عددی کی بنیاد پر قابل ذکر نہیں سمجھا گیا۔ ہمارے ملک میں یہ تیسرا عنصر اپنی غیر معمولی اکثریت کی بنا پرہمارے لیے غیر معمولی اہم ہے (یا ہونا چاہئے)۔ عرب یا مسلم ممالک کے مقابلہ میں ہمارے لیے وہ تجربات زیادہ توجہ کے مستحق ہیں جو غیر مسلم اکثریتی علاقوں مثلا بعض مغربی ممالک ،جنوب افریقہ اور بعض دوسرے ممالک جیسے سنگا پور وغیرہ میں اسلامی مشن نے کئے ہیں اور کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

’تحریک اسلامی‘ یا ’اسلامی مشن‘  کی اصطلاحات پر ایک خاص فکر کی اجارہ داری کو میں صحیح نہیں سمجھتا۔ یہ ہماری سوچ کے دائرہ کو محدود کر دیتا ہے ، ہمیں غیر محسوس طور پر ایک احساس برتری میں مبتلا کر دیتا ہے نیز اس خاص فکر کی ترویج ہی ہمارا مطمح نظر بن جاتا ہے۔ پھر ہم اخرجت للناس کے بجائے اخرجت للمسلمین بن کر رہ جاتے ہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ امت کو اخرجت للناس کے لیے تیار کرنے میں لگ جاتے ہیں جس کاہمیں خود بھی اندازہ نہیں کہ یہ عرصہ کتنی صدیوں پر محیط ہوگا۔ احیائے اسلام یا اسلامی بیداری کے علم برداروں کے لیے صاحب کتاب کی بھی یہی نصیحت ہے : ’ انہیں اس کا ادراک ہونا چاہئے کہ اسلامی مشن کسی خاص تحریک کی ملکیت نہیں کہ وہ اس میں جیسے چاہیں تصرف کریں ، بلکہ یہ ساری امت بلکہ تمام انسانیت کی ملکیت ہے‘۔  (ص ۸  پہلا ایڈیشن ۲۰۰۰ )

زیر نظر مضمون  میں’تحریک‘ کی جن’ بڑی کامیابیوں‘ کا ذکر ہے وہ ہمیں حاصل نہیں ہوئیں نہ ہی فکری لحاظ سے اور نہ عملًا۔ بلکہ خود تحریک کے مادر وطن میں بھی کامیابیوں کے جو دعوے پیش کیے گئے ہیں وہ بھی محل نظر ہیں۔ مثلا یہ کہنا کہ ’ اسلام پسند عناصر (جو منسوبین تحریک تک محدود نہیں) زبردست کشمکش کے بعد جدید نسل کے بڑے حصہ کو مغرب اور زوال کے برے اثرات سے نکالنے میں کامیاب ہو گئے ‘ موجودہ زمینی حقائق کے مطابق معلوم نہیں ہوتا۔ اسی طرح ’اسلامی تحریک میں لوگوں کی بڑی تعداد میں آمد، انسانی ہجوم‘ کا خواب بھی یہاں ہنوز خواب ہی ہے۔ ۷۲ سالوں کے عرصہ کار میں ہمارے متفقین کا تناسب امت مسلمہ ہند میں ہزارویں حصہ سے تجاوز نہیں کر سکا ہے (پھر اپنی صفوں میں تآکل یا گھنوں کے چاٹنے کا عمل بھی جاری ہے)۔ اور اگر تمام باشندگان ملک سے موازنہ کیا جائے تو یہ تناسب ’نا قابل ذکر‘ negligibleہوگا۔

البتہ اس مقالہ میں تحریک کی جن ناکامیوں کا ذکر ہے وہ کافی حد تک ہم پر چسپاں ہوتی ہیں۔ مثلا وابستگان طلبہ تحریک کے بارے میں وہاں جس صورت حال کا ذکر کیا گیا وہ یہاں بھی پوری طرح موجود ہے۔ ہمارے دوسرے ماہرین (professionals) کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں یہاں بھی اغیار کے اداروں کو جلا بخش رہی ہیں۔ مضمون نگار کا یہ تاثر کہ ’تحریک اپنی توانائیاں ہر سطح پر صرف کرتی ہے اور ہر سطح پر کمزور رہتی ہے‘ یہاں بھی پوری طرح صادق آتا ہے۔

ہمیں اس حقیقت کا کم ہی ادراک رہا ہے کہ ہمارا دائرہ کار عرب یا کوئی مسلم ملک نہیں بلکہ ایک ایسا خطہ ہے جس کی عظیم اکثریت۸۵ فیصد غیر مسلم ہے۔ یہاں ہم نے اپنے کام کی ابتدا جس لٹریچر سے کی وہ شاید اس ماحول کے لیے مناسب نہیں تھا سوائے معدودے چند کتابچوں کے۔ اسی طرح اپنے کاموں اور اہداف کے لیے جن اصطلاحات کو اختیار کیا گیا وہ بھی غیر مسلم اکثریت کے خود مختار علاقہ کے لیے غیر موزوں تھیں۔ مثلا نصب العین کے لیے حکومت الہیہ (یا بعد میں اس کا مترادف اقامت دین) کو اختیار کرنا اور اس پر اصرار۔ جبکہ اس کے دوسرے آسان تر اور باشندگان ملک کے لیے قابل فہم اور قابل قبول متبادل استعمال کیے جا سکتے تھے۔ جیسے ’صرف خالق کائنات اور رب العالمین کی عبادت کی دعوت(وما ارسلنا من قبلک من رسول الانوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون) (الانبیاء۲۵)(اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ )(ہود ۵۰)۔اور مساوات انسانی کی بنیاد پر نظام عدل و قسط کا قیام (لقد ارسلنا رسلنا بالینات و انزلنا معہم الکتاب والمیزان لیقوم الناس بالقسط۔۔(الحدید ۲۵)۔۔توحید یا اصنام پرستی سے اجتناب یا عدل و انصاف کی تعلیم اکثریتی گروہ کی مذہبی کتابوں میں موجود ہونے کی وجہ سے ان کے لیے اس سے اتفاق اور اس میں تعاون آسان ہوتا۔

جماعت کے ویب سائٹ پر (جو صرف انگریزی میں ہے)  دستور جماعت کے نصب العین کے ضمن میں اقامت دین کی جو تشریح درج ہے اس میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ انگریزی میں اس کا متبادل لفظ پیش کرنا بہت مشکل ہے ۔ یہی بات لفظ ’دین‘  کے بارے میں بھی کہی گئی ہے :

“Religion,way of Life,System of Belif and Action are,however,very imperfect renderings of the word Deen”

یعنی اگر اس اصطلاح کو سمجھنا ہے تو پہلے عربی سیکھو۔ دلچسپ بات ہے کہ قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں تراجم کو پڑھ کر ہزاروں کی تعداد میں لوگ اسلام قبول کر سکتے ہیں لیکن جماعت کے نصب العین کو سمجھنے کیلیئے عربی جاننا بلکہ اس پر عبور ضروری ؟

میرا خیال ہے کہ ان اسباب کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہئے کہ ملک میں اسلام کے صحیح تعارف کو ، جس کی پرزور ہدایت بانی تحریک نے تقسیم ملک کے وقت کی تھی ، تحریک نے بالفعل اپنا بنیادی اور مرکزی ہدف کیوں نہیں بنایا اور وقتا فوقتا یہ محض ایک رسمی اعلان سے آگے کیوں نہ بڑھ سکا؟

دوسری بات کیا یہ ممکن نہیں کہ امت اسلامیہ ہند کی ہمہ جہتی اصلاح و ترقی اور اس کو بطور مجموعی ایک داعی امت بنانے کے عظیم مشن کو پورے کا پورا اپنے سر لے لینے کے بجائے  ملک کی دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر اسے ایک مشروع مشترک  (Joint project)) بنا لیا جائے ؟  جس جماعت کی کارکردگی جس میدان میں بہتر رہی ہو وہ میدان اجمالا ًاس کو سونپ دیا جائے اور دوسری جماعتیں اس کے ساتھ تعاون کریں۔ ابھی ہو یہ رہا ہے بشمول تحریک مختلف جماعتیں ہر شعبہ میں کام کر رہی ہیں اور چونکہ کسی بھی جماعت کے پاس افرادی اور مادی وسائل اتنی وافر مقدار میں میسر نہیں کہ وہ ہر شعبہ کا حق ادا کر سکے ، سارے شعبے کمزور ہی رہتے ہیں۔ اس سے نہ صرف مجموعی کارکردگی اور نتائج میں اضافہ ہوگا بلکہ باہمی تلخیوں ، حساسیت (sensitivities) اور دوریوں میں بھی کمی آئیگی۔ یقینا یہ کام اتنا آسان نہیں ، نہ ہی اس کا حصول جھٹ پٹ ممکن ہے۔ لیکن کیا یہ اس لائق بھی نہیں کہ اس کے لیے سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ کوشش کی جائے؟ کنتم خیر امۃ اخرجت للناس کی مخاطب پوری امت مسلمہ ہے نہ کہ صرف ایک مخصوص جماعت۔مذکورہ تجویز پر عمل درآمد کے دو ممکن طریقے ہو سکتے ہیں۔ ایک Top down(اوپر سے نیچے): یعنی قومی یا مرکزی سطح پر قائدین کا اجتماع اور اس کا فیصلہ۔ دوسرا جو زیادہ قابل عمل محسوس ہوتا ہے، بالکل نچلی (قریوں، قصبوں اور شہروں کی) سطح پر کام کی ابتدا ، جہاں عموما لوگ ایک دوسرے سے نہ صرف واقف ہوتے ہیں بلکہ مقامی مسائل کے حل کے لیے اور مختلف موقعوں پر ایک دوسرے سے ملتے بھی رہتے ہیں نیز ان کے درمیان باہمی تحفظات بھی نسبتا کم ہوتے ہیں۔ سارے ملک میں دس، بیس ، پچاس مقامات پر اس کی کامیابی اوپر کے لیے راہ ہموار کر دیگی۔

ستمبر 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau