تحریک اسلامی کا مطلوبہ صالح انقلاب

اور اب تک کا سفر

ایس ایم ملک

تحریک اسلامی کا نام سنتے ہی جو چیز نگاہوں میں گھوم جاتی ہے، وہ ایک مکمل اور جامع فلسفہ حیات ’ ایک مضبوط اور منظم اجتماعیت’ ایک مستحکم اور منضبط اجتماعی کردار ’ ایک روحانی ’ اخلاقی ’ سماجی ’ معاشی اور با اقدار سیاسی تصور ۔ الغرض ایک واقعی متحرک مکمل اور مخلصانہ طور پر وابستہ اور والہانہ طور پر اس کے لیے یکسو انقلاب آفریں انسانی گروہ ہے، جو ہر دم جواں اور پیہم رواں ’ زندگی کا کارواں ہونے کا ثبوت دے رہا ہو۔

انقلاب کی نوعیت

‘‘انقلاب‘‘ ایک تبدیلی کانام ہے۔حالات کی تبدیلی یا زندگی کی رہ گزر کی تبدیلی۔ یہ تبدیلی کسی بھی قسم کی ہوسکتی ہے ۔ لیکن جس تبدیلی میں انقلابی روح ہو تی ہے، وہ سرسری تبدیلی نہیں ہوتی’ وہ یکسر تبدیلی’ سرتا پاتبدیلی اور مکمل تبدیلی کا تقاضا کر تی ہے ۔ اسی لیے جب بھی انقلاب کالفظ سامنے آتا ہے تو ایک تصویر جو ذہن کے پردے پر ابھرتی ہے، وہ غیظ و غضب اور جوش و جنوں ’ توڑ پھوڑاور خون خرابے کی تصویر ہی ہوتی ہے۔ انقلاب ایک سیلاب ہے، جو ہر اس چیز کو جو اس کی راہ میں آتی ہے بہالے جاتا ہے۔ انقلاب میں اچھا ’ براکوئی نہیں بچتا۔ برُ امٹتا ہے تو اچھا بھی برباد ہو جاتا ہے ۔ لیکن تحریک اسلامی، جس انقلاب کی داعی ہے وہ صالح انقلاب ہے۔

انقلاب کے صالح ہو نے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تبدیلی خود اپنے اندر صالحیت رکھتی ہے اور جو کچھ عناصر زندگی میںیا سماج میں صالح ہیں ان کو محفوظ رکھاجاتا ہے ۔ جو چیز ’ جہاں جتنی بھی صالحیت کی حامل ہے، اس کی حفاظت کی جاتی ہے۔ اس کی نشوونما کے ساتھ ساتھ اسے انقلاب کی کامیابی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ تحریک اسلامی جس صالح انقلاب کی داعی ہے،اس میں صالحیت تو ہے ہی ساتھ ہی وہ اس بات کی طالب ہے کہ وہ انقلاب اصلاحی بھی ہو۔ وہ اصلاح احوال کے ساتھ انقلاب کی داعی ہے۔

بنیادی بات جو تحریک اسلامی کی فکر میں کلیدی عنصر کے طور پر شامل ہے، وہ یہ ہے کہ زندگی ناقابل تقسیم اکائی ہے ۔ زندگی کو مذہبی اور دنیوی زندگی کے الگ الگ خانوں میں بانٹ کر گزارانہیں جاسکتا ۔ انسانی زندگی کے مختلف گوشے ’ جیسے خاندان’ معاشرہ ’ معیشت اور سیاست وغیرہ اپنی علاحدہ علاحدہ پہچان رکھنے کے باوجود ایک مربوط نظم میں جڑے ہوئے ہیں۔ان کی تقسیم کرنا گویا اصل میں زندگی کو انتشار سے دو چار کر نا ہے۔ انتشار زندگی کی روانی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہے اور انسان کو ذہنی اور معاشرتی طور پر خلفشار میں بھی مبتلا کر دیتا ہے۔

دوسری بنیاد جو تحریک فراہم کر تی ہے، وہ یہ ہے کہ اسلام’ انسانی زندگی کے لیے ایک منضبط ’ مربوط’ جامع اور مکمل نظام حیات عطا کرتا ہے ۔ جو لوگ اس کو قبول کر تے ہیں ان سے مطالبہ کر تا ہے کہ وہ پورے کے پورے اس دین کے دائرے میں داخل ہو جائیں۔ انسان کی فکر ’ اس کا ذہن ’’ اس کی اخلاقی و روحانی زندگی سے لے کر خاندانی و معاشرتی زندگی ’ انسان کی انفرادی زندگی اور اجتماعی معاملات ’ اس کی پیدایش سے لے کر موت تک کا ہر رویہ ‘‘ اس کے گھر سے ہوتے ہوئے سیاسی ایوانوں اور بین الاقوامی سطح تک کی تمام ہی سرگرمیاں اسی اسلام کے دائرے میں انجام پائیں۔

تیسرا نکتہ جو تحریک اسلامی کی بنیاد بنتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر زندگی نا قابل تقسیم اکائی ہے تو اسلام بھی نا قابل تقسیم طرز ندگی ہو نے کی وجہ سے زندگی کی مکمل رہ نمائی کا دعویدار ہے ۔ چنانچہ وہ انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے مختلف گوشو ں میں اپنے قیام کا مطالبہ کر تا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ اسلام کے نام لیوا اپنی انفرادی زندگیوں میں جو اجتماعیت قائم کر تے ہیں، اس کے ذریعے دین اسلام کو قائم کریں اور اس کے اندر کسی قسم کاتفرقہ نہ پیدا کریں۔ وہ اسلام کے قیام کی ذمے داری مسلمانوں کو سونپتا ہے۔ لہٰذا وہ مسلمانوں کو ایک اجتماعیت ’ ایک ملت ’ ایک امت بنے رہنے کی تلقین ہی نہیں کرتا بلکہ اس کی پر زور تا کید کر تا ہے اور اس اجتماعیت کا واحد مقصد دین حق کا قیام ہے۔ دین اسلام کا قیام امت مسلمہ کا مقصد زندگی ہے۔ اس طرح یہ دین مسلمانوں سے مطالبہ کر تاہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں اس دین کو برت کر مسلمان ’ اسلام کی حقانیت کی شہادت دیں۔ تا کہ اس اجتماعی جد و جہد کے نتیجے میں اس دین کا قیام ممکن ہو ۔ فریضۂ اقامت دین کی ادائی کے بغیر امت مسلمہ کا کوئی تصور مکمل ہو نہیں سکتا۔

چوتھی اور آخری بنیاد اس تحریکی فکر کی یہ ہے کہ اقامت دین کے اس فریضے کی انجام دہی کے لیے ایک منظم ’ مستحکم ’ منصوبہ بند اور مسلسل جدو جہد کی ضرورت ہے۔ اس طرح کی ایک جامع اور ہمہ جہتی جدو جہد مضبوط اجتماعیت کا تقاضا کر تی ہے ۔منتشر انداز میں کچھ لوگ ہاتھ پیر مار کر بیٹھ رہیں ’ یا کچھ دنوں کی کوشش کے بعد تھک ہار کر مایوس ہو جائیں یا جس شخص یا گروہ کا جو جی چاہا اور جو طریقہ مناسب سمجھا وہ کر تا رہا، یہ تمام کوششیں ہر گز بارآور نہیں ہو سکتیں۔ اس ہمہ گیر کام کو انجام دینے کے لیے نا گزیر ہے کہ سب لوگ مل کر ایک منظم اور مستحکم اجتماعیت کو وجود میں لائیں۔

دعوت اسلامی کے بنیادی نکات

تحریک ِاسلامی انھی بنیادی نظریات و افکار کے ساتھ وجود میں آئی ہے ۔ اسی راہ پر وہ گزشتہ ساٹھ ستر سال سے مسلسل تگ و دو میں لگی ہوئی ہے ۔ عملاً وہ چاہتی کیا ہے؟ اس کا مطلوبہ انقلاب کیا ہے؟ یا اس انقلاب کی دعوت کیا ہے ؟ اگر اس سوال کا جواب ایک جملے میں ہم ادا کرنا چاہیں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ تحریک اسلامی کی دعوت بندگیِ رب کی دعوت ہے ۔ انسان سے وہ چاہتی ہے کہ وہ ایک خدائے واحد کے سوا کسی ہستی کی بندگی نہ کر ے۔وہ انسان پر چھائی ہوئی انسان کو جکڑی ہوئی انسانی غلامی کی ساری زنجیریںتوڑ کر انسان کو آزاد کر دینا اور اسے صرف اپنے خالق ’ مالک’ پروردگار و آقا کا بندہ بنا کر چھوڑ دینا چاہتی ہے۔

دعوت انقلاب کے اس بنیادی نکتے سے اس کی دو لازمی شقیں مزید دونکات کی شکل میںآپ سے آپ ابھر کر آتی ہیں۔ ایک یہ کہ بندگی رب کا مقصد کیا ہے ۔ اسلامی انقلاب کی دعوت یہ کہتی ہے کہ زندگی ایک لامتناہی اور مسلسل عمل کا نام ہے ۔ اس دنیا کی محدود مدت کے بعد بھی یہ عمل جاری رہتا ہے ۔ اس دنیا کی زندگی کا تسلسل ایک اور دنیا آخرت کی دنیا پر منتج ہو تا ہے ’ جہاں لازوال زندگی ہے۔ ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی ہے ۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان جو کچھ بھی کر تا ہے، وہ اس کے نتائج آخرت کی زندگی میں بھگتنا ہے ۔ کبھی ختم نہ ہو نے والی اس آخرت کی زندگی کو خوشگوار اور پر سکو ن بنانے کے لیے ہی انسان اس دنیا کی زندگی میں تمام تگ و دو کر تا ہے ۔ یہ بندگی رب کا لازمی جز ہے اور اسلام کی دعوت انقلاب کا دوسرا نکتہ۔

اس دعوت کا تیسرا نکتہ اور بندگی رب کا دوسرا لازمی جز یہ ہے کہ مذکورہ بالاآخرت کی زندگی کو خوش گوار بنانے کا راستہ کیا ہے؟وہی بندگی رب کا اصلی راستہ ’ اسی سے آخرت کی زندگی بھی اور اس دنیا کی زندگی بھی خوشگوار اور پر سکون ہو سکتی ہے ۔ اسی کا نام اسلامی نظام زندگی ہے ۔ انسان کو اس دنیا میں جو کچھ کر نا ہے اسی نظام زندگی کے دائرے میں کرنا ہے ۔ یہ نظام انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی پر بھی محیط ہے۔اسی عمل سے آخرت کاابدی سکون بھی میسر آسکتا ہے۔ اسلامی دعوت انقلاب کے یہ تین نکات ہیں ۔

اوپر کی تشریح سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اسلامی نظام زندگی کی ساری گفتگو آخرت کی کامیابی اور خوش گوار ی کے گرد گھومتی ہے ۔ اس لحاظ سے دراصل اسلامی انقلاب بھی اس آخرت کی کامیابی ہی کا زینہ ہے۔ لہٰذا تحریک اسلامی کے مطلوبہ انقلاب کا محور و مرکز بھی آخرت کی کامیابی ہی ہے۔ یہاں اس دنیامیں تحریک اسلامی کے انقلاب کو بروے کار لانے کے لیے افراد میں جہاں مختلف صلاحیتوںکی ضرورت ہوگی، وہیں ان کے اندر آخرت طلبی کی شان بھی بدرجہ اتم موجود ہونا ضروری ہے اور ان اوصاف کا پیدا ہو نا اور ان پر عمل درآمد کا نظر آنا بھی ضروری ہے، جو آخرت طلبی کی وجہ سے انسان میں لازماً نمودار ہو تے ہیں۔ زمین پر انقلاب اسلامی تو رونما ہو چکا ہو مگر اس کا اصل محرک اور مقصد انسانوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو ’ان کی زندگیوں سے عملاً دور ہو تو نتیجہ بے فائدہ ہو گا۔ اس لحاظ سے تحریک اسلامی کے مطلوبہ انقلاب کا مرکزی نکتہ اور مطلوب ومقصود دراصل فرد کے لیے آخرت کی کامیابی ہے، شرط یہ ہے کہ اس کے اندرصالحیت بھی ہو اور آخرت کی کامیابی کی شدید خواہش بھی۔

رہ نمائی کا منصب

دنیا کی رہ نمائی وہی کر سکتا ہے، جو علم و عمل کے میدان میں آگے ہی آگے دیکھ سکتا ہو۔ حال سے پوری طرح استفادہ کرسکتا ہو اور مستقبل پر دور دور تک نظر دوڑا سکتا ہو۔ اپنی فکر و تحقیق سے’ اپنے انکشافات اور اکتشافات سے خدا سے بغاوت کی بنیادوں کو ڈھادے ’ اور وہ عمارت جو باغیانہ اور طاغیانہ فکر و نظر کی بنیاد پر انسانی زندگی کو اور دنیا کی نظروں کو خیرہ کیے دے رہی ہے، اس کے کھوکھلے پن کو واشگاف انداز میں دنیا کے سامنے رکھ دے ۔ اسلام کے قائم کردہ طریقہ فکر و تحقیق سے مشاہدے اور جستجوکے اس طریقے سے ’ ایک نئے نظام فکر و نظر سے دنیا کو روشناس کر ادے۔ انسانی سوچ و چار کے ہر راستے کو الٰہی طرز فکر و نظر کی راہ پر موڑ دینے کی جد و جہد میں لگ جائے۔ یہاں تک کہ یہ فکر ’ یہ طرز تحقیق دنیا پر چھا جائے اور ہر انسان اس کو اپنے اندروں کی آواز سمجھنے گلے۔ انسانی تہذیب و تمدن میں ’ فلسفہ حیات اور طرز زندگی میں خدائی رہنمائی سے ہٹ کر جو رویے انسان نے اپنالیے ہیں ان کی جگہ خدائی رہنمائی اور اسلامی روح کار فرما نظر آنے لگے۔ ایسے ہی لوگ’ اور ایسی ہی فکر آج کی دنیا میں انسانوں کی رہنمائی کے قابل ہیں ’ نہ کہ زندگی کی گاڑی کو پیچھے کی طرف ڈھکیل دینے والے لوگ دنیا کا رخ تنزل کی طرف موڑ دینے والے فلسفے اور طرز ہائے فکر۔

مولانا سید ابولاعلیٰ مودودی ؒ نے ایک جگہ تمثیلاً یو ں لکھا ہے کہ دنیا کی ریل گاڑی کو فکر و تحقیق کا انجن چلاتا ہے اور اس کے ڈرائیور ’‘مفکّرین و محققین‘‘ ہیں۔ اگر گاڑی کا رخ بدلنا ہو تو مولانا فرماتے ہیں کہ فکر و تحقیق کے انجن پر قبضہ کیا جاے اور مطلوبہ رخ پر اس انجن کا اور نتیجتہً اس گاڑی کا رخ پھیر دیا جائے ۔ خدا ناشناس لوگوں کے ہاتھوں سے اس گاڑی کو اگر بچانا ہو تو محض کڑھن اور جھنجھلاہٹ سے کچھ ہو نے والا نہیں بلکہ ا لٰہی فکر و نظر والوں کو اپنے اندر وہ صلاحیت اور قوت بہم پہنچانی ہو گی، جو اس گاڑی کے ڈرائیوروں کے لیے ضروری ہے۔

رہنمائی کسی وقتی حالات ’’ جذباتی کیفیت میں آنا ً فاناً کچھ کرجا نے کو نہیں کہتے بلکہ یہ مقام تحقیق وجستجو ‘‘ اور مسلسل سیکھنے سکھانے اور خود احتسابی کے عمل سے گزر نے اور گزرتے رہنے سے حاصل ہو سکتا ہے ۔ نئے تجربات کرنا  ’’ان سے مزید تجربہ حاصل کر نا  ‘‘  سیکھنا اور مزید تجربہ کر نا ’ فکر و عمل میں اس تجربہ کا نچوڑ داخل ہو تے رہنا اور مسلسل داخل ہو تے رہنااس رہ نمائی کے لیے ناگزیر ہے ۔ محاسبہ ’’ نقد وتبصرہ کے تلخ گھونٹ ‘‘تحقیق و تجربات کے اونچ نیچ’ سیکھنے سکھانے کا مسلسل عمل ’’ اسی سے فی الجملہ شخصیت نکھرتی ہے‘‘ اس میں ارتقائ کا عمل بھی جاری رہتا ہے۔ اس دنیا میں ہر چیز ارتقائ پزیر ہے اور اس ارتقائ میں تحقیق و تفکر ’’ تجربہ و جستجو‘‘  تنقید و محاسبہ مسلسل اپنا رول ادا کر تے رہتے ہیں۔ تدریج بھی اِسی تسلسل کا ایک حصہ ہے ۔

نظام اور سماج سے تعلق

سماجی انقلاب اور تبدیلی میں تدریج کا مطلب یہ ہوگا کہ موجودہ نظام کے مختلف سماجی ’’ معاشی وسیاسی اداروں میں مطلوبہ انقلاب یا تبدیلی کے لیے جن امور و مسائل میں وقتاً فوقتاً‘‘ مداخلت کی جاسکتی ہو ان میں مداخلت کی جاتی رہے ۔ بلکہ ان معاملات میں جن امکانی حدود تک تبدیلی ممکن ہو ان کی کوشش کی جائے۔ مثلاً متوازی طور پر تعلیمی اور معاشی اداروں کا قیام وغیرہ ۔ ہم جس ملک میں اس انقلاب کے داعی ہیں، وہ خود ایک ارتقائی دور سے گزر رہا ہے ۔ اس میں مختلف مسائل میں بحث و مباحث کا سلسلہ جاری ہے ۔ تحریک اسلامی اپنے مطلوبہ انقلاب کے لیے ملک میں ہو نے والے ان مباحثوں اور مذاکرات میں اپنا تعمیری حصہ ادا کرے۔ ممکنہ حد تک رہ نمائی اور تبدیلیوں کے قیام میں تعاون کر ے۔ مثلاً میڈیا کے ذریعہ جو مذاکرات ہو تے ہیں، یا عمومی ڈائیلاگ جو ہو تا ہے یا لو کل باڈیز اور اسمبلی یا پارلیمنٹ میں جو گفتگو ئیں ہو تی ہیں، ان میں شرکت کے ذریعے یہ کام ہو سکتا ہے ۔

مندرجہ بالا گزارشوں کے پس منظر میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلامی نظام کی اقامت کے لیے ہمارے ملک میں جو کوششیں ہو رہی ہے، اس میں تدریج کا ہو نا نا گزیر ہے ۔ ایک عرصہ دراز تک عوام کی تعلیم و تربیت ’’ معاشرے میں تعمیری خدمات کی تکمیل ایک نہایت ضروری عنصرہے ۔ اس راہ میں جب نکلیں گے تو تجربات بھی ہو ں گے‘‘ تجربات سے بہت کچھ سیکھنے کا عمل بھی ہو گا اور مزید تجربات کے مواقع بھی ملیں گے۔ اس راستے میں یہ بھی واضح ہے کہ داخلی مسائل سے بھی دوچار ہو نا پڑے گا   وسائل کی فراہمی بھی ایک مسئلہ ہو گا اور خارج میں مواقع بھی آسانی سے فراہم نہ ہو سکیں گے ۔ لہٰذا یہ عمل اور جد و جہد طویل بھی ہو نے کا اندیشہ ہے ۔ ان تمام باتوں کے لیے تیار رہنا پڑے گا۔ تبدیلی کی اس راہ میں کو شاں داعی گروہ کے سلسلے میں ڈاکٹر محمدنجات اللہ صدیقی چند باتوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں ۔ مختصراً ان کی طرف اشارہ کر تا ہوں:

داعی گروہ معاشرے میں اعلیٰ اقدار حیات کو جو یقیناً اسلامی اقدار ہی’ ہیں رواج دینے کی عملی کوشش کر تا ہے ۔ اس سے معاشرے میں اسلامی افکار و تصورات کو قبول عام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے معاشرے میں اس گروہ کو ذیل کی چند باتوں کے لیے جانے پہچانے جانا ضروری ہے ۔

٭وہ سارے انسانوں کو یکساں طور پر آزاد سمجھتا ہے ۔ کسی فرد یا گروہ کو کسی دوسرے فرد یا گروہ پر حکومت جتانے کا حق دار نہیں سمجھتا ۔ بلکہ اجتماعی امور کو باہمی مشورے سے طے کرنے کے اصول پر کاربند ہے۔

٭ وہ دولت کو خد ا کی امانت سمجھ کر اعتدال کے ساتھ اپنے صرف میں لانے کے ساتھ اس میں سماج کا بھی حق تسلیم کرتا ہے اور زندگی کو باہمی تعاون کے ساتھ گزارنے کا قائل ہے ۔جس میں خدا کے دیے ہوئے وسائل سے سبھی فیض یاب ہو سکیں۔

٭اس کا عمل اور سماجی مسائل میں اس کا موقف اس بات کا گواہ ہو کہ وہ انسانی معاشرے کو مساوات’ عفت و پاگیزگی ’ رحمت و شفقت اور کمزور کی حمایت پر مبنی دیکھنا چاہتا ہے۔

٭ اس گروہ سے توقع کی جانی چاہیے کہ وہ معاشرے میں اچھائیوں کو فروغ دینے اور برائیوں کی روک تھام کرنے کے کسی موقع کونہ جانے دے گا ۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے میں کبھی کو تاہی کو در آنے نہ دے گا۔

٭اس ملک میں تحریک اسلامی کے مطلوبہ صالح انقلاب کے داعی گروہ کے اندر نا گزیر یہ چند اجتماعی اوصاف بھی مطلوب ہیں جو اسلام کے بتائے ہوئے انفرادی و اجتماعی اوصاف کے علاوہ نظر آتے ہیں۔ درآں حالیکہ یہ خود اسلامی قدروں ہی کا پر تَو ہیں۔

متبادل کی دریافت

اگر ہم اس بات کو صحیح سمجھتے ہیں کہ فکر و تحقیق ہی سے دنیا کی رہنمائی کی جاسکتی ہے اور یہ بھی کہ فکر و تحقیق کے بہت سارے میدانوں میں اس وقت مسلمان بالعموم اور تحریکات اسلامی کے رہنما بالخصوص ’ دنیا کی علمی و تحقیقی رفتار سے پیچھے ہیں تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس میدان میں تحریک اسلامی کو بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔ مثال کے طور پر ہم نے موجودہ دور کے غیر الٰہی نظام ہائے معیشت و سیاست پر کافی زور دار تنقید ضرور کی ہے اور اس کے تاریک اور خاردار پہلوئوں کو خوب اجاگر کیا ہے مگر کیا ہم نے اس کے متبادل کے طور پر اسلامی نظام معیشت کو آج کے دور پر اور حالات پر منطبق (Apply) کر کے ایک واقعی تفصیلی متبادل نظام کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے ؟یا ہم اقدار پر مبنی سیاست کی بات کر تے ہیں۔ سیاست و حکمرانی کے زمرے میں آج نت نئی راہیں دریافت کی جارہی ہیں کیا ہم نے ان تمام راہوں میں اسلام کی راہ کس لحاظ سے ممیز ہے تفصیلاً واضح کر نے اور اس کے عملی پہلوئوں کو آشکار کر نے کی کوشش کی ہے ؟ ہمیں ماننا پڑے گا ہمیں فکر و تحقیق کے ریگزاروں میں بہت طویل فاصلہ طے کر نے کی ضرورت ہے۔ اس وادی کو طے کیے بغیر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ رہ نمائی یا اسلامی دعوت کا کام ہم کر رہے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ ابھی ہم ایک مکمل داعی گروہ بننے کے عمل (Process) سے گزر رہے ہیں اور ہمارے ہم وطن بھائی ابھی ہمارے ابتدائی مدعو ہی ہیں۔ دعوت کے کئی پہلو ہیں، جنہیں ہمیں اجاگر کر نا ہیں۔ اس کے بغیر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم دعوت پہنچاچکے ہیں۔

مجھے اس بات سے کامل اتفاق ہے کہ اصولی دعوت ہم پہنچا رہے ہیں۔ ہمارا لٹریچر سارا اس بات پر شاہد ہے کہ ہم نے اسلامی دعوت کی بنیادی باتوں پر کافی تفصیلی اور ہمہ پہلو مواد فراہم کر دیا ہے۔ ہماری آواز ملک کے عوام کے ساتھ ساتھ اہل فکر و تحقیق تک بھی کچھ نہ کچھ پہنچ رہی ہے ۔ لہٰذا اس بات میںبھی شک نہیں ہے کہ اسی موجودہ نظام سے ہمیں وہ لوگ بھی ملیں گے جو تحقیق و جستجو کے میدان کے شہسوار بھی ہیں۔ اصولی طور پر اگر وہ لوگ ہماری دعوت سے اتفاق کر لیتے ہیں تو پھر اس کی حقانیت کو عملی زندگی پر منطبق کر کے پیش کر نا ان کی اپنی ذمہ داری ہو جاتی ہے ۔ ہمیں اس بات کی پوری توقع ہے کہ ایسا ضرور ہو گا۔ مگر یہ خیال ہماری اپنی ذمے داریوں سے ہمیں سبکدوش نہیں کرتا ۔ ہمیں چاہیے کہ شعوری طور پر ایسے افراد تک پہنچنے کی کوشش کریں جن کے ذریعے یہ کام انجام پا سکتا ہو۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ کام بڑاصبر آزما ہے اور اس میدان میں ہماری کارگزاری بس نہ کے برابر ہے۔

پیش رفت کاجائزہ

ان معروضات کے پیش نظر اگر ہم ہندوستان میں تحریک اسلامی کے کام کا ایک سرسری جائزہ لیں گے تو چند باتیں جو میری نظر میں اہمیت کے ساتھ ابھرتی ہیں اُن میں پہلا میدان دعوت کا ہے۔ تحریک اسلامی نے اپنی دعوت کے بنیادی افکار کو واضح طور پر پیش کر نے کی کامیاب کو شش کی ہے ۔ یعنی

٭زندگی ایک نا قابل تقسیم اکائی ہے ’ اسے خانوں میں بانٹنا گویا ہمیشہ کے خسران سے دو چار ہونا ہے۔

٭اسلام ایک جامع اور منظم نظام فکر و عمل رکھتا ہے اور زندگی کے فطری مزاج سے پوری طرح ہم آہنگ ہے اور دین اسلام خالق کائنات کا بخشندہ دین ہے ۔

٭دین اسلام کے حق ہونے کا تقاضا ہے کہ انسان اسے پوری طرح اپنا لے اور اسی کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام معاملات کو سنوارلے۔ نیز اس نظام کو اپنے اوپر اور زندگی کے مختلف اجتماعی اداروں پر قائم و نافذ کر لے۔

٭جو لوگ اس دین کو اپنا لیتے ہیں وہ ایک منظم امت بن جائیں اور ان کی یہ انفرادی و اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ اس دین کو انسانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگیوں پر قائم کریں ۔ اس دین کی یہ اقامت امت مسلمہ کا دینی فریضہ ہے ۔

٭ اس دین کی اقامت کے لیے جو جد و جہد کی جائے وہ منظم اور منصوبہ بند ہو۔

٭ اس ملک میں اس دعوت انقلاب کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ یہاں کی آبادی کا ایک معتدبہ حصہ دعوت کو قبول کر لے اور ساتھ ہی اس کے قیام کے لیے بھی عملاً سرگرم عمل ہو جائے۔ چنانچہ تحریک نے اپنے چھوٹے سے مقامی یونٹ سے لے کر حلقہ اور مرکزکی سطح تک دعوت کو برادران ملت اور برادران وطن تک پہنچانے کی غرض سے روز اول ہی سے جد و جہد کا آغاز کر دیا تھا ۔ تمام ہی ذرائع ابلاغ کو حتی المقدور اس کام کے لیے استعمال کر نے کی کوششیں کی گئیں ۔ الحمد للہ ’ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ دعوت آج برادران ملت کے ایک بڑے طبقہ تک پہنچ چکی ہے اور اس کا ایک حصہ تحریک سے جڑ کر اس اجتماعی جدوجہد میں لگ گیا ہے ۔ اور ایک بڑاطبقہ ایسا بھی ہے جو خود سے منظم ہو کر اپنے طور پر یہ خدمت انجام دینے کی کوشش کر رہا ہے ۔ تحریک نے مسلمان بھائیوں میں ’ غیر مسلم بھائیوں تک دعوت دین پہنچانے کا شعور جگانے کی کامیاب کو شش کی ہے۔ نتیجہ کے طور پر آج ملک کے اندر ہر دینی ادارے اور ہر اجتماعی کوشش میں ’’دعوت دین‘‘ کی سعی و جہد کو بھی شامل کر لیا گیا ہے ۔ الحمد للہ علیٰ ذالک ۔ آج چاروں طرف ملت کے اندر دعوت دین کا غلغلہ نظر آرہا ہے ۔

٭ ایک طرف تحریک نے جو کوششیں برادران وطن تک دعوت پہنچانے کی کی ہیں اور مسلسل کر رہی ہے، اس کے بھی الحمد للہ بہت ہی حوصلہ افزائ نتائج سامنے آرہے ہیں اور اسی کے ساتھ برادران ملت کی سعی بھی اِن شائ اللہ بارآور ہو گی۔

وسیع لٹریچر

مندرج بالا امور کو واضح طور پر اہل ملک کے سامنے رکھنے کے لیے تحریک نے وسیع ترین لٹریچر فراہم کیا ہے ۔ ملک کی ساری مسلمہ زبانوں میں قرآن مجید ’ احادیث پاک اور سیرت طیبہ کے علاوہ اسلامی فکر و اسلامی نظام کے مختلف پہلوئوں کو منور کر نے والے لٹریچر کا ایک جال ملک کے اندر پھیلایا ہے ۔ اب کسی کو یہ کہنے کی گنجایش نہیں ہے کہ اسلامی نظام کے خد وخال اصولی طور پر معلوم کر نا چاہیں تو کہا ں جائیں۔ ملک کی بارہ زبانوں میں وسیع لٹریچر کے علاوہ کئی ہفتہ وار’ ماہنا مے ’ میگزین اور روزنامے جاری کیے گئے جو حالات کا حتی المقدور تجزیہ بھی کر تے ہیں اور ان حالات میں اسلام کا مجوزہ حل بھی پیش کر نے کی کوشش کر تے رہتے ہیں۔ اس طرح دعوت انقلاب بھارت کے تمام باشندوں تک بلا لحاظ مذہب و ملت پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

اسلامی معاشرے کی جانب

مسلمانوں کو منظم کر نے کے سلسلے میں جہاں ایک طرف جماعت اسلامی ہند کی تنظیم کو مسلم عوام میںزیادہ سے زیادہ مقبول بنانے اور اس کے اندر بحیثیت متفق’ کارکن اور رکن کے شریک کرا نے کی مسلسل کوشش کی کی جارہی ہے ’ وہیں دوسری طرف مسلم نوجوانوں کو تحریک کی دعوت کے لیے آمادہ کرنے اور ان کے ذریعے ملک کے نوجوان طبقے کو بالخصوص طالب علموں کو تحریک کے نظریات اور افکار سے واقف کر وانے اور ان کے ہم نوا بنانے کے لیے اورانہیں منظم زندگی گزارنے کی ذہن سازی کی جارہی ہے۔ اس کے لیے اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (SIO) کے نام سے ایک طلبہ تنظیم قائم کی گئی۔ خواتین اور طالبات کو تحریک سے جوڑے رکھنے اور تحریک کے کاموں میں ان سے خاطر خواہ تعاون لینے کی غرض سے جماعت اسلامی ہند کی نگرانی میں ایک طرف شعبہ خواتین اور دوسری طرف طالبات کی تنظیم ’ گرلس اسلامک آرگنائزیشن (GIO) کو بھی منظم کیا جارہا ہے۔ اس سہ رخی تنظیمی

جدو جہد کے ساتھ ساتھ تحریک اسلامی کے دعوتی تقاضوں کی تکمیل کے لیے ملک کے مختلف مسائل میں خدمت اور رہنمائی کے پیش نظر کچھ ذیلی تنظیمات بھی قائم کی جارہی ہیں۔

تحریک نے روز اول ہی سے تعلیمی مسائل پر توجہ دینے کی کوشش کی ہے۔ اسی کے نتیجے کے طور پر آج تقریباً ہر حلقے میں تعلیم کے شعبے کے تحت متعدد اسکول ’ مدرسے ’ کالج اور ایک جگہ یونیورسٹی کے طرز پر مختلف کلیات کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے ۔ بنیادی تعلیم کے لیے پرائمری اسکولوں کا جال پھیلا یا گیا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کی لگ بھگ تمام یونٹوں میں شعبہ خدمت خلق کے ذریعے عوامی مسائل جیسے فقرو فاقہ ’ بے روزگاری ’ مرض و جہالت وغیرہ کو پیش نظر رکھا گیا ہے اور ان کے حل کے لیے حتی المقدور کوششیں کی جارہی ہیں۔ اکثر مقامات پر فری ڈسپنسریاں’ عام شفاخانے ’ چھوٹی روز گار اسکیمیں’ وقتی اور ہنگامی عوامی ضروریات کی تکمیل کے علاوہ ارضی و سماوی آفات سے نمٹنے کے لیے درکار منظم کوششوں کا اہتمام کیا جاتا ہے اور بعض جگہوں پر بڑے بڑے شفا خانے ’ ڈیاگنو سٹک سنٹرز ﴿تشخیصی مراکز﴾ بھی قائم کیے جارہے ہیں۔ اب اس کام کو ملک گیر پیمانے پر منظم کر نے کی غرض سے ایک کل ہند ادارہ بھی بنایا جارہا ہے ۔

عوام کے ذریعے عوامی خدمات کے جذبے کو ابھارنے اور عمومی مسائل کے سلسلے میں عوام کے اندر شعور جگانے اور عوامی مسائل کے سلسلے میں حکومتی اداروں کو مناسب توجہ دلانے کے لیے ایک رضا کار تنظیم مومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس (MPJ) کا قیام عمل میں لا یا گیا ہے اور اسے ہر ریاست میں قائم کر کے عوامی شعور بیدار کر نے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

برادران ملت میں اجتماعیت کے شعور کو بیدار کر نے بلکہ اسلامی اجتماعیت پیدا کر نے کی غرض سے اور ان میں آپسی معاملات کو اور ملی امور کو مل جل کر انجام دینے کی خوپیدا کر نے کے لیے تحریک نے مسلمانوں کی اجتماعی سعی و جہد کی ہر کوشش میں ساتھ دیا ۔ چنانچہ مسلم پرسنل لاپر ہو نے والے حملوں کے دفاع اور خود مسلم پرسنل لا کی حفاظت اور بقائ کے لیے قائم کیے گئے مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام اور اس کے استحکا م میں جماعت نے بھر پور حصہ لیا۔ اسی طرح مسلمانوں کے اجتماعی و سیاسی مسائل کے حل کے لیے قائم ہونے والے ادارہ مسلم مجلس مشاورت کے قیام میں بھی تحریک کے ذمہ داروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ۲۹۹۱ئ میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد اس کی باز یابی اور اس سے متعلق دوسرے مسائل کے حل کے لیے قائم بابری مسجد ایکشن کمیٹی میں بھی جماعت نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ یہ ادارے متعلقہ مسائل میں مسلمانوں کی متحدہ آواز سمجھے جاتے ہیں ’ سیاسی پارٹیوں اور حکومتی ایوانوں میں ان کی آواز کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔

ملک میں فرقہ پرستی کے انسداد اور فرقہ پرست طاقتوں کے استیلائ کے لیے جماعت نے ایک ادارہ ’’ فورم فار ڈیموکرسی اینڈ کمیونل ایمیٹی ’‘ کے قیام میں بھی بڑی سرگرمی سے حصہ لیا ۔ جس میں ملک کے غیر فرقہ وارانہ ذہن و فکر کے دانشور اور اہل فکر و نظر شریک ہیں ۔

ان تمام اجتماعی کوششوں سے ملک میں صالح اجتماعیت کے شعور کو بیدار کر نے کی مسلسل سعی کی جاتی رہی ہے جس کی وجہ سے جماعت کی شناخت ایک اصلاح پسند سماجی ، سیاسی اور دینی تحریک کی حیثیت سے اجاگرہو گئی ہے۔ آزادی ملک کے ابتدائی سالوں میں جماعت کے بارے میں ’ مسلمانوں کی فرقہ پرست جماعت ہو نے کا جو غلط تصور پیدا ہو ا تھا وہ پوری طرح ختم ہو سکا ہے اور اس کی دعوت کے مختلف پہلوئوں پر غور کے لیے اہل ملک میں آمادگی ظاہر ہو نے لگی ہے ۔

تحریک کا امتیازی وصف

ان کوششوں سے ایک طرف عوام کے اندر دعوت کے نفوذ کا ایک راستہ ملا ہے، دوسری طرف کارکنوں کے اندر عوام سے قریب ہو نے ان کے مسائل سے کسی حد تک واقف ہونے اور ان مسائل سے نمٹنے کی کچھ صلاحیت پیدا ہورہی ہے ۔ البتہ اس راہ میں بھی بہت کچھ کرنا ضروری ہے ۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ملک اور باشندگان ملک کے اندر بنائو اور بگاڑ کے لانے میں سیاست اور اہل سیاست کا رول ہمیشہ سے کلیدی رہا ہے ۔ عوام کی اجتماعی زندگی میں تبدیلی یا انقلاب اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک کہ سیاسی نظام کو مطلوبہ معتقدات اور نظریات کے مطابق ڈھالا نہ جائے۔ جہاں جماعت کی سماجی سطح پر یہ کوششیں عوام کی اصلاح اور خیر پسندی کی طرف ان کے اندر میلان کو پروان چڑھانے میں صرف ہو رہی ہیں وہیں دوسری طرف ملک کا سیاسی ڈھانچہ جو خود غرض اور مفاد پرست عناصر کے ہاتھوں میں پھنسا ہوا ہے ان کوششوں کو پوری طرح بارآور ہو نے میں شدید رکاوٹ کا باعث بنا ہوا ہے ۔ اس لیے سیاست کے میدان میں بھی سدھار کی جد و جہد جماعت کی دعوت اور خدمت کے فروغ کے لیے نہایت ضروری ہے ۔ جماعت ملک کے مختلف معاملات میں اپنے موقف کو حسب موقع و ضرورت اہل ملک کے سامنے واضح کر تی رہی ہے ۔ اسی غرض سے وقتاً فوقتاً جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ کی قراردادیں عوام اور اہل فکر و دانش کے سامنے لائی جاتی رہی ہیں۔ جماعت روز اول ہی سے ملک کے سیاسی نظام میں اقدار کے فروغ اور اقدار کی بنیاد ہی پر سیاست کو چلانے کی قائل رہی ہے اور اس بات کا اظہار ہمیشہ کر تی آرہی ہے ۔ حال ہی میں اُس نے اس بات کا عوامی اعلان اور ایک طرح سے کمٹمنٹ کیا ہے کہ وہ اس ملک میں اقدار پر مبنی سیاست کی داغ بیل ڈالے گی۔ اس ضرورت کے لیے ایک سیاسی تنظیم کے قیام کا ارادہ بھی کیاگیا ہے ۔ توقع ہے کہ جماعت کا سیاسی موقف عوام کے اندر واضح ہو نے کا موقع ملے گا اور اسلام کے سیاسی نظام سے عوام کی واقفیت کا ایک دروازہ کھل سکے گا۔ ان سب کوششوں اور اتنی ساری جدو جہد کے باوجود تحریک ابھی تک اپنی شناخت ’’پڑھے لکھے لوگوں کی تحریک ’‘ سے آگے بڑھ کر عوامی تحریک کا درجہ حاصل نہیں کرسکی ہے ۔ جب تحریک کی دعوت عوام میں مقبول ہو گی تو اس وقت شاید دعوت اسلامی کی حیثیت بھی عوامی ہو سکے گی۔

اس تمام سفر کے دوران تحریک کے ذمہ داروں کو اور بالخصوص تحریکی فکر کی حفاظت چاہنے والوں کو جو فکر دامن گیر رہی ہے وہ یہ کہ ان کاموں میں پھنس کر کہیں تحریک کے کارکن اپنے ذہنوں سے تحریک کے بنیادی فکری اثاثے کو نہ کھو دیں ۔ تحریک کے پھیلائو اور اس کے نفوذ کی راہیں جہاں وسیع تر ہو تی جارہی ہیں اس کے تقاضے کے طور پر بے شمار مسائل ملک میں اور ملت میں ایسے اٹھ رہے ہیں جن کو مخاطب بنانا از حد ضروری ہے تا کہ تحریک ملک میں غیر متعلق اور غیر ضروری ہو کر نہ رہ جائے ۔وہیں دوسری طرف اس بات کی نگہہ داشت بھی ضروری ہے کہ تحریک جو دراصل بنیادی طور پر نظریاتی اور اصولی ہے ’ جس کا عملی زندگی سے بھی بہت گہرا تعلق ہے، وہ اپنے نظریاتی اور اصولی وجود کو کسی درجہ میں بھی متاثر نہ ہو نے دے۔ یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے اور بالکل واضح طور پر اہم مسئلہ ہے جسے یوںہی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ بالخصوص ان حالات میں جبکہ اس طرح کے معاملات بھی سامنے آتے جارہے ہیں، جو اس خدشے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں ۔

اس موضوع پر بہت تفصیل سے غور و خوص کر نے کی ضرورت ہے۔ مگراتنا توکہا جاسکتا ہے کہ پہلے مرحلے کے طور پر یا ایک حفاظتی اقدام کے طور پر ملک بھر میں تربیتی نشستوں کا اہتمام ہر سطح پر مسلسل کیا جاتا رہے۔ جن کے ذریعہ تحریکی فکر کو کارکنوں کے اندر نافذ کیا جاتا رہے۔ نہ صرف تحریک کی مرکزی تنظیم سے وابستہ افراد کے لیے بلکہ ذیلی تنظیمات اور مدد گار ادارہ جات میں بھی اس غرض سے تربیتی مہمات چلائی جائیں ۔ بہرحال نئے داخلوں کی رفتاراگر حدِ اعتدال سے تجاوز کررہی ہو تو اس کو متوازن بناکر تحریک کو نظریاتی بنیادوں پر مضبوط اور داخلی نظم کے اعتبار سے مستحکم کر نے کی طرف توجہ بہت ضروری ہے ۔

فروری 2010

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau