اسلامی تحریکات نئے دور میں

ایک نظر

مرزا سبحان بیگ

’’زندگی نو‘‘ جولائی ۹۰۰۲ئ میں شائع شدہ ڈاکٹر عبدالسلام احمد ایم کے مضمون ’’اسلامی تحریکات نئے دور میں‘‘ کے سلسلے میں چند معروضات پیش ہیں۔

فاضل مضمون نگار نے لکھا ہے:

’’کسی بھی زمانے کی اسلامی تحریک کسی تازہ وحی کی بنیاد پر نہیں چلتی ہے، بلکہ اس کا مناسب طریقۂ کار انسان اپنے تجربے کی روشنی میں اپنے زمانے کو سامنے رکھتے ہوئے تجویزکرتا ہے۔ جب زمانہ بدلتاہے اس کے ساتھ تحریک بھی بدلتی ہے۔‘‘ ﴿ص :۵۶﴾

’’زمانہ ایک ایسی حقیقت ہے جو تمام امور میں ایک اہم رول ادا کرتاہے۔ حتیّٰ کہ وحی تک اس کا لحاظ رکھتی ہے۔ حضراب انبیائؑ  کے دعوتی کاموں کی تاریخ پر نظرڈالنے سے معلوم ہوگاکہ ان کے زمانے کااسلام کس طرح آپس میں مختلف رہا ہے۔‘‘ ﴿ص:۵۶﴾

تعلیم و تفہیم کے لیے ضروری تھاکہ ایک قوم کو ایسی زبان میں پیغام بھیجاجاے جسے وہ سمجھتی ہو، حتیّٰ کہ ایک ہی نبی کے کام زمانے کے تغیر کے ساتھ بدلتے ہیں۔ اس کی بڑی مثال خود حضورﷺکے عظیم کارنامے ہیں۔ حضورﷺنے مدینہ منورہ میں جو کام کیے اس ترتیب سے نھیں تھے جس ترتیب سے مکہ میں کیے ۔ اور قرآنی سورتوں کی مکی اور مدنی جیسی ترتیب دینا بھی اتفاقی نہیں۔‘‘ ﴿ص:۷۵﴾

’’جب زمانے کے تغیر کے ساتھ اسلام بھی اس معنی میں متغیرہوتاچلاجاتاہے تو انسانوں کی قائم کردہ تحریکوں کے تغیر پذیر ہونے میں حرج کیا ہے۔‘‘﴿ص:۷۵﴾

’’تحریک کسی بھی طرزکی ہو، وہ زمانے کے ساتھ نہ چلتی ہوتو زمانہ اس کے لیے مقبرہ تیارکردیتا ہے‘‘ ﴿ص:۵۷﴾

موصوف نے ’’زمانے‘‘ کو غیرمعمولی اور بنیادی اہمیت کاحامل قرار دے دیاہے۔ ان کے نزدیک زمانہ ہی سب کچھ نظرآتا ہے۔ حالانکہ زمانہ کیا ہے؟ وقت، جو اللہ تعالیٰ نے اس کائنات اور اس کی ہر شئے بشمول انسان کی زندگی کے لیے مقرر کررکھا ہے۔ چنانچہ کسی اَمر میں زمانہ کوئی رول ادا کرتاہے یہ بات ہی بے معنی ہے۔ تمام اُمور میں حقیقی اور اہم رول تو ادا کرتا ہے اللہ تعالیٰ کا حکم، اس کی مشیّت اور اس کا قانون فطرت۔ البتہ یہ کہاجاے اور کہہ سکتے ہیں کہ گزرے ھوے انسان نے اس دنیا کو جس طرح برتا اور موجودہ انسان جس طرح برت رہا ہے، اُسی کا نام زمانہ ہے، تو اس میں بَس رول ہوگا۔ انسان کایا اس کے طرز فکر وعمل کا او ریہی حقیقت ہے۔موصوف تحریک اسلامی سے جو کچھ چاہتے ہیں اس کا لُب لباب یہ ہے کہ ’’چلو تم ادھرکو ہوا ہو جدھرکی‘‘ یا ’’زمانہ باتو نہ سازد تو بازمانہ بساز‘‘﴿اگر زمانہ تیرا ساتھ نہیں دیتا ہے تو تجھے زمانے کا ساتھ دینا چاہیے﴾ لیکن یہ تو مذہب گو سفنداں ہے، نہ کہ کیشِ مرداں، اس حقیقت کو علامہ اقبالؒ اس طرح واضح کرتے ہیں ع

حدیثِ بے خبراں ہے، تو بازمانہ بساز

زمانہ باتو نہ سازد، تو بازمانہ ستیز

اور اسی حقیقت کو، جو کسی بھی انقلابی تحریک بالخصوص اسلامی تحریک اور اس کے علمبرداروں میں سب سے زیادہ نمایاں رہی ہے، مولانا مودودیؒ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

’’مسلمان جس کا نام ہے وہ دریا کے بہائو پر بہنے کے لیے پیدا ہی نہیں کیاگیاہے۔ اس کی آفرینش کاتو مقصد ہی یہ ہے کہ زندگی کے دریا کو اس راستے پر رواں کردے جو اس کے ایمان و اعتماد میں راہ راست ہے، صراط مستقیم ہے۔ اگر دریا نے رُخ اس راستے سے پھیردیا ہے تو حقیقت میں جو سچا مسلمان ہے وہ اس غلط رُو دریا کی رفتار سے لڑے گا۔ اس کارُخ پھیرنے کی کوشش میں اپنی پوری قوت صرف کردے گا، کامیابی اور ناکامی کی اس کو قطعاً پروا نہ ہوگی۔ وہ ہراس نقصان کو گوارا کرلے گا جو اس لڑائی میں پہنچے یا پہنچ سکتاہو۔ حتّٰی کہ اگر دریا کی روانی سے لڑتے لڑتے اس کے بازو ٹوٹ جائیں، اُس کے جوڑ بند ڈھیلے ہوجائیں، اور پانی کی موجیں اس کو نیم جان کرکے کسی کنارے پر پھینک دیں، تب بھی اس کی روح ہرگز شکت نہ کھائے گی۔ قرآن تمھارے سامنے ہے، انبیائ کی سیرتیں تمھارے سامنے ہیں۔ ابتدائ سے لے کر آج تک علمبرداران اسلام کی زندگیاں تمھارے سامنے ہیں۔ کیا ان سب سے تم کو یہی تعلیم ملتی ہے کہ ہوا جدھر اُڑائے اُڑجائو؟ پانی جدھر بہائے اُدھر بہہ جائو؟ زمانہ جو رنگ اختیارکرے اُس رنگ میں رنگ جائو؟ اگر مدّعا یہی ہوتا تو کسی کتاب کے نزول اور کسی نبی کی بعثت کی ضرورت ہی کیاتھی؟ ہَوا کی موجیں تمھاری ہدایت کے لیے اور حیات دنیا کا بہائو تمھاری رہ نمائی کے لیے اور زمانہ کی نیرنگیاں تمھیں گرگٹ کی روش سکھانے کے لیے کافی تھیں۔ خدا نے کوئی کتاب ایسی ناپاک تعلیم دینے کے لیے نہیں بھیجی اور نہ اس غرض کے لیے کوئی نبی مبعوث کیا۔ اس ذات حق کی طرف سے تو جو پیغام بھی آیا اس لیے آیا کہ دنیا جن غلط راستوں پر چل رہی ہے ان سب کو چھوڑکر ایک سیدھا راستہ مقرر کرے، اس کے خلاف جتنے راستے ہوں ان کو مٹانے اور دنیا کو ان سے ہٹانے کی کوشش کرے، ایمان داروں کی ایک جماعت بناے جو نہ صرف خود اس سیدھے راستے پر چلیں بلکہ دنیا کو بھی اس کی طرف کھینچ کر لانے کی کوشش کریں۔ انبیائ اور اُن کے متبعین نے ہمیشہ اس غرض کے لیے جہاد کیا۔ اس جہاد میں اذیتیں اٹھائی ہیں، نقصان برداشت کیے ہیں اور جانیں دی ہیں۔ یہ خیال کہ زندگی کا دریا جس رُخ پر بہہ گیاہے اس سے وہ پھیرا نہیں جاسکتا۔ عقلاً بھی غلط ہے اور تجربہ و مشاہدہ بھی اس کے خلاف گواہی دیتا ہے۔ دنیا میں ایک نہیں سینکڑوں انقلاب ہوئے ہیں اور ہر انقلاب نے اس دریا کے رُخ کو بدلا ہے۔ اس کی سب سے زیادہ نمایاں مثال خود اسلام میں موجود ہے۔ محمدﷺجب دنیا میں تشریف لائے تو زندگی کا یہ دریا کس رُخ پر بہہ رہاتھا؟ کیا تمام دنیا پر کفر و شرک کا غلبہ نہ تھا؟ کیا استبداد اور ظلم کی حکومت نہ تھی؟ کیا انسانیت کو طبقات کی ظالمانہ تقسیم نے داغدار نہ بنارکھاتھا؟ کیا اخلاق پر فواحش، معاشرت پر نفس پرستی، معیشت پر ظالمانہ جاگیرداری و سرمایہ داری اور قانون پر بے اعتدالی کا تسلط نہ تھا؟ مگر ایک تن واحد نے اٹھ کر تمام دنیا کو چیلنج دے دیا، تمام ان غلط خیالات اور غلط طریقوں کو رد کردیا جو اس وقت دنیا میں رائج تھے۔ ان سب کے مقابلے میں اپنا ایک عقیدہ اور اپنا ایک طریقہ پیش کیا اور چند سال کی مختصر مدت میں اپنی تبلیغ اور جہاد سے دنیا کے رُخ کو پھیرکر اور زمانے کے رنگ کو بدل کر چھوڑاانقلاب یا ارتقائ ہمیشہ قوت ہی کے اثر سے اونچا ہواہے، اور قوت ڈھل جانے کا نام نہیں ڈھال دینے کا نام ہے۔ مُڑجانے کو قوت نہیں کہتے، موڑدینے کو کہتے ہیں۔ دنیا میں کبھی نامردوں اور بزدلوں نے کوئی انقلاب پیدا نہیں کیا۔ جو ہر سانچے میں ڈھل جائے اور ہر دبائو سے دب جانے والے ہوں ایسے لوگوں کاکوئی قابل ذکر کارنامہ انسانی تاریخ میں نہیں پایاجاتا۔ تاریخ بنانا صرف بہادر مردوں کاکام ہے، انھی نے اپنے جہاد اور قربانیوں سے زندگی کے دریا کا رُخ پھیرا ہے۔ دنیا کے خیالات بدلے ہیں، مناہجِ عمل میں انقلاب برپا کیا ہے۔ زمانے کے رنگ میں رنگ جانے کے بجائے زمانے کو خود اپنے رنگ میں رنگ چھوڑا ہے۔‘‘  ﴿تنقیحات: ’’کیشِ مرداں نہ کہ مذہبِ گو سفنداں‘‘﴾

مضمون نگار اس حقیقت سے ناواقف نظرآتے ہیں کہ تحریک اسلامی کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ اسلام کی۔ ہر نبی انسان ہی تھا اور ہر نبی کا دین اسلام ہی تھا، جس کی اقامت اس کا نصب العین تھا، یعنی یہ کہ انسان صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے، طاغوت سے دور رہے، نیز کسی تفریق و تقسیم کے بغیر ہر طرف سے یکسو ہوکر پورے دین ﴿بشمول اس شریعت کے جو اس کو منجانب اللہ دی گئی تھی﴾ کی مخلصانہ پیروی کرتے ہوئے اُسے اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں میں جاری و نافذ کرے۔ اِسی جدوجہد کا نام تحریک اسلامی ہے، جو نبی کی موجودگی میں اس کی قیادت میں ‘‘تازہ وحی’’ ہی کے تحت چلتی اور دنیا سے اس کے رخصت ہوجانے کے بعد اُس پر نازل شدہ وحی اور اُس کی سنّت کے تحت اُس کے پیروئوں کے ذریعے چلتی ہے۔ کسی بھی نبی کا دین مختلف نہیں تھا۔ نہ بنیادی عقائد میں کوئی فرق تھا، نہ عبادات میں کوئی فرق تھا نہ ہی عبادات کے بنیادی طریقے میں۔ ‘‘زمانے کے ساتھ یا تجربہ کی روشنی میں’’ کسی نبی کا نہ دین بدلا نہ تحریک بدلی اور نہ ہی بنیادی طریقۂ کار بدلا۔ ہرنبی اور اس کی قیادت میں چلنے والی تحریک کا نقشۂ کار بنیادی طورپر ایک ہی نوعیت کاتھا، ماحول اور زمانے کے اختلاف کے سبب تفصیلات میں ضرور کچھ فرق تھا، لیکن اصولی اور بنیادی فرق ہرگز نہیں تھا۔ سینکڑوں اور ہزاروں برس کے بعد اور حالات کے فرق کے اختلاف کے باوجود کام کے نقشے ایک ہی سے رہے ہیں۔

موصوف مزید فرماتے ہیں کہ:

٭           ’’اسلامی تحریکوں کو اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرناچاہیے کہ تغیرات ایک کرشمہ ہیں۔ پہلے ایک حالت کودوسری حالت میں بدلنے میں دس سال لگتے تھے، لیکن اب اس کے لیے دس دن کی ضرورت بھی نہیں ہے۔‘‘ ﴿ص:۵۸﴾

٭           ’’آج کل اسلامی تحریکیں جاہلی قوم سے کنارہ کش ہوکر انھیں اپنے ارشادات اور فلسفیانہ نصیحتوںسے نوازنے کا گروہ بننے کے بجائے ان کے ساتھ مل جل کر کام کرنے والی عوامی تحریکیں بن چکی ہیں۔ ایک زمانہ میں اسلامی تحریکیں نظریات کا دفاع نظریات سے کرتی تھیں۔ چونکہ وہ اسلام اور جاہلیت کے درمیان اصولی فرق کو درخشاں کرنے کازمانہ تھا، وہاں میل جول اور مشارکت کاکوئی مسئلہ نہیں تھا، اس لیے اسلام ایسا ہی تھا۔‘‘﴿ص:۶۰﴾

٭           ’’عام طورپر لوگ تحریک کو اس بنیاد پر دیکھتے ہیں کہ وہ ان کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے کیا خدمات انجام دیتی ہیں، نہ کہ اس کی فلسفیانہ اصول کی بنیادپر۔ دنیا کی کوئی تحریک اس وجہ سے معتبر نہیں مانی جاتی ہے کہ اس کے اصول بہت عمدہ ہیں جب کہ وہ اجتماعی مسائل کو نظرانداز کرتی ہو۔ برعکس اس کے جو تحریک اجتماعی مسائل کے حل کو اپنا مقصود بناتی ہے لوگ اس کے اصولوں کو خواہ کسی طرز کے ہوں، قبول کرتے ہیں اور اس کے ساتھ تعاون کرنے لگتے ہیں۔ یہ جان لینے کے بعد اب اسلامی تحریکیںاس کے فلسفیانہ بندشوں سے نکل کر ایک سوشل جماعت (Social Group) بننے کی کوششوں میں ہیں۔‘‘ ﴿ص:۲۶﴾

خدا جانے کن تغیرات کو نظرانداز نہ کرنے کی اسلامی تحریکوں کو نصیحت کی جارہی ہے؟ کیا کائنات کے حقائق اور قوانین فطرت میں تغیر ہوچکا ہے؟ کیاانسانی فطرت اور شرو خیر کی فطرت بدل گئی؟ کیا یہ تغیر رُونما ہوچکاہے کہ اب قومیں یا انسانی گروہ آناً فاناً اپنے مذہب و تہذیب اور فکر وخیال کو بدل دیتی ہیں؟ کیا یہ حقیقت بھی اب تغیرپذیرہوتی جارہی ہے کہ کچھ بنیادی حقائق ایسے ہیں جو امتدادِ زمانہ کے ساتھ کبھی بدلتے نہیں ہیں؟ حہاں تک ظاہری حالات اور عارضی کیفیات ، مادی وسائل اور ذرائع و وسائل کا تعلق ہے وہ امتدادِ زمانہ کے ساتھ تغیرپذیر ہوتے رہتے ہیں، انہیں کرشمہ کہنا یا ان پر تعجب کرنا ہی غلط ہے، خواہ وہ کتنی ہی غیرمعمولی نوعیت کے ہوں جیساکہ فی زمانہ ہیں۔ اور اُنھیں دنیا کی کسی بھی اسلامی تحریک نے نہ کل نظرانداز کیاتھا نہ آج کررہی ہے۔

اسی طرح موصوف خدا جانے کن اسلامی تحریکوں کی بات کررہے ہیں کہ:

٭           ان کا کل کا اسلام کچھ اور تھا اور آج کاکچھ اور؟ وہ غیرمسلم ﴿جاہلی﴾ قوموں میں یا اُن کے ساتھ رہتے بستے ہوئے بھی ان سے کنارہ کشی اختیارکیے ہوئے باہر باہر سے اُنھیں محض ’’فلسفیانہ نصیحتیں نوازنے والا‘‘ بس ایک گروہ بنے ہوئی تھیں؟

انسان کے اجتماعی مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ ’’حاکمیت‘‘ کا ہے۔ یعنی یہ کہ کس کی چلے؟ انسان کی یا اللہ کی؟ لیکن موصوف کے اجتماعی مسایل میں سب سے بڑا مسئلہ ہی خارج ہے۔ ذیل میں بانیِ تحریک اسلامی مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحریروں سے چند اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں تاکہ مضمون نگار اور ان کے ہم خیال حضرات کو تحریک اسلامی اور اس کے مزاج کو سمجھنے میں رہ نمائی ملے اور وہ اپنے خیالات و تصورات پر نظرثانی فرمائیں:

’’قرآن میں ہم دیکھتے ہیں کہ نبی پر نبی آتا ہے اور ایک ہی بات کی طرف اپنی قوم کو دعوت دیتا ہے: یٰقومِ اعبدواللہ، مالکم من الہ غیرہ، خواہ بابل کی سرزمین ہویا ارضِ سَدُوم یا ملک مَدْیَن یا حجر کاعلاقہ یا نیل کی وادی، خواہ وہ چالیسویں صدی قبل مسیح ہو یا بیسویں یا دسویں۔ خواہ غلام قوم ہو یا آزاد، خستہ و درماندہ ہو یا تمدنی و سیاسی حیثیت سے بام عروج پر، ہر جگہ ، ہر دَور میں، ہر قوم میں اللہ کی طرف سے آنے والے رہ نماؤں نے انسان کے سامنے ایک ہی دعوت پیش کی اور وہ یہ تھی کہ ’’اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں ہے۔‘‘ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیاکہ میرے اور تمھارے درمیان کوئی تعاون، کوئی اشتراک عمل نہیں ہوسکتا جب تک کہ تم اس اصل الاصول کو تسلیم نہیں کرتے:

کفرنا بکم وبدا بیننا و بینکم العداوۃ والبغضائ ابدا حتی تومنوا باللہ وحدہ’  ﴿الممتحنہ۔ آیت ۴﴾

حضرت موسیٰؑ نے فرعون کے پاس جاکر ارسل معی بنی اسرائیل کا مطالبہ کرنے سے پہلے انی رسول من رب العلمین ﴿الاعراف۔ ۱۰۴﴾ کا اعلان کیا، اور ھل لک الی ان تزکی واھد یک الی ربک فتخشی ﴿النازعات۔ ۸۱،۹۱﴾ کی دعوت دی، اور اسے آگاہ کیاکہ تو رب نہیں ہے بلکہ رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور جینے کا طریقہ بتایا: ربنا الذی اعطی کل شیئٍ خلقہ ثم ھدی ﴿طٰہٰ۔ ۵۰﴾ حضرت عیسیؑ نے جن کی قوم رومیوں کی غلام ہوچکی تھی ، بنی اسرائیل اور آس پاس کی قوموں کو رومن امپیریلزم کے خلاف جنگِ آزادی کے جھنڈے کی طرف دعوت نہ دی بلکہ اس چیز کی طرف دعوت دی کہ ان اللہ ربی و ربکم فاعبدوہ’ ھذا صراط مستقیم ﴿آل عمران۔ ۱۵﴾ ۔ ظاہر ہے کہ یہ واقعات جو قرآن میں بیان کیے گئے ہیں ، کسی اور دنیا کے نہیں، اسی دنیا کے ہیں جس میں ہم رہتے ہیں، اور ایسے ہی انسانوں سے تعلق رکھتے ہیں جیسے ہم انسان ہیں۔ یہ نہیں کہاجاسکتا کہ جن ملکوں اور قوموں میں انبیائ آئے ان میں سرے سے کوئی سیاسی، معاشی، تمدنی مسئلہ حل طلب تھا ہی نہیں جس کی طرف توجہ کی ضرورت ہوتی۔ پَس جب یہ واقعہ ہے کہ اسلامی تحریک کے ہر رہ نما نے ہر ملک اور ہر زمانے میں تمام وقتی اور مقامی مسائل کو نظرانداز کرکے اسی ایک مسئلہ کو آگے رکھا اور اس پر اپنا سارا زور صرف کیا تو اس سے صرف یہی نتیجہ نکالاجاسکتاہے کہ ان کے نزدیک یہ مسئلہ اُم المسائل تھا اور وہ اس کے حل پر زندگی کے تمام مسائل کاحل موقوف سمجھتے تھے۔ اب یا تو یہ کہہ دیجیے کہ اسلامی تحریک کے وہ رہ نما جو خدا کی طرف سے آئے تھے، سب عملی سیاست ﴿اور معاشی ، معاشرتی اور تمدنی مسائل۔ راقم﴾ سے نابلد تھے، نہ جانتے تھے کہ انسانی زندگی کے معاملات میں کون سی چیز مقدّم اور کون سی مؤخّر ہونی چاہیے ، یا پھر یہ تسلیم کیجیے کہ اِس دَور میں جو حضرات اسلام کے نمایندے اور مسلمانوں کے قاید و رہ نما بنے ھوے ہیں وہ جزئیات شرع پر کتناہی عبور رکھتے ہوں، بہ ہرحال اسلامی تحریک کے مزاج کو وہ نہیں سمجھتے اور نھیں جانتے کہ اس تحریک کو چلانے اور آگے بڑھانے کا کیا طریقہ ہے۔‘‘

’’تمام مسلمانوں کو جان لینا چاہئے کہ بحیثیتِ ایک مسلم جماعت ہونے کے ہمارا تعلق اُس تحریک سے ہے جس کے رہ بر و رہ نما انبیائ تھے۔ ہر تحریک کا ایک خاص نظام فکر اور ایک خاص طریق کار ہوتا ہے۔ اسلام کا نظامِ فکر اور طریق کار وہ ہے جو ہم کو انبیائ کی سیرتوں میں ملتا ہے۔ ھم خواہ کسی ملک اور کسی زمانے میں ہوں، اور ہمارے گرد وپیش زندگی کے مسائل و معاملات خواہ کسی نوعیت کے ہوں، ھمارے لیے مقصد و نصب العین وہی ہے جو انبیائ کا تھا اور اس منزل تک پہنچنے کا راستہ وہی ہے جس پر انبیائ ہر زمانے میں چلتے رھے۔ اولئک الذین ھدی اللہ، فبداہم اقتدِہ۔ ﴿الانعام۔۰۹﴾ ھمارا معیار ِ قدر وہی ہونا چاہیے جو ان کاتھا، ہمیں زندگی کے سارے معاملات کو اسی نظر سے دیکھناچاہیے جس سے انھوںنے دیکھا، اور ھماری اجتماعی پالیسی انھی خطوط پر قائم ہونی چاہیے جن پر انھوںنے قایم کی تھی۔ اس مسلک کو چھوڑکر اگر ہم کسی دوسرے مسلک کا نظریہ اورطرز عمل اختیار کریںگے تو گمراہ ہوجائیںگے۔‘‘ ﴿ترجمان القرآن۔ مئی و جون ۰۴۹۱ئ﴾

‘‘دنیا میں جہاں جو بھی خرابی پائی جاتی ہے اُس کی جڑ صرف ایک چیز ہے، اور وہ ہے اللہ کے سوا کسی اور کی حاکمیت تسلیم کرنا۔ یہی اُمّ الخبائث ہے۔ یہی اصل بِس کی گانٹھ ہے۔ اسی سے وہ شجر خبیث پیدا ہوتا ہے جس کی شاخیں پھیل پھیل کر انسانوں پر مصیبتوں کے زہریلے پھل ٹپکاتی ہیں۔ یہ جڑ جب تک باقی ہے، آپ شاخوں کی جتنی چاہیں قطع و برید کرلیں، بجز اس کے کچھ حاصل نہ ہوگا کہ ایک طرف سے مصائب کا نزول بند ہوجاے اور دوسری طرف سے شروع ہوجاے۔’’ ﴿ترجمان القرآن۔ مئی و جون۰۴۹۱ئ﴾

‘‘رسول اللہﷺجب اسلام کی دعوت دینے پر مامور ہوے تو آپﷺکو معلوم ہے کہ دنیا میں بہت سے اخلاقی، تمدنی، معاشی اور سیاسی مسائل موجود تھے جو ایک لیڈر کے ناخنِ تدبیر کاانتظار کررہے تھے۔.. یہ سب کچھ تھا مگر جس لیڈر کو اللہ نے رہ نمائی کے لیے مقرر کیاتھا اس نے دنیا کے اور خود اپنے ملک کے ان بہت سے مسائل میں کسی ایک مسئلہ کی طرف بھی توجہ نہ کی، بلکہ دعوت اس چیز کی طرف دی کہ خدا کے سِوا تمام اِلہٰوں کو چھوڑدو اور صرف اُسی اِلٰہ کی بندگی قبول کرو. اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلامی تحریک کے نقطۂ نظر سے انسان کی اخلاقی و تمدنی زندگی میں جتنی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ان سب کی بنیادی علّت انسان کا آپ اپنا اِلٰہ بننا ہے یا پھر یہ کہ وہ اِلٰہ العٰلمین کے سِوا کسی دوسرے کو صاحبِ امر تسلیم کرے خواہ وہ دوسرا کوئی انسان ہو یا غیرانسان۔ یہ چیز جب تک جڑ میں موجود ہے اسلامی نظریہ کی رُو سے کوئی اوپری اصلاح، انفرادی بگاڑ یا اجتماعی خرابیوں کو دور کرنے میں کامیاب نہیںہوسکتی. محمدﷺنے اسی بنیادی اصلاح کی دعوت کو بغیر کسی سابق تیاری اور بغیر کسی تمہیدی کارروائی کے براہ راست پیش کردیا۔ انھوںنے اس دعوت کی منزل تک پہنچنے کے لیے کوئی ہیر پھیرکا راستہ اختیار نہ کیاکہ پہلے کچھ سیاسی یا سوشل طرزکاکام کرکے لوگوں میں اثر پیدا کیاجائے۔ پھر اس اثرسے کام لے کر کچھ حاکمانہ اختیارات سے کام لے کر رفتہ رفتہ لوگوں کو چلاتے ہوئے اس مقام تک لے آئیں۔ یہ سب کچھ نہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہاں ایک شخص اُٹھا، اور چھوٹتے ہی اس نے لااِلٰہ اِلااللہ کا اعلان کردیا. اس کی وجہ محض پیغمبرانہ جرأت اور جوش نہیں ہے۔ دراصل اسلامی تحریک کا طریق کار ہی یہی ہے۔ وہ اثر و نفوذ و اقتدار جو دوسرے ذرائع سے پیدا کیاجائے اس اصلاح کے کام میں کچھ بھی مددگار نہیں ۔ جو لوگ لاَاِلہٰ اِلااللہ کے سِوا کسی اور بنیادپر آپ کا ساتھ دیتے رہے ہوں وہ اِس بنیاد پر تعمیر جدید کرنے میں آپ کے کسی کام نہیں آسکتے۔ اس کام میں تووہی لوگ مفید ہوسکتے ہیں جو آپ کی طرف لااِلہٰ الااللہ کی آواز سُن کر آئیں۔ اسی چیز میں ان کے لیے کشش ہو، اسی حقیقت کو وہ زندگی کی بنیاد بنائیں، اور اسی اساس پر وہ کام کرنے کے لیے اُٹھیں۔ لہٰذا اسلامی تحریک کو چلانے کے لیے جس خاص قسم کا تدبر اور حکمت عملی کی ضرورت ہے اس کا تقاضا ہی یہی ہے کہ کسی تمہید کے بغیر کام کا آغاز اسی دعوت توحید سے کیاجائے۔’’

﴿اسلامی حکومت کس طرح قایم ہوتی ہے’’﴾

فاضل مضمون نگار کے درج ذیل ارشادات بھی ملاحظہ فرمائیں:

‘‘مولانا مودودی(رح) کے کارتجدید کے آغازمیں اسلامی نظام کو ازسرنو قایم کرنے کے علاوہ کوئی اور مقصد نہیں تھا، لیکن پاکستان پہنچنے کے بعد۰۶۹۱ئ میں ان کا یہ خیال ہواکہ تحریک اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے موجودہ سیاسی نظام سے بھرپور استفادہ کرے یہاں تک کہ الیکشن میں حصّہ لے۔ نیز ان کی یہ خواہش تھی کہ ہندوستان میں یہ پالیسی اور حکمت عملی جماعت اسلامی ہند خود اختیارکرے۔’’ ﴿ص:۸۵﴾

یہاں موصوف نے غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے تین باتیں خلاف واقعہ پیش کی ہیں۔ اولاً ‘‘مولانا مودودی(رح) نے جب تجدید واحیاے دین کا کام شروع کیاتو ان کا مقصد اسلامی نظام قایم کرنے کے علاوہ کوئی اور نہ تھا، لیکن پاکستان پہنچنے کے بعد ۰۶۹۱ئ میں وہ مقصد نہیں رہا بلکہ کچھ اور ہوگیا۔ مقصد کی تبدیلی کی صراحت بھی موصوف فرمادیتے تو بہتر ہوتا۔ بہ ہرحال یہ ایک صریحاً خلاف واقعہ بات ہے۔ثانیاً ، الیکشن میں حصّہ لینے کا خیال مولانا(رح) کو۰۶۹۱ئ میں ہوا۔ ثالثاً ‘مولانا(رح) چاہتے تھے کہ جماعت اسلامی ہند الیکشن میں حصّہ لے۔ ان دو غلط بیانیوں اور خلاف واقعہ باتوں پر محترم احسن مستقیمی صاحب نے اپنے مراسلہ ﴿‘‘زندگی نو’’ اگست ۹۰۰۲ئ﴾میں سخت اور مدلّل گرفت کی ہے۔ ملاحظہ فرمالیں۔

اسی صفحہ پر مضمون نگار نے دو اور باتیںایسی کہی ہیں جو خلاف واقعہ معلوم ہوتی ہیں۔ ایک تو مولانا مودودی(رح) کے بارے میں کہ انھوںنے ﴿جماعت اسلامی کے قیام کے بعد﴾ آغاز میں جو طرزعمل اختیارکیاتھا اُس پر وہ جمے نہیں رہے۔ دوسری اخوان المسلمون کے بارے میں کہ سیدحسن البنائ شہید(رح) کے انتقال کے بعد اخوان نے اپنے اساسی نظریات کو تبدیل کردیا۔ اتنے بڑے دعوے کرتے وقت ثبوت میں مثالیں، وہ بھی بالکل واضح، پیش کرنا چاہیے ۔ لیکن کوئی ایک مثال پیش نہیں کی گئی۔ جہاں تک مولانا مودودی(رح) کے طرزفکر کا تعلق ہے اس میں کوئی بنیادی یا نمایاں تبدیلی ہوئی اس کی کوئی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔ طریقۂ کار میں جزئی تبدیلی کا اطلاق مجموعی طرزفکر و عمل میں تبدیلی پر نہیں ہوتا اور جہاں تک اِخوان کا اپنے اساسی نظریات تک کو تبدیل کردینے کاتعقل ہے، تو اس ضمن میں بھی کوئی مثال پیش نہیں کی گئی۔ تحریک اسلامی کے اساسی نظریات اسلام کے اساسی نظریات سے ہٹ کر کوئی چیز نہیں ہوتے۔ پھراِخوان جیسی اسلامی تحریک اپنے اساسی نظریات کو کیونکر تبدیل کرسکتی ہے؟

٭           ‘‘وہاں کے باشندوں کے شدید اصرار پر حماس نے الیکشن میں شرکت کرنے کاارادہ کیا۔ حماس کا یہ پختہ ارادہ موجودہ دور میں اسلامی تحریکوں کے الیکشن میں شرکت کرنے کی ضرورت نمایاں کرتا ہے۔’’ ﴿ص: ۶۶﴾

کیا موصوف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ چونکہ حماس نے ﴿فلسطین کے ایک چھوٹے سے نیم آزاد علاقہ کے﴾ باشندوں کے شدید اصرار پر الیکشن میں حصّہ لینے کاپختہ ارادہ کیا، اس لیے اب وہ دنیا کی دیگر تمام اسلامی تحریکوں کے الیکشن میں حصّہ لینے کی ضرورت بن گیا؟ واضح ہو کہ حماس نے الیکشن میں حصّہ لینے کاصرف ارادہ نہیں کیا بلکہ عملاً حصّہ لیا، کامیاب ہوئی ‘‘الفتح’’ کے محمود عباس کے زیرصدارت حکومت بھی بنائی۔ لیکن کیا ہوا؟ ‘‘کھڑے بھی ہونے نہ پاے تھے کہ گرادیے گئے۔’’ بالآخر اس نیم آزاد علاقہ میں سے بھی ایک چھوٹے علاقہ غزہ کی پٹی پر قبضہ کرکے ﴿بجاطورپر﴾ اسے اپنے اقتدار میں لے لیا۔ پھر یہ کہ حماس نے الیکشن میں حصّہ عوام کے شدید اصرار پر لیااور عوام نے شدید اصرار کیوں کیا،اور اب بھی مشکل ترین حالات میں غزہ پٹی کے باشندے حماس کامکمل ساتھ کیوں دے رہے ہیں؟ اس لیے کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں حماس کا اور اس کے کارکنوں کا اسلامی سیرت و کردار، اس کا اپنے موقف پر سختی کے ساتھ جمے رہنا، اس کا جذبہ ٔ جہاد و قربانی، اس کی تنظیمی پختگی اور صلاحیت، اس کی عوام کے ساتھ سچی ہمدردی و خیرخواہی اور سچی خدمت کا جذبہ۔ اس میں واقعی عبرت کا وافر سامان موجود ہے اسلامی تحریکوں کے لیے کہ وہ اپنے اندر مذکورہ صفات پیدا کریں اور عوام پر اس قدر اثر انداز ہوں کہ وہ اُن کے الیکشن میں حصّہ لینے پر ‘‘شدیداصرار’’ کریں اور فیصلہ کن کامیابی سے اُنھیںہم کنار کرائیں، اور پھر اگر کوئی طاقت آپ کو اقتدار تک پہنچنے نہیں دیتی یا اقتدار سے ہٹادیتی ہے تو پبلک آپ کا ساتھ نہیں چھوڑتی، بل کہ کہیں نہ کہیں ﴿مثلاً غزّہ کی پٹی ہی سہی﴾ اپنی زمام کار آپ کے ہاتھ میں دینے کا سامان فراہم کردیتی ہے، اور پورے صبرو ثبات کے ساتھ آپ کی پشت پر کھڑی رہتی ہے۔

٭           ‘‘اس کے بعد انھوںنے ﴿نجم الدین اربکان نے﴾ ‘‘سعادۃ’’ پارٹی کی تشکیل کی۔ اس وقت ان کے خاص معتقد اردگان نے اپنی راہ لی ہے اور ان کی Juctice and dev.Partyکے لیے حتّی الامکان کوشش کی ہے۔ امریکہ کے ساتھ سمجھوتا کیا۔ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قایم رکھنے میں کوئی حرج نہ سمجھا۔ اسلامی ایجنڈے کا اعلان کرنے کے بجاے خدمت خلق میں سرگرم عمل ہوکر سب کی تائید حاصل کی۔ اپنے امیدواروں میں سیکولر سیٹوں کو شامل کیا۔’’ ﴿ص:۸۶﴾

یہ ہے فاضل مضمون نگار کی مطلوبہ تحریک اسلامی، جسے وہ دیگر اسلامی تحریکوں کے لیے ماڈل بناکر پیش کررہے ہیں۔ شاید مضمون نگار ترکی کی موجودہ سیاست اور وہاں کی تحریک اسلامی سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ ترکی میں موجودہ دور کی تحریک اسلامی کی علامت رہے ہیں نجم الدین اربکان، جنھوںنے علامہ نورسی(رح) کے بعد تحریک اسلامی کو یہاں تک کھینچ لایاہے۔ بارہاانھیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلا گیا ﴿حال ہی میں انھیں رہاکیاگیا﴾، ان کی سرگرمیوں پر پابندی کی عاید کی گئی، جس نام سے بھی پارٹی بناکر تحریک چلائی، اس پر پابندی لگائی گئی۔ آخر میں ‘‘السعادۃ’’ کے نام سے پارٹی بنائی۔ ترکی کے موجودہ وزیراعظم رجب طیب اردغان اور صدر عبداللہ گل نے السعادۃ سے علیحدگی اختیارکرکے ‘‘العدالتہ والتنمیہ’’ Justice and Dev Party کے نام سے اپنی علیٰحدہ پارٹی بنائی، جو مغربی حلقوںاور ترکی کے سیکولر حلقوں میں ‘‘معتدل اسلام’’ کی حامل سمجھی جاتی ہے۔ العدالتہ نے گزشتہ انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرکے حکومت بنائی اور ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں، صدارت اور وزارت عظمیٰ پر قبضہ کرلیا۔ اس وقت دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کی حریف بنی ہوئی ہیں۔ نجم الدین اربکان کو حاشیہ پر ڈالنے کی کوشش ہر طرف سے ہورہی ہے، حتّٰی کہ ان کی اپنی پارٹی السعادۃ کے اندر سے بھی نجم الدین اربکان کو گزشتہ دنوں جب قید کیاگیا اور نظربند رکھاگیاتواس دوران میں السعادۃ کی صدارت پر تبدیلی پسند نوجوانوں کے نمایندے نعمان کور تلموش فائز ہوگئے، اور اب کرسیِ صدارت نجم الدین اربکان کے لیے خالی کرنا بھی نہیں چاہتے۔ دونوں بعض امور میں ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں، جس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ جب تلموش نجم الدین اربکان کے معاون کے عہدے پر تھے ، اس وقت دونوں کے درمیان اختلاف اس قدر بڑھاکہ تلموش کو استعفیٰ دینا پڑاتھا۔

اب آپ بآسانی اندازہ کرسکتے ہیں کہ موصوف کی ‘‘تحریک اسلامی’’ السعادۃ ترکی میں نظام کو قائم کرنے یا اس کے لیے راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، اور نجم الدین اربکان صاحب الیکشن کے ذریعے اسلامی نظام قایم کرنے یا اس کے لیے راہ ہموار کرنے میں کامیاب ہوسکیںگے یا نہیں۔

٭           ‘‘آج ارکانِ تحریک اسلامی کی یہ رائے بالکل نہیں ہے کہ ‘‘الرئیس یولد ولایصنع’’ ﴿قاید پیدایشی ہوتاہے، بنایانہیں جاتا﴾ . مغربی افکار اور اسلامی افکار کو ملاکر نیا Module ایجاد کرنے والے ڈاکٹر طارق سوید جیسے لوگ اس میدان میں زیادہ نظر رکھتے ہیں اور تحقیق و تعلیم کاانتظام بھی کررہے ہیں۔’’ ﴿ص:۷۴﴾

مذکورہ عربی مقولے کو موصوف نے ارکانِ تحریک اسلامی کے متّھے منڈھ دیا، جب کہ یہ راے کسی بھی تحریک کے ارکان کی نہ پہلے کبھی تھی اور نہ آج ہے۔ مغربی افکار اور اسلامی افکار کو ملاکر جو نیا Moduleایجاد ہوگا، اس سے تو ہم اپنے لیے ، تحریکات اسلامی کے لیے اور اُمّت مسلمہ کے لیے بھی اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

مضمون نگار نے حضورﷺکی مکہ میں کفارو مشرکین سے مصالحت نہ کرنے اور مدینہ میں یہود سے معاہدہ کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے دنیا کے موجودہ سیاسی نظام کو برسرحق ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی عطا کردیا، کیونکہ ‘‘وہ حضورﷺکے دیے گئے دستور العمل کی طرف گامزن ہے۔’’ حضورﷺنے مدینہ پہنچ کر اسلامی ریاست کی بنیاد قایم کردینے کے فوراً بعد یہود سے جومعاہدہ کیاتھا اس کی حقیقت کیاہے، ملاحظہ فرمائیں:

‘‘وان یہود بن عوف امۃ مع المؤمنین’’

﴿بنی عوف کے یہودی مسلمانوں کے ساتھ ایک امت ہوںگے﴾

‘‘بَس یہ فقرہ کہ ‘‘یہودی اور مسلمان ایک امت ہوںگے’’ یہ دعویٰ کرنے کے لیے کافی سمجھ لیاگیاکہ آج بھی مسلمانوں اور غیرمسلموں کی متحدہ قومیت بن سکتی ہے۔ لیکن یہ بھی لفظی مغالطہ ہے۔ لُغت عرب میں اُمّت سے مراد وہ جماعت ہے جس کو کوئی چیز جمع کرتی ہو، عام اس سے کہ وہ زمانہ ہو، مقام ہو، دین ہو یا کوئی اور چیز.. اس لحاظ سے اگر دو مختلف قومیں کسی ایک مشترک مقصد کے لیے عارض طورپر متفق ہوجائیں تو ان کو بھی ایک اُمّت کہاجاسکتاہے۔ چنانچہ صاحبِ لسان العرب لکھتے ہیں: وقولہ فی الحدیث ان یہود بنی عوف امۃ من المؤمنین یرید انہم بالصلح الذی وقع بینہم و بین المؤمنین کجماعۃ منھم کلمتھم وایدیہم واحدہ۔ ﴿حدیث میں رسول اللہﷺکا یہ ارشاد کہ ‘‘ان یہود بن عوف.’’ اس سے مراد یہ ہے کہ یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان جو صلح واقع ہوئی ہے، اس کی وجہ سے وہ گویا مسلمانوں ہی کی ایک جماعت ہوگئے ہیں اور ان کا معاملہ واحد ہے۔﴾ . اس لُغوی ‘‘اُمّت’’ کو آج کی اصطلاح ‘‘متحدہ قومیت’’ سے کیا واسطہ؟ زیادہ سے زیادہ اس کو آج کل کی سیاسی زبان میں فوجی اتحاد Military Alliance کہہ سکتے ہیں۔ یہ محض ایک تحالف تھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ یہود اپنے دین پر رہیںگے، دونوں کی تمدنی و سیاسی ہیتیں الگ الگ رہیںگی۔ البتہ ایک فریق پر جب کوئی حملہ کرے گا تو دونوں فریق مل کر لڑیںگے اور دونوں اس جنگ میں اپنا اپنا مال خرچ کریںگے۔ دو تین سال کے اندر ہی اس تحالف کاخاتمہ ہوگیا اور مسلمانوں نے کچھ یہودیوں کو جلاوطن کیا اور کچھ کو ہلاک کردیا۔ کیا اسی کا نام ‘‘متحدہ قومیت’’ ہے؟ کیاکسی معنی میں بھی یہ چیزاس ‘‘متحدہ قومیت’’ سے مماثلت رکھتی ہے جو اس وقت معرض بحث میں ہے؟ کیا وہاں کوئی مشترک اسٹیٹ بنایاگیاتھا؟ کیا وہاں کوئی مشترک مجلس قانون ساز بنائی گئی تھی اور یہ طے ہواتھا کہ یہودی اور مسلمان ایک مجموعہ ہوںگے اور اس مجموعے میں سے جس کی اکثریت ہوگی وہی مدینہ پر حکومت کرے گا اور اس کے منظور کیے ہوئے قوانین مدینہ میں نافذ ہوںگے؟ کیا وہاں مشترک عدالتیں قائم ہوئی تھیں جن میں یہودیوں اور مسلمانوں کے قضاکایکجا اور ایک ہی ملکی قانون کے تحت فیصلہ ہوتاہو؟

﴿مولانا مودوی(رح) _ ‘‘متحدّہ قومیت اور اسلام’’﴾

واضح ہو کہ اسلامی ریاست یا حکومت میں غیرمسلموں کی حیثیت ‘‘ذمّی’’ کی ہوتی ہے۔ اگراسلامی حکومت یا اسلامی نظام قایم نہیں ہے لیکن سماج مشترک یا تکثیری ہے، تو ایسی صورت میں اہل ایمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ متحدہ قومیت کے نظریہ ﴿یعنی ایک ملک یا علاقہ میں بسنے والے تمام باشندے ایک قوم ہیں خواہ ان کا تعلق مختلف قوموں سے ہو، اور اس ‘‘قوم’’ میں سے جس گروہ کو اکثریت حاصل ہو وہ حکومت کرے﴾ کے تحت غیرمسلم قوموں سے مل کر ایک قوم بن جائیں اور اپنے اجتماعی امور یا مسائل کے سلسلے میں ﴿مولانا مودودی(رح) کے الفاظ میں﴾ ایسی اجتماعی ہیئت کو تسلیم کریںاور اس کا ساتھ دیں جس کا دستور انسانوں کو اس امر کااختیار دیتا ہو کہ وہ ان مسائل کے متعلق قانون بنائیں یا اُن مسائل کاتصفیہ کریں جن پر خدا اور اس کا رسول پہلے اپنا ناطق فیصلہ دے چکا ہے۔

مضمون نگار نے اِخوان المسلمون کے موقف ‘‘اسلامی ملک میں خلیفہ مسلمان اور مرد ہونا چاہیے’’ کی مخالفت میں ﴿یعنی خلیفہ غیرمسلم کوبھی بنایاجاسکتا ہے اور عورت کو بھی، اس کی تائید میں﴾ تیونس کے شیخ راشد الغنوشی ﴿جو فی الحال فرانس میں جلاوطن کی زندگی گزاررہے ہیں﴾ کے فتوئوں کو بھی نقل کیاہے اور یوروپی فتویٰ کونسل کے اس فتویٰ کو بھی تائیداً نقل کیا ہے کہ ‘‘یوروپ اور امریکہ کے اسلام مخالف سامراجی حکومت ہونے کے باوجود یوروپی اور امریکی لشکروں میں مسلمان خدمت کرسکتے ہیں، حتّٰی کہ مسلم ملک کے خلاف جنگ کرنے کے مطالبے کو بھی قبول کرسکتے ہیں۔’’ اناللہ واناالیہ راجعون۔ بہ ہرحال اس طرح کے فتوے نہ تحریک اسلامی قبول کرے گی اورنہ امّت مسلمہ ہی قبول کرنے والی ہے۔

جنوری 2010

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau