اسلام کا تصورِ حقوق

(2)

ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں کو تین گنا زیادہ حسن سلوک کا مستحق قرار دیا ہے:

’’حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر سوال کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تمہاری ماں۔ اس نے دوبارہ سوال کیا: پھرکون ہے؟آپؐ نے فرمایا: تیری ماں۔ اس نے تیسری بار پوچھا: پھرکون ہے؟ آپؐ نے فرمایا: تیری ماں۔ چوتھی بار اس نے پوچھا: پھر کون ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: تیرا باپ‘‘۔

بیوی کا حق

وَمِنْ اٰيٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْٓا اِلَيْہَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً۝۰ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۔             (الروم۳۰ :  ۲۱)

’’اور یہ بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی ودیعت کی۔ بے شک اس کے اندر گوناگوں نشانیاں ہیں ان کے لیے جو غوروفکر کرنے والے ہیں‘‘۔

وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۝۰ۚ فَاِنْ كَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَہُوْا شَـيْــــًٔـا وَّيَجْعَلَ اللہُ فِيْہِ خَيْرًا كَثِيْرًا۔                               (النسائء:۱۹)

’’اور ان کے ساتھ معقول طریقے کا برتائو کرو۔ اگر تم ان کو ناپسند کرتے ہو تو بعید نہیں کہ ایک چیز کوتم  ناپسند کرو اور اللہ تمہارے لیے اس میں بہت بڑی بہتری پیدا کردے‘‘۔

قرآن کریم نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ اگر تمہیں بیوی ناپسند ہے تو اسے تنگ کرنے کی کوشش نہ کرو کہ یہ عقل، انصاف، شرافت اور مردانگی کے خلاف ہے۔ قابل نفرت چیز صرف اخلاقی فساد ہے۔ شکل وصورت اور رنگ وروغن نہیں۔ بیوی شریفانہ معاشرت کی ہر صورت میں حقدار ہے۔ ایسی صورت میں ایک مسلمان کا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ خدا کا خوف کرے اور شرافت اور حسن سلوک کا مظاہرہ کرے اور ظاہری شکل وصورت کے مقابلے میں اعلیٰ اخلاق اور انسانی قدروں کو ترجیح دے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبے میں اسی بات کو یوں بیان فرمایا تھا:

’’عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ تم نے انہیں بطور امانت عقد میں لیا ہے‘‘۔

بیوہ کا حق

اللہ کے رسول ﷺ نے بیوائوں کے حقوق کی ادائی کی تعلیم دی۔ آپؐ نے بیوہ خواتین سے شادی کرکے ان کی تعظیم وتکریم کرنے اور انہیں سماجی ومعاشی تحفظ فراہم کرنے کا نمونہ قائم کیا۔ قرآن کریم نے عقد بیوگان کی باقاعدہ تحریک چلائی:

وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَاۗىِٕكُمْ۝۰ۭ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاۗءَ يُغْنِہِمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ۝۰ۭ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ۔(النور۲۴: ۳۲)

’’اور اپنی رانڈوں اور رنڈوؤں اور ذی صلاحیت غلاموں اور لونڈیوں کے نکاح کرو۔ اگر وہ تنگ دست ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے غنی کردے گا اور اللہ تعالیٰ بڑی سمائی رکھنے والا اور علم والا ہے‘‘۔

مولانا امین احسن اصلاحی ؒ کہتے ہیں کہ ایامیٰ جمع ہے اَیّم‘ اس مرد کو بھی کہتے ہیں جو بیوی سے محروم ہو اور اس عورت کو بھی کہتے ہیں جوشوہر سے محروم ہو ۔ یعنی رانڈ اور رنڈوے دونوں کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے بلکہ اپنے وسیع مفہوم میں یہ ان مردوں اور عورتوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جو بن بیاہے رہ گئے ہوں۔

اس صورتحال کیلئے غربت بڑی حد تک ذمےد ار ہوتی ہے اور بعض حالات میں ، بالخصوص عورتوں کے معاملے میں ، خاندانوں ، برادریوں اور قبیلوں کے رسم ورواج کو بڑا دخل ہوتا ہے۔ بعض خاندانوں میں عقد بیوگان کو معیوب تصور کیا جاتا ہے۔ قرآن حکیم نے ان خرابیوں کی اصلاح پر زور دیا۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوائوں کے حقوق کی طرف  یوں متوجہ کیا:

’’بیواؤں اور مسکینوں کی خاطر دوڑ بھاگ کرنے والا مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے یا اس شخص کی طرح ہے جو ہمیشہ دن کو روزہ رکھے اور راتوں کو قیام کرے‘‘۔

رشتے دار کا حق

۵ء میں غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر منافقین نے اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے کردار پر انگلی اٹھائی اور ان پر زنا کی تہمت لگاکر اسلامی معاشرے کے سب سے پاکیزہ اور عفت مآب گھر کو داغدار ثابت کرنا چاہا ۔ حدیث میں اس کو واقعۂ اِفک کے نام سے یاد کیاگیا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کی برأت اور عصمت کی گواہی میں سورۃ النور کی آیات نازل ہوئیں:

اِنَّ الَّذِيْنَ جَاۗءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَۃٌ مِّنْكُمْ۝۰ۭ لَا تَحْسَبُوْہُ شَرًّا لَّكُمْ۝۰ۭ بَلْ ہُوَخَيْرٌ لَّكُمْ۝۰ۭ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْہُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ۝۰ۚ وَالَّذِيْ تَوَلّٰى كِبْرَہٗ مِنْہُمْ لَہٗ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۔(النور۲۴: ۱۱)

’’جو لوگ یہ بہتان گھڑلائے ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک ٹولہ ہیں۔ اس واقعے کو اپنے حق میں شر نہ سمجھو بلکہ یہ بھی تمہارے لیے خیر ہی ہے۔ جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے اتنا ہی گناہ سمیٹا اور جس شخص نے اس کی ذمے داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا اس کے لیے تو عذاب عظیم ہے‘‘۔

منافقین کی اس فتنہ انگیزی کا شکار بعض سادہ لوح مسلمان بھی ہوگئے جن میں حضرت مسطح بن اثاثہ بھی شامل تھے۔ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے اس موقع پر قسم کھالی کہ وہ آئندہ کے لیے مسطح کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیں گے کیونکہ انھوں نے رشتے داری کا کوئی لحاظ کیا اور نہ اُن احسانات ہی کی کچھ شرم کی جو وہ ساری عمر ان پر اور ان کے خاندان پر کرتے رہے تھے مگر اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی کہ رشتےداروں سے حسن سلوک اور صلہ رحمی جیسی اعلیٰ قدر پر کوئی ضرب آئے خواہ کتنے ہی سنگین حالات ہوں ۔ چنانچہ صلہ رحمی کی تاکید کرتے ہوئے یہ آیت نازل ہوئی:

وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ يُّؤْتُوْٓا اُولِي الْقُرْبٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَالْمُہٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ ۝۰۠ۖ وَلْيَعْفُوْا وَلْيَصْفَحُوْا۝۰ۭ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللہُ لَكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔(النور۲۴: ۲۲)

’’تم میں سے جو لوگ صاحب فضل اور صاحبِ مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اپنے ’رشتے دار‘ مسکین ، اور مہاجرفی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے۔ انہیں معاف کردینا چاہیے اور درگزر کرناچاہیے ۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے؟ اور اللہ کی صفت یہ ہے کہ وہ غفور اور رحیم ہے‘‘۔

روایات میں یہ واقعہ موجود ہے کہ جوں ہی یہ آیت نازل ہوئی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پکار اٹھے:  بلیٰ واللہِ إنا نُحِبُّ أن تَغْفِرَلنا یا ربّنا۔

’’واللہ ، ضرور ہم چاہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو ہماری خطائیں معاف فرمائے!‘‘

چنانچہ آپ نے پھر مسطح کی مدد شروع کردی اور پہلے سے زیادہ ان پر احسان کرنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ یہ قسم حضرت ابوبکر صدیق کے علاوہ بعض اور صحابہ کرامؓ نے بھی کھالی تھی کہ جن جن لوگوں نے اس بہتان میں حصہ لیا ہے ان کی وہ کوئی مدد نہ کریں گے ۔ اس آیت کے نزول کے بعد ان سب نے اپنے عہد سے رجوع کرلیا۔ اس طرح وہ تلخی آناً فاناً دور ہوگئی جو اس فتنے نے پھیلا دی تھی۔

عام مسلمانوں کا حق

اللہ کے رسول ﷺ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا ہے۔ ان کی مثال ایک جسم سے دی ہے جس کے مختلف اعضاء ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک رہتے ہیں۔ آپ نے ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے سماجی، معاشی اور معاشرتی حقوق ادا کرنےکی تلقین کی:

’’تم اہل ایمان کو دیکھوگے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم دلی کرنے، ایک دوسرے سے محبت کرنے اور ایک دوسرے سے شفقت اور نرمی کا رویہ رکھنے میں ایک جسم کی مانند ہیں کہ کسی ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو جسم کے سارے حصے بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہوجاتے ہیں‘‘۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں: سلام کا جواب دینا، مریض کی تیمار داری کرنا، جنازوں کے ساتھ چلنا، دعوت کو قبول کرنا اور چھینکنے والے کو یرحمک اللہ کہہ کر جواب دینا‘‘۔ (بخاری ومسلم)

امام مسلم ؒ کی روایت میں ہے:

’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں: جب تم اس سے ملاقات کرو تو اسے سلام کرو، وہ تم کو دعوت دے تو اسے قبول کرو، جب تم سے مشورہ طلب کرے تو خیرخواہی کے ساتھ اسے مشورہ دو، وہ چھینکنے کے بعد الحمد للہ کہے تو اس کے جواب میں یرحمک اللہ کہو، وہ بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کرو اور جب اس کا انتقال ہوجائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرو‘‘۔

پڑوسی کا حق

قرآن کریم نے پڑوسی کے حق کی ادائی پر زور دیا خواہ وہ مسلم ہو یا کافر، دوست ہو یا دشمن، نیک ہو یا بد۔ سورۃ النساء میں توحید کی تعلیم، والدین کے ساتھ حسن سلوک اور رشتے داروں ،  یتیموں،مسکینوں کے حقوق کی ادائی کے بعد ہمسایوں کے حق کا تذکرہ کیاگیا:

وَاعْبُدُوا اللہَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِہٖ شَـيْـــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَـنْۢبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝۰ۙ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْــتَالًا فَخُــوْرَۨا۔(النساء: ۳۶)

’’اور تم سب اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو، ماں باپ کے ساتھ نیک برتائو کرو ، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئو اور پڑوسی رشتے دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے ، اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضے میں ہوں ، احسان کا معاملہ رکھو۔ یقین جانو اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے‘‘۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پڑوسی کی تین قسمیں قرار دی ہیں اور تینوں کے حق کی ادائی کا حکم دیا ہے:

(۱) الجارذی القربی، جو پڑوسی بھی ہے اوراس کے ساتھ رشتے داری کا بھی تعلق ہے۔

(۲)الجار الجنب۔ جُنب  کے معنی اجنبی کے ہیں۔ یعنی پڑوسی ہے ، لیکن قرابت اور رشتے داری کا تعلق اس کے ساتھ نہیں ہے۔

(۳)الصاحب بالجنب۔ جنب کے معنی پہلو کے ہیں۔ جو شخص وقتی اور عارضی طور پر بھی کسی مجلس، کسی حلقے، کسی سواری، کسی دکان، کسی ہوٹل میں ہمارا ہم نشیں و ہم رکاب ہوجائے وہ الصاحب بالجنب ہے۔

پڑوسی کے حق کی ادائی ایمان کا لازمہ ہے۔ حضرت ابوشریح رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

’’خدا کی قسم، وہ مومن نہیں ہے۔ خدا کی قسم، وہ مومن نہیں ہے۔ خدا کی قسم، وہ مومن نہیں ہے۔ پوچھا گیا: کون، اے اللہ کے رسولؐ؟ آپؐ نے فرمایا: جس کی ایذا رسانی سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو‘‘۔

مہمان کا حق

مہمان خواہ مسلم ہو یا غیرمسلم، اس کا حق ہے کہ اس کی تکریم کی جائے اور اس کی ضیافت کی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’جو شخص اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ ایک رات اور ایک دن تو اس کا انعام ہے اور تین دن تک ضیافت ہے اور اس سے آگے صدقہ ہے۔ کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ دوسرے کے پاس اتنا قیام کرے کہ وہ اسے نکالنے پر مجبورہوجائے‘‘۔

غیر مسلموں کا حق

قرآن کریم نے یہ صراحت بھی کردی کہ مسلمانوں کے حسن سلوک اور نیکی کے مستحق وہ غیرمسلم بھی ہیں جو اسلام اور مسلمانوں سے عداوت نہیں رکھتے اور نہ ان کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے۔ مسلمانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ دشمن کافر اور غیردشمن کافر میں فرق کریں اور ان کافروں کے ساتھ احسان کا برتائو کریں جنھوںنے ان کے ساتھ برائی نہیں کی ہے۔ سورۃ الممتحنہ قرآن کریم کی موجودہ ترتیب کے مطابق ساٹھویں سورہ ہے اور صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیانی دور میں نازل ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اِنَّمَا يَنْہٰىكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِيْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَاَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ وَظٰہَرُوْا عَلٰٓي اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْہُمْ۝۰ۚ وَمَنْ يَّتَوَلَّہُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔     (الممتحنہ۶۰: ۸۔۹)

’’اللہ تمہیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتائو کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ وہ تمہیں جس بات سے روکتا ہے وہ تو یہ ہے کہ تم ان لوگوں سے دوستی کرو جنھوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اور تمہارے اخراج میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ ان سے جو لوگ دوستی کریں وہی ظالم ہیں‘‘۔

اس آیت کی بہترین تشریح وہ واقعہ ہے جو حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ اور ان کی کافر ماں کے درمیان پیش آیا تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک بیوی قتیلہ بن عبدالعزیٰ کافرہ تھیں اور ہجرت کے بعد مکہ میں رہ گئی تھیں۔ حضرت اسماء ؓ ان ہی کے بطن سے پیدا ہوئی تھیں۔ صلح حدیبیہ کے بعد جب مدینہ اور مکہ کے درمیان آمدورفت کا راستہ کھل گیا تو وہ بیٹی سے ملنے کے لیے مدینہ آئیں اور کچھ تحفہ تحائف بھی لائیں۔ حضرت اسماء ؓکی اپنی روایت یہ ہے کہ میں نے جاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں اپنی ماں سے مل لوں؟ اور کیا میں ان سے صلہ رحمی بھی کرسکتی ہوں؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا نعم، مثل اُمک (اُن سے صلہ رحمی کرو)

حضرت اسماءؓ کے صاحبزادے عبداللہ بن زبیرؓ اس واقعے کی مزید تفصیل یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسماءؓ نے پہلے ماں سے ملنے سے انکار کردیا تھا۔ بعد میں جب اللہ اور اس کے رسولؐ کی اجازت مل گئی تب وہ ان سے ملیں۔

مولانا مودودیؒ نے اس واقعے کو نقل کرنےکے بعد اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ایک مسلمان کے لیے اپنے کافر ماں باپ کی خدمت کرنا اور اپنے کافر بھائی بہنوں اور رشتے داروں کی مدد کرنا جائز ہے جبکہ وہ دشمن اسلام نہ ہوں اور اسی طرح ذمی مساکین پر صدقات بھی صرف کیے جاسکتے ہیں۔

حقوق العباد کی بہترین ترجمان وہ حدیث قدسی کرتی ہے جس کی روایت حضرت ابوہریرہؓ نے کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:

’’اللہ عزوجل قیامت کے روز کہے گا: اے آدم ؑ کے بیٹے! میں بیمار تھا تم نے میری عیادت نہیں کی۔ بندہ کہے گا: اے میرے رب! میں تیری عیادت کیسے کرتا تو رب العالمین ہے؟ اللہ فرمائے گا: کیا تجھے علم نہ تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا اور تم نے اس کی مزاج پرسی نہیں کی۔ کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ اگر تو اس کی مزاج پرسی کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا‘‘۔

’’اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھ سے کھانا طلب کیا لیکن تم نے مجھے کھانا نہیں دیا۔ وہ کہے گا: تو رب العالمین ہے میں تجھے کھانا کیسے دیتا؟ اللہ کہے گا: ’’کیا تجھےمعلوم نہ تھا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھاناطلب کیا تھااور تم نے اسے کھانا نہیں دیا۔ کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ اگر تو اسے کھانا دیتا تو تجھے اس کا اجر میرے پاس ملتا!‘‘

جانوروں کے حقوق

اسلام نے حقوق کادائرہ انسانوں تک محدود نہیں رکھا۔ رسول مقبول ﷺ نے جانوروں کے حقوق کی ادائی کی بھی تعلیم دی:

’’حضرت سہل بن الحنظلہؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ کاگزر ایک اونٹ کے پاس سے ہوا جس کی پیٹھ (لاغر ہونے کی وجہ سے) اس کے پیٹ سے ملی ہوئی تھی۔ آپؐ نے فرمایا: ’’ان بے زبان جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ ان پر سواری کرو جبکہ یہ تندرست ہوں اور انہیں (ذبح کرکے) کھائو جبکہ یہ صحت کی حالت میں ہوں‘‘۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ آپؐ رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو ہم نے ایک سرخ چڑیا کو دیکھا جس کے ساتھ دو چھوٹے چھوٹے چوزے بھی تھے۔ ہم نے وہ جوزے پکڑ لیے تو چڑیا ہمارے سروں پر چکر لگانے لگی۔ اسی اثناء میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لائے اور فرمایا: ’’کس نے اسے بچوں کی آزمائش میں ڈالا ہے ۔ اس کا بچہ اسے واپس دے دو‘‘۔

اللہ کے رسول ﷺ نے جانوروں سے ان کی طاقت سے زیادہ کام لینے سے منع فرمایا۔ جانوروں پر مسلسل بیٹھے رہنے اور سواری کی حالت میں جانور کھڑا کرکے دوسروں سے گفتگو کرنے کی ممانعت فرمائی۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے:

’’اپنی سواریوں کی پیٹھوں کو منبر نہ بنالو۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہارے لیے اس لیے مسخر کیا ہے کہ یہ تم کو ایسے مقامات تک پہنچائیں جہاں تم بڑی زحمتوں کے بعد ہی پہنچ سکتے تھے‘‘۔

حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جارہا تھا کہ آپؐ ایک باغ میں داخل ہوئے۔ وہاں ایک اونٹ تھکاوٹ کی تصویر بناکھڑا تھا جیسے شکایت کر رہا ہو۔ اس کے کانوں کے پیچھے سے پسینہ بہہ رہا تھا۔ آپؐ نے اس کے پسینے کو صاف کیا تو اسے سکون و قرار آگیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ یہ اونٹ کس کا ہے؟ ایک انصاری نوجوان حاضر ہوا۔ اس نے کہا: یہ اونٹ میرا ہے اے اللہ کے رسولﷺ! آپؐ نے فرمایا: ’’اس جانور کے بارے میں تمہیں ذرا بھی خوفِ خدا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کا مالک بنایا ہے۔ اس نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس کی طاقت سے زیادہ کام لیتے ہو‘‘۔

حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’ایک آدمی کہیں سفر پر تھا کہ اسے شدید پیاس لگی جب اسے کنواں نظر آیا تو وہ کنویں میں اترا اور خوب سیر ہوکر پانی پیا۔ کنویں سے باہر نکلا تو دیکھا کہ کنویں کے کنارے ایک کتا کھڑا زبان باہر نکالے ہانپ رہا ہےاور شدید پیاس سے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے۔ اس آدمی نے سوچا کہ اس کتے کابھی پیاس سے وہی حال ہورہا ہے جو میرا تھا۔ چنانچہ وہ پھر کنویں میں اترا۔ اپنا جوتا پانی سے بھرا اور اسے اپنے منھ سے پکڑ کر کنویں سے باہر آیا اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی تعریف کی اور اس کو بخش دیا‘‘۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسولؐ! کیا ہمارے لیے جانوروں میں بھی اجر ہے؟آپؐ نے جواب دیا: ’’ہر ذی روح میں اجر ہے‘‘۔

اللہ کے رسول ﷺ نے مسلمانوں کو سابق اقوام کی ایک عورت کی مثال دے کر سمجھایا کہ جانور پر ظلم کرنا ، اسے قید کرکے رکھنا، اس پرتشدد کرنا اور اس کے حقوق ادا نہ کرنا اللہ کے غضب کو دعوت دیتا ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں:

’’ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب ہوا۔ وہ اسے کھلاتی تھی نہ کھلا چھوڑتی تھی کہ خود کچھ کھاپی لے‘‘۔

نفس کے حقوق

اسلام نے اللہ کے حقوق کی ادائی پر زور دیا۔ بندوں کے حقوق ، جا نوروں کے حقوق کی تفصیل بتائی اور اس کے متعلق ہدایات دیں۔ انسان پر خود اس کے اپنے نفس کے جو حقوق ہیں ان پر بھی اللہ کے رسول ﷺ نے زور دیا۔ آپؐ نے ایک معتدل و متوازن زندگی گزاری اوراسی کی تعلیم اپنے اصحاب کو دی۔ عبادات میں زہد و تقشف اورراہبانہ تصور مذہب کی مخالفت کی۔ دین ودنیا کے دونوں پہلوئوں کو سنوارنے اور حسین بنانے کی نصیحت کی۔ فرائض و نوافل کے اہتمام کے ساتھ اپنے جسم و بدن اور بیوی بچوں کے حقوق کی حفاظت کی تاکید کی۔ دین کامل کا عملی نمونہ پیش کیا اور حیات کامل کا اسوہ چھوڑا۔ یہ اعتدال و توازن ایک حسین اورخوشگوار خاندانی زندگی کے لیے ضمانت ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں:

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یا عبداللہ ألم أُخبر انک تصوم النہار وتقومُ اللّیل؟ قلت بلیٰ یا رسول اللہ۔ قال: فلا تفعل صم وأفطِر وقُم و نَم بانّ لجسدِک علیکَ حقّاً وَ إنّ لِعینک حقّاً و إنّ لزوجک علیک حقّاً۔

’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے عبداللہ! مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ تم ہمیشہ دن کوروزے رکھتے اور راتوں کو قیام کرتے ہو، کیا یہ صحیح ہے؟‘‘ میں نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہاں یہ صحیح ہے ۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’ایسا نہ کرو۔ ایک دن روزہ رکھو اور دسرے دن نہ رکھو۔ راتوں کو قیام کیا کرو اور سونے کا اہتمام بھی کرو۔ تمہارے جسم کا تمہارے اوپر حق ہے ۔ تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے‘‘۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا تصور حقوق بڑا جامع اور ہمہ گیر ہے اور اس کا دائرۂ کار بڑا وسیع ہے۔ یہ وہ تصور ہے جو اس کے عقیدہ وفکر کا انعکاس ہے اور مغرب اس تصورِ حقوق کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اس کی بنیاد الحاد اور انکار خدا پر ہے۔

جولائی 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau