اسلام کا نظامِ اخلاق

سید جلال الدین عمری

اس معاملہ میں اسلام اور دوسرے نظریات کے درمیان یہی فرق ہے کہ اسلام اخلاق کی اہمیت کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ فرد اور معاشرے کو اخلاقی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے تیار کرتا ہے۔ وہ فرد کو اخلاقی ذمہ داریوں کے ادا کرنے کی تربیت دیتا ہے اور معاشرے کی اس طرح تعمیر کرتا ہے کہ اس میں حسن اخلاق کی ترغیب ملتی رہے اور بداخلاقی سے ایک عام نفرت پائی جائے۔ انسان کوئی اخلاقی کام کرنا چاہے تو ہر طرف سے اس کی ہمت افزائی ہو اور کسی غیر اخلاقی حرکت کے لیے اس کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے۔ دنیا کے کسی بھی غیر اسلامی نظریے کے پاس اخلاقی تربیت کا یہ سامان نہیں ہے، اس لیے نظری طور پر اگر وہ اخلاق کی اہمیت محسوس بھی کرے تو عملی طور پر انسان کو با اخلاق نہیں بناسکتا۔

یہاں ہم پہلے یہ بتائیں گے کہ اسلام کس طرح فرد کو اخلاق سے آراستہ کرتا ہے پھر اس سے بحث کریں گے کہ اسلامی معاشرہ اخلاق کی تعمیر و تشکیل میں کس حد تک معاون و مددگار ہوتا ہے۔

پوری زندگی میں اخلاقی حدود کی پابندی کی تلقین

اسلام انسان کی پوری زندگی کو اخلاقی حدود کا پابند بناتا ہے اور ہر معاملے میں اس کو بہت ہی شریفانہ اور مہذب رویہ اختیار کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ کسی سے ملاقات ہو تو پہلے سلام کرے۔ خواہ وہ شناسا اور واقف کار ہو یا اجنبی۔ گویا اس کو پہلے ہی قدم پر امن و سلامتی کی دعا دے اور اپنی طرف سے یہ اطمینان دلادے کہ وہ اس کی بھلائی چاہنے والا ہے، برائی چاہنے والا نہیں ہے۔ گفتگو میں نرمی اور متانت اختیار کرے، کرخت آواز میں اور چیخ چیخ کر نہ بولے۔جو بات زبان سے نکالے وہ صحیح اور سچی ہو، جھوٹ اور نفاق سے بچے، بے حیائی اور بے شرمی، گالم گلوج اور بے ہودہ باتوں سے اپنی زبان کو آلودہ نہ کرے۔ طنز و تعریض اور تحقیر و تذلیل کارویہ نہ اختیار کرے بلکہ چھوٹوں کے ساتھ ہمدردی اور محبت سے اور بڑوں کے ساتھ تعظیم و تکریم سے پیش آئے۔ کسی کے حقوق پر دست درازی نہ کرے بلکہ ہر ایک کو اس کا حق ادا کرے۔ ظلم و زیادتی سے دور رہے اور عدل و انصاف کا کبھی دامن نہ چھوڑے۔ دوسروں کی قوتوں اور صلاحیتوں اور مال و دولت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے حتی الوسع ان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے۔ جو بھی کام کرے اس سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے، بلکہ ہر ایک کو خوشی، راحت اور مسرت ملے۔ جہاں تک ہوسکے کسی کا احسان نہ لے بلکہ دوسروں پر احسان کرے اور ان کے دکھ درد اور مشکلات میں کام آئے۔

جو اپنے لیے چاہتے ہو وہی دوسروں کے لیے چاہو

انسان کا یہ اخلاقی رویہ کسی مخصوص گروہ یا جماعت یا فرقے کے ساتھ نہ ہو بلکہ جن اشخاص اور جن طبقات سے بھی اس کے روابط ہوں ان سب کے ساتھ تہذیب و شرافت اور خلوص و محبت کے ساتھ پیش آئے۔ یہ روابط خاندانی بھی ہوسکتے ہیں، میل جول کے بھی ہوسکتے ہیں، پیشے اور کام کے بھی ہوسکتے ہیں، عقیدے اور مسلک کے بھی ہوسکتے ہیں، اس سے آگے خالص انسانی بھی ہوسکتے ہیں۔ اسلام ہر ایک کے ساتھ جس اخلاقی رویے کی تعلیم دیتا ہے اس کا اندازہ آپ ایک حدیث کے ایک فقرے سے کرسکتے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتےہیں:

وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ وَتَكْرَهَ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ۔[1]

’’جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کرو اور جو اپنے لیے ناپسند کرتے ہووہ دوسروں کے لیے بھی ناپسندکرو۔‘‘

ان الفاظ کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے لیے علم و عمل، صحت و تندرستی، عزت و وقار، خوش حالی اور ترقی، راحت اور کام یابی، جو کچھ بھی چاہتا ہے یا چاہ سکتا ہے وہ سب دوسروں کے لیے بھی چاہے۔اسی طرح جہالت، بیماری، جان و مال کا نقصان، بےآبروئی، تنگ دستی اور پریشانی جو چیز بھی اپنے لیے ناپسند کرتا ہے وہ دوسروں کے لیے بھی ناپسند کرے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی دوسروں کو اپنی جگہ رکھ کر دیکھے اور اس کے ساتھ وہی خلوص برتے جو وہ اپنے ساتھ برتتا ہے۔ یہ اخلاق کا بہت ہی اونچا مقام ہے اور اسلام اسی اونچے مقام پر انسان کو دیکھنا چاہتا ہے۔

برائی کے جواب میں بھلائی

انسان ان لوگوں کے ساتھ اچھے سے اچھا اور اونچے سے اونچا برتاؤ شاید آسانی سے کرسکتا ہے جو اس کے ہم خیال و ہم مسلک ہوں، جن کی خیرخواہی اور ہمدردی پر اس کو یقین ہو یا کم از کم جن سے اس کو کسی قسم کی دشمنی اور عداوت نہ ہو۔ اسلام اس سے اونچے اخلاق کی تعلیم دیتا ہے وہ یہ کہ جو لوگ انسان کے ہم فکر وہم خیال نہ ہوں، جو اس کے عقیدہ و مسلک کے مخالف اور اس کی جان و مال کے دشمن ہوں وہ ان کے ساتھ بھی اعلیٰ اخلاقی رویہ اختیار کرے اور ان کی برائی اور بدخلقی کا بھلائی اور حسن خلق سے جواب دے۔ بلاشبہ یہ بڑے دل گردے کا کام ہے۔ لیکن اگر کوئی خوش قسمت انسان اس اخلاق کا مظاہرہ کرسکے تو دشمن کا دل بھی جیت سکتا ہے اور نفرت الفت میں، دشمنی دوستی میں اور مخالفت ہم آہنگی اور مصالحت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ یہی حقیقت قرآن مجید کی اس آیت میں بیان ہوئی ہے۔

وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّیئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِی هِی أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَینَكَ وَبَینَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِی حَمِیمٌ. وَمَا یلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِینَ صَبَرُوا وَمَا یلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِیمٍ

’’بھلائی اور برائی برابر نہیں ہیں۔ برائی کو اس طریقے سے دور کرو جو بہت اچھا ہے (تو تم دیکھوگے کہ) اچانک وہ شخص جس کے اور تمھارے درمیان عداوت ہے (وہ ایسا ہوجائے گا) گویا وہ قریبی دوست ہے۔ یہ بات ان ہی کو ملتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور یہ ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑے نصیب والے ہوتے ہیں۔‘‘[حم السجدة: 34، 35]

پاکیزہ جذبات کی پرورش

انسان کے اخلاق کی تعمیر میں اس کے جذبات کو بڑا داخل ہے۔ بلکہ صحیح معنی میں جذبات ہی اچھے یا برے اخلاق کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ جس شخص کے اندر اعلیٰ جذبات پرورش پارہے ہوں گے، یقیناً اس کے اعمال اور سیرت میں بھی بلندی اور رفعت پائی جائے گی۔ لیکن اگر ذلیل اور پست جذبات نے اس کو گھیر رکھا ہے تو پست اخلاق ہی اس سے ظاہر بھی ہوں گے۔ یہ جذبات ہی کااختلاف ہے کہ دو شخص ایک یتیم کو دیکھتے ہیں۔ ایک اس کی بے کسی پر رو پڑتا ہے اور اس کے ساتھ تعاون کے لیے آگے بڑھتا ہے۔ دوسرا اس کو بے یار و مددگار پاکر اس کا استحصال کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش شروع کردیتا ہے۔ اسی وجہ سے اسلام اعلیٰ اخلاق کی تعلیم کے ساتھ محبت و ہمدردی، وفاداری اور خلوص، ایثار و قربانی، حسن ظن، عفو و درگزر اور راست بازی جیسے پاکیزہ جذبات بھی ابھارتا ہے اور حسد و بغض، بدگمانی، غصہ و نفرت، سنگدلی اور بے رحمی اور خود غرضی اور تنگ دلی جیسے ناپاک جذبات کی مذمت کرتا اور ان کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر انسان اپنے غلط جذبات پر قابو پالے اور اس کے اچھے جذبات ابھر آئیں تو اس سے اخلاقی گراوٹ کا امکان بہت کم ہے۔ اسلام جس طرح انسان کے جذبات کی اصلاح کرتا ہے اس کو واضح کرنے کے لیے یہاں ہم ایک جذبہ کا ذکر کریں گے۔ غیظ و غضب ایک ناپسندیدہ جذبہ ہے جس میں آدمی بسا اوقات اپنے ہوش و حواس کھودیتا ہے، اچھے خاصے تعلقات خراب کرلیتا ہے۔ بہت سے اخلاقی اورقانونی حدود توڑ پھینکتا ہے اور ایسے اقدامات کر گزرتا ہے جن کو وہ غصہ کے اترنے کے بعد نہ کبھی صحیح سمجھے گا اور نہ عمل کرے گا۔ اس کے مقابلہ میں صبر و ضبط اور عفو و درگزر ایک اعلیٰ اخلاقی جذبہ ہے جو آدمی کو نہ صرف یہ کہ غیظ و غضب کے نقصانات سے بچاتا ہے بلکہ اس کے اندر بہت سی دینی اور اخلاقی خوبیاں پیدا کرتا ہے۔ اسلام نے پہلے جذبے کی مذمت اور دوسرے کی تعریف کی۔ وہ لوگ جو خدا سے ڈرتے ہیں اور جن کو آخرت میں زمین و آسمان کی سی وسعت رکھنے والی جنت نصیب ہوگی، ان کی صفات بیان کرتے ہوئے قرآن مجید نے کہا کہ وہ غصہ کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کی غلطیوں کو معاف کردیتے ہیں۔

وَالْكَاظِمِینَ الْغَیظَ وَالْعَافِینَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ یحِبُّ الْمُحْسِنِینَ

’’غصہ کے پی جانے والے اور دوسروں کے قصور معاف کردینے والے، اللہ (دوسروں پر اس طرح) احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘[آل عمران: 134]

وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ یغْفِرُونَ [الشورى: 37]

’’جب ان کو غصہ آتا ہے تو (انتقام نہیں لیتے بلکہ) معاف کردیتے ہیں۔‘‘

ایک شخص نے رسول اکرمﷺ سے درخواست کی کہ آپ مجھے کوئی نصیحت فرمائیے۔ آپ نے فرمایا۔ لاتغضب (غصہ نہ کرو)۔ اس نے شاید اس کو کچھ زیادہ اہمیت نہیں دی اور بار بار آپ سے کسی دوسری نصیحت کی درخواست کی۔ لیکن آپ نے ہرمرتبہ یہی فرمایا کہ غصہ نہ کر۔[2]

لَیسَ الشَّدِیدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِیدُ الَّذِی یمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الغَضَبِ[3]

آپﷺ  فرماتے ہیں:‘‘پہلوان وہ نہیں ہے جو لوگوں کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے آپ پر قابو رکھے۔‘‘

ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنےارشاد فرمایا:

مَا مِنْ جُرْعَةٍ أَعْظَمُ أَجْرًا عِنْدَ اللَّهِ، مِنْ جُرْعَةِ غَیظٍ كَظَمَهَا عَبْدٌ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللهِ۔[4]

’’خدا کو خوش کرنے کے لیے بندہ غصہ کا جو گھونٹ پیتا ہے، خدا کے نزدیک اس سے زیادہ فضیلت والا کوئی دوسرا گھونٹ نہیں ہے۔‘‘

غصہ انسان کے حیوانی جذبات کے مشتعل ہونے کانام ہے۔ اس کو ٹھنڈا کرنے کی ترکیب ایک حدیث میں یہ بتائی گئی کہ آدمی وضو کرلے۔[5]

کبھی کبھی تبدیلی ہیئت سے بھی جذبات بدل جاتے ہیں اور غصہ کی کیفیت جاتی رہتی ہے اس لیے ایک حدیث میں کہا گیا ہے کہ جس وقت آدمی پر غصہ طاری ہو اگر وہ کھڑا ہے تو بیٹھ جائے۔ اگر اس سے بھی اس کا غصہ فرو نہ ہو تو لیٹ جائے۔[6] بعض اوقات آدمی کو خیال ہوتا ہے کہ اگر وہ غصہ کو پی جائے اور مخالف سے انتقام نہ لے تو اس کی عزت کم ہوجائے گی۔ وہ عفو و درگزر سے کام لےگا اور لوگ اس کو کم زوری اور بے چارگی سمجھیں گے۔ لیکن رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں:

وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ، إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ۔[7]

’’عفو و درگزر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت ہی میں اضافہ فرماتا ہے۔ اگر کوئی شخص خدا کی رضا کی خاطر عاجزی اختیار کرے تو خدائے تعالیٰ اس کو بلندی عطا کرتا ہے۔‘‘

اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام جو اخلاقی جذبات پیدا کرنا چاہتا ہے، کتنے مختلف پہلوؤں سے ان کی ترغیب دیتا ہے اور جن جذبات کو ناپسند کرتا ہے ان کی خرابیاں کس طرح واضح کرتا اور ان سے نفرت پیدا کرتا ہے۔

فطرت اور ضمیر

اس سے پہلے ذکر آچکا ہے کہ انسان کی فطرت میں خیر و شر کو پہچاننے کی صلاحیت ہے اور وہ اچھے اور برے اخلاق کے درمیان تمیز کرسکتی ہے۔ لیکن اس دنیا میں فطرت کو بگاڑنے والے اسباب بھی موجود ہیں۔ اسلام ان اسباب کو پیدا ہونے نہیں دیتا اور اعلیٰ اخلاقی تعلیم، پاکیزہ ماحول اور شستہ وشائستہ جذبات کے ذریعے فطرت کو صحیح حالت میں باقی رکھتا ہے۔ ایک صحیح الفطرت انسان خود بخود اخلاق کی اہمیت محسوس بھی کرسکتا ہے اور اس کے لیے تکلیف بھی برداشت کرسکتا ہے۔ اس سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ کسی کی عزت و آبرو لوٹے گا، کسی کی جان و مال پر دست درازی کرےگا، یا دھوکہ، فریب، جھوٹ اور الزام تراشی جیسے غیر اخلاقی اعمال کا مرتکب ہوگا۔

انسان کی فطرت کو صحیح حالت میں باقی رکھنے کے ساتھ ساتھ اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ انسان وہی اخلاقی رویہ اختیار کرے جس کو اس کا ضمیر صحیح قرار دے اور جس کے حق ہونے پر اس کا دل مطمئن ہو۔ رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں:

اسْتَفْتِ قَلْبَكَ، وَاسْتَفْتِ نَفْسَكَ الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَیهِ النَّفْسُ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِی النَّفْسِ، وَتَرَدَّدَ فِی الصَّدْرِ، وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ۔[8]

تم اپنے دل سے سوال کرو اور اپنے نفس سے پوچھو، نیکی وہ ہے جس کو دل ٹھیک کہے اور نفس مطمئن ہوجائے اور برائی وہ ہے جو تمھارے دل میں کھٹک اور باطن میں تردد پیدا کردے اگرچہ لوگ تم کو اس کا مشورہ ہی کیوں نہ دیں۔

بعض اوقات آدمی ایک کام کی اخلاقی حیثیت متعین کرنے میں کام یاب نہیں ہوتا۔ وہ ایک پہلو سے اس کو صحیح معلوم ہوتا ہے تو دوسرے پہلو سے غلط معلوم ہوتا ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جب کسی کام کے بارے میں اس قسم کی کھٹک پیدا ہوجائے تو آدمی اس کو چھوڑ دے اور جو مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے اسے کسی ایسے طریقے سے حاصل کرے، جس کا اخلاقی لحاظ سے خیر ہونا واضح اور یقینی ہو، چناں چہ رسول اکرم ﷺ کی ہدایت ہے:

إِذَا حَاكَ فِی نَفْسِكَ شَیءٌ فَدَعْهُ.[9]

جب کوئی بات تمھارے دل میں کھٹک پیدا کرے تو اسے چھوڑ ہی دو۔

ایک دوسری حدیث میں آپ فرماتے ہیں:

دَعْ مَا یرِیبُكَ إِلَى مَا لَا یرِیبُكَ.[10]

جو چیز تمھیں شبہ میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور وہ چیز اختیار کرو جس کے بارے میں تمھیں کسی قسم کا شبہ نہ ہو۔

پورے معاشرہ کو اخلاقی ذمہ داری کا احساس ہو

اگر ہم چاہیں کہ انسان اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو محسوس کرے تو پورے معاشرے میں اخلاقی ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا ہوگا۔ بہت سے اخلاقی فلسفے محض اس وجہ سے ناکام ہیں کہ وہ معاشرے کے اندر اخلاقی حس نہیں پیدا کرسکے۔ اگر معاشرے میں اخلاقی حس موجود ہے تو کسی بھی شخص کے لیے کوئی ایسا قدم اٹھانا جو اخلاقی لحاظ سے معیوب ہو، دشوار ہوگا۔ لیکن اگر معاشرہ اخلاق کے احساس سے خالی ہے تو انسان سے شب و روز بے شمار غیر اخلاقی حرکتیں سرزد ہوسکتی ہیں۔

اسلام پورے معاشرے کے اندر اخلاق کا شدید احساس پیدا کرتا ہے اور ہر طرف تہذیب و شرافت، عفت و عصمت، شرم و حیا، محبت و الفت، ہمدردی و غمگساری کے جذبات ابھارتا ہے۔ وہ ایسا ماحول فراہم کرتا ہے جس میں کوئی شخص اپنے آپ کو دشمنوں اور بدخواہوں میں گھرا ہوا محسوس نہ کرے بلکہ بھائیوں اور خیر خواہوں کے درمیان تصور کرے اور اس کو رشتہ داروں کی، پڑوسیوں کی، ملنے جلنے والوں کی، حتیٰ کہ غیروں تک کی ہمدردی اور تعاون حاصل رہے۔ اس کو دن اور رات میں کبھی اور کسی وقت ظلم و زیادتی، مکر و فریب، جھوٹ اور خیانت کا اندیشہ نہ ہو، بلکہ اس کو یقین اور اطمینان ہو کہ اس کے ساتھ کوئی غیر اخلاقی رویہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔ جس معاشرے میں انسان کے ساتھ اتنا اونچا اخلاقی برتاؤ کیا جائے عملاً ممکن نہیں ہے کہ وہ بد اخلاقی پر اتر آئے اور اپنے تعلقات کو اخلاق کے تابع رکھنے کی کوشش نہ کرے۔ کیوں کہ یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ دوسروں سے جس قسم کا سلوک دیکھتا ہے، اسی قسم کا سلوک وہ ان کے ساتھ بھی کرتا ہے۔ اگر کسی وقت وہ اپنی فطرت اور ماحول کے خلاف اخلاق کے حدود کو توڑ پھینک دے اور غیر اخلاقی روش اختیار کرلے تو اس قسم کی سوسائٹی کبھی اس کو اچھی نظر سے نہیں دیکھ سکتی۔ ایک با اخلاق سوسائٹی میں وہی شخص سربلندی حاصل کرسکتا ہے جو اخلاقی قدروں کا احترام کرنا جانتا ہو اور کسی بھی معاملہ میں اخلاق کے نقصان کو اپنا بہت بڑا نقصان سمجھتا ہو۔ اس کے برخلاف جس معاشرے میں اخلاق کا احساس ہی باقی نہ ہو، جہاں انسان کی جان، مال، عزت و آبرو کوئی چیز محفوظ نہ ہو، جہاں لوگ ایک دوسرے کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھتے ہوں، جہاں اخلاقی روش بھی کسی بد اخلاقی کا پیش خیمہ معلوم ہوتی ہو۔ جہاں رشتہ دار رشتہ دار سے بد ظن ہو، جہاں ہمسایہ ہمسایے سے خوف کھاتا ہو۔ جہاں کسی تاجر کو دوسرے تاجر پر اعتماد نہ ہو جہاں ہر فرد دوسرے کو فریب دینے، اس کا استحصال کرنے اور مقابلہ کے میدانوں میں اس کو زک دینے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کررہا ہو، وہاں کسی کے اندر اخلاق کی تحریک کیسے پیدا ہوسکتی ہے اور اس کی سیرت و کردار میں بلندی کہاں سے آسکتی ہے؟

حکومت کی ذمہ داری

اسلام اپنی تعلیم و تربیت کے ذریعے فرد اور معاشرہ دونوں کو با اخلاق بنانے کے ساتھ ساتھ حکومت کی بھی یہ ذمہ داری قرار دیتا ہے کہ وہ اخلاقی تعلیمات کو عام کرے، ماحول میں بد اخلاقی کو پیدا ہونے اور پھیلنے نہ دے، لوگوں کو ایک دوسرے کے حقوق پہچاننے اور ادا کرنے کی ترغیب دے، اعلیٰ اخلاقی قدروں کی حفاظت کرنے، ان کو ترقی دینے کی سعی و فکر کرے، خلاف اخلاق اعمال کی ہمت شکنی کرے اور ان کو دبانے کی کوشش کرے۔

سوچیے جس رویہ کو انسان کی فطرت پسند کرے جس کی ترقی کا سامان پورے معاشرے میں پھیلا ہوا ہو اور جس کو حکومت اپنے غیر معمولی وسائل و ذرائع سے ترقی دینا چاہے، کیا کوئی دوسرا رویہ وہاں ابھر سکتا ہے اور آدمی اخلاق کو چھوڑ کر بد اخلاقی کی راہ پر چل سکتا ہے؟

[1] مسند أحمد، حدیث نمبر: 22130

[2] صحیح بخاری، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، حدیث نمبر ۶۱۱۶

[3] صحیح بخاری، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، حدیث نمبر۶۱۱۴، صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والادب، باب فضل من یملک نفسہ عند الغضب، حدیث نمبر ۲۶۰۹

[4] سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب الحلم، حدیث نمبر۴۱۸۹، مسند احمد، ۲/۱۲۸

[5] سنن ابی داود، کتاب الادب، باب مایقال عندالغضب، حدیث نمبر ۴۷۸۴

[6] سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب مایقال عندالغضب، حدیث نمبر: ۴۷۸۲،مسند احمد، ۵/۱۵۲

[7] صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والادب، باب استحباب العفو والتواضع، حدیث نمبر۲۵۸۸

[8]  سنن الدارمی، کتاب البیوع، باب دع مایریبک الیٰ مالا یریبک، حدیث نمبر: ۲۵۳۳، مسند احمد، ۴/۲۲۷، ۲۲۸

[9]  مسند احمد، ۵/۳۵۲، ۲۵۶

[10] جامع ترمذی، ابواب صفة القیامة، باب حدیث اعقلھا و توکل، حدیث نمبر: ۲۵۱۸

اکتوبر 2022

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau