اسرائیل: طویل زمانی کینوس میں

(ڈاکٹر منصف مرزوقی تیونس کے سابق صدر ہیں۔ آزادی اور حقوق کی لڑائی کے لیے معروف ہیں۔ فلسطینی مزاحمت کے پرجوش حامی ہیں۔ ابھی جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کرہ ارضی کو درپیش گوناگوں مسائل میں ان کا انوکھا تجزیہ اور تجاویز ہوتی ہیں۔ زیر نظر تحریر میں اسرائیل کو یورپی استعمار کی طویل تاریخ کے حوالے سے دیکھا گیا ہے۔ اس میں تاریخ اور قضیے کے بعض اہم گوشے سامنے آتے ہیں۔ ان کی طرف سے مجوزہ حل سے اختلاف کی گنجائش کے باوجود مضمون چشم کشا اور فکر انگیز ہے۔ مدیر)

بے شک ہمیں غزہ اور مغربی کنارے میں ہونے والے قتل عام کو روکنے کے لیے اپنی تمام قوتوں کو متحد کرنا چاہیے، مزاحمت کی ہر ممکن حمایت کرنی چاہیے اور ہر اس فاسد حل کا راستہ روکنا چاہیے جو فلسطینی عوام کو ان کے حقوق سے محروم کرتا ہے۔ یعنی ہمیں زمانہ حال میں جینا چاہیے اور تیزی سے بدلتی ہوئی صورتِ حال کا لمحہ بہ لمحہ سامنا کرنا چاہیے۔

لیکن اسی وقت، یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارے پاس اس تنازعے کی نوعیت کا گہرا فہم اور اس کی حکمت عملی کا صحیح تصور بھی ہو۔ مستقبل کا اندازہ لگانے، اس کے لیے تیاری کرنے اور ان مشکل راستوں (options) کا انتخاب کرنے کے لیے تیار رہنے کی یہ پہلی شرط ہے جو صدی پر محیط اس المیے کے تمام فریقوں (stake holders) کے سامنے آئیں گے یا ان پر مسلط کیے جائیں گے۔

(1)

ماضی کو سمجھنے اور مستقبل کے لیے تیاری کرنے کے لیے سب سے پہلے ایک سادہ سے سوال پر توجہ دینا ضروری ہے: اسرائیل کون ہے؟ یہ محض اتفاق نہیں کہ جب کھیلوں، فنون یا اقوام متحدہ کی تنظیموں سے تعلق کی بات آتی ہے تو اسرائیل کو یورپی خطے میں رکھا جاتا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ وہ ریاست جس کے ذریعے اسرائیل وجود میں آیا، ایک یورپی ریاست تھی: برطانیہ۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ وہ ریاست جس نے یہودیوں کے خلاف اپنے مظالم کی وجہ سے اسرائیل کے وجود کو اخلاقی جواز فراہم کیا، ایک یورپی ریاست تھی: جرمنی۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ وہ ریاست جس نے اسرائیل کو جوہری ہتھیار فراہم کیے، ایک یورپی ریاست تھی: فرانس۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ اسرائیل کے منصوبے کا خالق ہرزل مراکشی، یمنی یا حبشی یہودی نہیں، بلکہ ایک خالص یورپی تھا۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ آج تک اسرائیل کے حکمران یورپی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ جب بھی اسرائیل جنگ میں الجھتا ہے، بڑی یورپی ریاستیں اس کی مدد کے لیے آگے آجاتی ہیں: 1956 میں برطانوی-فرانسیسی مداخلت سے لے کر 2025 کی جنگ میں ایران کے میزائیلوں کو روکنے میں ان دونوں ممالک کے کردار تک۔ اس لیے یہ کہنا حقیقت کے خلاف نہیں ہوگا کہ جس طرح فلسطینی قوم روئے زمین پر نوآبادیاتی نظام کی شکار آخری قوم ہے، اسی طرح اسرائیل اس صدی میں باقی رہ جانے والی یورپی نوآبادیات میں سے آخری آبادی ہے۔

(2)

اسرائیل کی اس سطح کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے یورپی استعمار کی داستان کے اوراق دوبارہ کھولنے اور اس کی خصوصیات اور گہرے محرکات کو یاد کرنا ضروری ہے۔ چھٹی صدی کی ابتدا سے، یورپ نے فوجی، صنعتی اور جہاز رانی کی دور رس تکنیکوں میں برتری کی وجہ سے دنیا کی تمام اقوام کے خلاف بہت بڑے پیمانے پر توسیع پسندی کا راستہ اختیار کیا۔ کم زور قوموں کو غلام بنانا اور ان کی زمینوں اور وسائل پر قبضہ کرنا یورپ کی طاقتور قوموں کی ایک منظم پالیسی تھی۔ اس کے اہم مراحل درج ذیل ہیں:

  • پرتگالی استعمار: 1415 میں مراکش کے شہر سبتہ پر قبضے سے شروع ہوا اور 1500 میں برازیل پر قبضے سے گزرتے ہوئے 1556 میں چین کے شہر ماکاؤ پر قبضے تک جاری رہا۔

ہسپانوی استعمار: 1492 میں کرسٹوفر کولمبس کے کیریبین جزائر پر پہنچنے سے شروع ہوا اور 1519 میں میکسیکو اور 1532 میں پیرو پر قبضے سے ہوتے ہوئے 1565 میں فلپائن پر قبضے تک جاری رہا۔

ڈچ استعمار: 1602 میں کیپ ٹاؤن شہر کی بنیاد گزاری سے شروع ہوا اور 1626 میں امریکہ میں مین ہیٹن جزیرہ نما پر قبضے سے ہوتے ہوئے 1641 میں مصالحے کے جزائر (آج کے انڈونیشیا) پر قبضے تک جاری رہا۔

برطانوی استعمار: 1585 میں امریکہ کے مشرقی ساحل پر پہلی کالونی کی بنیاد سے شروع ہوا اور 1788 میں آسٹریلیا کے استعمار سے ہوتے ہوئے 1758 میں ہندوستان اور 1882 میں مصر پر قبضے تک جاری رہا۔

فرانسیسی استعمار: 1534 میں کینیڈا کی “دریافت” سے شروع ہوا اور 1885 میں انڈوچائنا کے استعمار اور 1830 میں الجزائر پر قبضے سے ہوتے ہوئے 1912 میں مراکش پر قبضے تک جاری رہا۔

جرمن استعمار: جس نے 1884 سے 1919 تک ٹوگو، کیمرون، نمیبیا، اور تنزانیہ پر قبضہ قائم رکھا۔

جس چیز پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی وہ یہ ہے کہ استعمار کا مقصد تو زیادہ وسائل اور سیاسی طاقت حاصل کرنے کا حصول تھا، لیکن یہ بعض سماجی گروہوں کا ایک منصوبہ بھی ہوتا تھا جو استعماری ریاست کی طرف سے فراہم کردہ موقع کو اپنے مفادات کی تحصیل اور اپنی مخصوص وجوہات کے پیش نظر غنیمت جانتے تھے۔ مثال کے طور پر:

سترہویں صدی کے آغاز میں جنوبی افریقہ کی طرف ان سفید فام لوگوں کی ہجرت جنھیں بوئرز (Boers) کے نام سے جانا گیا۔

انگریزوں کی ہجرت جو 1620 میں امریکہ کے میساچوسٹس ریاست میں پیوریٹنز (Puritans) کے نام سے مشہور ہوئے۔

1650 میں پنسلوانیا ریاست میں کوئیکرز (Quakers) کے نام سے مشہور ہونے والے لوگوں کی ہجرت۔

1720 میں پنسلوانیا ریاست میں ایمیش (Amish) کے نام سے مشہور جرمن اور سوئس لوگوں کی ہجرت۔

1840 میں وسطی جنوبی ریاستہائے متحدہ میں مورمونز (Mormons) کے نام سے مشہور ہونے والے لوگوں کی ہجرت۔

ان ہجرتوں کا جائزہ لیں گے تو آپ کو کچھ مشترک باتیں بھی ملیں گی:

وہی سماجی، مذہبی اور سیاسی حالات جو ہجرت کو تحریک دیتے ہیں؛ یعنی مذہبی اور سیاسی ظلم اور ایک خاص سماجی طبقے کا معاشی و سماجی پستی کا شکار ہوجانا۔

وہی یوٹوپیائی خواب، دنیا کے کسی دور دراز مقام پر ایک مثالی شہر قائم کرنے کا اور اسی طرح قدیم مقدس متون پر بھروسا جو ایسے خواب کو ممکن بتاتی ہیں۔

وہی چنیدہ قوم ہونے کا خیال، اخلاقی اور روحانی احساسِ برتری اور’’ فرقہ ناجیہ‘‘ سے نسبت کا زعم۔

وہی ان ممالک اور نظاموں کی تکنیکی اور فوجی برتری کا استحصال، جن سے منھ موڑنا مقصود ہو، جب تک کہ وہ اس خواب کو پورا کرنے کے وسائل فراہم کریں اور ضرورت پڑنے پر ان کی پشت پناہی لینا۔

وہی ان قوموں کی تحقیر اور نظر اندازی، جن کی زمینوں پر قبضہ کر کے مثالی شہر بنانا پیش نظر ہو۔

واقعہ یہ ہے کہ ان ہجرتوں اور صیہونی منصوبے کے درمیان اتنی زیادہ مماثلتیں ہیں کہ انھیں نظر انداز کرنے کے لیے بہت زیادہ اندھا پن درکار ہے۔

ان مماثلتوں کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے گویا ہرزل اور اس کے پیروکار کہہ رہے ہیں: ہم یورپ کے یہودی بھی اس نوآبادیاتی دسترخوان سے اپنا حصہ چاہتے ہیں، جس پر یورپ کے عیسائی اب تک تنہا ہاتھ صاف کرتے رہے۔

(3)

اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اسرائیل کی ریاست یورپی استعمار کی پیداوار ہے، ویسے ہی جیسے نیوزی لینڈ یا آسٹریلیا ہیں۔ اس واضح حقیقت کو رد کرنا نریٹیو کی جنگ کا ایک بڑا حصہ ہے۔ اس جنگ میں صہیونی تین نہایت کم زور دلائل کے ذریعے اپنے آپ سے استعماری ہونے کی صفت زائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں:

پہلا نریٹیو: اسرائیلی باہر سے نہیں آئے، بلکہ وہ اس مقام کی اصلی آبادی کی نسل ہیں۔

یہ دلیل اسرائیلی مورخ شلومو صاند نے رد کردی ہے، جنہوں نے ثابت کیا کہ 70 عیسوی میں ہیکل کے تباہ ہونے کے بعد تمام عبرانیوں نے ہجرت نہیں کی اور انھی کی نسل وہ فلسطینی ہیں جنھوں نے عرب فاتحین کا استقبال کیا تھا اور ان کے ساتھ مل جل کر رہنے کا راستہ اختیار کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ جو گروہ تین ہزار سال تک اپنی زمین پر قائم رہا ہو، وہ اس زمین کا زیادہ حق دار ہے، نہ کہ وہ جو تین ہزار سال تک اسے چھوڑ کر کہیں اور رہا ہو۔ یہ کہنا کہ ایتھوپیا کے افریقی، مراکش کے امازیغ، یا روس کے صقالبہ عبرانیوں کی اولاد ہیں اور انھیں واپس آنے کا حق ہے، ایک مضحکہ خیز بات ہے۔

دوسرا نریٹیو: اسرائیل صرف یورپی یہودیوں پر مشتمل نہیں ہے، بلکہ آج اس کی نصف آبادی عرب ممالک، ایران اور یہاں تک کہ ایتھوپیا کے یہودیوں پر مشتمل ہے۔

ہاں، لیکن ہم یاد دلادیں کہ الجزائر پر فرانسیسی استعمار صرف خالص فرانسیسیوں تک محدود نہیں تھا۔ اطالوی، اسپینی، مالٹی اور یہاں تک کہ یہودیوں کو بھی فرانسیسی شہریت دی گئی تھی۔ لیکن اس کرم فرمائی نے جو درحقیقت استعماری مفادات کے لیے تھی، اصل اقتدار کو خالص فرانسیسیوں کے ہاتھ میں ہی رکھا۔ آج اسرائیل میں بھی یہی صورتِ حال ہے، اقتدار یورپی اور امریکی یہودیوں کے ہاتھ میں ہے، اور باقی لوگ دوسرے درجے کے شہری ہیں۔

تیسرا نریٹیو: اسرائیلیوں کے پاس واپس جانے کے لیے کوئی وطن نہیں ہے، جیسا کہ الجزائر میں فرانسیسی یا لیبیا میں اطالویوں کا معاملہ تھا۔

ہاں، لیکن ایک تہائی اسرائیلی اپنے اصل ممالک کے پاسپورٹ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یاد دلائیں کہ جنوبی افریقہ کے سفید فاموں نے نیدرلینڈز سے تمام تعلقات منقطع کر لیے تھے، پھر بھی چار صدیوں تک اپنے استعماری برتاؤ سے وہ باز نہیں آئے، یہاں تک کہ بالآخر نسلی امتیاز کا نظام ہی ختم ہوگیا۔

اس سب کے علاوہ، ایک صدی سے جاری یہ تمام نظریاتی دلائل اس سب سے بڑی حقیقت کے سامنے بے وزن ہو جاتے ہیں جسے ساری دنیا آج مغربی کنارے میں دیکھ رہی ہے: مقامی آبادی کا بے دریغ قتل، ان کی زمینوں سے بے دخلی اور ان کی زمینوں پر دن دہاڑے قبضے۔ اسے استعمار کی واضح اور بدترین شکل قرار دینے میں دو رائے نہیں ہونی چاہیے۔

(4)

اسرائیلی نوآبادیاتی مظہر کو اس کے وسیع زمانی تناظر میں رکھنا اور اس کی یورپی اصل سے جوڑنا کیوں ضروری ہے؟ کیوں کہ طویل مدت کا مطالعہ ہی ہمیں گذشتہ چار صدیوں کے یورپی استعمار کے مماثل تجربات کی روشنی میں اس کے مستقبل کو تصور کرنے کے قابل بناتا ہے۔

ان تجربات کے تین قسم کے نتائج سامنے آئے ہیں:

  1. مکمل کامیابی: یعنی زمین پر مکمل تسلط اور مقامی آبادی پر مطلق بالادستی قائم کرنا، جیسا کہ برطانوی نوآبادیات نے امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، اور نیوزی لینڈ میں کیا۔
  2. مکمل ناکامی: یعنی زیر استعمار علاقوں کی آزادی اور نوآبادکاروں کا واپس اپنے وطن الٹے پاؤں لوٹ جانا، جیسا کہ اطالوی نوآبادیات کے ساتھ لیبیا میں، فرانسیسیوں کے ساتھ الجزائر میں، جرمنوں کے ساتھ نمیبیا میں، یا ڈچوں کے ساتھ انڈونیشیا میں پیش آیا۔
  3. جزوی کامیابی: یعنی مقامی آبادی کے ساتھ بقا اور حتیٰ کہ ان کے ساتھ گھل مل جانے کی قیمت پر اس سرزمین پر باقی رہنا، جیسا کہ ڈچ-انگریزی نوآبادیات نے جنوبی افریقہ میں کیا۔

ان تین ممکنہ مستقبلوں میں سے کون سا اس دنیا میں یورپ کے آخری نوآباد کار یعنی اسرائیل کی قسمت میں ہے؟ اس سوال کا جواب دینا مشکل ہے کیوں کہ یہ تجربہ ابھی جاری ہے اور ممکن ہے کہ اس پر فیصلہ آنے کے لیے ایک اور صدی کا انتظار کرنا پڑے۔

لیکن ہم یہ جائزہ لے سکتے ہیں کہ کسی بھی نوآبادیاتی منصوبے کی مکمل کامیابی کے لیے کن شرطوں کی تکمیل لازم ہوتی ہے تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ کیا اسرائیل ان شرائط کو پورا کرتا ہے۔ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ اس کامیابی کے لیے درج ذیل شرائط درکار ہیں:

پہلی شرط:مقامی آبادی کا خاتمہ یا اس کی تعداد کو اس حد تک کم کردینا کہ وہ نوآبادیوں کے لیے خطرہ نہ بن سکیں، یہ عمل حملہ آوروں اور مقامی آبادی کے درمیان جنگی ٹکنالوجی کے بڑے فرق کی بدولت ممکن ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ان وائرسوں اور جراثیم کی بدولت بھی جو مقامی آبادی کے لیے غیر معروف ہوتے ہیں اور جن کے خلاف ان میں مدافعت نہیں ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، امریکہ اور آسٹریلیا کی مقامی آبادی کو نہ صرف گولیوں اور مشین گنوں سے، بلکہ خسرہ، تپ دق اور چیچک جیسی بیماریوں سے تقریباً ختم کردیا گیا۔

برطانوی نوآبادیات کی امریکہ اور آسٹریلیا میں کامیابی کا یہی ماڈل ہے۔

یہ دونوں عوامل موجودہ معاملے میں غائب ہیں۔ یہاں یورپی یہودی نوآبادیوں نے ایک قدیم تہذیب اور جنگ کے فنون میں ماہر قوم کی زمین پر قدم رکھا ہے۔ حملہ آوروں اور مقامی آبادی کے درمیان جنگی ٹکنالوجی کا فرق صدیوں کا نہیں ہے—جیسا کہ یورپی عیسائی نوآبادیوں اور آسٹریلیا یا کینیڈا کی مقامی آبادی کے درمیان تھا—بلکہ زیادہ سے زیادہ چند دہائیوں کا ہے۔

اس کے علاوہ، یہاں جراثیم نے بھی کوئی کردار ادا نہیں کیا، کیوں کہ نوآبادی اور مقامی آبادی ایک ہی جغرافیائی خطے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں ایک جیسی مدافعت پیدا ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ، فلسطینی قوم ایک علیحدہ قوم نہیں تھی جسے آسانی سے الگ تھلگ کر کے نشانہ بنایا جا سکتا، بلکہ وہ ایک عظیم قوم کا حصہ تھی، چاہے وہ کم زور اور منتشر حالت میں ہی کیوں نہ ہو، اور اس طرح طویل مدت میں یہ ایک اور عنصر ہے جو مکمل فتح کے راستے کی رکاوٹ ہے۔

دوسری شرط: پشت پناہی کے ایک مضبوط بیس کی موجودگی جو نوآبادکاروں کو درکار لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتا رہے، جب تک کہ وہ اپنے آبائی وطن سے بے نیاز ہوکر مستقل پوزیشن میں آسکیں: جیسا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ یا آسٹریلیا میں ہوا۔

لیکن اسرائیل کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ آج کا یورپ پچھلی دو صدیوں کے یورپ جیسا نہیں رہا، اور اس کی کئی وجوہات ہیں:

لاڈلا بچہ (اسرائیل) اب یورپ کے لیے ایک سیاسی اور اخلاقی بوجھ بن چکا ہے؛ یہ عرب دنیا کے ساتھ اہم تعلقات کو خراب کرنے کا کام کرتا ہے۔ یوروپ ایک غیر یقینی مہم جوئی کے لیے انھیں داؤ پر نہیں لگاسکے گا۔ 1970 کی دہائی میں جنوبی افریقہ کے معاملے میں یہی ہوا۔

یورپ کی نئی نسلیں دو سیاسی راستوں پر تقسیم ہیں، اور دونوں ہی نوآبادیاتی وجود کو مدد جاری رکھنے کی حمایت نہیں کرتے۔ ایک راستہ، جسے بائیں بازو یا ترقی پسند یا جمہوریت پسند کہا جاسکتا ہے، اس نے اپنے آبا و اجداد کی نوآبادیاتی سوچ سے مکمل طور پر قطع تعلق کر لیا ہے اور چاہتا ہے کہ یورپ جمہوریت اور انسانی حقوق کا گڑھ بنے۔ ایسے راستے میں نوآبادیاتی دور کے باقیات کی حمایت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

دوسری طرف، دائیں بازو کا انتہاپسند قوم پرست اور پاپولسٹ دھڑا ہے۔ وہ بنی اسرائیل سے اتنی ہی نفرت کرتا ہے جتنی بنی اسماعیل سے۔ اس کا مقصد نوآبادیات کی واپسی یا دنیا بھر میں اس کے کٹے ہوئے اعضا کی حمایت نہیں ہے۔ بلکہ جیسا کہ ایک برطانوی احتجاجی نے ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کی برطانیہ میں بڑھتی ہوئی تعداد پر کہا تھا: ’’ہمارا ہدف یہ ہے کہ یورپ کو اپنی سابقہ کالونیوں کے ذریعے خود نوآبادکار بننے سے روکنا ہے۔‘‘

جہاں تک امریکہ کی حمایت کی بات ہے، یہ بھی ایک نہ ایک دن ختم ہو جائے گی، چاہے یہ وقت طویل ہو یا مختصر۔ نہ صرف انھی وجوہات کی بنا پر جو یورپ میں ہیں، بلکہ ایک اور گہری وجہ کی بنا پر۔ ٹرمپ کے عروج اور دائیں بازو کے انتہا پسند قوم پرستوں کے بڑھتے ہوئے اثر کو کوئی سمجھ نہیں سکتا اگر اس کے ذہن میں یہ بات نہ ہو کہ 2050 تک یورپی نسل کے سفید فام امریکیوں کی تعداد گھٹ کر آدھی رہ جائے گی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ افریقی، لاطینی اور ایشیائی پس منظر کی آنے والی نسلیں جو امریکہ کی قیادت کریں گی، ان کا “چنے ہوئے لوگ”، “الہی مشن” اور “وعدہ کی گئی زمین”جیسی مذہبی داستانوں سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور نہ ہی ان قدیم امریکی نسلوں کی طرح صہیونی منصوبے کے ساتھ اندھی نظریاتی دل بستگی ہوگی۔

اس کے علاوہ، ایک باغی ریاست کی حمایت کی براہ راست لاگت، جو تمام بین الاقوامی قوانین کو چیلنج کرتی ہے، اور بالواسطہ لاگت؛ یعنی عرب دنیا کے ساتھ مفادات کا نقصان، اس سے کہیں زیادہ ہوگی جس کے امریکی سربراہان اب تک عادی رہے ہیں۔

شاید اس سب سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ یہودی آغوش کی حمایت میں کمی آتی جارہی ہے۔ گو کہ اس کے پاس معنوی، مالی، میڈیا اور سیاسی اثر و رسوخ کی طاقت ہے۔

دل کو تسلی دینے والی بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے یہودیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد میں یہ فکری رجحان مسلسل بڑھتاجارہا ہے کہ اسرائیل ان کے لیے خطرہ ہے، کیوں کہ یہ یہود دشمنی سے غذا پاتا ہے لیکن ساتھ ہی فلسطینیوں کے ساتھ اپنی وحشیانہ پالیسیوں کے ذریعے بھی غذا پاتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ یہودیت کے لیے بھی خطرہ ہے، جو ایک مذہب کی حیثیت میں انسانی اقدار پر مبنی ہے، جبکہ صہیونیت اپنے جرائم کے ذریعے ان تمام اقدار کو ریزہ ریزہ کر رہی ہے۔

غرض صہیونی نوآبادیات کی بیرونی حمایت کے عوامل درمیانی اور طویل مدت میں بتدریج کم ہونے کا امکان رکھتے ہیں، بلکہ شاید اس منصوبے کے خلاف بھی بھی جا سکتے ہیں، جس سے اس کے ٹوٹنے اور خاتمے کے تمام خطرات خوف ناک طریقے سے بڑھ جائیں گے۔

اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ اور آسٹریلیا میں مغربی نوآبادیاتی منصوبے کے طرز پر فلسطین میں صہیونی نوآبادیاتی منصوبے کے لیے مکمل کامیابی سے ہم کنار ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

پھر جزوی کامیابی کا امکان کیا ہے، یعنی نوآبادکاروں کا اس زمین پر باقی رہنا جس پر انھوں نے قبضہ کیا ہے اور مقامی آبادی کے ساتھ کسی قسم کے بقائے باہمی کا راستہ تلاش کرنا۔ خاص طور سے یہ واضح ہوجانے کے بعد کہ مقامی آبادی کا خاتمہ ناممکن ہے. اس کا نمونہ موجودہ جنوبی افریقہ اور کچھ حد تک نیوزی لینڈ ہے، جہاں ماؤری قوم کا خاتمہ نہیں کیا گیا اور وہ اپنے کچھ حقوق واپس حاصل کرنے کی سمت بڑھ رہے ہیں۔

اس کا بھی کوئی امکان نظر نہیں آتا ہے۔ کیوں کہ حالیہ نوآبادکار (اور ’’حالیہ‘‘ کے نیچے کئی سرخ لکیریں کھینچنا ضروری ہے) مقامی آبادی کے تمام سیاسی حقوق کو مسترد کرتے ہیں۔ غزہ میں ابدی محاصرہ، 1948 کی مقبوضہ زمینوں میں نسلی تفریق، اور مغربی کنارے میں ان کی زمینوں کو ہڑپنا اور ’’رضاکارانہ‘‘ ہجرت پر مجبور کرنا، اس کے سوا ان کے یہاں اور کچھ قابل قبول نہیں ہے۔

پھر تینوں منظرناموں میں سے کیا باقی رہ جاتا ہے؟ قدرتی طور پر صرف ایک ہی منظر نامہ، یعنی مکمل ناکامی کا منظرنامہ، دوسرے لفظوں میں اکیسویں صدی میں یورپ کی آخری نوآبادیات کا خاتمہ، جس طرح بیسویں صدی میں اس کی بیشتر نوآبادیات کا خاتمہ ہوا تھا۔

(5)

لیکن تھوڑا ٹھہریں، اس نتیجے پر پہنچنے سے پہلے، اس نوآبادیات کی اپنی اسٹریٹیجی کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ کیوں کہ تاریخ نے ابھی تک اپنے تمام امکانات کو سامنے نہیں رکھ دیا ہے۔

اسرائیل کی اسٹریٹیجی معروف ہے اور اسے نتنیاہو کے حل کا نام دے کر درج ذیل نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے:

کسی بھی فلسطینی ریاست کے قیام کو ہر ممکن طریقے سے روکنا اور جلد از جلد مغربی کنارے کو ٹکڑے ٹکڑے کردینا اور غزہ کو خالی کرادینا۔

فلسطینی عوام اور خطے کے تمام عوام پر حوالگی کو مسلط کرنا، جسے ’’نارملائزیشن‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی ان حکومتوں کے ساتھ حوالگی کے معاہدے کرنا اور خدمات کا تبادلہ کرنا، ان اقوام کو نظر انداز کرتے ہوئے، جن کے بارے میں یہ فرض کیا جاتا ہے کہ وہ آخر کار اکتاہٹ اور نسیان سے دوچار ہوجائیں گے، اور جہاں تک نئی نسلوں کی بات ہے تو ان کے پاس اپنے آبا و اجداد سے مختلف ترجیحات اور نقطہ نظر ہوں گے۔

دائمی طور پر یہ یقینی بنانا کہ کوئی بھی علاقائی طاقت خواہ وہ عرب ہو یا غیر عرب، ابھر کر خطے پر اسرائیل کے مکمل کنٹرول کے لیے خطرہ نہ بنے، نیز ان ممالک کو مستقل طور پر کم زور کرنے کی کوشش کرنا اور اگر ممکن ہو تو انھیں ٹکڑے ٹکڑے کردینا۔

طاقت کو کھلے عام استعمال کرکے ان اقوام کو دہشت زدہ کرنا، خاص طور پر جوہری ہتھیاروں کی اجارہ داری کو برقرار رکھنا، یہاں تک کہ زیر استعمار قوم کا ہر مزاحمتی ارادہ دم توڑ دے اور وہ بھی پیچھے ہٹ جائیں جو ان کی پشت پناہی میں دور تک جاتے ہیں۔

ان پالیسیوں کا جائزہ لینے کے بعد، جو نتنیاہو اور انتہاپسند دائیں بازو کے تحت ’’ابراہیم معاہدات‘‘ یا ’’نئے مشرق وسطیٰ‘‘ کے نام سے پیش کی جاتی ہیں، یہ حقیقت دوبارہ بے نقاب ہوتی ہے کہ ان پالیسیوں کی کامیابی کی شرائط بھی ناپید ہیں، خاص طور پر فوجی طاقت پر اجارہ داری اور جوہری ہتھیاروں پر اجارہ داری کے حوالے سے۔

اسرائیل اور امریکہ میں اسٹریٹجی بنانے والے اگر یہ تصور کرتے ہیں کہ وہ خطے کی تین بڑی قوموں: عرب قوم، ایرانی قوم اور ترکی قوم کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی قدرت رکھتے ہیں اور انھیں ایک ایسی قوم کے رحم و کرم پر ہمیشہ کے لیے رکھ سکتے ہیں جس کی آبادی سات ملین سے زیادہ نہیں ہے، تو یہ اندھے پن کی انتہا ہے۔ ابدی فوقیت کے نسل پرستانہ نظریات میں ڈوب کر ہی ایسے احمقانہ خیالات نشو و نما پاسکتے ہیں۔

“طوفان الاقصیٰ” کے معرکے اور اس سے پہلے 1973 کی ’’جنگ عبور‘‘ نے اس غرور کو بے نقاب کر دیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ جو لوگ خود کو زمین پر سب سے ذہین سمجھتے ہیں، وہ کتنی آسانی سے دھوکہ کھاسکتے ہیں۔

حالیہ واقعات نے فلسطینی مزاحمت کی سراغ رسانی اور میدان جنگ میں ڈٹے رہنے کی صلاحیت میں برتری کو ثابت کردکھایا ہے۔ یعنی طاقت کا جو چھوٹا فرق اسرائیلیوں کو اب تک فتح دلانے میں کامیاب رہا ہے اس فرق کو ختم کردینے کی ان کی صلاحیت سامنے آگئی ہے۔

یہ وہ چیز ہے جو اسرائیلیوں کو اپنے الگورتھمز پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کرے گی تاکہ وہ صلاحیتوں کے اس فرق کو بڑھائیں جو کم ہوچکا ہے، لیکن چیلنج کے بڑھ جانے کا عنصر دوسری طرف بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔ اس سے فلسطینی مزاحمت کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوگا اور مستقبل کی عربی مزاحمت کی صلاحیتوں میں بھی۔ اس طرح، اس آخری جنگ میں جو اسرائیل لڑرہا ہے، ایک فریق خود کو حالات کے مطابق بدلتا رہے گا اور دوسرا فریق اس کا جواب دیتا رہے گا اور یہ سلسلہ وہاں تک پہنچے گا جب صلاحیتیں برابر ہوجائیں گی یا طاقت کا توازن الٹ جائے گا اور حساب برابر کرنے کا وقت آجائے گا۔

وہ چیز جو تینوں قوموں کو جوہری میدان میں اپنی پسماندگی دور کرنے میں مدد دے گی، وہ وہی ہے جس پر عظیم مورخ ٹائن بی نے زور دیا تھا، یعنی چیلنج کا ہونا۔

یہی نفسیاتی عامل ہے جس نے سود خوروں اور تاجروں کی اولاد کو دہشت پھیلانے والے بے رحم سپاہی بنادیا اور یہی وہ عامل ہے جو مفلوک الحال کسانوں کی اولاد کو ایک صدی سے جاری مزاحمت کا ہیرو بنائے ہوئے ہے۔

یہی عنصر ہے جو دیر سویر، پرامن طریقے سے یا جنگ کے راستے سے، اسرائیل کے اس وہم کو توڑ دے گا کہ ایک چھوٹی سی عارضی ریاست خطے کی قدیم و عظیم قوموں پر تسلط قائم کرسکتی ہے۔ یہ وہ قومیں ہیں جو کئی بار گرنے کے بعد اٹھ کھڑی ہوئی ہیں اور جن کے پاس ایسے بے پناہ امکانات موجود ہیں جو ابھی تک بروئے کار نہیں لائے گئے ہیں۔

ایک اور بات یہ بھی ہے کہ صہیونی منصوبے کے لیے سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ اس کی مخالفت نسل در نسل لاکھوں کروڑوں عربوں اور مسلمانوں میں بڑھتی، پھیلتی اور گہری ہوتی جا رہی ہے۔ اگر اسرائیلیوں کے پاس فلسطینیوں کو 7 اکتوبر کے واقعے کے لیے معاف نہ کرنے کی ہزار وجوہات ہیں، تو فلسطینیوں اور عربوں کے پاس اسرائیلیوں کے ان جرائم کو معاف نہ کرنے کی کروڑ وجوہات ہیں جن کا ارتکاب انھوں نے خاص طور پر پچھلے دو برسوں میں کیا ہے۔

(6)

کہنے والا یہ کہ سکتا ہے کہ اگر ایسی بات ہے تو ہم سکون کا سانس لے سکتے ہیں۔ گویا اب سوال یہ نہیں ہے کہ کیا اسرائیل ختم ہو جائے گا، بلکہ یہ ہے کہ کب ہوگا؟

لیکن ذرا ٹھہریں۔ یہ نہ بھولیں کہ تاریخ ہمارے جذبات، ہمارے مفادات، یا خیر و حق کی خدمت کی پابند نہیں ہے۔ ریڈ انڈین سے پوچھیں کہ ان کے قضیے کو انصاف کہاں ملا۔

اگر اسرائیلی دانشوروں اور ان کے حقیقی دوستوں کو گہرائی سے یہ سوچنا چاہیے کہ نتنیاہو کے حل کو جاری رکھنے کی قیمت کیا ہوگی، تو عرب دانشوروں اور ان کے حقیقی دوستوں کو بھی “یہودیوں کو سمندر میں پھینک دینے”کا بیڑا اٹھانے کی قیمت پر غور کرنا چاہیے۔

انھیں سب سے پہلے یہ سوال کرنا چاہیے کہ طویل زمانے کے فریم میں استعماری وجود کی طاقت کے مراکز کہاں ہیں۔

اسرائیل کی اصل طاقت اس کے ہتھیاروں میں نہیں ہے، جن کی ٹکر کے ہتھیار بنائے جاسکتے ہیں، نہ ہی اس کی “ناقابلِ شکست” فوج میں ہے، جسے غزہ کے ہیروؤں نے شکست دے کر دکھا دیا ہے۔ اس کی طاقت اصل میں اس میں ہے کہ وہ قانون اور اداروں کی ریاست ہے جو اپنے شہریوں کے مفادات کے لیے کوشاں رہتی ہے۔ یقینًا اس طرح کی ریاست دہائیوں تک ان ممالک کو شکست دے سکتی ہے جو استبداد، بدعنوانی اور وسائل خاص طور پر انسانی وسائل کے غلط استعمال میں پورے طور پر مبتلا ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی اقوام شکست خوردہ ہیں، کم زور، پست اور ذلت پسند رعایا پر مشتمل اقوام۔

ذرا سوچیے! جس طرح اسرائیلیوں نے دو سال تک روزانہ تل ابیب اور یروشلم کی سڑکوں میں اپنی حکومت کے خلاف احتجاجی جلوس نکالے، اگر ہمارے شہروں کی سڑکوں میں بھی ہماری حکومتوں کی پالیسیوں کے خلاف روزانہ احتجاجی جلوس نکلتے تو کیا اپنے بچوں کو غزہ میں بھوک سے مرتے ہوئے دیکھنے کی یہ ذلت ہمیں سہنی پڑتی؟

جب تک ہم رعایا پر مشتمل ایسی اقوام ہیں، جنھیں سراغ رساں ایجنسیوں کے ذریعے چلنے والی ریاست اپنے کنٹرول میں رکھتی ہے، تو سمجھ لیں کہ اسرائیل طویل عرصے تک ہر طرح کے حقیقی خطروں سے محفوظ رہے گا۔

یہ وہ بات ہے جسے اس نو آبادیاتی کی ذہین اشرافیہ نے اچھی طرح سمجھا اور اس نے عرب بہار کا پوری قوت سے راستہ روکا۔ اس اشرافیہ سے بہتر یہ بات کون جانتا ہے کہ اگر عرب دنیا قانون اور اداروں والی ریاستوں کی تعمیر کے کامیاب سفر پر چل پڑے، جو رعایا والی اقوام نہیں بلکہ شہریوں والی اقوام کی خدمت کرنے والی ہوں اور خطے کی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے باہم تعاون کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں، تو یہ صہیونی منصوبے کے مکمل خاتمے کا آغاز ہوگا۔

مستقبل کا معروضی تجزیہ کرنے کے لیے، ہمیں اس کا بھی ادراک کرنا ہوگا کہ منگولی اور صلیبی حملوں کے بعد سے اب تک امت کو سب سے زیادہ خطرناک قسم کی قابض قوت کے سامنا ہے۔ اس کی سنگینی کی سطح کو ہمیں سمجھنا ہوگا۔

سنگینی کے چار خطرناک عوامل ہیں جن کا بغور مطالعہ کرنا چاہیے اور ہمیشہ انھیں مدنظر رکھنا چاہیے:

  1. آبادیاتی عامل: اگر یورپ اور امریکہ میں اور ہمارے عرب ممالک میں نسلوں کی تبدیلی ہمارے حق میں کام کر رہی ہے تو یہ اسرائیل میں ہمارے خلاف کام کر رہی ہے۔ آج وہاں مذہبی لوگوں کی تعداد 14% ہے، لیکن ان کی اعلیٰ شرح پیدائش کی وجہ سے یہ تعداد 2050 تک 25% ہو جائے گی، یعنی یہ 1.2 ملین سے بڑھ کر 3.2 ملین ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ، سیکولر یہودیوں کے برعکس، وہ ہجرت نہیں کرتے، جس کا مطلب ہے کہ یہ انتہا پسند طبقہ، جو تعداد اور اثر و رسوخ میں مسلسل بڑھ رہا ہے، ریاست کے بڑے سیاسی فیصلوں پر حاوی رہے گا، جن میں مغربی کنارے کو مکمل طور پر ہڑپ کرنا اور کسی بھی ممکنہ امن یہاں تک کہ کسی اطمینان بخش نارملائزیشن کو روکنا بھی شامل ہے۔
  2. سیاسی عامل اور بنیادی طور پر تباہ کن انتخابی نظام: یہ نظام انتہا پسند اقلیتوں کو نمائندگی کے نام پر حقیقی وزن سے زیادہ وزن دیتا ہے۔ ایسا بڑی جماعتوں کے ساتھ اتحاد اور بلیک میلنگ کے راستے ہوتا ہے۔ یہ بڑی جماعتیں حکومت کرنے کے لیے ضروری اکثریت حاصل کرنے سے قاصر ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بن غفیر اور سموترچ جیسے لوگوں کا اسرائیلی فیصلہ سازی پر کنٹرول، جس میں مزید تشدد اور جنگ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، مستقبل میں معمول بن جائے گا، استثنا نہیں رہےگا۔
  3. نظریاتی عامل: ہمیں غور کرنا چاہیے کہ یہ انتہا پسند کس قسم کے خیالی، علامتی اور روحانی ماحول میں رہتے ہیں۔ ان کے خیالات میں ایک خاص خدا ہے جس نے انھیں زمین کے تمام لوگوں میں سے چنا ہے اور انھیں ایک ایسی زمین دی ہے جس پر کسی اور کا حق نہیں ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ انھیں حق ہے کہ وہ عمالقہ کو قتل کریں خواہ وہ دودھ پیتے بچے ہوں، بوڑھے ہوں اور یہاں تک کہ ان کے جانوروں کو بھی مار ڈالیں، اور یہ کہ ہیرو شمشون نے اپنے اوپر ظلم کرنے والوں سے بدلہ لینے کے لیے معبد کی دیواریں اپنے اور ان کے سروں پر گرا دی تھیں۔
  4. نفسیاتی عامل: جسے میں فرائڈ کی لعنت کہتا ہوں، یہ ایک قانون نما مقولہ ہے جسے اس مشہور نفسیاتی تجزیہ کار نے اخذ کیا: آپ ایک دشمن سے طویل عرصے تک لڑتے ہیں تو آخر کار آپ اسی کی طرح بن جاتے ہیں۔ اسی قانون کی بدولت آج ہمارا سامنا ایسے نسل پرست یہودیوں سے ہے جنہوں نے مغربی نسل پرستی کے ردعمل میں اس سے بھی بدتر نسل پرستی اختیار کی۔ یہ قانون اس سوال کا جواب بھی دیتا ہے کہ کیوں وزیر جنگ گیلنٹ نے فلسطینیوں کو ’’انسانی جانور‘‘ کہا۔ یہ بیان ہمیں ہٹلر کے وزیر پروپیگنڈا ہملر کا مقولہ یاد دلاتا ہے جب اس نے یہودیوں کو ’’انسان سے کم‘‘ (Untermenschen) کہا تھا۔ اسی طرح ہم یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ دوسری عالمی جنگ میں جرمنوں کی روش پر چلتے ہوئے اسرائیلی برق رفتار جنگوں (Blitzkrieg) سے کیوں عشق رکھتے ہیں، اور ان کا یہ یقین بھی کہ جو مسئلہ طاقت سے حل نہیں ہوتا ہے، اسے اور بڑی طاقت سے حل کیا جاتا ہے۔

ان تمام عوامل کو تیار رکھے ہوئے ایٹمی ہتھیار کے ساتھ ملا دیں تو سب سے زیادہ ممکنہ نتیجہ یہی ہوسکتا ہے کہ خدا نہ کرے، آخر کار ایٹمی ہولوکاسٹ پیش آجائے جس میں شمشون معبد کی دیواریں، یعنی پورا مشرق وسطیٰ، لاکھوں یہودیوں، کروڑوں مسلمانوں اور عیسائیوں کے سروں پر گرادے۔

اگر ہم دھوکہ دینے والوں اور دھوکہ کھانے والوں کے ساتھ ساتھ ازکار رفتہ واہمے کے پیچھے بھاگنا بند کردیں، تو پھر ہمارے سامنے حل کیا ہے؟

(7)

یورپی استعمار کے نمونوں اور ان کی طویل مدتی کامیابی کا جائزہ لیتے ہوئے ہم یہ پاتے ہیں کہ سب سے کم انسانی لاگت والا نمونہ جنوبی افریقہ کا نمونہ ہے۔ سفید فام نوآبادکار چار صدیوں سے ایسی زمین پر آباد ہیں جو ان کی اپنی نہیں تھی۔ وہاں انھوں نے مقامی آبادی کا صفایا نہیں کیا اور ظاہر ہے کہ اپنی شرافت اور انسانیت کی وجہ سے نہیں، کیوں کہ اس شریفانہ عمل کا مظاہرہ امریکہ اور آسٹریلیا میں وہاں کی مقامی آبادی کے معاملے میں نہیں کیا گیا، بلکہ اس وجہ سے کہ جنوبی افریقہ میں ایسا کرنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔

چناں چہ طویل جنگوں کے بعد انھوں نے استعمار کی تاریخ میں ایک منفرد معاہدہ کیا، یعنی مقامی آبادی کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ ریاست کی تعمیر۔ مقامی آبادی نے بھی ایک ایسا حل قبول کیا جو مکمل طور پر منصفانہ تو نہیں تھا، لیکن یہ سب کو لامتناہی جنگوں اور بے سود آلام و مصائب سے بچاتا تھا، اور ان کے بہت سے سیاسی اور انفرادی حقوق کی ضمانت دیتا تھا۔ میں اسے ’’منڈیلا حل‘‘ کہتا ہوں۔

اب سوال یہ نہیں ہے کہ کیا اسرائیلی فلسطینی تنازعہ میں اسی حل کو اپنایا جا سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اسے کیسے نافذ کر سکتے ہیں، کیوں کہ یہ لامتناہی جنگ کا واحد متبادل ہے۔ وہ جنگ جس کا خاتمہ، خدا نہ کرے، ایک ایٹمی ہولوکاسٹ کی صورت میں ہوسکتا ہے جس میں کروڑوں لوگ لقمۂ اجل بن جائیں گے۔

اس خطے میں بھی اور یورپ اور پوری دنیا میں دو حل ہیں۔ نیتن یاہو کا حل، جو خطے کے تمام لوگوں کو تباہی کی طرف لے جانے والا ہے اور منڈیلا کا حل، جو انھیں سلامتی کے جزیرے کی طرف لے جاسکتا ہے۔ آج بھی اور آنے والے کل میں بھی نئی اور سنجیدہ سیاسی قیادت کو ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

آہ، کیسے!! اور کیا یہ ممکن بھی ہے! خاص طور پر جب کہ دونوں قوموں کے درمیان نفرت پھیلی ہوئی ہے اور وہ پورے خطے کی اقوام تک پھیل گئی ہے؟ ہمیں ایک اور منڈیلا کہاں سے ملے گا؟ اور کیا اسرائیلیوں میں ڈی کلارک جیسا کوئی عقل مند شخص ہے، جس نے جنوبی افریقہ میں سفید فاموں کو تباہی سے بچایا؟ اور بھی بہت سے سوال ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ’’بازل 2‘‘ کانفرنس (نام کچھ بھی ہوسکتا ہے) منعقد کی جائے جس میں فلسطینی، اسرائیلی اور ان کے حقیقی دوست جمع ہوں اور ان تمام مسائل پر غور کریں اور حالیہ معرکوں کے شور غل سے دور، سکون اور گہرائی سے مشکلات، مسائل اور چیلنجوں کا جائزہ لیں اور اس حل کو فروغ دینے اور اسے ممکن بنانے کی حکمت عملی کی جستجو کریں۔ یہ کام فوری توجہ چاہتا ہے۔ مبادا اس کا وقت ہاتھ سے نہ نکل جائے اور تاریخ وہ خوف ناک راستہ اختیار نہ کرلے جس پر انتہا پسند نو آباد کار حماقت اور نفرت کے ملاپ کے ساتھ بڑھے چلے جارہے ہیں۔

مشمولہ: شمارہ اگست 2025

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2025

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223