جماعت اسلامی دہلی وہریانہ

رفتارِ کار ،مسائل اور امکانات

محمد آصف اقبال

جماعت اسلامی کی تشکیل ۱۹۴۱؁ء میں ہوئی۔ ہندوستان کی تقسیم۱۹۴۷؁ء میں عمل میں آئی۔ اس وقت تک جماعت اسلامی کی سرگرمیاں ملک کے اہم حصوں میں پھیل چکی تھیں۔ پورے ملک میں جماعت کے چھے سوپچیس﴿۶۲۵﴾ ارکان تھے۔ تقسیم ملک کے بعد جماعت اسلامی کے صرف ۲۴۰ ارکان ہندوستان میں رہےاور باقی پاکستان چلے گئے۔ تقسیم ملک کے بعد ہندوستان میں جماعت کی تشکیل نو۱۹۴۷ میں عمل میں آئی۔ اس کا نام”جماعت اسلامی ہند”رکھا گیا۔ الحمدللہ پچھلے۶۴سالوں سے یہ جماعت اسلامی ہند کے نام سے ملک میں اپنا کام کر رہی ہے۔

جماعت اسلامی ہند کا نصب العین”اقامت دین”ہے۔ دین سے مراد وہ دین ِ حق ہے جو ہرزمانے اور ہر قوم میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجا جاتا رہا ہے اور اپنی آخری شکل میں یہ دین اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے انسانوں کو ملا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دین کو انسانوں تک پہنچایا اور اس کی قولی و عملی تشریح کی۔ اس دین کی پیروی کے لیے ایک امت برپا کی۔ اسی دین کی بنیاد پر ایک سماج اور ایک ریاست قائم کی۔ بنی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے خلافت راشدہ کے اختتام تک جو عملی نمونہ قائم کیا، وہ اس دین کی مثالی تشریح ہے۔ اس دین کی اقامت سے مراد یہ ہے کہ اس پورے دین کی بے کم و کاست پیروی کی جائے۔سماج کی تعمیر اورریاست کی تشکیل سب کچھ اسی کے مطابق ہو۔

جماعت اسلامی ہند ہر چار سال کے لیے ایک منصوبہ بناتی ہے جس کو جماعت کی اصطلاح میں “پالیسی اور پروگرام”کہا جاتا ہے۔ اس وقت جماعت اسلامی کی چار سالہ رواں میقات اپریل۲۰۱۱تامارچ۲۰۱۵ ہے۔ اس منصوبے میں جماعت کی جدوجہد کے دو بڑے دائروں کی نشان دہی کی گئی ہے۔ ایک دائرہ غیر مسلم باشندگان ملک کا ہے۔جماعت اسلامی ان افراد کو دین ِ حق کی طرف بلانے اور نیکیوں کے فروغ اور برائیوں کے ازالے کی کوشش میں ان کا تعاون حاصل کرنے کا کام انجام دے گی۔ کوششوں کا دوسرا دائرہ امت مسلمہ ہے۔ اس پہلو سے کوششوں کا مقصد افراد امت کی فکری و عملی تربیت ہے۔ تاکہ وہ اقامت دین کا فریضہ انجام دے سکیں۔ جماعت کی ساری سرگرمیاں ایک دستور کے تحت انجام پاتی ہیں۔ اس دستور میں جماعت کے نصب العین اور طریقِ کار کی تشریح کے علاوہ جماعت کے نظم کو بھی بیان کیا گیا ہے۔نظم کے پہلو سے مرکز جماعت پوری جماعت کا نگراں ہے۔ خود یہ مرکز امیر جماعت کی سربراہی میں کام کرتا ہے۔امیر جماعت اسلامی ہند کا انتخاب ہر چار سالہ میقات کے آغاز میں کیا جاتا ہے۔ امیر مرکزی مجلس شوریٰ کے مشورے سے اپنے فرائض انجام دیتا ہے۔ مرکزی نظم کے تحت پورے ملک کوانیس﴿۱۹﴾ تنظیمی حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس میں ایک حلقہ، حلقہ دہلی و ہریانہ ہے، جو دو ریاستوں دہلی اور ہریانہ پر مشتمل ہے۔

ہر تنظیمی حلقہ ایک امیر حلقہ کے تحت کام کرتا ہے۔ امیر حلقہ کا تقرر بھی چار سالہ میقات کے لیے کیا جاتا ہے۔ حلقہ مختلف مقامات کی جماعتوں پر مشتمل ہوتا ہے۔یہ مقامی جماعتیں مقامی امرا کے تحت کام کرتی ہیں اور مقامی امراء امیر حلقہ کی نگرانی میں اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔۱۹۸۶ تک دہلی میں جماعت کا کام ایک مقامی جماعت کی شکل میں منظم تھا۔بعد میں 1986میں اس کو مقامی جماعت کے بجائے حلقہ قرار دیا گیا اور اس وقت حلقے کا دائرہ کار صرف شہر دہلی تک محدود تھا۔1988میں ریاست ہریانہ کو بھی حلقے میں شامل کیا گیا اور یہ حلقہ ، حلقہ دہلی و ہریانہ کہلایا۔فی الوقت حلقہ دہلی وہریانہ میں ۲۲مقامی جماعتیں ہیں جو اپنے مقامات پر جماعت کے منصوبوں کو روبہ عمل لا رہی ہیں۔ ان مقامی جماعتوں کے علاوہ دونوں ریاستوں میں ہر ضلع کے اندر جماعت کا تعارف کرایا گیا ہے۔ ہر ضلع میں جماعت کے کام سے دلچسپی رکھنے والے اور اس کے کاموں میں تعاون کرنے والے افراد موجود ہیں۔

جماعت اسلامی ہند حلقہ دہلی و ہریانہ نے غیر مسلم باشندگان ملک تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے کام کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ اس کام کے لیے کچھ مستقل ذرائع اختیار کیے ہیں۔ان میں سب سے پہلے بنیادی ذریعہ انفرادی رابطہ و ملاقات ہے۔گزشتہ سال دعوت کے ضمن میں تقریباً ۱۸۱۶افراد سے جماعت کے کارکنوں نے دعوتی روابط قائم کیے۔ دعوت کا ایک اہم ذریعہ بک سنٹرس ہیں جو چھوٹی لائبریریوں کی شکل میں کام کرتے ہیں۔اس طرح کی پندرہ لائبریریاں حلقے میں قائم ہیں۔ جماعت کے اخبارات، رسائل، فولڈر اور کتابیں بھی ایک مستقل ذریعہ ہیں۔چند سال پہلے تک جماعت اسلامی دہلی وہریانہ نے اسلام کے مطالعے کے لیے دعوۃ پوسٹل لائبریری قائم کی تھی۔ اس کے ذریعہ رابطہ قائم کرنے والوں کو ان کی پسند کے مطابق ہندی یا انگریزی میں اسلام پر کتابیں بذریعہ ڈاک روانہ کی جاتی تھیں اوران حضرات میں اکثریت غیر مسلموں کی ہوتی تھی۔لیکن اب اس سے زیادہ موثر طریقہ کو اختیار کرتے ہوئے 2009 میں ایک دعوۃ ویب سائٹ www.islamdharam.org لاؤنچ کی گئی،جس میں اسلام ، ایمان،قرآن،حدیث،پیغمبر محمد اور عبادت و شریعت جیسے موضوعات اور اسلام کا اتیہاس،ناری جگت، مانو ٔ ادھیکار اور جہاد وغیرہ پر مواد دستیاب ہے۔گزشتہ۳۷ماہ میں ۱۱,02,912دفع اس کو visitکیا گیا جس کا ماہانہ اوسط ۲۹,024ہے۔

غیر مسلم افراد تک دعوت پہنچانے کے لیے دیگر ذرائع بھی اختیار کیے جاتے ہیں جن کی نوعیت غیر مستقل ذرائع کی ہے۔ ان میں دعوتی کتابچوں کی اشاعت، منتخب افراد کی نشستیں، تعلیمی اداروں میں تقاریر، بک اسٹال، سیرت کے جلسے اور مذاکرات شامل ہیں۔دورانِ میقات متعین مہمات بھی چلائی گئی ہیں۔ ان میں قابل ذکرسیرت کے جلسے، دعوۃ مہم اور رابطہ مہم ہیں۔گزشتہ دنوں دعوۃ مہم بنگالی زبان بولنے والوں پر فوکس کی گئی تھی ساتھ ہی ہندی زبان سے واقفیت رکھنے والوں کے درمیان دعوتی لٹریچرکی تقسیم اور دعوتی پروگرام منعقد کیے گئے۔سال رواں میں یہ مہم ملیالم زبان بولنے والوں پر فوکس رہے گی۔ ہریانہ کے اضلاع اور دہلی کے بعض علاقوں میں ارتداد کے اثرات نے جماعت اسلامی دہلی وہریانہ کی توجہ کو بجا طور پر مبذول کیا ہے۔سیکڑوں گاؤں ارتداد سے متاثرہیں ان میں اپنے محدود وسائل و ذرائع کے ساتھ قابل عمل منصوبہ بنا کر اصلاح کا کام کیا جا رہا ہے۔ یہ کام ہمہ وقتی اور اعزازی کارکنان کر رہے ہیں۔ ابتدائی دینی واقفیت فراہم کرنے کے لیے پندرہ روزہ اور ایک ماہ کی مدت کے تعلیمی پروگرام ہر سال چلائے جاتے ہیں،جن میں طلباء ، خواتین،بچے بوڑھے سبھی شریک ہوتے ہیں۔ بک سینٹر، مراکز تعلیم بالغان اور لائبریریاں بھی قائم کی جاتی ہیں۔ قرآن مجید، اس کے تراجم، اور دینی کتب و رسائل فراہم کیے جاتے ہیں۔ منتخب طلباء کی کفالت کا نظم کرکے ان کو دینی تعلیم کے لیے مدارس میں داخل کرایا جاتا ہے اور مساجد کی واگزاری اور آباد کاری کی کوشش کی جاتی ہے۔دینی ابتدائی معلوماتی کیمپ ہریانہ کے ۴مقامات پر کچھ دنوں پہلے منعقد ہوئے ،جن میں تقریباً۱۵۰طلبا شریک رہے۔ ان مستقل کاموں کے علاوہ ارتداد زدہ آبادیوں میں بعض ہنگامی کام بھی کیے گئے ہیں۔ ان میں سیرت کے جلسے، فطرے کی جمع و تقسیم، عید قرباں کے موقع پر نماز اور قربانی کا نظم، متفرق مسائل پر توجہ، تعلیمی اداروں کے قیام کی ترغیب و تعاون اور خدمت خلق کے کام شامل ہیں۔جماعت اسلامی حلقہ دہلی و ہریانہ کی نگاہ میں یہ کام بڑا ہم ہے اور بجا طور پر وہ یہ توقع رکھتی ہے کہ امت کے حساس افراد اس کام میں اپنا تعاون پیش کریں گے۔

جماعت کے کاموں کا اہم دائرہ امت مسلمہ ہے۔ انفرادی، اصلاحی اور تربیتی روابط امت کی تربیت کا بڑا ذریعہ ہیں۔ اس کے علاوہ جماعت کا مقصد یہ ہے کہ ہر مسجد دینی تعلیم و تربیت کا مرکز بنے۔وہاںقرآن مجید کا درس دیا جائے،تذکیری پروگرام ہوں، خطبات جمعہ موثر طریقے سے دیے جائیں اور امام مسجد مسلمانوں کی راہنمائی و تربیت کا فریضہ انجام دے۔اس کام میں متعدد مشکلات درپیش ہیں جن میں ائمہ کرام کی اصل پوزیشن کا احساس نہ ہونا اور اس کے شایان شان ان سے برتاؤ نہ کیا جانا سب سے بڑی مشکل ہے۔اس کے علاوہ دین کا محدود تصور اور غلط فہمیاں بھی اس کام میں حائل ہیں۔ جن کی بنا پر بعض لوگ چاہتے ہیں کہ قرآن مجید کا ترجمہ و تفسیر عام مسلمان نہ سننے پائیں تاہم ان مشکلات کے باوجودپیش رفت جاری ہے اور مساجد، اصلاح و تربیت کا کام کرنے لگی ہیں۔ حلقہ دہلی و ہریانہ نے خواتین کے اندر اصلاحی کام کو ایک شعبے کے تحت منظم کیا ہے۔ پورے حلقے میں ۲۳مقامات پر خواتین کے ہفت روزہ، پندرہ روزہ یا ماہانہ پروگرام ہوتے ہیں۔ان کے علاوہ تربیت کی غرض سے منتخب خواتین کے اجتماعات بھی ہوتے ہیں۔

مقامی جماعتوں نے زکوٰۃ کا نظم قائم کرنے پر توجہ دی ہے اس سمت میں مزید پیش رفت جاری ہے۔منشا یہ ہے کہ ایک منصوبے کے تحت ہر مقامی جماعت اہل استطاعت سے زکوٰۃ جمع کرے اور پھر سروے کی بنیاد پر منصوبہ بند طریقہ سے مقامی مستحق افراد پر خرچ کرے۔ پچھلے کئی سالوں سے یہ کام کیا جا رہا ہے اور اس میں مزید بہتری آنے اور اس کا دائرہ وسیع ہونے کی توقع ہے۔ امت مسلمہ کی اصلاح و تربیت کا ایک اہم کام تعلیمی شعبہ ہے۔ جماعت کی کوشش رہتی ہے کہ اداروں کے قیام و انتظام کا کام مناسب افراد اور اداروں کو ترغیب دے کر انجام دیاجائے۔ الحمد للہ دہلی و ہریانہ میں مسلمانوں کے متعدد تعلیمی اداروں کے قیام، فروغ، ترقی اور انتظام میں جماعت کے کارکنوں نے اہم رول ادا کیا ہے۔ساتھ ہی اساتذہ کی ذہنی و فکری تربیت کے پروگرام بھی قابل ذکر ہیں۔ان پروگراموں کے ذریعہ جماعت چاہتی ہے کہ تعلیمی معیار بہتر ہو اور طلبہ اخلاقی حدود کے پابند ہو جائیں۔اس سال اساتذہ کا پروگرام ماہ جولائی میں ہوگا جس میں منتخب اساتذہ شریک ہوں گے۔ ان مستقل کاموں کے علاوہ امت مسلمہ کی اصلاح و تربیت کے ہنگامی کام بھی کیے جاتے ہیں۔ ان میں مراکز تعلیم بالغان، طلبائ و طالبات کے لیے دینی تعلیمی پروگرام، اصلاحی ہفتے، سیرت کے جلسے، کتابوں کی اشاعت، خطابات عام اور کتب و رسائل کی فراہمی شامل ہیں۔ عام طورپر مقامی جماعتوں نے لائبریریاں قائم کی ہیں جن سے افراد فائدہ اٹھاتے ہیں۔طلباء و طالبات کے دینی تعلیمی کیمپ فی الوقت جاری ہیں اور ایک بڑی تعداد مستفید ہو رہی ہے۔

جماعت اسلامی دہلی و ہریانہ غیر مسلموں کو دعوت دینے اور امت مسلمہ کی اصلاح و تربیت کے ساتھ اپنے وسائل کے مطابق خدمت خلق پر بھی مناسب توجہ دیتی ہے۔اس کام کا ایک ذریعہ سروس کیمپ ہے۔یہ کیمپ ہر سال دو یا دو سے زائد کی تعداد میں حلقے کے مختلف مقامات پر منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان کیمپوں کی مدت عموماً دو دن ہوتی ہے۔ مقامی آبادی کے مسائل پر مشورہ اور قابل عمل منصوبوں کی ترتیب اس کیمپ کا بنیادی جز ہے۔ اس کے علاوہ طبی کیمپ بھی لگائے جاتے ہیں۔میقات کے پہلے سال میں ۲سروس کیمپ لگاگئے جن سے تقریباً۵۰۰افراد نے استفادہ کیا۔ قدرتی حادثات اور ہنگامی آفات سے متاثر ہونے والے افراد کے درمیان ریلیف ورک کیا جاتا ہے۔ اس سال دہلی کے بعض جھگی جھونپڑی والے علاقوں میں آتش زدگی کے بعد وہاں ریلیف کا کام کیا گیا۔ قدرتی آفات کے مواقع پر ہونے والی تباہی میں لوگ کس طرح کام کریں، اس تعلق سے ان کو ٹرینڈ کیا جانا بہت ضروری ہے۔جماعت اس جانب بھی کوشاں ہے اور اس کے لیے مختلف قسم کے ٹریننگ کیمپ منعقد کرتی ہے۔رمضان المبارک میں دہلی و ہریانہ کے مختلف مقامات پر “رمضان کٹ”اور غریب و نادار طلبا کے لیے “اسکول بیگ”فراہم کرنے جیسے کاموں کی جانب بھی جماعت کوشاں ہے۔ بلا ثبوت مسلم نوجوانوںکی گرفتاریاں جو درحقیقت صرف قیاس پر کی جاتی ہیں ،اس وقت پورے ملک میں ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔جماعت اسلامی دہلی و ہریانہ APCR﴿assocition for protection of civil rights﴾نامی تنظیم کی مددسے اس جانب متوجہ ہے اور مظلوم افراد کی قانونی راہمنائی و تعاون میں سرگرم ہے۔جذبۂ خدمت خلق ہی کے پیش نظرجماعت نےMSS﴿medical service society of India﴾دہلی چیپٹر کو قائم کیا ہے۔جس کے تعاون سے صحت عامہ کے مسائل کو وہ حل کرنا چاہتی ہے۔اور اُن غریب و نادار لوگوں کی مدد کرنا چاہتی ہے جن کے لیے علاج و معالجہ ایک اہم مسئلہ ہے۔

رفتار کار اور مسائل کے بعد امکانات پر نظر ڈالنے سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ مسائل اور دشواریاں جو جماعت اسلامی ہند کے قیام کے وقت درپیش تھیں،گرچہ دوسرے رُخوں سے ہم آج بھی ان سے نبرد آزما ہیں، اس کے باوجود آج وہ کم نظر آتی ہیں۔سوشلزم اور کمیونزم کی ناکامیاں اور آج جمہوری نظام کی خامیاں کھل کر سامنے آگئی ہیں اور حال ہی میں عرب بہار﴿جو درحقیقت ۸۴سالہ جدوجہد کا نتیجہ ہے﴾نے امت مسلمہ کے حوصلوں کو عالمی سطح پر تقویت پہنچائی ہے۔لہٰذاموجودہ صورتِ حال کے پس منظر میں آج یہی وہ turning pointہے جہاں خصوصاً امت کے نوجوانوں اور ملت اسلامیہ کے تمام افراد کو صبر آزما جہدوجہد کا آغاز کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

اِنَّمَا ذٰلِکُمُ الشَّیطٰانُ یُخَوِّ فُ اَولیَائَ ہ، فَلاَ تَخَافُوْا ھُمْ وَخَافُونِ اِن کُنتُم مُومِنِینَ۔﴿آل عمران:۱۷۵﴾

“یہ خوف دلانے والا تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو اگر تم مومن ہو تو ان سے مٹ ڈرنا اور مجھ سے ڈرتے رہنا”۔

اور فرمایا:

وَلَاتَھِنُوا وَلاَ َتحزَنُوا وَاَنتُمُ الاَعلَونَ اِن کُنتُم مُّو مِنِینَ ۔﴿آل عمران:۱۳۹﴾

“دل شکستہ نہ ہو،غم نہ کرو،تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو”۔

دسمبر 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau