(اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کے بیانیوں کا جس طرح ہندوستان میں چلن بڑھا ہوا ہے اور وہ ہندوستانی سماج کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں، امریکی سماج بھی ان سے جوجھتا رہاہے۔ امریکی سماج کو ان بیانیوں کی شر انگیزی سے بچانے کا کام جان اسپوزیٹو نے کیا اور یہ ثابت کیا کہ ایک شخص خواہ وہ مسلمان نہ ہو، لیکن انصاف پسندی کے تقاضے کے تحت اسلام اور مسلمانوں کے تئیں ہونے والی نا انصافی اور زیادتی کے خلاف پوری زندگی تج کرسکتا ہے۔
ہندوستان کے موجود حالات میں جب کہ اسلاموفوبیائی بیانیوں کے بالمقابل طاقت ور نریٹیو سازی کی اشد ضرورت ہے، جان ایل اسپوزیٹیو جیسی شخصیات کی موجودگی کی شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اگر امریکہ میں اسماعیل راجی الفاروقی نے جان ایل ایسپوزیٹو کی شخصیت کو صحیح جہت دی، تو ہندوستان میں بھی انصاف پسند محققین تک با مقصد رسائی بہت سے محققین کو صحیح رخ دینے میں معاون ہوسکتی ہے۔ مدیر)
’’بہت سے لوگ امریکی سامراج پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ اس نے اکثر اوقات اپنی بے پناہ عسکری اور سیاسی طاقت کو یک طرفہ، غیر متناسب اور اندھا دھند طریقے سے استعمال کیا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کو پوری کی پوری اسلامی دنیا میں شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے بجائے اسلام اور عالمِ اسلام کے خلاف جنگ سمجھا جاتا ہے۔‘‘
کیا یہ بات مانوس سی محسوس ہوتی ہے؟ کیا اس بات کا واقعی موضوع سے گہرا تعلق ہے؟ کیا یہ بروقت کہی گئی تھی؟ ان تمام سوالوں کا جواب ہے ہاں۔ یہ الفاظ جان ایل ایسپوزیٹو کے ہیں جو انھوں نے 2004ء میں میری کتاب ’’قومی سرحدوں سے ماورا سیاسی اسلام: دین، آئیڈیالوجی اور اقتدار‘‘ کے مقدمے میں تحریر کیے تھے۔
جان ایسپوزیٹو نے صرف اسلام کا مطالعہ ہی نہیں کیا، بلکہ اسلام اور امریکی ذہن و سوچ کے درمیان تعلق پر مطالعہ وتحقیق میں پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزارا، یہاں تک کہ وہ ہمارے عہد کے نمایاں ترین مفکرین میں شمار ہونے لگے۔ ان کی نام وری کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ سیاسی میدان میں شہرت کے طلب گار تھے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ سیاست نے ان کی تحقیقات کو بار بار امریکہ کے سب سے متنازع عوامی مباحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا۔
15 جولائی 2026ء کو ان کی وفات کے ساتھ دنیا نے ایک ایسے ممتاز مفکر کوکھودیا جو اسلام، اور مسلم عیسائی تعلقات کے موضوع پر عالمی سطح کے اہم ترین ماہرین میں شمار ہوتے تھے۔ اس حقیقت کے باوجود اگر انھیں صرف ایک ممتاز مفکر کے طور پر یاد کیا جائے تو یہ ان کی زندگی بھر کی خدمات کی غیرمعمولی اہمیت کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا۔
ایسپوزیٹو کی علمی زندگی امریکہ کی جدید تاریخ کے کئی اہم سیاسی واقعات کے ساتھ ساتھ آگے بڑھی، جن میں ایرانی انقلاب، تہران میں امریکی یرغمالی بحران، خلیجی جنگیں، 11 ستمبر کے حملے، دہشت گردی کے خلاف جنگ، داعش کا عروج اور امریکی سیاست میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے اثرات جیسے واقعات شامل ہیں۔
ان میں سے ہر واقعہ امریکیوں کے لیے اسلام کو سمجھنے کا ایک نیا امتحان ثابت ہوا، اور ہمیشہ اور ہر بار جان ایسپوزیٹو کا اس بات پر اصرار رہا کہ کسی بھی فیصلے سے پہلے صحیح فہم ضروری ہے۔ بہت سے پہلوؤں سے ان کی پوری پیشہ ورانہ زندگی خود امریکہ کے سیاسی ارتقا کا ایک زندہ عکس بن گئی تھی۔
جان ایسپوزیٹو کی اکیڈمک زندگی کا آغاز اسلام کے مطالعے سے نہیں ہوا تھا۔ انھوں نے ابتدا میں مذاہب کے مؤرخ کی حیثیت سے تربیت حاصل کی، اور علمِ الٰہیات (تھیالوجی) کی ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ٹیمپل یونیورسٹی سے تاریخِ مذاہب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
زندگی بھرکیتھولک رہنے کے باوجود انھوں نے ابتدا میں مذہب کا مطالعہ مختلف عقائد اور مذہبی نظاموں کے تقابلی جائزے کے ذریعے کیا، نہ کہ مطالعہ ء اسلامیات کے کسی مخصوص شعبے تک خود کو محدود رکھا۔ تاہم، گذشتہ صدی کی ستر کی دہائی میں ان کے فکری سفر نے یکسر نیا رخ اختیار کیا۔ یہ تبدیلی مسلمان علما، بالخصوص اسماعیل راجی الفاروقی سے ملاقاتوں اور اس بڑھتے ہوئے احساس کے نتیجے میں آئی کہ اسلام دنیا کے ان مذاہب میں شامل ہو رہا ہے جنھیں سب سے کم سمجھا جاتا ہے، حالاں کہ عالمی معاملات میں اس کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب کہ بہت سی مغربی جامعات اب بھی اسلام کو مشرقی علوم کے ایک ثانوی موضوع کے طور پر دیکھتی تھیں، ایسپوزیٹو نے اس حقیقت کا ادراک کیا کہ دنیا میں تعداد کے اعتبار سے دوسرے بڑے مذہب کو سمجھنے کے لیے ایک مختلف علمی طریقہ درکار ہے۔ انھوں نے اسلام کو نوآبادیاتی تاریخ یا جیوپولیٹکل منافست کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے مسلمانوں کو جدید سیاسی، سماجی اور فکری زندگی کے فعال شریک کے طور پر سمجھنے کی کوشش کی۔
ان کی تحقیقات ہمیشہ اس حقیقت پر زور دیتی ہیں کہ اسلام نہ تو ماضی کا کوئی تاریخی ورثہ ہے اور نہ ہی ایک یکساں تہذیب، بلکہ یہ ایک زندہ اور داخلی طور پر متنوع روایت ہے، جس کے پیروکار بھی جدیدیت، عالمگیریت اور سیاسی تبدیلی جیسے عوامل اورقوتوں سے دنیا کی دوسری مذہبی برادریوں کی طرح متاثر ہوتے ہیں، اور یہی یقین ان کی پوری علمی اور پیشہ ورانہ زندگی کی بنیاد بن گیا۔ تاہم، صرف علمی تحقیات ہی ایسپوزیٹو کی فکری سوچ کی تشکیل کا سبب نہیں بنیں بلکہ خود امریکہ نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی تصانیف کی فہرست پر نظر ڈالیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ گذشتہ نصف صدی کی امریکی سیاست کی ایک متبادل تاریخ بیان کر رہی ہوں۔
جوں جوں سیاسی حالات کے باعث امریکہ اور عالمِ اسلام کے تعلقات بدلتے گئے، جان ایل ایسپوزیٹو بار بار عوامی مباحث میں سامنے آتے رہے اور اپنی علمی تحقیقات کو خوف اور غلط فہمی کا مؤثر تریاق بنا کر پیش کرتے رہے۔ 1979ء کے ایرانی انقلاب نے اسلام کے بارے میں امریکیوں کے تصورات کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ آیت اللہ خمینی کی تصاویر، تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ اور طویل عرصے تک جاری رہنے والے یرغمالی بحران نے امریکی عوام کے ذہن میں اسلام کو سیاسی انتہاپسندی سے جوڑ دیا، اور اچانک بہت سے امریکی ایک ارب سے زائد پیروکاروں والے دین کو بنیادی طور پر انقلاب اور مغرب مخالف جذبات کے تناظر میں دیکھنے لگے۔
جان ایسپوزیٹو نے ابتدا ہی سے اس سطحی اور سادہ تصور کی مخالفت کی۔ انھوں نے سیاسی اسلام کو محض غیر معقول مذہبی انتہا پسندی قرار دے کر مسترد کرنے کے بجائے اس بات پر زور دیا کہ دینی بے داری اور احیائی تحریکوں کو ان کے تاریخی، سیاسی اور سماجی پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ ان کے نزدیک، جس طرح لاطینی امریکہ میں حریت مرکوز الٰہیات (Liberation Theology) یا امریکہ میں عیسائیوں کی دائیں بازو کی تحریکیں اپنے اپنے معاشروں کے مخصوص حالات کا ردِعمل تھیں، اسی طرح اسلامی سیاسی تحریکیں بھی جدیدیت، نظامِ حکومت اور شناخت جیسے پیچیدہ عوامل کا نتیجہ تھیں، نہ کہ محض مذہبی تعصب کا اظہار۔ پیچیدگیوں کو سمجھنے اور ان کی وضاحت پر یہی اصرار ان کی علمی تحقیقات کی نمایاں خصوصیت بن گیا۔
1980ء کی پوری دہائی اور 1990 کے بعد کے چند برسوں میں ایسپوزیٹو نے ایسی متعدد کتابیں اور تحقیقی مضامین شائع کیے جن میں اسلامی احیائی تحریکوں کا حقیقت پسندانہ اور غیر جانب دارانہ جائزہ لیا گیا۔ انھوں نے جہاں کہیں بھی آمریت تھی اس کا اعتراف کیا، جہاں کہیں بھی مذہبی انتہا پسندی سامنے آئی اس پر تنقید کی اور سیاسی اسلام کا تجزیہ اسے صرف تشدد تک محدود کیے بغیر کیا۔
ان کی تحقیقات نے ایک طرف ان بیانیوں کو چیلنج کیا جو اسلامی معاشروں کو حد سے زیادہ مثالی بنا کر پیش کرتے تھے اور ساتھ ہی دوسری طرف ان متنازع نظریات اور بیانیوں کی بھی تردید کی جو اسلام کو فطری طور پر جمہوریت کے منافی قرار دیتے تھے۔ حقائق کی باریک بینی اور متوازن تجزیے سے وابستگی ہی وہ خصوصیات تھیں جن کا نقطۂ عروج ان کی اس کتاب کی صورت میں سامنے آیا، جسے آج ان کی دور اندیش اور مستقبل شناس تصانیف میں سے ایک اہم ترین کتاب قرار دیا جاتا ہے۔ 1992ء میں جان ایل ایسپوزیٹو نے ’’اسلامی خطرہ: فسانہ یا حقیقت؟‘‘ کے عنوان سے اپنی مشہور کتاب شائع کی۔ اس کتاب کا عنوان ہی اس بنیادی سوال کی عکاسی کرتا تھا جو سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد مغربی دنیا کو درپیش تھا۔
جب امریکہ کا سب سے بڑا نظریاتی حریف، یعنی کمیونزم، زوال کا شکار ہوا تو بہت سے مبصرین نے اسلام کو امریکہ کے لیے اگلے بڑے عالمی خطرے کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا۔ ایسپوزیٹو نے ایسے بیانیوں کا انتہائی شاندار اور وضاحت کے ساتھ جواب دیا۔ انھوں نے پر زور طریقے سے یہ بات کہی کہ اصل خطرہ اسلام میں نہیں، بلکہ ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو ایک ہی سیاسی اکائی سمجھنے میں ہے۔ اسلام کے ماننے والوں میں جمہوریت پسند بھی ہیں اور آمریت کے حامی بھی، اصلاح پسند بھی ہیں اور قدامت پسند بھی، سیکولر بھی ہیں اور احیائی فکر رکھنے والے بھی۔ اس لیے اسلام کو یوں پیش کرنا گویا اس کا ایک ہی سیاسی ایجنڈا ہے، علمی تحقیق نہیں بلکہ حقیقت کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
لیکن تاریخ کی ایک دوسری ہی رائے تھی۔ صرف ایک سال بعد سیموئل ہنٹنگٹن نے اپنا معروف مضمون ’’تہذیبوں کا تصادم‘‘ شائع کیا، جسے بعد میں اضافوں کےساتھ ان کی شہرۂ آفاق کتاب ’’تہذیبوں کا تصادم اور عالمی نظام کی تشکیلِ نو‘‘ کی صورت دی گئی۔
ہنٹنگٹن کا مؤقف تھا کہ مستقبل کےبیشتر تنازعات ابھرتی ہوئی تہذیبوں کے درمیان ہوں گے، اور اس عالمی تصادم میں اسلام ایک مرکزی کردار ادا کرے گا۔ دونوں کتابوں کے موقف میں اتنا سخت فرق تھا کہ کسی نظریہ میں اس سے زیادہ اختلاف ممکن ہی نہیں۔ جہاں ہنٹنگٹن نے مختلف تہذیبی بلاکوں کو اپنی تحقیق کا مرکز بنایا، وہاں ایسپوزیٹو نے اسلام کے اندر موجود تنوع پر توجہ مرکوز کی، اور جہاں ہنٹنگٹن نے تہذیبوں کے درمیان ناگزیر ثقافتی تصادم کی پیش گوئی کی، وہیں ایسپوزیٹو نے سیاسی، معاشی اور تاریخی عوامل کو ان تنازعات کی اصل بنیاد قرار دیا۔
اگرچہ ہنٹنگٹن کا نظریہ، خصوصاً ۱۱ستمبر کے حملوں کے بعد، پالیسی سازوں اور سیاسی مبصرین میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کر گیا، لیکن ایسپوزیٹو نے اگلی ربع صدی ان اسباب کی وضاحت میں گزار دی جو اس قسم کے وسیع تہذیبی نظریات و حقائق کو واضح کرنے کے بجائے زیادہ تر ان پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ آج بھی مغربی دنیا کے ذہن پر ہنٹنگٹن کا نظریہ، ایسپوزیٹو کی پیہم کاوشوں کے مقابلے میں، کہیں زیادہ گہرااثر رکھتا ہے۔
۱۱ستمبر کے حملوں نے نہ صرف امریکہ بلکہ جان ایسپوزیٹو کے عوامی کردار کو بھی یکسر بدل دیا۔ اچانک وہ سوالات، جو پہلے صرف مذہبی علوم کے ماہرین تک محدود تھے، قومی سلامتی کے اہم مسائل بن گئے۔ اسلام غیر معمولی شدت کے ساتھ روزمرہ سیاسی مباحث کا حصہ بن گیا جن میں اکثر خود مسلم معاشروں کو شک و شبہات کے ساتھ دیکھا جانے لگا۔
ان حالات کی وجہ سے بہت سے محققین نے احتیاط کا راستہ اختیار کیا، لیکن ایسپوزیٹو کو لگا کہ یہی حالات عملی طور پر میدان میں آنے کےمتقاضی ہیں۔ چناں چہ وہ بار بار ذرائع ابلاغ میں نمودار ہوئے، حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کو مشورے دیے، عام قارئین کے لیے آسان زبان میں کتابیں لکھیں، اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں ’’مرکز امیر ولید بن طلال برائے مسلم-عیسائی افہام و تفہیم ‘‘ قائم کیا۔
ان کا یقین تھا کہ علمی تحقیق صرف درس و تدریس تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ عوامی ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں، خصوصاً اس وقت جب غلط فہمیاں سرکاری پالیسیوں کی بنیاد بننے لگیں۔11 ستمبر کے بعد ان کی علمی کاوشوں نے مسلسل اس بڑھتے رجحان کو چیلنج کیا کہ بہت سے لوگ چند پرتشدد انتہا پسندوں کے اعمال کو دینی تعلیمات اور عقائد کے برابر قرار دینے لگے تھے۔ انھوں نے اس نظریے کو بھی مسترد کیا کہ دہشت گردی کو صرف مذہبی عقائد یا الٰہیات کی بنیاد پر سمجھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی مظالم، ناکام طرزِ حکم رانی، بیرونی مداخلت، سماجی محرومی اور نظریاتی استحصال، یہ سب ایسے عوامل ہیں جنھوں نے پرتشدد انتہا پسندی کو جنم دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایسپوزیٹو کے نزدیک ان معاملات میں مذہب کی اپنی اہمیت تھی، لیکن وہ کبھی بھی دوسرے سیاسی، سماجی اور تاریخی عوامل سے الگ نہیں تھا۔
اپنی ان آراء کی وجہ سے اکثر رائج سیاسی رجحانات سے ایسپوزیٹو کا اختلاف رہا۔ ایسے ادوار میں جب اسلاموفوبیا کا اظہار سیاسی طور پر فائدہ مند سمجھا جانے لگا تھا، ایسپوزیٹو نے ہمیشہ نظریات کے بجائے دلائل کا دفاع کیا، سادہ انداز میں حکم لگانے کے بجائے معاملات کی پیچیدگی کو سمجھنے کی دعوت دی، اور نعروں کے بجائے علمی تحقیق کی بات کی۔
اسی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمان، خصوصاً امریکی مسلمان، ان کا غیر معمولی احترام کرتے تھے۔ تاہم ان کا احترام صرف اس بنا پر نہیں تھا کہ انھوں نے اسلام کے بارے میں ہمدردانہ انداز میں لکھا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسپوزیٹو اندھی حمایت کرنے والے شخص نہیں تھے۔ انھوں نے آمرانہ حکومتوں پر کھل کر تنقید کی، مذہبی انتہا پسندی کی مذمت کی، اسلامی معاشروں کے اندر موجود اختلافات اور تقسیم کو تسلیم کیا اور ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی مذہب علمی تحقیق اور تنقیدی جائزے سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔
اس سے زیادہ تعجب خیز بات یہ تھی کہ مسلمانوں نے ان کے اندر ان باتوں کے بجائے جو بات دیکھی وہ یہ کہ انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ مکمل انسانوں جیسا برتاؤ کیا۔ انھوں نے مسلم معاشروں کو اجنبی یا غیر مانوس بنا کر پیش نہیں کیا، نہ ہی انھیں صرف سکیورٹی کے زاویے سے دیکھا۔ انھوں نے اس تصور کو بھی رد کر دیا کہ مسلمانوں کو عالمی سیاست میں ہمیشہ مشتبہ افراد کے طور پر دیکھا جائے یا مسلم اکثریتی معاشروں سے متعلق ہر سیاسی واقعے کی واحد اور مستقل توجیہ اسلام کو قرار دیا جائے۔
وہ کسی معاملے کی تشریح کرنے سے پہلے اس کو غور سے سنتے تھے اور مذہب اور اس کے سیاسی استعمال میں واضح فرق کرتے تھے۔ سب سے بڑھ کر، وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ مسلمانوں کا یہ حق ہے کہ ان کے لیے بھی اسی علمی دیانت اور فکری معیار کو پیمانہ بنایا جائے جو دنیا کے دیگر تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔
امریکی مسلمانوں کے لیے، جن کی زندگی 11 ستمبر کے حملوں کے بعد یکسر بدل گئی تھی، مسلسل نگرانی، شکوک و شبہات اور اپنی وفاداری ثابت کرنے کے مطالبوں کی زد میں تھی۔ ایسپوزیٹو کی تحقیقات صرف علمی امتیاز کی علامت نہیں تھیں بلکہ انھوں نے انھیں عزتِ نفس اور وقار کا احساس بھی عطا کیا تھا۔ جان ایل ایسپوزیٹو کی کتابیں بہت سے مسلم طلبہ کے لیے ایک اطمینان بخش تجربہ کی حیثیت رکھتی ہیں، کیوں کہ ان میں انھوں نے خود کو نہ تو ایسے مسائل کے طور پر دیکھا جنھیں حل کرنا ضروری ہو، اور نہ ہی ایسی دقیانوسی تصویروں کی صورت میں جن سے خوف کھایا جائے، بلکہ ان میں خود کو امریکی معاشرے کی پیچیدہ اورمسلسل ارتقا پذیر تکثیری سماج کی داستان کے فعال شریک کے طور پر پایا۔ ممکن ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی یہی خدمت ان کی کسی بھی ایک کتاب سے زیادہ دیرپا ثابت ہو۔
اگر گذشتہ پانچ دہائیوں پر نظر ڈالی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ جان ایسپوزیٹو کی پوری علمی زندگی دراصل امریکہ اور اسلام کے بدلتے ہوئے تعلقات کی آئینہ دار ہے۔ جب امریکہ کو ایرانی انقلاب کا خوف تھا، تو وہ ایران کی حقیقت کو واضح کرتے تھے۔ جب امریکہ سیاسی اسلام سے خوف زدہ تھا، تو وہ اسلامی تحریکوں کی درست تشریح کرتے تھے اور جب ۱۱ستمبر کے بعد امریکہ مسلمانوں سے خوف محسوس کرنے لگا، تو وہ مسلمانوں کی حقیقی شناخت اور ان کے مزاج کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے، اور جب اسلاموفوبیا امریکی سیاسی بیانیے کا حصہ بن گیا، تو انھوں نے اس تعصب کو بے نقاب کیا اور ساتھ ہی دیانت دارانہ اور معروضی علمی تحقیق کے اصولوں کا دفاع جاری رکھا۔اور جب بعض مسلمانوں کو ان کی شناخت یا ان کے کام کی وجہ سے اپنے ہی اداروں میں نظرانداز کیا گیا، تو وہ ان کے حق میں کھڑے ہوئے، ان کا دفاع کیا اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا۔ میں یہ بات اپنےذاتی تجربہ کی بنیاد پر کہہ رہی ہوں۔
جان ایسپوزیٹو کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جامعات محض علم کے ذخیرے نہیں ہیں، بلکہ اپنے بہترین کردار میں وہ ایسے باشعور شہری تیار کرتی ہیں جو بغیر تحقیق کے یقین اور تعصب کو قبول کرنے کے بجائے حقیقت کی تلاش کو ترجیح دیتے ہیں۔ موجودہ دور میں، جب کہ نظریاتی تقسیم اور فکری انتہاپسندی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جان ایسپوزیٹو نے ثابت کیا کہ علمی تحقیق خود بھی عوامی خدمت کی ایک مؤثر صورت بن سکتی ہے۔ شاید یہی ان کا سب سے عظیم ورثہ ہے۔
اس زمانے سے بہت پہلے، جب تنوع (Diversity)ایک مقبول اصطلاح بھی نہیں بنا تھا اور بین المذاہب مکالمہ ادارہ جاتی زبان کا حصہ بھی نہیں تھا، ایسپوزیٹو اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ دوسروں کی دینی روایات کو سمجھنے کے لیے تہذیبی برتری کے احساس کی نہیں بلکہ فکری تواضع کی ضرورت ہوتی ہے۔
جان ایسپوزیٹو نے یہ ثابت کیا کہ حقیقی علمی تحقیق اختلافات کو ختم نہیں کرتی، بلکہ انھیں زیادہ دیانت دار، زیادہ بصیرت افروز اور بالآخر زیادہ انسانی بنا دیتی ہے۔ اسی لیے ان کی وفات محض اسلام کے ایک ممتاز محقق کی جدائی نہیں، بلکہ ایک ایسے فکری ضمیر کا نقصان ہے جس کی تمام تر علمی کاوشیں امریکہ کو مسلسل یہ یاد دلاتی رہیں کہ خوف کبھی بھی علم کا اچھا متبادل نہیں ہو سکتا، اور یہ کہ کوئی بھی جمہوری معاشرہ اس وقت تک پھل پھول نہیں سکتا جب تک وہ سیاسی بیانیوں کو تاریخی حقائق پر پردہ ڈالنے کی اجازت دیتا رہےیا اپنی عوامی فضا کو محدود اور امتیازی سلوک کی عکاس بناتا رہے۔
جب ہم جان ایسپوزیٹو کو یاد کرتے ہیں تو دراصل ایک ایسے محقق کو یاد کرتے ہیں جس نے نظریاتی تعصب کے بجائے فہم و ادراک، نعروں کے بجائے حقیقت کی گرہ کشائی اور تقسیم و تفرقے کے بجائے مکالمے کو ترجیح دی۔ ایسے وقت میں جب یہ تمام اقدار روز بروز کم زور ہوتی دکھائی دیتی ہیں، ان کی زندگی ہمیں صرف ایک عظیم علمی ورثہ ہی نہیں بلکہ ایک بہترین شہری ورثہ بھی عطا کرتی ہے۔ بہت کم محقق ایسے ہوتے ہیں جو کبھی کسی عوامی عہدے کے خواہش مند ہوئے بغیر بھی عوام کے خدمت گزار بن جاتے ہیں، اور جان ایسپوزیٹو نے اپنی پوری زندگی میں یہی کردار ادا کیا۔






