نقد و تبصرہ

محمد رضی الاسلام ندوی

تحریک اسلامی اور عصری تقاضے

مصنف:           جماعت اسلامی ہند کے اجتماع ارکان میں ذمہ داروں کے خطاب

ناشر:     مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی

سنۂ اشاعت:     جولائی ۲۰۱۵ ء ، صفحات: ۲۱۲ قیمت : ۶۰ روپے

جماعت اسلامی ہند نے اپنی میقات ۱۱-۲۰۰۷ء میں طے کیا تھا کہ کل ہند سطح پر ارکان کا ایک اجتماع منعقد کیا جائے۔ یہ اجتماع ۴تا۷نومبر ۲۰۱۰ء مرکز جماعت نئی دہلی کے وسیع کیمپس میں منعقد ہوا، جس میں آٹھ ہزار کے قریب مرد و خواتین ارکان نے شرکت کی۔

چار روزہ اس اجتماع میں تذکیر بالقرآن، تذکیر بالحدیث، خطبۂ جمعہ، میقاتی رپورٹ، پینل ڈسکشن بہ موضوع ’تحریک اسلامی کے کاموں میں مطلوب تعاون-کیوں اور کیسے؟ ‘ کے علاوہ متعدد متوازی نشستیں ہوئیں، جن میں ’ہندستان میں اسلامک فائناننس-امکانات و مسائل، خواتین میں تحریکِ اسلامی کا فروغ-صورت حال اور تدابیر، ہندستان میں شہری حقوق کی  صورت حال اور ہمارالائحۂ عمل، پنچایت الیکشن-امکانات اور تقاضے، جیسے موضوعات کے مختلف پہلوئوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا اور اس کا خلاصہ ایک اجلاس میں تمام ارکان کے سامنے پیش کیا گیا۔ چوتھے دن ’ملک بچائو غریبی، غلامی اور بدامنی سے‘ کے مرکزی موضوع پر اجتماع عام ہوا، جس میں جماعت کے بعض قائدین اور دیگر ملی تنظیموں کے سربراہوں کے خصوصی خطابات ہوئے۔

اس اجتماع ارکان میں مذکورہ بالاپروگراموں کے علاوہ عصری اہمیت کے حامل بعض موضوعات پر بڑے فکر انگیز خطابات ہوئے۔ ان خطابات میں جماعت کے رہ نماؤں نے واضح کیا کہ موجودہ دور میں فرد کے تزکیہ، مسلم معاشرے کی اصلاح ، غیرمسلموں میں دعوتِ دین، خدمتِ خلق، کارپوریٹ میڈیا، عالم نسواں  اور دیگر میدانوں میں امتِ مسلمہ اور بالخصوص تحریکِ اسلامی کو کیا چیلنجز درپیش ہیں؟ اور ان سے نبرد آزما ہونے کے کیا تقاضے ہیں؟ اور ہماری کیا ترجیحات ہونی چاہئیں؟ ان خطابات سے موجودہ حالات میں اہم رہ نمائی فراہم ہوتی ہے اور کام کرنے کی راہیں کھلتی ہیں۔

ان خطابات کو زیر نظر کتاب کی صورت میں بھی شائع کیاگیاہے۔امید ہے کہ اس طرح ان سے استفادہ کا دائرہ وسیع ہوگااور جماعت کے ارکان ، کارکنان اور منتسبین کے علاوہ امت کی نشٔاۃ ثانیہ سے دل چسپی رکھنے والے دیگر افراد کے لیے بھی یہ کتاب  فکر انگیز ثابت ہو۔

(محمد رضی الاسلام ندوی)

مسلم تہذیب  ۔ زوال کیوں اور اصلاح کیوں کر؟

مصنف:           محمد عمر چھاپرہ

مترجم وتلخیص؛ ڈاکٹر ذکی کرمانی

ناشر:ایویروز اکیڈیمی، علی گڈھ  ،صفحات  :  ۲۸۴   قیمت:  ۳۵۰

ڈاکٹر عمر چھاپرہ(پ:۱۹۳۳) معروف ماہر اقتصادیات،مفکر اور مصنف ہیں۔ موصوف اس وقت اسلامک ڈولپمنٹ بنک کے ریسرچ اڈوائیزر ہیں۔انہیں اسلامی خدمات میں متعددایواڈس مل چکے ہیں جن میں سے ایک شاہ فیصل ایواڈ بھی ہے۔زیر تبصرہ کتابMuslim civilization: The causes of Decline and the need for Reform ان کی ایک اور نئی تصنیف ہے،جسے اردو کا جامہ ڈاکٹرمحمد ذکی کرمانی نے پہنایاہے۔

مسلم تہذیب پچھلی چار پانچ صدیوں سے ہر میدان میں زوال پزیر ہے ۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے عوامل تھے جو ماضی میں ترقی اور خوش حالی کا ذریعہ بنے اور عصر حاضر میں  ۵۷ ؍مسلم ممالک،   قدرتی ذرائع اور۱ء۲ بلین کی تعداد میں ہونے کے باوجود کیوں زوال سے دوچار  ہے؟ کیا اس زوال کے لیے اسلام ذمہ دار ہے؟ یا اس کے کچھ اور اسباب ہیں؟  زیر تبصرہ کتاب میں مصنف نے انتہائی گہرائی اور گیرائی کے ساتھ ان سوالات کے جواب دینے کی کام یاب کوشش کی ہے  ۔ کتاب کا پہلا  باب ’ابن خلدون کا نظریۂ عروج وزوال ‘کے عنوا ن سےہے۔ اس میں مصنف نے  ابن خلدون کی تھیوری کو نئے انداز میں پیش کر کے اس کی افادیت اجاگر کی ہے۔دوسرا باب’ مسلمانوں کے عروج و زوال میں کار فرما عوامل‘ کے عنوان کے تحت ہے، جس میں انہوں نے  مسلمانو ں کے عروج میں کار فرما عوامل کا تذ کرہ کیا ہے اور کہاہے کہ اسلام نے اہم ترین کام یہ کیا کہ ہر وہ  عامل جو ترقی میں معاون ہوسکتا تھا اسے ایک مثبت رخ پر متحرک کر دیا ۔ باب سوم میں امت کے معاشی زوال پر سیر حا صل گفتگو کی  ہے ــ۔’تعلیم ، سائنس  اور ٹکنالوجی  کا زوال‘ کے عنوان کے تحت ایک اور باب ہے، جس میں انحطاط کے تین  وجوہ بیان کیے گئے ہیں:(۱)حکومت کی طرف سے مالی امداد میں کمی۔(۲)پرائیویٹ سیکٹر کی صورت حال کو مکمل طور پر سنبھالنے میں ناکام رہنا ۔ (۳)عقلی تحریک کے میدان  اور سربراہوں کے ذریعے اپنے افکار  بہ زور قوت نافذکرنا۔ ایک اور باب’معاشرتی انحطاط ‘کے عنوان کے تحت ہے ، جس میں مصنف نے  یہ بیان کیا ہے کہ معاشرتی انحطاط کن کن وجوہ کی بنا پر رونما ہوتا ہے  ۔

ڈاکٹر صاحب نے اس بات کو  صراحت صراحت سے ہے پیش کیاہے کہ اچھے معاشرہ کا تصور کائنات(world view ) واضح ہونا بہت ضروری ہے۔ یہی تصور ہر سطح پر عدل و شفافیت  کو یقینی بناتا ہے۔ مصنف نے  مسلم سماج میں آ زادی فکر،آزادی اظہار رائے،عوامی احتساب ، قانون کی بالا دستی، دولت کی مساو یانہ تقسیم، رواداری، مشاورت، تعلیم وتحقیق اور ٹکنالوجی کو ترقی اور خوش حالی کے اسباب میں شمار کیا ہے، جن کے بغیر لوگوں میں اقدامی کیفیت کا پیدا ہونا ناممکن ہے اور نہ قوت و تحقیق کی نمو ہوسکتی ، جو علم و فن کو آگے بڑھانے اور قوموں کو ترقی کی شاہراہ  پرگام زن کرنے کے لیے ضروری ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ صحت مند ترقی اور اس کی بقا اچھی حکومت (Good Goverance)کے بغیر ممکن نہیں۔اسی طرح انھوں نے سیاسی مطلق العنانی،اظہار رائے کو دبانا ، تعلیم و تحقیق کے کام کو نظرانداز کرنا ، حکمرانو ں کا عیش پسند طرز عمل اور فوجی بغاوتوں کو زوال کے اسباب میں گنایا ہے۔  ان کے نزدیک  ایک ناکارہ حکومت  دوسرے تمام اچھے عوامل  کے اثرات کو تحلیل کر کے ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے ۔اس کے علاوہ انھوں نے اصلاح کی ضرورت(Need for reform) کے تحت عمدہ گفتگو کی ہے اور تفصیل  سے بتایاہے کہ کہاں کہاں اصلاح کی ضرورت ہے ۔ ان کے نزدیک جب تک انسانی زندگی کو متاثر کرنے والے تمام اداروں کی اصلاح نہ ہوجائے اس  وقت تک مکمل اصلاح نہ ہوگی ۔ موصوف نے سب سے پہلے اخلاقی اصلاح کرنے  کی طرف توجہ دلائی ہے اور لکھاہے کہ انسان کے کردار، ذہنی رویہ اور نقطہ نظرکو بدلنااور اس کی صلاحیتوں  میں مثبت تبدیلی لانا از حد ضروری ہے   عدل ،ترقی اور ازالۂ غربت کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ  عدل جو کہ اسلامی تعلیمات میں اہم مقام رکھتا ہے، مسلم ممالک میں واضح طور پر کم یاب ہے، جس کے نتیجے میں بہت سے اندرونی اور بیرونی مسائل پیدا ہوگیے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی حکومت اگر عدل کو یقینی بنانا چاہے تو سب سے پہلے غربت کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ مصنف کے نزدیک مسلمانوں کے زوال کی ایک وجہ تعلیم ،تحقیق  اور ٹکنالوجی کے میدان میں کم زوری اور گرتا ہوا معیار بھی ہے۔اس کم زوری کو دور کرنے کے لیے  اعلیٰ علمی اور تحقیقی ذوق کو پروان  چڑھانا ہوگا۔ اس کے بعد موصوف نے سیاسی اصلاح  پر گفتگو کرتے ہوئے کہاہےکہ اس کی سب سے اچھی شکل پر امن جدوجہد اور عدم تشدد ہے۔ انھوں نے تحریکات اسلامی کے کردار پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور کہا ہےکہ وہ اپنی سرگرمیوں میں معاشرتی و معاشی حالت سدھارنے  کے علاوہ ناخواندگی کے خاتمہ کو  بھی شامل کریں۔  موجودہ جمہوریت پرتجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہO.I.Cکے۵۷ رکن ممالک میں کل ۱۳ یعنی محض ۲۳ فیصد میں جمہوری نظام ہے،  باقی ۴۴ یعنی ۷۷ فیصد میں سے ۳۱ میں جمہوریت مصنوعی نوعیت کی ہے ، ۵ میں مکمل بادشاہت ہے اور ۳ میں ڈکٹیٹر شپ ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ جمہوریت کے نہ ہونے کی بنا پر متعدد خرابیاں در آئی ہیں اور اس کے عام ہونے سے متعدد فائدے حاصل ہوں گے، جن کو انہوں نے تفصییل سے بیان کیا ہے۔

زیر تبصرہ کتاب ۹ ؍ابواب پر مشتمل ہے، جن میں ابن خلدون کا نظریۂ عروج و زوال، مسلمانوں کے عروج میں کارفرما عوامل، انحطاط کے عوامل ،معاشی زوال ، تعلیم و سائنس اور ٹکنالوجی کا زوال،معاشرتی زوال اور اصلاح کی ضرورت قابل ذکر ہیں۔ اصل کتاب  میں پروفیسر خورشید احمد کا پیش لفظ تھا، لیکن متر جم نے پتہ نہیں کیوں اسے حذف کر کے اپنا مقدمہ شامل کیا ہے، لیکن وہ بھی اہمیت کا حامل ہے ۔ پروف ریڈنگ کی غلطیاں بھی اکثر دیکھنے کو ملتی ہیں امید ہے کہ آئندہ ایڈیشن میں تصحیح کر لی جائے گی۔ توقع ہے کہ یہ کتاب اہل علم اور طلبہ کے لیے بیش بہا تحفہ ثابت ہوگی۔

(مجتبیٰ فاروق)

علم دین اور علما

مصنف:           ابوالبرکات اصلاحی بونڈھیاری

ناشر: مرکزالامام احمد بن حنبل التعلیمی والخیری سدھارت نگر۔(یوپی)سنۂ اشاعت:     ۲۰۱۵ء

علم وفن کی اہمیت ہر زمانہ میں مسلّم رہی ہے۔اس کی افادیت سے کوئی انکارنہیں کر سکتا ، کیوںکہ علم ہی وہ نسخۂ کیمیا ہے جو انسان کو وجودو استحکام نصیب کرتا ہے،اسی سے اس کو معرفت ربانی حاصل ہوتی ہے،یہی ان عظیم تعلقات سے واقف کراتا ہے جو انسانوں اور مالکِ کائنات کے درمیان ہوتے ہیں۔انسان کی خوش بختی ہے کہ طلبِ علم کا جذبہ اس کے اندر فطری طور پہ ودیعت کیا گیا ہے،یہی وجہ ہے کہ احوال و معاملات کو جاننے ،ان کی باریکیوں اور پیش آنے والے واقعات کی وجوہ و اسباب کو سمجھنے کی انسانوں میں شدید خواہش  رہتی ہے۔ان خواہشات اور فطری جذبات کی بنیاد پر انسان طلب علم کی طرف آمادہ ہوتا ہے۔حصولِ علم جس  طرح ایک عظیم اور با برکت عمل ہے ،علم اور اہل علم کی تعظیم بھی اسی قدر اہمیت کی حامل ہے۔علم پر عمل کرنا اور اس کی نشرو اشاعت کی مسلسل کوشش کرنا حصولِ علم کے لازمی تقاضوں میں سے ہے۔

’علم دین اور علماء‘ کے نام سے یہ بڑی قابل قدرکتاب ہے۔مؤلف نے اس کتاب میں خوب جستجو اور تحقیق کے ساتھ متعدداہم عناوین پر گفتگو کی ہے۔اس کے تمام مشمولات مفید ہیں،بہ طور خاص ’چند تحقیقی، تعلیمی مسائل‘کے تحت قابل قدر علمی بحث کی گئی ہے۔اسی طرح علم و علماء کی اہمیت و فضیلت اور بے عمل علماء و خطباء کے انجام کے متعلق کافی د ل نشیں اور ناصحانہ معلومات فراہم کی گئی ہیں۔یہ کتاب ہر اعتبار سے مفید اور معلومات افزاہے،البتہ اس میں کتابوں کا حوالہ دینے کا جدید طریقہ اختیار نہیں کیاگیاہے۔ کہیں صرف کتاب کا نام درج ہے، وہاں نہ مصنف کا نام ہے اور نہ صفحہ نمبر، کہیں صرف مصنف کے نام پر اکتفاکر لیا گیا ہے۔ احادیث کی کتابوں کے نام ذکر کرنے کے ساتھ کتاب اورباب کا ذکر کرنا اصل مراجع تک رسائی کو آسان کر دیتا ہے۔اللہ اس کتاب کو  قبولیت نصیب کرے مؤلف کے لیے اسےذخیرۂ نجات بنا ئے ۔

(کمال اختر قاسمی)

آسان مسائلِ میراث

مصنف:           مؤلف : مصباح الدین

ناشر:                     الفلاح پبلی کیشن ، E-20 ، ابوالفضل انکلیو ، جامعہ نگر ، نئی دہلی ۔۲۵

سنۂ اشاعت:     جولائی ۲۰۱۴ ء ، صفحات: ۳۱۵ قیمت : ۱۲۰ روپے

اسلامی شریعت میں علم الفرائض یا احکامِ میراث کی بڑی اہمیت ہے۔ میراث کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کی مملوکہ چیزیں اس کے قریبی رشتے داروں میں تقسیم کی جائیں اور ان سے کسی کو محروم نہ کیا جائے ۔ حدیث  میں اس کو’ نصف‘ علم کہا گیا ہے اور اسے سیکھنے اور سکھانے کی تاکید کی گئی ہے۔اللہ کے رسولﷺکا ارشاد ہے۔ تَعَلَّمُوا الفَرَائِضَ وَعَلَّمُوھَا فاِ نَّھَا نِصْفُ العِلْمِ ( بہیقی)’’ علم فرائض سیکھو اور سکھاؤ کیوں کہ وہ نصف علم ہے۔‘‘ ایک دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ’’تَعَلَّمُوا الفَرَائِضَ  فَاِنَّہامِنْ دِیْنِکُمْ’’ فرائض سیکھو، کیوںکہ وہ تمہارے دین کا حصہ ہے۔ ‘‘اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید میں دیگر احکام و فرائض، مثلاً نماز، روزہ ، زکوۃ ، حج وغیرہ کے صرف اصولی احکام کا بیان ہے۔ان کی جزئیات اور تفصیلات کا علم احادیث سے حاصل ہوتا ہے، جب کہ وراثت سے متعلق تفصیلی احکام قرآن میں بیان کردیے گئے ہیں۔ یہ احکام سورئہ نساء کے پہلے اور دوسرے رکوع میں مذکورہیں۔ وہاں صاف صاف یہ بھی کہہ دیا گیا ہے کہ ’’ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گاجن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے اور جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کرے گااور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کرجائے گا اسے آگ میں ڈالے گا، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور اس کے لئے رسواکن سزا ہے۔ ‘‘ ( النساء : ۱۲۔۱۴) یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’ جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں درحقیقت وہ اپنے پیٹ آگ سے بھر تے ہیں اور وہ ضرور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے‘‘ ( النساء : ۱۰ )

افسوس ہوتا ہے کہ اتنی سخت تنبیہات کے باوجود مسلم معاشرہ میں  بہ حیثیت مجموعی بہت  کم لوگ شریعت کے مطابق میراث تقسیم کرتے ہیں۔ عموماً باپ کے انتقال کے بعد لڑکے زمین جائداد اپنے درمیان تقسیم کرلیتے ہیں اور بہنوں کو بالکلیہ محروم رکھتے ہیں۔ ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ لڑکیاں اپنے حصوں کا تقاضا کرنے کی ہمت نہیں کر پاتیں۔ تقسیم میراث کے سلسلے میں اللہ کا نظام عادلانہ اور منصفانہ ہے۔ اس کے ذریعہ دولت کی منصفانہ تقسیم ہوتی ہے اور بہ آسانی ایک نسل سے دوسری نسل تک دولت پہنچتی رہتی ہے۔ دراصل قانونِ وراثت غربت و افلاس اور غیر اسلامی رسم و رواج (جہیز وغیرہ) کو ختم کرنے کا مؤثر ذریعہ اور وسیلہ ہے۔ ضرورت ہے کہ وسیع تر مفاد کی خاطر ملت کے افراد وراثت کے سلسلے میں عملی اقدام کریں۔

زیر نظر کتاب میں اس موضوع پر مفید معلومات پیش کی گئی ہیں۔ اس کی بڑی خوبی یہ ہے کہ  اس میں میراث کے حل شدہ مسائل درج ہیں۔ اس میں مسئلہ دو دو چار کی طرح بتا دیا گیا ہے، جسے پڑھ کر یا سن کر ہر ایک واضح طور پر سمجھ سکتا ہے ۔ مثلاً اگر میت کے وارثوںمیں دو بیٹیاں  اورماں ہوں تو میراث کے پانچ حصے کرکے ماں کو ایک اور دونوں بیٹیوں کو دو، دو حصے دے دیجیے۔ اگر میت کے ورثوں میں بیٹا، بیٹی، ماں اور باپ ہوں تو میراث کے ۱۸ حصے کرکے ماں کو ۳ ، باپ کو ۳ ، بیٹی کو ۴ اور بیٹے کو ۸ حصے دے دیجیے ۔ اگر میت کے ورثوں میں بیٹا، بیٹی ، ماں ، باپ اور بیوی ہوں تو میراث کے ۲ ۷ حصے کرکے بیوی کو ۹، ماں کو ۱۲، باپ کو ۱۲ ، بیٹی کو ۱۳ اور بیٹے کو۲۶ حصے دے دیجیے ۔ اگر میت کے وارثوںمیں بیٹا ، بیٹی، ماں، باپ اور شوہر ہوں تو میراث کے ۳۶ حصے کرکے شوہر کو ۹ ، ماں کو ۶ ، باپ کو ۶ بیٹی کو ۵ اور بیٹے کو ۱۰ حصے دیجیے۔ پوری کتاب اسی طرح کی ہے۔ یہ کتاب ۳۶ ؍ابواب پر مشتمل ہے۔ فہرست ترتیبات کی تعداد ۷۴۲ ہے اور مسائل کی تعداد ۲۲۲۹ ہے۔ اخیر میں ضروری ہدایات اور ضمیمہ شامل ہے ۔ کتاب کی زبان و بیان عام فہم اور سلیس ہے اور ہر شخص کے سمجھنے اور ہر گھر میں رکھنے کے لائق ہے۔ کتاب و طباعت عمدہ ہے ۔

(محمد رضوان خان)

اگست 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau