ازالۂ غربت کی سمت سفر

ڈاکٹر وقار انور

ابھیجیت بنرجی اور ایستھر ڈفلو کی کتابPoor Economics کے مشمولات کامطالعہ کرنےسے قبل ان کے طریقہ تحقیق یعنی رینڈمائزڈ کنٹرول ٹرائل ((randomised controlled trial) جو اپنے مخفف آرسی ٹی (RCT)سے زیادہ مشہور ہے، کے بارے میں تھوڑی سی گفتگو کرلینا مناسب ہے۔ دراصل یہ رینڈم سیمپلنگ (random sampling) کے ذریعہ اعداد وشمار حاصل کرکے مطالعہ کرنے اور نتیجہ اخذ کرنے کا طریقہ ہے، جس کا استعمال ادویات کی تحقیق کے لیے صحت ومرض کی دنیا میں ہوتا رہا ہے۔ لیکن علم معاشیات میں اس طریقہ کار کا استعمال شاذ ونادر ہوتا ہے۔ مذکورہ کتاب کے مصنفین اس طریقہ پرغربت کے ازالہ کے موضوع پرایک لمبے عرصہ سے کام کررہے ہیں اور اپنے کام کےنتائج اپنی دو مقبول عام کتابوں اور متعدد مقالات کے ذریعہ پیش کرتے رہے ہیں۔ زیر نظر کتاب اس سلسلہ کی پہلی کڑی ہے۔

شماریات (statistics) کے علم میں رینڈم (random) سے مراد یہ ہے کہ جس چیز کا مطالعہ پیش نظر ہے اس کے اندر سے نمونہ (sample) لیتے وقت اس کی ہر شق کے لیے نمونہ میں شامل کیے جانے کا یکساں موقع ہو، یعنی نمونہ اس طرح بے قاعدہ اور بغیر کسی ترتیب کے ہوکہ انتخاب میں کوئی تعصب در نہ کرجائے اور نمونہ اپنے کل(data-universe) کا درست آئینہ دار ہو۔ مثال کے طور پرکسی دوا کی افادیت، اثرات اور ممکنہ خطرات (medicinal value and side-effects) کی تحقیق کرنے کے لیےرینڈم طریقہ سے دو گروپ تیار کیاجاتے ہیں، اور ایک عرصہ تک ایک گروپ کے افراد کو دوا دی جاتی ہے اور پھر دونوں گروپوں کے تحقیقی جائزہ سے اس دوا کے اثر کا تعین کیا جاتا ہے۔ معاشیات میں آر سی ٹی کے استعمال کی شہرت مذکورہ کتاب کے مصنفین کی مرہون منت ہے۔

ازالہ غربت کے موضوع پر اس کتاب میں جو اعداد وشمار پیش کیے گئے ہیں اور ان سے جو نتائج اخذ کیے گئے ہیں، ان کا سائنسی طور پر اعتبار آر سی ٹی کے سبب بڑھ گیا ہے۔ اگرچہ کسی بھی علمی کام کی طرح ان نتائج کو اس میدان میں حرف آخر نہیں کہا جا سکتا ہے، لیکن اس کے مشمولات ایک سنجیدہ کاوش کا نتیجہ ہیں، جنہیں مذکورہ موضوع پرکام کرنے والے لوگوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

اس موضوع پر کام کرنے کے لیے اور نتیجتاً اس کتاب کی تیاری میں ان مصنفین نے 2003 میں امریکہ میں غربت کےمطالعہ کی تجربہ گاہ(Poverty Action Lab) قائم کی، جہاں حاصل کردہ اعداد وشمار کا جائزہ شروع کیا۔ بعد میں اسے سعودی عرب کے عبداللطیف جمیل نام کے کاروباری ادارہ کی سرپرستی حاصل ہوگئی اور اس طرز پر دنیا کے بہت سارے ممالک میں Abdul Lateef Jameel Poverty Action Lab (J-PAL) کے نام سے کام کا سلسلہ چل پڑا- اس کام کے پھیلاؤ کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے، کہ صرف ایک موضوع ،غربت اور تعلیم کے تعلق، کو سمجھنے کے لیے اٹھارہ ممالک کے اعداد وشمار کا تجزیہ کیا گیا۔

کتاب میں کل دس ابواب ہیں: ایک ابتدائیہ، چار ابواب افراد کے مطالعہ پر مشتمل اور بقیہ پانچ ابواب اداروں کے مطالعہ کے لیے۔ اخیر میں ایک اختتامیہ بھی ہے، جسے باب کی حیثیت نہیں دی گئی ہے۔ اس طرح اصلاً نو موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے۔ افراد کے مطالعہ میں بھوک، مرض، تعلیم اور افراد خاندان کی گنتی [فیملی سائز] کے ساتھ غربت کے تعلق کا جائزہ لیا گیا ہے اور ادارہ جات کے حصہ میں کاروباری مشغولیات، قرض کی فراہمی، مائکرو کریڈٹ اور مائکروانٹرپرائز، بچت نیز حکومت وسیاست کے غربت کے ساتھ تعلق کو بیان کیا گیا ہے۔ گفتگو عام فہم اور سادہ زبان میں ہے۔ ابواب کے درمیان یا فوٹ نوٹ میں حوالہ جات یا تکنیکی باتیں بیان نہیں کی گئی ہیں، جس سے کتاب ایک عام قاری کے لیے بھی آسانی کے ساتھ مطالعہ کے لائق بن گئی ہے۔ البتہ کتاب کے آخری حصہ میں ہر باب کے حوالوں کے ساتھ فنی گفتگو کی گئی ہے، تاکہ معاشیات کے مخصوص طلبا اور محققین کی ضرورت پوری ہو سکے۔

کتاب درج بالاوجوہ سے آسان بھی ہے اور ایک دوسرے سبب سے دلچسپ بھی ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک کے افراد واداروں کے نام اور کیفیات کے واقعات بیان کیے گئے ہیں، اور ان کے سادہ تجزیہ سے عام فہم نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ اکثر مقامات پر قاری یہ سمجھ سکتا ہے کہ نتیجہ تک مصنفین نے نہیں پہنچایا ہے، بلکہ وہ از خود پہنچ گیا ہے۔ ان مصنفین نے شروع میں ہی اس کی وضاحت کردی ہے کہ وہ غریبوں کی معاشی حالت کا مطالعہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ انھوں نے غربت کی معیشت کو سمجھنے کی سعی کی ہے تاکہ غربت کے ازالہ کی راہیں تلاش کی جاسکیں۔ اس طرح انھوں نے ڈیویلپمنٹاکنامکس(development economics) کی طرح پؤراکنامکس (Poor Economics) کو معیشت کے علم کا ایک منفرد عنوان بلکہ سبجکٹ بنانے کی کوشش کی ہے۔

ابتدائیہ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر غریب افراد دنیا کے پچاس ملکوں میں آباد ہیں۔ خط افلاس ہندوستان کے سولہ روپیہ یومیہ آمدنی کو سمجھا جاتا ہے، جو غریب ملکوں کی عمومی زر مبادلہ کے لحاظ سے 99 امریکی سینٹ کے برابر ہے۔ اتنی کم آمدنی والے لوگوں کی رسائی معلومات کے عمومی ذرائع اخبار، ٹیلیویزن اور کتابوں تک نہیں ہوتی ہے، جس کے سبب انہیں ضروری معلومات بھِی حاصل نہیں ہوتی ہیں، جیسے انہیں پتہ نہیں ہوتا ہے کہ بچوں کو ٹیکہ لگوانے سے انہیں چیچک سے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ گویا کہ دنیا کے بہت سے ادارے جن سے مستفید ہونا دیگر افراد کے لیے معمولات زندگی میں شامل ہے، ان غربت زدہ افراد کے لیے وجود ہی نہیں رکھتے ہیں۔ اس طرح ضروری معلومات فراہم کرنا اور ان دشواریوں کو دور کرنا جو غریبوں کی ترقی میں حائل ہیں، ازالہ غربت کا پہلا قدم ہے۔

گفتگو اس سوال سے شروع کی گئی ہے کہ کیا غریب ممالک کے افراد غربت کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں جس سے ان کو ایک دفعہ نکال دیا جائے، تو ان کے مسائل حل ہوجائیں گے؟ اگر ایسا ہے تو مسئلہ نسبتاً آسان ہے۔ وسائل اور ضروریات کا تعین اور ان کی فراہمی اصل کام ہے۔ اسے اس کتاب میں سپلائی کا کام(supply approach) سے تعبیر کیا گیا ہے جس کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جو چیز لوگوں کے لیے مفید ہے اس کا صرف فراہم کر دینا کافی ہونا چاہیے۔ اس کتاب کے مصنف، غربت کےجال، کے اس مفروضہ سے مکمل اتفاق نہیں کرتے ہیں اور طلب (demand) پیدا کرنے اور اس کے لیے تربیت کرنے کی اہمیت بتاتے ہیں۔ ان کی رائے یہ ہے کہ طلب ہو تو ضروریات کی فراہمی کی راہیں افراد خود بھی تلاش کریں گے۔ بہ الفاظ دیگر درست معلومات اور تربیت سے طلب پیدا ہوجائے اور مفید چیز کی فراہمی کی راہیں نکالی جائیں تو غربت کا ازالہ آسان ہوگا۔ ضرورت ہو تو اشیائے ضروریات وخدمات مفت بھی فراہم کی جاسکتی ہیں یا کم قیمت پر یعنی سبسڈی کے ساتھ بھی۔

دوسری طرف کون سی چیز یا خدمت کب، کہاں، کتنی اور کیسے فراہم کی جائے اس کا کوئی سادہ فارمولہ نہیں ہے۔ ان چیزوں کا فیصلہ باضابطہ تحقیق کے ذریعہ کرنا ہو گا۔ صرف سپلائی کردینے کو کافی سمجھنے کی ایک خرابی یہ بھی ہے کہ عموماً غیرترقی پذیر ممالک میں سیاسی صورت حال اور حکومتی ڈھانچہ غیر معیاری ہوتا ہے، جس کے سبب دو خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں: ایک خرابی کرپشن کی اور دوسری حکومتی عملہ کا اپنے فرائض ٹھیک سے ادا نہ کرنا۔ اس طرح امداد مطلوب مقام پر پورے طور سے نہیں پہنچ پاتی ہے۔ مثلاًہندوستان میں ایک اندازہ کے مطابق گیہوں کا نصف اور چاول کا ایک تہائی “راستے” میں کہیں “گم” ہو جاتا ہے۔

کتاب میں افراد واداروں کے حوالے سے غربت کا مطالعہ جن چیزوں سے کیا گیا ہے، ان کا ایک سرسری جائزہ ہم درج ذیل سطور میں پیش کریں گے۔

غربت اور بھوک: جو افراد وخاندان خط افلاس سے نیچے ہیں اور انتہائی درجہ غربت (abject poverty) زدہ ہیں ان کی پہلی ضرورت کھانے کی ہے، اس لیے ان کی آمدنی کا بڑا حصہ اس مد میں استعمال ہوجاتا ہے اور جو کھانا اس طرح انہیں میسر آتا ہے اس سے جسم کو جتنے صحت بخش اجزاء بشکل کیلوری ملنے چاہئیں، نہیں مل پاتے ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ آمدنی میں اضافہ کے ساتھ ایسی غذاؤں کا استعمال بڑھ جائے جس میں صحت بخش اجزاء یعنی کیلوری زیادہ ہو۔ لیکن ناواقفیت اور دیگر اسباب سے ایسا نہیں ہوتا ہے۔ کل آمدنی کا کھانے پر جو حصہ صرف ہوتا ہے وہ کم ہوجاتا ہے اور کھانے میں بھی زیادہ مزے داراشیاء کا تناسب بڑھ جاتا ہے، جو صحت کے لیے کم مفید ہوتی ہیں اور ان میں کیلوری نسبتاً کم ہوتی ہے۔ ایک دوسرا معاملہ جو غور طلب ہے کہ کیا دنیا میں غذائی اجناس کی کمی ہے؟ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ کتاب میں امرتیہ سین کی تحقیق کا ذکر کیا گیا ہے کہ دنیا میں زیادہ تر قحط کا سبب اشیائے خوردنی کی کمی نہیں رہی ہے بلکہ ان کی تقسیم کا ناقص نظام رہا ہے۔

یہ سوال بھی غور طلب ہے کہ کیا جسم کی ضرورت سے کم کیلوری ملنے کے سبب اگلی نسل کی قامت کم ہو جاتی ہے، یعنی ایسے افراد پستہ قد ہو جاتے ہیں؟ اس رائے کے حق میں تحقیقات موجود ہیں۔ لیکن ایسا ہے تو چھوٹے قد والے ممالک کے کھلاڑیوں کے اولمپک میڈل جیتنے کا ان کی آبادی کے لحاظ سے تناسب ہندوستان سے زائد کیوں ہے! بہرحال ایسے میڈل جیت لینا صحت مند ہونے کا ثبوت تو ہے۔ کیا اس کا سبب کرکٹ کے کھیل میں ہندوستانیوں کا حد درجہ انہماک ہے جو انگریزوں کی غلامی کے باقیات میں شمار ہو سکتا ہے؟ اس طرح دیگر صحت بخش کھیلوں سے بے توجہی ہو جاتی ہے۔ دراصل مصنفین کتاب نے اس طرح کی عمومی رایوں پر سوال اٹھا دیا ہے۔ ان کے لحاظ سے [شاید] اس معاملہ کو اتنے سادہ طریقہ سے دیکھنا سادہ لوحی ہے۔ کلی تحقیقات اور تمام متعلقہ وجوہات جن میں انسانی نفسیات بھی ہیں کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً غربت اور وسائل کی تنگی کے باوجود ہندوستان میں شادیاں اور دیگر تقریبات میں جو خرچ کیا جاتا ہے اس کی کوئی عقلی تاویل ممکن نہیں ہے۔ ساؤتھ افریقہ میں کسی کے انتقال کے بعد اہل خاندان کو متعلق رسومات میں بے پناہ رقم خرچ کرنی ہوتی ہے۔ وہاں کی رسم کے مطابق چھوٹے بچوں کی آخری رسومات سادگی سے کی جاتی ہیں، جب کہ بوڑھے لوگوں کے لیے رسومات میں اتنی رقوم خرچ ہوجاتی ہیں جو ایک خاندان کی پوری زندگی کی بچت سے زائد ہوتی ہیں، اور اس کے لیے اثاثے کی فروخت اور قرض لینے کی نوبت تک آجاتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ غربت کا ازالہ متعلق طور طریقوں سے واقف ہوکر اور ان کی اصلاح کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔

غربت اور صحت: بیماری اورغربت کا رشتہ راست ہے، یعنی بیماری زیادہ ہوتی ہے تو آمدنی کم ہوجاتی ہے۔ اس لیے ازالہ غربت کے لیے بیماری کی روک تھام ضروری ہے۔ بہتر صحت کے حصول کے لیے تعلیم وتربیت اور مالی امداد کی مناسب اسکیم جو تفصیلی تحقیقات کے بعد تیار کی گئی ہو کی حاجت ہے۔ اکثرعلاج آسان اور کم خرچ بھی ہوتے ہیں، لیکن معلومات کے فقدان اور سماجی روایات اور نفسیاتی وجوہات سے ان کا استعمال نہیں ہو پاتا ہے۔ مصنفین کتاب نے اس کی مثال اس درخت سے دی ہے جس پر وافر مقدار میں زمین سے قریب ہی پھل لٹک رہے ہوں لیکن لوگوں کی نگاہ ان پر نہ پڑتی ہو اور وہ اونچی شاخوں پر لٹکنے والے پھلوں کے لیے کوشاں ہوں۔ اس کی عملی مثال دیتے ہوئے مغربی ہندوستان کے شہر اودے پور کی مثال ذکر کی ہے جہاں سرکاری اسپتال کی نرسوں سے خواتین اپنے بچوں کے ڈائریا کے علاج کے لیے اینٹی بایوٹک دواؤں اور انٹروینس انجکشن کے لیے جھگڑا کررہی تھیں، جب کہ نرسیں انہیں او آر اس[ORS] کے پیکٹ دے رہی تھیں۔ یہ سادہ سا سوال ہے کہ کس طرح لوگوں تک یہ بات ذہن نشیں کرائی جائے کہ او آر اس پاؤڈر یا نمک اور شکر کو کھولتے پانی میں گھول کر پلانے سے بچوں کو ڈائریا سے بچایا جا سکتا ہے۔ ایک دوسری مثال ملیریا سے متعلق دی ہے کہ دنیا کے بہت سے علاقوں میں ایسی مچھر دانیوں کے استعمال سے روک تھام ممکن ہے جو مچھروں کو دور رکھنے والی دواؤں کے گھول میں سکھا کر تیار کی جاتی ہیں۔ ایسی مچھر دانیاں مفت بھی دی جاسکتی ہے اور انہیں کم قیمت پر بھی مہیا کرایا جا سکتا ہے۔ کتاب میں یہ بات بار بار کہی گئی ہے کہ ایسی تمام اسکیموں کا خرچ امیر ملکوں اور خود ان ممالک کی حکومتوں کو برداشت کرنا چاہیے۔ لوگوں کو دھیرے دھیرے آمادہ کیا جا سکتا ہے کہ شروع میں جو چیز یا خدمت مفت یا کم لاگت پر ملی ہو اسے بعد میں خرید سکیں۔ اس موضوع پر کتاب میں ٹیکہ لگوانے، نلکے/ پائپ کے ذریعہ صاف پانی کا نظم کرنےاور توہمات کو رفع کرنے جن کے سبب یا تو وہ علاج نہیں کراتے ہیں یا نیم حکیم معالج اورفریب خوار باباؤں کے جال میں پھنس جاتے ہیں، کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ بات بھی تفصیل سے گفتگو کا موضوع بنی ہے کہ لوگ سرکاری اسپتالوں سے رجوع کیوں نہیں کرتے ہیں۔ ان اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی غیر ذمہ داری، مثلاً ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنا، اور دواؤں کا مہیا نہ ہونا وغیرہ جیسی صورت حال پیش کی ہے۔

غربت کے ازالہ کے لیے غریب افراد کو مستقبل کی بہتری کے پیش نظر حال کے وسائل اور بچت کو استعمال کرنے کے لیے آمادہ کرنا ضروری ہوتا ہے جس میں بچوں کی تعلیم اور حاملہ خواتین کو صحت بخش غذا فراہم کرنا شامل ہے۔ اس آمادگی کو پیدا کرنے کی سعی مطلوب ہے کیوں کہ غریب انسان اپنے [بد] حال میں اس درجہ الجھا ہوتا ہے کہ مستقبل کی فکر اسے نہیں ستاتی، وہ آج کے لیے جینے کا عادی ہو جاتا ہے۔ اس کی حال کی بنیادی ضرورتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی توجہ کو آگے منتقل کرنا ازالہ غربت کا ایک کام ہے۔

غربت اور تعلیم:غریب خاندان کے بچوں کا اسکول میں داخلہ لینا، اسکول پابندی سے آنا، پڑھائی کو جاری رکھنا اور ان کی پڑھائی کا مفید ہونا اور اس میں سرکاری اور پرایئویٹ اسکولوں کے ملنے والے نتائج میں فرق دور کرنا اور سرکاری اسکول کے منتخب اساتذہ اور طلبا کا غیر سرکاری اداروں کی جانب سے تربیت کا نظم کرنا، وغیرہ امور پر دنیا کے اٹھارہ غریب اور غیر ترقی پذیر ملکوں کے تجربات کی رودادیں بیان کی گئی ہیں اور ان سے نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ سب سے پہلا سوال تو اسکول کے موجود ہونے کا ہے اور اس کے بعد کا معاملہ والدین کا اس میں داخلہ کرانے کے لیے آمادہ ہونا اور خود بچوں کا بہ رضا ورغبت اسکول جانے کے لیے آمادہ ہونا ہے۔ اس سلسلہ میں اسکول سے حاصل ہونے والی تعلیم کا طلبا کے لیے مفید ہونے کا مسئلہ بھی ہے۔ بچوں کی صحت کا اثر بھی ان کے اسکول پابندی سے آنے پر پڑتا ہے اور جہاں اس علاقہ میں پائی جانے والی کسی بیماری کے علاج پر توجہ کی گئی وہاں کلاس میں طلبا کی تعداد ان کی پابندی سے اسکول جانے میں اضافہ رکارڈ کیا گیا۔ مصنفین کتاب کا کہنا ہے کہ معاشی ترقی کے لیے انسانی وسائل اور دماغی وسائل کی حاجت ہوتی ہے اور یہ چیزیں مقوی غذا، صحتمند جسم، اچھی تعلیم اور پرامن وبے خطر ماحول فراہم کرکے پوری کی جاسکتی ہیں، شرط یہ ہے کہ لوگوں کہ اندر اعتماد پیدا ہوجائے کہ وہ اپنی اگلی نسل کی ترقی کے لیے اپنے وقت اور وسائل کی سرمایہ کاری (invest) کریں۔ اس اعتماد کے نہ ہونے کا نتیجہ یہ ہے کہ اسکول ہونے کے باوجود والدین اپنے بچوں کو بھیجنا مفید نہیں سمجھتے ہیں۔

کتاب میں مذکور تمام امور پر گفتگو اس بک ریویو کے تنگ دامن میں نہیں سما سکتی ہے اس لیے یہاں صرف ایک معاملہ یعنی سرکاری اور پراِئیویٹ اسکولوں کے تجربات کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے۔ یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ جہاں سرکاری اسکول نہیں ہوتے ہیں، یا کم ہوتے ہیں یا ان کی تعلیم کا معیار پست ہوتا ہے، وہیں پرایئویٹ اسکول قائم کیے جاتے ہیں۔ ویسے بھی سرکاری اسکولوں کا معیار تعلیم نسبتاً کم ہوتا ہے۔ اس کا یہ مطلب بالکل نہیں ہے کہ پرایئویٹ اسکولوں کی کارکردگی اتنی اچھی ہوتی ہے جتنی ان سے امید کی جانی چاہیے۔ اس کا ثبوت اس وقت مل جاتا ہے جب تھوڑی سی توجہ یعنی عوامی مداخلت (public intervention) اساتذہ اور طلبا کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کی جاتی ہے۔ اس کا تجربہ “پراتھم” نامی غیر سرکاری ادارہ/ این جی او نے ممبئی، وڈوڈرہ اور جونپور میں کیا۔ سرکاری اسکول کے اساتذہ کومختصر مدت کے ورکشاپ سے گزارنا اور منتخب طلبا کو ان کے ذریعہ مخصوص سبجیکٹ کی کوچنگ کرانا، سرکاری وغیر سرکاری اسکولوں کے نتائج کے تفاوت کو ختم کرنے بلکہ سرکاری اسکولوں کی کارکردگی بہتر کرنے کا سبب بنا- دراصل اس تجربہ کی کامیابی کی شاہ کلید مرض کی درست تشخیص اور عوامی مداخلت ہے۔

غربت اور خاندان کا سائز: اس باب کی ابتداء میں سنجے گاندھی کے ذریعہ ہندوستان میں ایمرجنسی کے نفاذ سے قبل چلائی جانے والی جبری خاندانی منصوبہ بندی کے مقاصد، طریقہ کار اور نتائج کا جائزہ لیا گیا ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کے حق میں دلائل اور غربت اور بڑے خاندان کے راست تعلق کے ذکر کے ساتھ مصنفین کتاب نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بہرحال ہمارے زمانے کی آبادی مالتھس کے زمانے سے بہت زیادہ ہے، پھر بھی ہم ان کے زمانے سے زیادہ امیر ہیں۔ کتاب کے ہر باب میں دنیا کے مختلف علاقوں کے افراد اور اداروں کے واقعات کے حوالے سے نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ اس سے ایک طرف تو بیانیہ دلچسپ ہو گیا ہے۔ دوسری طرف مشمولات حقیقی زندگی سے قریب ہو گئے ہیں۔ خاندان کے سائز اور غربت کے تعلق کا جائزہ لیتے ہوئے انڈونیشیا کے سی سا نام کے گاؤں کے پاک سدارنو نام کے ایک فرد کا ذکر ہے جن کے نو بچے ہیں اور ان کے ذریعہ ایک بڑا خاندان ہے۔ جب ان سے معلوم کیا گیا کہ کیا اس بڑے خاندان سے وہ خوش ہیں تو انھوں نے ہامی بھری اور اس کا یہ سبب بتایا کہ ان نو میں سے کوئی تو اتنا لائق بنے گا کہ ان کے بڑھاپے کا سہارا بنے۔ ان کا ایک بچہ جوذہنی مریض تھا، لاپتہ ہوگیا۔ اس کا انہیں غم ہے لیکن یہ اطمینان بھی کہ بقیہ آٹھ بچے موجود ہیں۔ اس واقعہ کو بیان کرکے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ مستقبل کے خطرے کے سبب زیادہ بچوں کی خواہش، بلکہ ضرورت ہوتی ہے، اور اس کی دلیل کے طور پر یہ بات کہی گئی ہے کہ مغربی ممالک میں چونکہ انشورنس اور سوشل سیکوریٹی کا نظم ہوتا ہے اس لیے ایسی خواہش نہیں پنپتی ہے۔

کتاب میں تیسری، یعنی غریب، دنیا کے سیاسی ڈھانچہ کو گفتگو کا موضوع بنایا گیا اور مغربی ممالک میں پائی جانے والی اس رائے کا ذکر کیا گیا ہے کہ کرپشن اور عملہ کا مفوضہ ڈیوٹی انجام نہ دینے کے سبب ان ممالک میں مغرب جیسی سیاسی تبدیلی لائے بغیر ازالہ غربت کی سعی لاحاصل اور وسائل کا زیاں ہے۔ اس کتاب میں اس رائے سے اتفاق نہیں کیا گیا ہے اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ رجحانات کی تبدیلی اور بہتر نتائج کے لیے سیاسی تبدیلی شرط نہیں ہے۔ مثال کے طور پر گاؤں کے تمام افراد کسی میٹنگ میں شریک ہوکر سرکاری عملہ کواس میں شریک کرکے اسے جوابدہی کا احساس دلانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں، اور اس طرح کام کی راہیں موجود صورت حال میں بھی تلاش کی جا سکتی ہیں۔

مصنفین کتاب کے اخذ کردہ تمام نتائج سے اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ البتہ ان کی سنجیدہ کاوش اور ازالہ غربت کے لیے دنیا میں جو کوششیں ہورہی ہیں ان سے واقفیت کرانے اور آرسی ٹی کے سائنسی طریقہ تحقیق کو سماجی علوم کے میدان میں بخوبی استعمال کرنے کے اعتراف میں سال 2019 کا نوبل پرائز برائے معاشیات ان دونوں مصنفین کو اور ان کے ساتھ کام کرنے والے، مائکل کریمر کو مشترک طور پر دیا گیا۔ اس میدان میں ہر سال کسی نہ کسی کو نوبل پرائز دیا جاتا ہے۔ البتہ اس سال صرف یہ فرق ہوا ہے کہ یہ انعام ایک ایسے کام پر دیا گیا جس کے فہم کے لیے معاشیات کے گہرے علم کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انسانی خدمت کا جذبہ کافی ہے۔

فروری 2020

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau