عدل کے تقاضے اور انتظامی اصلاحات

سید سعادت اللہ حسینی

گذشتہ مضامین میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ اس ملک میں عدل و انصاف کے نفاذ میں ایک بڑی رکاوٹ یہاں کے مخصوص انتظامی ڈھانچے ہیں۔ اس حوالے سےمطلوب سیاسی اصلاحات پر ہم تفصیل سے کلام کرچکے ہیں۔ آج ملکی انتظام کے بعض دیگر اہم شعبے زیر بحث لائے جائیں گے۔

جدید ریاستوں کے نظام میں حکم رانوں یا حکومت کے سیاسی شعبوں کے ساتھ نفاذِ قانون سے تعلق رکھنے والے مختلف شعبوں کی بڑی کلیدی اہمیت ہوتی ہے۔ بیوروکریسی، عدلیہ، پولیس اور دیگر مختلف آزاد یا نیم آزاد سرکاری ادارے، اصلًا قوانین کو نافذ کرتے ہیں۔ اچھے سے اچھا قانون اور مفید سے مفید پالیسی بھی ان اداروں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے بے اثر ہوسکتی ہے۔ حکومتوں کے اچھے ارادے بھی وہ نافذ ہونے نہیں دیتے۔

ہمارے ملک کی تاریخ میں فرقہ پرست اور نسل پرست عناصر نے ہر دور میں اپنے مفادات کے لیے اور دیگر طبقات پر ظلم کے لیے ان شعبوں کا استحصال کیا ہے اور آج بھی کررہے ہیں۔[1] مسلم دور حکومت میں بھی خصوصًا بیوروکریسی پر مخصوص اعلیٰ ہندو ذاتوں کا غلبہ رہا۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں جو اصلاحات پسند مسلم و غیر مسلم حکم راں اٹھے ان کی کوششیں بھی اسی طاقت ور بیوروکریسی نے بالآخر ناکام بنادیں۔ اس صورت حال کا اندازہ ہماری تاریخ کے بعض نام ور ترین مصلحین و مجددین مثلًا شیخ احمد سرہندیؒ [2] اور شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ[3] کی تحریروں سے ہوتا ہے۔ یہ بزرگ بھی اس تسلط سے شدید تشویش اور پریشانی محسوس کرتے تھے۔ افسوس کہ مسلم حکم رانوں نے عام طور پر اس ملک کے مختلف طبقات کو اونچا اٹھانے اور انھیں انتظام میں اپنا شریک کار بنانے کی سنجیدہ کوششیں نہیں کیں، جس سے یہ مسئلہ حل ہوسکتا تھا۔

قریبی زمانے میں مہاراشٹر کے مراٹھا حکم راں چھترپتی شاہو مہاراج نے اس مسئلے کو گہرائی سے سمجھا تھا اور انھوں نے ایک بہت ہی بنیادی اصلاح کی کوشش کی اور 1920میں یہ حکم نامہ جاری کیا کہ ریاست کے تمام اعلیٰ عہدوں پر کم سے کم 50 فی صد عہدے دار، پس ماندہ طبقات اور اقلیتوں میں سے ہوں گے۔[4] اس فرمان کو جاری کرنے سے قبل اس مقصد کے لیے کم زور اور پس ماندہ طبقات کو تعلیم دلانے کے خصوصی اقدامات وہ شروع کرچکے تھے۔ ان اقدامات کی اہم یادگار جو اب بھی باقی ہے وہ مختلف پس ماندہ فرقوں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے ادارے اور رہائشی انتظامات ہیں۔ آج بھی مسلم بورڈنگ ہاؤس اور اس سے منسلک تعلیمی ادارے کولہاپور میں موجود ہیں۔

موجودہ زمانے میں دنیا بھر میں یہ بات تسلیم کی جارہی ہے کہ عدل و انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی اصلاحات کے ساتھ ٹھوس انتظامی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں۔ آزادی کے بعد ملک کے سیاسی نظام میں تو اہم اور بنیادی تبدیلیاں لائی گئیں لیکن انتظامی ڈھانچہ ابھی تک کم و بیش وہی ہے جو انگریزوں نے اپنی نو آبادیاتی ضروریات کے پیش نظر تشکیل دیا تھا۔ بدقسمتی سے ملک کی آزادی کو سات آٹھ دہے گزرجانے کے باوجود ٹھوس انتظامی اصلاحات پر بہت کم توجہ دی گئی۔ انتظامی اصلاحات کے کمیشن بنتے رہے لیکن انھوں نے جزوی تبدیلیوں پر اکتفا کیا اور نو آبادیاتی نظام کو جڑ سے بدلنے اور اس کی اصل خرابیوں کو دور کرنے پر بالکل توجہ نہیں دی۔ جے پرکاش نارائن اور رام منوہر لوہیا کی سماج وادی تحریکات کے سوا کسی نے بھی انتظامی اصلاحات کو اپنی سیاست کا موضوع بنانے کی بھی کوشش نہیں کی۔ دلت اور کمیونسٹ تحریکات نے بھی اس مسئلے پر بہت کم توجہ دی۔ آج یہ ناقص انتظامی ڈھانچہ فرقہ پرست طاقتوں کے عروج و استحکام میں بھی مددگار ہے اور ان کی جانب سے ظلم و ناانصافیاں اسی ڈھانچے کی وجہ سے آسان ہوگئی ہیں۔ اس لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ عدل و انصاف کی سیاست کا یہ اہم موضوع بنے۔

دستورِ ہند کا موقف

اختیارات کی تقسیم اور قدغنی توازن (checks and balances)کا نظام دستورِ ہند کی نہایت اہم خصوصیت ہے۔ دفعہ 50 میں دستور نے وضاحت سے یہ اصول درج کیا ہے کہ عدالتی نظام کو عاملہ سے جدا ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے اختیارات کی تقسیم کے اصول کو دستور کے بنیادی ڈھانچے (basic structure) کا حصہ قرار دیا ہے، جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔[5]

اسی طرح دستور ہند نے طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان توازن اور ایک دوسرے کی نگرانی کا تصور دیا ہے۔ دستور میں سپریم کورٹ ایک آزاد اور با اختیار ادارہ ہے۔ دستور اور اس کی روح کی حفاظت کے لیے وہ مقننہ اور عاملہ کے فیصلوں کو بھی ریویو کرسکتی ہے، انھیں رد بھی کرسکتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر پارلیمنٹ دستور میں ترمیم کرتی ہے تو اس ترمیم کو بھی ریویو کرسکتی ہے۔ اسی طرح دستور کے چودہویں حصے (دفعات 308 تا 323) میں بیوروکریسی کی تفصیل بتائی گئی ہے اور متعدد قوانین کے ذریعے سول سروس کے فرائض، اس کی اقدار وغیرہ کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔ ان سب کا حاصل یہی ہے کہ سول سروس کا کام حکومت کی پالیسیوں کا نفاذ ہے۔ وہ سیاسی فیصلوں کی پابند ہے، لیکن اس سے پہلے دستور، قانون اور انصاف کے معروف تقاضوں کی پابند ہے۔ ملک کے انتظام میں پیشہ ورانہ مہارتوں کے استعمال اور قانون کے تقاضوں کی نگہبانی اس کا اہم فریضہ ہے۔ وہ محض سیاسی آقاؤں کی بے زبان غلام نہیں ہے۔ ان کے ناجائز اور غیر قانونی کاموں میں مددگار بننا اس کے لیے درست نہیں ہے بلکہ ان کے مقابلے میں بھی، آئین کے اور عدل و انصاف کے تقاضوں کی تکمیل اس کی ذمے داری ہے۔[6]

دستور ہند میں اور بھی کئی آزاد اداروں کا تصور موجود ہے۔ ان میں کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (دفعہ 148)، یونین پبلک سروس کمیشن (دفعات 315تا 323)، الیکشن کمیشن (دفعہ 324) وغیرہ شامل ہیں۔ ان سب کے تقررات حکومت کرتی ہے لیکن ان سے توقع یہی کی جاتی ہے کہ وہ سیاسی مداخلتوں سے پاک رہ کر آزادانہ طور پر اپنے فرائض انجام دیں۔

یہ سمجھا جاتا ہے کہ اختیارات کی مکمل تقسیم (separation of powers) صدارتی جمہوری نظام ہی میں ممکن ہے، پارلیمانی جمہوری نظام میں ممکن نہیں۔ دستور ساز اسمبلی میں پروفیسر کے ٹی شاہ نے یہ تجویز رکھی تھی کہ دستور میں ایک مستقل دفعہ کا اضافہ کرکے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ عدلیہ، مقننہ اور عاملہ میں اختیارات بالکل علیحدہ علیحدہ ہوں۔ تفصیلی بحث کے بعد ڈاکٹر امبیڈکر نے یہی بات کہی کہ پارلیمانی جمہوریت میں یہ ممکن نہیں ہے اور یہ تجویز نامنظور ہوگئی۔[7]لیکن اب دنیا میں پارلیمانی جمہوری نظاموں نے بھی ایسے طریقے اختیار کیے ہیں جن سے زیادہ سے زیادہ اختیارات کی علیحدگی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر سوئزرلینڈ، بیلجیم، جرمنی، ہنگری جیسے ملکوں نے بہت سے تجربات کیے ہیں۔ ان تجربات سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

اسلام کا موقف

اختیارات کی تقسیم (separation of powers) کا اصول اسلامی شریعت کے مقاصد سے گہری مطابقت رکھتا ہے، بلکہ خلفائے راشدین اور ان کے بعد کی اسلامی روایات بتاتی ہیں کہ اس اصول کو بڑی اہمیت کے ساتھ عملًا بھی اختیار کیا گیا۔ مولانا مودودیؒ کے نزدیک اسلامی اصول یہی ہے کہ عدلیہ(قضا) عاملہ اور مقننہ (اہل الحل والعقد) الگ الگ ہوں۔ اسلام کے اولین ادوار میں امیریا خلیفہ، ان سب کا سربراہ ہوتا تھا لیکن مولانا مودودیؒ یہ بھی کہتے ہیں کہ آج قضا کو امیر سے الگ اور بالکل آزاد بھی رکھا جاسکتا ہے۔[8] اکثر اسلامی فقہا کا اس پر اب اتفاق ہے کہ قضا کو آزاد ہونا چاہیے۔

نبی کریم ﷺ کو اللہ کے رسول ہونے کی حیثیت سے ایک خاص اور استثنائی پوزیشن تھی اور آپ قضا، مقننہ عاملہ سب کے سربراہ تھےلیکن حضرت عمرؓ کے زمانے میں قضا کا محکمہ بالکل علیحدہ ہوگیا تھا اور عبد اللہ بن مسعودؓ، زید بن ثابتؓ، کعب بن سورؓ، عباد بن صامتؓ وغیرہم کو مختلف علاقوں میں باقاعدہ قاضی مقرر کیا گیا تھا۔[9]حکومت کے اہل کار تو دور کی بات ہے، خود خلیفۂ وقت بھی ان قاضیوں کے آزادانہ فیصلوں سے بالاتر نہیں تھا۔ اسلامی تاریخ کا مشہور واقعہ ہے کہ چوتھے خلیفہ راشد اور رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی، حضرت علیؓ، اپنے زمانہ خلافت میں، ایک یہودی کے خلاف زرہ کا مقدمہ لے کر قاضی شریحؒ کی عدالت میں پہنچے اور قاضی نے ان کے پیش کردہ گواہوں کی گواہیوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور ان کا دعوی خارج کردیا۔[10] اسلامی تاریخ کے متعدد واقعات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حکم رانوں کے دیوانی یا فوجداری استثنا (civil or political immunity) کا کوئی تصور اسلام میں نہیں ہے۔

حضرت عمرؓ نے قضا و عدالت کے تفصیلی احکام بھی مرتب کیے۔ وہ خط جو آپ نےحضرت ابوموسی اشعریؓ کے نام تحریر فرمایا تھا، اس سے ان احکام کی تفصیل معلوم ہوتی ہے۔[11] ان احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ عدالت بالکل آزاد رہے، وہ بالاتر رہے اور نفاذ قانون میں کسی استثنا سے کام نہ لے، عدالت اور قاضی پر عوام کا بھرپور اعتماد رہے، اور فیصلے انصاف کے ساتھ لیکن تیزی و سرعت کے ساتھ ہوں، یہ سارے مقاصد ہمیشہ پیش نظر رہے ہیں۔ بعد کے ادوار میں اسلامی فقہ میں تفصیل سے یہ احکام مدون ہوئے۔[12]

اسلام کی انتظامی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی روایات میں عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے ساتھ ایک علیحدہ آزاد ادارہ ہمیشہ احتساب یا حسبہ کا ادارہ رہا ہے۔ دور جدید میں اسی ادارے کی ملتی جلتی شکل امبودسمان (ombudsman) کی صورت میں دنیا کے مختلف ممالک میں موجود ہے۔ یہ ایک آزاد اور بااختیار ادارہ ہوتا ہے جو حکومت کے مختلف عناصر اور بعض ممالک میں خانگی اداروں اور عناصر پر بھی نگاہ رکھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ اپنی ذمے داریاں مناسب طریقے سے ادا کر رہے ہیں یا نہیں اور کسی کی حق تلفی تو نہیں کررہے ہیں۔

عام طور پر اس ادارے کو اٹھارہویں صدی کے اسپین کی دین سمجھا جاتا ہے لیکن آسٹریا کے سابق امبودسمان اور اس موضوع کے ایک معتبر عالمی ماہر ماہر وکٹر پیکل (Victor Pickl) نے تفصیلی دلائل سےواضح کیا ہے کہ اصلًا یہ ادارہ اسلامی روایات ہی کی دین ہے۔[13] اور وہیں سے اسپین میں آیا۔ اسلامی تاریخ میں احتساب یا حسبہ کو ایک آزاد ادارے کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اس کی ابتدائی شکلیں تو رسول اللہ ﷺ کے دور میں اور دور فاروقی میں بھی ملتی ہیں لیکن باقاعدہ ایک شعبے کے طور پر حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے قائم فرمایا اور اسے دیوان المظالم کا نام دیا تاکہ اموی عاملوں کے مظالم کی روک تھام ہوسکے۔ محتسب کا عہدہ بعد میں مختلف اسلامی حکومتوں میں قائم رہا۔ صلیبی عیسائیوں نے بھی بعد میں اسے اپنے یہاں رائج کیا اور محتسب کی اصطلاح میٹاسیپ (mathessep) کی بدلی ہوئی شکل میں ان کے یہاں رائج رہی جس نے بعد میں امبودسمان کی شکل اختیار کی۔[14]

حسبہ کے ادارے کے بارے میں اسلام کے کلاسیکی لٹریچر میں بہت سی تفصیلات موجود ہیں۔ امام ابن تیمیہؒ کی اس موضوع پر ایک مستقل کتاب (الحسبة فی الاسلام) [15] موجود ہے۔ محمد بن الاخوة كی کتاب معالم القربة فی طلب الحسبة [16] عبد الرحمن الشیزری کی نہایة الرتبة فی طلب الحسبة[17] وغیرہ کتابیں صدیوں سے اسلامی احکام کا اہم مرجع رہی ہیں۔ ماوردی کی کتاب الأحکام السلطانیة[18] میں بھی حسبہ پر ایک مفصل باب موجود ہے۔ ان سب کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلامی تصور ریاست میں عدلیہ، مقننہ اور عاملہ کے ساتھ ہمیشہ احتساب کا ایک مستقل ادارہ موجود ہے جو آزادانہ طور پر شریعت کی روشنی میں اداروں اور افراد کی نگرانی کرتا ہے۔ ماوردی کی بیان کردہ تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ حسبہ کے ادارے کے دائرے سے کوئی مستثنی نہیں ہوتا تھا۔ خلیفہ یا امیر کا بلکہ قاضی کا بھی وہ احتساب کرسکتا تھا۔ ماوردی نے بغداد کے محتسب اعلیٰ ابراہیم بن بطحا کا واقعہ نقل کیا ہے کہ انھوں نے قاضی القضاة ابو عمر بن حماد کی اس بات پر سخت گرفت کی تھی کہ ان کی عدالت میں لوگوں کو طویل انتظار کرنا پڑرہا تھا۔[19] گویا قاضی قضا کے معاملے میں تو آزاد ہے لیکن وہ اپنی ذمے داریاں، بروقت اور قانون و اصول کے مطابق ادا کر رہا ہے یا نہیں، اس پر نگاہ رکھنے اور اس کی بنیاد پر اس کی گرفت کرنے کا اختیار محتسب کو حاصل تھا۔

آج دنیا کے تقریبًا  130 ملکوں میں امبودسمان کے ادارے قائم ہیں۔ کئی ممالک میں ان کو نہایت بااختیار دستوری حیثیت بھی حاصل ہے۔ آسٹریا، ناروے، فن لینڈ وغیرہ ملکوں میں یہ ادارہ غیر معمولی اختیارات کا حامل ہے۔ ہمارے ملک کے دستور میں امبودسمان کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ البتہ قوانین کے ذریعے بعض ادارے مثلًا سینٹرل ویجیلنس کمیشن (Central Vigilance Commission)، نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (National Human Rights Commission)، نیشل ویمن کمیشن (National Women Commission)، مائناریٹیز کمیشن (National Commission of Minorities) وغیرہ ادارے قائم کیے گئے ہیں۔ لیکن یہ ادارے نہ صرف یہ کہ دستوری حیثیت سے محروم ہیں بلکہ چوں کہ ان سے متعلق تمام تقررات اور دیگر اہم معاملات حکومتوں ہی کے ذریعے فیصل ہوتے ہیں، اس لیے یہ ہرگز آزاد نہیں ہیں۔ ان میں سے اکثر اداروں میں برسر اقتدار جماعتیں اپنے وفادار کارکنوں کو ہی نام زد کرتی ہیں۔ پھر بعض ادارے قانونی لحاظ سے ہی نہایت کم زور اور قوت نافذہ سے محروم ہیں۔ چند سال پہلے اناہزارے کی نہایت ہنگامہ خیز مہم کے بعد لوک پال کا ادارہ قائم کیا گیا، جس کا تعلق صرف کرپشن کی روک تھام سے تھا، لیکن یہ ادارہ کس قدر کم زور اور بے اثر ہے، اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ قیام کے بعد تقریبًا پانچ چھ برسوں تک مرکزی حکومت نے لوک پال کے تقرر کی ہی زحمت نہیں کی۔ اور پہلا لوکپال 2019میں مقرر ہوا۔

موجودہ صورت حال اور اہم مسائل

عدلیہ، پولیس، بیوروکریسی اور دیگر سرکاری اداروں کے موجودہ ڈھانچوں کے ساتھ کئی ایسی خامیاںوابستہ ہیں جو انھیں عدل و انصاف کی رسائی کا ذریعہ اور عوامی خدمت کی ایجنسی بننے نہیں دیتیں۔ پہلی خامی تو عدم کارکردگی اور سست رفتاری ہے۔ سرکاری افسروں اور ملازمین کی سست رفتاری اور عدم کارکردگی ہمارے ملک میں استعارہ بن چکی ہے۔ دوسری خامی کرپشن ہے۔ تیسری بڑی مہلک خامی سیاسی آقاؤں کی حد سے زیادہ تابع داری اور ان کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کا مزاج ہے۔ بیوروکریسی اور پولیس ہی نہیں بلکہ عدالتیں بھی سیاسی مداخلتوں سے پاک نہیں ہیں۔ چوتھی خامی ذات پات اور فرقوں کی وہ عصبیتیں ہیں جو پورے معاشرے میں پائی جاتی ہیں اور جن سے یہ نظام بری طرح آلودہ ہے اور ان کےاثرات سےان اداروں کو بچانے کا کوئی ٹھوس ادارہ جاتی نظام موجود نہیں ہے۔

وزارت انصاف کے ادارے، نیشنل جیوڈیشیل ڈاٹا گرڈ (National Judicial Data Grid)کے مطابق ہمارے ملک کی عدالتوں میں ساڑھے چار کروڑ سے زیادہ مقدمات فیصلہ طلب ہیں۔ ایک لاکھ سے زیادہ مقدمے وہ ہیں جو تیس سال سے زیادہ عرصے سے فیصلہ طلب ہیں۔[20] سپریم کورٹ میں ستّر ہزارمقدمےباقی ہیں۔ بعض ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ اگر ملک میں آئندہ کوئی نیا مقدمہ درج نہ ہو تو موجودہ مقدمات کو فیصل کرنے میں 360 سال کا عرصہ درکار ہوگا۔[21] جب کہ صورت حال یہ ہے کہ جس دن یہ مضمون لکھا جارہا ہے (17جنوری)، صرف اس ایک دن ساڑھے گیارہ لاکھ نئے کیس رجسٹر ہوئے ہیں۔[22] اس کے باوجود صورت حال یہ ہے کہ عدالتوں میں سب سے زیادہ چھٹیاں ہوتی ہیں۔ سپریم کورٹ سال میں 188 دن جب کہ اکثر ہائی کورٹ سال میں دو سو کے لگ بھگ دن کام کرتی ہیں۔ یعنی سال کے نصف حصے سے کچھ کم تعطیلات میں گزر جاتا ہے۔[23] کہا جاتا ہے کہ نو آبادیاتی دور میں جب کہ بڑی عدالتوں میں عام طور پر انگریز جج ہوتے تھے، وہ ہندوستان کی گرمی سے بچنے لیے گرمیوں میں انگلستان لوٹ جاتے تھے یا ہِل اسٹیشنوں پر بسیرا کرتے تھے۔ ان کی سہولت کے لیے بنائے گئے اس فرسودہ طریقے کا بوجھ ہم آزادی کے پچہتر سال بعد آج بھی ڈھورہے ہیں۔ مقدمہ شروع ہوتا ہے تو وکلا اپنی سہولت سے بار بار التوا (adjournment) طلب کرتے ہیں، جو آسانی سے بلکہ خوشی سے دے دیا جاتا ہے۔ تاریخ پر تاریخ اور پیشی پر پیشی، ہندوستانی عدالتی کارروائی کی بدنام زمانہ خصوصیت ہے۔ یہ ایک معروف بات ہے کہ جرائم کی روک تھام میں سزا کی شدت سے زیادہ سزا کا یقینی ہونا اور جلد ہونا زیادہ اہم رول ادا کرتا ہے۔[24] ہمارے ملک میں متعدد جرائم کے لیے نہایت سخت سزائیں تو تجویز کردی جاتی ہیں لیکن ان سزاؤں کو یقینی بنانے کے لیے جو تیزرفتار عدالتی عمل درکار ہے، اس کا فقدان ہے۔ اس سے جرائم اور خاص طور پر مظالم کی روک تھام مشکل ہوجاتی ہے۔

اس صورت حال کا ایک نہایت درد ناک نتیجہ یہ ہے کہ ملک کے قید خانوں میں موجود قیدیوں کی تین چوتھائی تعداد اُن زیر سماعت ملزمین (under-trials) کی ہے جن پر ابھی کوئی جرم ثابت نہیں ہوا ہے۔ دو ہفتے قبل ہی (24 دسمبر 2021) وزارت داخلہ نے قید خانوں کی صورت حال پر رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق جیلوں میں قید چار لاکھ اٹھاسی ہزار قیدیوں میں سے محض ایک لاکھ تیرہ ہزار قیدی (23 فی صد) وہ ہیں جن پر جرم ثابت ہوا ہے اور وہ سزا کاٹ رہے ہیں۔ باقی قیدیوں میں تین لاکھ بہتر ہزار قیدی (76فی صد) زیر سماعت ہیں اور ساڑھے تین ہزار قیدی زیر حراست (detenues) ہیں۔[25] دنیا میں عام طور پر زیر سماعت قیدیوں کا تناسب جملہ قیدیوں میں 10 تا 20 فی صد ہوتا ہے۔ باقی 80 تا 90 فی صد قیدی وہ ہوتے ہیں جو جرم ثابت ہونے کے بعد بطورِ سزا جیل میں رہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں صورت حال بالکل معکوس ہے۔ اس معاملے میں ہمارا تناسب لیبیا، سان مرانو، ہیتی، یمن، گنی بساو وغیرہ جیسے پس ماندہ، جنگ زدہ یا مطلق العنان حکم رانوں کے زیر تسلط ملکوں کے برابر ہے۔[26] ان میں 30 فی صد سےزیادہ یعنی سوا لاکھ کے لگ بھگ قیدی ایک سال سے زیادہ عرصے سے بے قصور جیلوں میں بند ہیں۔[27] اکثر جیلوں میں زیر سماعت قیدیوں کو سزا یافتہ قیدیوں سے بھی کم سہولتیں حاصل رہتی ہیں اور وہ نہایت غیر انسانی حالت میں قید رکھے جاتے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں بے قصور (جن کا قصور ابھی ثابت نہیں ہوا ہے، وہ قانونی لحاظ سے بے قصور ہی مانے جاتے ہیں) افراد کا برسوں جیلوں میں بند رہنا، نظام انصاف کی بدترین صورت حال کا مظہر ہے۔ یہ نہ صرف دستور ہند کی دفعہ 21کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ تمام معروف بنیادی حقوق اور عالمی معاہدوں سے بھی صریح انحراف ہے۔

یہ ظلم کم زور طبقات پر سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ وزارت داخلہ کی مذکورہ رپورٹ ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ سزا یافتہ قیدیوں میں مسلمانوں کا تناسب 17 فی صد ہےجبکہ زیر سماعت قیدیوں میں یہ تناسب 20 فی صد اور زیر حراست قیدیوں میں 30 فی صد ہے۔[28] اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس صورت حال کا کم زور طبقات پر ظلم کے لیے استحصال کیا جارہا ہے۔ ان خرابیوں کی وجہ سے ملک کا عدالتی نظام، ایک تجزیہ نگار کے الفاظ میں ’’بجائے کم زور اور مظلوم شہریوں کے حقوق کی حفاظت کا ذریعہ بننے کے، عام آدمیوں کی ہراسانی کا آلہ بن چکا ہے۔ یہ نظام کم زور اور غریب آدمی کے لیے پوری طرح غیر کارکرد ہوچکا ہے۔ ’’ [29]

عدالتوں میں کرپشن اور فرقہ وارانہ اور ذات پات کی بنیاد پر جانب داری کے حوالے سے بھی بہت سے مطالعات آچکے ہیں۔[30] حالیہ دنوں میں یہ صورت حال اور زیادہ ابتر ہوگئی ہے۔ اسی طرح عدالتوں پر سیاست دانوں کے رسوخ کا معاملہ بھی بہت کھل کر سامنے آگیا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ججوں کو دی جانے والی ذمے داریاں اور مراعات کی کشش، ججوں کو سیاست دانوں کے احکام کی تعمیل پر مجبور کرتی ہے۔ موجودہ حکومت نے ریٹائرمنٹ کے فوری بعد ایک چیف جسٹس کو گورنر اور ایک اور چیف جسٹس کو راجیہ سبھا کا ممبر نام زد کیا ہے۔ یہ دونوں واقعات ملک کی تاریخ میں پہلی بار پیش آئے ہیں۔

یہی صورت حال بیورو کریسی کی ہے۔ ایک دفعہ راجیو گاندھی نے کہا تھا کہ ملک کے عوام کی بہبود کے لیے اگر سرکار ایک روپیہ خرچ کرتی ہے تو صرف پندرہ پیسے حقیقی ضرورت مند تک پہنچتے ہیں۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے بھی اپنے ایک فیصلے میں سابق وزیر اعظم کے اس بیان کا حوالہ دیا ہے۔[31] قانون حق اطلاعات اور ای گورننس کے اقدامات کی وجہ سے شفافیت تو یقینًا بڑھی ہے لیکن کارکردگی بڑھانے کے سلسلے میں یہ اصلاحات بھی پوری طرح کام یاب نہیں ہوسکیں۔ بیوروکریسی کو جس طرح ایک آزاد، پروفیشنل ادارے کے طور پر کام کرنا چاہیے، اس کا ہمارے ملک میں دور دور تک امکان نظر نہیں آتا۔ اکثر سرکاری افسران، سیاسی دباؤ میں اور سیاسی آقاؤں کے مفاد میں کام کرتے ہیں۔ ایمر جنسی کے دوران ہوئے مظالم پر تحقیقات کے لیے جو شاہ کمیشن تشکیل دیا گیا تھا اس نے سول سروس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب حکم راں نے ان کو گھٹنوں کے بل جھکنے کے لیے کہا تو انھوں نے (وفاداری میں اور آگے بڑھ کر) رینگنا شروع کردیا (When officials were asked to bend, they crawled)۔[32] کمیشن نے نوٹ کیا کہ صورت حال سے واضح ہے کہ انتہائی اچھی شبیہ رکھنے والے باصلاحیت افسران بھی معمولی سیاسی دباؤ کے آگے سپر انداز ہوجاتے ہیں۔ آئی اے ایس افسران نے بھی لوگوں کو حراست میں رکھنے کے لیے جھوٹے اور جعلی ریکارڈتیار کیے۔ اپنے کیریر کی ترقی کے لیے ان قابل افسروں نے بھی برسر اقتدار سیاسی جماعت کے غیر اخلاقی احکام کی تعمیل ضروری سمجھی۔[33] یہ صورت حال موجودہ ہندوستان میں بھی ہم صاف دیکھ رہے ہیں۔

ایک تجربے کار بیوروکریٹ نے بہت صحیح لکھا ہےکہ:

’’تین دہوں سے زیادہ سروس میں گزارنے کے بعد میرا یہ یقین اور مستحکم ہوا ہے کہ سیاست داں اچھی طرح جانتا ہے کہ غریب شہری کی اصل ضرورت کیا ہے اور بیوروکریٹ اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ ضرورت کیسے پوری ہوسکتی ہے۔ لیکن آقا اور نوکر دونوں (ازکار رفتہ) نظام کی پیچیدگیوں میں ایسے الجھ جاتے ہیں کہ وہ نہیں جانتے کہ ان سے کیسے نکلا جائے۔ چناں چہ سیاسی آقا فوری ووٹ حاصل کرنے کے واحد مقصد سے کچھ آسان شارٹ کٹ تلاش کرلیتا ہے اور وفادار نوکر (بیوروکریٹ) نہ صرف انھیں برداشت کرتا ہے بلکہ اکثر وہی ایسے شارٹ کٹ سجھاتا ہے۔ اور کچھ سیاست داں اور بیوروکریٹ مل جل کر (ان اقدامات کے ذریعے) اپنی جیبیں بھی بھرلیتے ہیں۔ کیا (اس کے باوجود) ہمیں اس بات پر حیرت ہونی چاہیے کہ ہندوستان کی بیوروکریسی اپنا پیشہ ورانہ وقار اور عوامی اعتماد کھوتی جارہی ہے؟‘‘[34]

محولہ بالا فاضل مصنف نے اُن بہت سے رواجوں کا ذکر کیا ہے جنھوں نے ہماری بیوروکریسی کو سیاسی آقاؤں کا غلام بنا رکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بے شک سول سروس میں تقررات کا بہت شفاف نظام موجود ہے لیکن سول سروس میں تقرر کے بعد اچھا (اور پرکشش) عہدہ حاصل کرنا (پوسٹنگ) یہ سیاسی آقاؤں کی رضامندی پر منحصر ہے۔ پوسٹنگ میں تعلقات اور رشتے داریوں کے ساتھ جانب داری، ذات پات اور کرپشن، ان سب کا رول ہوتا ہے۔ کئی دفعہ سینیر عہدے داروں کے اوپر ان کا جونیر مسلط کردیا جاتا ہے۔ فنڈ جمع کرنے والے عہدے سب سے پر کشش سمجھے جاتے ہیں، جو منظورِ نظر افسران کو ملتے ہیں اور اس کے صلے میں وہ اپنے سیاسی سرپرستوں کو فنڈ جمع کرکے دیتے ہیں۔ چوں کہ بار بار حکم راں جماعتیں بدلتی رہتی ہیں اس لیے بہت سے افسران (اپنے فیصلوں کے ذریعے) کسی بھی سیاسی جماعت کی دشمنی مول لینا نہیں چاہتے۔ وہ فیصلوں کو اور فائلوں کو ایک دوسرے کی طرف ڈھکیلتے رہتے ہیں اور پورے نظام کو سست اور قوت فیصلہ سے محروم بنادیتے ہیں۔[35]

مطلوب اصلاحات

ان سب مسائل پر علمی حلقوں، عدالتوں اور ریٹائرڈ ججوں اور افسروں کی محفلوں میں باتیں تو ہوتی رہتی ہیں لیکن ان باتوں کو سنجیدہ عوامی بحث کا موضوع بنانے کی کوئی کوشش نہیں کرتا۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ مسائل ناقابل حل ہیں۔ ان کے حل کی بہت سی تدبیریں سجھائی جاتی رہی ہیں۔ لیکن جیسا کہ ہم نے واضح کیا ہے، نوآبادیاتی حکم راں، ملک کی کروڑوں کی آبادی کو مٹھی بھر انگریزوں کے کنٹرول میں رکھنا چاہتے تھے اور اس کے لیے انھوں نے ایک خاص نظام ڈیزائن کیا تھا۔ آزادی کے بعد ایک چھوٹا سا طبقہ جمہوریت اور عوام کی حقیقی حکم رانی کا جذبہ رکھتا تھا اور اس نے اصلاحات کی بعض کوششیں کیں۔ لیکن بعد میں آنے والے سیاست داں انگریزوں ہی کی طرح اس ملک کے کروڑوں عوام کو ایک چھوٹے سے طبقے کے کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں اس لیے ان کے لیے انگریزوں کا قائم کردہ نظام ہی زیادہ مناسب رہا۔ کسی ٹھوس اور بنیادی تبدیلی کو وہ آگے بڑھنے نہیں دینا چاہتے۔

ان حالات میں عدل و انصاف کی حامی قوتوں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اسے عوامی سیاسی اور انتخابی موضوع بنائیں۔ ملک کے عوام میں اس حوالے سے بیداری لائیں۔ نئے آئیڈیا سامنے لائیں۔ اسلام کے ماننے والوں کو بھی اس کام کے لیے آگے آنا چاہیے۔ ذیل میں بعض اصلاحات تجویز کی جارہی ہیں۔ اس طرح کی اور بھی باتیں سوچی جاسکتی ہیں اور انھیں اپنے سیاسی ڈسکورس کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔

احتساب کا آزاد دستوری ادارہ

ہمارے ملک میں عدل و انصاف کے تقاضوں کی تکمیل اور جمہوری قدروں کے استحکام کے لیے نہایت ضروری ہوگیا ہے کہ امبودسمان (ombudsman) کے وسیع تر تصور کو اختیار کرتے ہوئے احتساب و نگرانی کا آزاد و بااختیار دستوری ادارہ قائم ہو۔ ویجیلنس کمیشن، ویمن کمیشن، ہومن رائٹس کمیشن وغیرہ قسم کے لولے لنگڑے اور کم زور ادارے اب بے اثر ہوچکے ہیں۔ ان سب اداروں کے کام اسی آزاد ادارے کو سونپے جاسکتے ہیں یا اس ادارے کے ذیلی محکموں کی حیثیت انھیں دی جاسکتی ہے۔ سچر کمیٹی نے مساوی مواقع کمیشن (Equal Opportunities Commission)کی تجویز دی تھی۔ یہ کام بھی اس ادارے کو دیا جاسکتا ہے۔ دستور میں ترمیم کرکے اسے ایک طاقت ور ادارے کے طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔ اس ادارے کو ہر طرح کی سرکاری مداخلتوں سے بالکل پاک ہونا چاہیے۔ اس میں تقررات بھی سرکار کے ذریعے نہیں بلکہ عدالت عظمی کی طرح سرکار سے بالکل آزاد، متبادل طریقوں سے ہونے چاہئیں۔ اس میں سماج کے اُن کم زور طبقات کی خصوصیت سے بھرپور نمائندگی ہونی چاہیے جو عام طورپر ظلم و استحصال کا شکار بنتے ہیں۔ اس ادارے کو وزیر اعظم، تمام وزارتوں، سرکاری محکموں اور عوامی کمپنیوں، عدالتوں، پرائیوٹ کمپنیوں (خاص طور پر ملٹی نیشنل کمپنیاں)، اسپتالوں، تعلیمی اداروں، بازار وغیرہ سب کی نگرانی و احتساب کا کام سپرد کرنا چاہیے۔ اس کے دائرے میں صرف کرپشن سے متعلق معاملات نہیں بلکہ سست رفتاری اور کام چوری، تعصب و جانب داری، قوانین اور ضابطوں سے انحراف وغیرہ جیسے معاملات بھی آنے چاہئیں۔ اس ادارے کوعوام کی شکایتوں کی بھی شنوائی کرنی ہوگی اور اپنے طور بھی نگرانی و مداخلت کا کام کرنا ہوگا۔ اور سرکاری کاموں، دستاویزات، ریکارڈ وغیرہ طلب کرنے، معائنہ کرنے، عہدے داروں کو معطل کرنے، سزا دلانے، فیصلوں کو منسوخ کرنے وغیرہ جیسے بھرپور اختیارات ملنے چاہئیں۔

ججوں اور دیگر اداروں کے تقررات و جواب دہی کا آزاد طریقہ کار

سرکاری مداخلت کا آغاز تقررات سے ہوتا ہے۔ جب تک تقررات، تبادلے، ترقیاں وغیرہ حکومت کے اختیار میں ہیں، کوئی ادارہ آزاد اور بااختیار نہیں ہوسکتا۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ اہم آزاد اداروں میں تقررات بالکل آزادانہ ہوں اور سرکار کی اس میں کوئی مداخلت نہ ہو۔

ہمارے ملک میں دستور کے مطابق سپریم کورٹ کے ججوں کا تقرر صدر جمہوریہ سپریم کورٹ کے مشورے سے کرتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس مشورے کے لیے ایک نظام قائم کیا ہے جسے کالیجیم سسٹم کہا جاتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے ججوں کے تقررات میں انتظامیہ کا یا حکومت کا کوئی رول نہیں ہے۔ عملًا موجود جج ہی نئے ججوں کا تقرر کرتے ہیں۔ چند سال پہلے مرکزی حکومت نے اس نظام کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی اور دستور ہند میں 99 ویں ترمیم کے ذریعے نیشنل جیوڈیشیل کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے ذمے ججوں کے تقررات کا کام تھا۔ اس کمیشن میں چیف جسٹس اور دو ججوں کے علاوہ مرکزی وزیر قانون اور دو دیگر اہم شخصیات کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ دو ممبران کے ویٹو سے تقرر رک سکتا تھا۔ گویا حکومت کی مرضی کے بغیر کوئی جج نہیں بن سکتا تھا۔ اس طرح عدالتی تقررات میں انتظامیہ کی مداخلت کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ اس اقدام سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے سیاست دانوں کا رخ کیا ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ اس ترمیم کو تمام سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل تھی۔ اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اتفاق رائے سے منظور ہوجانے کے بعد 16 ریاستی اسمبلیوں نے بھی اس ترمیم کے حق میں قراردادیں منظور کردی تھیں (اس طرح کی دستوری ترمیمات کے لیے کم سے کم آدھی ریاستوں کی اسمبلیوں کی منظوری بھی درکار ہوتی ہے)۔

یہ دستوری ترمیم اگست 2014 میں پارلیمنٹ سے منظور ہوگئی اور صدر جمہوریہ کے دستخط کے بعد دفعہ 124Aکے نام سے دستور ہند میں اپریل 2015 میں شامل ہوگئی تھی، لیکن اس کے بعد سپریم کورٹ نے بروقت مداخلت کی اور 16اکتوبر 2015کو ایک تاریخی فیصلے کے ذریعے اس دستوری ترمیم کو خلافِ دستور اور دستور کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف قرار دے کر کالعدم کردیا۔[36] سیاست دانوں کے اس ہمہ گیر اتفاق سے کی جانے والی اس ترمیم کو منسوخ کرنے کا یہ فیصلہ نہایت جرأت مندانہ، اہم اور دوررس اہمیت کا حامل تھا۔

اس فیصلے کی تائید و ستائش کے ساتھ یہ سوال ہنوز برقرار ہے کہ ججوں کی نگرانی اور ان کی جواب دہی کا کیا نظام ہو؟ ججوں کو حکومت اور انتظامیہ کی مداخلت سے بے شک آزاد ہونا چاہیے لیکن جواب دہی سے آزاد نہیں ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے اپنے مذکورہ فیصلے کے فوری بعد نومبر 2015 میں مشورے بھی طلب کیے تھے کہ ججوں کے تقررات کے نظام کو مزید موثر بنانے، اس میں شفافیت لانے اور ججوں کو جواب دہ بنانے کے لیے کیا مناسب اقدامات ہوسکتے ہیں؟ حکومت کو بھی کہا تھا کہ وہ اپنے مشورے داخل کرے۔ لیکن حکومت نے اس عمل میں حصہ لینے سے انکار کردیا۔[37] اگر یہ بحث آگے بڑھتی تو شاید کچھ ٹھوس اصلاحات کی راہیں ہم وار ہوتیں۔

ہمارے خیال میں ججوں پر نگرانی کے لیے احتساب یا امبودسمان کے مذکورہ بالا نظام کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔ فیصلے کے معاملے میں تو جج آزاد ہوں لیکن ان کا ذاتی کردار، کرپشن، سرکاری مداخلت کو قبول کرنے کا معاملہ، کارکردگی اور رفتار کار وغیرہ قسم کے معاملات پر آزاد دستوری ادارے کی ضرور نگرانی ہونی چاہیے۔ یقینًا یہ ادارہ انتظامیہ یا مقننہ نہیں ہوسکتا کیوں کہ اس کے نتیجے میں خود انتظامیہ یا مقننہ پر عدالت کی نگرانی کا عمل مجروح ہوسکتا ہے لیکن کوئی اور آزاد ادارہ ضرور ہونا چاہیے۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ خود سپریم کورٹ ریئاٹرڈ ججوں پر مشتمل ایک آزاد ادارہ قائم کرے جو ججوں کی نگرانی و احتساب کا کام کرے۔

ججوں کی تعداد ملک میں بہت زیادہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ملک میں دس لاکھ کی آبادی میں محض 20 ججوں کا تناسب پایا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں یہ تناسب 100 سے بڑھ کر ہے۔[38] عدالتی فیصلوں کے لیے وقت کا تعین ہونا چاہیے۔ بعض اہم معاملات کے لیے (مثلا ہبیس کارپس کی اپیل کے لیے)مدت کار متعین بھی ہے لیکن اس کی پابندی نہیں ہوتی۔ تمام مقدمات کی یکسوئی کے لیے ایک زیادہ سے زیادہ مدت متعین ہونی چاہیے۔

عدالتوں کو سیاسی دباؤ سے آزاد رکھنے کے لیے یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ججوں کے کسی انتظامی تقرر پر پابندی عائد کی جائے۔ جج ریٹائر ہونے کے بعد لوک سبھا یا راجیہ سبھا کے رکن، گورنر، سفیر وغیرہ نہ بن سکیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اُن کی خدمات دستیاب ہوں تو وہ عدالتیں ہی استعمال کریں یا دیگر غیر سرکاری ادارے (مثلًا مذکورہ بالا امبودسمان کا ادارہ وغیرہ)۔

دنیا کے کئی ملکوں میں اب اس بات کو بھی بہت اہمیت دی جارہی ہے کہ عدالتوں کے جج سماج کے مختلف طبقات، فرقوں، تہذیبی گروہوں وغیرہ سے متعلق ہوں اور خاص طور پر کم زور اور محروم طبقات کی بھرپور نمائندگی ہو تاکہ انھیں انصاف کے حصول میں زیادہ آسانی ہو۔ ہمارے ملک میں ابھی تک ایسا کوئی نظام اختیار نہیں کیا گیا ہے۔ ایک محقق نے آزادی کے بعد کے چالیس برسوں کا تجزیہ کرکے دکھایا تھا کہ اُس وقت تک سپریم کورٹ کے نوے فی صد سے زیادہ جج اعلیٰ ذاتوں سے تعلق رکھنے والے رہے ہیں۔[39] نیشنل جیوڈیشیل اکیڈمی کے ڈائرکٹر نے چند سال پہلے ریمارک کیا تھا کہ ’’ہندوستان میں جج عام طور پر اونچی ذات، اونچے طبقے کا ہندو مرد ہوتا ہے۔‘‘[40]

یہ بات نہایت خوش آئند ہے کہ موجودہ چیف جسٹس نے حال ہی میں اس ضرورت کا اظہار کیا کہ ججوں میں پس ماندہ طبقات اور اقلیتوں کی نمائندگی بڑھانے کی ضرورت ہے اور جملہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کو یہ ہدایت دی کہ وہ پس ماندہ طبقات، خواتین اور اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو جج مقرر کریں۔ یہ بھی کہا کہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے کالیجیم کے اصولوں میں بھی تبدیلیاں لائی جارہی ہیں۔[41] اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ملک کے عدالتی نظام میں بڑی اہم اصلاح ہوگی۔ اس بحث کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اور اس بات کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ یہ مقصد محض موجودہ چیف جسٹس کی ذاتی دل چسپی اور ان کی زبانی ہدایت تک محدود نہ رہے، بلکہ اس حوالے سے قانون میں بھی ٹھوس تبدیلیاں لائی جائیں۔

پولیس کی اصلاحات

برطانوی حکومت نے اپنے ملک میں تو پولیس کا نظام پیلین اصولوں (Peelian principles) کی بنیاد پر قائم کیا تھا۔ یہ سر رابرٹ پیل کا تشکیل کردہ مشہور پولیس نظام ہے جس میں پولیس عوام کی ہم درد اور دوست کی حیثیت سے نہایت دوستانہ، شریفانہ طریقے سے کام کرتی ہے اور عوام اسے اپنے معاون کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ لیکن برطانوی حکومت نےنوآبادیاتی ہندوستان میں جو پولیس فورس تشکیل دی وہ پیلین اصولوں کے بجائے آئرش کانسٹبلری کے اصولوں پر استوار تھی جس میں سارا زور مقامی آبادی کو ‘کنٹرول میں رکھنے’ پر تھا۔ 1861کا یہی پولیس ایکٹ آزاد ہندوستان میں بھی برقرار ہے اور پولیس کا رول غریب عوام اور کم زور طبقات کو ‘حد میں رکھنے’ اور ‘کنٹرول کرنے’ ہی کا ہے۔ آزادی کے بعد پولیس میں اصلاحات کی متعدد کوششیں ہوئیں لیکن وہ کام یاب نہیں ہوسکیں کیوں کہ سیاست داں انھیں کام یاب ہونے نہیں دینا چاہتے۔ 2006 میں سپریم کورٹ نے خود آرڈر پاس کرکے متعدد اصلاحات کے لیے دباؤ پیدا کرنے کی کوشش کی۔[42] سپریم کورٹ کی مجوزہ اصلاحات میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ پولیس کو ریاستی حکومت اور حکم راں جماعت کے دباؤ سے آزاد ہونا چاہیے اور قانون اور پیشہ ورانہ تقاضوں کے تحت آزادانہ کام کرنا چاہیے۔ ایک آزادی سیکوریٹی کمیشن قائم ہونا چاہیے جس میں ریاستی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ اپوزیشن کے نمائندے اور کچھ غیر جانب دار غیر سیاسی شخصیات اور سماج کے مختلف طبقات کے نمائندے شامل ہوں اور ریاستی حکومت کے بجائے یہ کمیشن پولیس کو کنٹرول کرے۔ ہر ریاست میں اور ہر ضلع میں ریٹائرڈ ججوں کی سربراہی میں پولیس کمپلین اتھارٹی قائم ہونی چاہیے جس سے عوام پولیس کے مظالم کی شکایت کرسکیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں ایک خصوصی کمیٹی نے جس کے سربراہ مشہور قانون داں سولی سوراب جی تھے، ایک ماڈل پولیس ایکٹ بھی ڈرافٹ کیا تھا جو آج بھی وزارت داخلہ کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔[43] اس ایکٹ میں پولیس اصلاحات کا ایک اہم ہدف یہ بھی قرار دیا گیا تھا کہ پولیس کم زور طبقات اور اقلیتوں کے مفادات کی محافظ بنے[44] اور اس کے لیے خود پولیس فورس میں تمام طبقات اور اقلیتوں کی بھرپور نمائندگی ہو۔[45] یہ ہدایت بھی موجود ہے کہ لاء اینڈ آرڈ اور تفتیش کو علیحدہ کیا جائے۔ سپریم کورٹ کو یہ ہدایات دیے ہوئے پندرہ سال ہوگئے۔ ریاستی حکومتوں نے ریویو اپیلوں اور دیگر طریقوں سے پہلے تو اس فیصلے کو بدلنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد ٹال مٹول کا رویہ اختیار کیا۔ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومتوں پر پنجہ کسنے کے لیے مانیٹرنگ کمیٹی وغیرہ بھی بنائی لیکن پندرہ سال بعد بھی صورت حال یہ ہے کہ کسی ریاست نے ان احکام کو نافذ نہیں کیا۔[46] اُن ریاستوں نے بھی نہیں جہاں ‘سیکولر’ یا ‘اقلیت دوست’ یا‘دلت و پس ماندہ طبقات’ کی نمائندہ یا انقلابی اصلاحات کا ڈھنڈورا پیٹ کر اقتدار میں آنے والی جماعتوں کی حکومتیں ہیں۔ اور اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ا س مسئلے کو سنجیدہ سیاسی بحث یا انتخابی موضوع بنانے کی کوشش بھی کسی زاویے سے کبھی نہیں ہوئی۔

بیوروکریسی کی اصلاحات

بیوروکریسی کی مطلوبہ اصلاحات میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ بیوروکریسی کو چست اور چابک دست بنایا جائے اور سیاست دانوں کے غیر قانونی احکام کے چنگل سے نکالا جائے۔ حق اطلاعات اور ای گورننس کی اصلاحات سے توقع تھی کہ کارکردگی بڑھانے کا مقصد حاصل ہوگا لیکن اس بات کی ضرورت ابھی بھی ہے کہ حق اطلاعات کو اور زیادہ موثر بنایا جائے، نیز زیادہ سے زیادہ امور کو ای گورننس کے دائرے میں لایا جائے۔ خاص طور پر فائل کی تمام تر حرکت(movment) عام شہری کے لیے انٹرنیٹ پر شفافیت کے ساتھ دستیاب رہے، یہ ہدف ابھی بھی حاصل نہیں ہوسکا ہے۔

چند سال پہلے سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں بیوروکریسی کو سیاست دانوں کے غیر قانونی اقدامات سے آزاد کرانے کے لیے کئی اہم ہدایتیں دی تھیں۔ یہ واضح کیا تھا کہ کوئی بھی افسر زبانی ہدایات کا پابند نہیں ہے۔ افسران کو دی جانے والی ہدایات لازمًا ریکارڈ کی جائیں گی۔ اسی طرح یہ ہدایت بھی کی تھی کہ افسران کی پوسٹنگ اور تبادلے کے فیصلے ایک آزاد سول سروس بورڈ کرےگا۔

بیوروکریسی کو جواب دہ بنانے کے سلسلے میں بھی مذکورہ، احتسابی ادارہ اہم رول ادا کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اب دنیا بھر میں بیوروکریسی کے سلسلے میں بھی یہ تسلیم کیا جارہا ہے کہ اس میں تہذیبی و نسلی تنوع ہونا چاہیے۔ ہمارے ملک کی بھی یہ ایک اہم ضرورت ہے کہ مختلف طبقات خاص طور پر کم زور طبقات کی بھرپور نمائندگی بیوروکریسی میں ہو۔

کچھ اور اصلاحات

عدل و انصاف کا مطلوبہ ہدف حاصل کرنے کے لیے بعض اہم قانونی اصلاحات بھی درکار ہیں۔ انڈین پینل کوڈ بھی انگریزوں کی دین ہے۔ اس کا رخ بھی یہی ہے کہ عوم کو کنٹرول میں رکھا جائے۔ حکومت، پولیس اور دیگر عہدے داروں کو بالکل معصوم فرشتہ تصور کرلیا گیا ہے اور یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ وہ جو بھی کریں گے درست ہی کریں گے۔ لوگوں کو ہراساں کرنے والے افسران کی تادیب کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں جن عہدے داروں نے کئی افراد کو برسوں بے قصور جیلوں میں بند رکھا اور ان کو اور ان کے خاندانوں کو تباہ کردیا، ان پر کوئی معمولی کارروائی بھی ممکن نہیں ہے۔ ان قوانین میں بہت سی بنیادی تبدیلیاں درکار ہیں۔ بغاوت (sedation) اور غیر قانونی سرگرمیوں (UAPA) وغیرہ قوانین کا جس طرح استحصال ہورہا ہے وہ اب پوری دنیا کے سامنے ہے۔ ان قوانین کی منسوخی اب نہایت اہم ضرورت بن گئی ہے۔

خلاصہ

اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ اس وقت ملک کی صورت حال ملک کے نظام میں ٹھوس اصلاحات کی متقاضی ہے اور امید یہی ہے کہ مستقبل قریب میں اس کے لیے مواقع بھی بڑھیں گے۔ ملک کو نئے آئیڈیاز کی اور ان آئیڈیاز پر عوامی بیداری کی ضرورت ہے۔ اہل اسلام، اسلام کی تعلیمات اور وژن کی روشنی میں یہ آئیڈیاز فراہم کرسکتے ہیں۔ ہمیں وقتی احتجاج اور موجود ناقص ڈھانچے ہی کے دائرے میں مسائل کے حل تلاش کرنے کے بجائے متبادلات کی تشکیل و تخلیق کے عمل میں سرگرمی سے حصہ لینا چاہیے۔ ملک کے عوام کو بہتر متبادلات کے خواب دکھانے چاہئیں اور ان متبادلات ہی کو ہماری سیاسی تحریکات کا اصل حوالہ بننا چاہیے۔

حواشی و حوالہ جات

[1] مثلًا دیکھیں:

Bellenoit, Hayden. “Between qanungos and clerks: the cultural and service worlds of Hindustan’s pensmen, c. 1750–18501.” Modern Asian Studies 48, no. 4 (2014): 872-910.

[2] اس سلسلے میں حضرت سرہندیؒ کے اضطراب سے متعلق تفصیل کے لیے دیکھیں:

ڈاکٹر شیخ محمد اکرام(2005)؛ رود کوثر ؛ ادارہ ثقافت اسلامیہ؛ ص 319تا 325

[3] دیکھیں مولانا ابوالحسن علی حسنی ندوی(2010)؛ تاریخ دعوت و عزیمت؛ حصہ پنجم؛ مجلس تحقیقات و نشریات اسلام؛ لکھنو؛ ص 275تا ص 275تا 322

[4] Rajarshi Shahu Chhatrapati Papers. (1988). India: Shahu Research Institute.p. 17

[5] Kesavanand Bharati Vs. State of Kerala (1973)

اس تاریخی فیصلے میں سپریم کورٹ نے یہ واضح کردیا کہ دستور ہند کی دفعہ 368میں دیا گیا اختیار جس کے ذریعے دستور میں تبدیلی کی جاسکتی ہے، وہ دستور کے بنیادی ڈھانچے کو بدلنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ چیف جسٹس سیکری نے اس بنیادی ڈھانچے کی وضاحت کرتے ہوئے دیگر باتوں کے ساتھ اس میں اختیارات کی تقسیم کا اصول بھی شامل کیا ہے۔ اس فیصلے کو استعمال کرکے ایمرجنسی کے دوران سپریم کورٹ نے دستور ہند میں 39ویں اور42ویں ترمیم، جس کے ذریعے سیاسی حکم رانوں کی طاقت و اختیار بہت زیادہ بڑھانے کی کوشش کی گئی تھی، اسے کالعدم کردیا۔ قریبی زمانے میں, یعنی 2015میں دستور کی 99ویں ترمیم بھی اسی بنیاد پر رد کی گئی۔

[6] ان قدروں اور اصولوں کی تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں:

P.C.Hota (2004)Committee on Civil Service Reforms Report; Government of India; available at

https://www.upsc.gov.in/sites/default/files/Sl-028-PCHotaComttRpt-2004.pdf; retrieved on 19-01-2022

 

[7] Lok Sabha Secratariat; Constituent Assembly Debates Official Report; Volume VII p. 959. (Debate on 10-12-1949)

[8] مولانا سید ابوالاعلی مودودی(1967) اسلامی ریاست؛ اسلامک پبلیکشینز لاہور؛ ص 345 تا 355

[9] شبلی نعمانی؛ الفاروق، ص 216/217

[10] السنن الكبرى كتاب آداب القاضی جماع أبواب ما على القاضی فی الخصوم والشهود باب إنصاف الخصمین، حدیث رقم: (19835)

[11]   البلاذری؛ انساب الاشراف للبلاذری؛ عمر بن الخطاب؛ كتاب عمر إلى أبی موسى الأشعری فی القضاء؛ المكتبة الشاملة الحدیثة

[12] قضا کے اسلامی احکام کو سمجھنے کے لیے اردو میں ایک اچھی کتاب یہ ہے:

قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ،اسلامی عدالت

[13] V. Pickl, ’’Islamic Roots of Ombudsman Systems‘‘ 6 Ombudsman Journal 101 (1987).

[14] Soumik Chakraborty, Ombudsman: A Critical Appraisal in Academike Lawctopus;

https://www.lawctopus.com/academike/ombudsman-critical-appraisal/_edn3;  retrieved on 18-01-2022

[15] احمد بن عبد الحلیم ابن تیمیة الحسبة فی الاسلام او وظیفة الحكومة الاسلامیة؛ دارالكتاب العلمیة، بیروت

[16] محمد بن محمد ابن الاخوۃ (1988)؛معالم القربة فی احكام الحسبة؛ مرکز النشر مکتب الاعلام الاسلامی؛ قم۔

[17] عبد الرحمن بن عبد اللہ الشیزری؛ نهایة الرتبة الظریفة فی طلب الحسبة الشریفة؛المكتبة الشاملة الحدیثة۔

[18]  ابوالحسن علی بن محمد الماوردی(1989) ؛ الأحکام السلطانیة والولایات الدینیة؛ مکتبة دار ابن قتیبة؛ الکویت

[19]  حوالہ سابق ص 336/337

[20]  دیکھیے نیشنل جیوڈیشیل ڈاٹا گرڈ کی ویب سائٹ

https://njdg.ecourts.gov.in/njdgnew/index.php

[21] https://www.news18.com/news/explainers/explained-cji-ramana-says-4-5-crore-cases-pending-heres-what-has-been-fuelling-backlog-3977411.html

[22] https://njdg.ecourts.gov.in/njdgnew/?p=alert_dashboard/index

[23] https://www.barandbench.com/columns/court-vacations-pendency-judges;  retrieved on 18-01-2022

[24] Valerie Wright (2010) Deterrence in Criminal Justice Evaluating Certainty vs. Severity of Punishment; The Sentencing Project; Washington DC

[25] National Crime Records Bureau (2021) Prison Statistics India, Govt of India, New Delhi. Pp. 64-72

[26] دنیا کے مختلف ملکوں میں زیر سماعت اور سزا یافتہ قیدیوں کی تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں

Roy Walmsley()World Pre Trial Imprisonment List; ICPR; Birbeck University of London; London.

[27] National Crime Records Bureau (2021) Prison Statistics India, Govt of India, New Delhi. Pp. xvii

[28]  ibid

[29] Mona Shukla, ’Judicial Accountability: an aspect of judicial independence‘ in Judicial Accountability, Regal Publications, New Delhi, 2010, p. 4

[30] مثلًا ملاحظہ فرمائیں

William Eisenman, Comment, Eliminating Discriminatory Traditions Against Dalits: The Local Need for International Capacity-Building of the Indian Criminal Justice System, 17 EMORY INT‘L L. REV. 133, 139, 161 (2003)

[31] https://www.hindustantimes.com/india-news/only-15-paise-reaches-the-needy-sc-quotes-rajiv-gandhi-in-its-aadhaar-verdict/story-I8dniDGXF6ksulggTDgb9L.html

[32] As quoted in Mathur, B. P. (2005). Governance Reform for Vision India. India: Macmillan India. p.58.

[33] Mooij, Jos E. (2005). The politics of economic reforms in India. SAGE

[34] Alok Sinha (2009) Towards an Imprtial and Responsive Service, in Seminar (594), February 2009

[35] Ibid.

[36] The Hindu; October 17; 2015 https://www.thehindu.com/news/national/supreme-court-verdict-on-njac-and-collegium-system/article7769266.ece

[37] The Hindu, November 19, 2015; https://www.thehindu.com/news/national/Attorney-General-pulls-out-of-drafting-procedure-to-appoint-judges/article10217486.ece?homepage=true

[38] https://www.dnaindia.com/india/report-dismal-1949-judges-per-million-people-shows-data-2698922.

[39] George H Gadbois (2011) Judges of the Supreme Court of India: 1950-1989; Oxford University Press; New Delhi

[40]https://m.dailyhunt.in/news/india/english/thedailyguardianepaperthdygre/judicial+reforms+in+india+need+to+go+beyond+informal+calls+for+inclusivity-newsidn290963146?listname=topicsList‘index=0‘topicIndex=0‘mode=pwa‘action=click

[41] https://www.telegraphindia.com/india/sc-collegium-considering-reforming-judicial-appointment-process-by-inducting-more-members-of-sc-st-obc-minorities-and-women-as-judges-of-high-courts-and-the-apex-court/cid/1818005

[42] SC Judgment Prakash Singh and Ors Vs. Union of India and Ord 22 September 2016 @ https://indiankanoon.org/doc/1090328/

[43] ماڈل پولیس ایکٹ دیکھیے وزارت داخلہ کی ویب سائٹ پر

https://www.mha.gov.in/sites/default/files/ModelAct06_30_Oct_0.pdf

[44] Ibid p. 2

[45] Ibid p. 63

[46] Commonwealth Human Rights Initiative(CHRI) (2021) Government Compliance with Supreme Court Directives on Police Reforms An Assessment; CHRI, New Delhi.

فروری 2022

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau