خلافت کمیٹی اورمُلا جان محمد مرحوم

کچھ یادیں، کچھ باتیں

عبد العزیز

جنوری ۱۹۴۵اوردسمبر۱۹۶۳میں کلکتہ شہر میں بڑے پیمانے پر فساد ہوا۔ پھر مارچ، اپریل ۱۹۶۴میں جس میں رانچی ، جمشید پور میں ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت بھیانک اور ہولناک فساد کی لہر چل پڑی۔ ہزاروں مسلمان شہید ہوئے،کروڑوں کی جائیدادیں تباہ و برباد ہوئیں۔ فساد زدہ علاقوں سے مسلمانوں کے پائوں اکھڑنے لگے۔تباہی اور بربادی اتنے بڑے پیمانے پر تھی کہ ہندستان بھر کے مسلمان چیخ پڑے۔

راقم الحروف دسمبر ۱۹۶۳ میں سی ایم او ہائی اسکول سے اسکول فائنل﴿SF﴾ کے لیے سینٹ اپ ہوا۔ سماجی کام کرنے کاکوئی تجربہ نہیں تھا۔ لیکن یہ سن سن کر دل میں تڑپ پیدا ہوئی کہ ایسے طالب علم کیسے اسکول فائنل کے امتحانات میں شریک ہوسکیں گے، جن کے گھر بار اجڑ چکے ہیں۔ دل میں پہلی بات یہ پیدا ہوئی کہ اسکول فائنل کے امتحانات کی تاریخوں میں تبدیلی کی کوشش کی جائے۔راقم نے اپنے ہی اسکول میں اردو اسکولوں کے ہیڈ ماسٹروں اور اردو صحافیوں کی ایک میٹنگ کاانعقاد کیا۔ اردو کے مشہور شاعر اور ہمارے محترم استاد اعزاز افضل صاحب نے ہر طرح سے حوصلہ افزائی کی۔ مجھے محترم عبدالجبار صاحب ہیڈ ماسٹر محمد جان ہائی اسکول کی یہ بات آج تک یاد ہے کہ انھوں نے شرکت کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ’ میں ضرور شرکت کروں گامگر یہ کام بڑوں کا ہے، چھوٹوں کا نہیں۔‘ میرا جواب یہ تھا کہ ’ جب بڑے نہ کریں تو چھوٹوں کو کرنا چاہیے۔‘ شاید میرے جواب سے انھیں خوشی ہوئی۔ میٹنگ میں ویسٹ بنگال بورڈ کے سکریٹری کو خط لکھنے اور اخبارات میںخ طوط بھیجنے کا فیصلہ کیاگیا۔ اللہ کے فضل سے امتحانات کی تاریخوں میں پندرہ دن کی مدت بڑھادی گئی۔ اس سے میر احوصلہ بڑھا۔ خلافت کمیٹی اور ملاجان محمد کانام اکثر سنتا تھااور ان کے ریلیف کے کاموں کے بارے میں بھی لوگ کیاچرچا کرتے تھے۔ میری رہائش گاہ۱۵۰/لور چیت پور میں گول کوٹھی کے پاس تھی جو خلافت کے دفتر سے قریب تھی۔ ہمت کرکے ملا جان محمد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے گزارش کی ایسے طلبہ و طالبات کو آپ کی طرف سے اگر کتابیں دی جائیں جو فساد کی وجہ سے کتابوں سے محروم ہیں تو بڑی اچھی بات ہوگی۔ ملاّ صاحب راضی ہوگئے۔ ایسے اسٹوڈنٹس کی فہرست دوڑ دھوپ کرکے تیار کی گئی جو ضرورت مند تھے اور کتابیں بھی پہنچادی گئیں۔ اس طرح دونوں مُہموں میں کام یابی سے میرے حوصلے بلند ہوئے۔

اسکول فائنل کے امتحان کے بعد ملاّ صاحب سے میرا ملنا جلنا شروع ہوا ۔ رابطہ بڑھتا گیا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ ہر صبح سویرے نماز فجر کے بعد ان کی خدمت میں میں حاضرہوتا۔ملاّ صاحب ہندستان کی بڑی شخصیتوں میں مولانا محمد علی جوہر کا ذکر سب سے زیادہ کرتے تھے۔ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان سے زیادہ وہ کسی اور سے متاثر نہیں ہیں۔ برسوں انھوں نے علی برادران﴿محمد علی شوکت علی﴾ کی خدمت کی تھی۔ آج کی پیڑھی شاید نہ علی برداران سے واقف ہے نہ ان کی تحریک خلافت کو جانتی ہے اور نہ خلافت کمیٹی کی حقیقت کاعلم رکھتی ہے۔ مولانا سیدابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے قلم سے اس دور کی تصویر کشی کی ہے جب خلافت تحریک چلائی جارہی تھی۔ اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو:

’’جنھوں نے۱۹۲۱-۲۲ کا زمانہ نہیں دیکھا، ان کو کیا بتایاجائے کہ اس وقت ہندستان کس طرح کوہ آتش فشاں بنا ہوا تھا، اتحادیوں کی فتح سلطنت عثمانیہ کے خلاف ان کے منصوبوں اور خلافت کو ختم کردینے کی کوشش کی خبر نے سارے ہندوستان میں آگ لگارکھی تھی،مسجدوں،مجلسوں،مدرسوں، گھروں، دکانوں اور خلوت و جلوت، کہیں گویا اس گفتگو کے سوا کوئی گفتگو نہ تھی، ہمارا شہر لکھنؤ جو شروع سے سیاسی تحریکوں کا بڑا مرکز رہا ہے، اس تحریک میں بھی پیش پیش تھا، اسی تحریک کے ایک بڑے رہنما مولانا عبدالباری صاحب اسی شہر کے رہنے والے تھے، جن کا دولت خانہ محل سرائے فرنگی محل اس تحریک کے ہندومسلم رہنمائوں کی لکھنؤ میں فرودگاہ تھا، اور خود گاندھی جی وہیں ٹھہرا کرتے تھے، اسی شہر میں چند سال پہلے مولانا شبلی نے اپنی وہ زلزلہ انگیز نظم پڑھی تھی، جو ’’ہنگامۂ بلقان‘‘ کے نام سے سارے ہندوستان میں مشہور ہوئی اور جس کے پہلے دو شعر یہ تھے :

خلافت پر زوال آیا تو یہ نام و نشاں کب تک

چراغ کشتۂ محفل سے اٹھے گا دھواں کب تک؟

زوال دولت عثماں زوال ملک و ملت ہے

عزیزو!فکرِ فرزندو عیال و خانماں کب تک؟

اسی زمانہ میں ہر بڑے چھوٹے بوڑھے بچے اور مرد و عورت کی زبان پر یہ شعر تھا :

بولیں اماں محمد علی کی

جان بیٹا خلافت پہ دے دو

ملاّ صاحب کا حافظہ بلا کاتھا۔ اُنھیں مولانا محمد علی جوہر کے سینکڑوں اشعار یاد تھے۔مولانا ظفر علی خاں ایڈیٹر زمیندار کے اشعار اور رباعیاں بھی سناتے تھے۔ مولانا ظفر علی خاں اور محمڈن اسپورٹنگ کے تعلق پر بھی کبھی کبھی مزے لے لے کر تبصرے کرتے تھے۔ کہتے تھے کہ جب ٹیم کامیاب ہوتی تو محمڈن کلب میں بیٹھ کر اشعار کہتے۔ ایک بار ۱۹۶۳میں ٹیم لیگ چمپئن ہوئی تو اسلامی ٹیم کی فتح اور انگریزی ٹیم کی شکست کے عنوان سے مولانا نے نظم لکھی جن کے دو اشعار ضرور سناتے:

جن کے بازو تھے قوی آج و مغلوب ہوئے

ناتوانوں نے توانائوں کو دی آج شکست

مرتبہ ہوگیا اسلام کا دنیا میں بلند

حوصلے ہوگئے انگریز کے بنگال میں پست

ملاّ صاحب فسادات کی آگ بجھانے اور مسلمانوں کاحوصلہ بلند کرنے میں جو حصہ لیتے تھے اس کی وجہ سے مسلمان ان کو قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ محمڈن کلب سے بھی زیادہ اسلامیہ اسپتال سے دلچسپی لیتے تھے۔ ڈاکٹر مقبول احمد اور ملاّ صاحب نے اسلامیہ اسپتال کے لیے کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ کل ہند مسلم مجلس مشاورت کوقائم کرنے اور اُسے کام یابی کے ساتھ چلانے میں ملّاصاحب کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ لکھنؤ کے اجلاس میں جب پورے ملک سے لوگ نئی امیدیں اور نئے حوصلے کے ساتھ جمع ہوئے تھے تو ایک وقت خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ بغیر کسی فیصلے کے اجلاس کااختتام نہ ہوجائے ملاّ صاحب نے تمام شرکاء کے سامنے کہا کہ وہ بغیر فیصلے اور نتیجے کے اپنی جگہ سے کسی کو اٹھنے نہیں دیں گے۔ بالآخر مثبت فیصلہ ہوا اور مشاورت وجود میں آگئی۔ مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے اجلاس کی روداد ختم کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’ اجتماع تین روز کی کارروائی اور بحث و مباحثے کے بعد جس میں کئی بار انتشار و بدمزدگی اور ناکامی کاخطرہ پیدا ہوا۔ خیر و خوبی سے ختم ہوگیا اور ملاّ جان محمد کے الفاظ میں جو وہ اپنے دوروں کی ہر تقریر میں کہا کرتے تھے، شرکائ جلسہ نے اعلان کیا: ’ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا۔‘‘

مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ نے مسلم مجلس مشاورت کے وجود میں آنے کی داستان بیان کرتے ہوئے ملاّ صاحب اور خلافت کمیٹی کا ذکر اس طرح کیا ہے:

’’اس اجتماع کو زیادہ شہرت نہیں دی گئی تھی اور اس سے بچنے کی کوشش کی گئی تھی کہ وہ سیاسی بازیگروں کا اکھاڑانہ بن جائے۔ لیکن اس پر ملک کے تمام درد مند مسلمانوں کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں اور وہ اس کی تجاویز اور نتائج کے لیے گوش برآواز تھے۔ ہندوستان کی چار موقر جماعتوں جمیعتہ العلماء، جماعت اسلامی، مسلم لیگ اور خلافت کمیٹی کے سربراہ اور صدر و سکریٹری موجود تھے۔ بعض دوسری مسلم تنظیموں ، تعمیر ملت حیدرآباد، امارت شرعیہ بہار کے ذمے دار بھی تھے، ہم جیسے کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن کا کسی سیاسی پارٹی سے تعلق نہ تھا، ان میں بمبئی کے محمد یٰسین نوری صاحب بیرسٹر، حیدرآباد کے محمد یونس سلیم صاحب ﴿ جو بعد میں مرکزی حکومت میں نائب وزیرقانون ہوئے﴾ مدراس کے این، ایم انور صاحب ممبر پارلیمنٹ اور بہار کے سابق ایم پی سید مظہرامام صاحب لکھنؤ کے ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی اور مولوی سید کلب عباس صاحب، صدر شیعہ کانفرنس خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ بعض سیاسی مشاہدین اور اخباروں کے نمایندے بھی شریک یا گوش بہ دیوار تھے جن میں سے بعض امریکاکے کثیرالا شاعت اخبارات سے بھی تعلق رکھتے تھے۔ اجتماع تاثیرو جذبات سے ڈوبی ہوئی ،فضا میں شروع ہوا،گویا ہندستانی مسلمانوں کی کشتی بھنور میں پھنسی ہے اور طوفان ہچکولے کھارہی ہے اور کشتی کے ناخدااس کو بچانے کی فکر میں ہاتھ پائوں مار رہے ہیں۔ قرآن شریف پڑھا گیااور خلافت کے دیرینہ خادم و کارکن ملاّ جان کی فرمائش پر اقبال کی نظم :

’یارب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے‘

پڑھی گئی جب خوش الحان کمسن طالب علم اس شعر پر پہنچا :

بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل

اس شہر کے خوگر کو پھر وسعت صحرادے

تو کئی آنکھیں پر آب ہوگئیں اور بہت سے دل امنڈ آئے۔‘‘

فروری 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau