کسے خبر کہ جنوں بھی ہے صاحبِ ادراک

خان یاسر

’’تم جوش میں اپنے ہوش کھو چکے ہو‘‘ ،’’جذبات کی رو میں بہہ کر فیصلے نہ کرو‘‘، ’’یہ جنون تمھاری زندگی برباد کردے گا‘‘۔ یہ اور اس قسم کے کئی جملے اکثر کانوں سے ٹکراتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جوش، جنون اور جذبات کوئی شجر ممنوعہ ہیں کہ جن کا پھل کھاتے ہی انسان جنت کے جملہ حقوق سے محروم ہوجائے گا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ خصلتیں یا تو سراسر گناہ ہیں یا کم ازکم تقوے کے معیار سے فروتر ہیں۔ یہ ذہنیت خصوصاً ہندستانی مسلمانوں کا خاصہ بن چکی ہے۔ وہی پھونک پھونک کر قدم اٹھانا، وہی دودھ سے جل کر چھاچھ کو پھونک پھونک کر پینا، وہی سانپ کے چلے جانے کے بعد لکیروںکو پیٹنا وغیرہ ۔ مسلم تنظیموں اور تحریکوں میں بھی اس بیماری کی جڑیں مضبوط دکھائی دیتی ہیں۔ وہی اسلام کا نام لینے سے ہچکچانا،وہی عوام میں نفوذ سے گھبرانا، وہی بات بات پر صفائی، وہی صبر و حکمت کی من چاہی تفسیر، وہی مکی دور، ہجرت حبشہ ،میثاق مدینہ اور صلح حدیبیہ کی من مانی تعبیر وغیرہ۔

کوئی کیسے بھول سکتا ہے کہ غصے کی طرح انسان کی فطرت میں جو بھی جذبات ودیعت کیے گئے ہیں، ان کا ایک مثبت اور ایک منفی پہلو ہے۔ ضرورت ان میں اعتدال کی ہے۔ یہ اتنی سادہ سی بات ہے کہ اس پر کسی علمی گفتگو کی حاجت نہیں ہے۔ ضرورت البتہ اس بات کی ہے کہ اس اعتدال کے نمونے اسلامی تاریخ سے دکھائے جائیں۔ اسلامی اعتدال گاندھی ازم کا عدم تشدد نہیں ہے۔ اسلامی اعتدال دو انتہا پسندیوں کے بیچ کا اعتدال ہے۔ فیصلوں کے لیے انسان کوجس طرح عقل دی گئی ہے، اسی طرح جذبات بھی دیے گئے ہیں۔ اعتدال یہ ہے کہ ان دونوں کا استعمال اپنے اپنے وقت پر کیا جائے۔ ہر وقت ، ہر میدان میں مجرد عشق کا راگ الاپنا اگر عشق کی رسوائی ہے؛ تو ہر وقت، ہر میدان میں مجرد عقل کے گھوڑے دوڑانا بھی حماقت ہے۔

آیئے اس ’کبھی کبھی‘ کی تفسیر کے لیے ہم حیات صدیقی کے چند اوراق الٹتے ہیں:

ایک انسان جس گھر میں پیدا ہوتا ہے، جس ماحول میں پرورش پاتا ہے، جن صحبتوں میں جوان ہوتا ہے؛ اس کے اثرات، فرد کی فکر، تخیلات اورنظریات پرمرتب ہوتے ہیں۔یہ چھاپ عموماً بڑی گہری ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پختہ عمر کو پہنچنے کے بعد انسان اپنی زندگی کے اساسی نظریات میں کسی تبدیلی کو جلد قبول نہیں کرتا۔ ایسی ہر تبدیلی کے خلاف اس کی مزاحمت شدید تر ہوتی ہے۔ طرح طرح کی مصلحتیں، مفادات اور تعلقات راستے روکتے ہیں۔ لیکن اس قاعدہ کلیہ سے چند خوش قسمت مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ  کے تعلق سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے، ’’میں نے جس کسی کو اسلام کی طرف بلایا اس نے کچھ نہ کچھ تردد اور ہچکچاہٹ کا اظہار ضرور کیا سوائے ابوبکر ابن ابی قحافہ کے۔ جب میں نے انھیں اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے بغیر کسی تامل کے میری آواز پر لبیک کہا‘ ‘۔

پھر اگر ایسے کسی نظریے پر دل مطمئن ہو بھی جائے اور سماج کے بندھنوں کی پروا نہ کرتے ہوئے آدمی اس نئے نظریے کو اپنانے کی ہمت اپنے اندر پائے، تب بھی کم از کم فوراً اس سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس نئے نظریے کی اس متحارب اور حوصلہ شکن سماج میں نشر و اشاعت کا بیڑا اٹھائے گا۔ خصوصاً ایک ایسے سماج میں جس سے اس کا روزگار وابستہ ہو۔ لیکن حضرت ابوبکرؓ  کی ذات ہمیں اس کلیے سے بھی مستثنیٰ نظر آتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ پر ایمان لانے کے بعد اگلے لمحے ہی سے وہ اسلام کا پیغام عام کرنے میں جٹ گئے۔ چنانچہ آپؓ  نے گلشن اسلام کے لیے حضرت عثمان بن عفانؓ ، زبیر بن العوامؓ ، عبدالرحمن بن عوفؓ ، سعد بن ابی وقاصؓ ، طلحہ بن عبیداللہؓ ، عثمان بن مظعونؓ ، ابو عبیدہ بن الجراحؓ ، ابو سلمہؓ ، خالد بن سعید بن العاصؓ ، جیسی کلیاں چن لیں۔ محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں:

’ہمارے نزدیک ان کے بلا توقف اور بلاتردد اسلام قبول کرنے سے بھی زیادہ تعجب انگیز امر ان کی وہ بے نظیر جرأت ہے، جو اسلام قبول کرتے ہی انہوں نے اس کی اشاعت کے سلسلے میں دکھائی۔ وہ نہ صرف دل و جان سے توحید و رسالت پر ایمان لائے بلکہ علانیہ ان باتوں کی تبلیغ بھی شروع کردی۔ اس بات کا مطلق خیال نہ کیا کہ اس طرح آئندہ چل کر ان کے لیے کتنے خطرات پیدا ہو ں گے۔ان کا شمارمکے کے معزز تاجروں میں ہوتا تھااور ایک تاجر کے لیے ضروری ہے کہ وہ لوگوں سے گہرے دوستانہ تعلقات رکھے اور ان باتوں کے اظہار سے احتراز کرے، جو عوام کے مروجہ عقائد و اعمال کے خلاف ہوں۔ مبادا اس کی تجارت پر برا اثر پڑے۔ اگر وہ خفیہ طور پر صرف رسول اللہ کی تصدیق پر اکتفا کرتے اور تجارت میں نقصان کے ڈر سے اپنے اسلام کو مخفی رکھتے تو بھی رسول اللہﷺ کو شاید کوئی اعتراض نہ ہوتا اور آپﷺ ان کی طرف سے محض اسلام کے اظہار ہی کو کافی سمجھتے۔ لیکن ابوبکرؓ  نے ایسا نہ کیا۔ وہ علانیہ اسلام لے آئے اوراپنی ساری زندگی اسلام کی خدمت کے لیے وقف کردی۔ انھوں نے نہ اپنی تجارت کا خیال کیا اور نہ کفار مکہ کی مخالفت اور ایذارسانی کا۔ بلکہ بڑے انہماک سے تبلیغ دین میں مشغول ہوگئے۔ ایسا جرأت مندانہ اقدام صرف وہی شخص کرسکتا ہے، جسے دین کے راستے میں نہ جان کی پروا ہو نہ مال کی اور جو مال و منال اور دنیوی وجاہت و عزت کو دین کی خدمت اور اس کی تبلیغ و اشاعت کے مقابلے میں بالکل ہیچ سمجھتا ہو۔‘

اپنے تعلقات کا استعمال کرکے اپنے عزیزوں کے درمیان تھوڑی بہت تبلیغ کر بھی ڈالی جائے تو بھی یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی ’’سمجھ دار‘‘ شخص بر سرعام، ایک معاندانہ مجمع میں حق کا اعلان کرنے کی ’حماقت‘کرے گا۔ پھر آج کل تو یہ خیال عام ہے کہ حق کا اعلان نہ کرنا حکمت کا بھی تقاضا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ’’جو لوگ سننے پر ہی راضی نہیں ہیں، انھیں سنانے سے کیا نفع مل جائے گا‘‘، ’’سنا کر زندہ تھوڑے ہی رہو گے۔ لیکن دعوت اور تحریک کو آگے لے جانے کے لیے تمھاری زندگی بڑی قیمتی ہے‘‘ وغیرہ۔ لیکن اس کلیے سے بھی ہمیں سیدنا ابو بکرؓ  کی زندگی مستثنیٰ نظر آتی ہے۔ بعثت نبوی کو بمشکل چار پانچ سال ہوئے ہوں گے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ  عین خانہ کعبہ میں مشرکین کے مجمع کے درمیان کھڑے ہوکر کلمہ حق کہہ گزرتے ہیں۔ ان کی اس للکار کو سن کر مشرکین چاروں طرف سے پل پڑتے ہیں لیکن ابوبکرؓ  جب تک ہوش میں رہتے ہیں زبان سے کلمہ حق کی آواز بند نہیں ہوتی اور ہوش آنے پر بھی زخموں سے چور ہونے کے باوجود آہ و کراہ سے بھی پہلے جو بات دہن مبارک سے نکلتی ہے وہ یہ کہ ’’خدا را مجھے بتاؤ کہ رسولِ خدا کیسے ہیں؟، کوئی مجھے ان کے پاس لے جائے … ان کی صورت دکھلا دے۔‘‘معراج کا واقعہ پیش آیا تو کفار قریش نے مسلمانوں کا خوب مذاق اڑایا۔ انھی میں سے کسی نے ابوبکرؓ  سے جاکر کہا کہ دیکھو تمہارے صاحب کہتے ہیں کہ وہ ایک رات میں فلسطین کا سفر کر آئے، آسمانوں کی سیر کی، کیا تم اس بات کو مانتے ہو؟ حضرت ابوبکرؓ  نے پوچھا: کیا واقعی وہ ایسا کہتے ہیں؟ کہا گیا ہاں۔ تب ابوبکرؓ  نے کسی طعن و تشنیع و استہزا کی پروا کئے بغیر ایمانی بصیرت کے ساتھ فرمایا: اگر حضورﷺ یہ کہتے ہیں تو وہ سچ کہتے ہیں۔ جب میں یہ مان سکتا ہوں کہ آسمان سے اللہ کا فرشتہ ان پر اللہ کا کلام لے کر اترتا ہے تو یہ کیوں نہ مانوں کہ اللہ ایک رات میں انھیں مسجد اقصیٰ کا سفر کراسکتاہے۔

اسی طرح ہم دیکھتے ہیں سورہ الروم کے نزول کے بعد باوجود اس کے کہ رومیوں کی کامیابی کے تمام امکانات معدوم تھے ، ابوبکرؓ  نے ابی بن خلف سے شرط باندھ لی کہ تین سال کے اندر اندر رومی غالب آئیں گے۔

زبانی جمع خرچ، لیڈرانہ تقاریر، احتجاجی جلوس، نعرے بازی کے مناظرتو بہت نظر آتے ہیںلیکن ایسی مثالیں کم نظر آتی ہیں کہ بے لوثی کی انتہاؤں کو عبور کرتے ہوئے کوئی سارا مال و اسباب کسی ’ناکام‘ کاز میں لٹا ڈالے۔ آغاز اسلام میں جب قبول اسلام کی پاداش میں کمزور، مظلوموں اور غلاموں کو دردناک اذیتیں دی جارہی تھیں تو ابوبکرؓ  اپنا مال بے دریغ انھیں خرید کرکے آزاد کرنے میں لگائے ہوئے تھے۔ چنانچہ سفاک، بے رحم اور جفاکار مالکوں کے چنگل سے انہوں نے بلال، عامر بن فہیرہ، نذیرہ، نہدیہ، جاریہ، بنی موئل، بنت نہدیہ رضی اللہ عنھم وغیرہ کو آزاد کرایا۔ مکے میں آپؓ  کی حیثیت ایک متمول تاجر کی تھی۔ قبول اسلام سے پہلے آپ کا سرمایہ چالیس ہزار درہم سے زائد کا تھا۔ مگر ہجرت کے وقت ان کی کل جمع پونجی بمشکل پانچ ہزار درہم تھی۔ مدینہ آکر بھی وہ تجارت کرنے لگے لیکن اپنا مال راہ حق میں اسی طرح لٹاتے رہے۔ حتیٰ کہ غزوہ تبوک کا موقع آیا تو اہل خانہ کے لیے ’اللہ اور اس کا رسول‘ چھوڑ آئے اور اپنا کل اثاثہ لاکر مسجد نبوی میں ڈھیر کردیا۔

عام طور پر ہوتا ہے کہ کسی سماج میں اپنی تعداد اور طاقت کے حساب سے جو گروہ زیادہ نمایاں ہوتا ہے، اس کی پسند و ناپسند کا لحاظ اقلیتی گروہ کو کرنا پڑتا ہے۔ اقلیتی گروہ کے لیے ’عقلمندی‘ اسی میں ہے کہ وہ اکثریتی گروہ سے صلح بنائے رکھے۔ لیکن حضرت ابوبکرؓ  ان دلیلوں کو نہیں مانتے تھے۔ چنانچہ وہ کھلے عام اسلام کا پیغام عام کرتے رہے اور کفار کی سخت مخالفت کا سامنا کیا۔ جب ہجرت حبشہ کی اجازت دے دی گئی تو ابو بکرؓ  بھی تیار ہوگئے کہ مکے میں ظلم و ستم کی انتہا ہوگئی تھی۔ ابھی راستے میں ہی تھے کہ ابن الدغنہ رئیس قارہ سے ملاقات ہوئی۔ وہ آپ کو ساتھ لیے مکہ آیا اور قریش میں اعلان کردیا کہ: ایسے آدمی کو نکالا نہیں جاسکتا جو محتاجوں کی خبر گیری کرتا ہے۔ قرابتداروں کا خیال رکھتا ہے، مہمان نوازی کرتا ہے، مصیبت زدوں کی اعانت کرتا ہے۔ آج سے یہ میری پناہ میں ہیں۔ قریش نے ابن الدغنہ کی امان کو تسلیم کرلیا لیکن ساتھ ہی کہہ دیا کہ ابو بکر کو سمجھادو کہ گھر میں نمازیں پڑھیں ا ورتلاوت قرآن مجید کریں۔ گھر سے باہر یہ حرکتیں برداشت نہ کی جائیں گی۔ ابو بکرؓ  نے گھر کے صحن میں مسجد بنا رکھی تھی۔ وہاں وہ رقت آمیز انداز میں تلاوت کرتے تھے۔ کفار کی عورتیں اور بچے جمع ہوجاتے اور متاثر ہوتے تھے۔ کفار ایک بار پھر ابن الدغنہ کے پاس پہنچے اور شکایت کی۔ ان کے تیور دیکھ کر وہ ابوبکرؓ  کے پاس آیا اور ان حرکات سے مجتنب رہنے کو کہا: ’’یا تو آپ شرائط کی پابندی کیجئے یا مجھے ذمہ داری سے بری سمجھیے‘‘ ۔ابو بکرؓ  نے جرأت آمیز انداز میں جواب دیا:’’مجھے تمہاری پناہ کی ضرورت نہیں، میرے لیے اللہ اور اسکے رسولﷺ کی پناہ کافی ہے‘‘۔ شمس نوید عثمانی اس موقع پر کہتے ہیں:

یا معبود! تیری اس دنیا میں کبھی خدا پر ایمان لانے والا دنیا پر بے نیازی سے لات مارکر خطرات کے منجدھار میں یہ اعلان کرسکتا تھا کہ ’ اس کو کسی کی پناہ درکار نہیں۔اس کے لیے تو خدا اور خدا کے رسولﷺ کی پناہ کافی ہے‘۔ لیکن آج ہمارے تصورات اس بات کو سوچ کر شل ہوجاتے ہیں کہ ’کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے؟ کیا خدا پر ایمان لانے والا خدا پر اس طرح عملی بھروسے کا مظاہرہ کرسکتا ہے؟  ‘ لیکن کاش ہم سوچ سکتے کہ یہ باتیں سوچنے کی نہیں، کر گزرنے کی ہیں۔ خدا پر بھروسے کا لطف اٹھایا ہی تب جاسکتا ہے، جب خدا کے لیے خطرات کو قبول کرنے کی جرأت دکھائی جائے۔ آگ اسی وقت پھولوں کی سیج بن سکتی ہے جب کوئی ابراہیم ؑ  خدا کا نام لے کر آگ میں کود پڑے—لیکن ہم چاہتے ہیں کہ خطرہ مول لینے سے پہلے خدا کی پناہ کا دروازہ ہمارے لیے چوپٹ کھول دیا جائے۔ آگ کے شعلے پہلے لالہ و گل میں ڈھل جائیں —پھر ہم الا اللہ کرکے اس میں کود پڑیں ۔ سچے مومنوں نے کبھی یوں نہیں سوچا—اور ہم ہمیشہ ہر وقت اسی طرح سوچ رہے ہیں!!

آج کے اس دور میں مسلمانوں کی ہزاروں انجمنیں اور جماعتیں قائم ہیں۔ اطاعت امیر کے تعلق سے آئے دن لیکچر ہوتے ہیں، مضامین لکھے جاتے ہیں۔ لیکن پھر ایک دن ہم دیکھتے ہیں قائد کی اطاعت پر لمبی لمبی تقریریں کرنے والے جب تنقید پر اترتے ہیں تو اپنے قائد کی تنقیص میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ نظم کی اطاعت تبھی ہوتی ہے جب نظم ان کی سنے۔ لعن طعن ، فتنہ و فساد ، فرقہ بندی اور نہ جانے کیا کیا روز مرہ کا معمول ہے۔ اطاعت یقینا ہوتی ہے لیکن اس میں قانونیت کتنی ہے، چاپلوسی کتنی ہے اور محبت کتنی اس کا حال تو اللہ ہی کو معلوم ہے۔ حضرت ابوبکرؓ  کا معاملہ یہ تھا کہ ہجرت کے وقت جب غار ثور پہنچے تو آپﷺ کو باہر کھڑا کیا، خود اندر داخل ہوئے ، غارکی صفائی کی۔ غار میں جو متعدد سوراخ تھے انھیں اپنی چادر پھاڑ پھاڑ کر بند کیا اور اس کے بعد آپﷺ کو اندر بلایا۔ آپﷺ کو اپنے زانو پر لٹایا۔ یکایک ایک ایسے سوراخ سے جو بند ہونے سے رہ گیا تھا ایک سانپ نے سر نکالا تو صدیق اکبرؓ  نے اپنے پیرکا انگوٹھا اس سوراخ میں ٹھونس دیا۔ جب سانپ نے ڈس لیا تو بھی ہل کر یا چیخ چلا کر آپﷺ کو زحمت دینا انھیں گوارا نہ ہوا۔ بل کہ یونہی دم سادھے برداشت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ خود آپﷺ کی آنکھ حضرت ابوبکرؓ  کے بے اختیاری میں گرے ہوئے ایک قطر ہ آنسو سے کھل گئی۔ اپنے جاںنثار رفیق کو یوں بے چین دیکھ کر آپﷺ نے ماجرا دریافت فرمایا۔ جناب ابوبکرؓ  نے کہا: ’’میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، سانپ نے کاٹ لیا‘‘ اس نحیف و نزار آواز میں درد سے زیادہ محبت پنہاں بلکہ رقصاں تھی۔ آپﷺ نے کٹے ہوئے مقام پر شفقت سے اپنا لعاب دہن لگادیا جس کی وجہ سے زہر کا اثر زائل ہوگیا۔

اسی سفر ہجرت کے دوران حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کبھی آپﷺِ سے آگے ہوجاتے کبھی پیچھے ہوجاتے، آپ ﷺِنے وجہ دریافت فرمائی تو جواب آیا، ’’یا رسول اللہ! مجھے لگتا ہے دشمن آگے سے آتا ہوگا تو میں آگے ہوجاتا ہوں، پھر محسوس ہوتا ہے کہ کہیں وہ پیچھے سے تعاقب نہ کر رہے ہوں تو میں پیچھے ہوجاتا ہوں۔ ‘‘

غزوہ بدر میں حضرت ابو بکرؓ  مومنین کے ۳۱۳جیالوں میں شامل تھے۔ بدقسمتی سے ان کے بیٹے عبد الرحمٰن نے اب تک اسلام قبول نہیں کیا تھا اور وہ کفار کی طرف سے لڑنے آئے تھے۔ عبدالرحمٰن کافی بہادر اور غضب کے شمشیر زن تھے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر مسلمانوں کو دعوت مبارزت دی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ  طیش میں آگئے اور ان کے مقابلے پر جانا چاہا لیکن آپﷺ نے اس کی اجازت نہیں دی۔ عبدالرحمٰن نے بعد میں اسلام قبول کرلیا۔ ان کے قبول اسلام کے بعد کسی مجلس میں غزوہ بدر کا تذکرہ آ نکلا۔ عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ  نے اپنے والد کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ، ’’بدر میں ایک موقع پر آپ میری تلوار کی زد پر آگئے تھے، لیکن میںنے حق پدری کا لحاظ کرکے چھوڑدیا‘‘؛حضرت ابوبکر صدیقؓ  نے کافی سنجیدگی سے جواب دیا، ’’لیکن بیٹے، اگر اس دن تو میری تلوار کی زد پر آجاتا تو خدا کی قسم میں تجھے کبھی نہ چھوڑتا‘‘۔

ریاست کی سالمیت اور سیکورٹی کا مسئلہ ایسا مسئلہ ہے جو ہمیشہ ٹھنڈے دماغ سے غوروفکر کا طالب ہے۔ یہاں بھی اسوہ صدیقی کچھ مختلف ہی سا ہے۔ رحلت نبوی کے بعد سارا عرب ایک آتش فشاں کے دہانے پر کھڑا تھا۔ مکہ اور طائف تک اسلام کا قلادہ گردن سے اتارنے کی سوچ رہے تھے۔ قبائل عبس، ذبیان ، بنو کنانہ، غطفان، اور فزارہ وغیرہ نے زکوۃ دینے سے انکار کردیا تھا۔ طلیحہ ﴿بنی اسد﴾، سجاح ﴿ بنی تمیم﴾، مسیلمہ ﴿بنی حنیفہ﴾، اسود عنسی ﴿یمن﴾ نے نبوت کا دعوی کردیاتھا ۔ لقیط کی شر انگیزیوں سے عمان کا سکون غارت تھا۔ متعدد اسکالرس نے ان بغاوتوں میں بلاواسطہ نہ سہی تو بالواسطہ روم اور ایرانی کارفرمائی کا بھی ذکر کیا ہے۔ ریاست کی سلامتی Internal Securityکے ضمن میں ایک طرف یہ تشویشناک صورت حال تھی تو دوسری طرف خلیفۂ اول صدیق اکبر کا پہلا حکم صادر ہوتا ہے۔ لشکر اسامہ کو کوچ کا حکم۔ یہ کیسا حکم ہے؟ کیسی منطق ہے؟ کیسی سیاست ہے؟کیسی حکومت ہے؟ مدینہ میں ایک ہیجان برپا ہوجاتا ہے۔ ایسی سنگین صورت حال میں ایک لشکر کو مرکز سے اتنی دور شام بھیج دینا کوئی دانشمندی تو نہیں۔ چہ میگوئیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ ابوبکرؓ  سے کہا جاتا ہے کہ کہ لشکر کی روانگی کا حکم منسوخ کردیں تاکہ بڑھتے ہوئے فتنوں کا قلع قمع ہو اورمرتدین کی سرکوبی میں آسانی ہو۔ خلیفہ کا جواب تھا :’’اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مجھے یہ یقین ہو کہ جنگل کے درندے اکیلا پاکر مجھے پھاڑ کھائیں گے تو بھی میں اسامہ کے اس لشکر کو روانہ ہونے سے نہیں روک سکتا جسے رسول اللہﷺ نے روانہ ہونے کا حکم دیا تھا۔

یہ وہی زمانہ ہے جب اسلامی ریاست پر خطروں کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ لشکر اسامہ اپنی مہم پر شام روانہ ہوچکا تھا۔مدینے میں لڑنے کے قابل لوگ برائے نام ہی رہ گئے تھے۔ مدینے کے نواحی قبائل؛ عبس اور ذبیان، منکرین زکوۃ میں شامل تھے۔ کسی وقت بھی حملہ ہوسکتا تھا۔ عوام سے لے کر خواص تک کی رائے تھی کہ منکرین زکوۃ کو اداے زکوۃ کے لیے مجبور نہ کیا جائے اور نرمی اور ملائمت سے انھیں ساتھ ملا کر ان قبائل کے مقابلے میں آمادۂ پیکار کیا جائے، جنھوں نے کھلم کھلا اسلام سے انحراف کیا تھا۔کیونکہ منکرین زکوٰۃ سے جنگ کرنے، اور سر دست جنگ کرنے، سے مسلمانوں کے دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ ہوجاتی اور اسلامی لشکر کی غیر موجودگی میں بپھرے ہوئے باغی قبائل سے لڑائی چھیڑ دینا آسان کام بھی نہ تھا۔ ایسے میں ابوبکر ؓ  کا ایک اور فیصلہ تاریخ کے صفحات میں سنہرے حرفوں سے درج ہوجاتا ہے: ’’واللہ! اگر منکرین زکوۃ مجھے ایک رسی دینے سے بھی انکار کریں گے جسے وہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں ادا کیا کرتے تھے، تو بھی میں ان سے جنگ کروں گا۔ ‘‘عام مجلس شوری میں حضرت ابوبکر صدیق کے اس اعلان سے سناٹا چھا جاتا ہے۔ موجود تمام لوگ بشمول حضرت عمرؓ  اس فیصلے کے خلاف تھے۔ ابوبکرؓ  کا یہ واشگاف اعلان سن کر عمرؓ  بھی تیزی میں آگئے اور فرمایا، ’’ہم ان لوگوں سے کس طرح جنگ کرسکتے ہیں، جبکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ مجھے اس وقت تک لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ زبان سے لاالہ الا اللہ محمد الرسول اللہ نہ کہہ دیں۔ جو شخص یہ کلمہ زبان سے ادا کردے گا، اس کی حفاظت جان و مال مسلمانوں کے ذمے ہوگی۔ البتہ جو حقوق اس پر واجب ہوں گے اس کی ادائی کا مطالبہ اس سے ضرور کیا جائے گا۔ ہاں اس کی نیت کا حساب اللہ اس سے خود لے گا۔ ‘‘ لیکن صدیق اکبر پر یہ دلائل بے اثر ثابت ہوئے اور انھوں نے مزید ایقان سے فرمایا: ’’واللہ! میں صلوۃ اور زکوۃ میں فرق کرنے والے لوگوں سے ضرور لڑوں گا کیونکہ زکوۃ مال کا حق ہے اور رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ اسلام قبول کرنے والے لوگوں کے ذمے جو حقوق ہوں گے ان کی ادائیگی کا مطالبہ بہرحال کیا جائے گا۔‘‘

پھر اتنا ہی نہیں بلکہ جب منکرین زکوٰۃ قبیلوں کے وفد ابوبکرؓ  سے ملنے کے لیے مدینہ آئے اور انہوں نے مسلمانوں کی کمزور صورت حال کا اچھی طرح اندازہ لگالیا تو بھی ابوبکرؓ  نے کسی ڈپلومیسی کے بغیر صاف صاف اسلامی حکومت کی پوزیشن کا اعلان فرمادیا۔ پھر ان وفود کی واپسی کے بعد مسلمانوں کو جمع کرکے فرمایا:

’’تمہارے دشمن تمہارے چاروں طرف ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور انھیں تمہاری کمزوریوں کا علم ہوگیا ہے۔نہ معلوم دن اور رات کے کس حصے میں وہ لوگ تم پر چڑھ آئیں۔ وہ تم سے ایک منزل کے فاصلے پر خیمہ زن ہیں۔ ابھی تک وہ اس امید میں تھے کہ تم، ان کی شرائط قبول کرلو گے، لیکن اب ہم نے ان کی شرائط ماننے سے انکار کردیا ہے اس لیے وہ ضرور تم پر حملہ کرنے کی تیاریاں کریں گے۔ تم بھی اپنے آپ کو لڑائی کے لیے تیار رکھو۔‘‘

ایسی نازک صورتِ حال میں اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنے کے بدلے آگے بڑھ کر دشمنوں پر پل پڑنا ایک سخت جوکھم کا کام تھا۔ لیکن ٹھیک یہی فیصلہ ابوبکرؓ  صادر کرتے ہیں۔ اور خود فوج کی کمان سنبھال کر منکرین زکوۃ کو مدینہ کے اطراف و اکناف سے کھدیڑ دیتے ہیں۔ صرف دفاع نہیں بلکہ اس فتنے کے مکمل استیصال کے لیے اسی آدھی ادھوری فوج کی قیادت کرتے ہوئے ذی القصہ تک تشریف لے جاتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں: ’’اے خلیفہ آپ اپنے آپ کو خطرے میں نہ ڈالیں کیونکہ خدانخواستہ آپ کو کوئی ضرر پہنچ گیا تو اسلامی سلطنت کا نظام تہہ و بالا ہو جائے گا‘‘، اور صدیق اکبر فرماتے ہیں: ’’واللہ میں ہرگز پیچھے نہ رہوں گابلکہ تمہارے ساتھ رہ کر تمہاری ہمتوں کوبلند رکھوں گا۔‘‘

خلاصۂ کلام یہ کہ اسلام اگر عقل سے کام لینے پر آمادہ کرتا ہے تو عشق کو بھی کارگزاریاں دکھلانے کا موقع دیتا ہے۔ یہ اگر واقعات کا خیال رکھتا ہے تو جذبات کا بھی پاس رکھتا ہے۔ یقینا جوش میں ہوش کھودینا کسی مومن کے شایان شان نہیں۔ لیکن ہوش میں جوش کھودینا بھی اگر عظیم تر نہیں تو کم ازکم ویسا ہی جرم ہے، جیساکہ جوش میں ہوش کھودینا جرم ہے۔

ایسے ہی لوگوں کی آج زمانے کو ضرورت ہے جو عشق کے کمال درجے پر فائز ہونے کے باوجود عقل کے بحر ظلمات میں گھڑسواری کے فن سے آشنا ہوں اور وہ جو عقل کے سمندر کے شناور ہونے کے ساتھ ساتھ عشق کے صحرا کی خاک چھاننے سے نہ ہچکچائیں۔

بتاؤں تجھ کو مسلماں کی زندگی کیا ہے؟

یہ ہے نہایتِ اندیشہ و کمالِ جنوں

اگست 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau