کسریٰ کا تاج

شیخ علی طنطاوی | ترجمہ: اکمل فلاحی

سراقہ: مجھے بیس کی توسخت ضرورت ہے ہی !لیکن سوچ رہا ہوں کہ سو کیسے حاصل کروں؟

آدمی: قبیلہ قریش کے سرداروں کو ان کا مطلوب شخص تلاش کرکے دے دو، کیونکہ قریش جب اس کے خلاف سازش کررہے تھے اور اسے قتل کرنے کی ٹھان لی تھی تو وہ مکہ سے نکل گیا، اور امکان ہے کہ مدینہ کی طرف ہجرت کرگیا۔ اس کے نکلنے کی خبر پاتے ہی قریش نے اپنے جاسوس اور قاصد مکہ کے راستوں اور اس کی گھاٹیوں میں روانہ کردیے۔ انھوں نے صحرا کا چپہ چپہ چھان مارا مگر اس کا سراغ نہ لگا سکے۔ بالآخر وہ مایوس ہوکر واپس آگئے۔ قریش نے عرب بھر میں اعلان کرادیاکہ جو محمد کو تلاش کرکے لائے گا اسے انعام میں سو اونٹ ملیں گے۔ میں نے کچھ دیر پہلے راستے میں تین سوار اپنے سامنے سے گزرتے ہوئے دیکھے ہیں۔ میری حس کہتی ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنھیں قریش تلاش کررہے ہیں۔ تو کیا تم پسند کروگے کہ ہم تعاقب کرکے انھیں پکڑ لیں اور مکہ واپس لے آئیں اور پورے سو اونٹ حاصل کرکے آپس میں بانٹ لیں؟

یہ سنتے ہی سراقہ کا دل خوشی سے جھوم اٹھا۔ لالچ اس کے دل میں سما گئی۔ سراقہ بڑامکار اور شریر انسان تھا۔ اس نے پورا مال غنیمت اکیلے ہی ہتھیا لینے کا تہیہ کر لیا، اوراپنے ساتھی سے کہا: نہیں بھئی، وہ لوگ وہ نہیں ہیں جو تم سمجھ رہے ہو۔ میں جانتا ہوںوہ تو فلاں کے بیٹے ہیں جو اپنی گم شدہ اونٹنی تلاش کررہے تھے۔ اس آدمی نے سراقہ کی بات سچ مان لی اور واپس چلاگیا۔

ادھرسراقہ ہر شام کی طرح اپنی قوم کی مجلس میں جاکر بیٹھ گیا۔ لیکن اسے ایک پل بھی چین نہ تھا۔ اس نے مجلس میں ہونے والی کسی بات پر دھیان نہیں دیا۔ وہ تو بس سوچ رہا تھا کتنی جلدی قریش سے اونٹ کا گلہ حاصل کرلے۔ جسے پاکر وہ خوشی سے ناچے، لالچ اس کے خیالات پر چھاتی چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ مجلس سے اٹھا اور اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے دولت سے آبادمستقبل کو دیکھ رہا تھا۔ تمام ممکنات کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ پورے سو اونٹ پانے کی فکرمیں ڈوبا ہوا تھا۔ آیا وہ انھیں حاصل کرکے ان کا مالک بن جائے گا۔ اور پھروہ بچے جنیں گے اور ان کی نسل پھیلے گی۔ ان میں سے وہ ذبح کرکے بھوکوں کو کھلائے گا، مہمانوں کی ضیافت کرے گا اورمسافروں کی مدد کرے گا۔ اس طرح عرب میں دور دور تک اس کی خوب شہرت ہوگی، شاعر اس کی شان میں قصیدے کہیں گے، اور اس سے عطیہ طلب کریں گے اورقافلے والے اس کی مدح خوانی کرتے ہوئے گزریں گے۔ لیکن اگر یہ نہیں ہوا تو پھر وہ محروم ہی رہے گا، اور سفر میں سورج کی شدید گرمی، جان لیواپیاس کی شدت اور لمبی مشقت کے علاوہ اسے کچھ نہ ملے گا؟ وہ اس قدرفکر میں ڈوبا رہتا کہ اس سے نکلنا مشکل ہوتا۔ اس کی طبیعت کسی پل ایک راے پر نہیں جمتی۔ ہر وقت اس کی راے بدلتی رہتی۔ کبھی کہتا: میں کیوں نہ جاؤں؟ یقیناً میں انھیں پالوں گا اور قریش کے سامنے حاضر کروں گا۔

کبھی سوچتا: لیکن کیا قریش کے قاصد ان تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام نہیں ہوگئے؟ بھلا میں انھیں کیسے پاسکتا ہوں؟ نہیں، میں انھیں ضرور پالوں گا۔ میں تومدینہ جانے والے ہر راستے کی خاک چھانوں گا۔

مگر ہائے نادانی! کیا قریش کے قاصد ان تمام راستوں پر نہیں نکلے؟

جب پس وپیش نے اسے تھکا مارا تو اپنی قسمت آزمانے اور چانس لینے کی ٹھان لی۔ اس نے اپنے تیر نکالے اور فیصلہ ان کے حوالے کردیا: اگر میری پسند کا تیر نہ نکلا تو اونٹنیاں میرے حصے میں نہ آئیں گی اور اگر میری پسند کا تیر نکلا تو اونٹنیاں میری ہوں گی، فیصلہ تیر ہی کریں گے۔

جب اس نے پہلی بار فال نکالاتو اس کا ناپسندیدہ تیر نکلا۔ اسے بڑا دکھ ہوا اوریہ بات اس پر بڑی شاق گزری۔ کیونکہ اس نے تو ان تیروں کا قصد کیا تھا جن کی مدد سے سفرپر نکلنے کا عزم کرتانہ کہ بے کار بیٹھ رہنے سے دل چسپی لیتا۔ تواس نے کہا: یہ پہلا تجربہ تھا۔ یہ تیر شیطان کے حق میں تھا۔ بے شک میں دوبارہ فال نکالوں گا اور یہ دوسرا تیر ہمارے معبودوں کا ہوگا۔ جب اس نے دوبارہ فال نکالا تو پھر اس کاناپسندیدہ تیر نکلا۔ تب اس نے دل میں کہا: مجھے کیا ہوگیا ہے؟ کیا کوئی شخص صرف دوبار کے تجربے پر قناعت کرتا ہے؟ یقیناً تیسری بارپر بھروسہ کرنا ہوگا۔ اس نے تیسری بار فال نکالاتو پھر وہی ناپسندیدہ تیر۔ اس کی پیشانی سے سرد پسینہ ٹپکنے لگا۔ غصے کے مارے اس نے سارے تیر پھینک دیے اور اپنے غلام کو گھوڑے کی زین کسنے اور اسے وادی کے نشیبی علاقے میں لے جانے کا حکم دیا۔

سراقہ نے رات گزر جانے تک توقف کیا اور وقتِ سحر مدینہ کے راستے پر چل پڑا۔ صبح تک چلتا رہا مگر لوگوں کا کوئی سراغ نہیں لگا پایا۔ بالآخر پیچھے لوٹ کر ساحل کا راستہ اختیار کیا لیکن وہاں بھی اسے کوئی نہیں ملا۔ اب سورج ڈھل چکا تھا۔ دوپہر سخت ہوگئی تھی۔ زمین آگ اگل رہی تھی۔ پیاس کی شدت اس کے پیٹ کو جلا رہی تھی۔ لیکن لالچ اسے اکساتی اور اس کا گھوڑا تیز تیز دوڑنے لگتا۔ کبھی وہ اپنے دائیں بائیں ٹیلوں پر نگاہ دوڑاتا اور کبھی بعض ٹیلوں کے دامن تک جا پہنچتا۔ یہاں تک کہ جب مایوسی کا شکار ہوجاتا تو اپنا گھوڑا چھوڑ دیتا جو پھر سست رفتاری اور شکست خوردگی کے ساتھ چلنے لگتا۔ اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ جب تکان، بھوک، پیاس اور مایوسی اپنی حد کو پار کرگئی تو اچانک اسے غار کے پاس محمد اور اس کے ساتھی نظر آئے۔ انھیں دیکھتے ہی اس کی رگ وپے میں توانائی کی لہر دوڑ گئی۔ جوش وخروش اوربشاشت وحرکت کی نئی امنگ امڈ پڑی۔ اس نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور برق رفتاری سے غار کی طرف چل پڑا۔

ابو بکر صدیق نے گھبرا کر کہا: اے اللہ کے رسول اس سوار نے ہم کو پالیا ہے۔ اور وہ روپڑے۔ آپﷺفرماتے ہیں: اے ابو بکر کیوں رورہے ہو؟

انھوں نے کہا: بخدا میں اپنے سلسلے میں نہیں بلکہ آپ کی جان کو کہیں خطرہ نہ لاحق ہو جائے اس پر رورہا ہوں۔ توآپﷺنے سراقہ کی طرف دیکھ کر دعا کی: ’’اے اللہ ہمیں اس کے شر سے جس طرح تو چاہے محفوظ رکھ‘‘ اور اسی وقت گھوڑے کے چاروں پاؤں زانوؤں تک ریت میں دھنس گئے۔ ۔ ۔

سراقہ یہ بھیانک منظر دیکھتے ہی گھوڑے سے کود پڑا۔ ڈر کے مارے اس کی عقل غائب ہوگئی۔ گھبراہٹ نے اسے لالچ کی بیماری سے باہر کھینچ نکالا۔ اس نے چیخ کر کہا:

اے محمد! مجھے یقین ہے، میرے اوپر یہ مصیبت آپ کی طرف سے آئی ہے۔ میں التجا کرتا ہوں، اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے اس مصیبت سے نجات دے دے۔ اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کے تعاقب میں جو بھی نکلے گا، اسے واپس لوٹا دوں گا۔ اس پر رسول اللہﷺنے دعا فرمائی اے اللہ اگر یہ سچ بول رہا ہے تو اسے نجات دے دے، اور اللہ کا کرنا اسی وقت اسے نجات مل گئی، اور گھوڑا ریت سے باہر آگیا۔

حضور ﷺ نے سراقہ سے فرمایا کہ اے سراقہ! اس وقت تیری کیا کیفیت ہوگی جب تو کسریٰ کے کنگن پہنے گا؟

سراقہ متضاد افکار وخیالات اور احساسات وجذبات لیے واپس لوٹتا ہے۔ اس کا دل لالچ اور خوف اور امید ومایوسی سے جوش ماررہاتھا۔ وہ صحرا میں زور زور سے قہقہی لگانے اور پاگلوں کی طرح چیخنے لگا۔ وہ پاگل کیوں نہ ہوتا؟ اس لیے کہ وہ جس مال داری کی امید لگائے بیٹھا تھا اس سے چھن گئی تھی۔ مال داری کی یہ لالچ اس کے سامنے موت بن کرآ کھڑی ہوئی۔ قریب تھا کہ زمین پھٹ پڑے اوراسے نگل جائے مگر وہ بچ گیا۔ وہ صرف ایک وعدہ لے کر واپس آیا۔ ایسا وعدہ جو خاردار جھاڑی سے گزرنے، آگ کا دریا پار کرنے اور طوفانی سمندر کا سفر طے کرنے کے مترادف تھا۔

کیا؟ کیا محمد مجھ سے کسریٰ کے کنگن کاوعدہ کررہے ہیں۔ کسریٰ جو ایران کا عظیم بادشاہ ہے۔ ۔ ۔ محمد؟جوکہ اپنی قوم سے بھاگ کر، صحرا کا سفر طے کرکے غار میں چھپا ہے، اس کے ساتھ ایک آدمی کے سوا کوئی بھی نہیں ہے؟ کیا یہ غار، کسریٰ کے ملک اور اس کے جاہ وجلال کو نگل جائے گا؟ کیا یہ صحرا، کسریٰ کے ملک، اس کے باغ اور اس کی نہروں پر غالب آجائے گا؟کیا یہ دونوں تارکِ وطن، کسریٰ کے خزانوں، اس کے لشکروں اور اس کے ملک پر چھا جائیں گے؟ چاہے پورا عرب متحد ہوجائے اورسب مل کر ایک ساتھ حملہ کریں تب بھی کسریٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ پہلی بات تو پورا عرب کبھی متحد ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ بتاؤ کہ دشمن قبیلوں کی نفرت کون دور کرے گا؟ مضر اور قحطان کو کون متحد کرے گا؟ بکر اور تغلب کو کون یکجاکرے گا؟عبس اور ذبیان کو کون اتحاد آشنا کرے گا؟ اور ان تمام قبیلوں کے مابین جو بے حد وحساب خون بہا ہے اس کا کیا ہوگا؟

کیا قریش کو اپنے (بھاگے ہوئے) شخص کے بارے میں اچھی طرح نہیں معلوم ہے جب کہ لوگ اس کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کہہ رہے تھے؟ میں نہیں سمجھتا کہ وہ قریش سے بچ نکلے گا اور ان کی ایذا رسانی سے محفوظ رہ سکے گا۔ چہ جائے کہ اسے کسریٰ کا ملک نصیب ہو۔ ۔ ۔ بخدا وہ تو ہمیں بھی اپنی طرح پاگل بنا دینا چاہتا ہے!

وہ قہقہہ لگا لگاکراور چیخ چیخ کر کہتا:

ستیاناس ہو تیرا اے سراقہ! کیا تو کسریٰ کے کنگن پہنے گا۔ ۔ ۔ کسریٰ جو شہنشاہ ہے۔

اس کا گھوڑا اس کی چیخ سے بدکتا اور سرپٹ بھاگتا۔ اس طرح وہ بھاگتے بھاگتے ٹیلوں کے پیچھے جا چھپا۔

سالہا سال گزر گئے۔ ایک دن کی بات ہے۔ شدید گرمی کا دن تھا، سراقہ گرمی سے بچنے کی خاطر بھاگ کر اپنے باغ چلا گیا، ابھی اطمینان کی سانس لی ہی تھی کہ اچانک اس نے ایک آواز سنی:

اے سراقہ!اے سراقہ بن مالک!

آواز سنتے ہی اس نے زور سے کہا: لبیک۔

اور پھر آواز کی طرف چل پڑتا ہے۔ یکایک دیکھتا ہے کہ حضرت عمر کا قاصد اس سے پکار کر کہہ رہا ہے کہ امیر المؤمنین تمہیں بلارہے ہیں۔

اس وقت سورج حضرت عمر کے بالکل سامنے تھا۔ اپنی تیز شعاعوں سے نگاہوں کو خیرہ کررہا تھا۔ اور کسریٰ کا تاج ان کے سامنے رکھاتھا۔ لوگ اس کے بارے میں گفتگوکررہے تھے۔

عمر: آؤ اے سراقہ۔ ۔ ۔ کیا تمھیں غار کا واقعہ اورکسریٰ کے کنگن کے بارے میں کچھ یاد ہے؟

سراقہ: جی یاد ہے۔

عمر: اللہ تعالیٰ نے اسلام کی بدولت کسریٰ کے ملک کا خاتمہ کردیا، آج کے بعد کسی کسریٰ کے وجود کا کوئی سوال نہیں۔ اپنا ہاتھ بڑھاؤ۔ سراقہ ہاتھ بڑھاتے ہیں اور حضرت عمر انھیں دونوں کنگن پہناتے ہیں اور فرماتے ہیں: انھیں اوپر اٹھاؤ اور کہو:

اللہ اکبر۔ شکر ہے اللہ کا جس نے انھیں کسریٰ بن ہرمز سے چھین کر بنی مدلج کے ایک اعرابی، سراقہ بن مالک کو عطا کیا۔

اے سراقہ! یقیناً دو مہاجر قیصر وکسریٰ پر غالب آگئے۔ حالانکہ دونوں دنیا کی عظیم بادشاہتیں تھیں۔

اے سراقہ! مکہ کی سرزمین سے پھوٹنے والی روشنی آج پوری دنیا میں پھیل گئی۔

اے سراقہ!ایک غار عراق اور شام پر غالب آگیا اور صحراپورے عالم پر چھا گیا۔

اے سراقہ! قیصر وکسریٰ کا ملک بڑا عظیم اور طاقت ور تھا مگر اللہ ہمیشہ اہلِ ایمان کا ساتھ دیتا ہے۔

اے سراقہ! اللہ سب سے طاقت ور ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔

ایک شخص: میرے محترم شیخ! مگر جب دل سخت ہو جائیں تو اس کا علاج کیا ہے؟

شیخ: شیطان انسان کو یہ احساس دلا کر اس کے اوپرمسلط ہوتا ہے کہ وہ کمال کے مرتبہ کو پہونچ چکا ہے۔اس لیے تم اپنے نفس کو کمی اور کوتاہی کا احساس دلاتے رہو۔ صحت کی حالت میں بیماری لاحق ہونے اور اور زندگی میں موت آنے کی یاددہانی کراؤ۔ ہم نے اپنے ایسے بزرگ بھی دیکھے کہ جب وہ دل میں سختی محسوس کرتے تو دل کی اصلاح کے لیے یا تو اسپتال کا رخ کرتے یا پھر قبرستان کا۔ وہ اپنے نفس کو بیماری سے ڈراتے،  اوراسے موت کی یاد دلاتے۔ مومن جب تک خوف وامید کی حالت میں جیتا ہے تب تک وہ خیر وعافیت کی دولت سے مالامال رہتا ہے۔ مگر جب وہ ڈرنا چھوڑدیتا ہے اور امید توڑ لیتا ہے تو پھر خواہشِ نفس کے پیچھے چل پڑتاہے۔

ہم نے سنا ہے کہ بعض بزرگوں کا حال یہ تھا کہ اپنا ہاتھ چراغ کے قریب کرتے اور کہتے: اے نفس! تیری شامت آئی ہے، اگر تو اس آگ کی لَو برداشت نہیں کرسکتا ،تو بتا جہنم کی آگ کیسے جھیلے گا؟

مومن کے دل میں تو جب کبھی نفسانی خواہش بھڑکتی ہے تو وہ اسے جنت کی نہروں سے بجھا دیتا ہے یا  جہنم کی آگ سے جلا دیتا ہے اور اس سے نجات پالیتا ہے۔۔۔ اگر عقل نہ ہو تو انسان انسان کہاں رہ جاتا ہے؟ اور عقل کے ساتھ ایمان نہ ہو تو پھر وہ عقل ہی کہاں رہ جاتی ہے؟

ایسا انسان اس کے سوا کیا رہ جاتا ہے کہ پیدائش سے پہلے حقیر سا نطفہ اور مرجانے کے بعد سڑی ہوئی لاش۔ یقیناً بادشاہت کا ایک نشہ ہوتا ہے، اس لیے لوگوں کے او پراقتدار کا نشہ جسے مدہوش کرنے لگے ،اسے خدا کے مقابلے میں اپنی ناتوانی اور بے بسی یادکرنی چاہیے۔ اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ نے مچھر جیسی کم زور مخلوق کے ذریعے نمرود جیسے طاقتور بادشاہ کو ہلاک کردیا تھا۔ہائے انسان تیری ابتدا مٹی سے ہوئی ہے اور یاد رکھ تیری انتہا بھی مٹی ہی ہوگی!

شیخ گفتگو فرمارہے تھے اور پاشا محسوس کررہا تھا کہ گویا وہ کسی صندوق میں قید تھااور اب وہ اپنی آنکھیں کھول رہا ہے اور صاف ستھری آزادہوا میں سانس لے رہا ہے۔یا اسے یوں لگ رہا تھا کہ گویا وہ پہلے کسی گھٹا ٹوپ اندھیرے میں جی رہا تھا اور اچانک شیخ سعید اس کے لیے روشن سورج بن کر نمودار ہوئے۔جس کے سامنے وہ پھیکا پڑرہاہے۔ اسے اپنی کم مائیگی کا احساس ہورہاہے۔اس کے اعضا  ڈھیلے پڑرہے ہیں۔ وہ گھٹنے کے بل بیٹھ جاتا ہے۔تمام لوگوں کے سامنے وہ خود کو حقیر پاتا ہے۔کیونکہ وہ سب اس کے بالمقابل شیخ سے زیادہ قریب اور جڑے ہوئے ہیں۔ اب اس کے لیے شیخ کو دیکھنا پریشان کن نہ تھا۔ حالانکہ شیخ ابھی بھی اپنے پاؤں پھیلائے بیٹھے تھے۔۔۔  اب وہ خود کو ڈوبتا ہوا دیکھ رہا تھا اور شیخ کے پاؤں کو نجات کا سہارا سمجھ رہا تھا۔شیخ کا پاؤں اسے بہت بلند نظر آرہا تھا،اتنا بلند کہ جیسے آسمان کی بلندیوں میں منڈلاتا ہوا شاہین کا بازو ہوتا ہے۔ اب تو شیخ کے پاؤں میں اسے کوئی بھی ناگوار چیز نظر نہیں آرہی تھی۔یقیناً شیخ سعید نے اس کی فکر ونظر کو یکسر بدل کر رکھ دیا تھا۔اب پاشا کو شیخ کے پیکر میں ایک بلند خیال دکھائی دے رہا تھا۔ایک حقیقت جس نے انسان کی صورت اختیار کرلی تھی۔

راوی بیان کرتے ہیں؛’’پاشا نے مجلس سے لوٹنے کے بعد اپنے کارندے کے ہاتھ ایک ہزار خالص سونے کی اشرفیوں سے بھری تھیلی شیخ کی خدمت میںبھیجی۔ اس کاکارندہ آیا، اور ان کے سامنے تھیلی رکھ دی، شیخ نے مسکراتے ہوئے تھیلی اسے واپس کردی۔ اورکہا: جاکر اپنے آقا کو میرا سلام کہنا اور کہہ دینا: جواپنے پاؤں پھیلاتا ہے وہ اپنا ہاتھ نہیں پھیلاتا ہے‘‘۔

اکتوبر 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau