معرفت حق اور شرک کی حقیقت

(۱۲)

ڈاکٹر جیفری لینگ | ترجمہ: عرفان وحید

سوال جو میری گیارہ سالہ بچی نے پوچھا تھا

یہ موسم خزاں کی ایک سرد دوپہر تھی۔ غالباً میں جمیلہ کو قرآن کے بارے میں کچھ بتا رہا تھا کہ وہ اچانک گویا ہوئی: ’’ابو، جب آپ ملحد تھے تو آپ کے ذہن میں خدا کے سلسلے میں کچھ اشکالات تھے جن کے آپ کو جواب نہیں مل سکے تھے، اور جب آپ نے قرآن کا مطالعہ کیا تو آپ کو ان کے جوابات مل گئے۔ لیکن میں اب بھی یہ نہیں سمجھ سکی کہ آپ کے مسلمان بننے کے لیے کیا چیز محرک بنی؟‘‘

میں نے اپنی رفتار دھیمی کرتے ہوئے پوچھا: ’’تمھارا کیا مطلب ہے؟‘‘

’’میرا مطلب ہے، محض اس لیے کہ آپ کے پاس خدا کے خلاف مزید دلائل نہیں رہے، اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوجاتا کہ وہ موجود ہے۔‘‘

’’یہ تم نے زبردست نکتہ اٹھایا ہے! ’’ میں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کی ستائش کی۔ ’’ تمھاری عمر کے بچے سے مجھے اس سوال کی کبھی توقع نہیں تھی!‘‘

اس کے بعد میں نے اسے اپنے مسلمان ہونے کی جو وضاحت پیش کی وہ انھی خطوط پر مبنی تھی جو گذشتہ سطور میں عرض کرچکا ہوں۔ میں نے اسے بتایا کہ جیسے جیسے میں خدا کے وجود کے امکان کے لیے اپنے ذہن کو کھولتا چلا گیا مجھے مطالعۂ قرآن کے دوران بعض شدید قسم کے روحانی تجربات ہونے لگے۔

’’پھر آپ کو کیسے پتہ چلا کہ وہ تجربات خدا کی جانب سے تھے؟‘‘ جمیلہ نے پوچھا۔

’’پہلے پہل مجھے بھی یقین نہیں تھا کہ وہ خدا کی جانب سے ہیں۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’پھر مجھے کچھ کچھ شبہ ہونے لگا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ ہو نہ ہو یہ خدا ہی کی جانب سے ہیں۔ اس کے بعد بس پتہ چل گیا کہ واقعی ایسا ہی تھا۔ کچھ عرصے کے بعد مجھے لگنے لگا گویا میں ہمیشہ سے جانتا تھا کہ یہ روحانی تجربات خدا ہی کی جانب سے ہیں۔ جیسے میں ہمیشہ سے خدا کو جانتا تھا لیکن کسی طرح بھٹک گیا تھا، یا ایک قسم کے روحانی صدمے کے باعث اس کو بات کو فراموش کر بیٹھا تھا۔ گویا یہ یادداشت بحال ہونے جیسا تھا۔ میرے خیال سے ہم سب کے پاس خدا کا ایک بنیادی، فطری اور روحانی احساس موجود ہوتا ہے، لیکن ہم اسے نظر انداز یا اس سے انکار یا اس پر بھروسا نہ کرنے کی بھول کر بیٹھتے ہیں۔ کیا میری بات سمجھ میں آرہی ہے؟‘‘

’’ابو!! ’’ اس نے اپنی بڑی بڑی، خوب صورت آنکھوں سے میری طرف دیکھا، ’’میں نے آپ سے ایسی کم زور دلیل کبھی نہیں سنی۔‘‘

’’تم ایسا کیوں کہہ رہی ہو؟‘‘ میں نے اس سے پوچھا۔ مجھے قدرے سبکی کا احساس ہوا۔

اس نے کہا: ’’کیوں کہ میں تو خدا کو بالکل نہیں جانتی۔ میرے اندر تو خدا کا کوئی فطری احساس ہی موجود نہیں۔‘‘

ہم چلتے رہے۔ مجھے خیال آیا ایک چھوٹی بچی کو اس طرح سمجھانا احمقانہ بات تھی۔ واقعتاً میں خود بھی تردید سے تشکیک اور پھر ایقان کی جانب اپنے اندر ہونے والے اس انقلاب کو بہت اچھی طرح نہیں سمجھتا، تو بھلا گیارہ سال کی بچی کو بھلا کیسے یہ گہری بات سمجھا سکتا ہوں؟ ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی کہ ان تجربات کے بارے میں جان سکتی اور انھیں سمجھ سکتی! اگر وہ بڑی بھی ہوتی تب بھی شاید ان تجربات کو سمجھنا اس کے لیے دشوار ہوتا۔ کیا میں اس کی عمر میں خدا کو جانتا تھا؟ کیا مجھے وجود باری تعالیٰ کی فطری آگہی حاصل تھی؟ مجھے تو بس یہ یاد ہے کہ جب میں چھوٹا تھا تو خدا سے اپنے ظالم باپ سے نجات کی دعائیں مانگا کرتا تھا۔

میں کچھ دیر خاموشی سے سوچتا رہا، پھر بولا: ’’جمیلہ، کیا تمھیں وہ دن یاد ہے جب پچھلے سال جولائی کے مہینے میں میری طبیعت کچھ زیادہ خراب ہوگئی تھی اور ایمبولینس کے ذریعے مجھے اسپتال لے جایا گیا تھا؟‘‘

’’جی ابو،‘‘ اس نے پریشان ہوتے ہوئے جواب دیا۔

’’کیا تمھیں وہ منظر بھی یاد ہے کہ میں نلکیوں اور ٹیوبوں میں جکڑا ہوا پڑا تھا، لوگوں نے مجھے ایمبولینس سے باہر اتارنے کے لیے اسٹریچر پر لادا ہوا تھا، میں حرکت تک نہیں کرسکتا تھا، اور مجھے سانس لینے میں بھی دشواری ہورہی تھی؟‘‘

’’جی ابو،‘‘ اس نے رنجور ہوتے ہوئےکہا۔

’’اور شاید تمھیں یہ بھی یاد ہوگا تم نے میرے پاس کھڑے ہو کر کانپتی آواز میں مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا میں مر رہا ہوں؟‘‘

’’جی ہاں،‘‘ اس نے گلوگیر آواز میں کہا، اس کی پلکوں کے گوشے اب بھیگنے لگے تھے۔

’’اچھا۔ تو مجھے یہ بتاؤ کہ جب مجھے اسپتال لے جایا گیا تھا تو تم نے دن یا رات میں کسی بھی وقت خدا سے یہ دعا کی تھی کہ وہ میرے ابو کی جان بچالے، انھیں جلدی سے ٹھیک کردے؟ کیا تم نے خدا سے یہ دعا مانگی تھی؟‘‘

’’جی،‘‘ اس نے قدرے زچ ہوکر کہا۔ شاید وہ سمجھ رہی تھی کہ میں اسے تنگ کر رہا ہوں۔

’’کیا تم نے اگلے روز بھی خدا سے یہی دعا کی تھی؟‘‘

’’جی، جی! ’’ اس نے کہا۔ اب اس کے لہجے سے ناگواری صاف جھلک رہی تھی۔

’’اور اس کے بعد کے دنوں میں؟‘‘

’’جی ابو!‘‘ اس نے جھٹکے سے کہا گویا مجھ سے کہنا چاہتی ہو کہ اب بس بھی کریں۔

’’تمھیں اس طرح دعا کرنا کس نے سکھایا؟ کس نے تمھیں خدا سے بات کرنا سکھایا؟‘‘

اس نے لمحہ بھر کے لیے توقف کیا، شاید اپنا جواب سوچ رہی تھی۔

’’آپ ہی نے تو مجھے دعائیں سکھائی ہیں۔ ’’ اس نے جواب دیا۔ اس بار اس کی آواز میں قدرےبے یقینی تھی۔

’’میں ان مسنون دعاؤں کی بات نہیں کر رہا ہوں جو عربی میں ہوتی ہیں۔ میری مراد یہ ہے کہ تمھیں کس نے سکھایا کہ خدا سے اس طرح بات کرنی ہے، اس سے اس طرح طلب کرنا ہے؟ کیا میں نے یا کسی اور نے کبھی تمھیں یہ بتایا ہے کہ تم تصور کرو گویا خدا سے مخاطب ہو، اپنی التجا کو الفاظ کا جامہ پہناکر ذہن میں دہراؤ تو ایسا کرنے سے خدا تمھاری بات سن لے گا؟‘‘

’’نہیں۔‘‘

’’کیا میں نے یا کسی اور نے کبھی تمھیں یہ کرکے دکھایا ہے کہ خدا سے کس طرح گفتگو کرنی ہے؟‘‘

’’نہیں۔‘‘

’’کیا تمھیں یقین ہے؟‘‘

’’جی ہاں! ’’

’’شاید تمھاری ماں، یا دادی میں سے کوئی ہو، یا تمھارے چچا یا خالہ میں سے کسی نے یہ چیز سکھائی ہو؟‘‘

’’نہیں! ’’

’’پھر تمھیں کس نے یہ سکھایا؟ تمھیں خود بخود کیسے معلوم ہوا کہ ایسا کرنا ہے؟‘‘

’’کسی نے مجھے نہیں سکھایا! ’’ اس نے تنگ آکر کہا۔ ’’ مجھے بس پتہ تھا! ’’

اس کے چہرے کا رنگ دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ کاش یہ موضوع نہ چھیڑا جاتا، کیوں کہ دنیا میں مجھے کوئی چیز جمیلہ کو مغموم کرنے سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں ہے۔

’’چلو، ٹھیک ہے۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’شاید تم خدا کی فطری آگہی رکھتی ہو- شاید تم اسی طرح جان سکتی تھیں۔ بہرحال، میرے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا۔ تھوڑے عرصے کے بعد ‘مجھے بس پتہ تھا’ کہ یہ خدا ہی ہے جو قرآن کی آیات اور روحانی تجربات کے ذریعے مجھ تک رسائی کر رہا ہے۔ مجھے اس کا احساس ہونے میں کچھ وقت لگا- شاید اس لیے کہ میں اتنے عرصے سے روحانی طور پر بے ہوش تھا- لیکن کچھ وقت گزر جانے کے بعد مجھے بس یہ بات معلوم ہوگئی۔‘‘

شرک کی حقیقت

(دوسری نسل کے ایک متشکک کی جانب سےایک سوال ، جس کی عمر پچیس سے اوپر ہوگی اور جو میڈیکل کی ایک طالبہ ہے۔ ہندوستانی اور پاکستانی افراد کے بچوں کی جانب سے کیے جانے والے اسی نوعیت کے متعدد سوالات میں سے ایک)

مورتی پوجا میں آخر کیا خرابی ہے؟ کوئی یہ مان کر پوجا نہیں کرتا کہ مورتیاں خود ’خدا‘ ہیں۔ وہ تو محض خدا کی شبیہ یا نمائندہ ہیں جن سے آپ کو فوکس کرنے میں مدد ملتی ہے۔ ہم (بت پرست) مانتے ہیں کہ ہر ذی روح اور غیر ذی روح شے میں خدا کا بسیرا ہے۔ تو ہمارا عقیدہ کم تر کس طرح ہے؟ سوال کسی غیر مجسم یا مجسم خالق کا نہیں ہے۔ پوجا کرنے والے تو بس ایک وقتی، طبعی شے پر فوکس کرتے ہیں تاکہ غیر مجسم الوہیت کا خیال ذہن میں راسخ کرسکیں۔ مجھے تو اس میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی۔

’خالق کی نمائندگی کرنے‘، ’ہر ذی روح اور بے جان شے میں خدا کو دیکھنے‘، ’غیر مجسم خالق‘ اور ’مجسم خالق‘ کو پکارنے کے حوالے سے سوال کرنے والا شاید ہندو مذہب کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔ ہندو مذہب ایک وسیع اور کثیر جہتی نظام ہے اور اس کے حوالے سے میرا علم محدود ہے، نیز اس سوال کے جواب سے انصاف کرنے کے لیے جس تفصیل کی ضرورت ہے یہ صفحات اس کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ لیکن، جہاں ایک طرف میں خود کو ہندو مذہب کے سلسلے میں جواب دینے کے لیے اہل نہیں سمجھتا، وہیں چند الفاظ میں بت پرستی کے حوالے سے قرآن کا موقف پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں، کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ بت پرستی قرآن کے بڑے موضوعات میں سے ایک ہے۔

یہ کہنا کہ قرآن بتوں کی عبادت کی مذمت کرتا ہے انتہائی سادہ بیانی اور حد سے زیادہ تسہیل (oversimplification) ہے۔ قرآن جس چیز کی مذمت کرتا ہے وہ شرک ہے (جس کا ترجمہ عام طور پر ’بت پرستی‘ [idol-worshipping] کیا جاتا ہے)۔ شرک ایک وسیع تر تصور ہے۔ لفظ شرک عربی لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’اشتراک کرنا‘، ’ساتھی بنانا‘، ’کسی ہستی یا شے کو دوسرے کا ساجھی بنانا‘، اور ’کسی چیز کو کسی دوسری چیز سے وابستہ کرنا‘۔ قرآن میں یہ خدا کی الوہیت اور بالادستی میں دوسروں کو شریک کرنے کی علامت ہے۔ اپنے خام ترین مظاہر میں شرک ٹھوس اشیا مثلاً بتوں، تصاویر یا آسمانی اجسام کو الوہیت کا درجہ دینا شامل ہوسکتا ہے، اس میں ہمارے اپنے بنائے ہوئے دیوتاؤں کی پوجا بھی شامل ہوسکتی ہے۔ اس کے بارے میں قرآن عرب کے مشرکوں سے کہتا ہے کہ ’’ إِنْ هِی إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّیتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم دراصل یہ کچھ نہیں ہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں ’’ (النجم: 23)۔ بعض اوقات بت انسانی خصوصیات کے نمائندہ ہوتے ہیں۔ چناں چہ پیغمبر نوح کے زمانے میں بعض مشرکین ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر نامی بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے جو بالترتیب مردانگی، حسن، قوت، سرعت (athleticism) اور تیز بصارت (یا بصیرت) کی نمائندگی کرتے تھے [دیکھیے آیت نوح: 23]۔ بت برگزیدہ ہستیوں یا پچھلے انبیا یا نیک لوگوں کے نمائندے بھی ہوتے تھے، جنھیں خدا کے پاس سفارش کرنے کے لیے پکارا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر مشرکین عرب مانتے تھے کہ فرشتے دیویاں ہیں جن کو وہ سفارش کے لیے پکارتے تھے۔ اکثر عیسائی عیسیٰ علیہ السلام، مریم علیہا السلام اور دیگر برگزیدہ ہستیوں کو پکارتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ ہستیاں خدا کے یہاں ان کی دعاؤں کو پہنچاتے ہیں اور خدا اور ان کے درمیان وسیلہ بن سکتے ہیں۔ قرآن ان تصورات کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ اس کے مطابق مرنے والے زمین پر ہونے والے واقعات سے بے خبر ہیں اور کسی کی پکار کا جواب نہیں دے سکتے۔ (5: 109، 5: 116، 16: 21) اور فرشتے خدا کے روحانی آلات ہیں جو صرف وہی کر سکتے ہیں جس کا انھیں حکم دیا گیا ہے۔ مزید برآں قرآن اس پر بھی زور دیتا ہے کہ چوں کہ خدا اپنی ہر مخلوق کے تئیں بے انتہا عادل اور رحیم ہے اس لیے اس کو پکارنے کے لیے کسی سفارش یا وسیلے کی ضرورت نہیں ہے۔ قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ شرک زندہ افراد کی پوجا کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے جیسا کہ مصریوں نے اپنے فرعونوں کی پرستش شروع کردی تھی۔ ان کے بارے میں قرآن فرماتا ہے: ’’کبھی تم نے اُس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟‘‘ (الفرقان: 43)

اس کے بہت سے مظاہر سے قطع نظر، ہر قسم کے شرک کا مشترکہ عنصر خدا کے علاوہ دوسرے کی عبادت کرنا ہے۔ ملحوظ رہے کہ قرآن میں عبادت کا مطلب معبود کے تئیں کامل سپردگی ہے، تو اس لحاظ سے تمام اقسام کے شرک کسی نہ کسی شکل میں اس خود سپردگی میں خدا کے علاوہ کسی اور شے کو خواہ وہ حقیقی ہو یا تصوراتی، اس حتمی اختیار میں شامل کرنا ہے۔ چناں چہ جب سیاست داں قومی، مالی، سیاسی اور فوجی مفادات کو اخلاقی معاملات پر فوقیت دیتے ہیں تو وہ ایک طرح سے شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہی بات ان لوگوں کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے جو اس خوف سے اپنے مذہبی موقف پر نظر ثانی نہیں کرتے کہ اس سے ان کے آبا اور بزرگوں کی دیرینہ روایات یا ان کی اپنی سماجی حیثیت پر اثر پڑے گا۔ (دیکھیے آیات 70: 7، 10: 78، 11: 62، 11: 87، 13: 21، 43: 22-23)

جیسا کہ قرآن سے ظاہر ہوتا ہے کہ شرک اکثر خدا کے اعلیٰ ترین ہستی ہونے کے انکار کے بجائے عام طور پر کارِ خدائی میں ساجھے دار بنانا ہوتا ہے، جنھیں خدائی رہ نمائی کے اضافی مستند وسیلے مانا جاتا ہے۔ بسا اوقات مذہبی رہ نماؤں اور پیشواؤں کو یہ کردار تفویض کیا جاتا ہے۔ چناں چہ قرآن کہتا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے ’’اپنے علما اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے۔‘‘ (التوبة: 31)

شرک کی بدترین اور وسیع ترین شکلوں میں سے ایک مذہبی بنیادوں پر غلط کاموں کا فروغ ہے۔ کچھ صہیونیوں نے فلسطینی سرزمین کے غاصبانہ کنٹرول کے دفاع کے لیے بائبل کا سہارا لیا ہے۔ اسی طرح یورپی توسیع پسندی اور نوآبادیات کو فروغ دینے کے لیے امریکہ میں عیسائی مشنری جذبے کا استعمال وہاں کے قدیم باشندوں کے انخلا کو جائز قرار دینے کے لیے کیا گیا، حتی کہ اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے لیے انھیں ’شیطانی طاقتیں‘ تک قرار دیا گیا۔ جاپان نے اپنے شہنشاہ ہیروہیتو کے نام پر—جسے انھوں نے نیم خدا بنا رکھا تھا—چین کے خلاف بربریت کی انتہا کردی تھی، (غالباً ہیروہیتو چین پر حملے کے حق میں نہیں تھا تاہم سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر اس نے یہ جنگ نہیں رکوائی)۔ دور جدید میں بعض عسکریت پسند نام نہاد مسلمانوں نے خدا کے نام پر شہریوں کے قتل عام کو جائز ٹھہرا رکھا ہے۔ کلیسائی عدالتوں نے بے دینی کے خلاف تحریک کے دوران مخالفین کو شدید اذیتوں کا نشانہ بناکر مصلوب کیا۔ ساتویں صدی کے عرب میں مختلف بتوں کو خوش کرنے کے لیے بعض اوقات بچوں کو قربان کر دیا جاتا تھا۔ ایسی بہت سی مثالوں سے تاریخ داغ دار ہے۔ یہ کہنا کافی ہوگا کہ کوئی بھی مذہب اس قسم کے شرک سے محفوظ نہیں رہا ہے۔

چوں کہ شرک خدا کے سامنے خود سپردگی سے باز رکھتا ہے، لہذا قرآن نے ان مذہبی جدت طرازیوں کے خلاف متنبہ کیا ہے جو اس کا باعث بن سکتی ہیں (اعراف: 33)۔ یہاں تک کہ مذہب میں بظاہر بے ضرر اختراعات بھی بالآخر توحید کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ قرآن نے ایک مثال یہ پیش کی ہے:

یہودی کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے، اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ بے حقیقت باتیں ہیں جو وہ اپنی زبانوں سے نکالتے ہیں اُن لوگوں کی دیکھا دیکھی جو ان سے پہلے کفر میں مبتلا ہوئے تھے خدا کی مار اِن پر، یہ کہاں سے دھوکہ کھار ہے ہیں۔ (التوبہ: 30)

یہودی روایت میں ’خدا کا بیٹا‘ کی اصطلاح، جو عہد نامہ عتیق میں متعدد بار آئی ہے، خدا سے قریبی تعلق کو ظاہر کرنے کے لیے بطور استعارہ کے استعمال ہوتی ہے (بحوالہ ڈکشنری آف جوڈائزم ان دی ببلیکل پیریڈ، سائمن اینڈ شستر، نیو یارک، 1996، ص 596-97)۔ بیشتر عیسائیوں کے نزدیک حضرت مسیح کو جب ’خدا کا بیٹا‘ کہا جاتا ہے تو یہ ان کی ایک خصوصی حیثیت کے اظہار کے لیے استعمال ہوتی ہے جو عقیدہ تثلیث کا حصہ ہے یعنی سہ فریقی خدا کا دوسرا فرد۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح ایک فقرہ جسے اصلاً ایک معصومانہ تصور کے اظہار کے لیے استعمال کیا گیا، بالآخر ایک ایسے نظریے کا محور بن گیا جو قرآن کی رو سے تصور توحید پر ضرب لگاتا ہے۔ یہ بات نوٹ کرنا ضروری ہے کہ قرآن میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی اس اصطلاح سے مراد کیا ہے، کیوں کہ اس کی مختلف تشریحات ہوسکتی ہیں۔ بلکہ یہ صرف اسی بات پر زور دیتا ہے جو وہ بیان کرتے ہیں (’’باتیں جو وہ اپنی زبانوں سے نکالتے ہیں‘‘) کیوں کہ فقرہ ’خدا کا بیٹا‘ ’قدیم کفار کے قول‘ سے قریب تر ہے اور جھوٹی عبادت کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر قرآن نے خدا کی فطرت کے حوالے سے لفظ ’تین‘ کے استعمال کو مسترد کیا ہے:

اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلو نہ کرو اور اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسوب نہ کرو مسیح عیسیٰ ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اللہ کا ایک رسول تھا اور ایک فرمان تھا جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور ایک روح تھی اللہ کی طرف سے (جس نے مریم کے رحم میں بچہ کی شکل اختیار کی) پس تم اللہ اور اُ س کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور نہ کہو کہ ’’تین‘‘ ہیں باز آ جاؤ، یہ تمھارے ہی لیے بہتر ہے اللہ تو بس ایک ہی خدا ہے وہ بالا تر ہے اس سے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں اس کی مِلک ہیں، اور ان کی کفالت و خبر گیری کے لیے بس وہی کافی ہے۔ (النساء: 4)

یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنھوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے، حالاں کہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اگر یہ لوگ اپنی اِن باتوں سے باز نہ آئے تو ان میں سے جس جس نے کفر کیا ہے اُس کو درد ناک سزا دی جائے گی۔ (المائدہ: 73)

کہو، اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو اور اُ ن لوگوں کے تخیلات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے خود گم راہ ہوئے اور بہتوں کو گم راہ کیا، اور ’سَوَا٫ السّبیل‘ سے بھٹک گئے (المائدہ: 77)

ان وعیدوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مذہب میں ایسی اختراعات جن میں شرک کی جھلک ہو، خواہ وہ کیسی بھی نیک نیت سے کی گئی ہوں، اکثر خدا کی عبادت سے روگردانی کا سبب بن جاتی ہیں۔ یہی سبق ’سنہرےبچھڑے‘ (Golden Calf) کے قصے کے قرآنی ورژن سے بھی اخذ کیا جا سکتا ہے جس میں بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے بنائے ہوئے بت کو توڑ ڈالیں، حالاں کہ ان کی نیت اسے صرف ایک خدا، ’موسیٰ کے خدا‘ کے نمائندے کے طور پر پیش کرنا تھا۔ (دیکھیے :سورة طٰہٰ آیات 85-98)

جیسا کہ عرض کیا گیا، شرک کئی شکلیں اختیار کر سکتا ہے، لیکن قرآن کے نقطہ نظر سے یہ کبھی بے ضرر نہیں ہوتا، کیوں کہ یہ مذہب میں باطل کو داخل کر دیتا ہے اور باطل بالآخر منظر عام پر آجاتا ہے (وَزَھَقَ البَاطِل)۔ جب ایسا ہوتا ہے تو ایمان والوں کے اندر تشکیک پیدا ہوجاتی ہے اور مذہب اپنی عقلی اپیل سے محروم ہو جاتا ہے، نیز اس کے ساتھ اس کی اخلاقی اتھارٹی اور روحانی افادیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ قرآن میں ایمان کے اس قسم کے کٹاؤ کی سب سے نمایاں مثال نبی کریم ﷺکے سب سے بڑے مخالفین یعنی قریش کے مشرکین کی پیش کی گئی ہے۔ قرآن انھیں یاد دلاتا ہے کہ ان کے انتہائی قابل احترام آبا و اجداد ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام خالص توحید پر عمل پیرا تھے۔ انھوں نے ہی مکہ میں کعبہ کو خالص خدا کی عبادت کے لیے وقف کیا تھا۔ مرور زمانہ سے ان کی توحید کی یہ وراثت تقریباً مکمل طور پر ایک بے ہودہ شرکیہ نظام کی زد میں آ گئی جس پر خود قریش کا ایمان نہ رہا تھا اور اسی سے ان کے اندر ہر قسم کی برائیاں اور اخلاقی گراوٹیں آنے لگیں۔

قرآن میں قریش کے شرک کو دین میں شرک کے بدترین اثرات کی نمایاں مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ لیکن کلام الہی ماضی اور معاصر مذہبی اقوام کے ذکر کے ساتھ یہ بھی دکھاتا ہے کہ یہ ایک آفاقی مسئلہ ہے۔ قرآن میں شرک کی بہت سی وعیدیں صرف اور بنیادی طور پر غیر مسلموں کے لیے نہیں بلکہ مسلمانوں کے لیے بھی ہیں کہ خدا کے ساتھ کسی بھی شے کو منسوب کرنے کے معاملے میں ہمیشہ چوکس رہنا چاہیے۔ قرآن نے صاف طور پر دکھادیا ہے کہ ماضی میں خدائی کے نام پر جو دعوے کیے گئے، ان میں سے کسی کو خدائی تائید حاصل نہیں رہی اور وہ محض انسانی ذہن کی اپج تھے۔ مسلمانوں کو سخت محتاط رہنا چاہیے کہ وہ ایسی ثقافتی روایات، مذہبی اختراعات اور علمی آرا کے لیے خدائی اتھارٹی کا دعوی نہ کریں جنھیں وحی الہی کی ناقابل تردید حمایت حاصل نہ ہو۔ یقیناً یہ معاملہ تمام مذاہب میں ہونا چاہیے۔ مذاہب ہمیشہ روایات کو فروغ دیں گے اور نئے مسائل کا تخلیقی حل ڈھونڈیں گے اور ان کے علما ہمیشہ تشریح اور نظریہ سازی کرتے رہیں گے، لیکن یہ تشریح کرنے کی انسانی کوششیں ہیں اور انھیں آئیڈیل سمجھ کر ناقدانہ جانچ پڑتال سے کےعمل سے خارج نہیں کیا جانا چاہیے۔

اے نبیؐ، ان سے کہو ’تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمھارے لیے اتارا تھا اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حرام اور کسی کو حلال ٹھہرا لیا!‘ اِن سے پوچھو، اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی تھی؟ یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو؟‘‘ (یونس: 59)

’’اور یہ جو تمھاری زبانیں جھوٹے احکام لگایا کرتی ہیں کہ یہ چیز حلال ہے اور وہ حرام، تو اس طرح کے حکم لگا کر اللہ پر جھوٹ نہ باندھا کرو جو لوگ اللہ پر افترا باندھتے ہیں وہ ہرگز فلاح نہیں پایا کرتے۔‘‘ (النحل: 116)

اپریل 2022

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau