مریم جمیلہ: مغربی فکر وتہذیب کی بے باک ناقدہ

مجتبی فاروق

انیسویں اور بیسویں صدی باشندگانِ مغرب کے اسلام کو گلے لگا نے کے لحا ظ سے ( بالخصو ص  ، امر یکہ، آسٹر یلیا ،بر طانیہ،فرانس،جرمنی اور نیوزی لینڈکے لئے )  خوش گوار اور تا ریخی ثابت ہو ئی ہے۔ ان میں کچھ لو گوں نے روحا نی پیا س بجھانے کے لئے ذاتی طور سے اسلام کو پڑھنے ،سمجھنے اور پھر دل میں اتارنے کی سعی مشکورکی۔اور کچھ لو گوں کے اسلام کے آفاتی پیغام رحمت کو قبول کر نے میں داعیان اسلام کی دعوت و تبلیغ وجہ تحر یک بنی۔ بیسویں صدی میں جہاں اسلام کی آغوش رحمت میں مغر ب اور یورپ کے متلا شیانِ حق آئے وہیں بڑ ے بڑے مفکر ینِ ،دانشوران اور اسکالر س نے اسلام ہی میں دین و دنیا کی عافیت سمجھی ۔ان مفکرین میں ہنگری سے ڈاکٹر عبد الکر یم ،لندن سے محمدپکتھال،جر منی سے محمد اسد اور مراد ہاف مین،فرانس سے روجے گاڑے، امر یکہ سے یو سف اسلام ،مالک شہباز اور مر یم جمیلہ قا بلِ ذِکر ہیں۔سطو ر ذیل میں ان میں سے مر یم جمیلہ کی حیات وفکر کا تعارف پیش کیا جارہا ہے۔

مر یم جمیلہ وہ خوش بخت خاتو ن ہیں جنھوں نے نہ صرف یہودیت کو چھوڑ کر اسلام کی آغوش میں پناہ لی بلکہ اسلام کی خاطر کفر ستان سے پاکستان ہجرت بھی کی اتنا ہی نہیں بلکہ مغر بی فکرو تہذ یب کا بے لاگ اور بے باک تنقیدی جا ئزہ لیکر اس کی  خرابیوں کو منظر عام پر لانے کی قا بل قدر کوشش کی ۔ علاوہ بریں محکم دلائل اور پوری قوت سے اسلام کا بھر پور دفا ع کیا ۔ وہ صرف گفتار کی غازی نہ تھیں بلکہ عمل کی خو گر بھی تھیں۔انھو ں نے جو نہی اسلام قبول کیا فوراً اس کے فکر و تہذ یب کے سا نچے میں ڈھل گئیں۔

قبل از اسلام حالاتِ زند گی

مر یم جمیلہ کا پرانا نام مارگریٹ مارکوس تھا۔ان کی ولا دت امر یکی ریا ست نیو یارک کے مضا فاتی خوشحال شہر نیو رو شلا(New Rochhalle) میں ۲۳ مئی 1934ء میں ہو ئی اور آوریسٹ چیسٹر میں پرورش پائی۔ان کے والد کا نام ہربرٹ مارکوس سڈنی ہے جو جر من کے یہو دی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔مارکس مارگریٹ کے آباؤاجداد جر منی کے تھے اور وہاں چار نسلوں سے سکونت پزیر تھے ۔ ان کے پرداد انے 1848- 1861ء کے درمیان اقتصادی خوشحالی کے موا قع کی تلاش میں امر یکہ کے لیے نقل مکانی کی۔(۱)

مار گر یٹ مار کوس کے والد ین جر من کے یہودی نسل سے ہو نے کے با وجود برائے نام یہو دی تھے۔بالفاظ دیگر راسخ العقیدہ یہودی نہیں تھے۔بلکہ سیکولر پسند(Non-observent)تھے۔وہ اگر چہ یہو دیت پر عمل پیرا نہیں تھے لیکن اس کے با وجود وہ اخلاقی حدود کے پابند تھے،انھوں نے در ا صل امر یکہ میں سکو نت پزیر ہونے کی وجہ سے فکر و عمل اور طرز حیات کے لحاظ سے ہو بہو روایتی امر یکیوںکی طر ح بود و باش اختیار کر لی۔بقول خود مار گر یٹ مار کوس ــ’’ میں ایک اکڑ مذ ہبی گھرانے میں نہیں بلکہ اصلاح یافتہ گھرانے میں پیدا ہو ئی ۔جو سچے معا شر ے میں بڑ ی حد تک جذب ہو چکا تھا۔میر ے وا لد ین یہو دی شر یعت پر عمل کر تے تھے نہ میر ے قر یبی راشتہ دار‘‘۔ (۲)

مار گر یٹ مار کوس کے والدین نے پہلے یہو دیت سے رسمی تعلق منقطع کیا  پھر وہ ایک انسان دوست تنظیم ( Ethical Cultural Sociaty)میں شامل ہو گئیں لیکن جلد ہی اس تنظیم سے بے اطمینانی کا شکار ہو کر آخر کار ذات باری تعالی کی وحد انیت کی قائل ہو کر (Unitarian Church) میں شمولیت اختیار کر لی۔ (۳)

مار گر یٹ مار کوس بچپن ہی سے متلاشی ذہنیت ،سنجیدہ اور حساس  واقع ہوئی تھیں۔بچپن ہی سے مو سیقی سے بے حد لگائو تھا اور اسکول میں مو سیقی کے مضمون میں دیگر مضامین کے مقابلے میں زیادہ نمبرات حاصل کر تی تھی۔وہ مو سیقی کو اس وقت مغر بی تہذ یب کے لئے ایک نیک شگون سمجھتی تھیں۔نیز بچپن میں وہ عر بی مو سیقی بھی سُنا کر تی تھیں۔دس سال کی عمر میں مار گریٹ نے مذہب سے دلچسپی لینا شروع کی جب اس نے یہودی اصلاح یا فتہ اسکول میں داخلہ لیا تو وہاں یہو دیوں اور عر بوں کی باہمی قرابت کے تاریخی رشتے سے مانوس ہو ئیں۔ اس سلسلے میں اپنے ایک انٹریو میں وہ کہتی ہیں کہ ’’ میں یہو دیوں اور  عربوں کے درمیان تاریخی قربت سے مسمور ہو ئی، یہو دی کتا بوں میں میں نے پڑھا تھا کہ ’’ ابراہیم ؑ ان دونوں قوموں کے باپ ہیں میں نے یہ بھی جانا کہ صدیوں بعد یو رپ میں ستم رانی نے کیسے زند گیوں کو ناقابل برداشت بنا یا۔یورپیوںکا مسلم اسپین میں پر تپاک استقبال کیا گیا یہ اسلامی تہذ یب کی اعلیٰ ظر فی ہے جس نے عبرانی تہذیب کو عروج کے حصول میں مہمیزکا کام کیا ‘‘۔(۴)

مار گریٹ مارکوس اسکول میں ( مینڈے اسکول) پہلے پہل یہودیت کے اصل چہرے سے بالکل نا آشنا تھیں ۔کم عمری  اور سادہ لوحی کی وجہ سے یہ سمجھ رہی تھی کہ یہودی فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ اپنے  تار یخی رشتے کو بحال کر نے کی طر ف لوٹا رہے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر کے مشر ق و سطی میں اعلی تہذیب کے حصول کے لیے کام کر یں گے لیکن عملاًایسا ہو نہیں پایا۔مار گر یٹ یہو دیت کے سیاہ چہرے سے آشنا ہو ٖئیں اور ان کو یہ جان کر بڑا دکھ ہوا ہ قوم یہود اقوام عالم میں سب سے زیادہ مفاد پر ست اور خود غرض قو م ہے۔مارگریٹ نے دس سال کی عمرمیں عر بی تہذ یب اور عر ب میں یہود یو ں کے  درمیا ن تاریخی رشتے کے متعلق کتا بیں پڑھنا شروع کیں۔انھو ں نے مذ کور ہ موضو عات پر جو کتا بیں  پڑھیں وہ سب عیسا ئی مشنری ، مستشرقین اور یہودیت کے خیالات کے متعلق پائیں جن میں اسلام کے خلاف زور دار پر و پیگنڈہ اور مغالطہ پر مبنی مطالعہ جمع کیا گیا ہے۔ مار گریٹ مار کس اس حوالے سے رقمطراز ہیں کہ  ’’عر بوں کی تاریخ اور تہذ یب و ثقافت سے متعلق بپلک  لائبریریوںمیں جس قدر کتا بیں ملیں میں نے پڑھ ڈالیں۔باوجود ان کتا بوں کے اکثر مضا مین کا لب و لہجہ بڑی حدتک معا ندانہ تھا۔ان کتا بوں کے مطالعے سے مجھے یقن ہو گیا کہ عر بوں کے خلاف یہودیوں کا پر وپیگنڈا یکسر نا انصا فی پر مبنی ہے ‘‘۔(۵) اس دوران وہ یہودیت کی کارستانیوں سے بد دل ہو گئیں۔اور مسلمانوں کی حالت زار خاص کر فلسطینی مسلمانوں کی حالت ِ زار پر بہت ملول ہو ئیں جس کے لئے انہوں نے صرف ۱۲ سال کی عمر میں ’’ احمد خلیل ‘‘ کے نام سے ایک ناول لکھا۔اس ناول میں انھوں  نے فلسطین سے بے دخل کئے گئے ایک مظلوم لڑ کے کی کہا نی بیان کی ہے۔مارگریٹ مار کس نے ۱۵ سال کی عمر میں گریجو یشن مکمل کیا ۔ گریجوشن کی تکمیل کے بعد ۱۹۵۳ میں نیو یارک یو نیور سٹی میں داخلہ لیا ۔۱۹۵۲ میں صیہونیت کے جوانوں پر مشتمل ایک تحر یک ’’’مسزرا کی ہت زیر‘‘ کی رکن بنی۔لیکن فوراً صیہو نیت کا گھناونا چہرہ آشکارا ہو گیا۔جس نے یہودیوں اور عربوں کی ہم آہنگی اور موا فقت میں کشید گی پیدا کردی چناچہ اس تنظیم کو فوراً چھوڑدیا۔نیو یارک یو نیور سٹی میں حصول تعلیم کے دوران ایک مضمون’’ اسلام میں یہو دیت ‘‘ کا انتخاب کیا ۔ پر و فیسر ابراہیم اسحق کا ٹش جو وہاں عبرانی تعلیمات کے شعبہ کے سر براہ تھے۔ اپنے شاگردوں کو مطمئن کر نے میں کامیاب نہیں ہو ئے تھے۔ ابراھیم اسحق کی چند باتوں سے مار گریٹ مار کس متا ثر ہو ئی ۔ مثلا وہ ان کی چند ایک باتیں  اپنے  ایک انٹر یو  میںاس طر ح نقل کرتی ہیں : ’’ ہمیں آخر ت کے دن خُدا کی بار گاہ میں ضرور پیش ہو نا ہے۔اور اپنی زند گی کے تمام اعمال کی جواب دہی کر نا ہو گی صرف وہی لوگ اپنی ذات پر قا بو رکھیں گے جو اخروی انعام کے حصول کے لئے عا رضی خوشیوں کو قر بان اور مصا ئب کو برداشت کریں گے۔(۶) دوسری طر ف یہی پر و فیسر مو صو ف اسلام کو یہودیت سے ماخوذ مذ ہب قرار دینے میں تمام صلاحیتیں صرف کر تا تھا۔مار گریٹ مار کوس اس کے درس و تدریس کے منہج اور استدلال کے متعلق یوں اظہار خیا ل کر تی ہیں :

Our text books written by him took each verse from the Quraan painstakingly tracing it to its allegedly jewish source.Although his real aim was to prove to his students the superiorty of judaism over islam ,he convinced me diametrically of the opposit.(7)

ہماری تیار کردہ ان نصا بی کتا بوں سے بہت ہی لگن کے ساتھ ہر آیت قرآن سے نکال کر اس کو  یہودیت کا ماخذ قرار دیتے تھے۔بنیادی طور سے اس کا مقصد اپنے شاگردوں سے یہودیت کو اسلام سے برتر مذہب ثابت کرنا تھا۔اس نے مجھے متضاد طر یقے سے یا برعکس سمت میں اسلام کی طرف مائل کیا۔

اس کے بعد ما ر گریٹ مار کس دل سے یہو دی نہ رہیں اگر چہ لو گ ان کو یہو دی تصور کرتے تھے۔مار گریٹ مار کس حق کی تلاش میں مسلسل سر گرداں رہیںوہ مذ ہب عالم کے متعلق مطالعہ اور تجسس کر تی رہیں۔اور ان کے حسن و قبح پر غور و فکر کر نے کے ساتھ ساتھ تبصر ہ و جائز ہ بھی لیتی رہیں۔والدین کی طر ف سے بھی انہیں حوصلہ افزائی کا خوش گوار ماحول میسر آیا۔ ۱۹۵۳ ء میں مار گیٹ مار کس سخت بیماری میں مبتلا ہو ئی، جو ان کی زند گی کا مشکل تر ین وقت تھا۔ ان کو لگ رہا تھا کہ شاید وہ زند گی کے آخر ی لمحات گزار رہی ہیں اس وقت وہ شدید تنائو اور مایوسی کے عالم میں تھیں اور ان کا ذہن مضطرب، متزلزل اور بے چین تھا ۔راہ حق کی تلاش میں یہ عظیم مجاہدہ یہودیت ،عیسائیت اور بہا ئیت کی مذ ہبی کتا بوں کو کھنگال چکی تھی اور مذ ہب کے پیشواوں سے بھی مسلسل را بطہ میں رہتی تھی۔ لیکن مایو سی کے سواکچھ حا صل نہ ہو تا تھا وہ اس اضطرا ری اورتذ بذب کی کیفیت بیان کر تے ہوئے لکھتی ہیں:

” I was simply adrip to see not knowing what to do next or where to go ? Neither reformed judaism,orthodox judaism ,ethical culture or bhai consoled me in my plight”. (8)

’’ مجھے لگ رہا تھا کہ میں سمندر میں تیر رہی ہوں کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں اور کہا ں جا ئو ں ، میری حالت زار پر نہ ہی اصلاح یا فتہ یہودیت ، بنیاد پر ست یہودیت اور نہ ہی اتھیکل کلچر اور بہایت نے کو ئی تسکین اور دلاسہ دیا ‘‘۔

تلاش حق کا سفر

اس دوران انھوں نے دیگر مذاہب کو تو جہ کا مر کز و محور بنا یا بالخصوص اسلام کو سمجھنے کے لئے بھرپور تو جہ دی،بیماری میں مبتلا رہنے کی وجہ سے انہیں کچھ وقت تک کے لئے تعلیمی سلسلہ منقطع کر نا پڑا۔ایک دن ان کی والدہ نے ان سے کہا کہ میں پبلک لائبریری جارہی ہوں اگر تم کو کو ئی کتاب منگوانی ہو توبتائو۔ تو مار گر یٹ مار کس نے اپنی والدہ سے کہا کہ میر ے لئے قرآن کا ایک نسخہ لیتی آنا۔وہ ایک گھنٹے کے بعد قرآن کر یم کا تر جمہ لے کر آئیں۔یہ تر جمہ ایک عیسا ئی عالم اور مبلغ جارج سیل (George sale)کا تر جمہ تھا۔ اس نے قرآن کا تر جمہ محرفانہ انداز اور عیسائی نقطہ نظر سے کیا تھا۔ اس میں اس نے فرسودہ زبان استعمال کی جسے پڑ ھ کر مار گریٹ مار کس کچھ بھی سمجھ نہ سکیں۔لیکن اس کے با وجود قرآن سے وہ زیادہ دور نہ رہ سکیں۔انھوں نے اس تر جمہ قرآن کو مسلسل تین روز تک پڑھا جب اس کو  پڑ ھ کر مکمل کیا تو وہ اتنی کمزور  ہوگئیں کہ جیسے وہ ۸۰ سال کی بڑھیاہوں۔تلاش حق کے دوران ان کو ایک دن ایک دکان پر محمد مرڈیوک پکتھال کا تر جمہ قرآن ملا۔جس کے دیباچہ اور متن کو پڑھ کر وہ بے حد متا ثر ہو ئیں۔اور ان کو وحی الٰہی سے حقیقی آگاہی ہو ئی۔محمد مر ڈیوک پکتھال ( ۱۹۳۶۔ ۱۸۷۵) عالم اسلام کا ایک مایہ ناز سپوت اور درخشاں ستارہ کی حیثیت سے دنیا بھر میں معروف ہیں انھوں نے ۱۹۱۷ء میں اسلام قبول کیا ۔ ان کا تر جمہ قرآن ۱۹۳۰ ء میں The meaning of the Glorious Quraan .کے نام سے بیک وقت لندن اور امر یکہ میں شائع ہوا۔ڈاکٹر عبد لر حیم قدوائی کے مطا بق ۲۰۰۲ ء تک اس کے ۱۵۰ سے زائد ایڈیشن مغر بی ممالک اور بر صغیرمیں شائع ہو ئے تھے۔ جس سے اب تک لاکھوں کروڈوں لوگوں نے استفادہ کیا ہے۔(۹)مارگر یٹ مار کس ان میں سے ایک ہیں ۔علاو ہ ازیں انھو ں نے دوسرے تراجم قرآن کا بھی مطالعہ کیا جن میں عبد اللہ یوسف علی اور عبد الماجد دریا  ٓابادی کے تر اجم قا بل ذکر ہیں۔عبد الما جد در یا آبادی کے تر جمہ قرآن سے وہ بے حدمتاثر ہوئیں کیو نکہ اس کا لہجہ اور زبان خو بصورت ہے انھو ں نے اس تر جمہ و تفسیر سے خوب استفادہ کیا بالخصوص ان حصوں سے جو تقا بل ادیان کے مو ضوع پر ہیں ۔عبد اللہ یو سف علی کی تفسیر کے متعلق مار گریٹ مارکس کا کہنا ہے کہ یہ قرآن مجید کی معذرت خواہانہ تشریح ہے۔ ہسپتال میں زیر علاج انھو ں نے پکتھال کے تر جمے سے خوب استفادہ کیا۔ ان کا تر جمہ قرآن پڑھ کر اپنی ذہنی الجھنوں کو سلجھاتی رہیںاور دھیرے دھیرے اسلام کی حقا نیت اور اس کے پیغام رحمت کی عالم گیریت واضح اور منقح ہو تی گئیں اس دوران ان کو مشہورنو مسلم اسکالر اورمفسر قرآن محمد اسد (1900-1992)کی کتاب((The Road to Mecca کے مطالعہ کا مو قع ملا جس میں محمد اسد نے اپنے قبول اسلام کی روداد دلچسپ اور عمدہ پیرا ئے میں بیان کی ہے اور اسلام کی حقا نیت ثابت کر نے کے لئے پُر زور دلا ئل دئیے ہیں۔مذ کورہ کتا ب کو پڑ ھ کر مارگر یٹ مار کس کا فی متاثر ہو ئیں یو ں اسلام کی پوری صداقت اور حقیقی تصویر ان کے دل و ماغ پر مر تسم ہو گئی۔بقول پرو فسرجان ایسپوزیٹواور جان و ول ’’دو یہودی مفکر ین نے مار گر ر یٹ مار کس کے مشر ف بہ اسلام ہو نے میں انتہائی اہم رول ادا کیا ایک محمد اسد (لیپولڈو یسس ) جو قابل احترام مسلم مفکر اور مسلم حکو متوں کے مشیررہے ہیں ۔ ان کی کتابThe Road to Mecca) (مار گر یٹ مار کس کے اسلام قبول کر نے کی راہ میں بہت بڑا ذریعہ ثابت ہو ئی  اس طرح ابراھیم اسحٰق کا ٹش کا مضمون ’’ اسلام میں یہودیت ‘‘ جو وہ نیو یارک یو نیورسٹی میں پڑھاتے تھے۔اس مضمون سے مار گر یٹ مار کس یہو دیت  سے متاثر ہونے کے بجا ئے اسلام کی طرف مائل ہوگئی۔(۱۰) لیکن ایک نومسلم دا نشور اور متر جم قرآن محمد پکتھال کے تر جمہ قرآن نے بھی مار گریٹ مارکس کو اسلام کو گلے لگا نے میں اہم رول ادا کیا ۔جارج سیل کا تر جمہ قرآن پڑ ھ کر وہ بہت مایوس ہو ئیں۔ یہ محمد پکتھال کا تر جمہ قرآن ہے جس نے ما رگر یٹ مار کس کو اسلام کی حقیقی روح سے قریب کر دیا۔

مار گر یٹ مار کس 1957ء میںشدید نفسیاتی عارضہ (Schizophrenio)جس میں خیالا ت ، جذبات اور افعال کا باہمی ربط بگڑ جاتا ہے،میں مبتلاہو ئیں۔جس کی وجہ سے انکو دو سال تک ہسپتال میں زیر علاج رہنا پڑا۔اس سخت آزمائش کے باوجود اس اللہ کی بند ی نے تلاش حق کی خاطر جستجواور مطالعہ جاری رکھا۔یہاں تک 1959ء میں ہسپتال سے چھٹی مل گئی۔اس کے بعد وہ نیو یارک کی پبلک لائبریری میں اسلام کا مطا لعہ کر نے جاتی تھیں وہیں پر مشکوٰ ۃ المصا بیح کا انگر یزی تر جمہ از مو لوی الحا ج فضل الر حمن ( کلکتہ ) جو چار جلدوں پر مشتمل تھا۔مار گر یٹ کی نظروں سے گزراانھوںنے اس کا بڑی گہرا ئی اور گیرا ئی سے مطا لعہ کیا بقول مار گریٹ مارکس مجھے پتہ تھا کہ قرآن کو مفصل انداز میں سمجھنے کے لئے احادیث کا مطا لعہ بہت ضروری ہے کیو نکہ یہی قرآن کی سب سے عمدہ اور اولین تفسیر ہے‘‘۔مشکوٰۃ کا تفصیلی  مطا لعہ کر نے کے بعد انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ’’ قرآن مجید اللہ تعالی کا کلام ہے اور یہ بھی کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طر ف سے نازل کردہ کتا ب ہے  نہ کہ محمد ؐ کا کلام ۔اس نے میری زندگی کے ان تمام سوالوں کا جواب فراہم کر دیا جن کا جواب مجھے کہیں اور نہیں مل سکا تھا ۔(۱۱)اسلام کو مزید سمجھنے کے لئے مستند اور معتبر مسلم اہلِ علم سے بھی مرا سلت کی جن میں اسلامی فقہ اور قانون کے ماہر مصنف ڈاکٹر حمید اللہ پیرس،اسلامک سنٹر واشنگٹن کے ڈائیر یکٹر ڈاکٹر محمد حب اللہ ، الجزئرعلما ء کونسل کے سر خیل شیخ محمود بشیر ابراھیمی ،الازھر کے ڈاکٹر محمد الیلی ،شام کے ڈاکٹر معر وف دوابی اور الاخوان المسلمین کے ڈاکٹر سعیدرمضان قابلِ ذکر ہیں۔ (۱۲)

سید مودودی سے تعارف

اس دوران مو صو فہ نے 1960ء میں کنتھ مار گن کی اڈیٹ کی ہو ئی کتاب’ Islam the straght path ‘ میں مظہر الدین صدیقی ( پاکستان) کا ایک مقا لہ پڑھا جس میں سید مودودی کا تذکرہ تھا۔ مظہر الدین صدیقی بعد میں جد ید یت پسند اسکالر بن گئے لیکن مار گر یٹ مار کس کو سید مودودی سے رابطہ کر نے کا ذریعہ بنے ۔پھر اتفاق سے0 196ء کے اوائل میں ڈر بن سے شا یع ہو نے والا ماہنامہ’ The Muslim Dygest‘سے مو لانا مودودی کا ایک مضمون بعنوان ’’ زند گی بعد موت‘‘  (life after death)پڑھا۔مذکورہ مضمون کو پڑھ کر مار گریٹ مار کس اتنی متاثر ہو ئیں کہ انھوں نے اسی وقت مذکورہ ڈائجسٹ کے مدیرکو خط لکھ کر سید مودودی کا پتہ دریافت کیا۔ڈایئجسٹ کے مد یر نے انہیں سید مودودی کا پتہ بھج دیا۔یہاں سے مار گر یٹ مار کس کا سید مودودی سے خط و کتا بت کا ایک طو یل سلسلہ شر وع ہو جاتا ہے۔(۱۳) مار گر یٹ مار کس نے پہلے خط میں اپنا تعارف پیش کر نے کے ساتھ جد ید یت پسند دانشوروں کی کارستا نیوں کا بھی تذکرہ کیا۔مار گریٹ مار کس اس خط  سے پہلے ۶ اعلی پایہ کے مضامین لکھ چکی تھیں جو مسلم ڈایئجسٹ اور اسلامک ریومیں شائع ہو چکے تھے ۔انھوں نے یہ مضامین بھی سید مودودی کو خط کے ساتھ ارسال کر دیئے۔

سید مودودی کے جواب سے مار گریٹ مار کس کا حو صلہ اور بڑھا اور بس یہ خط و کتا بت کا سلسلہ آگے بڑھتا رہا۔ سید مودودی نے خط کے جواب میں یہ بھی لکھا کہ جب میں آپ کے مضامین پڑھ رہا تھا تو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ گویا میں اپنی  تحر یر پڑھ رہا ہوں ۔( ۱۴) یوں تو محترمہ نے کلمہ شہادت پڑھنے کا مصمم ارادہ اسپتال میں علاج کے دوران ہی کر لیاتھالیکن اس ارادہ کی تکمیل کے لئے کسی مناسب مو قع کی تلاش میں تھیں۔بالاآخر وہ وقت آہی گیا جب عالم اسلام کی اس عظیم داعیہ اور مفکرہ نے دین فطرت کو اپنی زند گی کا جزو لا ینفک بنا نے کا اعلان مغر بی دنیا کی شہہ رگ امر یکہ میں کر دیا ۔انھوں نے ۲۴ مئی1961ء میں ( عید الاضحی کے روز) ۲۷ برس کی عمر میں بر و کلین نیو یارک کے اسلامی مشن کے ڈائر یکٹر شیخ داود احمد صیقل سے کلمہ شہادت پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو نے کا باقاعدہ اعلان کر دیا اب نام مر یم جمیلہ پسند کیا۔ مر یم جمیلہ نے سید مودودی کو پہلے جو چار خطوط لکھے وہ مار گر یٹ مار کس کے نام سے تھے اب پانچواں خط مر یم جمیلہ کے نام سے بھیجا جس پر سید مودودی بہت خوش ہو ئے اور ان کے لئے استقامت کی دعا کی۔مر یم جمیلہ قبول اسلام کے متعلق کہتی ہیں کہ میں نے اسلام اپنے آباو اجداد کی میراث اور قوم سے نفرت کی بنیاد پر قبول نہیںکیا بلکہ میری خوا ہش کے پیچھے رد کرنا نہیں تکمیل کا جذ بہ کا ر فرما تھا۔وہ لکھتی ہیں کہ:

To me it meant a transformation for moribond and parocial to a dynamic  and revotionary faith content with nothing less than universal supermacy.(۱۵)

یعنی میں نے قر یب المرگ اور محدود  مذ ہب کو چھوڑ کر ایک ایسے متحرک ، آفاقی اور انقلابی مذہب کو اختیار کیا ہے جو  عا لمگیر اقتدار اعلیٰ سے کمتر کسی چیز پر قنا عت نہیں کرتا ۔

 ہجرت پاکستان

سید مودودی سے مر یم جمیلہ کی مراسلت دسمبر 1961ء سے شروع ہو کر ۷  اپر یل 1962 ء کو اختتام پزیر ہوئی۔ کیو نکہ سید مودودی نے انہیں امر یکہ سے ہجرت کر کے پاکستا ن آنے کی دعوت دی اور ہر ممکن طر یقے سے تعاون دینے کا وعدہ فر مایا۔اس دعوت کو مر یم جمیلہ نے فورًا قبول کر کے ہحرت شروع کردی اور ۱۸  مئی 1962ء کو نیو یارک سے ایک بحر ی جہاز سے روا نہ ہو کر ۲۶ جون1962ء کو کرا چی کی بندر گاہ پر پہنچ گئیں جہاں پر جماعت اسلامی کے ارکان نے ان کا پر تپاک استقبال کیا۔ان کو اپنے یہاں مہمان رکھا ۔پھر جون کے اواخر میں لا ہور میں میا ں طفیل محمد صاحب نے استقبالیہ دیا۔اور انہیں سید مودودی کے گھر پہنچا دیا گیا۔سیدمودودی اپنی علمی اور تنظیمی کاموں میں بے حد مصروفیات کے باعث خود نہ آ سکے۔ مودودی نے انہیں اپنے گھر میں ایک بیٹی اور فیملی ممبرکی حیثیت سے ٹھہرایا ، ہجرت سے متعلق مر یم جمیلہ کا احساس ہے کہ  ’’ امر یکہ جس کا مستقبل بہت ہی بھیا نک ہے جہاں مجھ جیسے انسان کے لئے کو ئی جگہ نہیں اس طبقے میں وہاں سے ہجرت کر کے پاکستان آئی ۔اگر چہ پا کستان دوسرے مسلم ممالک کی طرح یورپ اور امر یکہ کی تہذ یبی آلود گیوں میں ڈوبا رہا ہے پھر بھی مناسب تعداد میں پاکستانی لوگ اچھے مسلمان کی حیثیت سے زند گی گزار رہے ہیں ‘‘۔ ( ۱۶ )

اسلام کی خا طر ہجرت اپنے آپ میں ایک بہت بڑی قربانی ہے جو اس عظیم خاتون نے دور حا ضر میں اسلام کی خا طر پیش کی۔انہوں نے اسلام کی خاطرسب کچھ چھوڑا۔گھر کی آسا ئشیںچھوڑدیں۔ زیب و زینت سے منہ مو ڑا ،ظا ہری چمک دمک  سے لیس مغر بی تہذیب کو ٹھکرا یا ۔ مغر بی فکر وعمل سے بے نیا ز ی کی راہ اپنا لی۔سب سے بڑھ کر اپنے والدین اور اعزاء واقربا ء کو چھوڑا ۔اللہ تعالیٰ ایسے ہی صا حب عزیمت بندوں کے متعلق ارشاد فر ما تا ہے:

’’جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کر ے گا وہ زمین میں اپنے لیے بہت جگہ اور بسرا وقات کے لیے بڑی گنجا ئش پا ئے گااورجو اپنے گھر سے اللہ اور اسکے رسول ؐ کی طرف ہجرت کے لیے نکلے پھر راستے میں اسے مو ت آجائے اس کا اجر اللہ کے ذمہ واجب ہوگیا۔‘‘ (النساء:۱۰۰)

مر یم جمیلہ نے نہ صرف یہو دیت اور مغر بی فکرو تہذ یب سے ہجرت کی بلکہ وہاں کی بودو باش اور رہن سہن سے بھی ہجرت کی۔ وہ تصویر کشی اور ڈرا ئینگ جس کی انہوں نے با قا عدہ تعلیم حا صل کی تھی او ر وہ اس کی بے حد شو قین تھیں۔جب سید مودودی نے ان سے کہا کہ یہ اسلام میں مستحسن اور جا ئز نہیں ہے تو بلا تو قف اسلام کا حکم سمجھ کر اس کو چھوڑ دیا اور تصنیف  و تا لیف اور علمی و فکری کا مو ں کو اپنے دا ئرہ کار ٹھہرایا۔ مر یم جمیلہ نے سید مو دودی کے گھر میں ۳۰ ؍جو ن سے ۴ ؍اگست 1962 تک قیام کیا وہ مولانا کے گھر میں اپنے آپ کو زیادہ ہم آہنگ نہ کر پائی تھیںجس کی وجہ سے سید مودودی نے انہیں پشتو میںایک دوست حکیم نعمت رائے کے ہاں قیام کروایا۔جہاں وہ ایک سال تک رہیں۔اس دوران بیمار ہو گئیںاور ہسپتال میں کچھ عر صے تک زیر علاج رہنا پڑا۔مو لانا سید مو دودی اپنی بے پناہ مصروفیات کے باو جو د ہر ممکن طر یقے سے انکی مدد کر تے رہے جس کا مر یم جمیلہ نے خو د بھی اعتراف کیا ہے۔

  مثالی ازدواجی زندگی

مر یم جمیلہ کا نکاح جماعت اسلامی کے مخلص کا ر کن محمد یو سف خان سے ہوا۔محمد یوسف خان 1923میں جا لند ھر  میں پیدا ہو ئے ۔ پٹھان خا ندان سے تعلق رکھتے تھے پھر ترک وطن کر کے لاہور میں سکو نت پز یر ہو گئے ۔وہ نو جوانی ہی میں سید مو دودی کی فکر سے متاثر ہوئے اور جماعت اسلامی میں شمو لیت اختیار کر کے 1950 میں با قاعدہ اس کے رکن بنے ۔رکن بن کر فنا فی الجماعت ہو گئے اور اقامت دین کی راہ میں ۵۰ سے زائد سال گزار کر ۱۵ دسمبر2014میں 92سال کی عمر میں اپنے رب کے حضور پیش ہو ئے ۔انا للہ وانا الیہِ راجعون۔محمد یوسف خان صا حب ثروت ،پر اعتماد ،باایمان اور تحریک اسلامی کے نہا یت مخلص کار کن تھے۔ان کے عقد میں پہلے سے ایک بیوی شفیقہ تھی۔سید مو دو دی مر یم جمیلہ کا نکاح محمد یو سف خان سے کرانا چاہتے تھے۔انھو ں نے اس حوا لے سے محمد یو سف سے بات کی جس کے متعلق محمد یوسف خان نے ایک انٹریو میں کہا ’’میں نے مو لانا سے کہا کہ آپ فکر نہ کریں آپ جو چا ہتے ہیں وہی ہوگا۔مجھے اجازت دیجیے کہ میں گھر جا وں چنا نچہ گھر جا کر بیو ی سے بات کی تومیر ی بیوی نے کہا کہ میںتوپہلی ہی سو چ رہی تھی ۔وہ بیچا ری بہت اچھی ہے  بس میں نے کہا کہ مر یم کو پیغام دے دو اس نے جاکر مر یم جمیلہ کو پیغام دیا کہ خان صاحب آپ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ مر یم جمیلہ نے کہا مو لانا کی مر ضی کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی پھر مولانا نے مر یم جمیلہ سے کہا کہ کر لو یو سف خان اچھا آد می ہے ۔ (۱۷) مو لانا مو دودی نے ۱۸ اگست 1963 میں مریم جمیلہ کا نکاح محمد یو سف خان سے پڑھایا ۔ان کی عمر اس وقت ۳۹ سال جبکہ مر یم جمیلہ کی عمر ۲۹ سال تھی ۔یہ نکاح مثا لی نکاح ثابت ہوا۔ ابتدا ہی سے ان تینوں ( محمد یو سف ،شفیقہ اور مر یم جمیلہ ) کی آپسی محبت اعلی درجہ کی تھی۔کوئی بھی عورت عمو ما ً یہ برداشت نہیں کرتی کہ اس کے گھر میں سوکن کی حیثیت سے دوسری آجائے ۔لیکن شفیقہ صاحبہ  مولانا سے رشتہ مانگنے کے لیے خود گئیں۔اور یوں بیسو ی صدی میں ایک اعلیٰ مثال قایم کر کے مر یم جمیلہ سے پہلے اس فا نی دنیا کو چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملیں۔محمد یوسف کی پہلی بیو ی شفیقہ کے بطن سے آٹھ (۸)بچے اور مر یم جمیلہ کے بطن سے چار (۴) پیدا ہو ئے ۔محمد یو سف خاں کے بچے شفیقہ کو امی اور مر یم جمیلہ کو آپا کہہ کر پکار تے تھے۔شفیقہ اور مر یم جمیلہ کو آپس میں سگی بہنوں کی طر ح محبت تھی اور سگی بہنوں کی طر ح دونوں رہتی تھیں۔شفیقہ کی وفات کے بعد مر یم جمیلہ نے وصیت کی تھی کہ ان کو شفیقہ کے قریب دفن کیا جائے ۔محمد یو سف خان کا یہ گھر مثا لی اسلامی گھرانا تھا ۔محمد یو سف نے مر یم جمیلہ کو بہترین اور ساز گار علمی اور فکری ماحو ل فراہم کیا۔ جس کی ضرورت ان کو تھی ۔وہ ان کے لیے کتابیں  منگواتے تھے ان کی  تحریر وں اور کتا بوں کو خود سے شا یع کر تے تھے۔ اس طرح مر یم جمیلہ کو مو لانا سید مو دودی سے استفادہ کی ضرورت پڑتی محمدیو سف ان کو اپنے ساتھ لے جاتے ۔ اس حوالے سے مر یم جمیلہ رقمطراز ہیں: میر ے خان صاحب (۱۹)مجھے سید مو دودی کے گھرعصر کے وقت باقاعدگی سے لے جاتے وہاں میں رات کا کھا نا کھا تی اور مغرب سے عشا ء تک مولانا مو دودی اور میں باہم مختلف معا ملات پر گفتگو کر تے رہتے ہر بحث تمام مو ضوعات پر مشتمل ہوتی زیادہ تر وقت ہم پا کستان میں سیا سی صورت حال اور مسلم دنیا کے مختلف حصوں میں معا ندانہ حکومتوں کے تحت اسلامی تحر یکات کی حالت زار پر بحث کر تے۔ (۲۰)بالآخر یہ عظیم داعیہ ، مو منہ اور چمکتا ہوا تارا  ۳۱ ؍اکتو بر 2012ء کو زندگی کی ۷۸ بہا ریں گذار کر لا ہور میں انتقال کرگئیں اور انکی نماز جنازہ حافظ محمد ادریس نے پڑھا ئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

تصنیفی کام

مریم جمیلہ نے فکر اسلامی کے مختلف موضوعات پر 34 کتابیں لکھیں جن میں ایک بڑا حصّہ مغربی فکر و تہذیب پر انتہائی تلخ اور چبھتی ہوئی تنقید پر مشتمل ہے۔ انہوں نے فکراسلامی کے احیاء اور اس کے دفاع ، مغربی مفکرین اور مستشرقین کی کارستانیوں کا بہترین  اور شائستہ اسلوب میں جواب دیا ہے اور متجددین کے نا پختہ خیالات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ اس تعلق سے موصوفہ نے اسلامی لٹریچر میں انتہائی اہم اور قیمتی اضافہ کیا جو راہِ راست کی خدمت انجام دینے کے لیے مؤثر اور قابل استفادہ ثابت ہوا اور ہو رہا ہے اس عظیم کار خیر کے لیے امت مسلمہ ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی۔ سطور ذیل میں ان کی چند اہم کتابوں کا مختصر تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔

  1. Islam in theory and practice.

یہ مریم جمیلہ کی سب سے اہم تصنیف ہے جو سب سے پہلے ۱۹۶۷ ء میںشائع ہوئی ۔اس کا خوبصورت اردو ترجمعہ آباد شاہ پوری نے ـ’’اسلام ایک نظریہ ایک تحریک ‘‘کے عنوان سے کیا ہے۔ اس کتاب کو مصنفہ نے چار ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔ پہلے باب میں انھوں نے ایمانی سفر کی داستان بیان کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی اسلام کی نمائندگی کرنے پر ناقدانہ جائزہ لیاہے۔ دوسرے باب میں اسلام کو ایک نظریہ کے طور پر بیان کیاہے۔ تیسرے باب میں اسلامی تحریکوں اور مفکرین کے کام کاجائزہ لیاہے جو اسلام کو عملاقائم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ آخر میں اہل علم کی ذمہ داریوںپر بحث کی ہیں۔

  1. Islam Versus the West.

یہ بھی مریم جمیلہ کی ایک قابل قدر تصنیف ہے جو  ان۱۸؍ مضامین پر مشتمل ہے جو انہوں نے 1954 ء سے 1962  ء کے درمیان لکھے تھے ۔ ان مضامین میں یہ واضح کیا کہ جدید مغربی فکر و تہذیب نے کس طرح مسلم معاشرہ میں مرعوبانہ اثرات قائم کئے ۔

  1. Islam and Modernism

یہ ۲۶ مضامین پر مشتمل کتاب ہے جس میں انہوں نے مغربی فلسفہ کے زہریلے اثرات بیان کرکے بتایاہے کہ ان زہریلے اثرات نے کس طرح مُسلم دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے ۔

  1. Islam versus Ahl al-kitab past and present

اس کتاب میں مصنفہ نے تفصیل سے یہودیت ، عیسائیت (تورات ، انجیل ) کا قُرآن کے تناظر میں ان  مذاہب پر گفتگو کرکے اسلام کی حقانیت ثابت کی ہے ۔

  1. Western Civilization Condemned by it self:

اس کتاب میں مریم جمیلہ نے قدیم روم ، گریس  اور  جدید مغربی مصنفین کے حوالوں سے جدید تہذیب کی کج رویاں اور اس کی خرابیا ں سامنے لائی ہیں۔

  1. Ahmad Khalil:

یہ مریم جمیلہ کا ایک ناول ہے جس میں انہوں نے احمد خلیل نامی ایک نوجوان کا کردار دکھایاہے کہ کس طرح  اس نے مغربی فکرو تہذیب سے مرعوب ہو کر اپنی تہذیب کو ٹھکرادیا۔

  1. Islam and Orientalism:

یہ کتاب ان تبصروں پر مشتمل ہے جن میں انہوں نے مشہور مستشرقین ڈاکٹر فلپ کے حتی ، ڈاکٹر کنتھ ، ایس۔جی گویٹن ، ایچ ۔آر۔ گب ، ڈاکٹر ویلفریڈ ، کانٹ ویل سیمتھ ، فری لیٹر ایوٹ،اور نادر سفران کی کتابوں کا تنقیدی جائزہ لے کر دلائل کی بنیاد پر ان کی موشگافیوں کو رد کیاہے ۔

8.is westeren civilization universal

مغرب کا دعوی ہے کہ اس کی تہذیب عالمگیر ہے ۔مریم جمیلہ نے ا پنی اس کتاب میں مدلل جواب دے کر بتایا کہ مغربی تہذیب فکری ،اخلاقی اور روحانی اعتبارسے بالکل کھوکھلی ہے ۔ موصوفہ نے اس کتاب میں واضح کیا ہے کہ ۱لٰہی اور بنیادی قدروںکے بغیر ایک تہذیب کبھی بھی عالمگیر نہیں ہوسکتی ۔

9 .Who is moudoodi?

یہ کتاب دراصل مولانا مودودی کی حیات و خدمات اور ان کی فکر پر ان کا  ایک جامع مقالہ ہے۔

10.Sheikh Hassanul Banna and AL- Akhwan ul Muslemeen

۲۷ صفحات پر مشتمل اس کتاب میں امام حسن البنا شہید اور انکی بر پا کردہ تحریک الاخوان المسلمون کے رول پر انتہائی جامع گفتگو کی ہے ۔

  1. The Feminist Movement  and the muslim women

اس کتابچہ میں موصوفہ نے آزادی نسواں کی تحریکوں کی کارستانیوں کا اجمالی طو پر تذکرہ کیاہے ۔ اس کے علاوہ اسلام کے تصور مساوات پر گفتگو کرتے ہوئے اسلام میں مرد وزن کے الگ الگ  دائرہ کارکی اہمیت وافادیت واضح کی ہے ۔

  1. The Prospects of an Islamic Ranaissance

مذکورہ مقالے میں مریم جمیلہ نے اسلام پر مدلل اور جامع گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ اسلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے نصوص یعنی قرآن و سنت محفوظ ہیں نیز اسلام مکمل رہنمائی کرتا ہے ۔وہ نہ صرف ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کیا کرنا ہے بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ کیسے کرنا ہے ۔

  1. Westernization and human welfare:

زیر نظر کتاب میں مصنفہ نے تفصیل  سے مغربی مصنفین کے حوالے دے کر مغربی فکر و تہذیب کی خرابیوں کو بیان کیاہے مثلا ً ایک جگہ لکھتی ہیں کہ مغربی تہذیب کی وجہ سے خاندان اور خاندانی نظام کی تباہی نے  انسانی رشتوں کو رسوا کرکے رکھ دیاہے۔

  1. Islam Face to Face with Current crises:

یہ بھی موصوفہ کی ایک قابل تحسین تصنیف ہے جس میں انہوں نے تفصیل سے بتایا ہے کہ مذاہب عالم  اور افکار و نظریات انسانی مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں اور اسلام ہی وہ طریق زندگی ہے جو انسانی مسائل حل کرسکتا ہے ۔

حوالہ جات

(1)  Islam and Orientalism (New Dehli:  Adam Publishers and distributors, 2010), p. 9.

( ۲)  مریم جمیلہ، اسلام ایک نظریہ ایک تحریک،(مترجم آباد شاہ  پوری )مرکزی اسلامی پبلیشرزدہلی ، ۲۰۱۳،ص:۱۲

(3)  John Espositio, John O- Voll, Makers of Contemporary Islamic thought, oxford University press, P : 54.

(4)Al-Dawah, May, 2004 P : 30.

(5)Maryam Jameelah, Islam and Orientalism, P : 10.

(6)    Al Dawah May, 2004, P :31.

(7)      Ibid, P : 32.

(8)Maryam Jameelah, The Story of one Western Converts Quest for the Truth, Lahore   Muhammad Yousuf P : 91.

(۹)ڈاکٹر عبدالرحیم قدوائی،ہند پاک میں قرآنی تراجم و تفاسیر ،شش ماہی علوم القرآن،علی گڑھ،جولائی تا دسمبر ص:۶۱

(10)     Makers of Contemporary Islamic Thought  P : 56.

(11)   Maryam Jameelah, why I embraced Islam,New Crescent Publishing Co, P:9.

(۱۲) مریم جمیلہ،مریم جمیلہ اورمولانا مودودی کی مراسلت، مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی، ۲۰۱۰، ص:۳

(۱۳)تذکرہ سید مودودی، تدوین وترتیب :جمیل احمد رانا ،سلیم منصور خالد ادارہ معارف اسلامی لاہور، ۱۹۹۸،جلد۲،ص:۸۶۵                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                  (۱۴) مریم جمیلہ اور مولانا مودودی کی مراسلت،ص:۱۰

(15)  Maryam Jameelah, islam Theory and Practice Lahore 1976, P:11, see also Al Dawah ,May 2004 P : 33

(16)   Why I embraced Islam,New Crescent Publishing Co, P : 9,

(17)فرائیڈے اسپیشل، نومبر  ۲۰۱۲

(18)تذکرہ سید مودودی،منشورات لاہور،ج  اول ۷۸۵

(19)مریم جمیلہ ہمیشہ اپنے شوہر کو پیار و محبت سے میرے خا ن صاحب  سے پکارتی تھیں۔

(۲۰) تذکرہ سید موددی ، جلد اول: ۵۷۸)

جنوری 2017

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau