کیا مسافر تھے جو اس راہ گزر سے گزرے

ڈاکٹر سراج الدین ندوی

 یہ 1984کی بات ہے۔میں جب مدرسہ احیا ءالعلوم سرکڑہ بجنورسے منتقل ہوکر مرکزی درس گاہ اسلامی رام پور پہنچا تو سب سے پہلے ماسٹر رونق علی صاحب سے ملاقات ہوئی،وہ درس گاہ میں استاذ تھے،بہت بااخلاق اور صاحب مروت انسان تھے،ہر نئے آنے والے استاذ سے دوستی کرلیتے تھے،ان کی ضرورتیں نہ صرف معلوم کرتے بلکہ حتی المقدور پوری بھی کرتے تھے۔ایک باردوران گفتگو انھوں نے مجھے مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی ؒ کا ایک واقعہ سنایا۔موصوف اس وقت امیر جماعت تھے اور مرکز جماعت رام پور میں تھا۔اس واقعہ سے محترم امیر جماعت کے بلند کردار پر روشنی پڑتی ہے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے بزرگوں اور تحریکی رفقا و کارکنان نے کس ہمت و جرأت سے سب و شتم کے تیر برداشت کیے۔ایسے ہی کرداروں سے لوگ متاثر ہوئے اور تحریک اسلامی سے وابستہ ہوئے۔

 ایک مرتبہ مولاناابواللیث اصلاحی ندویؒ ٹرین سے رام پور اسٹیشن پر اترے اور ایک رکشہ والے سے کہا: ‘‘مجھے مرکز جماعت اسلامی کھنڈسارکہنہ لے چلو۔” اس نے مولانا کو اوپر سے نیچے تک دیکھا۔وہ سمجھ گیا کہ یہ اجنبی ہیں۔اس نے کرایہ طے کیا اورچل دیا۔راستے میں اس نے جماعت اسلامی کے بارے میں بتانا شروع کیا: ۔‘‘یہ کافر جماعت ہے،یہ نبی کو نہیں مانتے،صحابہ کو برا بھلاکہتے ہیں،یہ دین میں نیا فرقہ ہے۔اس کے جو امیر ہیں وہ بہت گھٹیا آدمی ہیں وغیرہ وغیرہ’’ مولانا صبر سے سنتے رہے۔یہاں تک کہ مرکز آگیا۔مولانا رکشے سے اترے اور بولے: ‘‘بھائی چائے پی کر جانا۔’’ رکشہ والے نے انکار کیا۔لیکن مولانا اصرار کرنے لگے تو وہ تیار ہوگیا۔مولانا نے اسے ملاقات والے کمرے میں بیٹھایااور کہا: ‘‘جس ابواللیث کو تم گالیاں دے رہے تھے،وہ میں ہی ہوں،اگر کچھ اور کہنا ہو تو کہہ سکتے ہو۔’’یہ سن کر رکشہ والے کے ہوش اڑ گئے۔وہ چاروں طرف دیکھنے لگا۔وہ مولانا سے نظریں نہیں ملاپارہا تھا۔مولانا بولے: ‘‘البتہ تم نے جماعت اسلامی کے بارے میں جو کچھ کہا وہ غلط فہمی اور ناواقفیت پر مبنی ہے۔’’ پھر مولانا نے اسے جماعت کا تعارف کرایا۔وہ بہت شرمندہ ہوا۔اس نے مولانا سے معذرت خواہی کی اور سرجھکائے رخصت ہوگیا۔بعد میں وہ جماعت کا کارکن بن گیا۔

 ٭٭٭

 میں مدرسہ احیا ءالعلوم کا طالب علم تھا۔ ہمارے اساتذہ میں مولانا حکیم اشرف علی قاسمی صاحبؒ بھی تھے۔مولانا کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا۔وہ ہم بچوں کو بھی جماعت کا لٹریچر دیتے تھے،اس میں اخلاقی کہانیاں،موتیوں کا ہار،خطبات جیسی کتابیں ہوتی تھیں۔ان کی زبان بہت آسان ہے۔جماعت اسلامی کا لٹریچر اور خاص طور پر مولانا مودودی ؒکی کتابیں ‘جادو کی پڑیا ’ہیں۔بس جس نے انھیں پڑھ لیا وہ ان کی فکر کا حامل ہوگیا۔مولانا اشرف علی قاسمیؒ صاحب ہمیں اجتماعات میں بھی لے جاتے،کہیں ہم سے حمد یا نعت پڑھواتے،کبھی کسی کتاب کا کچھ حصہ پڑھواتے۔مولانا اشرف علی صاحب کی ایک خوبی یہ تھی کہ نہ وہ خود آرام کرتے تھے،نہ ہم لوگوں کو چین سے بیٹھنے دیتے تھے۔خالی وقت میں بزرگوں کے واقعات سنانے بیٹھ جاتے۔ایک بار انھوں نے مولانا ابو سلیم محمد عبد الحئی صاحب کے بارے میں بتایا کہ وہ شیرکوٹ (ضلع بجنور) میں محکمہ جنگلات میں ملازم تھے،کسی بڑے منصب پر تھے،جہاں ان کی تنخواہ اچھی تھی،دیگر سہولیات بھی میسر تھیں،اسی کے ساتھ اوپر کی آمدنی بھی خوب تھی۔بڑے شاہانہ انداز میں رہتے تھے۔جماعت اسلامی کے رفقا نے ان سے ملاقات کی اور انھیں جماعت کا لٹریچر دیا۔پھر اگلے مہینے ملاقات کی اور دوسری کتابیں دے دیں۔وہ کتابیں لے تو لیتے تھے لیکن پڑھتے نہیں تھے۔وہ تھے تونام کے مسلمان لیکن الحاد و دہریت سے متاثر تھے۔دین اور مذہب کی باتوں کو فضول سمجھتے تھے۔خیر ایک دن کی بات ہے کہ رات میں انھیں نیند نہیں آرہی تھی۔اس زمانے میں ٹی وی اور اینڈرائڈ موبائل نہیں تھا کہ لوگ اپنی راتوں کو ان کے سہارے گزار لیں،وقت گزاری کا سب سے بڑا ذریعہ کتابیں تھیں۔انھوں نے اپنی میز پرپڑی کتابوں پر نظر ڈالی تو ان میں مولانا مودودی ؒ کی رسالہ دینیات بھی تھی۔یہ وہ کتاب ہے جس نے لاکھوں افراد کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے، دنیا کی بیشتر قابل ذکر زبانوں میںاس کا ترجمہ ہوچکا ہے۔انھوں نے رسالہ دینیات اٹھایا اور پڑھنا شروع کیا۔جیسے جیسے پڑھتے جاتے تھے آنکھوں سے نیند مزید غائب ہوتی جاتی تھی۔ایک بار پورا رسالہ پڑھ لیا،لیکن تشنگی باقی رہی تو دوبارہ پڑھنا شروع کیا۔اب تو ان کی حالت دیدنی تھی۔پڑھے لکھے انسان تھے،سمجھ بوجھ رکھتے تھے، رسالہ دینیات پڑھتے ہوئےان کی عقل خدا کا اقرار کررہی تھی۔ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ان کا مسلمان گھرانے سے تعلق تھا،بچپن میں نمازیں پڑھی تھیں۔اس لیے انھیں نماز یاد تھی۔بے اختیار اٹھے اور وضو کر کے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے۔دہریت سے توبہ کی۔اسی حال میں صبح ہوگئی۔تیار ہوکر دفتر گئے۔اپنا استعفا لکھا اور آفیسر کو سونپ دیا۔اس نے بہت سمجھایا۔رزق کی تنگی کا خوف دلایا،بچوں کے مستقبل کا واسطہ دیا۔ان کے ساتھی بھی حیران ہوئے۔لیکن انھوں نے کسی کی نہ سنی۔وہ دل سے مسلمان ہوچکے تھے۔اپنا سامان سفر باندھا،اپنے بچوں کو لیا اور رام پور پہنچ گئے۔یہاں رہ کر انھوں نے از سر نو زندگی شروع کی۔اللہ نے ان سے بہت کام لیا۔انھوں نے ادارہ الحسنات قائم کیا۔جہاں سے الحسنات نور، بتول،ہلال اور ہادی شائع ہوتے رہے،انھوں نے ہی جامعة الصالحات قائم کیا جو آج لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کا بین الاقوامی شہرت یافتہ ادارہ ہے۔درجنوں کتابوں کے مصنف بنے،بلا مبالغہ ان کی کوششوں سے بے شمار لوگ مصنف بن گئے۔ان پر اللہ کی رحمت ہو۔

 اب مولانا عبدالحئی صاحب کا تذکرہ آہی گیا ہے تو ایک واقعہ اور سن لیجیے۔یہ واقعہ مجھے جناب جاوید اقبال صاحب سابق ناظم مرکزی درس گاہ اسلامی نے سنایا تھا۔مولانا عبدالحئی صاحب کے پاس ایک شخص آیا اور دوران گفتگو اس نے کہا: ‘‘فلاں مولانا صاحب آپ کی خرابیوں کا ذکر کررہے تھے۔ولانا عبدالحئی ؒ بولے: ‘‘نہیں ایسا نہیں ہوسکتا تمھیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے اور آئندہ یہ بات کسی سے نہ کہنا۔’’خیر وہ شخص خاموش ہوگیا اور دوسری باتیں ہوتی رہیں۔جب وہ جانے لگا تو مولانا نے اسے روکا اور گھر کے اندر گئے اور وہاں سے ایک ٹفن میں کچھ تحفہ لائے اور اس کو دیتے ہوئے بولے: ۔‘‘یہ تحفہ انھیں مولانا صاحب کو دے دینا اور کہنا کہ عبدالحئی نے آپ کے لیے دیا ہے۔’’وہ شخص حیرت میں پڑ گیا اور سوچنے لگا کہ یہ انسان کتنے عظیم کردار کا مالک ہے۔ جس نے اس کی برائی کی اسی کو تحفہ بھیج رہا ہے۔ظاہر ہے جب وہ تحفہ مولانا صاحب نے اسی شخص کے ہاتھوں سے وصول کیا ہوگا جس کے سامنے انھوں نے عبدالحئی صاحب ؒکی برائی کی تھی تو ان پرگھڑوں پانی پڑگیا ہوگا۔یہی بات ہے جسے قرآن مجید میں اس طرح کہا گیا ہے: ‘‘تم برائی کو بھلائی سے دفع کرو’’(فصلت–34)۔یہ کردار تحریک اسلامی کے سابقون اولون میں خوب پایا جاتا تھا۔

٭٭٭

 مولانا عبدالوحید صدیقی تاج پور ضلع بجنور کے رہنے والے تھے۔ رکن جماعت تھے۔بڑے تاجر اور خوش حال انسان تھے۔ان کے دو کریشر تھے۔اس زمانے میں چینی بنانے کی یہی فیکٹریاں تھیں۔ بعد میں شوگر مل بن گئے او ر رفتہ رفتہ کریشر ختم ہوگئے۔1970کی دہائی میں کریشر کی تجارت بڑی تجارت سمجھی جاتی تھی۔مولانا مخیر بھی بہت تھے۔جماعت اسلامی پر جان دیتے تھے۔1975میں جب ایمر جنسی نافذ ہوگئی اور ذمہ داران جماعت کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تو مولانا نے بھی اپنا زاد راہ تیار کرلیا اور پولیس کا انتظار کرنے لگے۔انھوں نے اپنے بیٹوں کو بلاکر کہا: ‘‘جماعت اسلامی ہند پر پابندی لگ چکی ہے۔ذمہ داران جماعت جیلوں میں ڈالے جارہے ہیں۔میری گرفتاری بھی یقینی ہے۔میں نے اپنی اٹیچی تیا رکرلی ہے۔میرے بعد تمام کاروبار کی نگرانی کرنا۔’’اس کے علا وہ بھی دنیا وآخرت کی فلاح سے متعلق بہت سی باتیں سمجھائیں۔ مولانا اگر چاہتے تو گرفتاری سے بچ سکتے تھے،ان کے سیاسی لیڈر وں سے بھی اچھے تعلقات تھے،چاہتے توان کا اثر رسوخ استعمال کرسکتے تھے،چاہتے تو کسی رشتہ دار کے یہاں جاکر چھپ جاتے۔ لیکن مولانا نے عزیمت کی راہ اپنائی اور جیل چلے گئے۔پوری تحریک اسلامی میں ایک بھی فرد نے رخصت کی کوئی راہ نہیں اختیا رکی بلکہ سب نے عزیمت کا راستا چنا اور ایمرجنسی کا سینہ سپر ہوکر مقابلہ کیا۔

 ایمرجنسی ہی کے زمانے میں ہم لوگ ایک بار بجنور کی جیل میں رفقاء سے ملنے گئے۔ مولانا اشرف علی قاسمی صاحبؒ جو میرے استاذ تھے،عبدالوحید صدیقی صاحب اور دوسرے رفقا سے ملاقات ہوئی۔انھوں نے بتایا کہ کل جیل آفیسر نے ہمیں ایک تحریر دی اور کہا کہ اس پر دستخط کردیجیے، ہم آپ کو رہا کردیں گے۔اس میں لکھا تھا کہ اسلام میں فیملی پلاننگ جائز ہے۔ہم تمام رفقانے بیک زبان کہہ دیا کہ ہم اس تحریر پر دستخط نہیں کریں گے چاہے ساری زندگی جیل میں ہی رہنا پڑے۔یہ وہ عزم و حوصلہ تھا جس نے تحریک کی کشتی کو بھنور سے نکالا اور آج یہاں تک پہنچایا۔

 ٭٭٭

 مولانا عطاء الرحمان وجدی صاحب تحریک اسلامی کی سرگرم شخصیت رہے ہیں۔

ایک بار کا ذکر ہے پڑوسی ملک سے ایک مولانا صاحب سہارن پورتشریف لا ئے ہوئے تھے۔سہارن پور کے کسی نہ کسی محلے میں روزانہ ان کی تقریر ہوتی،وہ ہر روز اپنی تقریر میں جماعت اسلامی اور مولانا مودودیؒ کے خلاف زہر اگلتے تھے۔ وجدی صاحب نے اپنے رفقاء کے ہم راہ ان سے ملاقات کی اور ان سے کہا:


‘‘اگر آپ کو جماعت یا مولانا مودودی ؒسے کوئی اختلاف ہے تو اس پر بات ہوسکتی ہے مگر عوام میں اس طرح کی اختلافی باتیں کرنا مناسب نہیں ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم ملت کے درمیان اتحاد ومواخات کی بات کریں اور اختلافی باتوں سے پرہیز کریں۔ اگر ناگزیر ہوتو آپس میں بیٹھ کر باہم تبادلہ خیال کرلیں۔’’

مولانا صاحب نے اس وقت وجدی صاحب کی باتوں سے اتفاق کرلیا اور یقین دلایا کہ آئندہ برسرعام وہ اس طرح کی باتیں نہیں کریں گے۔

 اگلے روز وجدی صاحب اپنے چند رفقاء کے ساتھ ان کے پروگرام میں گئے تاکہ یہ دیکھیں کہ وہ اپنے وعدہ کو کہاں تک نبھاتے ہیں۔ دوران تقریر انھوں نے خلافت وملوکیت نامی کتاب لوگوں کو دکھاتے ہوئے کہا:


‘‘یہ مودودی کی لکھی ہوئی کالی کتاب ہے۔ جس میں اس نے صحابہ کرامؓ کو گالیاں دی ہیں اور پیارے نبی ؐ کی شان میں گستاخی کی ہے۔’’

 وجدی صاحب نے مجھ سے بتایا کہ جب اس شخص نے یہ کہا تو میرا خون کھول گیا۔ مجھ سے برداشت نہ ہوسکا،میں کھڑا ہوگیا اور زور سے کہا!‘‘تم جھوٹ بولتے ہو۔’’

 یہ سنتے ہی ان صاحب نے سامعین سے کہا:

 ‘‘پکڑو!اسے، مارو اسے!’’

 چناں چہ شرکا میں سے سامعین کی ایک بھیڑ وجدی صاحب کے پاس آئی۔انھیں اپنے کاندھوں پر اٹھالیااور آرا مشین کے پاس لے گئے۔وجدی صاحب کے ساتھ چند رفقاء تھے لیکن اتنی بھیڑ میں چند رفقاء آٹے میں نمک کے برابر تھے۔جیسے ہی انھوں نے وجدی صاحب کو چیرنے کے لیے آرامشین پر رکھا ان کے محلے کا ایک با رعب آدمی چیختے چلاتے اور بھیڑ کو چیرتے ہوئے وجدی صاحب تک پہنچ گیااور بولا:

 ‘‘خبردار اگر کسی نے وجدی صاحب کو ہاتھ لگایا۔’’

 یہ کہہ کر اس نے وجدی صاحب کو ان کے گھر پر پہنچادیا۔ یہ آپ کی تحریک اسلامی سے محبت تھی اور آپ کی ایمانی قوت کہ پورے واقعے کے دوران آپ پر ذرا بھی گھبراہٹ طاری نہیں ہوئی۔معافی کی گہار نہیں لگائی، کسی سے مدد نہیں مانگی،کسی کی طرف ملتجیانہ نظروں سے بھی نہیں دیکھا۔n


[1]چیرمین ملت اکیڈمی۔بجنور (فون : 9897334419)

جولائی 2023

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau