Opens in a new tab

قیادت اور تحریک اسلامی قرآن کی روشنی میں

گذشتہ مضمون میں ہم نے ’عبدیت‘ کے تصور کا قیادت کے قرآنی ماڈل کے بنیادی عنصر کی حیثیت سے جائزہ لیا تھا۔ اسی بنیاد پر آگے بڑھتے ہوئے ہم قیادت کے ماحول، بالخصوص ’تحریکِ اسلامی‘ کی طرف توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ وہ کون سا مشن اور ادارہ جاتی ڈھانچہ (institutional framework) ہے جس کے اندر اس ’عبد‘ کو قیادت کرنی ہے؟

یہ اقامتِ دین ← تحریک ←تنظیم ہے۔

یہ وہی پیغمبرانہ مشن ہے۔ یہ کوئی نیا مشن نہیں، بلکہ وہی مشن ہے جو پوری انسانی تاریخ میں انبیا علیہم السلام کو سونپا جاتا رہا۔ تحریکِ اسلامی اسی مشن کا احیا کرتی ہے۔ تحریک نبوت کی وارث نہیں ہوتی، بلکہ پیغمبرانہ ذمہ داری کے اس پہلو کی ادائیگی میں اجتماعی طور پر شریک ہوتی ہے جو امت پر بدستور عائد ہے، یعنی شہادت حق، تجدید واصلاح اور اقامتِ دین کے لیے جدوجہد۔

اقامتِ دین قرآنی فریضہ ہے۔ تجدید امت کی ایک دائمی ذمہ داری ہے، تحریک اس ذمہ داری کا ایک منظم اجتماعی پیکر ہے اور تنظیم وہ ادارہ جاتی وسیلہ ہے جو اسے آگے بڑھانے کے لیے قائم کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر وہی تنظیم، جو ’عبد‘ کو متحرک اور فعال بنانے کے لیے قائم کی گئی تھی، عبد کو اپنے ادارہ جاتی سانچے میں ڈھالنا شروع کردے تو ایسے میں کیا ہوگا؟، پھر تنظیم تحریک کا تعین کرنے لگے گی، تحریک اقامتِ دین کے مفہوم کو ازسرِنو متعین کرنے لگے گی، اور ادارہ جاتی تقاضے عبد کی شخصیت اور ساخت کو نئی صورت دینے لگیں گے۔

تحریک کے لیے اپنے آپ کی مسلسل تجدید کیوں ضروری ہے؟

آخری نبی کی بعثت سے قبل وحی الٰہی کے عمل کی صورت یوں تھی:

انحراف ← بعثتِ انبیا ← اصلاح بذریعہ وحی

قُلۡنَا ٱهۡبِطُوا۟ مِنۡهَا جَمِیعاۖ فَإِمَّا یَأۡتِیَنَّكُم مِّنِّی هُدى فَمَن تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡهِمۡ وَلَا هُمۡ یَحۡزَنُونَ (البقرہ: ٣٨)

(ہم نے کہا کہ تم سب یہاں سے اُتر جاوٴ۔ پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمھارے پاس پہنچے، تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے،ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا۔)

آخری نبی ﷺ کی آمد کے بعد اب نہ تو کوئی اور نبی آئے گا اور نہ کوئی نئی کتاب نازل ہوگی۔ قرآن ہی آخری وحی ہے۔ لہٰذا ختمِ نبوت کے معنی محض یہ نہیں کہ ’’محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا‘‘، بلکہ یہ امت پر ایک تاریخی ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے: چوں کہ تاریخ کا رخ ازسرِنو درست کرنے کے لیے اب کوئی نیا نبی نہیں آئے گا، اس لیے آخری وحی اور اس کی حامل امت کے اندر حفاظت، تنقید و محاسبہ، تجدید اور بازیافت کے طریقہ کار موجود ہونے چاہئیں۔ اسی نقطہ سے ما بعد نبوت کا دور شروع ہوتا ہے جس میں اسلامی تحریک کے ذریعے اصلاح اور تجدید کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ عمل حسب ذیل ترتیب سے چلتا ہے:

وحی میں ہدایت کی حفاظت ← ہدایت سے تاریخی دوری ←غفلت / تحریف / فساد ← صورت حال کی تشخیص ←

امت کے اندر سے تجدید ← وحی کی طرف رجوع ← ادارہ جاتی تشکیل ← ممکنہ جمود ← تجدید و اصلاح کے دور کا از سر نو آغاز

تحریکِ اسلامی امتِ مسلمہ میں ما بعد نبوت دور میں اجتماعی تجدید کی ایک منظم شکل ہے، جو وحی اور تاریخی حقائق کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کے احساس کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔ اس کا مقصد دینی اور معاشرتی انحرافات و تحریفات کی تشخیص، قرآن اور سنتِ نبوی کی اصل رہ نمائی کا احیا، فساد، ظلم اور طغیان کے پختہ ہوچکے نظام کو چیلنج کرنا اور اس احیا شدہ ہدایت کو ایک جدید انسانی، سماجی اور ادارہ جاتی زندگی میں ڈھالنا ہے۔

لیکن تاریخ کی اصلاح کے لیے قائم ہونے والی ہر تحریک بالآخر خود تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے۔ تحریک اپنے سفر کا آغاز واقعے اور موجودہ صورتِ حال (الواقع) کو وحی کی روشنی میں پرکھنے سے کرتی ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ خود تحریک کی اصطلاحات، مناصب، درجہ بندیاں، روایات، طریقۂکار، شعبہ جات، پیشہ ورانہ توقعات، ادارہ جاتی مفادات اور موروثی مفروضات تشکیل پانے لگتے ہیں۔ یوں تجدید کے وسیلے کے طور پر وجود میں آنے والی تحریک خود انھی تاریخی عوامل کی زد میں آ جاتی ہے جو تجدید کو ناگزیر بناتے ہیں۔ گویا یہ ایک دور کے اندر دوسرا دور ہے۔

اب سوال یہ ہے: تجدید کرنے والے کی تجدید کون کرے گا؟ یا زیادہ درست الفاظ میں: جب ایک تحریک خود اپنی تاریخ، مفادات، درجہ بندی اور ادارہ جاتی حافظہ حاصل کر لیتی ہے تو وہ تجدید کی اپنی صلاحیت کو کیسے محفوظ رکھے؟

جب ادارہ ’عبد‘ کی تشکیل کرنے لگے

معاشرے کو افراد کے ایک ایسے گروہ کے طور پر دیکھیں جسے قرآن میں النَّاس کہا گیا ہے۔ اس گروہ میں عبد اور غیر عبد دونوں شامل ہیں۔ اس کے اندر ملتِ اسلامیہ موجود ہے، جو عبد کی بنیادی اکائی سے تشکیل پاتی ہے۔ ان میں سب سے اعلیٰ درجے کے افراد بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اور ممتاز ترین عبد ہیں، جو اس امت کی محرک قوت کا کام کرتے ہیں اور مشنِ نبوی کے علم بردار ہوتے ہیں۔

جب ان افراد کا ایک متحد گروہ نبوی مشن کی تکمیل کے لیے خود کو منظم کرتا ہے، تو وہ ایک تحریک بن جاتی ہے۔ تحریک کی قیادت اسی زمرے کے بہترین عبدوں پر مشتمل ہوگی، جن کی رہ نمائی قرآن کرتا ہے۔ قرآن میں صدیقین، شہداء، صالحین اور اولو الأمر کا ذکر ملتا ہے؛ یہ عباد میں سب سے صالح عبد اور اصحاب فضیلت ہوتے ہیں اور یہی لوگ اس تحریک کی قیادت کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔

اب تحریک ایک ادارہ ہے، لیکن ادارے انسانوں ہی کے ذریعے کام کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ کسی ادارے کی اپنی کوئی ایسی روح نہیں ہوتی جو انسانوں سے الگ اور مستقل وجود رکھتی ہو؛ لیکن جب ادارہ جاتی طرزِ عمل ایک مرتبہ قائم اور مستحکم ہو جائے تو وہ بعد میں آنے والے انسانوں کی ذہنی، اخلاقی اور عملی تشکیل پر اثر انداز ہونے لگتا ہے۔

قرآنی اینتھروپولوجی (anthropology) کی ابتدا قائد، فعال رکن، کارکن، دانش ور، منتظم یا پروفیشنل سے نہیں، بلکہ ’عبد‘ سے ہوتی ہے۔ ’عبدیت‘ ایک شناخت ہے اور ’اقامتِ دین‘ اس کا مشن ہے۔ ’تحریک‘ اس مشن کی اجتماعی صف بندی اور تحریک ہے، اور ’تنظیم‘ اس تحریک کو جاری رکھنے کے لیے ادارہ جاتی گاڑی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس چار سطحی ساخت کی ترتیب اس طرح ہے:

عبدیت ← اقامتِ دین ← تحریک ← تنظیم

یا پھر اسے ہم یوں بھی بیان کرسکتے ہیں:

بنیادی انسانی شناخت ← خداوندی ذمہ داری ← اجتماعی تحریک ← تنظیمی ساخت۔

ان عوامل کی ترتیب انتہائی نازک اور بنیادی اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ فساد و انحراف اسی وقت جنم لیتا ہے جب یہ ترتیب اپنے مسار سے ہٹ جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک کم زور ’عبد‘ وجود میں آتا ہے، جو ایک مسخ شدہ ادارے کی بنیاد بنتا ہے، اور یہی مسخ شدہ ادارتی رویے آگے ’عبد‘ کی شخصیت اور مزاج کو مزید بگاڑنے کا باعث بنتے ہیں۔

قرآنی لیڈرشپ بنیادی طور پر ’عبد‘ کی تشکیل پر زور دیتی ہے۔ لیکن جدید ادارہ جاتی ماحول ایک بالکل مختلف فرد کی تشکیل دیتا ہے۔ چناں چہ سب سے اہم اور معرکة الآراء سوال دراصل یہی ہے کہ: انسان کی تشکیل و تربیت کون کر رہا ہے؟ کیا وہ وحی ہے؟ نفس ہے؟ مارکیٹ ہے؟ پیشہ ورانہ تقاضے ہیں؟ قوم ہے؟ تنظیمی اور ادارہ جاتی طاقت ہے؟ یا پھر سماجی مقبولیت و استحسان کا مطمح نظر؟

میدان کشمکش — فساد و انحراف کیوں کر در آتا ہے اور ’عبد‘ کی شخصیت بتدریج کیسے تشکیل پاتی ہے؟

گذشتہ مضمون (زندگی نو اگست ۲۰۲۶) میں ہم نے جائزہ لیا تھا کہ وحی الہی کس طرح ’عبد‘ کی تشکیل کرتی ہے۔ اس مضمون میں ہم اس کے برعکس عمل کا جائزہ لیں گے: ’عبد‘ کو عبدیت سے دور کر کے کس طرح تدریجی طور پر دیگر شکل میں ڈھالا جا سکتا ہے۔

ابلیس کا اثر اس دنیا میں فساد اور فتنے کا سرچشمہ ہے۔ وہ مختلف چال بازیوں، جالوں اور جھانسوں سے کام لے کر مختلف گروہوں کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بناتے ہوئے، ان کے مطابق مخصوص طریقے اختیار کرتا ہے۔ قرآنِ کریم نے اس کے طریقہ کار (methodology) کی بنیادی تدابیر کو یوں بیان کیا ہے:

تزئین: خوب صورت اور دل کش بناکر دکھلانا۔

تمنی: جھوٹی امیدیں اور آرزوئیں پیدا کرنا۔

غرور: دھوکہ، فریب اور مغالطے میں مبتلا کرنا۔

قعود علی الصراط: عین صراطِ مستقیم پر بیٹھ کر اہلِ ایمان کی راہ روکنا۔

تغییر: چیزوں کو بدل دینا اور ان کی اصل صورت کو مسخ کر دینا

لَأُزَینَنَّ لَهُمْ فِی الْأَرْضِ (الحجر: ۳۹) (میں زمین میں ان کے لیے دل کشیاں پیدا کر دوں گا)

وَلَأُمَنِّینَّهُمْ (النساء: ۱۱۹) (اور انھیں آرزوؤں میں الجھاؤں گا)

لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیمَ(الاعراف: ۱۶) ( میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر اِن کی گھات میں لگا رہوں گا )

ان تمام افعال کے پیچھے ابلیس کا ایک ہی مقصد پیشِ نظر ہے:

وَلَـَٔامُرَنَّهُمۡ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلۡقَ ٱللَّهِۚ (النساء: ۱۱۹) اور میں انھیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں ردوبدل کریں گے۔

اصل ساخت اور فطری جبلت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ قرآن کے مطابق ابلیس کی نہایت گہری سرگرمی ہے۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں بلکہ تدریجاً رونما ہوتی ہے، کیوں کہ وہ انسانوں کو دھوکے کے ذریعے پھسلاتا ہے۔ وہ نہایت صبر سے انتظار کرتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ، بغیر کسی کی توجہ میں آئے، پوشیدہ طریقے سے ان کے فکر و عمل کو متاثر کرتا رہتا ہے۔ جیسا کہ قصہ آدم و حوا میں ہے: فَدَلَّىٰهُمَا بِغُرُورٍ (اس طرح دھوکے میں لا کر وہ ان دونوں کو اپنے بس میں لے آیا)

اسی طرح ابلیس سارے انسانوں کے بارے میں اپنے ناپاک عزائم کا اظہار کرتا ہے:

قَالَ فَبِمَاۤ أَغۡوَیۡتَنِی لَأَقۡعُدَنَّ لَهُمۡ صِرَٰطَكَ ٱلۡمُسۡتَقِیمَ. ثُمَّ لَـَٔاتِیَنَّهُم مِّنۢ بَیۡنِ أَیۡدِیهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ وَعَنۡ أَیۡمَـٰنِهِمۡ وَعَن شَمَاۤىِٕلِهِمۡۖ وَلَا تَجِدُ أَكۡثَرَهُمۡ شَـٰكِرِینَ (الأعراف ۱۶۔۱۷)

(بولا، اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گم راہی میں مبتلا کیا میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر اِن انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا، آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہر طرف سے اِن کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائےگا۔)

الغرض ابلیس اجتماعیت کو اندر سے آہستہ آہستہ کم زور کرتا ہے اور اس کے لیے قیادت اور کارکن، دونوں سطحوں پر بنیادی اکائی یعنی ’عبد‘ پر حملہ آور ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ’عبد‘ کے کردار میں لچک اور سمجھوتا (compromise) پیدا ہونے لگتا ہے جس کے نتیجے میں پوری تحریک تحریف کا شکار ہوتی چلی جاتی ہے۔ ابلیس قدیم ہے، جدیدیت نئی ہے۔ ترغیبات اور فتنوں کی حقیقت قدیم ہے؛ صرف انھیں انسان تک پہنچانے والے نظام بدل گئے ہیں۔ آج کی دنیا میں یہ تحریف ان اجتماعی اور عالم گیر آرزوؤں کے ذریعے آگے بڑھتی ہے جو انسانوں کی خواہشات اور تصورات کو تشکیل دیتی ہیں۔

جب عبد کا تصور مجروح ہو جاتا ہے تو پورا ڈھانچہ اندر ہی اندر منہدم ہونے لگتا ہے۔ نتیجتاً معاشرہ اپنے نمونہ عمل—یعنی عبد—سے محروم ہو جاتا ہے، کیوں کہ اب وہ الناس کی عمومی شناخت سے نمایاں اور ممتاز نہیں رہتا۔ کوئی صاف اور شفاف کردار باقی نہیں رہتا جسے اسوہ قرار دے کر اس کی اقتدا کی جاسکے، صرف سطحی اور ظاہری وضع قطع کے فرق باقی بچتے ہیں۔

ابلیس انسان کی خواہشات پر اپنا کام کرتا ہے؛ جب کہ ادارے ان مخصوص خواہشات کو استحکام بخشتے، انھیں نارملائز کرتے اور انھیں بڑھاوا دیتے ہیں۔ لہٰذا جدید اداروں کے لیے بذاتِ خود شر ہونا ضروری نہیں کہ وہ تزئین، غرور یا تمنّی کے ذرائع بن جائیں۔

آج جدیدیت نے معاشرے کے حجم اور پیچیدگی کو یکسر بدل دیا ہے۔ یہاں ریاستیں (Nation-State)، بیوروکریسی اور یونیورسٹی جیسے ادارے موجود ہیں؛ ماس میڈیا، کارپوریشن، فائنانشیل سسٹم، پولیٹیکل سسٹم، ماس ایجوکیشن، ڈیجیٹل نیٹ ورک، عالمی منڈیاں (global markets) —  اداروں کی اس فہرست کو بلند آواز سے پڑھیے اور ان پر غور کیجیے۔ ان میں سے کوئی بھی ادارہ خود کو کسی عقیدے یا نظریے کا نمائندہ ظاہر نہیں کرتا۔ ان میں سے کوئی بھی آپ سے بحث میں نہیں الجھے گا۔ یہی دراصل ان کی غیر معمولی ذہانت ہے، وہ آپ کے عقیدے سے الجھتے نہیں ہیں۔ وہ صرف آپ کے روزانہ کے معمولات کو ترتیب دیتے ہیں، آپ کی محنت کی قیمت مقرر کرتے ہیں، آپ کے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں اور ان بند کمروں میں بیٹھ کر خاموشی سے طے کرتے ہیں جن میں آپ کبھی داخل نہیں ہوسکتے — کہ اگلی جمعرات کو آپ کس چیز کی خواہش کریں گے۔

درحقیقت جدیدیت بذاتِ خود اصل مسئلہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ وہ نظام ہے جو ’عبد‘ کی وفاداریوں، خواہشات، خوف، وقت اور کام یابی کے تصور کی ترجیحات کو نہایت خاموشی سے بدل کر رکھ دیتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ: ایک کام یاب انسان کا کون سا وہ تصور ہے جسے یہ نظام خاموشی سے نارملائز کررہے ہیں؟

ابلیس کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ وہ ایک اچھی زندگی کا مفہوم ہی بدل کر رکھ دے۔ اس کی سب سے بڑی فتح یہ ہوتی ہے کہ وہ مومن کے تخیلات اور تصورِ حیات کو اپنے فریم میں ڈھال دیتا ہے کہ مومن کو یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ اس سے کیا چھن چکا ہے۔ آج کے دور میں ایک جدید ”کام یاب انسان“ کا تصور عموماً یوں کیا جاتا ہے: تعلیم یافتہ، کارآمد اور پروڈکٹیو (productive)، معاشی طور پر محفوظ (economically secure)، زیادہ سے زیادہ اشیا خریدنے اور استعمال کرنے کی استطاعت رکھنے والا(consumptively capable)، سماجی طور پر نمایاں، سیاسی نمائندگی کا حامل، ڈیجیٹل طور پر مربوط اور پیشہ ورانہ میدان میں کام یاب۔ ان مذکورہ چیزوں میں سے کوئی بھی چیز بذاتِ خود غلط نہیں ہے۔ اصل خطرہ لازماً اللہ کے خلاف بغاوت کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتا، بلکہ محبتوں، اندیشوں، تمناؤں، وقت اور کام یابی کے پیمانوں کی ترجیحات میں تبدیلی ہے۔

ان میں سے کسی کو بھی یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ’’میری عبادت کرو‘‘ چناں چہ اس کا نتیجہ لازماً اعتقادی شرک نہیں ہوتا، بلکہ یہ اس سے کہیں زیادہ لطیف اور دقیق شے ہے: منقسم بندگی (fragmented servitude)۔ منقسم بندگی کو عبدیت کے عملی ڈھانچے کے اندر پیدا ہونے والی ایک بے ترتیبی کے طور پر سمجھنا زیادہ درست ہوگا: اللہ بدستور تسلیم شدہ ربّ رہتا ہے، لیکن دوسری حریف مقتدر قوتیں رفتہ رفتہ عبد کے عملی تخیل—یعنی اس کے روزمرہ فیصلوں، ترجیحات اور طرزِزندگی—کو منظم کرنے لگتی ہیں۔

قرآن کریم نے نہایت خوب صورتی سے اس کی مثال کو واضح کیا ہے:

ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلا رَّجُلا فِیهِ شُرَكَاۤءُ مُتَشَـٰكِسُونَ وَرَجُلا سَلَما لِّرَجُلٍ هَلۡ یَسۡتَوِیَانِ مَثَلًاۚ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا یَعۡلَمُونَ (الزمر :٢٩)

’’اللہ ایک مثال دیتا ہے۔ ایک شخص تو وہ ہے جس کی ملکیت میں بہت سے کج خُلق آقا شریک ہیں جو اسے اپنی اپنی طرف کھینچتے ہیں اور دُوسرا شخص پُورا کا پُورا ایک ہی آقا کا غلام ہے۔ کیا دونوں کا حال یکساں ہو سکتا ہے؟ الحمدُ للہ، مگر اکثر لوگ نادانی میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘

ابلیس جدید نظاموں اور ان کے پیمانوں کو استعمال کرتے ہوئے آہستگی سے گہرا تصرف کرتا ہے اور ایک متبادل تصورِ انسان تشکیل دیتا ہے۔ یعنی انسان کیا ہے؟ اس کا ایک بالکل مختلف خاکہ تیار کیا جاتا ہے۔ قواعد کی ایک معمولی تبدیلی اپنے اندر ایک بہت بڑے روحانی انحراف کو چھپا سکتی ہے۔ جدید عبد مختلف نظاموں کے اندر زندگی بسر کرتا ہے، یہ نظام الٰہیاتی زبان استعمال کیے بغیر بھی اس کی روح کی تشکیل کر سکتے ہیں۔ عبدیت کا لازمی تقاضا ایک مطلق اور حتمی مرکز ہے، جب کہ جدید معاشرہ اقتدار اور فرماںروائی کے متعدد مراکز تخلیق کر دیتا ہے: آجر (employer ) آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کے وقت کی قیمت کیا ہے؛ مارکیٹ آپ کو بتاتی ہے کہ کام یابی کیسے دکھائی دیتی ہے؛ قوم پرستی آپ کو سکھاتی ہے کہ کون سب سے زیادہ اہم ہے؛ کنزیومر کلچر (consumer culture ) آپ کو بتاتا ہے کہ کون سی شے آپ کو خوشی دے گی؛ سوشل میڈیا طے کرتا ہے کہ کس کی پسندیدگی آپ کی قدر و قیمت کا تعین کرے گی؛ پروفیشنل ماحول آپ کو بتاتا ہے کہ کون سی قربانیاں معقول ہیں؛ سیاست آپ کو بتاتی ہے کہ کس سے ڈرنا چاہیے؛ الگورتھم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سی چیز آپ کی توجہ کی مستحق ہے۔

ایک مسلمان دولت کو ایک معبود کے طور پر مسترد کر سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود اپنی پوری زندگی معاشی سیکوریٹی کی خاطر کھپا سکتا ہے۔ وہ سماجی قبولیت کو معبود ماننے سے انکار کر سکتا ہے، جب کہ نفسیاتی طور پر دوسروں کی تعریف و پذیرائی کا تابع ہو سکتا ہے۔ وہ قوم پرستی (nationalism ) کو ایک حتمی عقیدے کے طور پر مسترد کر سکتا ہے، لیکن فطری طور پر قومی مفاد ہی کو اپنے اخلاقی احساس اور ذمہ داری کی حدود طے کرنے کا اختیار دے سکتا ہے۔ وہ یہ اقرار کر سکتا ہے کہ رزق کی تقسیم اللہ کے ہاتھ میں ہے، لیکن دوسری طرف اپنے ماتحت ملازم کو یوں باور کراسکتا ہے کہ اس کا مستقبل اسی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ یہ مان سکتا ہے کہ کام یابی حقیقت میں اللہ کے ہاں ’فلاح‘ پاجانے کا نام ہے، مگر کہیں نہ کہیں اپنا یا دوسروں کا جائزہ لیتے وقت ڈگریوں، آمدنی، عہدے، کارکردگی، اثر و رسوخ اور نمود و نمائش کے پیمانوں کو استعمال کرسکتا ہے۔

جدید صورت حال ایک عجیب و غریب کیفیت کو جنم دیتی ہے: عقیدے میں توحید اور شعور میں انتشار و باہمی تصادم ایک ساتھ نتھی ہوجاتے ہیں۔ منقسم بندگی (fragmented servitude) ایک ایسی حالت ہے جس میں انسان رسمی طور پر تو ایک ہی معبودِ حقیقی پر ایمان رکھتا ہے، مگر اس کی عملی شخصیت کے مختلف پہلو — اس کا وقت، خواہش، خوف، تمنا، شناخت، توجہ اور کام یابی کا تصور— متعدد، مختلف اور باہم برسرِ پیکار اقتدار کے مراکز کے تابع ہوتے چلے جاتے ہیں۔ دوسرے فکری و عملی نظاموں کی مسابقت کے نتیجے میں قرآنی منہج رفتہ رفتہ اپنی غالب اور فیصلہ کن حیثیت کھونے لگتا ہے۔ یوں جدید دور کے بحرانِ شناخت کے درمیان، بحیثیتِ عبد انسان کی شناخت بھی شکستہ، منتشر اور منقسم ہو جاتی ہے۔

وہ جسمانی اعتبار سے تو ایک شخص ہی ہوتا ہے، لیکن اخلاقی اور معنوی لحاظ سے کئی شخصیات میں منقسم ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محض دینی معلومات اور علم میں اضافے سے اس بحران کا حل تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ ممکن ہے کہ کوئی انسان دین اسلام کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہو، اس کے باوجود وہ ایک ایسے تخیل اور فکر کی فضا میں زندگی گزار رہا ہو جس کے بنیادی تصورات اور پیمانے کسی اور سے لیے گئے ہوں۔ وہ جانتا ہو کہ اسلام دولت کے بارے میں کیا کہتا ہے، لیکن پھر بھی وہ دولت مند ہی کو حقیقی معنوں میں کام یاب انسان تصور کرتا ہو۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہو کہ اسلام رزق کے تئیں کیا تعلیم دیتا ہے، مگر اس کے باوجود وہ پیشے اور کیریئر کے نشیب و فراز کے خوف میں مبتلا ہو۔ اسےاس بات کا علم ہو کہ اسلام آخرت کے متعلق کیا بتاتا ہے، لیکن اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کچھ ایسے کر رہا ہو جیسے یہ دنیا ہی وہ واحد دائرہ کار ہو جہاں نفع و نقصان کے حتمی فیصلے ہوتے ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں ہے کہ آیا ’عبد‘ اس بحران سے متاثر ہوتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ حتمی اخلاقی اور معائری اتھارٹی (normative authority) کس کے ہاتھوں میں ہے؟ جب کوئی خارجی عامل ’عبد‘ پراثر انداز ہوتا ہے تو کیا اب بھی وحی الٰہی اس اثر و رسوخ کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ کرتی ہے، یا پھر وہ اثر و رسوخ خود ایک معیار اور منصف بن جاتا ہے؟ چناں چہ قرآنی تربیت کا کام محض ایک بہتر اخلاقی پیشہ ور (professional)، نسبتًا زیادہ فعال ناظم یا زیادہ بہتر مذہبی کارکن تیار کرنا نہیں ہے۔ اس کا اصل اور حقیقی مقصد اللہ کی حاکمیت کے تحت انسانی شخصیت کی ازسرِ نو شیرازہ بندی کرنا ہے: خوف، امید، محبت، تمنا، دولت، پیشہ، خاندان، سیاست، عقل، جسم، وقت اور آخر کار زندگی و موت کو ایک ہی مرکز کے گرد مجتمع کر دینا۔ قرآنِ مجید نے اس جامع انسان کا سب سے مکمل بیان غالبًا اس موقع پر بیان فرمایا ہے:

قُلْ إِنَّ صَلَاتِی وَنُسُكِی وَمَحْیای وَمَمَاتِی لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِینَ (الأنعام: ۱۶۲)

’’کہو، میری نماز، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ ربّ العالمین کے لیے ہے۔‘‘

قیادت کا مسئلہ — اقامتِ دین کا بوجھ کس قسم کا شخص اٹھا سکتا ہے؟

بگاڑ کی حقیقت اور ابلیس کے طریقہ کار کو سمجھنے کے بعد ہمیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ اس مشن اور تحریک کی قیادت کے لیے کس قسم کے انسان پر مکمل اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ ہم اپنے پچھلے مضمون میں یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ قیادت کی ابتدا ’عبد‘ کی ساخت اور اس کی روحانی تربیت و تشکیل سے ہوتی ہے۔ چناں چہ اب ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ تحریک کے اندر یہ معاملہ اور بھی زیادہ ناگزیر کیوں بن جاتا ہے، کیوں کہ قیادت وہ مقام ہے جہاں ادارہ جاتی اختیار (institutional authority ) اور شخصی عبدیت ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔

قرآن مجید قیادت کی تشکیل کا آغاز فنی مہارتوں سے نہیں کرتا، بلکہ وہ اس انسان کی تشکیل سے آغاز کرتا ہے جو ان مہارتوں کو بروئے کار لائے گا۔ حکمتِ عملی اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے، ابلاغ اہمیت رکھتا ہے، منصوبہ بندی اہمیت رکھتی ہے، نظم و ضبط اہمیت رکھتا ہے، فیصلے کرنے کی صلاحیت اہمیت رکھتی ہے۔ لیکن قرآن کا سوال بنیادی طور پر ان تمام چیزوں سے مقدم ہے: وہ شخص کون ہے جو ان صلاحیتوں کو استعمال کر رہا ہے؟ وہ آخرکار کس کی بندگی بجا لا رہا ہے؟ کون سی شے اس کی خواہشات کو کنٹرول کرتی ہے؟ اور جب اقتدار، خوف، مال و دولت، پہچان اور ناکامی اس کے دل میں داخل ہوتے ہیں تو اس کے باطن پر کیا گزرتی ہے؟

عبدیت ایک وجودی (ontological)سوال کا جواب دیتی ہے : اللہ کے سامنے انسان کی حقیقت کیا ہے؟ انسان ’عبد‘ ہے۔ اقامتِ دین ایک اقداری و تاریخی (normative-historical) سوال کا جواب دیتی ہے: اللہ نے اپنے بندوں کو انسانی زندگی میں اجتماعی طور پر کس چیز کو قائم کرنے کا حکم دیا ہے؟ اس کا جواب محض یہ نہیں ہے کہ ’’سب مل کر اللہ کی بندگی کرو‘‘، بلکہ یہ ہے: (أَنْ أَقِیمُوا الدِّینَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِیهِ) ( دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔ لہٰذا یہ دونوں تصورات مختلف سطحوں پر واقع ہیں۔ عبدیت شناخت (identity) ہے۔ اقامتِ دین مشن (mission) ہے۔ اگر تحریک کو قائم و دائم رکھنا ہے تو اس کی تشکیل اور قیادت کرنے والوں کی عبدیت کو ہمیشہ بنیادی اور مقدم رہنا ہوگا؛ بصورتِ دیگر خود مشن ادارہ جاتی تعبیرِ نو کا شکار ہو سکتا ہے۔

عبدیت اطاعت اور فرمانبرداری کا بنیادی سبق دیتی ہے۔ اقامتِ دین اجتماعی ذمہ داری کا مضمون اور دائرہ کار متعین کرتی ہے۔ اقامتِ دین کے بغیر عبدیت سیاسی اور سماجی طور پر بے سمت اور غیرمتعین ہو کر رہ جائے گی۔ اسی طرح اقامتِ دین کا مطلب یہ ہے کہ دین کو انسانی زندگی میں قائم حیثیت اور عملی غلبہ حاصل ہو۔ اسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے تحریک اور اس کی قیادت تشکیل دی جاتی اور برقرار رکھی جاتی ہے۔

قرآنی بھٹی — عبد کی حفاظت اور تطہیر کا میکانزم

مولانا صدر الدین اصلاحیؒ نے اپنی کتاب ’’اسلامی تحریک کے قائدین کی صفات‘‘ میں تحریکی قیادت اور اس کے تقاضوں کو سمجھنے کے لیے ایک تفصیلی اور جامع فریم ورک پیش کیا ہے۔ وہ تحریک کا موازنہ انسانی جسم سے کرتے ہیں اور وضاحت کرتے ہیں کہ تحریک دو طرح کے افراد پر مشتمل ہوتی ہے: اعضائے رئیسہ (قائدین) اور عام اعضائے جسم (کارکنان)۔ ان دونوں کی صفات، خصوصیات اور ذمہ داریوں میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔ اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ اگرچہ تحریک کا قائد، اس کا رکن یا کارکن اور تحریک سے وابستہ نہ ہونے والا ایک عام مسلمان — یہ سب کے سب اللہ کے ’عبد‘ ہی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ مختلف سطحوں پر کام کرتے ہیں اور ان کے کردار ایک دوسرے سے الگ اور ممتاز ہیں۔

تحریکی قیادت عبد کی وہ مختصر اقلیت ہے جو عبدیت کے اعلیٰ ترین مقامات تک پہنچتی ہے، ان کی حیثیت ان بندوں کے مشابہ ہوتی ہے جن کا قرآنِ مجید میں ذکر صدیقین، شہداء، صالحین اور اولی الامر کے تحت آتا ہے۔ وہ عبدیت کا ایک ایسا معیاری نمونہ ہوتے ہیں جس کی اقتداکی جاتی ہے، اور یہی چیز ان کی اعلیٰ درجے کی تربیت، غیر متزلزل اصولوں اور سخت ترین پیمانوں کو ناگزیر بنا دیتی ہے۔

قرآنِ مجید ایک ایسا میکانزم پیش کرتا ہے جس کے ذریعے ’عبد‘ کی مذکورہ انحراف پیدا کرنے والے دباؤ سے حفاظت ہوسکتی ہے، یہ وہ دباؤ ہے جو مشن، تنظیم، اقتدار اور تاریخ کے جبر سے جنم لیتا ہے۔ یہ حفاظت سات اصولوں پر مشتمل قرآنی بھٹی کے ذریعے ممکن بنائی جاتی ہے۔ قرآن کا میکانزم محض تعلیم یا تربیت ہی نہیں دیتا، بلکہ عبد کو آزماتا ہے، اس کے غیر ضروری سہارے اور وابستگیاں چھینتا ہے، اسے نظم و ضبط کا پابند بناتا ہے اور اس کا تزکیہ کرتا ہے۔

پہلا اصول ابتلا  — آزمائش اور امتحان کا ہے۔ امامت و قیادت کے مقام پر فائز کیے جانے سے پہلے آزمائشوں سے گزرنا ناگزیر ہے؛ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَنَبۡلُوَنَّكُم بِشَیۡء مِّنَ ٱلۡخَوۡفِ وَٱلۡجُوعِ وَنَقۡص مِّنَ ٱلۡأَمۡوَ ٰلِ وَٱلۡأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَ ٰتِۗ وَبَشِّرِ ٱلصَّـٰبِرِینَ (البقرة: ١٥٥)

’’اور ہم ضرور تمھیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمھاری آزمائش کریں گے۔‘‘

یہ ترتیب وار سلسلہ نہایت اہمیت کا حامل ہے:

ابتلاء ←تکمیل و ایفائے عہد ← امامت

قیادت سے پہلے امتحان ہونا اس لیے ضروری ہے کہ اقتدار و اختیار انسان کے باطن میں موجود ہر اس کم زوری کو عیاں کر دیتا ہے جو اس کے اندر پوشیدہ ہوتی ہے۔ وہ شخص جس نے کبھی محرومی، مخالفت، تنہائی یا بے یقینی کا سامنا نہ کیا ہو، ممکن ہے کہ وہ صاحب علم و دانش ہو، لیکن اس کا روحانی ڈھانچہ ہنوز کچا اور غیر آزمودہ ہوتا ہے۔

دوسرا اصول قربانی —ایثار کا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ان کی محبوب ترین اشیا کی قربانی لے کر ان کی تربیت فرماتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنا وطن، اپنے خاندان کا تحفظ اور بالآخر اپنے بیٹے کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ اس باب میں قرآن کا اصول یہ ہے:

لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ((آل عمران: ۹۲)

(تم نیکی کے مقام تک نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی محبوب ترین چیز خدا کی راہ میں خرچ نہ کرو۔)

قُلۡ إِن كَانَ ءَابَاۤؤُكُمۡ وَأَبۡنَاۤؤُكُمۡ وَإِخۡوَ ٰنُكُمۡ وَأَزۡوَ ٰجُكُمۡ وَعَشِیرَتُكُمۡ وَأَمۡوَ ٰلٌ ٱقۡتَرَفۡتُمُوهَا وَتِجَـٰرَة تَخۡشَوۡنَ كَسَادَهَا وَمَسَـٰكِنُ تَرۡضَوۡنَهَاۤ أَحَبَّ إِلَیۡكُم مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَجِهَاد فِی سَبِیلِهِۦ فَتَرَبَّصُوا۟ حَتَّىٰ یَأۡتِیَ ٱللَّهُ بِأَمۡرِهِۦۗ وَٱللَّهُ لَا یَهۡدِی ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَـٰسِقِینَ (التوبة:٢٤)

’’اے نبی ؐ، کہہ دو کہ اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے، اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارے عزیز و اقارب اور تمھارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں، اور تمھارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے اور تمھارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اس کے رسُولؐ اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمھارے سامنے لے آئے، اور اللہ فاسق لوگوں کی رہ نمائی نہیں کیا کرتا۔‘‘

لہٰذا قیادت کی شروعات اس وقت ہوتی ہے جب ’عبد‘ یہ بات سیکھ جاتا ہے کہ مشن کو اس کی ذاتی آسائش کے آس پاس گردش نہیں کرنا ہے۔ وقت، مال و دولت، نام و نمود، ذاتی سہولت، اور بعض اوقات خود اس کا اپنا منصب بھی اللہ کے سامنے قربان کیے جانے کے قابل بننا چاہیے۔

تیسرا اصول صبر اور استقامت— ثبات قدمی ہے۔ قیادت کا حقیقی ثبوت جوش و جذبہ اور ترغیب کے لمحات میں نہیں بلکہ طویل آزمائشوں اور مشکلات کے دوران ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً یهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآیاتِنَا یوقِنُونَ (السجدة: ۲۴)

’’اور جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین لاتے رہے تو ان کے اندر ہم نے ایسے پیشوا پیدا کیے جو ہمارے حکم سے رہ نمائی کرتے تھے۔‘‘

اس طرح قیادت کے تئیں قرآنی مساوات ہے: صبر + یقین۔ صبر استقامت کی قوت فراہم کرتا ہے اور یقین بصیرت اور سمت عطا کرتا ہے۔ صبر نہ ہو تو قائد دباؤ کے تحت ٹوٹ کر رہ جاتے ہیں۔ یقین نہ ہو تو دباؤ میں آ کر اپنے اصولوں اور نظریات سے سمجھوتا کرنے لگتے ہیں۔

چوتھا اصول زہد — دنیا کی گرفت اور غلامی سے آزاد ہونا ہے۔ زہد کا مطلب قطعًا یہ نہیں ہے کہ مال و دولت یا دنیاوی ذمہ داریوں کو ترک کر دیا جائے۔ اس کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ دولت، منصب اور قبولیت وتحسین دل پر حاکمیت حاصل نہ کر پائیں۔ قرآنِ مجید متنبہ فرماتا ہے:

لِكَیلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ (الحدید: ۲۳)

(یہ اس لیے ہے تاکہ جو کچھ تم سے ضائع ہو جائے اس پر تم رنج نہ کرو اور جو کچھ اللہ تمھیں عطا فرمائے اس پر تم اتراؤ نہیں)

یہی قیادت کا توازن (leadership equilibrium) ہے۔ قائد کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ اپنی ذات کھوئے بغیر کسی عہدے یا منصب سے عہدا بر آ ہو سکے، اور کوئی عہدہ قبول کرے تو اس کے اندر یہ گمان پیدا نہ ہو کہ اس عہدے کی بدولت اس کی شان میں اضافہ ہو گیا ہے۔

پانچواں اصول پوری جدوجہد اور کوشش کے بعد توکل ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت طالوت اور نبی کریم ﷺ کو بار بار یہی تربیت دی گئی کہ وہ اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے فیصلہ کن اقدام کریں، لیکن ساتھ ہی یہ یقین بھی رکھیں کہ فتح و نصرت ان کی اپنی صلاحیت یا قوت سے حاصل نہیں ہوگی۔

وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ (آل عمران: ۱۲۶)

(اور فتح و نصرت جو کچھ بھی ہے اللہ ہی کی طرف سے ہے۔)

یہ بیک وقت دو نفسیاتی عارضوں کا خاتمہ کر دیتا ہے، ایک ناکامی میں مایوسی، دوسرے کام یابی میں تکبر وغرور۔

چھٹا اصول نفس کے خلاف تربیت ہے۔ لازم نہیں کہ کسی قائد کا سب سے خطرناک دشمن ہمیشہ بیرونی مخالف کا وجود ہی ہو، اس کے اپنے اندر کے ’’فرعون‘‘ کا بیدار ہوجانا اس سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے— یعنی یہ احساس پیدا ہوجانا کہ یہ منصب اسے دوسروں سے برتر بناتا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام بے پناہ غیر معمولی اقتدار و اختیار رکھتے تھے تاہم اس کے باوجود، ان کی توصیف قرآن میں ان الفاظ میں کی گئی:  نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ (بہترین بندہ، سخت رجوع کرنے والا (اپنے رب کی طرف)۔)

لہٰذا قیادت کی معراج یہ نہیں کہ انسان کی عبدیت میں کمی آجائے، بلکہ یہ ہے کہ زیادہ اختیار و اقتدار ملنے کے ساتھ وہ عبدیت میں مزید گہرا اترتا چلا جائے۔

آخر میں ساتواں اصول اخلاقی تنہائی (moral loneliness ) ہے— یعنی ایک ’عبد‘ کی وہ صلاحیت کہ جب معاشرتی، تنظیمی یا عددی تائید اور حمایت بالکل ختم ہو جائے، تب بھی وہ اصولوں پر قائم رہے اور اپنا تعلق صرف اللہ کی ذات سے جوڑے رکھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام پوری قوم کے سامنے تنہا ڈٹ گئے؛ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کا سامنا کیا؛ اور بدر کے مجاہدین شدید بے سر و سامانی اور عددی عدم توازن کے باوجود ثابت قدم رہے۔ قائد کو اس بات کی تربیت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی حقانیت اور جواز کا سرچشمہ لوگوں کی تالیوں، عددی اکثریت یا تنظیمی توثیق کو قرار نہ دے، اس کا مطمح نظر صرف اور صرف اللہ سے وفاداری اور اس کی رضا ہو۔

یہ ساتوں اصول ابلیس اور اس کی چالوں کے خلاف قرآن کے اصلاحی و دفاعی میکانزم (Quranic repair mechanism) کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اس بات کو جاننا ضروری ہے کہ اقامتِ دین کی عظیم ذمہ داری کسی کے سپرد کرنے سے پہلے اس شخص کا روحانی و اخلاقی طور پر کیا کچھ بننا لازمی ہے۔ قرآنی قیادت کی تربیت کا منشا محض یہ نہیں کہ قائد کو تنظیم و تحریک کا بوجھ اٹھانے کے قابل بنایا جائے، بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ تنظیم، اقتدار، پیشہ ورانہ مشغولیت، جدیدیت، کام یابی، ناکامی اور خود اس کا اپنا نفس اسے بہا کر نہ لے جائے۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

قیادت اور تحریک اسلامی قرآن کی روشنی میں

حالیہ شمارے

ستمبر 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223