سفر میں سنت نمازوں کی مشروعیت

احادیث کی روشنی میں

مفتی فیاض احمد

ایک مسلمان کے لیے آپﷺ کی ذات اقدس جس طرح حضر میں اسوہ اور نمونہ ہے، اسی طرح سفر میں بھی قابل تقلید واتباع ہے۔ اسی لیے صحابہ ؒ نے ایک طرف آپﷺ کے حضر کے معمولات کو احادیث میں بیان کیا ہے تو دوسری طرف سفر کے بھی تمام گوشوں کو امت کے سامنے احادیث کی شکل میں پیش کیا ہے۔ان احادیث سے پتا چلتا ہے کہ جس طرح آپﷺ نے سفر میں فرض نمازوں کو قصر وجمع بین الصلاتین کی صورت میں ادا فرمایا ہے ،اسی طرح آپﷺ نے سفر میں سنن رواتب ﴿نماز کی اگلی پچھلی سنتیں﴾اور مطلق نوافل کا بھی اہتمام فرمایا ہے۔انھی احادیث سے محدثین وفقہائ نے سفر میں رواتب وغیر رواتب سنن کے استحباب پر استدلال کیا ہے،لیکن افسوس کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سفر میں سنن ونوافل بسہولت ادا کرناممکن ہونے کے باوجود سنتیں معاف ہیں۔ہم درج ذیل سطور میں اس مسئلے کے متعلق مفصل ومدلل روشنی ڈال رہے ہیں۔ سب سے پہلے ہم ان احادیث کو پیش کرتے ہیں جو سفر میں سنت نماز کے ثبوت پر دلالت کرتی ہیں۔

سفر میں سنت کے ثبوت پراحادیث

عن ابن عمرؒ قال کان النبی ایصلی فی السفرعلی راحلتہ حیث توجھت بہ یؤمی ایمائ صلاۃ اللیل….ویوترعلی راحلتہ﴿بخاری :۱۰۰۰﴾

’’ حضرت عبداللہ بن عمرؒ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں اپنی سواری پرسواری کے رخ کی طرف اپنا رخ کرکے اشارے سے تہجدادا فرماتے تھے اوراپنی سواری پر وتر پڑھا کرتے تھے۔‘’

عن نافع قال کان ابن عمر ؒ یصلی علی راحلتہ ویوتر علیھا ویخبر أن النبی ا کان یفعلہ ﴿بخاری: ۱۰۹۵﴾

’’حضرت نافعؒ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر ؒ اپنی سواری پر نفل نماز پڑھتے تھے اور آپ ؒ وتر بھی اس پر پڑھ لیتے اور بیان کرتے کہ نبی کریم ﷺ بھی اس طرح کرتے تھے۔‘’

عن ابن أن رسول اللہ ﷺ کان یصلی سبحتہ حیثما توجھت بہ ناقتہ ﴿مسلم :۱۶۱۰﴾  ’’حضرت عبداللہ بن عمرؒ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی جس طرف رخ کیے ہوتی اسی طرف رخ کرکے آپﷺ سنت نماز پڑھتے تھے۔‘’

عن ابن عمر ؒ صلیت مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی الحضروالسفر ، فصلیت معہ فی الحضرالظھر اربعا وبعدھا رکعتین وصلیت معہ فی السفر الظھر رکعتین وبعدھا رکعتین والعصر رکعتین ولم یصل بعدھا شیئا والمغرب فی الحضروالسفر سوائ ثلاث رکعات وبعدھا رکعتین۔  ﴿ترمذی :۵۵۲﴾

’’حضرت ابن عمر ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے آپﷺ کے ساتھ حضر وسفر میں نماز پڑھی ،میں نے حضر میںآپ ﷺکے ساتھ ظہر کی چار رکعت پڑھی اور اس کے بعد دو رکعت سنت پڑھی، اور سفر میں ظہر کی دو رکعت پڑھی اور اس کے بعد دو رکعت سنت پڑھی،مغرب کی حضر وسفر میں تین ہی رکعت ہیں اور اس کے بعد دو رکعت ہیں ۔‘’

عن البرائ بن عازب ؓقال صحبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثمانیۃعشر سفرا فما رأیتہ ترک رکعتین اذازاغت الشمس قبل الظھر ﴿ ابو داؤد:۲۲۲۱ٍ﴾

’’ حضرت برائ بن عازب ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے آپﷺ کے ساتھ اٹھارہ سفر کیے۔ کبھی آپ کو زوال شمس کے بعد ظہر سے پہلے دو رکعت سنت ترک کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔‘’

عن ابی ھریرۃ ؒ قال عرسنا مع نبی اللہ ﷺ فلم نستیقظ حتی طلعت الشمس فقال النبی ﷺ﴿لیاخذکل رجل برأس راحلتہ فان ھذا منزل حضرنا فیہ الشیطان ﴾ ثم دعا بالمائ فتوضأثم سجد سجدتین ﴿وقال یعقوب ثم صلی سجدتین ﴾ثم اقیمت الصلاۃ فصلی الغداۃ، ﴿مسلم: ۳۱۰﴾

’’حضرت ابو ہریرہ ؒ سے مروی ہے کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کے آخری حصے میںایک جگہ پڑاو ڈال کر سو گئے ، جب ہم بیدار ہوئے تو سورج طلوع ہوچکا تھا ،آپﷺ نے فرمایا کہ ہر شخص اپنی سواری کی نکیل پکڑلے ﴿یعنی یہاں سے آگے چلے ﴾ اس لیے کہ یہ ایسی جگہ ہے ، جہاں ہمارے پاس شیطان آگیا ہے: چنانچہ ہم نے ایسا ہی کیا ، پھرآپﷺ نے پانی منگوا کر وضو کیا پھر دو رکعت فجر کی سنت ادا کی،اس کے بعد جماعت کھڑی کی گئی توآپﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی۔‘’

﴿ عن ام ھانیؒ قالت ﴾ان النبی ﷺ دخل بیتھا یوم فتح مکۃ فاغتسل وصلی ثمانی رکعات۔﴿بخاری:۱۱۷۶﴾

’’ حضرت ام ھانی ؒ فرماتی ہیں کہ فتح مکہ کے دن آپﷺ ان کے گھر میں داخل ہوے اور غسل کرکے آٹھ رکعات ﴿چاشت﴾ کی ادا فرمائی۔‘’﴿فتح مکہ کے موقع پرآپﷺ مسافر تھے۔﴾

مذکورہ احادیث کے علاوہ بھی کئی احادیث کتب حدیث میں موجود ہیں جن کی روشنی میں محدثین کرام اور فقہائ ِامت نے سفر میں سنت نماز کے مستحب ومشروع ہونے پر استدلال کیا ہے ۔ لہذا احادیث کے بعد ان حضرات کے اقوال پر پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

علامہ ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں:

اماالذی ثبت عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ کان یصلی فی السفر من التطوع، فھو رکعتا الفجر حتی انہ لما نام عنھا ھو وأصحابہ منصرف من خیبرقضاھما مع الفریضۃ ھو وأصحابہ وکذلک قیام اللیل والوتر فانہ قد ثبت عنہ فی الصحیح أنہ کان یصلی علی راحلتہ … ویوتر علیھا۔ ﴿فتاوی الکبری لابن تیمیہ:۱/۱۵۰﴾

’’ آپﷺ سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ ﷺ سفر میں نفل نماز پڑھا کرتے تھے، اور وہ فجر کی دو رکعت ﴿سنت﴾ ہے یہاں تک کہ غزوہ خیبر سے واپسی کے وقت فجر کی نماز کے وقت آپ اورآپﷺ کے صحابہ سوتے رہے تو جب نماز فجر کی قضائ فرمائی توآپﷺ او رصحابہ ؒ نے فرض کے ساتھ سنت کی بھی قضائ کی، اورآپﷺ سے صحیح احادیث میں یہ بھی ثابت ہے کہ آپ سواری پر نفل نماز پڑھا کرتے اور اس پر وتر بھی ادا کرتے۔‘’

اس عبارت سے سنن رواتب وغیر رواتب کا سفر میں پڑھنے کا ثبوت معلوم ہورہا ہے۔

شیخ ابن باز ؒ  فرماتے ہیں:

أما النوافل المطلقہ فمشروعۃ فی السفر والحضر وھکذا ذوات الاسباب کسنۃ الوضوئ وسنۃ الطواف وصلاۃ الضحیٰ والتھجد فی اللیل لأحادیث ورد فی ذلک۔ ﴿ موسوعۃ الأحکام والفتاویٰ الشرعیہ:۲۴،۳۴۴﴾

’’ سفر وحضر میں مطلق نوافل کا پڑھنا مشروع ہے، اسی طرح سبب والی سنت نمازیں بھی مشروع ہیںجیسے تحیۃ الوضوئ ،طواف کی دو رکعت سنت ، چاشت اور تھجد کی سنت نماز، سفر میں مشروع ہے ان احادیث کی بنائ پر جو اس سلسلہ میں وارد ہیں۔‘’

امام شافعی ؒ فرماتے ہیں:

وللمسافر أن یتطوع لیلا ونھارا ، قصر أو لم یقصر وثابت عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أنہ کان یتنفل لیلا وھو یقصر۔ ﴿کتاب الام:۲/۳۶۵﴾

’’ مسافر کے لیے رات دن میں نفل نماز پڑھنا سنت ہے، چاہے وہ قصر کرے یا نہ کرے اورآپ سے یہ بات ثابت ہے کہ آپﷺ رات میں نوافل کا اہتمام فرماتے تھے دراںحالے کہ آپ قصر کرتے تھے۔‘’

امام نووی ؒ فرماتے ہیں:

وتسن السنن الراتبہ مع الفرائض فی السفر کما تسن فی الحضر۔ ﴿کتاب الایضاح فی المناسک:۷۵﴾

’’ فرائض کے ساتھ سنن رواتب سفر میں بھی سنت ہیں۔‘’

علامہ ابن عابدین شامی فرماتے ہیں:

ویأتی المسافر السنن أی الرواتب ھو المختار﴿ردالمختار:۲/۶۱۳﴾

’’ مسافر سنن رواتب کو ادا کرے گایہی بات پسندیدہ ہے۔

امام نووی ؒ ان تمام روایتوں کی بنیاد پر شرح مسلم میں فرماتے ہیں :

’’ سفر میں مطلق نوافل کے مستحب ہونے پر تمام علمائ کا اتفاق ہے۔ البتہ سنن رواتب کے سلسلے میں بعض حضرات نے حضرت ابن عمر ہی کی روایت ’’أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان لا یتطوع فی السفر قبل الصلاۃ ولا بعدھاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میںفرض نماز سے پہلے اور بعد میں سنت نماز نہیں پڑھتے تھے ﴿ترمذی:۵۵۰﴾ کی وجہ سے اختلاف کیا ہے کہ سفر میں سنن رواتب میں سے چند سنتوں مثلا فجر کی سنت ،وتروغیرہ کے علاوہ دیگر سنن رواتب مشروع نہیں ہیں۔ چنانچہ شیخ ابن بازؒ فرماتے ہیں :‘’ لا تشرع صلا ۃ الرواتب فی السفر الا رکعتی الفجر وصلاۃ الوتر ،فان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یحافظ علیھما حضرا وسفرا‘’ کہ سفر میں سنن رواتب مشروع نہیں ہیں ۔البتہ سنن رواتب میں سے فجر کی سنت اور وتر مشروع ہے۔ اس لیے کہ آپﷺ نے سفر وحضر میں ان سنتوں کی پابندی کی ہے﴿فتاوی اللجنۃ الدائمۃ:۷/۲۵۶﴾لیکن غور طلب امر یہ ہے کہ ایک طرف حضرت عبداللہ بن عمر ؒ ہی سے سفر میں سنن رواتب وغیر رواتب کے مشروع وسنت ہونے کی احادیث کثرت سے مروی ہیں ،تودوسری طرف حضرت ابن عمر ؒ ہی فرمارہے ہیں کہ آپﷺ سفر میں نماز سے پہلے اوربعد میں سنت نہیں پڑھتے تھے۔ اسی لیے علمائ ومحدثین نے حضرت ابن عمر ؒ کی اس حدیث کی بہت ساری توجیہات نقل کی ہیں۔ مزید یہ کہ امام مالک ؒ نے حضرت نافعؒ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ ابن عمر ؒ نے اپنے بیٹے عبیداللہ کو سفر میں نفل نماز پڑھتے دیکھا اور منع نہیں فرمایا﴿مؤطا لامام مالک:۵۳﴾

سفر میں سنن رواتب کے نفی پر مستدل روایت کی توجیہات

۱-  حضرت ابن عمر ؒ کے اِس ارشاد سے کہ آپ رواتب نہیں پڑھتے تھے،امکان ہے کہ آپ نے سنن رواتب کو کجاوہ میں پڑھا ہواور ابن عمرؒ نے نہ دیکھا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے جواز کو بتلانے کے لیے چھوڑا ہو۔﴿شرح مسلم:۳/۸۱۲ ﴾

۲- حضرت ابن عمر ؒ سے جو روایتیں سنن رواتب کے سنت ہونے کے متعلق مروی ہیں ان کو ان کی یادداشت پر محمول کیا جائے گا اور عدم مشروعیت والی روایت کو ان کے نسیان اور بھول پر محمول کیا جائے گا﴿تحفۃ الاحوزی: ۳/۹۶﴾

۳-  ابن عمر ؒ کی روایت کا مطلب یہ بھی ہے کہ سفر میں سنن رواتب کو اگر کوئی ترک کرنا چاہے تو اس کے لیے جائز ہے، نہکہ غیرمشروع یا ممنوع ۔﴿تحفۃ الاحوزی:۳/۹۶﴾

حضرت ابن ؒ عمرکی دوسری ایک روایت کہ وہ فرماتے ہیں : صحبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فکان لا یزیدعلی رکعتین ،میںآپﷺ کے ساتھ رہتا تھا تو آپﷺ دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے﴿بخاری :۱۱۰۲﴾ شیخ ابن حجر عسقلانی ؒ اور ابن دقیق العید ؒ فرماتے ہیں کہ جب دوسری روایات سے سنن رواتب کے پڑھنے کا ثبوت ہے تو پھر اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ آپﷺ فرض رکعات کی تعداد میں اضافہ نہیں کرتے تھے﴿ فتح الباری :۳/۳۱۷﴾اس کے علاوہ ابن عمر ؒ خود فرماتے ہیں ’’ لو کنت مسبحا أتممت صلاتی‘’ ا گر مجھے سفرمیں نفل نماز پڑھنا ہوتی تو پھرمیںاتمام کرتا﴿سنن بیہقی:۸۰۶۵﴾ شیخ ابن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اتمام صلاۃ اور سنن رواتب میں مجھے اختیار دیائے تو مجھے اتمام یعنی چار رکعت مکمل پڑھنا زیادہ محبوب ہے نہ کہ ترک۔﴿فتح الباری :۳ /۷۱۳﴾امام نووی ؒ فرماتے ہیں کہ اگر سفر میں سنن رواتب کو چھوڑ کرقصرکے بجائے اتمام کو ہی مشروع کیا جاتا تو ہمیشہ اتمام ہی کرنا واجب ہوتا۔ اس لیے رواتب کے سلسلے میں مکلف کو اختیار ہے کہ چاہے تو سنت کا ثواب حاصل کرنے کے لیے سنن رواتب پڑھے،چاہے تو ترک کرے۔﴿شرح مسلم :۲۱۸﴾

تفصیل بالاسے یہ بات واضح ہوگئی کہ سفر میں مطلق سنتوں کے عدم ثبوت پر کوئی دلیل نہیں ہے۔سنن رواتب میں بھی فجر کی سنت، ظہر اور مغرب کے بعد کی دو رکعت سنتیںاور وتر نماز کے سفرمیں پڑھنے کامذکورہ احادیث سے ثبوت ملتا ہے۔

اگست 2011

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau