تعمیر ِسیرت کے خطوط

حافظ کلیم اللہ عمری مدنی

کسی انسان کی نیک سیرت کے پیچھے یقینا نیک دوست و احبا ب کا بڑا اہم رول ضرور ہوتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ دین اسلام میں نیک دوست واحباب کی بڑی اہمیت ہے ، بلکہ یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اچھے دوست کا انتخاب کرو ، نیک لوگوں کی صحبت وفیض سے مستفید رہو، اس لیے کہ آدمی اپنے دوسست کے مذہب پرہی زندگی گزارتا رہتا ہے ، کسی کو پہچاننا ہوتو اس کے ہم نشینوں کے انتخاب سے اس کا اندازہ ہوجاتا ہے ، یہی حسن تعلیم اسلام اپنے ماننے والوں کو دیتا ہے ، بزرگوں کی صحبت سے یقینا بہت فائدے حاصل ہوتے ہیں ۔

تعمیر سیرت کے تعلق سے قرآنی آداب کو مد نظر رکھنا لازم ہوگا ، نیز سیرت نبوی  ﷺ کے ذریعہ بھی اس موضوع پر بڑی اہم باتیں ملتی ہیں ، سب سے بہتر طریقہ تعمیر سیرت میں تربیت نبوی ہی ہے، کیسے کیسے لوگوں کو آپ کی حسن تربیت نے اچھا انسان بنادیا ، بلکہ فرشتہ صفت انسان بنادیا ، آپ کی صحبت وتربیت اور اصلاح کے مؤثر طریقے نے نوع انسانی کے ہر بے راہ روی کو دور کردیا اور انسان کو اچھا انسان بنا دیا بلکہ قرآن  نے اسے اشرف المخلوقات کے لقب سے نوازا ، قرآن کریم کی عملی تفسیر نبی کریم  ﷺ کی زندگی ہی تو تھی جس کے طفیل میں بڑے سے بڑے بد کار ، سیاہ کار ، خواہشات نفس کے غلام ،اللہ واحد کے چیدہ چنندہ ، اور برگزیدہ بندے بن گئے، نیک اور صالح بندے بن گئے ،یہاں تک قرآن کریم میں سورہ فتح میں ان کی بڑی تعریف کی گئی ، قیامت تک یہ آیتیں تلاوت کی جاتی رہیں گی باذن اللہ۔

کتاب اللہ میں سب سے پہلے ایمان والوں کو جو تعلیم ملی ہے وہ یہ ہے کہ مومن حضرات کی دوستی مومنوں سے ہی ہو، نہ کہ یہود ونصاری سے، حقیقت میں مومنوں کا رشتہ اخوت ایمانی کا ہے جو خونی ، نسبی ، رضاعی ، اور دامادی رشتہ سے بھی زیادہ قوی اور مضبوط ترین رشتہ ہے ، یہ ایک اٹوٹ رشتہ ہے ،  ارشاد باری تعالی ہے:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓى اَوْلِيَاۗءَ۝۰ۘؔ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۝۰ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّہُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِــمِيْنَ۔   (سورہ المائدہ:۵۱)

’’ اے ایمان والو یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے انہیں دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہو گا بے شک اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ‘‘۔

اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَكُمْ ہُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ اَوْلِيَاۗءَ۝۰ۚ وَاتَّقُوا اللہَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۔(سورہ المائدہ:۵۷)

’’اے ایمان والو! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتابیں دی گئی تھیں اُن کو اور کافروں کو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے دوست نہ بناؤ اور مومن ہو تو اللہ  تعالیٰ سے ڈرتے رہو ‘‘۔

ہمارے عقائد کے باب میں ایک اہم باب الولاء والبراء کا ہے ، یعنی اللہ تعالی اور اہل اللہ سے دوستی قائم کرنا اور شرک اور اہل شرک ، بدعت اور اہل بدعت سے شیعیت اور اہل تشیع سے کفر اور اہل کفر سے برائت کا اظہار قولا وعملا کرنا ، دوستی ہو گی تو اللہ کی خاطر اور دشمنی ہوگی تو بھی اللہ ہی کی خاطر ، اچھے احباب کا حسن انتخاب اور برے احباب اور ان کی مجلس سے دوری بھی اللہ ہی کی خاطر ہوگی ، تعمیرسیرت کے لیے یہ بنیادی اسباب وذرائع ہیں جن کے ذریعہ دینداری اور دیانتداری حاصل ہوتی ہے ، اچھے ہمنشین کے ذریعہ سیرت کی تعمیر میں مدد ملتی ہے۔

قر آن کی جن آیتوں میں غیرمسلموںسے دوستی اور موالات سے روکا گیا ہے ،انہیںمیں اس کے اسباب اور وجوہات بھی بتادیے گئے ہیں، جن میںسے چند یہ ہیں :

۱۔وہ اللہ کے دشمن ہیں اور تمہارے بھی،جیسا کہ ارشاد ہے:

اَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَاۗءَ ۔(الممتحنہ:۱)

’’اے ایمان والو ! تم میرے دشمنوںاور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ‘‘

(  ۲) انھوں نے تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور دین کی بنیاد پر جنگ چھیڑدی :

اِنَّمَا يَنْہٰىكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِيْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَاَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ وَظٰہَرُوْا عَلٰٓي اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْہُمْ۝۰ۚ وَمَنْ يَّتَوَلَّہُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔  (الممتحنہ:۹)

’’صرف ان لو گوں کے ساتھ دوستی کرنے سے اللہ تعالیٰ منع کرتا ہے جو دین کے بارے میں لڑے ہوں  (خواہ بالفعل یا بالعزم )اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکا لا ہو اور (اگر نکا لا بھی نہ ہو لیکن ) نکالنے میں(نکالنے والوں کی )مدد کی ہو ۔اور جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے سو وہ گنہگار ہوں گے‘‘۔

۳ ۔وہ ایمان کی بجائے کفر کے علمبردار ہیں ۔ سورئہ توبہ میں فرمایا گیا:

یَآايُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَاۗءَكُمْ وَاِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَاۗءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَي الْاِيْمَانِ۝۰ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّہُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔(۲۴)

’’اے ایمان والو !  اپنے باپوں کو ،اپنے بھائیوں کو (اپنا ) رفیق مت بناؤ، اگر وہ لوگ کفر کو بمقا بلہ ٔ ایمان کے (ایسا ) عزیز رکھیں (کہ ان کے ایما ن لانے کی امید نہ رہے ) اور جو شخص تم میں سے ان کے ساتھ رفاقت رکھے گا، سو ایسے لوگ بڑے نافرمان ہیں‘‘ ۔

تاریخ شاہدہے کہ قوموں کی اصلاح وتعمیرِ سیرت محض تقریروتحریر سے ممکن نہیں۔اصلاحِ امت اور کردار سازی کا کام طریقۂ نبویؐ کے مطابق ہوتو ممکن ہے کہ ایک بڑا انقلاب برپا ہوجائے۔صرف تعلیم ہی سب کچھ نہیں ہے بلکہ تعلیم تربیت کے بغیر بے سود ہے۔آج اسلام کوعملی شکل میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کی تربیت اس انقلابی انداز میں کرنے کی ضرورت ہے کہ دنیا کہے کہ یہ مسلمان ہے، اس لیے جھوٹ نہیں بول سکتا، دھوکہ نہیں دے سکتا، حقوق کی پامالی نہیں کرسکتا،اسلام کے خلاف کوئی کام یا کوئی بات نہیں کرسکتا۔عملی نمونہ قائم کیے بغیر اصلاحِ امت کی کوششوں کی حیثیت زبانی جمع خرچ سے بڑھ کر نہیں ہے۔

 تعمیرِ ِسیرت قرآن کریم کے آئینے میں

قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اچھے احبا ب اور ان کی ہم نشینی کے اچھے اثرات کا ذکر خیر ملتا ہے ، تعمیرسیرت میں نمایاں کردار نیک لوگوں کی صحبتوں کا ہی ہے ، مثال کے طور پر حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے قید کے ساتھیوں کے ساتھ جس حسن سلوک کا مظاہر ہ فرمایا ، ان کی تربیت کا جو طریقہ اپنایا وہ بے مثال ہے ، جیساکہ ارشاد ربانی ہے :

نَبِّئْنَا بِتَاْوِيْـلِہٖ۝۰ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِـنِيْنَ۔(سورہ یوسف:۳۶)

’’ ہمیں ان کی تعبیر بتا دیجئے ہم تمہیں نیکوکار دیکھتے ہیں ‘‘۔

یعنی قید خانہ کے ساتھیوں نے آپ کی بے داغ سیرت وکردار کا مشاہدہ کیا ، اور یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوئے کہ آپ نیک طینت انسان ہیں ، نیکو کار ہیں ، نیک لوگ اپنی عادتوں سے جانے جاتے ہیں ، ان کی ہم نشینی کا فائدہ بھی ضرور ہوتا ہے جیساکہ آپ علیہ السلام نے خواب کی تعبیر سنانے سے پہلے توحید کی دعوت دی ، شرک اور شرک بے ثباتی کا تذکرہ یوں فرمایا :

يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ ءَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللہُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ۔  (سورہ یوسف:۳۹)

’’ میرے جیل خانے کے رفیقو! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا (ایک) اللہ یکتا و غالب ہے‘‘۔

قرآن کریم میں متعدد مقامات پر نبی اکرم  ﷺ کو بھی یہ تعلیم دی گئی کہ اللہ والوں کو اپنی مجلس سے دور نہ کریں ،ان کی قدر کریں ، اگرچہ کہ اہل کفر ان کی غریبی کا مذاق اڑاتے ہوں ، اشراف قریش کو ان کے ساتھ بیٹھنا گوارانہ ہو، جیساکہ حضرت سعد ابن وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ ہم چھ آدمی نبی کے ساتھ تھے ، میرے علاوہ بلال ، ابن مسعود ، ایک ہذلی اور دوصحابہ اور تھے ۔( رضی اللہ عنہم ) قریش مکہ نے خواہش ظاہر کی کہ ان لوگوں کو اپنے پاس سے ہٹادو تاکہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ کی بات سنیں، نبی کریم ﷺ کے دل میں  آیا کہي چلو شاید میری بات سننے سے ان کے دلوں کی دنیا بدل جائے ، لیکن اللہ نے سختی کے ساتھ ایسا کرنے سے منع فرمایا ،( صحیح مسلم )پھر آپ پر یہ آیتیں نازل ہوئیں ، ارشادربانی ہے :

وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْہَہٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْہُمْ۝۰ۚ تُرِيْدُ زِيْنَۃَ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا۝۰ۚ وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَكَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا۔                                                                       (سورۃالکہف:۲۸)

’’اور جو لوگ صبح و شام اپنے رب کو پکارتے اور اُس کی خوشنودی کے طالب ہیں اُن کے ساتھ صبر کرتے رہو اور تمہاری نگاہیں ان میں سے (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں کہ تم آرائش زندگی دنیا کے طلبگار ہو جاؤ، اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہنا نہ ماننا ۔

مقصد امت کو سمجھانا ہے کہ بے وسائل لوگوں کو حقیر سمجھنا یا ان کی صحبت سے گریز کرنا اور ان سے وابستگی نہ رکھنا یہ نادانوں کا کام ہے ، اہل ایمان کا نہیں ۔ اہل ایمان تو اہل ایمان سے محبت رکھتے ہیں، چاہے وہ غریب اور مسکین ہی کیوں نہ ہوں ۔( احسن البیان ، ۳۵۸)

 تعمیر ِسیرت میں کارِ نبوت کا کردار

ذیل میں تربیت نبوی  ﷺ کے چند سنہرے اصولوں کی طرف اشارہ مقصود ہے، ممکن ہے اس سے ہماری تربیت کا اندا ز بھی اسلامی ہوجائے۔ نام اسلامی ہو، لباس، رہن سہن اوروضع قطع اسلامی ہو، ہماری تہذیب وثقافت اسلامی ہو،ہماری سیاسی، معاشرتی، انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلامی ہو، الغرض زندگی کے ہر معاملے میں اسلامی رنگ غالب آجائے۔

تعمیر سیرت میں اس بات کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ مخاطب انسان ہے، جس سے خیر و شر دونوں کاصدور ممکن ہے۔ جب کوئی انسان خیر سے متصف ہوتواس کی دل جوئی کرنا، اس کی تعریف کرنا اور اسے ہمت افزائی کے کلمات سے نوازناچاہیے،تاکہ وہ اس خیر میں مزید آگے بڑھ سکے۔  بالفرض اگر مخاطب کسی شر میں مبتلا ہے تو اس کی مذمت کرنے اوراس کے ساتھ نفرت وحقارت کا سلوک کرنے کی بجائے اس شر سے نفرت کرتے ہوئے اس شر کوخیر میں تبدیل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ یہی نبی کریم  ﷺ کی تربیت وتعمیر سیرت کا طریقہ رہا ہے ،حالانکہ آپ ایک اچھے ہم نشیں کی حیثیت سے صحابہ کرامؓ کی اصلاح فرماتے تھے، ان کی شخصیت کی تعمیر میں پورا لحاظ رکھتے ، چھوٹی باتوں کی طرف رہنمائی فرماتے ۔اس سلسلے کی چند مثالیں یہاں پیش کی جارہی ہیں:

(۱)  ہمت افزائی کے کلمات سے نوازنا :

کسی کی صلاحیت اور صالحیت پر مزید ترغیب دینا یا اس کے حق میں ہمت افزائی کے کلمات کہنا بھی اس کی ترقی کے لیے زینہ ثابت ہوتا ہے۔ نبی کریم  ﷺکی دور رس نگاہوں نے مختلف صحابہ کرا م ؓ میں مختلف خوبیوں کو دیکھ کر ان کی ہمت افزائی فرمائی تھی، نتیجے میں کوئی حلال وحرام کی پہچان میں ماہر،جیسے حضرت معاذ بن جبل الخزرجی ؓ،  کوئی وراثت کے علم میں، مثلاًحضرت علی بن ابی طالب ؓ ،کوئی امانت داری کے باب میں ،جیسے حضرت ابوعبیدہ بن جراح ؓ، کوئی علم فقہ اور تفسیر میں ،جیسے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ،اورکوئی قاری کی حیثیت سے مشہور،مثلاًحضرت ابی بن کعبؓ , زید بن ثابتؓ وغیرہ۔ نیز جب کوئی شخص کارِ خیر کرتا تو آپ اس کے حق میںدعاء خیر فرماتے،کسی کی خاص خصوصیت میں یا قابلیت میں کوئی اور صحابی شامل نہ ہوں تو ایسی صورت میں ہمت افزائی فرماتے ۔

۱۔ جیساکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کے پانی کا انتظام فرمایا تو آ پ  ﷺ نے یہ دعا فرمائی:

اللّٰہم فقہہ فی الدین۔ ( صحیح البخاری : ۱۴۳)

’’اے اللہ انھیں دین کی سمجھ عطافرما‘‘

۲۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ امانت دار ی کی صفت میں مشہور تھے اس لیے ان کا لقب أمین ہذہ الأمۃ معروف مشہور ہے ۔    ( سنن ترمذی ، ۳۷۹۱)

۳۔ حضرت ابوذر غفاری ؓ بڑے سچے انسان تھے ، سچائی کی تلاش میں مشہور تھے اس لیے ان کے بارے میں ارشاد نبوی ہے :     أصدقکم لہجۃ ابوذر ( سنن ابن ماجہ ، ۱۵۶)

(  ۴)حضرت علی ؓ قضاء اور فیصلہ کے باب میں معروف تھے اسی لیے فرمان نبوتؐ ہے :

أقضاکم علی : ( فتح الباری ، ذکرہ تعلیقا ، ۱۰/ ۵۹۰)

۴ ۔ ارشاد نبوی  ﷺ ہے :’’ حضرت ابوبکر صدیق ؓ میری امت کے حق میں سب سے زیادہ مہربان ہیں ، اور عمر فاروقؓ دینی حمیت وغیرت میں بڑے شدید ہیں ، عثمان بن عفان ؓ بڑے حیا و شرم کے مالک ہیں ، قرآن کے بہترین قاری کے طورپر حضرت ابی بن کعب ؓہیں   ؓ علم المیرا ث میں زید بن ثابت ، ؓ حلال وحرام کی صحیح معرفت میں معاذ بن جبل ؓ ہیں ۔    ( سنن ترمذی ،  ۳۷۹۱، حسن صحیح )

(۲)   دعائیہ کلمات کے ذریعے تعمیرِِ سیرت

ایک رات نبی کریم  ﷺ ا پنی سوار ی پر اونگھنے لگے تو حضرت ابوقتادہ ؓ نے آپ ؐ کو سہارا دیا۔ پھر اونگھنے لگے تودوبارہ انھوں نے آپ کو بیدار کیے بغیر سہارا دیا۔ تیسری بار آپؐ  بہت زیادہ اونگھنے لگے، قریب تھا کہ آپؐ گر جاتے، حضرت ابوقتادہ ؓ نے پکڑلیا اور آپؐ کوسواری سے گرنے سے بچالیا۔ تیسری بار بیدار ی کے بعد آپ ؐ نے پوچھا کہ کس نے میری حفاظت کی؟ تو ابوقتادہ ؓنے بتایا کہ میں نے یہ خدمت انجام دی۔اس پر آپ ؐ نے ان کے حق میں دعا فرمائی:

حفظک اللہ بماحفظت بہ نبیہ۔( صحیح مسلم , ۳۱۱)

’’اللہ تعالیٰ تمھاری حفاظت کرے جیسے تم نے اس کے نبی کی حفاظت کی‘‘۔

اس سے معلوم ہواکہ تربیتی نقطۂ نظر سے کارِ خیرانجام دینے والے کے حق میں دعائیہ کلمات کہناسنتِ نبوی ہے۔ آج بھی عرب معاشرے میں بات بات پر کلماتِ دعاء کا استعمال عام ہے جیسے:  بارک اللہ، سَلَّمَکَ اللہ، رَحِمَک اللہ، عافاک اللہ، وغیرہ

 (۳)  تعمیرِ سیرت کا ایک انوکھا طریقہ

منکر کومنکر بولنا آسان ہے اور اس سے نفرت کرنا اور بھی آسان ہے مگر کسی منکر کو روک کر اس کی جگہ معروف کو قائم کرنا بہت مشکل ہے۔ ایک نوجوان نے نبی کریم  ﷺ سے زنا کی اجازت طلب کی، محفل میں موجود صحابہ کرام ؓنے اس نوجوان کوڈانٹنا شروع کردیا او رخاموش کرانے لگے تونبی کریم  ﷺ نے اس نوجوان سے ( بڑی محبت سے ) فرمایا کہ تم ذرا مجھ سے قریب ہوجاؤ۔ وہ قریب ہوا تو آپ نے اس سے سوال کیا کہ کیا تم اپنی ماں کے لیے اس بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا کہ نہیں ۔آپؐ نے فرمایا کہ دوسرے لوگ بھی اپنی ماں کے حق میں بدکاری کو پسند نہیں کریں گے۔ پھر آپؐ نے اس سے اس کی بیٹی،پھوپی اورخالہ کے سلسلے میں دریافت کیا کہ کیا تم ان کے لیے اس بدکاری کو پسند کرو گے؟ تو اس نے کہا کہ نہیں اللہ کے رسول ؐ میری جان آپ پر فدا ہو جائے۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ دوسرے لوگ بھی اپنی بیٹی،پھوپی اورخالہ کے حق میں بدکاری کو پسند نہیں کریں گے۔پھر آپ  ﷺ نے اپنے  دستِ مبارک کواس پر رکھ کر اس کے حق میں دعا فرمائی کہ اے اللہ اس کی مغفرت فرما،اس کے دل کی دنیا کوبدل دے اور اس کی شرم گاہ کی حفاطت فرما ۔ پھر وہ نوجوان اس بدکاری کے خیال سے باز آگیا۔( مسند احمد: ۲۲۲۱۱)

مذکورہ واقعے میں آپ ﷺنے نوجوان پر ناراض ہوئے بغیر بڑی ہمدردی کے ساتھ، شفقت بھرے انداز میں، برائی کی مذمت بیان کرتے ہوئے مثالوں کی روشنی میں واضح کردیا کہ جب کوئی بھی کسی عورت سے بدکاری کرے گا تولامحالہ وہ عورت کسی نہ کسی کی ماں , بیٹی , بہن , خالہ یا پھوپھی ہوگی، دنیا کا ہر فرد ان مقدس رشتوں کی عزت ضرور کرتا ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے آپ نے اس جوان کوسوچنے پر مجبور کردیا کہ لوگوں کے پاس بھی رشتوں کا تقدس موجود ہے تو بدکاری کا ارادہ بھی برائی ہی ہے ، تعمیر سیرت میں اندازبیان اور گفتگو کا طریقہ شائستہ ہونا ضروری ہے، ورنہ بات بننے کی بجائے بگڑ جائے گی۔

(۴) نادانوں کی اصلاح و تعمیر سیرت کا انداز

مسجد نبوی میں ایک بدو کے پیشاب کرنے کا واقعہ بہت مشہور ہے ۔ صحابہ کرامؓ نے اسے ڈانٹنا چاہا، پیشاب سے روکنے کی کوشش کی مگر آپ  ﷺنے انھیںمنع فرمایا اور اسے پیشاب سے فارغ ہونے دیا۔ پھر نرمی کے ساتھ سمجھایا کہ یہ اللہ تعالی کا گھر ہے،جو نماز ، تلاوت اور ذکر واذکار کے لیے ہے، ایسے مقام پر پیشاب کرنا منع ہے۔ آپ کی نصیحت اس کی سمجھ میں آگئی اوراس نے توبہ کرلی۔پھر آپ نے اس نجاست کے ازالے کے لیے صحابہ کرا م سے عرض کیا کہ ایک ڈول پانی بہادو،تاکہ گندگی دور ہوجائے ۔ ( صحیح بخاری ، ۶۸۵)

اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ منکر کے ازالے کے لیے حکمت عملی ضروری ہے۔سختی کے ذریعہ اصلاح ناممکن ہے۔ جو کام نرمی سے ہوتا ہے وہ سختی سے نہیں ہوپاتا۔

 تعمیرِسیرت احادیث نبوی  ﷺ کی روشنی میں

قرآن کریم کی عملی تفسیر حدیث نبوی ہے بلکہ دین کے مصادر میں دوسرا اہم اصلی مصدر سنت مطہرہ ہے ، نبی کریم ﷺ کی شخصیت کی پہچان حدیث نبوی ہے ، احادیث شریفہ میں تعمیر سیرت کے اصول وضوابط اور طریقہ کار کی وضاحت کلی طور پر موجود ہے ، لہذا ذیل میں تعمیر سیرت کے تعلق سے فرمودات نبوی پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جاتی ہے، اس لیے کہ احادیث شریفہ میں کچھ رہنما اصول ملتے ہیں جن کی روشنی میں یہ کام بڑا آسان ہوجائے گا، ان شاء اللہ  ۔

(   ۱)قال رسول اللہ  ﷺ   لا تصاحب الا  مومنا ولا یأکل طعامک الا تقی ۔  ( سنن ابی داؤد ، ۴۸۳۲ حسنہ الألبانی )

’’تم مومن سے ہی دوستی کرو ، اور تمہارے دستر خوان پر متقی انسان ہی کھائے‘‘۔

مذکورہ حدیث سے کفار سے دوستی اور ہم نشینی کی ممانعت ثابت ہوتی ہے ، صرف اہل تقوی کی دوستی کو لازم پکڑ نے کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے ، اور قرآن کریم میں ایمان والوں کو آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور بھائی کادرجہ دیا گیا ہے،

۲۔قال رسول اللہ ﷺ    مثل الجلیس الصالح  والجلیس السوء کمثل صاحب المسک وکیر الحداد لا یعدمک من صاحب المسک اما تشتریہ او تجد ریحہ وکیر الحداد یحرق بدنک او ثوبک أو تجد منہ ریحا خبیثۃ ۔   ( صحیح البخاری ،۲۱۰۱)

’’ اچھے دوست اور برے دوست کی مثال اس طرح ہے جیسے کستوری  اٹھانے والا او ر آگ کی بھٹی دھونکنے والا کی ہے ، پس کستوری اٹھانے والا یاتو تجھے کستوری( خوشبو) عطیہ دے دے گا یاتو خود اس سے خریدے گا  ( یہ دونوں صورتیں نہ ہوں تب بھی ) تو اس سے پاکیزہ خوشبو پالے گا ، البتہ برے ہمنشین ( بھٹی دھونکنے والا) کی صحبت کا نقصان اس طرح ہوگا کہ اس آگ کی چنگاری تمہارے جسم کو جلادے گی ، یا کپڑے جل جائیں گے ، یا آخری صورت یہ ہوگی کہ گرمی کی وجہ سے اس سے بدبو محسوس کروگے ‘‘۔

مذکورہ حدیث میں نیکوں کی صحبت اختیار کرنے اور برے لوگوں کی صحبت سے اجتناب کرنے کی تلقین کی گئی ہے، کیونکہ نیک لوگوں کی صحبت میں عطر فروش کی طرح فائدہ ہی فائدہ ہے ، ان کی صحبت کے اچھے اثرات ضرور مرتب ہوں گے ، انسان ان کی صحبت سے ان ہی کی سانچے میں ڈھل جائے گا ، اس کے برخلاف بروں کی صحبت اسی طرح نقصان کا باعث ہوگی ، جیسے کوئی لوہار کی بھٹی میں بیٹھے ، سوائے نقصان کے کچھ اور چیز حاصل نہ ہوگی ، اس سلسلے میں ہمارے لیے پسر نوح علیہ السلام میں بڑی عبرت اور سبق آموز پہلو ہیں ، اس کی بربادی کاسبب برے ہم نشیں کی صحبت ہی تو ہے ، سچ کہا شیخ سعدی ؒ نے          صحبت صالح ترا صالح کند،   صحبت طالح ترا طالح کند

(۳) الرجل علی دین خلیلہ فلینظر احدکم من یخالل ، (صحیح الجامع الصغیر وزیادتہ ، ۳۵۴۵، حسنہ الألبانی )

’’ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، پس تم میں سے کوئی یہ دیکھے کہ وہ کس کے ساتھ دوستی کررہا ہے ‘‘۔

یعنی دوست کی دوستی کا بڑا اثر ہوتا ہے ، خصوصا ًصحبتے با اولیاء یا صحبتے با اہل دل کی مجلسوں سے مستفید ہونے والوں کی بڑی تعداد ہے ، لوگ اپنے مشائخ وصوفیا ء کرام کی مجلسوں میں شریک ہوکر اچھے انسان بلکہ اچھے مسلمان ، نیک طینت وفطرت بن کر لوٹتے تھے ِ اپنے گناہوں سے توبہ کرتے اوراللہ تعالی کے سچے بندے بن کر زندگی گزارتے تھے، آج بھی مصلحین کی مجلسوں سے یہ ممکن ہے کہ لوگ اپنے عقائد ، عبادات ، معاملات ، معاشرت اور اخلاقیات کو سنواریں ،نیک بندوں کی کمی نہیں ، ایک ڈھونڈوتو ہزار ضرور مل جائیں گے، تقریروں اور تحریروں سے وہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا جو نیک لوگوں کی صحبت سے ، مجلسوں سے استفادہ کا موقع ملے گا ، اللہ والوں کی پہچان یہی ہے کہ وہ ایمان کامل کے ساتھ عمل صالح ، اخلاص وللہیت ، اتباع سنت کے شیدائی ہوں گے ، دنیاداری کے مقابلہ میں دینداری کو ترجیح دیں گے ، دنیا سنوارنے کی بجائے اخروی زندگی کی فکر دامن گیر ہوگی ، سیدھی سادھی زندگی کے عادی ہوں گے، سب سے اہم بات یہی ہوگی ان کے قول وعمل میں تضاد نہ ہوگا ، جن کے دلوں میں خشیت الٰہی داخل ہوگی ، کوئی بھی قول و عمل کتاب وسنت کے خلاف نہ ہوگا ، ایسے لوگوں کی تلاش اور ان کی صحبت سے دل کی دنیا معمور ہوگی ، دین ودنیا کی سعادت حاصل ہوگی ۔

(۴) قال رسول اللہ  ﷺ المرء مع من أحب ، ( بخاری ومسلم )

’’ آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس کے سا تھ اس کی محبت ہوگی ‘‘۔

کند  جنس  باہم  جنس پرواز                      کبوتر  با کبوتر   باز    با  باز

۵۔ عن عمر  ؓ قال استاذنت النبی ﷺ فی العمرۃ ، فأذن لی وقال لا تنسنا یا أخی من دعائک ، فقال کلمۃ ما یسرنی أن لی بہا الدنیا ،  وفی روایۃ قال أشرکنا یاأخی فی دعائک ،( ابوداؤد ، الترمذی وقال حیدث حسن صحیح )

’’ حضرت عمر  ؓنے فرمایا کہ میں نے نبی کریم  ﷺ سے عمر ہ جانے کی اجازت طلب کی ، تو آپ نے مجھے اجازت دیدی ، اور فرمایا کہ اے میرے بھائی ، ہمیں بھی اپنی دعا میں فراموش نہ کرنا ، حضرت عمر  ؓ فرماتے ہیں کہ آپ کا یہ فرمانا میرے لیے اتنا بڑا اعزاز ہے کہ مجھے اس کے مقابلہ میں ساری دنیا بھی اچھی نہیں لگتی ،  ایک اور روایت میں آپ  ﷺکا فرمان اس طرح ہے کہ اے میرے پیارے بھائی ۔ہمیں بھی اپنی دعا میں شریک رکھنا ‘‘۔

یعنی نبی کریم  ﷺ کا تعلق اپنے دوست و احباب کے ساتھ بڑا پیار ا ہوتا تھا ، اونچ نیچ کا سوال پیدا نہیں ہوتا تھا ، ہر ایک کے ساتھ ہمدردی ، شفقت ومحبت کا برتاؤ ، ہر ایک کی خبر گیری ، خیر خواہی ، اور مشفق باپ کے انداز میں پیش آتے تھے ، ہر ایک ساتھی اپنی جگہ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ کے رسول  ﷺ مجھ سے ہی بہت محبت کرتے ہیں ، آپ میرے بہترین ہمنشین ہیں ، میرے بہتر مربی ہیں ، ہر صحابی آپ سے اپنی دل کی بات سناتے اور اصلاح حال کی کوشش فرماتے یہاں تک کہ بڑے سے بڑے گناہ کے ارتکا ب کے بعد خود سے اقرار کرلیتے یہ جاننے کے باوجود کہ اس جرم کی سزا بہت ہی عبرتناک اور ہولناک ہے ، بعض حضرات گناہوں سے با زآجاتے ،آخر اس کی وجہ یہ تھی کہ تعمیر سیرت میں نبی کریم  ﷺ کا مشفقانہ انداز ہی توتھا ، جس نے دور جاہلیت کے سارے برے کاموں سے دور رکھا ، انسانیت کا سبق سکھایا ، احترام انسانیت کی حدیں مقرر کردیں ، خون ناحق سے بچنے ، کسی کی عزت وآبرو ریزی سے دور رہنا سکھایا ، آج بھی تعمیر سیرت کے لیے اسوہ محمدی کی ضرورت ہے ، انسان کو انسان بنانے کے لیے درندگی سے بچانے کے لیے نبی اکرم ﷺ کا طریقہ اور سلیقہ سیکھنے اور سکھانے کی ضرورت ہے ، تعمیر سیرت میں وہ کام جو حسن اخلاق کرتا ہے کسی اور چیز کے ذریعہ ناممکن ہے ، ہم نشینی کا حق بھی اسی طرح ادا کرنا ہوگا جس طرح پیارے رسول  ﷺ نے اداکیا ہے ، دوست تودوست دشمنوں کے ساتھ بھی حسن اخلاق کا مظاہرہ کرنا سیرت محمدی کی امتیازی شان ہے۔

 اچھے ہم دم اور بہترین ہم نشیں کے لیے مطلوبہ صفات

تعمیر سیرت کے باب میں سب سے پہلے اچھے ہم نشیں بننے کے لیے چند صفات سے متصف ہونا ضروری ہے ، ذیل میں چند صفات کا تذکرہ ہے ، شاید ہم ان صفات کو اپنا کر اچھے ہم نشین بن سکیں ، اور اپنی سیرت کو سنوارسکیں، ہمارے اخلاق وکردار دوسروں کے لیے مشعل ِ راہ بنے، کچھ بننے کے لیے یقینا مجاہدہ کی ضرورت پڑے گی۔

۱۔توضع وانکساری ،

مقبولیت کی صفات میں سے سب سے ہم صفت تواضع وانکساری ہے ، یعنی ہر شخص مقبولیت کا متمنی نہ رہے اور دل سے اپنے آپ کو کم تر سمجھتا رہے ، ہر وقت عاجزی کا مظاہرہ کرتا رہے ، قرآن کریم میں رحمن کے خاص بندوںکی صفات بیان کرتے ہوئے سب سے پہلی صفت یہی بیان کی گئی کہ ان کی چال ڈھال سے تواضع اور عاجزی کی شان نمایاں ہوتی ہے۔

وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَي الْاَرْضِ ہَوْنًا ۔( الفرقان:۶۳)

نبی کریم ﷺ کی زندگی میں اعلی ترین مثالیں ملتی ہیں خاص کر تواضع اور انکساری کی، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ  فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ زمین پر بیٹھ جاتے ، زمین پر بیٹھ کر کھانا نوش فرماتے  اور بکریوں کو خود باندھتے ، اور غلام کی دعوت بھی قبول فرمالیتے ،  ( شعب الایمان ، ۱/ ۲۹۰)

(۲)عفو ودرگزر

عفو ودرگزر اور بردباری بھی مقبولیت کی بہترین صفت ہے ، خصوصاً معاشرہ میں لوگوں کے ساتھ رہنے سہنے کے موقع پر ایک دوسرے کو برداشت کرنا اور ایک دوسرے کی خامیوں کو در گزر کرنا بھی لازم ہے ، اور یہی اچھے ہم نشیں ہونے کی علامت ہے ، نبی کریم  ﷺ نے فرمایا  اللہ تعالی عفو درگزر سے انسان کی عزت اور سربلندی میں اضافہ فرماتا ہے ، ( مسلم )  اللہ کے رسول  ﷺ برائی کابدلہ برائی سے نہ دیتے تھے بل کہ عفو ودرگزرسے کام لیتے تھے ۔( شمائل ترمذی ، ۲۳)

(۳) بردباری

اجتماعی زندگی میں لوگوں کے ساتھ رہتے ہوئے ان کی اذیتوں کو برداشت کرنا اور صبر سے کام لینا ایک اچھے ہم نشین کی علامت ہے ، نبی کریم  ﷺ نے شیخ عبد القیس ؓ سے فرمایا کہ آپ میں   دو ایسی عادتیں پائی جاتی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند ہیں ، ایک حلم وبردباری ، دوسرے دور اندیشی ۔       (  مسلم ، ۲۵)

(۴)زہد واستغناء

زہد سے متصف ہوئے بغیر لوگوں کے قلوب متوجہ ہوہی نہیں سکتے، جس میں بھی ذرا برابر لالچ کاشبہ ہوتو دینی منصب کی عزت بھی داغ دار ہوجاتی ہے، اچھے ہم دم کی صفت بھی یہ ہو کہ وہ دنیا سے اور اہل دنیا سے بے رغبتی کا معاملہ کرے تو خود بخود دنیا ایسوں کی تلاش میں رہے گی ، اور ان کی ہم نشینی سے فیض حاصل کرے گی ،جیساکہ نبی کریم  ﷺ نے فرمایا کہ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو ، اللہ تعالی تمہیں اپنا محبوب بنالے گا ، اور لوگوں کے مال ودولت سے نظریں پھیر لو تو لوگوں کی نگاہ میں محبوب بن جاؤگے ،                    ( سنن ابن ماجہ ، ۴۱۰۲)

(۵)دوسروں کی عزت نفس کا لحاظ رکھنا

اچھے ہم نشین بننے کے لیے ضروری ہے کہ دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے ، کسی قول یا عمل سے کسی بھی انسان کی تحقیر یا تذلیل نہ ہو، کسی کی دل شکنی نہ کی جائے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں سے ان کے مرتبہ کے موافق معاملہ کرو ، ( مسلم ) ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا کہ میرے نزدیک تم میں سب سے نا پسندیدہ لوگ وہ ہیںجو چغلی کھاتے ہیں دوستوں میں نفرت کا بیج بوتے ہیں اور شریفوں میں عیب ڈھونڈتے ہیں ،     ( الترغیب والترھیب ، ۳/ ۲۷۶)

ہمارے اسلاف میں عزت نفس کا خیال کس طرح تھا اس کی ایک مثال اس طرح ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مبارک ؒ ایک مرتبہ امام مالک ؒ کے درس میں حاضر ہوئے تو امام مالک ؒ  آ پ کے اعزاز میں کھڑے ہوئے ا ور اپنے مسند کے قریب بٹھایا ، دوران درس امام مالک ؒ کسی حدیث کے بارے میں عبد اللہ بن مبارک ؒ سے سوال کرتے کہ کیا آپ کے پاس اس کا علم ہے ؟تو عبد اللہ بن مبارک ؒ امام مالک کی عزت کا خیال کرتے ہوئے آہستہ سے جواب دیتے کہ کہیں امام مالک کا رتبہ شاگردوں کی نظروں میں کچھ کم نہ ہوجائے، دوسری طرف جب ابن مبارک ؒ مجلس سے نکلنے لگے تو امام مالک ؒنے اپنےؒشاگردوںسے فرمایا۔انہیںجانتے ہو؟یہی خراسان کے فقیہ عبد اللہ بن مبارک ہیں ،      ( کتاب الزہد ، ص ۴۳)

اللہ سے دعاگوں ہوں کہ رب العالمین ہمیں کتاب وسنت کے مطابق اپنی سیرت کو سنوارنے کی توفیق نصیب فرمائے، آمین یارب العالمین ۔

جولائی 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau