’’ادب برائے امن‘‘

کرناٹک میں تحریکی دارالاشاعت شانتی پرکاشن کی ۲۵ سالہ تقریبات

ایم پی بشیر احمد

’’اے نبی ﷺ اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ سے جو بہترین ہو۔ ‘‘      (النحل : ۱۲۵ )

اس آیت میں دعوت کے لیے حکمت اختیار کرنے کی جو نصیحت کی گئی ہے اس کے کئی پہلو ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ لوگوں سے ان کی اپنی زبان میں گفتگو کی جائے تاکہ وہ بات کو بخوبی سمجھ سکیں۔

اسے قرآن مجید میں ایک اور مقام پر واضح کرتے ہوئے فرمایاگیا :

’’ہم نے اپنا پیغام دینے کے لئے جب بھی کوئی رسول بھیجا ہے اس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تاکہ وہ انھیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے۔‘‘  (ابراھیم : ۴)

تقسیم ہند سے پہلے مولانا مودودیؒ نے ۲۶ ؍اپریل ۱۹۴۷ء مدراس کے سالانہ حلقہ جاتی اجتماع میں ہندوستان کی تاریخ کے نہایت اہم اور فیصلہ کن مرحلے میںتقسیم ملک کے بعد کے حالات کے پیش نظر دین کی سر بلندی کے لئے راستہ ہموار کرنے کے لئے چار نکاتی فارمولہ دیا تھا۔ چوتھا نکتہ بیان کرتے ہوئے مولانا نے فرمایا تھا:

ــ’ـ’ہمارے سب کارکن اور وہ تمام لوگ جو آئندہ ہماری تحریک سے متاثر ہوں ہندوستان کی مقامی زبانوں کو سیکھیں اور ان میں تحریر و تقریر کی قابلیت بہم پہنچائیں جو آئندہ تعلیم اور لٹریچر کی زبانیں بننے والی ہیں اور اس امر کی انتہائی کوشش کریں کہ ان زبانوں میں جلدی سے جلدی اسلام کا ضروری لٹریچر منتقل کردیا جائے۔ اگر مسلمان اپنی قومی عصبیت کی بنا پر صرف اردو تک اپنی تحریر و تقریر کو محدود رکھیں گے تو ملک کی عام آبادی سے بے گانہ ہو کر رہ جائیں گے۔‘‘

مولانا نے یہ بھی فرمایا تھا کہ:

’’ ایسا کرنا محض غیر مسلموں ہی کی خاطر نہیں بلکہ خود مسلمانوں کی آئندہ نسلوں کو بھی مسلمان رکھنے کی خاطر ضروری ہے کیوں کہ آگے چل کر مسلمان بچے درس گاہوں میں تعلیمی زبان اور درس گاہوں سے باہر سرکاری اور ملکی زبان سے اس قدر متاثر ہوں گے کہ ان کا اردو سے تعلق برائے نام رہ جائے گااور اگر ان زبانوںمیں کافی اسلامی لٹریچر نہ ملا تو وہ با لکل اکثریت کے رنگ میں رنگتے چلے جائیں گے۔‘‘

انہیں ضرورتوں کے پیش نظر جماعت اسلامی ہند حلقہ کرناٹک نے سب سے پہلے انجمن ترقی انسانیت کے تحت مرحوم عبد الجبار سے ’سلامتی کا راستہ اور سرور عالم‘ کتابچوں کا کنڑ ترجمہ کرایا۔ اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے مرحوم نوری صاحب اور عبدالغفار سولیا صاحب نے کئی کتابوں کا ترجمہ کیا۔ اس کام کو مزید وسعت دینے کے لئے ۱۹۷۲ء میں مولانا محمدسراج الحسن صاحب امیر حلقہ، مرحو م ایم ۔ایچ شیخ صاحب اور مرحوم ابراھیم خلیل اللہ خاں صاحب نے ایک ادارہ اسلامی ساہتیہ پرکاشن کے نام سے بنایا ۔۱۹۷۸ء میں دِوّیا قرآن کے نام سے کنڑا میں قرآن کا مکمل ترجمہ شائع ہوا۔

شانتی پرکاشن کی تشکیل ۱۹۸۸ء میں عمل میں لائی گئی اس کے بعد کنڑ زبان میں کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ چل پڑا۔الحمدللہ اب تک قرآن و حدیث، سیرت رسولﷺ، سیرت انبیاء ، سیرت صحابہ و صحابیات ، سیرت صلحاء ، اسلامی فقہ ، بچوں کی درسیات ، خواتین اسلام سے متعلق، تحریک اسلامی کی بنیادی کتب پر مشتمل ۲۵۰ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ تفصیل درج ذیل ہے: قرآنیات پر ۲۶، احادیث پر ۱۲، سیرت پر ۱۵، خاندانی و سماجی نظام پر ۱۳، فقہ پر ۱۱، اسلامی تعلیمات پر ۴۶، تحریک اسلامی پر ۱۵، تربیت پر۹،عقائد و آداب پر ۱۸، تاریخ پر ۱۵، بچوں کی درسیات پر ۲۰، اور متفرق عنوانات پر۵۰ کتابیں اس وقت موجود ہیں۔ مولانا مودودیؒ کے ترجمہ قرآن کا کنڑ ترجمہ پوتر قرآن Pavitra Quran   کے نام سے اور تلخیص تفہیم القرآن کا ترجمہ دو جلدوں میں قرآن ویاکھیانہ Quran Vyakhyana کے نام سے ۱۹۹۱ اور ۱۹۹۵ میں شائع ہوئے۔تفہیم القرآن کی اول تا سوم تین جلدیں ترجمہ ہوکر شائع ہوچکی ہیں۔ دیگر کتب میں جواہر الحدیث از مرحوم شمس پیر زادہ صاحب، کلام نبوت از فاروق خان صاحب، اور محسن انسانیت از نعیم صدیقی صاحب اوربخاری شریف کی تلخیص قابل ذکر ہیں۔کتابیں اردو، ملیا لم، تامل، ہندی سے ترجمہ بھی ہوئی ہیں اور براہ راست لکھی بھی گئی ہیں۔ براہ راست لکھی گئی کتابوں میں مرحوم ابراھیم سعید ؒ  سابق  امیر حلقہ کی لکھی ہوئی کتاب تپو کلپنے گلو Tappu Kalpanegalu (غلط فہمیاں) اور نبی کریم ﷺ کی سیرت پر لکھی گئی کتاب پروادی محمد ﷺ جیون متوسندیشہ         Prawadi Muhammad Jiwana Matthu Sandesha کافی مقبول ہوئیں۔

شانتی پرکاشن کے کتب کی توسیع کے لئے دو موبائل ویان شانتی ساہتیا واہنی Shanthi Sahitya Vahini اور شانتی سنچاری پستکالیہ Shanthi Sanchari Pustakaliya کا اہم رول ہے۔جس کے ذریعہ پوری ریاست کے شہروں و دیہاتوں میں گھوم کر اسلامی لٹریچر پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں، ہر سال لاکھوں روپئے کی کتب فروخت ہوتی ہیں ۔خریدنے والوں میں کم و بیش نصف تعداد وطنی بھائیوں اور بہنوں کی ہوتی ہے۔ ریاست بھر میں جماعت اور غیر جماعتی بک ڈِپو کے علاوہ کنڑا ساہتیہ پریشد کے جانب سے جہاں کہیں ریاستی، ضلعی اور تعلقہ سطح کے سمّیلن ہوتے ہیں وہاں شانتی پرکاشن کی جانب سے مکتبہ لگایا جاتا ہے۔ جس کے ذریعہ ہزاروں کنڑا دانوںتک اسلامی تعلیمات پہنچائی جاتی ہیں۔

شانتی پرکاشن کے دس سال مکمل ہونے پر ۱۹۹۹ ء میں دس سالہ تقریبات ’’ادب کے ذریعے ہم آہنگی‘‘ کے موضوع پرمنعقد کی گئیں۔اس سال شانتی پرکاشن کے ۲۵ سالہ سفر کے مکمل ہونے پر تحدیث نعمت کے طور پر ریاست بھر میں خصوصی تقریبات ماہ نومبر میں منعقد کی گئیں جن کے ذریعہ شانتی پرکاشن کے لٹریچر کا وسیع تعارف ہوا اس کے لئے ملّت و برادران وطن کی ادبی، سماجی، سیاسی و دیگر اہم شخصیات کو شامل کرکے ریاستی و ضلعی سطح پر استقبالیہ کمیٹیاں بنائی گئیں۔ ریاستی سطح پر بنائی گئی استقبالیہ کمیٹی کے صدر ریاست کے نامور سوامی جی اور مذہبی ہم آہنگی کے لئے قومی ایوارڑڈ یافتہ گدگ کے تونٹا داریا سِدّھ لِنگا مہاسوامی جی Thontadarya Siddalingya Swamiji کو بنایا گیا۔ ریاست بھر میں ’ادب برائے امن‘ کے موضوع پر1تا 30 نومبر 2013؁ء دعوتی مہم منائی گئی۔ اس موقع سے۳۰مقامات پر ۳ تا ۸ دن اعلیٰ پیمانے پر بک میلے منعقد کئے گئے۔ ۶مقامات پرایک روزہ پروگرام کتابوں کی نمائش کے ساتھ منعقد ہوئے۔ یہ پروگرام ضلعی مستقر اور تعلقہ ہیڈ کوارٹرس پر منعقد کئے گئے۔  اس موقع سے افتتاحی (inaugural )پروگرام، مذاکرے،مہم کے موضوع پر سمینار، Expoکے نام سے اسلامک ما ڈل ایکزبیشن(Model Exhibition)، مشاعرے اردو اور کنڑ کے ملے جلے اور الگ الگ بھی، ثقافتی پروگرام، ادیب و صحافی حضرات سے ملاقاتیں اور تبادلہ خیال، خواتین اور بچوں کے خصوصی پروگرام کے علاوہ پیغام امن لئے ہوئے ریالیوں کا انعقاد عمل میں آیا۔ طلبہ و طالبات کے لئے مضمون نگاری کے مقابلے انعقاد کر کے انعامات دئے گئے۔ ساری سرگرمیوں میں استقبالیہ کمیٹی کے ممبران سرگرم عمل رہے۔ ایک مقام پر ۱۳ ہائی اسکول کی طالبات کا درج ذیل موضوعات پر Inter School Drama Competition منعقد کئے گئے۔      Blind  faith, female foeticide, female education,Corruption, Respect towards parents, Poverty, Baddi,(سودکتاب)۔  اول، دوم ، سوم آنے والے اسکولوں کو انعامات دئے گئے۔ کئی مقامات پر مذاکرے Symposiumکنڑ میں خواتین کے الگ سے منعقد ہوئے جس کی صدارت جما عت کی ذمہ دار خواتین نے کی مہمان مقررین بھی خواتین ہی رہیں ان پروگراموں میں سینکڑوں کی تعداد میں وطنی بہنیں شریک رہیں۔

تشہیر کے لئے پریس کانفرنسس کا ہر جگہ انعقاد عمل میں آیا جس میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندے بڑی تعداد میں شریک رہے۔ اخبارات اور ٹی وی چینلوں نے اچھا کوریج دیا۔بڑی تعداد میں بڑے بڑے Hoardings اور banners شہر کے اہم مقامات پر لگائے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ ہینڈبِلس، ڈیڑھ لاکھ فولڈرس تقسیم کئے گئے۔ شانتی پرکاشن کے پیغام پر مشتمل کٹ آوٹس Cutouts جگہ جگہ لگوائے گئے۔اخبارات میں اشتہار اور لوکل چینلس پر اشتہاری پٹی دی گئی شہر میں آٹو اعلانات کروائے گئے۔

٭           ان تقریبات کے دوران لگائے گئے مکتبوں کے ذریعہ تیس لاکھ روپیوںکی کتابیں فروخت ہوئیں۔

٭            اس موقع سے 100پریس کے نمائندوں کو ۲۰۰۰ روپئے کے گفٹ کوپن کتابوں کو حاصل کرنے کے لئے دئے گئے۔

٭            اس موقع سے300برادران وطن کی اہم شخصیات کو فی کس ایک ہزار چار سو روپیوں پر مشتمل 25کتابوں  کے سیٹس تحفتاًدئے گئے۔ اس کے علاوہ  برادرانِ وطن کے مختلف شعبۂ حیات سے تعلق رکھنے والے 1500 منتخب افراد میں کم و پیش۵۰۰ روپیوں کی کتابوں کے سیٹس تقسیم کئے گئے۔ اس طرح تقریباــ تیرہ لاکھ سترہزار روپیوں کی کتابیں تحفتہ دی گئیں۔

شانتی پرکاشن کی ان خصوصی تقریبات کے موقع پر اور اس سے پہلے قرآن مجید، احادیث و سیرت اور دیگر اہم موضوعات پر کتابوں کے اجراء کے موقع پر برادران وطن کے نامور ادیب، مذہبی وسماجی رہنمائوں نے جو تاثرات ظاہر کئے ہیں وہ قابل قدر بھی ہیں اور قابل غور بھی۔

٭           ڈاکٹر پاٹل پُٹّ پّا Dr Patil Puttappa کنڑا کے نامور ادیب نے کہا ’’مسلمان کرناٹک میں ایک ہزار سال سے آباد ہیں مگر قرآن (کنڑ ترجمہ) کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام یہاں ابھی ابھی آیا ہے‘‘۔

٭           ڈاکٹر جورے گوڑا Dr Jawre Gouda وائس چانسلر میسور یونیورسٹی نے کہا ’’قرآن کے ترجمہ سے کنڑ زبان (دھنی) زرخیز ہوئی ہے‘‘۔

٭           شیش گری رائو Shesh Geri Rao نامور ادیب نے کہا’’شانتی پرکاشن کی کوششوں سے مختلف مذاہب کے لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے کو سمجھنا آسان ہوا ہے‘‘۔

٭           گدگ کے تونٹاداریا سِدّلِنگیّا سوامی جی Thontadarya Siddalingya Swamiji  نے اعتراف کیا کہ’’ ان کی اپنی ذہن سازی میں شانتی پرکاشن کی کتابوں کا بڑا دخل ہے۔ ان کتابوں نے غلط فہمیوں اور سماجی برائیوں کے ازالہ میں بڑا اہم رول ادا کیا ہے ‘‘۔

٭           بنگلور کے ویر بھدراچنّاملّا سوامی جی  Veerbhadra Channamalla Swamiji نے ’’ شانتی پرکاشن اور مرحوم ابراھیم سعیدؒ کے کام کو ایک یونیورسٹی کے کام کے برابر قرار دیا‘‘۔

٭           اڑپی کے سُگو نیندر سوامی جی Sugunendra Swamiji نے ’’شانتی پرکاشن کی تعریف کرتے ہوئے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کو غلط اور فرقہ پرستوں کا حربہ قرار دیا‘‘۔

٭           بیلی مٹھ کے شوا رودرا سوامی جی  Shivarudra Swamijiنے کہا کہ’’ شانتی پرکاشن کا کام دلوں کو جوڑنے والا ہے۔صدیوں کا کام اس نے چند سالوں میں کر دکھایا ہے‘‘۔

٭           ٹمکور کے شیو کمار سوامی جی  Shiva Kumar Swamiji نے کہا’’ زندگی بعد موت (کنڑ ترجمہ) کتابچہ سے میری سوچ بدل گئی۔‘‘

٭           مینا کماری مڈکیرے  Meena Kumari Madakire نے کہا ’’ مقدس قرآن کی تمام باتیں انو کھی، حیران کن،Wonderful ہیں اس کے مطابق سب لوگ اگر عمل کریں تو دنیا جنت کا نمونہ بن سکتی ہے۔‘‘

٭           جئے پرکاش مڈکیرے Jay Prakash Madikeri نے کہا ’’ شانتی پرکاشن کے لٹریچر میں دی جانے والی سبھی معلومات سیدھے راستے کی رہنمائی بڑے دلنشین انداز میں کرتی ہیں۔‘‘

٭           ا یم ایس پپو M S Pappu  طالب علم نے کہا ’’ ان کتابوں سے معلوم ہوا کہ انسان کو کیسے زندگی بسر کرنی چاہئے،کسی کو تکلیف دئے بغیر کیسے انسانوں کی خدمت کی جاسکتی ہے۔ ‘‘

٭            مکھیا منتری چندرو Mukhya Mantari Chandru  فلم اداکار و ایم ایل سی نے اختتامی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ’’ کون کہتا ہے کہ مسلمان کنڑا سے دور ہیں، شانتی پرکاشن نے اسلام سے متعلق غلط فہمیوں کے ازالہ اور اسلامی ادب کو کنڑا دانوں تک پہنچانے کا جو عظیم کام کیا ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ۔ اس ریاست کے تمام مذاہب کے عوام کو قریب لانے کا کام کیا ہے اور امن کا پیغام دیا ہے۔‘‘

٭           بسواشری سدرامیا بیلواڈBasva Shri Siddramia Belwad  نے کہا ’’ شانتی پرکاشن کا واحد مقصد سماج میں امن و سلامتی کا پیغام عام کرنا ہے۔شانتی پرکاشن کی کتابیں ظاہر میں بھی خوبصورت ہیں اور اس کے مضا مین بھی اعلی اقدار پر مبنی  ہیں۔‘‘

٭           ڈاکٹر پریما سرr  Dr Prema Si نے کہا ’’ مال و متاع اور شہرت و عزت سے انسانوں کو کبھی قلبی سکون حاصل نہیں ہوسکتا ،قلبی سکون بھگوان کی یاد ہی سے حاصل ہوتا ہے۔اور شانتی پرکاشن کی کتابیں ہمیں بھگوان ( اللہ ) کے ذکر کے لئے ابھارتی ہیں۔‘‘

٭            وی رام چندرا V Ramchandra  سنسس آفیسر بنگلور نے کہا ’’یہ پروگرام دو دھرموں کے درمیان اچھے تعلقات کو بڑھانے کا ذریعہ ہے،مجھے اس سے بڑا اطمینان حاصل ہوا ۔‘‘

٭           نرنجن جئے   Niranjan Jaiپروفیسر انجنیرنگ کالج منی پال نے کہا ’’ شانتی پرکاشن کا بک میلہ اور ماڈل نمائش کے ذریعہ بہت سی معلومات حاصل ہوئیں۔ والینٹرس نے د ل کو چھونے والے انداز میں ماڈلس کی تشریح کی اور اسلام کا تعارف کرایا۔‘‘

٭           ڈاکٹر گنا ناتھ اڑپی Dr Gananath Udupi نے کہا ’’ملک کی یکجہتی کو در پیش مسائل اور ان کا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حل نہایت عمدہ طریقہ سے ماڈلس کے ذریعہ  پیش کیا گیا شانتی پرکاشن کی کتابیں معلومات کا خزانہ ہیں۔‘‘

٭           راج بَلّال  Raj Ballal فلم ڈائرکٹر اڑپی  ’’نمائش میں جس انداز سے باتوں کو پیش کیا گیا وہ نہایت متاثر کن ہیں،ہندئوں اور مسلمانوں کے درمیان پائی جانے والی دوریوں کو مٹاکر آپسی بھائی چارگی کا ماحول بنانے اور نئی نسل کو بہتر زندگی گزارنے میں مددگار ہیں۔‘‘

٭            مس شانتی Mis Shanthi کہتی ہیں ’’شانتی پرکاشن کی کتابوں کے ذریعہ شعور کی بیداری کا بہت عمدہ کام ہورہا ہے ،زندگی میں پہلی بار اسلام کے بارے میں اتنی زیادہ کتابیں دیکھنے کو ملیں،اس کی وجہ سے مجھے اسلام سے دلچسپی پیدا ہوئی۔‘‘

٭            پلوی منیپال Pallavi Manipal  کا کہناہے ’’مختلف مذاہب کے لوگوں میں مختلف خیالات کے باوجود اچھی باتوں میں اشتراک واتحاد کی یہ کوشش اچھی لگی۔ سارے انسان برابر ہیں یہ خیال لوگوں کے دلوں میں جڑ پکڑ جائے تو بہترین سماج کی تعمیر ہوسکتی ہے۔ماڈلس کے ذریعہ جو تصورات پیش کئے گئے وہ بہترین تھے۔‘‘

٭            بی آر چندرشیکھر  B R Chandrashekar ڈپٹی کمشنر چکمگلور نے کتب میلہ کا افتتاح کرنے کے بعد کہا ’’ مختلف موضو عات پر کتابوں کا اتنا بڑا ذخیرہ میں نے نہیں دیکھا یہ کوششیں سماج کے لئے نہایت مفید ہیں۔ ‘‘

٭           سدانند کے جی  Sadanand K G کا کہنا ہے ’’موجودہ بھارت میں فرقہ پرستی، رشوت ستانی، جنسی انارکی،جیسی سماجی برائیوں کو دور کرنے کے لئے شانتی پرکاشن نے جو حل پیش کیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔کسی بھی قوم کی دل آزاری کے بغیر انسانیت کی فلاح کے لئے کی جانے والی یہ کوششیں قابل قدر ہیں۔ اس کے لئے ہمارا ہر طرح کا تعاون رہے گا۔‘‘

٭            سد لنگیا یادگیر  Siddlingaiya Yadgirنے کہا ’’ جسمانی بیماری کے علاج کے لئے انسان ڈاکٹر کے پاس جاتاہے اور اخلاقی و روحانی بیماری کے علاج کے لئے پریشان ہے، ایسے پریشان حال لوگوں کے لئے شانتی پرکاشن کی کتابوں میں پر سکوں زندگی گذارنے کا اچھا طریقہ مل سکتا ہے۔ ‘‘

٭ کوپل جیل کی جیلر شانتی شری  Shanthi Shree نے کہا کہ ’’اس پروگرام کو نوبل پرائز ملنا چاہئے۔‘‘

٭           وجے لکشمی کوڈگی کوپل Vijay Laxmi Kowdgi Koppal  محمد کنی کی صدارتی تقریر سننے کے بعد بے تابی سے اسٹیج سے اتریں اور قرآن کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ’’زندگی میں ایک بار اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے۔‘‘

٭ بعض برادران وطن کے تاثرات درج ذیل ہیں:

۰  ’’شہید کربلا کتابچہ سے مجھے محرم کی حقیقت معلوم ہوئی۔ کاش اس کتاب کو مسلمان بھی پڑھتے اور سمجھتے تو معاشرہ میں بدلائو آ تا‘‘۔

۰   ’’جماعت اسلامی ہند کے کئی کاموں میں سے ایک کام جسے میں نہیں بھول سکتا ساہتیہ کے ذریعہ کی جانی والی خدمت ہے اس وجہ سے جماعت کی قدر میری نگاہ میں بہت بڑھ گئی‘‘۔

۰   ’’شانتی پرکاشن کے ذریعہ اسلام کی تعلیمات وہاں بھی پہنچیں ہیں جہاں نہ جماعت کا کام ہے نہ مسلمان ہیں۔‘‘

٭ ایک دینی جماعت سے وابستہ ایک مسلمان بھائی نے کہا کہ آپ کا یہ کام بہت اچھا ہے لیکن ہم ایک ایسے ماحول میں رہتے ہیں جہاں اس کا کھل کر اظہار نہیں کر سکتے۔‘‘

٭ بعض مقامات پر کالج کی طالبات (وطنی)بک میلہ، expo  ایکزیبیشن و مختلف پروگراموں میں شرکت کے بعد اپنے گھر گئیں اور والدین کو ساتھ لاکر کتابیں خریدیں۔

ان پروگراموں میں سینکڑوں کنڑا ادباء، شعراء اور ادب نواز اور ہزاروں کنڑدان عوام مرد و خواتین نے حصہ لیا گو کرناٹک کے چھ کروڑ عوام کے اس سمندر میں اس تعداد کی حیثیت چند قطر وں کی ہے بہر حال اللہ کا شکر و احسان ہے کہ اس نے ان چھوٹی سی کوششوں کے ذریعہ کرناٹکا کے باشندگان کے سامنے ان کے حقیقی خالق و مالک کا پیغام پیش کرنے کی توفیق و سعادت نصیب فرمائی۔اللہ کرے کہ شانتی پرکاشنہ کی ۲۵ سالوں سے انجام دی جارہی خدمات اوراس سلسلے میں انجام دئے گئے مختلف پروگرام صحت مند فکری انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوں۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہماری ان خدمات کو قبول فرمائے اور کوتاہیوں کو معاف کرے اور اس راہ میں مزید آگے بڑھنے میں اپنی مدد و رہنمائی شامل حال فرمائے۔آمین۔

مئی 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau