جذبۂ محبت اور اسلامی مزاج

عتیق احمد اصلاحی

اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: تم اپنے بھائی سے مناظرہ نہ کرو، نہ اس سے مذاق کرو اور اس سے وعدہ خلافی نہ کرو(ترمذی)

میں کسی کی نقل اتارنا پسند نہیں کرتا چاہے اس کے عوض مجھے ڈھیروں دولت ملے(ترمذی)

عبداللہ بن مسعود نے بنی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کون ساعمل افضل ہے آپؐ نے فرمایا وقت پر نماز ادا کرنا میں نے پوچھا پھر کون سا عمل؟آپؐ نے فرمایا تمہارے زبان سے کسی کو ایذا نہ پہنچے۔(ترغیب وترہیب)

اسلام اس بات سے روکتا ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کو برے نامو ںسے پکارے یا ایسے ناموں سے پکارےجس سے اس کی توہین وتحقیر ہوتی ہے وہ گناہ میں شمار ہوتے ہیں وہ  تو ظالم ٹھہرتا ہے

اے افراد جماعت! جو زبان سے مسلم ہو اور ایمان ان کے دل میں داخل نہیں ہوا(غور سے سنو)تم مسلمانوں کو ایذانہ دو۔ ان پر طنز نہ کرو، اور ان کے چھپے ہوئے عیبوں کی ٹوہ میں نہ لگے رہو۔

جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیب کی تلاش میں رہیگا اللہ تعالیٰ اس کے عیب اور برائیوں کا پردہ چاک کردیتاہے اسے بے  عزت اور رسواکرتا ہے چاہے وہ اپنے گھر کے اندر برائی کررہا ہو۔

غیبت بھی ایک ایسی خراب برائی ہے جس سے سماج میں انتشار پیدا ہوجاتا ہے اسلام نے اس سے بھی روکاہے۔

حضرت ابوہریرۃؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ نے فرمایا کہا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں آپ نے فرمایا:’’تمہارا اپنے کسی بھائی کا ذکر اس طرح کرنا جو اسے ناگوار ہو‘‘ عرض کیاگیا کہ اگر وہ برائی واقعۃً میرے بھائی میں ہو جس کا ذکر میں کروں؟ آپؐ نے فرمایا’’ اگر وہ عیب اس میں موجود ہے جو تم نے بیان کیا تو تم نے اس کی غیبت کی۔ اور اگر وہ اس میں نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔

غیبت کے ذریعہ ایک بھائی دوسرے بھائی کو دلی تکلیف پہنچاتا ہے۔ کیونکہ جس کی غیبت کی جاتی ہے اس کی عزت وآبرو پر بٹا لگتا ہے۔ دنیامیں اس کے نتیجہ میں دوریاں ونفرتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اور آخرت میں ایسے لوگوں کے لئے درد ناک سزائیں قرآن وحدیث میں پیش کی گئیں ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا)

جب مجھے معراج ہوئی تو میرا گزر کچھ ایسے لوگوں  پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے جن سے وہ اپنے چہروں اور اپنے سینوں کو نوچ کھروچ رہے تھے میں نے پوچھا:اے جبریل ،یہ کون لوگ ہیں؟ انھوں نے کہا:یہ وہ لوگ ہیںجو لوگوں کا گوشت کھایا کرتے تھے۔ اور ان کی آبروئوں کے پیچھے پڑے رہتے تھے۔

بدگمانی بھی ایک ایسی اخلاقی خرابی ہے جس کی وجہ سے سماج میں دوریاں بڑھتی ہیں انس ومحبت کاماحول ساز گار نہیں رہ پاتا ہے اسلام نے  اس سے بھی روکا ہے۔ قرآن میں ارشاد ربانی ہے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔(بخاری)

بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے ۔ کسی کی بھلائی برائی پر مطلع ہونے کے طالب نہ بنو، نہ ٹوہ میں پڑو، نہ دوسرے سے بڑھ کر بولی بولو نہ باہم حسد کرو، نہ آپس میں بغض رکھو، نہ باہم دشمنی یا قطع تعلق کرو، اور خدا کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔

اس حدیث میں مزید دوایسی باتوں کی نشاندہی کی  گئی ہے جو تعلقات کو خراب کردیتی ہیں۔ ایک حسد اور دوسرے بولی کے اوپر بولی بولنا۔

حسد: حسد یہ ہے کہ جب کوئی انسان کسی انسان سے کسی بھی اعتبار سے علم وفضل، مال ودولت، مرتبہ میں آگے بڑھ جاتا ہے تو اس کی ترقی پر خوش ہونے کے بجائے اور اپنے پیچھے رہ جانے کے اسباب کو تلاش کرنے اور ان کمیوں کو دور کرکے آگے بڑھنے میں غور وتدبیر اختیار کرنے کے بجائے وہ اس پر غمزدہ ہو اور اس کے اندر یہ جذبہ  پیدا ہوجائے کہ کسی طرح سے وہ اس مرتبہ،علم وفضل سے محروم ہوجائے۔ جن لوگوں کے درمیان اس طرح کے جذبات ہوں وہاں  محبت کا گزر نہیںہوسکتا اسی لئے اسلام نے اس سے روکا ہے۔ جس معاشرے میں حسد کی وبا پھیل جاتی ہے یا جس شخص کے اندر یہ صفت پیدا ہوجاتی ہے وہ خود بھی ہلاک ہوتا اور دوسرے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے ان سے حسد کی وجہ سے ہی کنواں میں پھینک دیاتھا۔ حضرت آدم کے بیٹے ہابیل نے قابیل کو اسی حسد کی آگ نے قتل کرنے پر آمادہ کیا۔یہود نے حضورؐ کی تاحیات اس لئے مخالفت کی سازشیں رچی کی آپؐ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے خاندان میں پیدا ہوئے جوان کو عزت ملی تھی وہ اسماعیل کے خاندان میں منتقل ہوگئی۔ اس حسد کی آگ نے ان کو ہدایت سے روکا اور آج تک ان کے دلوں میںآگ بھڑ ک رہی اسی بنیاد پر وہ مسلمانوں کے مخالف ہیں۔

حسد انسان کو دینی واخلاقی لحاظ سے پست کردیتا ہے ۔ کیونکہ جس سے اسے حسد ہوتا ہے اس کے نیچے دکھانے کے لئے خود بھی نفسیاتی طور پر پریشان رہتا ہے جس سے حسد ہے اس کی لوگوں سے برائیاں وغیبت کرنے سے خود اس کی شخصیت مجروح ہوتی ہے اور آخرت میں تو اس کی ان حرکتوں کی وجہ سے اس کی نیکیاں اس فرد کو دے دی جائیں گی ۔جس سے حسد کی بنیاد پر اس نے یہ رویہ اختیار کیا تھا۔اسی لئے نبیؐ نے صاف طور پر اس سے روکار ہے۔ فرمایا۔حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھاجاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھالیتی ہے ۔ یا فرمایا ۔ گھاس کو کھالیتی ہے۔(ابوداؤد)

بولی پر بولی بولنا(بیع پر بیع کرنا) یعنی دو لوگ کا روبار کے موقع پر معاملات طے کررہے ہوں تو درمیان میں تیسرا انسان مداخلت کرے۔ کیونکہ معاملہ طے کرتے وقت اگر درمیان میں تیسرا فرد آجاتا ہے اور زیادہ قیمت دے کر مال خریدلیتا ہے تو پہلے والے فریق یا خریدار کے دل میں اس کے تئیں نفرت کے جذبات پیدا ہوجائیںگے اور اگر مضبوط آدمی ہوا تو جھگڑا بھی ہوسکتا ہے اس لئے اللہ کے رسولؐ نے اس سے روکا ہے۔

اسلام نہ صرف ان بدخلقیوں وبرائیوں سے روکتاہے جن سے سماج ومعاشرہ میںخرابیاں، دوریاں ،نفرتیں،پیدا ہوتی ہیں بلکہ ان خرابیوں کی اصل جڑ اور یہ خرابیاں کیوں پیداہوتی ہیں ان کے اسباب کو بتا کر علاج کرتا ہے۔ اسلام کے نزدیک یہ خرابیاں انسانوں کے اندر پیدا ہونے کی وجہ یہ کہ انسانوں کے دلوںمیں احساس برتری پیدا ہوتا ہے۔ جس کی بنیاد پر دوسروں کو ذلیل وکمتر سمجھتے ہیں اور ان کی تحقیر ،مذاق اڑانا، ان کے عیوب کا ذکر کرنا،غیبت کرنا ،اپنا حق سمجھتے ہیں۔

خاندان، نسل،وطن، قومیت، رنگ،تفاخر کی بنیاد پر اپنے کو بلند سمجھنا اور دوسرے قبیلے اور خاندان کو کمتر سمجھنا، اپنے قبیلے کے لوگوں سے محبت کرنا،ان کا تعاون کرنا، مدد کرنا، ہر معاملے میں (صحیح وغلط) میں ان کی حمایت کرنا جب کہ دوسرے قبیلے اور خاندان سے نفرت کرنا، اس کو دبانا وغیرہ نسل وخاندانی برتری کو مذہبی رنگ دیئے جانے کی غلطی بھی خوب کی گئی ہندوستان میں ہندو مذہب میں’’سورن آشرم‘‘ کے قانون کی رو سے اونچ نیچ ذات پات کا نظام قائم کیاگیا۔ برہمنوں کو مقدس شودروں کو حقیر درجہ دیا گیا۔ یہودیو ں نے اپنے کو مقدس غیر اسرائیلیوں کو کم تر درجے کا قرار دیا۔

اسلام کہتا ہے کہ نسل وخاندان،وطن کی بنیاد پر کوئی کسی سے برتر نہیں ہے سب برابر ہیں اس لئے کہ سب کا خالق ومالک ایک ہے۔اور سب ایک ہی ماں باپ آدم وحواکی اولاد ہیں۔ اس لئے سب بھائی بھائی ہیں۔ فضیلت وبرائی کا صرف ایک پیمانہ ہے اور وہ تقویٰ ہے۔ جو انسان اپنے پیدا کرنے والے سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو وہی بڑا ہے۔ پیدائشی طور پر کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔

لوگو!ہم نے تم کو ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیںاور برادریاں بنادیںتاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہو۔ یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔(حجرات۱۳)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(بیہقی) لوگو! خبردار رہو، تم سب کا خدا ایک ہے۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر اورکسی عجمی کو کسی عربی پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ مگر تقویٰ کے اعتبار سےاللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو (بخاری)

؏محبت پیدا کرنے والی چیزیں

ہمدردی: انسانوں،رشتہ داروں ،اعزاء واقارب، دوست واحباب، والدین سب کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کرنا۔

ہمدردی ایک خوبی ہے جو ان رشتوں کو استوار ومستحکم بناتی ہے۔ ایک انسان جب دوسروں کی بھلائی چاہتاہو۔ دوسروں کے دکھ درد کو اپنا سمجھتا ہو،دوسروں کو نقصان سے بچا کر فائدہ پہنچا نا چاہتا ہو۔ تو بھلا اس سے کون محبت نہ کرے گا۔ جس سماج ومعاشرے میں ایسے لوگوں کی کثرت ہو جائے گی تو وہ سماج ومعاشرہ محبت کا گہوارہ ہوجائے۔ نفرتوں،عداوتوں وفساد سے سماج پاک وصاف ہوجائے گا۔ نبیؐ نے نصح وخیرخواہی وہمدردی کا حکم دیا۔(بخاری ومسلمٌ)

دین نصح وخیر خواہی کا نام ہے یہ بات آپؐ نے تین بار فرمائی۔ ہم نے عرض کیا کہ یہ خیر خواہی کس کےلیے ہے؟فرمایا اللہ کےلئے اس کی کتاب،اس کے رسول،مسلمانوں کے اماموں اور عام انسانوں کے لیے۔

جو شخص یہ پسند کرتاہے کہ اسے جہنم سے نہایت دور رکھاجائے اور جنت میں داخل کردیاجائے تو چاہئے کہ اس کو موت اس حال میں آئے کہ خدا اور یوم آخر پر وہ ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ اُسے وہی معاملہ کرنا چاہئے جو وہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ کریں۔

ایثار:ایک انسان کا اپنے دوسرے بھائی کی بھلائی اور فائدہ کو اپنے اوپر ترجیح دینا ایثار کہلاتا ہے۔

جب ایک انسان اپنے اوپر دوسرے انسان کو ترجیح دے گا۔ اپنے آپ تکلیف اٹھاکر دوسروں کو آرام پہنچانے کی کوشش کرے گا اور اپنے آپ بھوکا رہ کر دوسروں کو پیٹ بھر کھانا دے گا۔ اپنی ضرورت پر دوسروں کی ضرورتوں کو ترجیح دے گا تو ظاہر ہے کہ جس معاشرہ میںاس طرح کا ماحول وفضاپائی جائے گی وہاں محبت ہی محبت ہوگی۔   (جاری)

قرآن میں اللہ تعالیٰ آپسی معاملات کرتے وقت ایثار کا حکم دیتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے  ترجمہ آپس میں حق سے بڑھ کر دنیا نہ بھولو یقینا اللہ اسے دیکھ رہا جو کچھ تم کرتے ہو(۲۳۷ بقرہ)

حضرت طلحہؓ کاواقعہ تو کافی مشہور ہے۔

حضرت سہل ؓ بیان  کرتے ہیں کہ ایک عورت رسولِ خدا صلی اللہ  کے پاس ایک بتاہوا حاشیہ دار برد ہ لے کر آئی۔ کہا تم جانتے ہو کہ بردہ کیا چیز ہے؟ لوگوں نے کہا کہ  شملہ(چادر) انھو ںنے کہا کہ ہاں اس عورت نے عرض کیا کہ میںنے اسے اپنے ہاتھ سے بنا ہے ۔آئی ہوں کہ آپ کو پہنا دو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرمالیا۔ اس وقت آپؐ کو اس کی ضرور  ت بھی تھی۔ پھر آپؐ ہمارے پاس تشریف لائے اس وقت آپؐ نے اسے ازار کے طور پر پہن رکھا تھا۔ ایک شخص نے اس کی تعریف کی او رکہا کہ اسے آپؐ ہمیں عطا فرمائیں۔ یہ کتنی اچھی ہے! لوگوں نے کہا کہ تو نے یہ اچھا نہیں کیا۔ اسے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں فرمایے۔ اس شخص نے کہا کہ بخدا میں نے اسے پہننے کے لئے نہیں مانگا بلکہ اس لئے مانگا کہ یہی میرا کفن ہو۔ حضرت سہیلؓ کہتے ہیں کہ وہ چادر اس کا کفن ہی ہوئی۔

شفقت: محبت پیدا کرنے والی اور دو دلوں کو جوڑنے والی ایک اہم چیز رحمت ہے۔ اگر کوئی فرد لوگوں سے شفقت ورحمت سے پیش آتا ہے تو وہ ہر دل عزیز ہوجاتا ہے۔ اگر معاشرہ ایسے لوگوں پر مشتمل ہوجائے تو ہر طرف امن اور محبت ہی محبت عام ہوجائے۔۰ اگر کوئی فرد انسانوں سے محبت، شفقت اور رحمت سے پیش آتا ہے تو خدا اس کی طرف متوجہ ہوتاہے اس پر رحم کرتا ہے۔

تم زمین والوں پر رحم کرو تم پر وہ رحم کرے گا جو آسمان میں ہے۔

الراحمون یرحمھم الرحمن اِرحمو اہل الارض یرحمکم من فی السماء (ابوداؤد)

لایر حم اللہ من لا یرحم الناس (بخاری)خدا اس شخص پر رحم نہیں فرماتا جو لوگوں پر رحم نہیں فرماتا ہے۔

لیس منا من لم یوقر الکبیر ولم یرحم الصغیر(بخاری ومسلم)

وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے۔ جس نے نہ بڑے کی تعظیم وتوقیر کی اور نہ چھوٹے پر رحم کیا۔

رحم اللہ رجلاًسحماً ادا باع واذاشتری واِذا قتضیٰ (بخاری)اور اس شخص پر رحم فرمائے جو نرمی اور فیاضی سے کام لیتاہے جب بیچتا ہے اور جب خریدتا ہے اور جب تقاضا کرتا ہے۔

اللہ نرم خوں ہے وہ نرمی کو محبوب رکتھا ہے اور نرمی پر وہ  سب کچھ دیتا ہے جودرشتی پر یا کسی عادت پر نہیں دیتا۔

اور مسلمانوں کی تعریف میں اللہ فرماتا ہے۔ رحماء بینہم مسلمان آپس میں سراپا رحمت و محبت ہیں (فتح ۲۹)

مسلمانوں کی خوبی کے بارے میں نبیؐ نے فرمایا ہیّنون لیّنون(ترمذی)  مومن بردبار اور نرم دل ہوتے ہیں۔

اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت بتاتے ہوئے قرآن ارشاد فرماتا ہے فَبِماَ رَحْمَۃ مِنَ اللہِ لِنْتَ لَہُھمْ (آل عمران۔۱۵۹) اللہ کی رحمت سے آپؐ ان کے لئے نرم دل واقع ہوئے ہیں۔

اگر کسی معاشرے کے افراد کے اندر شفقت ورحمت ونرمی، کی صفت پیدا ہوجاتیہے ت ویہ ان کے سراپا خیر بن جاتی ہے اور معاشرہ جنت نشان بن جاتا ہے معاشرے میں ایک خوشگوار فضا نشونما پاتی ہے ہر شخص دوسرے کے لئے باعث سکون بنا جاتا ہے ۔اس کے  نتیجہ محبت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے افراد پر دوزخ حرام کردی جاتی ہے جو لوگوں کے ساتھ رحمت وشفقت، نرمی اور آسانی پیدا کرتاہے نبی اکرم صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایان(ابوداؤد) کیا میں تمہیںاس شخص کیخبر نہ دوں جو دوزخ کے لئے حرام ہے اور جس پر دوزح کی آگ حرام ہے۔ (دوزخ حرام ہے) ہر اس شخص پر جو نرم طبع، نرم خو، قریب ہونے والاآسانی سے پیش  آنے والا ہو۔ جو نرمی سے محروم ہے وہ خیر سے محروم ہے(مسلم)

معاف کرنا:دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز کردینا، معاف کردینا، عفو درگزر سے کام لیناجبانسان انسانوںکے ساتھ رہتاہے۔ تو ایسے مواقع آتے ہیں  کہ بعض اوقات دوسروں کی جانب سے ایسی باتیں آتی ہیں جو انسان کو ناگوار گزرتی ہے جن پر غصہ آتا ہے۔ ایسے مواقع پر ان کو نظر انداز کردینا،صبر کرنا،ان کی غلط بات ورویہ کا اچھے واحسن طریقے سے جواب دینا بدلے کے جذبات کی جگہ معاف کردینا، اس کو بھلا دینا ایک بہت بڑی اخلاقی وانسانی خوبی ہے معاف کرنا ودرگزر کرنا،عفور سے کام لینے کے نتیجہ میں محبت والفت کا ماحول پیدا ہوتا ہے ۔ جس معاشر میں اس طرح کا ماحول ہوتاہے وہاں محبتکی فضا پروان چڑھتی ہے۔ اسلام میں معاف کردینے کی بڑی اہمیت وفضیلت ہے۔

پس جس نے معاف کیا اور مصلحت کی اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔(شوریٰ۴۰)

قرآن مسلمان کی تویہ صفت بتاتا ہے۔

وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ(آل عمران ۱۳۴)

غصہ کو پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کردینے والے ہیں:

انسان کو معاف کردینا اللہ کو محبوب ہے اتناخوش ہوتا ہے کہ معاف کرنے والے کی غلطیوں وکوتاہیوں کو اللہ معاف فرمادیتا ہے اور اس کے درجات بلند فرماتا ہے۔

وَلْيَعْفُوْا وَلْيَصْفَحُوْا۝۰ۭ اَلَاتُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللہُ لَكُمْ۝۰ۭوَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ(سورۃ نور۲۲)

چاہئے کہ وہ عفودرگزر سے کام لیں کیا تم اسے پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔

معاف کرنے اور درگزر سے کام لینے کی وجہ سے اللہ بندے کی عزت ہی بڑھاتا ہے ۔ اور جو کوئی شخص اللہ کےلئے تواضع اختیار کرتاہے تواس کے سب سے اللہ اسے بلندی ورفعت عطا فرماتا ہے۔ (مسلم)

وہ مسلمان جو لوگوں سے ملاجلا رہے اور ان کی ایذائوں پر صبرکرے اس سے بہتر ہے جو ملنا جلنا چھوڑ دے اور ایذائوں پر صبر نہ کرے(ترمذی ابن ماجہ)

وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَـنَۃُ وَلَا السَّيِّئَۃُ۝۰ۭ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَہٗ عَدَاوَۃٌ كَاَنَّہٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ(سورۃ فصلت ۳۴)

نیکی وبدی یکساں نہیں ہے۔

اللہ کے رسولؐ نے اپنی ذات کے لئے کسی سے بدلہ نہیںلیا۔البتہ اگر اللہ کی ذات کے سلسلے میں کوئی بے حرمتی کا رویہ اختیار کرتا تو آپ ؐ اللہ کے لئے اس کا بدلہ لیتے تھے۔(بخاری ومسلم)

خدمت: جب انسان دوسرے انسان کے کام آتا ہے۔اس کی ضرورتوں کو پوراکرتا ہے تو آپس سے محبت والفت پیدا ہوتی ہے اور تعلقات  میں خوشگواری پیدا ہوتی ہے اسی لئے اسلام میں خدمت کی بڑی اہمیت ہے ۔ وہ انسانوں کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آنے اور خدمت کاحکم دیتا ہے۔

ساری مخلوق اللہ کاکنبہ ہے اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند وہ ہے جو اس کی مخلوق سے نیک سلوک کرتا رہے۔(کتاب الآداب باب الشفقہ والرحمہ علی الخلق)

جس طرح ایک کنبہ وخاندان کے افراد کے درمیان الفت وانس ہوتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے کام آتے ہیں۔آدمی اپنے ماں باپ ،بہن وبھائیوں کے ساتھ حسن وسلوک کرتاہے ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ان کی خدمت کو اعزاز سمجھتا ہے۔ اسی طرح سارے انسانوں کے ساتھ پیش آنا چاہئے۔ کیونکہ اس حدیث میں سارے انسانوں کو اللہ کا کنبہ قرار دیاگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے  اپنا پسندیدہ بندہ ایسے ہی لوگو ںکو ٹھہرایا جو دوسروں کی خدمت کرتے ہیں اور کام آتے ہیں۔

وَابْتَغِ فِــيْمَآ اٰتٰىكَ اللہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَاَحْسِنْ كَـمَآ اَحْسَنَ اللہُ اِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْاَرْضِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ(سورۃ قصص ۷۷)

جو کچھ اللہ نے تجھے عطا کیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر۔ احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے۔اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا۔

وَاعْبُدُوا اللہَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِہٖ شَـيْـــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَـنْۢبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝۰ۙ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُم (النساء۳۶)

تم سب اللہ کی بندگی کرو۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ  بنائو، ماں باپ کے ساتھ نیک برتائو کرو۔ قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئو اور پڑوسی رشتہ دار سے،اجنبی ہمسایہ سے۔ پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں۔ احسان کا معاملہ رکھو۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جو شخص میرے کسی امتی کو خوش کرنے کی نیت سے اس کی کوئی حاجت پوری کرتا ہے وہ مجھے خوش کرتاہے او جو مجھے خوش کرتا ہے وہ اللہ کو راضی کرتاہے اور جو اللہ کو راضی کرتاہے اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔

سلام کرنا: دودلوں کو جوڑنے والی چیز سلام ہے۔ سلام کے ذریعے ایک فرد دوسرے فرد کورحمتوسلامتی کی دعا دیتا ہے۔ اس سے محبت والفت پیدا ہوتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتاہے وَاِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّۃٍ فَحَــيُوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَآ اَوْ رُدُّوْھَا(النساء۸۶)

اور جب تمہیں سلام کیا جائے  تو ا س سے بہتر سلام کہو یا اسی کے مانند جواب دو۔

تم ہرگز جنت میں داخل نہ ہوگے یہاں تک کہ مومن ہوجائو اور مومن اس وقت تک نہ ہگے جب تک باہم محبت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز کا پتہ نہ دوں جس کو اختیار کرکے تم باہم محبت کرنے لگو تو وہ یہ ہے کہ آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔(مسلم)

جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے ت واسے سلام کرے پھر اگر ان دونوں کے درمیان کوئی درخت دیوار، پتھر یا کوئی آڑ آجائے اور پھر ملے تو پھر سلام کرے۔

سلام ایک ایسا عمل ہے جس سے بندہ اپنے رب سے قریب تر ہوجاتا ہے۔(ابوداؤد)

لوگوں میں اللہ کی رحمت سے زیادہ قریب وہ ہے جو سلام میں پہل کرے(ابوداؤد ،ترمذی)

خوشی اور غم میںشریک ہونا۔ (قرابت دار ہوں یا اجنبی مسلم ہو یا غیر مسلم)

اللہ تعالیٰ سلام کا حکم دیا ہے ارشاد ہے فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ تَحِيَّۃً مِّنْ عِنْدِ اللہِ مُبٰرَكَۃً طَيِّبَۃً(سورہ نور ۶۱)

آپؐ نے سلام کرنے کے عمل کو بہتر اسلام قرار دیاہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا اسلام بہتر ہے ؟فرمایا کھانا کھلانا، ہرشخص کو سلام کرنا،تم اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو(جامع ترمذی)

لوگو سلام پھیلاؤاور کھانا کھلاؤ اور صلہ رحمی کرو اور رات کو نماز پڑھو جب لوگ سورہے ہوں تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجائوگے۔

نرم واچھی گفتگو: زبان جسم کا بہت ہی نازک عضو ہے مگر بڑی قیمتی ہے۔ اور  بڑا ہی اہم رول اداکرنے والا عضو ہے۔ دوافراد اورسماج میں پیار ومحبت  یا عزت پیدا کرنے وفضا  ساز گلو کرنے میںاس کا کردار مسلم ہے۔ یہ دو دلوں کو قریب کرنے اور اس کا غلط استعمال دو دلوں کو دور کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس کے غلط استعمال سے سماج میں بہت سے فتنہ پیدا ہوجاتے ہیں۔ او رخود فرد کو اللہ سے قریب کرنے اور دم کرنے میں بھی اس کا رول بہت ہی اہم ہے۔

اسی لئے اسلام میں زبان کو ٹھیک طور پر استعمال کی بار بار تاکید فرماتاہے

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہےوَقُلْ لِّعِبَادِيْ يَـقُوْلُوا الَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ (بنی اسرائیل۵۳)

اور میرے بندوں سے کہو کہ وہ بات کہیں جو احسن ہو

اور لوگوں سے اچھی بات کہووَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْـنًا(بقرۃ۸۳)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھی اور میٹھی بات بھی ایک صدقہ ہے(بخاری)

اسی کے ساتھ اسلام نے فحش گوئی،بد زبانی سے روکا ہے اور اس کو گناہ کا عمل بتایا ہے اور اللہ سے دور کردینے والا عمل بتایا ہے ۔ مسلم کو گالی دینا فسق ہے۔(بخاری)قیامت کے روز درجہ کے اعتبار سے بدترین اسنان وہ ہوگا جس کی فحش کلامی کے ڈر سے لوگ اس سے دور دور رہیں۔ (بخاری)بد زمانی او رلفاظی نقاق کے دوشعبے ہیں۔(ترمذی)

مسلمان وہ ہے جس کی زبان او رجس کے ہاتھ کی ایذا وتکلیف سے تمام مسلمان محفوظ ہیں۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے مسلمانو! تم میں سب سے اچھے وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں اور جو تواضع اور فروتنی سے جھکے جاتے ہیں وار تم میں سے سب سے برے وہ لوگ ہیں جو بدزبان اور بدگو اور دریدہ دہن ہوں(البیہقی فی شعب الایمان)

اکتوبر 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau