محبت، خوف اور حسن بندگی

انسانی شخصیت پر روزہ اور قرآن کے عظیم اثرات

محمد عبد اللہ جاوید

ماہ رمضان کی عظمت نزول قرآن کی وجہ سے ہے اور روزوں کا اہتمام، اسی ماہ عظمت کے شایان شان، اہل ایمان کا اظہار تشکر ہے۔ روزوں سے تقوی پیدا ہوتا ہے اور قرآن مجید سے راہنمائی تقوی کی بدولت ملتی ہے  رمضان المبارک میں ان اہم امور کی بار بار یاد دہانی ہوتی رہتی ہے۔ گویا قرآن اور روزوں کے یہ سہ رخی پہلو مقاصدِ رمضان کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ یہ سہ رخی پہلو زندگی میں تقوی و پرہیزگاری کی آبیاری کے تمام انتظامات اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔

روزے کے ذریعے تقوی پیدا ہونے کا مطلب ان کیفیات اور احساسات کا مکمل شعور حاصل ہونا ہے جن کے تحت ایک روزے دار دن بھر مختلف نیک اعمال انجام دیتا ہے اور برا‏ئیوں سے دور رہتا ہے۔ اس کا نہایت توجہ اور انہماک کے ساتھ عبادات کا اہتمام کرنا، معاملات میں شفافیت کا لحاظ رکھنا، چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بھی بچے رہنا، اس کے باطن میں موجود تقوی کا پتہ دیتا ہے۔

اس تقوی میں خدا سے محبت اور خوف دونوں ہی پہلو شامل ہیں۔ تقوی صرف خوفِ خدا اس لیے نہیں ہوسکتا ہے کہ جن اہل ایمان کے اندر اس کی افزائش ہوتی ہے ان کے دل اللہ کی شدید محبت سے مامور ہوتے ہیں  (وَالَّذِینَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ سورہ البقرہ: ۱۶۵)۔ یعنی جن بندوں کے دل میں خدا کی بے پناہ محبت ہے، وہی اس سے بے پناہ خوف بھی کھا سکتے ہیں۔

محبت اور خوف، انسانی احساسات اور جذبات کے دوپہلو ہیں جو ایک دوسرے سے اسی طرح وابستہ ہیں جیسے ایک سکے کے دو رخ ہوتے ہیں۔ نہ محبت، خوف سے جدا ہوسکتی ہے اور نہ خوف محبت کے بغیر مطلوب ومقصود ہوسکتا ہے۔ اس لیے رجوع الی اللہ کی ترغیب بھی انھیں امور کے پیش نظر کی گئی کہ محبت اور خوف کے ملے جلے جذبات کے ذریعے خدا کو پکارا جائے اور اس کی طرف لپکا جائے  (سورہ الاعراف: ۶۵،سورہ الرعد: ۲۱اورسورہ السجدہ: ۶۱) گڑ گڑاتے ہوئے بھی اور چپکے چپکے بھی اس کے حضور اپنی منتیں اور سماجتیں پیش کی جائیں  (ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْیةً سورہ الاعراف: ۵۵)۔ لہذا ایمان سے مراد اس محبت کے ہیں جس میں خوف کا ایک پہلو مضمر ہوتا ہے اور اس خوف کے بھی ہیں جو اس محبت کے شدید ہونے کی بنا پر پیدا ہوتا ہے۔ بندہ مومن کی یہ دعا اسی حقیقت کی ترجمان ہے جس میں محبت اور خوف کے جذبات کا حسین امتزاج موجود ہے،رسول اللہﷺنےوہ دعا اس طرح تلقین فرمائی ہے:

اللَّهُمَّ إنِّی أَعُوذُ بكَ مِن زَوالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحَوُّلِ عافِیتِكَ، وَفُجاءَةِ نِقْمَتِكَ، وَجَمِیعِ سَخَطِكَ.  (مسلم)

اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں تیری دی ہوئی نعمت کے زائل ہونے سے اور تیری عافیت کے چھن جانے سے اور تیری اچانک پکڑ سے اور تیرے ہر قسم کے غصے سے۔

  (1) تقوی اور محبت کا پہلو

اب تقوی کا محبت والا پہلو دیکھیے کس طرح ایک روزے دار بھوک و پیاس کی شدت برداشت کرتے ہوئے اور آرام و سکون کو تج کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نیک کام انجام دیتا ہے؟ وقت پر واجبی ضروریات پوری نہ ہونے پر بھی اس کے کسی معاملہ میں کوئی فرق نہیں آتا؟ عام دنوں میں کوئی ضرورت پوری نہ ہو تو غصہ اور بے قابو ہونا ایک عام بات ہوسکتی ہے لیکن روزہ ہونے کی وجہ سے اب اس کی کوئی گنجائش ہی باقی نہیں رہی۔ ان سب کے پیچھے اصل محرک اللہ کی محبت نہیں تو اور کیا ہے؟ اور تو اور چاہے نماز اور روزہ ہو یا زکوۃ وصدقات، کسی بھی عمل کا مادی اجر فوری ملنے کی کوئی امید بھی نہیں ہوتی، اس کے باوجود اللہ کی محبت کی بنا پر ایک بندہ مومن صابر و شاکر بن کرخوشی خوشی یہ نیک اعمال انجام دیتا ہے۔ رب کی محبت ہی وہ حقیقی محرک ہے جو بندے کو اخلاص کے ساتھ سرگرم عمل رکھتا ہے۔ قرآن مجید میں نیک بندوں کے اعمال کا اسی محبت کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے۔ وہ مستحقین کی بے غرض اور بے لوث خدمت صرف اللہ کی محبت کی وجہ سے کرتے ہیں۔  (إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ سورہ الانسان: ۹)۔ لوگوں پر بے دریغ دولت لٹانے کی بات ہو اس کے لیے بھی اللہ کی محبت ترغیب کا ذریعہ بنتی ہے  (وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ سورہ البقرہ: ۷۷۱)۔

ان بے لوث اعمال کی انجام دہی کی بنا پر بندے کوایمان کا وہ مقام حاصل ہوتا ہے جس میں اللہ کی محبت کے سوا بقیہ تمام حاجتیں اور تعلقات کوئی معنی نہیں رکھتے۔ اس کو فکر لاحق ہوتی ہے تو بس اس کی کہ رب راضی ہوجائے۔ اس کی زبان سے بے اختیار یہ الفاظ ادا ہوتے ہیں:  اے اللہ ایسا کردے کہ تیری محبت مجھے اپنی جان، اہل و عیال اور ٹھنڈے پانی کی چاہتے سے بڑھ کر ہوجائے  (اللَّهمَّ اجعَلْ حبَّكَ أحبَّ إلی من نَفسی وأَهلی ومنَ الماءِ الباردِ- ترمذی) اور یہ بھی کہ اے پروردگار ایسا کردے کہ مجھےتیری محبت تمام چیزوں کی محبتوں سے بڑھ کرہوجائے  (اللهم اجعلْ حُبَّكَ أَحَبَّ الأشیاءِ إلَی – ترمذی)۔ غرض روزے کی حالت اوراس میں انجام پانے والی تمام عبادتوں کا ایک زوردار محرک اللہ تعالیٰ کی محبت ہوتی ہے۔

  (2) تقوی اور خوف کا پہلو

اب روزے میں خوف کے پہلو پر غور کیجیے۔ روزے کے دوران قدرت رکھنے کے باوجود ایک روزے دار کا ان سب کاموں سے بچنا، جن سے روزے کے ٹوٹنے یا مکروہ ہونے کے امکانات ہوتے ہیں، کس لیے ممکن ہوتا ہے؟ کیا یہ اللہ کے خوف کے علاوہ کسی اور بات سے ممکن ہے؟ وضو کے دوران پانی کی چند بوندوں کو منہ سے حلق کے نیچے اترنے کے لیے لمحوں سے بھی کم وقت درکار ہوتا ہے، لیکن کیا مجال کہ اس قدر کم فاصلے اور اس قدر چھوٹے وقت کے لیے بھی خدا کی نافرمانی ہوجائے؟ خود اس کے علاوہ کسی کو یہ معلوم نہیں ہوسکتا ہے کہ اس کے حلق کے نیچے پانی کی کتنی بوندیں اترگئی ہیں؟ ایسا موقع ملنے کے باوجود بھی کسی شخص کا اپنے آپ کو روکے رکھنا کیا یہ واضح نہیں کرتا کہ اس کو خدا کے علیم و بصیر ہونے اور اس کی گرفت کے انتہائی سخت ہونے کا شدید احساس ہے؟ یہ محبت آمیز خوف ہی ہے جو بندے کو ناپسندیدہ کاموں سے اس لیے روکے رکھتا ہے کہ کہیں رب ناراض نہ ہوجائے، کہیں اعمال ضائع نہ ہوجائیں اور کہیں رب کا عذاب اچانک گھیر نہ لے۔

یہی خوف تقوی کے ایک اعلی معیار کے لیے دھیرے دھیرے راہیں ہم وار کرتا جاتا ہے۔ جب دل کو خدا کا خوف لاحق ہو تو بندہ پھر کسی اور خوف کی پروا نہیں کرتا بلکہ اس کی دلی تمنا تو یوں ظاہر ہوتی ہے کہ اے اللہ ایسا کردے کہ مجھے تیرا خوف ہر طرح کے خوف سے بڑھ کر ہوجائے  (وَاجْعَلْ خَشْیتَكَ اَخْوَفَ الْاَشْیاءِ عِنْدِیْ- ترمذی)۔اوریہ بھی کہ اے اللہ ہمیں تیرے خوف اور خشیت کا اتنا حصہ عنایت فرما جو ہمارے اور تیری نافرمانیوں کے درمیان ایک زبردست پردہ بن کر حائل ہوجائے  (اَللّٰھُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْیتِكَ مَا تَحُوْلُ بِهٖ بَینَنَا وَبَینَ مَعْصِیتِكَ – ترمذی)۔

  (3) تقوی اور حسن بندگی

روزے دار کو محبت اور خوف  (تقوی) کی یہ دو بیش بہا خوبیاں میسر آتی ہیں جن کی بنا پر اس کا ہر عمل انتہائی حسین و جمیل ہوجاتا ہے۔ اوراس کی شخصیت جاذب نظر بن جاتی ہے۔ والدین کو بچے، بیوی کو شوہر، اعزہ و اقارب کو اہل خاندان، محلے والوں کو اپنے پڑوسی اور گاہکوں کو اپنے دکاندار اچھے لگنے لگتے ہیں۔ اور ایسا کیوں نہ ہو؟ جب بندے کی دلی آرزو یہ ہو کہ محبتوں میں سب سے بڑھ کر اللہ کی محبت ہو اور ہر طرح کے خوف سے بڑھ کر اللہ کا خوف ہو تو پھر اس کا اخلاقی وجود ایمانی عزیمت کے اعلی معیار پر قائم ہو ہی جاتا ہے۔ محبت اور خوف کے یہ اعلی جذبات اس کی پسند و ناپسند کو، اللہ کی پسند و ناپسند سے مکمل ہم آہنگ کردیتے ہیں۔ اور اس کے دل کی صدا یہ ہوتی ہے کہ اے اللہ جب تو نے دنیا والوں کو دنیا کی چیزیں دے کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی کردی ہیں تو میری آنکھیں اپنی عبادت کے ذریعے ٹھنڈی کردے  (وَاِذَا اَقْرَرْتَ اَعْینَ اَهْلَ الدُّنْیا مِنْ دُنْیاهُمْ، فَاَقْرِرْ عَینِیْ مِنْ عِبَادَتِكَ- ترمذی)۔

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ یہ تقوی دراصل تمام اعمال کو خوب صورتی بخش دیتا ہے  (فَاِنَّهُ اَزینُ لِاَمرِكَ کُلِّهٖ- مشکوۃ) اور فرمایا کہ یہ تقوی تمہارے ہر اعمال کا سرا ہے  (فانّه رأس الأمر کلّه- مشکوۃ)، یعنی وہ مقام ہے جہاں سے عمل بڑا خوش نما دکھائی دیتا ہے۔ روزے دار میں حسن بندگی کے یہ خوش نما پہلو محبت و خوف کے ملے جلے جذبات کے ساتھ منکشف ہوتے رہتے ہیں۔ وہ وہی ہوتا ہے جو چند دنوں پہلے تھا، لیکن اب اس کا عمل ویسا نہیں ہوتا جیسا پہلے تھا۔ اس کی عبادات میں خشوع و خضوع کی گہرائی اور یکسوئی پہلے سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت بھی پہلے جیسی وقتی نہیں رہتی بلکہ اس میں بڑا ہی گہرا شغف اور استقلال پیدا ہوتا ہے۔ اس کی گفتگو پہلے جیسی غیر محتاط نہیں ہوتی بلکہ اس کی زبان سے ہر لفظ پورے شعور کے ساتھ ادا ہوتا ہے۔ اس کے معاملات اور تعلقات میں نرمی و احتیاط پہلے سے کہیں زیادہ درآتی ہے۔ یہ ہیں کردار کے وہ جلوے جو تقوی کے ظاہری و باطنی پہلوؤں کی بنا پر پہلے سے کہیں زیادہ حسین و جمیل معلوم ہوتے ہیں۔

کسی عمل سے اگر اللہ سے محبت یا خوف کا پہلو نکال دیں، تو وہ عمل بے جان اور بے رونق نظر آئے گا۔ اس کی وقعت اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوگی کہ بس ایک وقتی عمل ہے جو انجام پاگیا، نہ کرنے والے پر اس کا کوئی اثر اور نہ ہی اجر کے لحاظ سے اس کا کوئی مقام ہوتا ہے۔

حسن بندگی اور محبت فاتح عالم

ان سب کے علاوہ حسن بندگی کا ایک اور دل کش پہلو ہے۔ وہ یہ کہ جب اعمال بڑے حسن و خوب صورتی سے انجام پانے لگتے ہیں تو عمل کرنے والے کی شخصیت از خود ترغیب کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ وہ تو خود نیک رہتا ہی ہے لیکن اس کے اطراف کا ماحول بھی اس کی نیکی میں رنگنے لگتا ہے۔ کسی فرد کی اخلاقی بلندی کا یہ عالم ہو کہ وہ جہاں رہتا ہو وہاں نیکی سے محبت اور بدی سے بے زاری کا ایک عام ماحول فروغ پائے۔ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے کہ تم میں سب سے اچھے وہ ہیں کہ جنھیں دیکھے سے اللہ یاد آجائے  (خیاركم الذین إذا رُؤوا ذُكرالله- مسند احمد)۔ یعنی بندہ مومن کی شخصیت ایسی ہو کہ جس کا خوفِ خدا، لوگوں میں خدا کا خوف پیدا کردے اور جس کی خدا سے محبت، دوسرے لگوں میں اس محبت کے فروغ کا ذریعہ بن جائے۔ کسی کو دیکھے سے اللہ تعالیٰ یاد آنے کے معنی یہی ہوں گے کہ اس کو دیکھ کر اچھے کاموں سے رکے رہنا کسی کو گوارہ نہ ہو۔ اوراگر کوئی برے کام میں ملوث ہو تو اس کو دیکھ کر اس کام سے رکے رہنے میں اسے ذرہ برابر بھی تامل نہ ہو۔

حسن بندگی اور رب کا دیدار و ملاقات

حسن بندگی کا سب سے اونچا سرا وہ خاص ذہنی وقلبی کیفیت ہے جو رب کے دیدار اور اس سے ملاقات کے شوق سے ظاہر ہوتی ہے۔ رب کا دیدار اور اس سے ملاقات کا شوق، بندہ مومن کی وہ انتہا درجہ کی ایمانی و اخلاقی قوت ہے جو اس کو اخلاص وللہیت اور صبر واستقلال کے ساتھ اعمال صالحہ انجام دینے سے میسر آتی ہے۔ رب سے ملاقات کے شوق کے دو حقیقی محرک ہیں۔ اول، اللہ کی نعمتوں کا احساس۔ جس قدر شعور کے ساتھ اللہ کی نعمتوں کا استعمال ہوگا، بندہ، اپنے رب سے اتنا ہی قریب ہوتا جائے گا۔ اس لیے رسول اللہﷺنے بشارت دی کہ جو بندہ کھانا کھانے اورپانی پینے کے بعد الحمد للہ کہتا ہے، اللہ اس سے راضی ہوجاتا ہے۔ دوم یہ کہ نعمتوں کا ختم ہونا دلوں میں یہ احساس زندہ کرتا ہے کہ نعمتیں چاہے کیسی ہی کیوں نہ ہوں اور فرد چاہے کیسا ہی صاحب استطاعت کیوں نہ ہو، رب کی عطا اور بخشش ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی بلکہ وہ ختم ہوجاتی ہے۔ اس حقیقت سے یہ شعور پختہ ہوجاتا ہے کہ جس منعم حقیقی نے نعمتوں سے سرفراز فرمایا تھا وہ اپنی تمام تر نعمتوں اور کرامات کے ساتھ باقی رہنے والا ہے۔  (مَا عِنْدَكُمْ ینْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّهِ بَاقٍ – سورہ النحل: ۹۶) لہذا رب کے دیدار کا شوق اور اس سے ملنے کی تمنا، بندہ مومن کی زندگی میں سانسوں کی طرح رچ بس جاتی ہے۔ اس کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ بار بار بس یہی التجاکرتا جائے کہ: اے اللہ میں تجھ سے تیرے دیدار کی لذت اور تیری ملاقات کا شوق مانگتا ہوں۔  (اللّٰھُمَّ اَسْأَلُكَ لَذَّۃَ النَّظَرِ اِلٰی وَجْھِكَ وَالشَّوْقِ اِلٰی لِقَاءِكَ –   نسائی)۔

اور تواور رب سے ملاقات کے شوق کے آگے اس کے لیے ہر طرح کی ضروریات کا پورا ہونا بھی کوئی معنی نہیں رکھتا، بلکہ وہ تو کہتا ہے کہ اے اللہ تجھ سے ملاقات کا شوق مجھے اس قدر ہو کہ جس کی وجہ سے دنیا کی حاجتوں اور ضرورتوں کا احساس تک میرے اندر باقی نہ رہے  (وَاقْطَعْ عَنِّی حَاجَاتِ الدُّنْیا بِالشَّوْقِ اِلٰی لِقَاءِكَ –  ترمذی)۔

روزے دار کو، تقوی کے حوالے سے یہ تین خوبیاں میسر آتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی محبت کا احساس، اس سے خوف کھانے والا دل اورنتیجتاً ہر عمل کو حسن وخوب صورتی سے انجام دینے کا جذبہ اورسلیقہ۔ اللہ تعالیٰ سے محبت اور خوف کی کیفیات کو مزید جلا بخشنے کے لیے قرآن مجید حرکت وعمل  (حسن بندگی) کی ایک بڑی ہی دل کش اور دل نواز دنیا پیش کرتا ہے۔ اس کتاب سے متقی لوگوں کے ہدایت حاصل کرنے کے معنی یہی ہیں کہ محبت و خوف کے ملے جلے جذبات اور حرکت و عمل کا پیکر بننے کے عزم کے ساتھ قرآن مجید سے ہدایت حاصل کی جائے۔ ماہ رمضان اور اس کے بعد کی زندگی، تقوی کی زندگی ہو اس کے لیے روزے دار کو چاہیے کہ وہ انھیں خوبیوں کے ساتھ قرآن مجید سے اپنے تعلق کو مستحکم کرنے کی کوشش کرے۔

ان تینوں خوبیوں کے ساتھ ساری زندگی گزارنا دراصل وہ کمال ہے جس تک پہنچنے کی ہر روزے دار کی کوشش ہونی چاہیے۔ کمال تک پہنچنے کی یہ کوشش قرآن مجید سے گہرے تعلق کی ایک اہم بنیاد ہو، پھر متذکرہ خوبیوں کو پروان چڑھانے کی غرض سے اس کا گہرا مطالعہ، آیات پرتدبر اور تسلسل کے ساتھ عمل کا اہتمام بھی ہو۔

قرآن اور احساس محبت

پہلی خوبی، احساس محبت کو لیجیے۔ روزے کے دوران اللہ تعالیٰ کی محبت کا کثرت سے اظہار ہوتا رہتا ہے۔ روزے دار کی شب و روز کی عبادات اور معاملات اسی محبت کا عکس ہوا کرتے ہیں۔ اس محبت کی تازگی اوراس کا ہمیشہ باقی رہنا قرآن مجید سے ایک خاص قسم کا ربط و تعلق چاہتا ہے۔ جب محبت کے اس پہلو کے ساتھ قرآن مجید کا مطالعہ ہو تو ضرور دل کو یہ تجربہ ہوگا کہ یہ کتاب محبت کی انتہائی دل کش اوردل موہ لینے والی دنیا پیش کرتی ہے۔ اس کا آغاز رب ذوالجلال والاکرام کی ذات بابرکت کے انتہائی حسین وجمیل تعارف سے ہوتا ہے۔ وہ سراپا رحمت ومحبت، جود و کرم اور اعلی مرتبت ہستی ہے جو اپنی ذات میں آپ محمود اور بندوں کے لیے انتہائی شفیق و مہربان ہے۔

محبت کے تناور درخت کا اگنا، تعارف ہی کے بیج سے ممکن ہوتا ہے۔ بغیر تعارف کے اجنبیت کے پردے، محبت کی راہ میں زبردست رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ اس لیے قرآن مجید اللہ کا تعارف مختلف جہتوں اور زاویوں سے کراتا ہے، ان میں سے چند کی طرف ذیل میں اشارہ کیا جائے گا:

رب کی بابرکت ذات کا تعارف

  • وہ اللہ ہی کی ہستی ہے جس کی طاقت سب سے بالاتر اور جس کی حکمت نظامِ عالم میں کارفرما ہے۔)سورہ آل عمران: ۶۲ )۔
  • اسی کے لیے حمد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔  (سورہ القصص: ۷۰)۔
  • اللہ تمہارا رب ہے ہر چیز کا خالق، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔  (سورہ المومن: ۶۲)۔
  • وہی ہے جس نے سورج کو اجیالا بنایا اور چاند کو چمک دی اور اس کے لیے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو۔  (سورہ یونس: ۵)۔
  • وہی ایک آسمان میں بھی خدا ہے اور زمین میں بھی خدا ہے۔  (سورہ الزخرف: ۸۴) ..وغیرہ
  • رب کی صفات کو قرآن مجید ہمارے سامنے اس تاکید کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ انھی کے ذریعے اس کو پکارنا چاہیے۔ ایک ایک صفت، رب کی عظیم ہستی کے بڑے ہی دل کش پہلو ظاہر کرتی ہے
  • اس کے سوا کوئی تمہاری خبر گیری کرنے والا اور تمہاری مدد کرنے والا نہیں۔  (سورہ البقرہ: ۱۰۷)۔
  • یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے حق میں نہایت شفیق اور رحیم ہے۔  (سورہ البقرۃ: ۱۴۳)۔
  • یقینا اللہ سب حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے۔  (سورہ النساء: ۱۱)
  • بڑی برکت والا ہے تیرے رب جلیل و کریم کا نام۔  (سورہ الرحمن: ۷۸)۔
  • وہی اوّل بھی ہے اور آخر بھی، اور ظاہر بھی ہے اور مخفی بھی اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔  (سورہ الحدید: ۳)۔ ..وغیرہ
  • رب کے کمالات اور کرشموں کے دل نشین ذکر سے قرآن مجید ہمارے دل موہ لیتا ہے
  • وہی آسمان کو اس طرح تھامے ہوئے ہے کہ اس کے اذن کے بغیر وہ زمین پر نہیں گرتا۔  (سورہ الحج: ۶۵)۔
  • اللہ ہی نے تمہارے لیے یہ مویشی جانور بنائے ہیں تاکہ ان میں سے کسی پر تم سوار ہو اور کسی کا گوشت کھاؤ۔  (سورہ المومن: ۷۹)۔
  • وہی ہے جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا تاکہ تم ان کی پشت پر چڑھو۔  (سورہ الزخرف: ۱۲)۔
  • وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔  (سورہ الحدید: ۶)۔
  • کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارے کنوؤں کا پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو اس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں تمھیں نکال کر لادے گا؟  (سورہ الملک: ۳۰) ..وغیرہ
  • یہ کتاب رب کے عظیم احسانات اور نعمتوں کے ذریعے اس کی عظمت وجلال کو پیش کرتی ہے
  • وہ اللہ ہی ہے جو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جیسی چاہتا ہے بناتا ہے۔  (سورہ آل عمران: ۶)۔
  • کشتی کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے اوردریاؤں کو تمہارے لیے مسخر کیا۔  (سورہ ابراہیم: ۳۲)۔
  • وہی آسمان کو اس طرح تھامے ہوئے ہے کہ اس کے اذن کے بغیر وہ زمین پر نہیں گرتا۔  (سورہ الحج: ۶۵)۔
  • کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے، اللہ ان کو رزق دیتا ہے اور تمہارا رازق بھی وہی ہے۔  (سورہ العنکبوت: ۶۰)۔
  • وہی ہے جس نے تمہارے لیے اس زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنادیے تاکہ تم اپنی منزل مقصود کی راہ پاسکو۔  (سورہ الزخرف: ۱۰) ..وغیرہ

قرآن دنیا میں آنے والی انتہائی برگزیدہ ہستیوں کی زندگیاں پیش کرتا ہے جو اپنے رب سے بے پناہ تعلق کویہ کہہ کرواضح فرماتے ہیں کہ میرا اجر تو ربّ العالمین کے ذمّہ ہے  (إِنْ أَجْرِیَ إِلَّا عَلَی رَبِّ الْعَالَمِیْنَ…سورہ الشعراء: ۱۰۹) اور مخاطبین کو اے میری قوم کے لوگو کہہ کر ان سے محبت وخیر خواہی کے جذبات ظاہر فرماتے ہیں۔ حضرات انبیاء علیھم السلام کی زندگیوں کے تعلق باللہ اور تعلق بالخلق کے پہلو قرآن مجید مختلف انداز سے واضح کرتا ہے۔ یوں تو جابجا ان کا ذکر ملتا ہے تاہم سورہ ھود، سورہ مریم، سورہ الشعراء اور سورہ الصافات وغیرہ کا بطور خاص مطالعہ مفید رہے گا۔

اس تسلسل کوبرقرار رکھتے ہوئے قرآن مجید ایمان کامل اور ایمان مجمل کی ایک لازمی شرط کے طور پر محبت کوپیش کرتے ہوئے اعلان کرتا ہے کہ ایمان لانے والے نہ صرف سب سے بڑھ کراللہ تعالیٰ سے شدید محبت کرتے ہیں بلکہ ان کی یہ محبت حبیب خداﷺ کے لیے بھی اسی تسلسل کے ساتھ قائم و دائم رہتی ہے  (فَاتَّبِعُونِی یحْبِبْكُمُ اللَّهُ  سورہ آل عمران: ۳۱)۔ یہ دونوں محبتیں ان کی ایمانی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔ان کے پیش نظر نبی ﷺ کا یہ فرمان ہوتا ہے کہ ایمان کی تکمیل کے لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت دنیا کی تمام چیزوں سے بڑھ کر ہونی چاہیے۔  (مَنْ کَانَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُهُ أَحَبُّ إِلَیْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا…مسلم)۔

آخر میں قرآن مجید اس محبت کو ان تمام اعمال کا اصل محرک بتاتا ہے جو اللہ واسطے انجام دیے جاتے ہیں، جن کا ذکر اوپر گزرچکا ہے  محبت آمیز اعمال اپنی کیفیت اور کمیت کے لحاظ سے بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ حتی کہ یہ محبت، رب کی رضا کے لیے ساری زندگی ہی لٹا دینے کا محرک بن جاتی ہے۔  (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یشْرِی نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللَّهِ سورہ البقرہ: ۲۰۷)۔ جب اہل ایمان ایسی محبت کے ساتھ استقلال سے عمل صالح انجام دیتے ہیں تو بدلے میں خدائے رحمن لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے عزت و تکریم اور دلی محبت کے جذبات ودیعت فرمادیتا ہے۔  (…سَیجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا سورہ مریم: ۹۶)۔ لوگوں کے دلوں کو جیتنے اور ان کی محبتوں کو پانے کا بس یہی ایک صحیح اور سچا طریقہ ہے اس کے علاوہ کوئی اور نہیں۔ فی زمانہ قیادت کے نام پر جو نمود و نمائش اورہر طرح کے مکر و فریب سے کام لیا جاتا ہے وہ وقتی کام یابی کا تو ذریعہ بن سکتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوسکتا کہ عوام اپنے ان نام نہاد قائدین کو دل سے چاہیں اور ان کی زندگیوں کو اپنے لیے آئیڈیل مانیں۔

اللہ واسطے سے ہوکر بندوں کے دلوں تک پہنچنے والی یہ محبت ہی وہ معیار ہے جس پر کھرا اترتے ہوئے قومیں سربلند ہوتی ہیں۔ جن افراد کی زندگیاں اللہ کی محبت کی آئینہ دار ہوں، ان کے اعمال کا عکس نہ صرف ان کے اپنے زمانے میں بلکہ بعد کے لیے بھی اپنے انمٹ نقوش چھوڑجاتا ہے اور یہ حقیقت واضح کرجاتا ہے کہ ماضی اور حال کا ہر عمل یا واقعہ روشن تاریخ نہیں بنتا جب تک کہ اس کو انجام دیتے ہوئے انتہائی اخلاص، دیانت داری اور فرض شناسی سے اللہ کی محبت کا ثبوت نہ دیا جائے۔

امت محمدیہ ﷺ کے لیے سیدنا ابراہیم اور ان کے اہل وعیال کی زندگیوں کو آئیڈیل اس لیے بتایا گیا کہ ان کی زندگیاں اللہ تعالیٰ کی محبت کی مجسم رہیں  (قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِی إِبْرَاهِیمَ وَالَّذِینَ مَعَهُ…سورہ الممتحنہ: ۴)۔ قرآن مجید اعلان کرتا ہے کہ سیدنا ابراہیم اور سیدنا اسماعیل کی قربانی یاد گاراس لیے رہی کہ انھوں نے احسان کی روش اختیار کی تھی  لہذا صاف صاف واضح کردیا کہ:

وَتَرَكْنَا عَلَیهِ فِی الآخِرِینَ ۔سَلامٌ عَلَى إِبْرَاهِیمَ۔كَذَلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ

ابراہیمؑ کی تعریف و توصیف ہمیشہ کے لیے بعد کی نسلوں میں چھوڑ دی۔ سلام ہے ابراہیمؑ پر۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔  (سورہ الصافات: ۱۰۸ تا۱۱۰)۔

یوں قرآن مجید میں اللہ کی محبت کے فاتح عالم ہونے کی حقیقت پر تصدیق کی خدائی مہر ثبت کردی گئی۔

اگر کسی زمانے میں رہنے بسنے والے افراد ملت صبر واستقلال اور اعمال صالحہ کے ذریعے اللہ سے ایسی محبت کا ثبوت نہ دیں توپھر اللہ تعالی کوئی دوسری قوم لے آئے گا وہ اس سے محبت کرے گی اوراللہ بھی اس سے محبت کرے گا۔  (سورہ المائدہ: ۵۴)۔

گویا روزہ اور تقوی کے ذریعے رب کریم ہمارے اندر اپنی وہ لازوال محبت پیدا فرماتا ہے جس سے نہ صرف چند دن بلکہ ساری زندگی صراط مستقیم پر گزرے، ہر عمل دنیا و آخرت میں عزت و سربلندی کا ذریعہ بنے۔ اور بحیثیت مجمومی افراد ملت زمانہ میں اپنے انمٹ تاریخی نقوش چھوڑنے میں کام یاب ہوں۔ روزوں سے حاصل ہونے والے تقوی کے لیے اللہ کی محبت کا یہ پہلو، اس کی تمام کیفیات کا مکمل شعور اور انھیں باقی رکھنے کا عزم اگرہدف بن جائے تو بقیہ زندگی، تقوی کی زندگی ہو…یہ عین ممکن ہے۔

قرآن مجید اور اللہ کا خوف

اہل ایمان کے لیے اللہ کا خوف، محبت ہی کا ایک پہلو ہے جومختلف انداز سے ظاہر ہوتا ہے جب کہ عام انسانوں سے اللہ سے ڈرنے کا مطالبہ اس فطرت کی بنا پر کیا گیا ہے جس پر ان کی تخلیق کی گئی ہے۔ ہر انسان کی سرشت میں خدا کی عظمت وجلالت اور اس کی بزرگی و تقدس ودیعت کردی گئی ہے۔ عام انسانوں سے اسی فطری حقیقت کے پیش نظر خدا سے ڈرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ چناں چہ قرآن مجید میں کہا گیا کہ خدا سے اسی طرح خوف کرنا چاہیے جیسا کہ اس سے خوف کرنے کا حق ہے۔ یعنی خوف ایسا جو دنیا کے ہر قسم کے خوف اور تحفظات سے بڑھ کر ہو، ہر قسم کے نقصانات اور خدشات سے بالاتر ہو۔ دنیا کے مختلف مقامات پر مختلف زمانوں میں آنے والے پیغمبروں اور رسولوں نے اپنی قوم سے اسی خوف خدا کا مطالبہ کیا ہے جو نفس پرستی، خدا بے زاری، بے راہ روی اور تمام تر شرکیہ اعمال سے ایک طرح سے برأت کا اعلان رہا۔ اس لیے تقریباً تمام ہی پیغمبروں اور رسولوں کی دعوت کا مشترک کلمہ —’’اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارے لیے کوئی معبُود نہیں ہے، کیا تم اس سے ڈرتے نہیں ہو؟‘‘ —رہا ہے۔ (سورہ المومنون: ۲۳)۔

اہل ایمان سے خوف خدا کا مطالبہ، اس کی عظمت وہیبت کے علاوہ ان تمام کیفیات کے پیش نظر کیا گیا ہے جن سے اللہ سے محبت، اور ان کے دلوں میں موجود اس کی بزرگی و جلال کا تصور ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی اللہ کے بندے اللہ سے ڈرتے ہیں اس لیے کہ وہ:

  • سچے ایمان والے ہیں۔  (سورہ المائدہ: ۵)۔
  • عقل والے ہیں۔  (سورہ المائدہ: ۱۰۰)۔
  • اس کو ایمان کا تقاضا سمجھتے ہیں۔  (سورہ التوبہ: ۱۱۹)۔

اس کے علاوہ اہل ایمان کے اللہ سے ڈرنے کی مختلف کیفیات میں سے چند یہ ہیں:

عذاب آخرت کا خوف۔  (سورہ ھود: ۱۰۳)۔ اللہ تعالیٰ کی وعید سے خوف۔  (سورہ ابراھیم: ۱۴)۔ اللہ کے سامنے کھڑے رہنے کا خوف۔  (سورہ النازعات: ۰۴)۔ رب کی نافرمانی کا خوف۔  (سورہ الانعام: ۱۵)۔ بے دیکھے رحمان سے ڈرنا۔  (سورہ یس: ۱۱)۔ اللہ سے ڈرنا جیسے ڈرنےکا حق ہے۔  (سورہ التوبہ: ۲ ۱)۔ اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور اس کے سامنے اعمال پیش ہونے کا ڈر۔  (سورہ البقرہ: ۳ ۲۲)۔ اس بات سے ڈرنا کہ اللہ تعالیٰ کوہر چیز کا علم ہے۔  (سورہ البقرہ: ۲۳۱)۔ رب کے حضور پیش ہونے کے یقین کے ساتھ نافرمانی سے ڈرنا۔  (سورہ المائدہ: ۸۸)۔ معاملات میں آسانی کے لیے اللہ کا ڈر اختیار کرنا۔  (سورہ الطلاق: ۵)۔ وغیرہ۔

رب کے خوف کے ایک ہمہ گیر تصور کے ساتھ گزرنے والی زندگی، سراسراخلاص اورعمل پرمبنی زندگی ہوتی ہے۔ اللہ سے ڈر کا یہ پہلو، اس سے ملاقات کا انتہائی گہرا یقین ظاہر کرتا ہے۔کسی کا نیک بنے رہنا اور نیک روش پر صبر واستقلال کے ساتھ چلتے رہنا، رب کاخوف اور رب سے ملاقات کے گہرے یقین کی بڑی واضح دلیل ہے۔  (فَمَنْ كَانَ یرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْیعْمَلْ عَمَلا صَالِحًا سورہ الکہف: ۱۱۰)۔

رب سے محبت اور خوف کی ملی جلی کیفیات، جنھیں قرآن نے خوف و طمع اور رغبت ورہبت سے بھی تعبیر کیا ہے، فرد کی زندگی کو تقوی کی زندگی میں ڈھال دیتی ہیں۔

قرآن مجید اور حسن بندگی

اللہ کی محبت اور خوف کے مثالی اوصاف کی بنا پر اہل ایمان کی زندگی میں رونما ہونے والی تبدیلیاں بندگی رب کے بڑے ہی دل کش نمونے پیش کرتی ہیں۔ یوں کہیے کہ قرآن مجید محبت اور خوف کے انسانی زندگی پر اثرات، بندگی کے انتہائی خوب صورت طریقوں کے ذریعے واضح کرتا ہے۔ یعنی اہل ایمان کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت، ان کی عبادات میں خشوع و خضوع، ان کے ذکر و اذکار میں گریہ وزاری، ان کی دعاؤں میں دلجمعی و یقین، ان کی گفتگو میں نرمی و متانت، ان کے معاملات میں شفافیت، ان کی انسانوں سے خیر خواہی… یوں معلوم ہوتا ہے حسن بندگی کے ان تمام مظاہر سے کبھی ان کے دلوں میں موجود اللہ کی محبت تو کبھی اس کا خوف جھلک رہا ہے۔ اور وہ مثالی بندگی کی آئینہ دار زندگی کے امین ہیں۔

یوں تو قرآن مجید میں بندگی کے مختلف پہلوؤں پر بڑی تفصیلات موجود ہیں، لیکن ہم یہاں مختصرا محبت اور خوف کے حوالے سے ان اعمال صالحہ کا ذکر کریں گے، جن سے حسن بندگی کے مختلف پہلو واضح ہوتے ہیں:

اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے نماز قائم کرنا آسان ہے۔  (سورہ البقرہ: ۴۵)۔ اللہ کی محبت دن رات اسے پکارنے اور اس کی خوشنودی کے لیے تگ ودو کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔  (سورہ المائدہ: ۵۲)۔ اللہ کی رضا پیش نظر ہو تو جان لڑادینا آسان ہوجاتا ہے۔  (سورہ البقرہ: ۲۰۷)۔ اللہ کا ڈر شیطان کی اکساہٹوں سے پناہ چاہنے کا محرک بنتا ہے۔  (سورہ المومنون: ۹۷)۔ برائی اورظلم سے بچنا اللہ کے خوف ہی سے ممکن ہے۔  (سورہ النساء: ۱۱)۔ اللہ سے محبت اللہ پر توکل کا محرک بنتی ہے۔  (سورہ ھود: ۶ ۵)۔ اللہ سے محبت شرک سے بچنے کا ذریعہ ہے۔  (سورہ الکہف: ۳۸)۔ اللہ کا خوف اللہ سے مزید ڈرنے کا محرک ہوتا ہے۔  (سورہ التوبہ: ۱۳)۔ اللہ کی سخت گرفت کا خوف اس کے حضور گڑگڑانے کا سبب بنتا ہے۔  (سورہ ھود: ۴۷)۔ اللہ سے خوف اللہ سے امید کی راہ ہم وار کرتا ہے۔  (سورہ الشعراء: ۸۲)۔ اللہ سے محبت غم سے نجات دلاتی ہے۔  (سورہ التوبہ: ۴۰)۔ اللہ تعالیٰ کی محبت ہر طرح کے خوف سے محفوظ رہنے کا سبب بنتی ہے۔  (سورہ طہ: ۴۶)۔ اللہ سے محبت اللہ سے التجا کا ذریعہ بنتی ہے۔  (سورہ النساء: ۷۵)۔ اللہ سے محبت حق کی سربلندی کے لیے عزم وحوصلہ پیدا کرتی ہے۔  (سورہ النساء: ۷ ۸)۔ رب سے محبت رب سے امید کا سبب بنتی ہے۔  (سورہ الصافات: ۹۹)۔ اللہ کی محبت مال خرچ کرنے کا محرک بنتی ہے۔  (سورہ الروم: ۹۳)۔ اللہ کی محبت مایوسی سے بچاتی ہے۔  (سورہ مریم: ۴)۔ رب کا خوف رب سے مغفرت طلب کرنے کی ترغیب دلاتاہے۔  (سورہ القصص: ۱۶)۔ رب سے محبت مال سے محبت کی وجہ بنتی ہے۔  (سورہ ص: ۲ ۳)۔ اللہ سے محبت صبر سے کام لینے کا محرک ہے۔  (سورہ الطور: ۴۸)۔

تقوی کے ان ظاہری اور باطنی پہلوؤں میں سے اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کا خوف اور نتیجتا سراپا اخلاص و عمل پر مبنی زندگی… وہ بیش بہا نعمتیں ہیں جو ہر روزے دار کو رب کریم کی جانب سے عطا ہوتی ہیں۔ ان نعمتوں کا شعور، ماہ رمضان کی رحمتوں اور برکتوں سے دامن بھرلینے کا محرک بنتا ہے۔ اور اگر حقیقی معنوں میں ان نعمتوں کا ادراک ہوجائے توبعید نہیں  ساری زندگی ہی مومنانہ زندگی میں تبدیل ہوجائے۔ پھردینا، لینا، منع کرنا، محبت کرنا اورکسی سے دشمنی کرنا، سب کا سب اللہ ہی کی خاطر ہوجاتا ہے۔ تقوی کے ذریعے ایمان کی تکمیل کے مراحل ایہی سے طے ہوتے ہیں۔  (مَنْ اَحَبَّ لِلّٰہِ وَاَبْغَضَ لِلّٰہِ وَاَعْطٰی لِلّٰہِ وَمَنَعَ لِلّٰہِ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ الْاِیْمَانَ۔ بخاری ومسلم)۔

اپریل 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau