مقصد سے عشق ،اصولوں پر یقین

صدر الدین اصلاحی مرحوم

کسی خاص اور اہم مقصد کی علم بردار جماعت کی زندگی اس بات پر موقوف ہے کہ اس کی نگاہ اپنے مقصد اور نصب العین پر اچھی طرح جمی رہے۔ اور مقصدکا نصب العین پر نگاہ جما رہنا اس بات پر موقوف ہے کہ اس مقصد تک پہنچنے کے لیے جو اصول ہیںانہیں یہ جماعت دل و جان سے عزیز رکھتی ہو۔ اگر اس کے افراد میں اپنے مقصد کا گہرا عشق اور اپنے اصول کا گہرا یقین موجود ہو تو موت اس کو آنکھیں نہیں دکھا سکتی۔ یہ عشق ویقین اس بات کی ضمانت ہے کہ اس جماعت سے عزت واقبال منہ نہیں موڑ سکتے اور پھر اسی عشق ویقین کا یہ لازمی اور فطری تقاضاہے کہ جماعت کا اجتماعی نظم ونسق اس کے اپنے ہاتھوں میں ہو۔ وہ ایک لمحے کے لیے بھی اس صورت حال کو برداشت نہیں کر سکتی کہ کوئی ایسا اجتماعی نظم اس پر مسلط ہو جو اس کے محبوب اصولوں پر تعمیر نہ کیا گیا ہو اور اگر سوئے اتفاق اس پر کبھی ایسے دن آ ہی پڑے تو اس کا ایک ایک فرد اس مچھلی کی طرح بے قرار ہو رہے گا جس کو پانی سے نکال کر خشکی پر ڈال دیا گیا ہو، اور اپنے مقصد، اپنے اصول اور اپنے نظام حیات کی محبت اسے موت کی بازی کھیلنے پر مجبور کر دے گی۔ وہ رائج الوقت نظام کے خلاف سراپا اضطراب بن جائے گا، اور اس کے ساتھ کسی قسم کے اختیاری تعاون یا مداہنت کا تصور تک اس کے لیے ناقابل برداشت ہوگا۔ کیوں کہ وہ جانتا ہوگا کہ میری انفرادی اور جماعتی زندگی کا تشخص جن اصولوں سے قائم ہے ان کا اسی نظام قاہر نے گلا گھونٹ رکھا ہے۔ یہ اضطراب ، سکون سے اسی وقت بدل سکے گا جب کہ وہ اس نظام غیر کی دھجیاں بکھیر چکا ہوگا۔

فریضہ اقامت دین

نومبر 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau