ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

وحید الدین سلیم

پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ اسکالر ڈاکٹرمحمود احمد غازی کے انتقال کی اطلاع ٹیلی فون پر ملی۔ ۶۲ستمبر کو عین فجر کے وقت غازی صاحب پر دل کاشدید دورہ پڑا اور اس سے جانبر نہ ہوسکے۔ اُن کی رحلت نہ صرف پاکستان کے لیے بل کہ ساری دنیاے علم و فکر کے لیے ایک سانحہ عظیم سے کم نہیں۔

جب میں پہلی مرتبہ اسلام آباد پہنچا تو وہ دعوۃ اکاڈمی انٹرنیشنل اِسلامی یونیورسٹی کے سربراہِ اعلیٰ تھے۔ ان کا دفتر مسجد فیصل کامپلکس میں تھا۔ ہر جمعہ کو اُن کا وہاں خطاب ہواکرتاتھا۔ اس وقت میرا قیام مختصر تھا، چنانچہ ڈاکٹر صاحب سے رابطہ قائم نہ ہوسکا۔ حسن اتفاق سے اس کے دو سال بعد ۴۹۹۱ میں مجھے پھر اسلام آباد کا سفردرپیش ہوا۔ اِس بار قیام بھی طویل تھا۔ اُس زمانے میں ڈاکٹر رضی الدین صدیقی حیدرآبادی علیہ رحمۃ بھی اسلام آباد میں موجود تھے۔ اس قیام کے دوران میں نماز جمعہ مسجد فیصل میں ادا کیاکرتاتھا اور غازی صاحب کے خطاب سے فیض یاب ہواکرتا۔ ایک دن اُن سے باقاعدہ ملاقات ہوگئی ۔مرحوم دل کے فیاض تھے، چنانچہ اُن کی مجھ پر نوازشات کا سلسلہ شروع ہوا۔ اُنہوں نے اپنی اکاڈمی کی بہت سی قیمتی مطبوعات مجھے عنایت فرمائیں۔

۲۰۰۵؁ میں لاہور اور اسلام آباد جانے کا موقع ملا اور اُس وقت مسجد فیصل سے بہت قریب مرگلہ پہاڑی کے دامن میں کویت گیسٹ ہاؤز میں قیام کاانتظام تھا۔ ڈاکٹر غازی کا دفتر پہلے کی طرح مسجد فیصل کامپلکس ہی میں تھا۔ ڈاکٹر صاحب اُس وقت انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے پریسی ڈینٹتھے۔ سابقہ روابط کی بنیادپر ایک دن میں اُن کے دفتر پر اچانک جاپہنچا۔ ڈاکٹر صاحب ابھی دفتر پر نہیں پہنچے تھے۔ میں نے کاغذکے ایک ٹکڑے پر اپنا نام لکھ کر اُن کے خادم کے حوالے کردیااور ایک دوسرے شعبے میں جابیٹھا۔ اُن کے اجلاس پر ملنے والوں کا ہجوم اُن کا منتظر تھا۔ مجھے یہ اندیشہ ہواکہ ڈاکٹر صاحب کاآج ملنا تو دشوار ہے لیکن ساڑھے بارہ بجے اُن کے دفتر کاایک آدمی میری تلاش میں نکلا اور مجھ تک آپہنچا۔اُس نے بتایاکہ صاحب انتظار کررہے ہیں۔ میں اُس آدمی کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کے اجلاس پر جاپہنچا۔ اُنہوں نے مجھے فوراً اپنے اجلاس پر بلالیا۔ چائے کا دور چلا، اس کے بعد دنیا کے مسائل پر گفتگو شروع ہوئی۔ ڈاکٹر غازی کاعلم ، ادب، سیاست اور معاشرت جس مسئلے پر گفتگو کرتے اُن کی رائے بالکل واضح ہوتی تھی۔ ایک موقع پر میں نے عرض کیاکہ غازی ضاحب آج کل ساری دنیا سے تحمل اُٹھتاجارہاہے تو انھوںنے برجستہ کہاکہ مسلمانوں میںسب سے زیادہ تحمل کی کمی واقع ہورہی ہے۔ یہ گفتگو دن کی کمی واقع ہورہی ہے۔ اُن کے اجلاس کا دروازہ کھلااور منتظرین اُن سے رجوع ہورہے تھے۔ وقت تو اُن کے پاس تھا ہی نہیں لیکن ایک دُور افتادہ حیدرآبادی مسافر کا انھوںنے جس طرح لحاظ رکھا، یہ انھی کی شرافت تھی ۔

ڈاکٹر محمود احمدغازی ایک صاحبِ سیرت انسان اور بلند پایہ عالم تھے۔ اُن سے مختلف علمی موضوعات پر خط و کتابت ہوتی رہتی تھی۔ خط کا جواب لکھنے میں وہ بہت باقاعدہ تھے۔ وہ ہندوستان کے سفر کی تمنا رکھتے تھے لیکن افسوس ہے کہ انھیں اس کا موقع نہ ملا۔ڈاکٹر صاحب کی تازہ کتاب ’’عصر حاضر اور شریعت اسلامی‘‘ کے عنوان پر انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے شائع کی ہے۔ ڈسٹ کور پر اُن کی خدمات کی جو تفصیل درج ہے میں اُس کو یہاں نقل کررہاہوں:

‘ڈاکٹر محموداحمدغازی انتقال سے قبل تک قطر فاؤنڈیشن ، فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز میں شریعہ کے پروفیسر کے عہدے پر فائز تھے۔ اس سے پہلے آپ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آبادکے صدر، پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی اُمور ﴿اگست ۲۰۰۰ تا اگست ۲۰۰۲﴾، نیشنل سیکورٹی کونسل حکومتِ پاکستان کے رکن ﴿۱۹۹-۲۰۰﴾، شریعہ جپیلیٹ بورڈ سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج ﴿۱۹۹۸-۱۹۹۹﴾، اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن، شریعہ اکاڈمی اور دعوۃ اکاڈمی اسلامی یونیورسٹی کے ڈائرکٹر جنرل، فیصل مسجد اسلام آباد کے خطیب، مؤقر جریدہ ‘‘فکرو نظر’’ کے مدیر رہے۔ شریعہ بورڈ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے چیئرمین تھے﴿۲۰۰۳ تا حال﴾ بہت سے پیشہ ورانہ اور علمی اداروں کی انتظامی اور علمی مجالس کے ممبر اور مشیر رہے، جن میں چند اہم نام یہ ہیں: عرب اکاڈمی شام، ابن رشد اسلامک یونیورسٹی اسپین، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد، بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد، فیڈرل شریعت کورٹ آف پاکستان، اسٹیٹ آف پاکستان، بینک آف خیبر، تکافل پاکستان۔

ڈاکٹر غازی اسلامی قانون اور فرقہ پر گہری نظر رکھنے والے ایسے چند اسکالرز میں سے تھے جو عصرحاضرمیں درپیش مسائل سے عہد برآ ہونے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ آپ ۲۳ کتب اور ۱۰۰ سے زیادہ مقالات کے مصنف ہیں۔ پاکستان اور بیرون ملک ہونے والی ۱۰۰سے زائد بین الاقوامی علمی کانفرنسوں میں شرکت کرچکے تھے۔ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کی نیشنل اکاڈمک کونسل کے رکن تھے۔ آپ کی تصانیف میں محاضراتِ قرآن، محاضرات حدیث، محاضرات فقہ، محاضرات سیرتﷺاور اسلام کا قانونِ بین المسالک قبولیت عام حاصل کرچکی ہیں۔’

ڈاکٹرمحمود احمد غازی نے ’’عصر حاضر اور شریعت اسلامی‘‘کے موضوع پر جو خطبات دیے تھے، اُن کی تعداد آٹھ ﴿۸﴾ ہے۔ ہر خطبے کے لیے ایک فاضل شخصیت کی صدارت طے کی گئی تھی۔ خطبے کے اختتام پر سوال وجواب کاسلسلہ کچھ دیر چلتارہتاتھا۔ چنانچہ پانچواں خطبہ ’’اسلامی شریعت‘‘ مسلم معاشرہ’’ ملکی وانتظامی اُمور اور بین الانسانی معاملات‘‘ کے موضوع پر منعقد ہوا۔ اختتام پر ایک سوال یہ کیاگیاکہ ‘‘آج ایک مکمل اسلامی ریاست قائم کرنے کا سب سے آسان اور عملی طریقہ کیاہے؟’’ ڈاکٹر غازی نے جواب دیا:

’’اس کا سب سے آسان طریقہ دعوت و تبلیغ اور راے عامہ کی تیاری ہے۔ مسلمان ممالک میں جتنی مضبوط اور وسیع راے عامہ اسلامی ریاست کے حق میں ہوگی، اُتنی ہی جلدی اسلامی ریاست قائم ہوگی۔ نہ صرف عامۃ الناس اس بارے میں شدیدغفلت کاشکار رہے ہیں۔ بل کہ اہل علم نے بھی ان کی مناسب راہ نمائی اور تربیت میں خاصی کوتاہی کی ہے۔ اگراسلامی ریاست عامۃ الناس کامسئلہ نہ ہو، عام لوگ اس سے الگ تھلگ رہیں اور کچھ محدود لوگ اسے اپنا مسئلہ قرار دے کر محدود انداز سے کام کرنے پراکتفا کریں تو اسلامی ریاست قائم نہیں ہوگی۔ اس کانتیجہ یہ نکلے گا کہ جو لوگ اس کام کے لیے اُٹھیں گے وہ اپنی محدود اور عامۃ الناس کی عدم دلچسپی اور عدم شرکت کی وجہ سے امت سے الگ سمجھے جائیں گے اور اسلامی ریاست کا مسئلہ اُن کا گروہی مسئلہ قرار دے دیاجائے گاکہ یہ فلاں گروہ یا فلاں صاحب کامسئلہ ہے۔ لیکن اگر پوری امت کی راے عامہ مکمل طورپر بیدار ہو اور پورے ملک کا یا مسلم اقوام کا یہ مسئلہ ہوتو پھر اسے کسی طبقے کامسئلہ قرار دے کر نظرانداز کردینا دشوار ہوجائے گا۔‘‘ عصر حاضر اور شریعت اسلامی صفحہ:۲۱۴-۲۱۵

موجودہ حالات میں محموداحمدغازیؒ  کے اِس پیغامِ دانشورانہ کو امت مسلمہ کے غورو فکر کا مرکز بن جاناچاہیے۔ ابھی اسلامی دنیا کو اُن سے بڑی توقعات تھیں۔

جنوری 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau