شورائیت کے آداب

ڈاکٹر محمد رفعت

اجتماعی معاملات میں اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ فیصلے، مشورے سے کیے جائیں۔ اس ہدایت کا ماخذ سورہ شوریٰ کا یہ فقرہ ہے:

وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰى بَيْنَہُمْ۝۰۠  (شوریٰ: ۳۸)

’’یعنی اہلِ ایمان، اپنے کام باہم مشورے سے انجام دیتے ہیں۔‘‘

شورائیت، اسلام کی پیش کردہ اہم اقدار میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ اجتماعی زندگی کے فائدے اسی وقت حاصل ہوتے ہیں، جب اسلامی تعلیمات کو ملحوظ رکھا جائے۔ چنانچہ شورائیت کا اہتمام، اجتماعیت کو استحکام بخشنا ہے اور افراد کے باہمی تعلقات کو خوش گوار بنانا ہے۔ اس کے برعکس، اگر شورائیت کے تقاضے پورے نہ کیے جائیں تو افراد گھٹن محسوس کرتے ہیں اور اجتماعی فرائض کی انجام دہی مشکل ہوجاتی ہے۔ شورائیت کی قدر کو عملی جامہ پہنانا، اسلام کی تعلیم کا تقاضا ہے اور انسانی تجربہ بھی یہ سبق دیتا ہے کہ اجتماعی امور کے فیصلے شورائیت پر مبنی ہوں۔

آداب:

شورائیت کے عمل کو مؤثر، مفید اور نتیجہ خیر بنانے کے لیے، شورائیت کے آداب کی طرف توجہ ضروری ہے۔ ان آداب کو شورائیت کی اخلاقیات سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ شورائیت کے آداب یہ ہیں: اخلاص، رجوع الی اللہ، فکری اساس کی درستگی، تقویٰ، دیانت، تدبر و خوض، شائستگی اور تکریم انسانیت۔ ان اخلاقیات کا شعور نہ ہو ، ان کے تقاضے واضح نہ ہوں یا ان کا استحضار نہ ہو تو شورائیت کا عمل، محض ایک رسمی کارروائی بن سکتا ہے اور اُس کے فائدے محدود یا معدوم ہوجاتے ہیں۔ امتِ مسلمہ کی اصلاح کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اُمت کی اجتماعی زندگی میں شورائیت کی قدر، جلوہ فرما نظر آئے اور اس کے اجتماعی ادارے، شورائیت کا اہتمام کریں۔ ضوابط کے تحت ترتیب دی گئی مجالس شوریٰ کی کارروائیوں کے علاوہ اجتماعی فضا میں غیر رسمی مشوروں کی بھی گنجائش ہو اور اُن کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اُمتِ مسلمہ کی موجودہ کیفیت ہمیں احتساب اور تلافی کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

اخلاص:

ہر نیک عمل میں اخلاص مطلوب ہے یعنی نیکی، اللہ کی رضا کے حصول کے لیے انجام دی جانی چاہیے۔ جب افراد، کسی اہم معاملے کے سلسلے میں مشورے کے لیے جمع ہوں تو فرداً فرداً اُن سب کو اخلاص کا اہتمام کرنا چاہیے یعنی وہ جو کچھ کہیں وہ اس لیے ہو کہ انہیں اللہ کو راضی کرنا ہے۔ مشورے کے موقع پر جن باتوں کی یاد دہانی کرائی جائے اُن میں اخلاص کی تلقین مناسب ہے۔ فطری طور پر انسان ایک دوسرے سے متاثر ہوتے ہیں۔ انسانوں کا اجتماع، کسی نہ کسی اجتماعی رجحان یا مزاج کا حامل ہوتا ہے اور افراد کو اس مزاج کے مطابق فکر و عمل اپنانے کی خاموش ترغیب دیتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ یہ اجتماعی مزاج ہر صورت میں حق اور راستی کا عکاس ہو۔ اس لیے افراد کی ذمہ داری ہے کہ اللہ سے اپنے تعلق کو تازہ کریں اور تازہ رکھیں تاکہ وہ اجتماعی کیفیت سے بلند ہوکر، حق کو پہچان سکیں۔ عقل کی یہ راست روی اُسی وقت ممکن ہے جب قلب میں صرف اللہ کی رضا جوئی کا جذبہ موجزن ہو اور انسانوں کے ممکن ردِ عمل سے قلب بے نیاز ہو۔ افراد، اخلاص کی اس کیفیت کے حصول کی کوشش کریں تو توقع کی جاسکتی ہے کہ اللہ کی توفیق سے ان کے باہمی مشاورت، صحیح نتیجے تک پہنچے گی۔

رجوع الی اللہ:

اخلاص کا تقاضاہے کہ انسان، اللہ کی طرف رجوع کرے اور اس سے صحیح فہم و ادراک اور مؤثر قوتِ اظہار کا طالب ہو۔ اجتماعی امور میں مشوروں کے دائرے میں عموماً وہ تدابیر شامل ہوتی ہیں جو منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سوچی جاتی ہیں۔ اسلامی مزاج یہ ہے کہ ضروری تدابیر سوچنے اور ان پر عمل کرنے کے ساتھ، اہلِ ایمان اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کریں کہ وہ تدابیر کو نتیجہ خیز، مؤثر اور مفید بنائے۔ تدابیر پر عمل سے قبل، خود سوچنے اور مشورہ کرنے کے مرحلے میں بھی اللہ کی طرف رجوع کا اہتمام ضروری ہے۔ اس کی عملی شکل یہ ہے کہ مشورے کے لیے جمع ہونے والے، اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ زیرِ بحث معاملے میں امرِ حق اُن کو صحیح صحیح نظر آجائے اور وہ تدابیر سوجھ جائیں جو پیشِ نظر مقصد کے لیے مناسب ہوں۔ یہ واقعہ ہے کہ انسان کی عملی مساعی کی طرح اُس کے فکر کی پرواز بھی محدود ہوتی ہے۔ وہ معاملے کے ہر پہلو پر ضروری توجہ نہیں کرپاتا، معلومات کو باہم ترتیب دینے میں کامیاب نہیں ہوتا یا صحیح نتائج اخذ کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ مسئلہ واضح بھی ہوجائے تو حل سمجھ میں نہیں آتا۔ فہم و ادراک کی منزلیں طے ہوجائیں تب بھی اظہارِ خیال کے لیے موزوں الفاظ نہیں ملتے۔یہ ساری مشکلات حل کرنے کے لیے اللہ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ جب مخلص افراد، محض اللہ کی رضا کے لیے جمع ہوں اور اپنی کوشش کے ساتھ، اللہ سے دعا بھی کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ اللہ اُن کی رہنمائی نہ کرے۔

وَالَّذِيْنَ جَاہَدُوْا فِيْنَا لَنَہْدِيَنَّہُمْ سُبُلَنَاۭ وَاِنَّ اللہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَۧ (العنکبوت:۶۹)

’’اور جو لوگ ہمارے لیے جدوجہد کریں گے، ہم ضرور اُن کو اپنی راہیں دکھائیں گے۔ بیشک اللہ نیکو کاروں کے ساتھ ہے۔‘‘

درست فکری اساس:

جب لوگ مشورے کے لیے جمع ہوں تو اُن کی رایوں میں اختلاف کا ہونا فطری بات ہے۔ افراد کے ذوق اور مزاج مختلف ہوتے ہیں۔ زیرِ بحث معاملے میں اُن کی معلومات کا یکساں ہونا لازم نہیں اور ہر شخص ذہنی صلاحیتوں کے اعتبار سے مساوی درجے پر نہیں ہوتا۔ ان اسباب کی بنا پر رائیں مختلف ہوجاتی ہیں۔ اختلاف کے نکات متعین ہوجانے کے بعد شرکائے مشاورت کو رایوں کے اس تنوع سے استفادہ کرتے ہوئے کوشش کرنی چاہیے کہ زیرِ بحث معاملے کے تمام پہلو اُن کی گرفت میں آجائیں۔ اختلافِ آراء کی افادیت یہی ہے کہ اس کے ذریعے، زیرِ گفتگو موضوع کے تمام گوشے روشنی میں آجاتے ہیں اور ایسے نتائج اخذ کرنا ممکن ہوجاتا ہے جن میں ہر گوشے کی رعایت کی گئی ہو۔

تاہم بحث و گفتگو اور موضوع کے جامع فہم کے حصول کے بعد، تدابیر سوچنے اور ان پر متحد الخیال ہونے کے لیے درست اساس اور کسوٹی کی ضرورت ہے۔ اسلام کے نزدیک، قرآن و سنت یہ کسوٹی فراہم کرتے ہیں۔ مشورہ پیش کرتے ہوئے، ہر شریکِ مجلس کو دیکھنا چاہیے کہ اُس کی تجاویز قرآن و سنت کی پابند ہوں۔ ہر شریکِ مجلس کے علاوہ پوری مجلس کو بھی اس کا اہتمام کرنا چاہیے کہ اُس کے فیصلے، قرآن و سنت کی حدود سے تجاوز نہ کریں۔ انسانوں نے محض تجربے سے مشورے کا جو سبق سیکھا ہے، وہ مشورے کا ایسا طرز سکھاتا ہے جو الٰہی ہدایت کا پابند نہیں ہوتا۔ ایسے مشورے انسانوں کو تباہی کی طرف لے جاسکتے ہیں۔ اس طرز کے برعکس، اسلام مشورے کے عمل کو اسلامی آداب کا پابند رکھتا ہے اور مشورے کے نتائج کو اسلامی حدود کا تابع بناتا ہے۔

تقویٰ:

اُصولاً ہر مسلمان یہ مانتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ قرآن و سنت، منبعِ ہدایت ہیں اور اُمتِ مسلمہ کے فکر و عمل کی اساس ہیں۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ اصول یاد رہے اور اس اصول کو اختیار کرتے ہوئے، مشورہ کرنے والے اہلِ ایمان ایسے فیصلے کرسکیں جو قرآن و سنت کی تعلیم کے مطابق ہوں۔ مبنی برہدایت، فیصلوں تک پہنچنے کے لیے عقلی و عملی تربیت و کاوش کے علاوہ قلب کی تربیت اور احساسِ ذمہ داری بھی درکار ہے۔ ان کیفیات کو تقویٰ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ جو اہلِ ایمان، اللہ کا تقویٰ اختیار کریں، اُن کے بارے میں توقع کی جاسکتی ہے کہ اللہ انہیں بصیرت عطا کرے گا، جو درست فیصلوں کی طرف اُن کی رہنمائی کرے گی۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوا اللہَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْۭ وَاللہُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ  (انفال:۲۹)

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو گے تو وہ تمہیں فرقان (حق و باطل میں فرق کرنے والی کسوٹی) عطا کرے گا اور تمہاری برائیاں تم سے دور کردے گا اور تمہاری مغفرت فرمائے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔‘‘

تقویٰ  کا تقاضا یہ بھی ہے کہ مجلسِ مشاورت میں سنجیدگی کے ساتھ شرکت کی جائے اور بلااجازت وہاں سے نہ اٹھا جائے:

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاِذَا كَانُوْا مَعَہٗ عَلٰٓي اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ يَذْہَبُوْا حَتّٰى يَسْتَاْذِنُوْہُ۝۰ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ۝۰ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِہِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْہُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَہُمُ اللہَ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۶۲   (نور:۶۲)

’’مومن تو بس وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر پختہ ایمان رکھتے ہیں اور جب کسی اجتماعی معاملے کے سلسلے میں اُس کے ساتھ ہوتے ہیں تو بلا اجازت، چلے نہیں جاتے۔ جو لوگ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں، وہی لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس جب وہ اپنے کسی کام کے لیے اجازت چاہیں، تو ان میں سے جسے چاہو اجازت دے دیا کرو۔ اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کیا کرو۔ بیشک اللہ بہت معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔‘‘

دیانت:

امانت و دیانت، اہلِ ایمان کی اہم صفت ہے۔ غوروفکر اور اظہارِ خیال میں ایمانداری کی قدرکے معنی یہ ہیں کہ معلومات پر استدلال کی بنیاد رکھی جائے، محض قیاسات کی بنا پر نتائج اخذ نہ کیے جائیں۔ زیرِ بحث امر کے سلسلے میں واقعاتی اور اصولی پہلوؤں سے متعلق، تمام اہم باتیں، سوچنے والوں کے سامنے ہونی چاہئیں۔ دیانت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ معتبر معلومات کی فراہمی کا اہتمام کیا جائے۔ تمام ضروری پہلو سامنے آجانے کے بعد، نتائج اخذ کرنے کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں دیانت دارانہ رویہ یہ ہے کہ اپنے احساسات و جذبات سے بلند ہوکر، عقلی اسلوب کو استعمال کرتے ہوئے، نتائج تک پہنچا جائے۔

اظہارِ خیال میں دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ پیشِ نظر رایوں میں جو کچھ وزن موجود ہو اس کو تسلیم کرلیا جائے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دو متبادل رائیں، جزوی صداقت رکھتی ہیں یعنی یہ نادر صورت ہوتی ہے کہ ایک رائے بالکل بے وزن ہو اور دوسرے رائے میںکسی پہلو سے کمزوری نہ ہو۔جب واقعہ یہ ہے کہ تو دیانت اور مصالح کا منشا یہ ہوگا کہ ہر رائے کی حقیقی حیثیت کو تسلیم کیا جائے۔ تبھی یہ ممکن ہے کہ مشورہ کرنے والے، دو متصادم رایوں سے استفادہ کرکے کوئی تیسری شکل دریافت کرسکیں، جو دونوں ابتدائی رایوں سے بہتر ہو۔ دیانت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اگر زیرِبحث معاملے میں معلومات ناکافی ہوں اور فوری فیصلہ، ناگزیر نہ ہو تو معلومات کے حاصل ہونے تک غوروفکر اور فیصلے کو ملتوی کیا جائے۔ جو لوگ معاملات کے ذمہ دار ہوں، اُن کے لیے ضروری ہے کہ مشورہ کرنے والوں کو تمام حقائق سے واقف کرائیں اور کوئی اہم بات چھپا کر نہ رکھیں۔

تدبر:

حضرت معاذ بن جبلؓ سے نبی ﷺ کی گفتگو غوروتدبر کی اہمیت واضح کرتی ہے۔ آپ کے دریافت کرنے پر حضرت معاذؓ نے عرض کیا تھاکہ معاملات کا فیصلہ کرنے کے لیے وہ کتابِ الٰہی کی طرف رجوع کریں گے اور پھر سنتِ رسول کی طرف۔ ان دونوں بنیادی مراجع میں مسئلہ زیرِ بحث کا حل نہ مل سکے تو وہ خود غور کریں گے اور اس سلسلے میں پوری کاوش کریں گے، کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے۔ چنانچہ اہل ایمان کو چاہئے کہ سرسری غوروفکر پر اکتفا نہ کریں، بلکہ ذہن و دماغ کو یکسو کرکے تدبر و خوض کا حق ادا کریں۔ محنت، کاوش اور باریک بینی سے مومن کی فراست کو جلا ملتی ہے اور اُس کے استدلال سے استفادہ کرنے والے بھی اطمینان محسوس کرتے ہیں کہ مجلسِ مشاورت میں بصیرت سے کام لے کر نتائج اخذ کیے جارہے ہیں۔

کاروبارِ جہاں سنورتے ہیں

ہوش جب بے خودی سے ملتا ہے

شائستگی:

مشورے کی مجلس میں مخاطب کے دلائل پر نقد کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ بحث اور جوابی بحث کے ناخوشگوار اثرات بھی سننے والوں پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ ان امکانات کے پیشِ نظر، اسلامی مزاج تقاضا کرتا ہے کہ اجتماعی تبادلہ خیال میں زبان و الفاظ کو شائستہ رکھنے کا التزام کیا جائے۔ تہذیب اور اخلاق سے گرے ہوئے جملے یا اسالیب استعمال نہ کیے جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو جو جامع ہدایات دیں اُن میں یہ تلقین بھی تھی:

وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْـنًا  (البقرۃ: ۸۳)

’’اور لوگوں سے بھلی بات کہو۔‘‘

اگر مشورے کی مجلس میں ناگوار باتیں سامنے آجائیں تو درگزر سے کام لینا چاہیے:

الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِۭ وَاللہُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنۚ

(آل عمران: ۱۳۴)

’’(جنت کا وعدہ اُن لوگوں کے لیے ہے) جو خوش حالی اور تنگی، ہر حال میں خرچ کرتے رہتے ہیں، غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں۔ اور اللہ نیکو کاروں کو پسند کرتا ہے۔‘‘

تکریمِ انسانیت:

انسانی عزوشرف، ہر انسان کو حاصل ہے۔ پھر بنی آدم میں ایمان لانے والے زیادہ احترام کے مستحق ہیں۔ اُن میں بھی وہ لوگ محترم ہیں جو اہلِ ایمان کے معاملات کے ذمہ دار ہوں اور اجتماعی امور کی انجام دہی کے لیے باہم مشورہ کریں۔ ان اصحابِ شوریٰ کے احترام کا تقاضا ہے کہ ان کے اظہارِ خیال کو سنا جائے، دیے ہوئے وقت سے تجاوز نہ ہو تو اُن کی بات کاٹی نہ جائے، اُن کے پیش کردہ نکات پر غور کیا جائے، وہ معلومات چاہتے ہوں تو فراہم کی جائیں، اُن کی تنقید کو گوارا کیا جائے اور اُن کے مشوروں سے فائدہ اٹھایا جائے۔ مجالس کی اجتماعی فضا ایسی ہونی چاہیے کہ افراد آزادانہ رائے قائم کرسکیں اور اُن کا بے لاگ اظہار کرسکیں۔ لوگوں پر دباؤ ڈال کر، اُن کی زباں بندی کی اسلامی مزاج قطعاً اجازت نہیں دیتا۔

ممکن حد تک تمام مخلص اہلِ ایمان کو مشورے کے عمل میں شرکت کا (رسمی یا غیر رسمی، بلاواسطہ یا بالواسطہ) موقع ملنا چاہیے۔ مشوروں میں شریک کرنا بھی افراد کے اکرام کی ایک شکل ہے۔

فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنْتَ لَھُمْۚ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۠ فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَھُمْ وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللہِۭ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ۝    (آل عمران: ۱۵۹)

’’یہ اللہ کی رحمت ہے کہ (اے نبی) تم اُن (اہلِ ایمان) کے لیے نرم ہو۔ اگر کہیں تم ترش مزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ سب تمہارے پاس سے چھٹ جاتے۔ پس (جن اہلِ ایمان سے کچھ قصور ہوگئے ہوں) انہیں معاف کردو اور ان کے لیے (اللہ سے ) مغفرت کی دعا مانگو اور معاملات میں انہیں شریکِ مشورہ رکھو۔ پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہوجائے، تو اللہ پر توکل کرو۔ بیشک، اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘

اپریل 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau