تعدد ازدواج

مولانا نثار احمد سنابلی

نکاح انسان کی ضرورت ہے۔ اس سے چین و سکون، عفت وپاکدامنی،  اور عزو شرف کی فضا قائم ہوتی ہے۔ تجرد  ،بے کیفی وبے اطمینانی کی حالت ہے جن گروہوں نے  رہبانیت کا تجربہ کیا ہے وہ ان گنت برائیوں سے دوچار ہوئے نیز خاندانی نظام تہس نہس ہوکررہ گیا۔ نکاح کی افادیت مسلم ہے  اسلامی شریعت نے اسے انتہائی آسان وسادہ رکھا اورمادی ومعنوی اعتبار سے اس رشتہ کو نبھانے کے کی ترغیب دی۔ جاننا چاہیے کہ اگرکوئی شخص خانگی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے  ایک سے زائد ازواج کے حقوق کی ادائیگی کی صلاحیت اورخواہش پاتاہے تو اس سلسلہ میں اسلامی شریعت کا کیا حکم ہے؟

تعدد ازدواج تاریخ کے آئینہ میں

تاریخ  شاہد ہے کہ ہر قوم میں مَردوں نے  ایک سے زائد عورتوں کو اپنی رفیقۂ حیات بنایا ہے اس لئے کہ کثرت ازواج کا ہونا ایک معاشرتی،اجتماعی اورسیاسی ضرورت تھی۔  بہر حال خواتین حیض ونفاس کے ایام سے گزرتی ہیںجن میں مردوں کے لئے قربت کی ممانعت ہے۔ حادثات،جنگ وجدال  اورطلا ق کی بنیاد پر مردوں سے عورتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ اس لیے تعدد ازدواج کی ضرورت ہوتی ہے۔  عورت کا بانجھ پن  اولاد کی نعمت سے محرومی کا سبب ہوسکتاہے ایک مرد کا کسی خاتون کی دینداری،اخلاق یا حسن سے متاثر ہو سکتا ہے اورجائز صورت  نکاح  ہے بصورت دیگر وہ حرام کاری پر مجبور ہوگا،رشتۂ مصاہرت کے توسط سے دشمنوں کے دلوں میں جگہ بنا ئی جاسکتی ہے ۔ ابراہیم علیہ السلام کی تین،یعقوب علیہ السلام کی چار، موسی علیہ السلام کی چار،داؤد علیہ السلام کی نواورسلیمان علیہ السلام کی بہت سی بیویاں تھیں۔اسلام کی آمد سے قبل زمانۂ جاہلیت میں بھی ایک سے زائد شادی کا رواج تھا،اسلام نے آکر اس کی حد بندی کی اور اسے عدل وانصاف کی بنیادوں پر مضبوط ومستحکم بنایا اورمعاشرہ کی اس ناگزیر ضرورت پر خصوصی توجہ دی ۔

تعدد ازدواج اور اسلام

اسلام ساری انسانیت کے لیے رحمت کا پیامبر ہے اس کے اندرانسانی جذبات اوران کے فطری تقاضوں کا مکمل حل موجود ہے۔تعددازدواج کو شریعت اسلامیہ نے جائز رکھا ہے اور برکت ونعمت،سکون واطمینان کا سبب بنایا ہے  بشرطیکہ عدل وانصاف کیا جائے۔  فرمان باری تعالیٰ ہے:

وَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تُقْسِطُوْا فِیْ الْیَتَامٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَائِ  مَثْنٰی وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْْمَانُکُمْ ذٰلِکَ أَدْنٰی أَلاَّ تَعُوْلُوْا۔ (النساء:۳)

’’اگر تمہیں ڈرہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرکے انصاف قائم نہ رکھ سکوگے توعورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کرلو۔دودو،تین تین اورچارچار سے لیکن اگرتمہیں ناانصافی کا خوف ہوتو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی،یہ زیادہ قریب ہے کہ تم ایک طرف جھک کر ناانصافی کرنے سے بچ جاؤ۔‘‘

آیت بالا میں تعدد ازدواج کو عدل وانصاف کے ساتھ مشروط  قراردیا گیاہے ہر بیوی کے لئے  علاحدہ مکان،عرف عام کے مطابق حسب حاجت وضرورت فراہم کرنا چاہیے۔نان ونفقہ، لباس وپوشاک اوردیگر گھریلو وذاتی ضرورت کے سازوسا  ما ن مہیا ہوں۔ باری کے انتخاب میں احساسات وجذبات کا پورا پاس ولحاظ ہو۔ ہر طرح کے بھیدبھاؤ  سے کلی اجتناب کیا جائے۔ایسا کرنے سے اخروی سعادت کے ساتھ  دنیوی سعادت کے مستحق قرارپائیں گے تعدد ازدواج کو مصیبت سمجھنے کے بجائے اصحاب حاجت وضرورت اسے ایک شرعی گنجائش کے طور پر استعمال کریں گے ہندوستان کے اندر پائے جانے والے عمومی رجحانات کے مطابق کوئی شخص دوسری بیوی سے کلی وابستگی اورپہلی کو الگ تھلگ رکھتا ہے تو یہ غلط ہے۔  اس کے بچوں کو معلق چھوڑ دیتاہے،  نان ونفقہ کی ذمہ داری حق زوجیت کی ادائیگی نہیں کرتاہے تو یادرہے کہ اللہ حساب لے گا۔ اگر ازواج کے مابین عدل وانصاف نہیں کیا گیا،  ایک کی طرف کلی میلان اوردوسرے سے مکمل یا نیم بائیکاٹ کیا گیا تو دنیا میں زحمت کے ساتھ آخرت میں وہ اپنے جسم کے نصف حصہ سے مفلوج ہوکر اٹھایا جائے گاجوعلامت ہوگی کہ یہ شخص اپنی بیویوں کے مابین منصف نہیں تھا۔فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

’’جس کے پاس دوبیویاں ہوں اوروہ کسی ایک کی طرف مائل ہوتاہے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے جسم کا نصف حصہ گرا ہوا ہوگا۔‘‘

تعدد ازدواج کی حکمتیں

دین اسلام اللہ رب العالمین کا اتارا ہوا سچا مذہب ہے، اس رب کی ایک   صفت’’حکیم‘‘ہے اس کے  احکام وفرامین حکمت ودانائی کو اپنے جلومیں سموئے ہوئے ہیں اگرچہ ہم اپنی ناقص عقل اورناعاقبت اندیشی کی بنیاد پر اس کی یافت نہ کرسکیں البتہ غوروفکر کے  چند حکمتیں سامنے آئی ہیں۔

۱۔کبھی بیوی کی درازیِ عمر یا کی بنیاد پر خاوند کواپنی عفت وپاکدامنی کے لیے خطرہ لاحق ہونے لگتاہے،اگر منکوحہ کو طلاق کی دے تو اولاد سے جدائی ہوگی۔اوقات زوجین کے مابین محبت کا اٹوٹ رشتہ انہیں علاحدگی سے روکتا ہے۔لہٰذا اس کا  بہتر حل پہلی کے ساتھ  دوسری رفیقۂ حیات  ہے۔

۲۔تعدد ازدواج دعوتی،رفاہی اورسماجی خدمات کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے اس کے ذریعہ رشتہ داری اورارتباط کا دائرہ وسیع ہوتاہے اور یہ نسب کا قرین ہے ۔فرمان باری تعالی ہے:

وَہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَائِ  بَشَراً فَجَعَلَہٗ نَسَباً وَّصِہْراً (الفرقان:۵۴)

’’وہ ذات ہے جس نے پانی(مادۂ منویہ)سے انسان کو پیدا کیا پھر اسے نسب والا اورسسرالی رشتوں والا کردیا۔‘‘

انسان کئی خاندانوں سے مربوط ہوگا توصلہ رحمی ضروری قرارپائے گی جو سراپا خیر ہی خیر کاذریعہ ثابت ہوگی۔

۳۔ایک سے زائد خواتین کا تحفظ، اجرکاباعث ہے۔ خاص طور پراگر بیوگان کو اپنی زوجیت میں رکھ کر یہ کارخیر انجام دیاجائے۔

۴۔شادی کے بعد کبھی عورت کے بانجھ پن کا پتہ چلتا ہے جو اولاد کی نعمت سے مانع ہے اس کا حل  دوسری رفیقۂ حیات  ہے ۔

۵۔کبھی  انسان دعوتی،تجارتی یا دیگر مقاصد کے تحت کثرت اسفار پر مجبور ہوتاہے اورحالت سفر میں بیوی کی حاجت محسوس کرتاہے  فتنوں کے دور میں مسافروں کے لئے غلطی کے امکانات ہوتے ہیں۔  ایسے میں دوسری  بیوی کی گنجائش مناسب ہے۔

۶۔ایک شخص کی شہوت ایک خاتون سے پوری نہیں ہوتی وہ اپنے نفس پر زناکا خائف ہے ۔لہٰذا اس کے لئے بھی گنجائش ہے۔

۷۔اگر خاوند علم شریعت کا واقف کا ر ہے اوراس کی ایک سے زائد بیویاں ہیں تو رشتۂ نکاح کے نتیجہ میں  بچوں کی دینی ماحول میں تعلیم وتربیت کا صحیح بندوبست کرے گا ۔

تعدد ازدواج اورہندوستانی  خواتین

گومذہب اسلام کے علاوہ دنیا کے دیگر مذاہب  میں بھی تعدد ازدواج کی گنجائش موجود ہے۔ البتہ ہندوستان میں ہندوانہ تہذیب کی چھاپ عیاں ہے۔  یہاںستی کی رسم تھی۔عورت کو شوہر کی وفات کے بعد جینے کا حق نہیں ہوتا تھا،اس لئے عائلی زندگی میں تعدد ازدواج کا تصور ختم ہوگیا۔  عالمی  اسلام دشمن طاقتوں نے آزادی نسواںکا نعرہ لگایاتعدد ازدواج کو عورتوں کی حق تلفی اورظلم وجور قرار دیا۔  حالانکہ ان کا مقصد جنسی بے راہ روی کو عام کرنا تھا۔معاشرہ سے عورت کی نسوانیت اورمرد کی مردانگی کا جنازہ نکالناتھا۔ شرم وحیا،عفت وپاکدامنی،احترام وتوقیر کا ماحول ختم کرنا تھا۔ عورتوں کے حسن کی نمائش کے ذریعہ تجارتی منڈیوں کی ترقی ان کے پیش نظر تھی۔

ہندوستانی معاشرہ میں تعدد ازدواج کے راستے میں رکاوٹیں ہیں۔ عورت کے طبیعت ومزاج میں اپنے شریک محبت کے ساتھ کسی اورکی شرکت کو ناپسند کرنا بھی ہے ، اس  لئے یہاں تعددد ازدواج کی صورت میںسوکنوں کے جھگڑے عام ہیں۔ شوہر کی جانب سے ناانصافی بھی تعدد ازدواج کے لئے ماحول کو نا سازگار بناتی ہے۔

بعض خواتین  ،فہم وفراست کی کمی  اوردین سے دوری کے نتیجہ میں تعدد ازدواج کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں انہیںمعلوم ہونا چاہئے کہ ہرمومن مرد وعورت کو اللہ اوراس کے رسول کے فیصلہ کے سامنے سرتسلیم خم کردینا چاہئے،وہ وسعت ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے لئے ماحول سازگار کریں اس کی حکمتوں سے لوگوں کو روشناس کرائیں تاکہ اس کے ذریعہ یتیموں،بیواؤں اورمطلقہ خواتین کی دستگیری ہوسکے۔ان کے ساتھ دست تعاون دراز کرکے بیواؤں اوریتیموں کی کفالت کریں۔  اور دنیوی واخروی سعادت سے مالا مال ہوں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورتعدد ازدواج

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا مطالعہ کرنے والوں سے یہ حقیقت مخفی نہیں ہے کہ آپ نے پچیس سالہ زندگی ابتدائی تجرد اور پاکدامنی کے عالم میںگزاری آپ کی امانت، دیانت  اورشرافت سے متاثر ہوکر ایک بیوہ خاتون خدیجہ رضی اللہ عنہا نے پیغام نکاح دیاتو ان سے نکاح کیا اور  اپناپورا دور شباب گزارا،اس کے بعد بحکم الٰہی اپنی عمر کےآخری مرحلے میں تعلیمی،تشریعی،معاشرتی اورسیاسی مصالح کے  پیش نظر متعدد  شادیاں کیں ان میں  زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا آپ کی حیات مبارکہ میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئیں اوربقیہ نو آپ کی وفات کے بعد بھی بقید حیات رہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شادیاں سن کہو لت میں ہوئیںجب کہ انسانی اعضاء وجوارح کمزور ہوتے ہیں۔ اس تفصیل سے دشمنان اسلام کے  تعددازدواج سے متعلق اعتراضات کی قلعی کھل جاتی ہے جوانی کی مدت آپ نے نہایت پاکدامنی اورکمال تقویٰ سے گزاری ہے جس کی شہادت اغیار نے بھی دی ۔  اسی رشتۂ ازدواج کے سبب متعدد قبائل حلقہ بگوش اسلام ہوئے،صدیوں کی عداوتیں کافور ہوئیں ،ان گنت رسوم ورواج کا خاتمہ ہوا اورامت کے نصف حصہ کے لئے خصوصا اورپوری امت مسلمہ کے لئے عموما معلمہ، مربیہ اورخواتین تیار کرنے کا راستہ ہموار ہو اور اسلام کے   جاںنثارتیار ہوئے۔

نومبر 2017

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau