افزائش حرارت کا مسئلہ اور اسلامی تعلیمات

محمد ہاشم قادری مصباحی

خا لق کا ئنات نے اپنی مخلوق کے لیے ہر ضرورت کی چیز پیدا فر مائی، سب کی ضروریات الگ الگ ہیں ہوا، پانی اور آکسیجن کی ہر جاندار کو ضرورت ہے ، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بلا آکسیجن کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا، اس کے بغیر موت واقع ہو جاتی ہے۔ آکسیجن کا دور(CYCLE) درختوں اورپو دوں کے ذریعے جاری رہتا ہے۔ نام نہاد ترقی یافتہ دورکا انسان کتنا نادان اور ظالم ہے جو  درختوں اور پودوں کو  بے محا با ختم کئے جارہاہے  پیڑ ، پودے انسان کی اہم ضرو ریات کی تکمیل کرتے  رہیں ہیں  ۔ انسان کی یہ بڑی بھول ہے کہ اپنے سےہرطاقت ور شئے کو  مالک سمجھنے لگا ہے ۔ یہ صفت صرف خالق کائنات کی ہے۔  اَ للَّہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْ ئٍ وّ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَّکِیْلٌ( القرآن،سورہ۳۹،آیت۶۲) ’’ اللہ ہر چیز کا پیدا کر نے والا ہے، اور وہ ہر چیز کا مختار ہے‘‘۔

تمام جاندار اور بے جان چیزوں کا خالق و مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے آسما نو ں زمین کی کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں جو اس کی مالکیت کا انکار کرتا ہے اور اپنا قبضہ جتا کر کسی چیز کو بے دریغ استعمال کرتا ہے وہ نقصان اور گھا ٹا اٹھا تا ہے۔درختوں کو پیدا فر مانے کی ضرورت و حکمت قرآن مجید میں مطا لعہ فر مائیں۔ ’’وہ کون ہے جس نے آ سمانوں اور ز مینوں کو پیدا فر مایا اور تمہا رے لیے آسمانی فضا سے پانی اتا را، پھر ہم نے اس پانی سے تازہ اور خوشنما باغات اگا ئے؟ تمھارے لیے ممکن نہ تھا کہ تم ان باغات کے درخت اگا سکتے۔ کیا اللہ کے ساتھ کو ئی(اور بھی) معبود ہے؟ بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو( راہ حق سے)پرے ہٹ رہے ہیں‘‘۔( القرآن، سورہ نمل۲۷،آیت۶۰) کل کائنات کو پیدا کر نے والا سب کو روزی دینے والا تمام جہان کی تد بیر کر نے والا، صرف اللہ تعا لیٰ ہے، کھیتیاں، باغات، پھل ،پھول، دریا ،سمندر، حیوانات ، خشکی،تری کے تمام جاندار اللہ نے پیدا کئے۔

آسما نوں سے پانی برسا کر اپنی مخلوق کو روزی دی۔ کھیتیاں ،باغات  وہی اگاتا ہے جو خو بصورت  ہونے  کے علا وہ بہت کار آمداور مفید ہوتے ہیںاور زندگی کو قا ئم رکھنے والے ہیں۔ لیکن انسان ایسا جا ہل  ہے کہ اپنی بر باد ی کا سامان خود کر رہا  ہے ۔ بے تحا شہ جنگلوں کی کٹا ئی نہ صرف انسانوں کے لیے بلکہ اللہ کی دوسری مخلوق کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔

شجر کاری کے فوائد

شجر کاری کا معیشت اور خوش حالی سے گہراتعلق ہے۔ درختوں میں حسن فطرت کی رعنا ئیاں، نظر آتی ہیں۔ ان کے دلکش منا ظر جس سے آنکھوں کو ٹھنڈ ک اور دل ودماغ کو قوت ملتی ہے، باغات کا ذکر فر ما کر قرآن نے پیڑ پو دوں کی اہمیت بتائی۔روئے زمین پرجا بجا پھیلے پیڑ پودے بنی نوع انسان کے لیے قدرت کا انمول تحفہ ہیں۔درخت نہ صرف سایہ دیتے ہیں بلکہ ماحو لیاتی آلود گی کو کم کرتے ہیں، سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچا تے ہیں،زمین کے کٹا ئو کو روکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کسی بھی ملک کی آبادی اور رقبے کے لحاظ سے کم ازکم %۲۵ فیصدجنگلات کا ہو نا  ضروری ہے ور نہ ماحول کی آلود گی انسانوں کے لیے بہت سے مسائل پیدا کرتی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہما رے ملک ہندوستان میں جنگلوں کی کٹائی بہت ہو رہی ہے۔کاروبار کرنے والےجنگلوں کو ویران بنا رہے ہیں کوئی باز پُرس کرنےوالا نہیں ہے ۔ انسان تعیش عیش وعشرت  کے لیے قدرتی نظام کو بر باد کررہا ہے یہ بڑی بھول ہے، نظام الٰہی نے  انسانوں کوآرام پہچانے کا بندو بست کیا ہے جس کا کو ئی نعم ا لبدل نہیں۔

درخت جس رفتار سے کاٹے جارہے ہیں اس سے فضا میں آکسیجن کم اور کار بن ڈائی آکسائیڈ (CARBON DIOXIDE)  زیا دہ ہور ہی ہے،قدرت کا اعلیٰ نظام دیکھئے درخت کار بن ڈا ئی آکسائیڈ بطور خو راک استعمال کرتے ہیں اگر درخت کاٹ دیئے جائیں تو ظاہر ہے کہ فضا میں اس کی مقدار زیادہ ہو جائے گی اور گلوبل وار منگ یعنی زمینی تپش میں اضا فہ ہوجائے گااور اس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں۔فضا میں قدرتی آکسیجن مو جود ہے جس کی ضرورت سب کو ہے،اس کو بچانے کے لیے قابل ذکر کوشش نہیں کی جاتی۔ یہ لمحہ فکریہ ہے عوام حکو مت پر نظریں لگائے ہو ئے ہیں لیکن حکو متوں کا حال سب کو معلوم ہے ۔درختوں سے انسانوں کو بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ زندگی سے لے کر معاشی فوائد بھی ہیں، معاشی فوائد میں درختوں سے حاصل ہونے والی لکڑی انسا نوں کے کام آتی ہے،  درختوں کی شاخیں پتے جانوروں کی خوراک کے کام آتے ہیں، سوکھے پتوں سے کھاد بنتی ہے،  سایہ دار جگہ کی ضرورت کے لیے درختوں کی ضرورت پڑ تی ہے،  درختوں سے شہد، پھل،، روغنیات، دوائوں کے لیے جڑی بو ٹیاں ، مختلف قسم کے ریشے، لاکھ، گوند، گندہ بروزہ،ابریشم فراہم ہوتے ہیں الغرضـ معاشرے کودرختوں کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔

نبوی تعلیمات

احا دیث طیبہ میں بھی پیڑپو دوں کی اہمیت کو بتایا گیا ہے ۔نبی  ﷺ نے شجر کاری کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے ۔ دوران جنگ بھی پھل دار اور سایہ دار درختوں کو کاٹنے سے منع فر مایا ۔ہم اور آپ ذرا غور کریں کہ ہم کس حال میں ہیں۔شجر کاری پر  اجر کا وعدہ کیا گیا ،رحمت عا لم  ﷺ نے فر مایا: کہ مسلمان کوئی درخت لگا ئے یا کھیتی لگا ئے اور اس میں سے انسان، درندہ، پرندہ یا چو پا یا کھائے تو وہ اس کے لیے صد قہ ہو جاتاہے۔( مسلم ،حدیث:۲۸۱۵) اس حدیث پاک سے شجر کاری کی فضیلت کا پتہ چلتا ہے اور یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ شجر کاری میں بہت خیر ہے، آپ  ﷺ فر ماتے ہیں جس کے پاس زمین ہو اسے اس  زمین میں کاشتکاری کر نی چا ہیے،اگر وہ خود کا شت نہ کر سکتا ہو تو اپنے کسی مسلمان بھائی کو دے دے،تاکہ وہ کاشت کاری کرے۔( مسلم ،حدیث:۱۵۳۶)آج کل سخت دھوپ میں شہروں میں کیا دیہا توں میں بھی دور دور تک سایہ نظر نہیں آتا، اللہ رب العزت نے اپنی اس نعمت(سایہ) کا ذکر خاص کر فر مایا اور بطور احسان فر مارہاہے:وَا للّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلاً وَّجَعَلَ لَکُمْ  مِنَ الْجِبَا لِ اَ کْنَا نًا وَّجَعَلَ لَکُمْ سَرَا بَیْلَ۔۔۔۔۔ اَلَخْ  ۔(القرآن،سورہ۱۶،آیت ۸۱) تر جمہ: اور اللہ نے تمھیں اپنی بنائی ہوئی چیزوں سے سائے دیئے اور تمھا رے لیے پہاڑوں میں چھپنے کی جگہ بنائی اورتمھارے لیے کچھ پہناوے بنائے کہ تمھیں گر می سے بچا ئیں(کنزالایمان)۔

اللہ کی نعمتیں

ارشادِ الٰہی ہے۔(القرآن،سورہ۱۴،آیت۳۴) ’’اور اللہ نے تمھیںہر وہ چیز عطا فر مادی جو تم نے اس سے مانگی،اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کر نا چاہو(تو) پورا شمار نہ کر سکو گے، بیشک انسان بڑا ہی ظالم بڑا ہی نا شکر گزارہے،راحت وآرام والی نعمتوں کا اظہار بطور خاص فر مایاہے  ۔ سبھی جانتے ہیںدرختوں سے  سایہ نصیب ہو تا ہے اور فرحت بخش ہوا حاصل ہو تی ہے،ایک مقام پر زیتون کے درخت کے فوائد کا ذکر قرآن کریم اس طرح فر مارہا ہے۔وَشَجَرَۃً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِسَیْنَآ ئَ تَنْبُتُ بِا لدُّہْنِ وَصِبْغٍ لِّلْاٰ کِلِیْنَ ۔ (القرآن،سورہ مومنون۲۳،آیت۲۰) ’’اور (پیداکیا) وہ درخت جو طور سینا پہاڑپر نکلتا ہے جو تیل نکالتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن ہے‘‘۔ زیتون کے درخت کو مبا رک درخت قرار دیا گیا، سورہ نور آیت ۳۵۔اسلام کی پاکیزہ تعلیمات میں شجر کاری کی اہمیت بتا ئی گئی ہے۔

مو جودہ حالات میں ماحو لیات کی آلود گی سے سینکڑوں پریشانیاں لاحق ہیں خطر ناک بیماریاں جنم لے رہی ہیںکینسر، ہیپا ٹا ئٹس،ٹی بی، کھانسی،اور سانس کی بہت سی موذی بیماریاں پھیل رہی ہیںآلودگی کی وجوہات یہ ہیں: انڈ سٹر یوں سے زہریلا دھواں اور کچرا نکلنا، بے تحاشا جنگلات کی کٹائی سے جنگلات کی کمی ،پلاسٹک کا استعمال ۔گلوبل وار منگ یعنی عالمی درجہ حرارت میں اضا فہ موجو دہ دور کا  بڑا چیلنج ہے اس کے بہت نقصانات ہیں۔

 زمینی تپش کے نقصانات

زمینی حرارت زیادہ ہونے کے باعث بر فانی تودے اور گلیشیرز پگھل رہے ہیں۔اوز ون کی پرت (O zone Layer)کو خطرہ لاحق ہے،اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے فضا میں یہ گیس رکھیںہے۔اس کی پرت کو اوزون تہہ یا لیئر کہتے ہیں یہی تہہ ہے،جو زمین کو سورج کی بعض خطر ناک زہریلی شعاعوں سے محفوظ رکھتی ہے، ماحولیاتی آلود گی میں بڑھتے ہوئے اضافے سے اوزون پرت کو نقصان پہنچا ہے اس سے بھی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔

اللہ رب ا لعزت نے اس کرہ ارض میں  انسانوں وتما م مخلوق کے فائدے  کے لیے بہت سی چیزیں رکھیں۔ انسان رب کے بنائے ہوئےنظام میں بے جا تبدیلی کا مر تکب ہو رہا ہے جس سے موسم میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں اور انسانوں کو طرح طرح کی مصیبتوں کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ چند برسو ں میں  ہندوستان، نیپال، بنگلہ دیش، پا کستان،جاپان و امریکہ میں طوفان ،بارش اور سیلاب سے  تباہی آئی تھی۔

حکیمانہ نظام

رب کائنات نے اس عظیم کائنات میں ہر چیز کو ایک خاص نظام وتر تیب کے تحت بنایا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔(القرآن،سورہ انبیاء۲۱،آیت۱۶)’’ اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل تماشے کے طور پر(بے کار) نہیں بنایا‘‘۔ اگر نظام الٰہی میں بگاڑ پیدا کر نے کی کو شش کی گئی تو اس سے خود ہمیں اور ہمارے ماحول کو نقصان ہوگا، ارشاد الٰہی ہے کہ۔’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین پر فساد مت پھیلائو، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اصلاح کر تے ہیں۔ اور جو لوگ فساد پھیلانے وا لے ہیں ایسے لو گوں پر خدا کی لعنت ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے‘‘۔(القرآن)اسلام کی پا کیزہ تعلیم انسا نوں کو سکون دیتی ہے اور کامیابی کی ضامن ہے۔

ذمہ داری

اسلام صفائی وستھرائی کا حکم دیتا ہے تاکہ ماحول آلودہ نہ ہو اور آب و ہوا خراب نہ ہوں انسان صحت مند و تندرست رہے، گلو بل وار منگ سے زمینی گرمی بڑھ رہی ہے اس سے بہت سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ہم سب کوچا ہیے اس کے تدارک کی تدبیر کریں ہر انسان  درخت لگائے، اپنے حصے کا کام کرے دوسرے پر انحصار نہ کرے، اپنے لیے اور اپنے آنے والی  نسلوں کے لیے کچھ مفید کام کریں پرانے پیڑ کی کٹا ئی سے حتی الا مکان پر ہیز کریں۔شجر کاری ہر دور میں اہم رہی ہے اور موجودہ دور میں اس کی اہمیت  بڑھ گئی ہے ضروری ہے  درخت لگا ئے جائیں۔ ان کی دیکھ بھال کی جائے اور آنے والی نسل کو بھی شجر کاری کے فوائد اور اہمیت سے واقف کرایا جائے۔اللہ رب العزت ہم سب کو  اسلام کی تعلیمات کو سمجھنے اور عمل کر نے کی توفیق عطا کرے۔

دسمبر 2018

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau