آج کل مساجد میں صرف نمازوں کا با جماعت اہتمام ہوتا ہے اور وہ پنج وقتہ نمازوں اور جمعہ کے لیے مخصوص ہیں۔ بہت سی مساجد میں دینی تعلیم کے مکاتب بھی چلتے ہیں۔یقینًا یہ مسجد کی بنیادی سرگرمی ہے۔ لیکن دور نبوت اور دور خلفائے راشدین میں مساجد کا کردار نہایت جامع و ہمہ جہت تھا اور ان میں مختلف النوع دینی سرگرمیاں انجام دی جاتی تھیں۔ اسلامی معاشرے کی تعمیر ، دعوت دین، سماجی،علمی و نظر یا تی ، تعلیم و تربیت، روحانی اور سیاسی، ملکی اور بین الاقوامی معاملات کی انجام دہی ، قانونی مسائل کے حل اور عدل کے قیام میں مساجد کا رول بہت اہم تھا۔ ایک طویل عرصے تک مساجد کا کردار مذکورہ سرگرمیوں کی انجام دہی میں فعال اور مؤثر رہا۔ لیکن مسلمانوں کے اندر دینی زوال کے بعد مسلم معاشرے میں یہ رول سکڑتا اور محدود ہوتا چلا گیا خاص طور پر برادران وطن میں دعوت کی ترسیل کے حوالے سے مسلمان اپنی ذمے داری سے غافل ہوئے تو مسجد کے مؤثر دعوتی ر ول سے بھی غافل ہو گئے۔ بعض مقامات پر تو صورت حال ایسی بنی کہ مسجد میں کوئی غیر مسلم داخل نہیں ہو سکتا۔ لیکن الحمد للہ دھیرے دھیرے یہ صورت حال بدل رہی ہے۔
مغربی دنیا میں مساجد بالعموم اسلامک سینٹر کے نام سے معروف ہیں۔ ان سینٹروں میں پنج وقتہ نماز اور جمعہ و عیدین کی باجماعت نمازوں اور نکاح کے مرکز کے علاوہ دینی علمی ، سماجی ، ثقافتی، اخلاقی و روحانی سرگرمیاں ، لائبریری، کانفرنس ہال ، ڈائیلاگ سینٹر، بین المذاہب مطالعہ کی سہولت اور لکچروں کا اہتمام ہوتا ہے۔ بعض جگہوں پر جم اور اسپورٹ کا بھی انتظام ہوتا ہے، خاص طور پر عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگوں کے لیے اسلام کے تعارف، غلط فہمیوں کے ازالے اور ملنے جلنے (انٹریکشن) کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں ، اسلام کے ثقافتی پہلوؤں کو اجاگر کیا جاتا ہے۔
ہمارے ملک میں مسجد کے ذریعے دعوت کے لیے مسجد پر یچے یا مسجد درشن کاپروگرام مقبول ہو رہا ہے۔ برادران وطن اس پروگرام کے ذریعے مسجد کو دیکھتے اور اذان ونماز کے بارے میں تفصیلات سے واقف ہوتے ہیں ۔ وہ اس پروگرام کو بہت پسند کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے اسلام کاصحیح تعارف ہوتا ہے، غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں، مسجد کے داخلی ماحول میں انہیں اخلاق اور روحانیت کی فضا کا احساس ہوتا ہے اور اسلام سے دل چسپی پیدا ہوتی ہے۔
آج شرک، کفر، الحاد، مادہ پرستی اور اخلاقی بگاڑ کے ماحول میں مساجد خدا پرستی ، اعلیٰ اخلاق اور سچی روحانیت کا مظہر ہیں۔ برادران وطن کی اکثریت پاکیزہ اخلاق اور روحانیت کی تلاش میں بھٹک رہی ہے۔ ان کی یہ طلب مسجد درشن اور مسجدپر یچے جیسے پروگراموں کے ذریعے پوری ہو سکتی ہے۔ مساجد میں ان پروگراموں کا انعقاد کس طرح ہو، یہ جاننا ضروری ہے ۔ لیکن اس سے قبل یہ بتانا مناسب ہے کہ دور نبوی میں مسجد کا دعوتی کردار کیا ہوا کرتا تھا۔
عہد نبوی میں مسجد کا دعوتی کردار
مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ (مسجد حرام ) کا انتظام و انصرام حضرت محمد ﷺ کے پاس نہیں تھا۔ قریش اس کے جملہ امور کی نگرانی کرتے تھے۔ کعبہ میں قریب ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ اقتدار اہلِ اسلام کے پاس نہیں تھا۔ اس لیے حرم کو باقاعدہ دعوت کا مرکز نہیں بنایا جا سکتا تھا۔ اس کے باوجو د رسول اللہ ﷺ وہاں نماز ادا کرتے اور قرآن کی تلاوت کرتے ، جسے سن کر لوگ اسلام قبول کر لیتے ۔ مثال کے طور پر قبیلہ دوس کے سردار حضرت طفیل بن عمرو ؓ مکہ آئے تو قریش نے حضرت محمد ﷺ کو بڑا خطرہ بتا کر ان کی باتیں سننے سے منع کر دیا ، لیکن انہوں نے آپ کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا اور آپ کی تلاوت بھی سن لی تو بہت متاثر ہوئے اور حضور ﷺ سے عرض کیا کہ آپ مجھے اسلام کی حقیقت سمجھادیں۔ آپؐ نے قرآن کی آیات سنائیں، وہ اسی وقت ایمان لے آئے اور حضور سے عرض کیا کہ آپ مجھے اسلام کی حقیقت سمجھائیے۔ (سیرت النبیؐ، جلد دوم، ص ۳۳، طبع ۲۰۱۴ء) پھر اپنے قبیلے میں واپس جا کر دعوت کا کام کیا۔
اسی طرح کا ایک واقعہ حضرت ابوذر غفاری ؓکا ہے۔ انہوں نے اپنے بھائی کو مکہ بھیجا ، تاکہ وہ محمد ﷺ سے اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کر کے آئیں۔ بھائی کی باتوں سے وہ مطمئن نہیں ہوئے اور خود مکہ حاضر ہوئے۔ وہاں حضرت محمد ﷺ اسلام کی خدمت میں حاضری دی اور اسلام کے بارے میں جاننے کی خواہش ظاہر کی۔ رسول اکرمﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور قرآن مجید کی آیات پڑھ کرسنائیں۔ اسی مجلس میں انہوں نے اسلام قبول کیا۔ یہ چوتھے یا پانچویں صحابی ہیں، جنہوں نے اسلام قبول کرنے کی پہل کی ۔ حضرت ابوذر ؓنے رسول اکرمﷺ سے ملاقات کرکے اسلام قبول کیا، پھر مسجد حرام میں قریش کے درمیان پہنچ کر اس کا اعلان کیا۔ لوگوں نے بے دریغ مار نا شروع کر دیا ۔ قریب تھا کہ موت واقع ہو جاتی۔ اتنے میں رسول اللہﷺ کے چچا حضرت عباسؓ وہاں پہنچ گئے ۔ انھوں نے انھیں بچالیا۔ (حیاتِ صحابہؓ کے درخشاں پہلو، حصہ اول، ص ۱۴۷)
مدینہ میں مسجد نبوی کا دعوتی رول بہت نمایاں تھا۔ انفرادی قبول اسلام کےعلاوہ اجتماعی قبول اسلام کے واقعات بھی پیش آتے ۔ مسجد نبوی میں لوگ آتے اور اسلام کے بارے میں سوالات کرتے اور رسول اللہ ﷺسے اطمینان بخش جوابات پاتے ۔ درج ذیل واقعہ سے اس کی بخوبی وضاحت ہوتی ہے:
حضرت ثمامہ بن اثالؓ فتح مکہ سے قبل ایمان لائے ۔ وہ اپنے علاقے میں مقبول اور ہر دل عزیز سردار تھے۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کے کٹر دشمن تھے۔ ایک مرتبہ صحابہ کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے ۔ انہیں مسجد نبوی میں ایک ستون سے باندھ دیا گیا۔ وہ تین دن تک قید میں رہے۔ ثمامہ نے مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا ہوتے ہوئے دیکھی، نماز میں پڑھا جانے والا قرآن سنا۔ مسجد نبوی کے پاکیزہ ماحول کا مشاہدہ کیا۔ اس طرح ان کے دل کی دنیا بدل گئی۔ تیسرے دن جب انھیں آزاد کیا گیا تو جا کر غسل کیا اور واپس آکر اسلام قبول کر لیا۔
موجودہ دور کے بعض واقعات
بر اور ان وطن آج بھی مسجد میں آتے ہیں اور کچھ وقت وہاں گزارتے ہیں تو بہت متاثر ہوتے ہیں۔ اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں۔ یہاں صرف چند واقعات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
ماہ جون 2025 کا واقعہ ہے۔ تلنگانہ میں ایک سرکاری ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر اور ایک ٹیچر دونوں برادران وطن ہیں۔ ان کے مسلمان دوست نے مسجد میں لے جا کر مسجد کے بارے میں بتایا۔ اس سے وہ اتنے متاثر ہوئے کہ انھوں نے ترجمہ قرآن مانگا۔ مسجد میں قرآن شریف کا تلگو ترجمہ موجود تھا وہ انہیں دے دیا گیا۔
چند ماہ قبل ریاست کرناٹک کے صدر مقام بنگلور میں ایک مسجد کمیٹی کے ذمہ داران کی مدد سے جماعت کے رفقا نے مسجد وزٹ کا پروگرام ترتیب دیا۔ عصر سے لے کر عشاء تک 350 برادران وطن نے مسجد دیکھی ۔ باتیں سنیں اور متاثر ہوئے۔
ایک ریاست میں جماعت کے احباب نے ایک ایریا میں مسجد پریچے پروگرام رکھا۔ اس ایریا کے تھانے کے پولیس آفیسر اور کا نسٹبلوں کو دعوت نامہ پہنچایا۔ پولیس آفیسر اور کئی کانسٹبل آئے۔ مسجد ، نماز اور دیگر ضروری باتوں کا تعارف کرایا گیا۔ زائرین بہت متاثر ہوئے ۔ جب اس کی خبر شہر کے کچھ دور فاصلے پر پولیس تھا نہ والوں کو ہوئی تو انھوں نے فون نمبر حاصل کر کے امیر مقامی سے شکوہ کیا کہ اس پروگرام میں انہیں کیوں نہیں بلایا گیا ۔ امیر مقامی نے بتایا کہ مقامی جماعت کے دائرے میں وہ تھا نہ نہیں آتا ۔ اس ایریا میں جماعت کی دوسری یونٹ کام کرتی ہے۔
جنوبی ہند کی ایک بڑی ریاست کے صدر مقام میں مسجد وزٹ کا پروگرام تھا۔ اس پروگرام کی پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا میں پبلسٹی ہوئی ۔ خاص طور پر بی بی سی نے اس کو پیش کیا۔ برادران وطن میں مرد اور خواتین دونوں تھے۔ تاثرات میں خاص تاثر یہ تھا کہ مسجد پہنچ کر محسوس ہوا کہ حقیقی روحانیت یہاں ہے۔
مسجد درشن پروگرام
آج بھی برادران وطن کو مسجد میں بلا کر ان کے سامنے اسلام کا تعارف کرایا جائے تو اس کے بہت مثبت اثرات سامنے آتے ہیں اور ان کی بہت سی غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں ۔
مسجد درشن پروگرام مسجد کی انتظامیہ کے مشورے سے طے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے دعوت نامے تیار کر کے، مسجد کے مصلیان، انتظامیہ کے افراد اور نوجوانوں کے دو دو تین تین افراد پر مشتمل گروپ بنا کر برادران وطن سے ملاقات کر کے پہنچائے جائیں۔ خصوصیت کے ساتھ درج ذیل افراد پر زیادہ توجہ دی جائے تو بہتر ہے۔
محلے کے بااثر افراد ، مختلف مذاہب کے مذہبی رہنما ، وکلا، ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر ، ٹیچر، صحافی، تاجر اور صنعت کا روغیرہ۔
مسجد درشن میں درج ذیل ترتیب کے مطابق برادران وطن کو معلومات فراہم کی جائیں ۔ یہ کام جن کے ذمہ بھی ہو وہ سادہ آسان زبان میں سمجھا ئیں ، فلسفیانہ انداز نہ ہو۔
مسجد درشن پروگرام نماز مغرب سے متصل رکھا جائے تا کہ جہری نماز میں برادران وطن قرآن سن سکیں۔ مسجد کے آخری حصے میں برادران وطن کے لیے کرسیاں رکھی جائیں ، وہ بیٹھ کر نماز باجماعت کا مشاہدہ کر سکیں ۔ ان کو نماز میں شریک ہونے کے لیے مت کہیں ۔ وہ خود شریک ہونا چاہیں تو نماز باجماعت میں اپنے ساتھ کھڑا کر لیں۔ برا در ان وطن کو سمجھائیں کہ :
- مسجد کسے کہتے ہیں؟
- امام اور مؤذن کے کام۔
- اذان کا مطلب۔
- منبر و محراب۔
- نماز کیا ہے؟ اس کی اہمیت بیان کی جائے۔
- وضو کیا ہے؟ وضو کر کے دکھا ئیں۔
- نماز میں اکثر جن سورتوں کو پڑھا جاتا ہے ان کے مضامین کا مختصر تعارف ۔
- نماز کے آخر میں دعا ہوتی ہے۔ دعا کیا ہے؟ بتائیں۔
- مسجد میں نماز با جماعت کے اثرات اور سماجی فائدے۔
ملک کی مختلف ریاستوں میں مسجد وزٹ یا مسجد درشن پروگرام منعقد کیے گئے ہیں۔ اس میں شریک ہونے والے برادران وطن کے تاثرات بہت حوصلہ افزا ہیں۔
مسجد درشن میں شریک ہونے والے برادرانِ وطن کے تاثرات
ہم مسجد کے قریب پینتیس برسوں سے رہتے ہیں، کبھی مسجد میں بلایا نہیں گیا تھا۔ مسجد کو اندرسے دیکھنے کی خواہش تھی ، آج خواہش پوری ہوئی۔ تعجب ہے یہاں کوئی مورتی ، تصویر وغیرہ نہیں۔
مسجد کو دیکھنے اور ذمہ داروں کی باتیں سننے کے بعد محسوس ہوا کہ سچی روحانیت اور اخلاق کی بلندی کا نمونہ یہاں ملتا ہے۔ یہ بات کسی دوسری جگہ نہیں ملتی ، یہاں کا ماحول پسند آیا۔
آج ملک کے ماحول میں نفرت کا زہر پھیلایا جارہا ہے۔ ایسے میں یہ پروگرام غلط فہمیوں کو دور کرنے ، آپس میں بھائی چارہ قائم کرنے کے لیے بہت مفید ثابت ہوں گے۔ اللہ اکبر کے بارے میں ہمیں بڑی غلط فہمی تھی، وہ دور ہوئی۔
ہمیں کبھی اندازہ نہیں تھا کہ مسجد کا داخلی ما حول اتنا خوبصورت اور پرکشش ہوگا۔ یہ ایک پر امن اور روحانی ماحول تھا۔
پروگرام کے والینٹر نے نہایت احترام کے ساتھ اور واضح طور پر باتیں سمجھائیں۔ اس کے بعد ہماری بہت ساری غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں۔
اس طرح کے پروگرام وقتا فوقتا منعقد کریں۔ ہم مسجد میں صفائی اور سادہ تعمیر دیکھ کر بے حد متاثر ہوئے ہیں۔
ہمارے ساتھ بے حد محبت بھر اسلوک کیا گیا۔ ہمیں بتایا گیا کہ وضو، نماز اور سلام کیا ہے۔ ہمیں محسوس ہی نہیں ہوا کہ ہمیں غیر سمجھا جا رہا ہے۔
ہم اپنے دوستوں کو یہ سب بتائیں گے اور اگلی بار مزید دوستوں کو لائیں گے۔
یہ ایک بہت عمدہ اور بصیرت افزا تجربہ تھا۔
ہم نے اسلام کے بارے میں نئی اور درست معلومات حاصل کیں۔
مسجد کے اندر جا کر دیکھنے اور سیکھنے کا اچھا موقع ملا ۔
مسجد اور اسلام کے متعلق غلط فہمیاں
برادر ان وطن میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، مثلاً :
- مسلمان مسجدوں میں ہر نماز کے بعد نمازیوں کو اسلحہ کی ٹریننگ دیتے ہیں تا کہ غیر مسلموں سے مقابلہ کریں۔ اسی لیے مسجدوں میں غیر مسلموں کو آنے نہیں دیا جاتا۔
- مسجدوں میں حضرت محمد ﷺ کی مورتی ہوتی ہے۔ مسلمان اس کی پوجا کرتے ہیں ۔
- مسجدوں سے مسلمانوں کے اندر غیر مسلموں کے لیے نفرت اور دشمنی کے جذبات بھڑکائے جاتے ہیں۔
- مسجدوں سے اذان میں اللہ اکبر پکارا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کو ایسا نہیں کہنا چاہیے کہ اللہ سب سے بڑا ہے۔ ہندوؤں کے بھی دیوتا ہیں وہ بھی بڑے ہیں لیکن ہندو یہ نہیں کہتے کہ وہ سب سے بڑے ہیں ۔
- مسجدوں میں مسلمانوں کو ہندوؤں سے نفرت ، علیحدگی پسندی اور دشمنی کی باتیں سکھائی جاتی ہیں۔ جو قرآن مسلمان نمازوں میں سنتے ہیں اس میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر سب کو کافر قرار دیا گیا ہے اور تعلیم دی گئی ہے کہ کافروں کو پکڑو اور قتل کرو ۔
- مسجد میں برادرانِ وطن کے مختلف پروگرام کرکے ایسی بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا ممکن ہوگا۔
برادرانِ وطن کے لیے دوسرے پروگرام
مسجد درشن ( مسجد پر یچے ) پروگرام کے علاوہ دین کے مؤثر تعارف کے لیے چند اور پروگرام بھی کیے جاسکتے ہیں، جو درج ذیل ہیں :
- دعوت افطار
- عید ملن ۔
- نکاح کی تقریب۔
- ماہ ربیع الاول میں سیرت رسول ﷺکے پروگرام۔
مسجد میں برادرانِ وطن کے لیے دعوت افطار کا پروگرام
اس پروگرام کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اس پروگرام میں روزہ اورقرآن مجید کا تعارف کرائیں۔ روزے کے مقاصد اور اس کے سماجی اثرات واضح کریں۔ قرآن مجید کیا ہے؟ اس کے متعلق غلط فہمیوں کو دور کریں ۔ قرآنی تعلیمات کا ذکر کریں اور یہ بھی بتائیں کہ آج کی انسانی زندگی کے سنگین مسائل کا حل قرآن مجید میں موجود ہے۔
اس پروگرام میں وقت بہت کم ملتا ہے۔ افطار، نماز مغرب اور پھر نماز عشا اور تراویح کی مصروفیات ہوتی ہیں۔ اس لیے کوشش ہونی چاہیے کہ کم وقت میں بنیادی باتوں کا تعارف ہوجائے۔ منتخب برادرانِ وطن کو اظہار خیال کا موقع دیں یا سوال و جواب رکھیں تو وقت کنٹرول کریں۔
مسجد میں برادران وطن کے لیے عید ملن پروگرام
عید ملن ایک معروف ومقبول پروگرام ہے۔ برادرانِ وطن کو عید کے سلسلے میں دل چسپی ہوتی ہے کیونکہ ہر شہر اور گاؤں میں عید ایک نمایاں سرگرمی ہے۔ رمضان کے روزوں سے بھی برادران وطن عام طور پر واقف ہوتے ہیں۔
اس پروگرام کو عید الفطر کے بعد جلد از جلد کیا جا سکتا ہے۔ چند منتخب برادرانِ وطن کو چند منٹ اظہار خیال کا موقع دیں۔ اس کے آخر میں بیس تیس منٹ کی کلیدی گفتگو رکھی جا سکتی ہے۔ سوال و جواب کے لیے ۲۰ منٹ کا وقت رکھا جا سکتا ہے۔ سوال و جواب کے آخر میں ۵ سے۱۰منٹ اختتام کے لیے رکھیں۔
مسجد میں عید ملن اور دوسرے پروگرام محض سماجی رابطے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، قومی یک جہتی جیسی باتوں کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔ تمام پروگراموں کا اصل مقصد اسلام کا تعارف اور غلط فہمیوں کا ازالہ ہونا چاہیے۔ اس مقصد کوکبھی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دینا چاہیے۔ آخرت کی زندگی ،اعمال کی باز پرس اور راہِ نجات پر اظہار خیال ہونا چاہیے۔
برادران وطن شیر خورمہ بہت پسند کرتے ہیں ان کی پسند کا لحاظ رکھتے ہوئے سہولت اور آسانی سے نظم کیا جاسکتا ہے۔
مسجد میں نکاح ۔ دعوت کا مؤثر ذریعہ
اسلام کے بہترین تعارف کا ایک ذریعہ برادرانِ وطن کے سامنے اسلامی ثقافت کا نمونہ پیش کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ مشاہدہ کرنے کے بعد وہ اس کی افادیت، سچائی اور اہمیت کا انکار نہیں کرسکیں گے۔ نکاح کی پوری کارروائی اسلامی ثقافت کا نمونہ بنائی جاسکتی ہے۔ تمام بے جا رسوم و خرافات سےبچتے ہوئے نکاح کی کارروائی سنتِ رسول کے مطابق انجام دی جائے۔ اس میں یقینًا برادرانِ وطن کے لیے کشش ہے۔ مسجد کے پاکیزہ اور مقدس ماحول سنجیدہ اور باوقار فضا، سادگی اور اخلاق و روحانیت کے گہرے پس منظر میں نکاح کی کارروائی شور شرابے اور ہنگامہ آرائی سے پاک ہونے کی بنا پر اپنی ایک الگ شان رکھتی ہے۔
ائمہ حضرات خطبات جمعہ ، تقاریر اور دروس قرآن و حدیث کے ذریعے نکاح مسجدوں میں کرنے کی مسلمانوں کو ترغیب دیں۔
بر ادرانِ وطن کو مجلسِ نکاح میں مدعو کیا جائے۔ مسجد میں نکاح کے موقع پر ان کے بیٹھنے کا انتظام کیا جائے ۔ ان کو مختصر طور پر بتایا جائے کہ نکاح، مہر، وکالت، گواہ اور نکاح کے لیے لڑکی کی اجازت اور شوہر اور بیوی کے حقوق اور فرائض وغیرہ کیا امور ہیں؟
اسلام میں سادگی اور رسول اللہ ﷺ کی ہدایات کے مطابق نکاح کی اہمیت ہے، ایک مضبوط خاندان اور خوش گوار ازدواجی زندگی کے لیے اسلام کی تعلیمات بیان کی جائیں، خاص طور پر عربی خطبہ نکاح کا ان کی زبان میں ترجمہ اور مختصر تشریح بیان کی جائے۔
ماہ ربیع الاول میں مسجد میں سیرت رسول کے پروگرام
ربیع الاول میں برادران وطن بالعموم سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے ہاں عید میلاد کے عنوان سے کوئی عید ہوتی ہے۔
مسلمانوں کے اس موقع پر بڑے بڑے جلوس نکلتے ہیں۔ نعرے لگائے جاتے ہیں۔ اونٹ ، تلوار وغیرہ مختلف چیزوں کی نمائش ہوتی ہے۔ جلوس میں گانے بجانے کا بھی استعمال ہوتا ہے۔ محلوں اور مساجد کو چراغاں کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے جلسے اور پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ شعلہ بیاں واعظوں کے خطابات ہوتے ہیں ۔ ان پروگراموں کے سامعین سب مسلمان ہوتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ربیع الاول کے مہینے میں ان تمام سرگرمیوں کے ہوتے اسی ایک گاؤں، شہر میں رہنے والے برادران ِوطن کو بالکل معلوم نہیں ہوتا کہ محمد کون ہیں؟ پیغمبر اور نبی کسے کہتے ہیں؟ محمد کی سیرت کیسی تھی۔ ان کے اخلاق اور تعلیمات کیا ہیں؟ کیا آج کے مسائل کا حل ان کی تعلیمات میں ہے؟
برا دران وطن ربیع الاول میں مسلمانوں کی سرگرمیوں کو دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان اپنے قومی پیغمبر کا یوم پیدائش منار ہے ہیں اور یہ دیگر قوموں کے اپنے اپنے پیروں یا قومی شخصیت کے یوم پیدائش کی تقریبات سے مختلف نہیں ہے۔ برادران وطن میں ہیرو ور شپ کا رجحان پایا جاتا ہے۔ آج تک انہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ حضرت محمد ﷺ کا پیغام پوری انسانیت کے لیے ہے، وہ صرف مسلمانوں کے پیغمبر نہیں ہیں بلکہ ان کو تمام انسانوں، قوموں اور تاقیامت ہر دور اور زمانے کے لیے آخری پیغمبر بنا کر سب کے خالق اللہ نے بھیجا ہے۔
اس پس منظر میں ذمہ داران مساجد ایک استقبالیہ کمیٹی بنا کر نکلیں اور منتخب برادران وطن کو دعوت نامہ کے ذریعے مسجد میں مدعو کر یں۔ دعوت نامہ کسی ایک فرد کے بجائے مسجد کے ذمہ داروں کی استقبالیہ کمیٹی یار است مسجد کمیٹی کی طرف سے ہو نا چاہیے۔
مغرب کی باجماعت نماز سے متصل یہ پروگرام منعقد کیا جائے تو نماز مغرب کا منظر بھی برادرانِ وطن کو دکھایا جا سکتاہے۔ دعوت نامے میں وقت اور اس بات کی صراحت کر دینی چاہیے۔
اس پروگرام میں دو تین منتخب برادرانِ وطن کو مختصرً اظہار خیال کی دعوت دیں ، صدارتی خطاب میں حضرت محمد ﷺ کی سیرت و اخلاق کو نہایت اختصار سے پیش کرتے ہوئے آج کے سنگین مسائل (شراب، زنا، جوا، قتل ناحق ، رشوت ،ظلم ، رحم مادر میں بچیوں کا قتل، مادہ پرستی وغیرہ سماجی برائیوں ) کا رسول الله کی تعلیمات میں کیا حل پیش کیا گیا ہے، مؤثر انداز میں واضح کریں۔
مسجدوں میں پروگرام کے سلسلے میں چند اصولی باتیں
اس طرح کے دعوتی پروگراموں کے تعلق سے اگر کسی کی جانب سے اعتراض کیا جائے کہ اس طرح کا پروگرام تبدیلی مذہب کے لیے کیا جارہا ہے تو اس کے جواب میں آپ کا موقف بہت صاف اور واضح ہونا چاہیے۔ آپ بتائیں کہ یہ پروگرام اصلًا اسلام اور مسلمانوں کی صحیح تصویر پیش کرنے کے لیے ہے۔ یہ کڑوی حقیقت ہے کہ ہمارے سماج میں اسلام اور مسلمانوں سے متعلق بہت سی غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پھیل گئی ہیں، ان کو صاف کر کے حقائق پیش کرنا نہایت ضروری ہے۔ یہ کام اگر نہیں کیا جاتا ہے تو آپس میں نفرت، دشمنی اور عدم اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
یہ پروگرام اسلام کے تعارف کا ہے، یعنی اسلام پر یچے ہے نہ کہ اسلام پر چار۔
اس طرح کے پروگراموں میں اسلام کو مسلمانوں کا قومی مذہب ، حضرت محمد ﷺ کو ان کے قومی پیغمبر اور قرآن مجید کو مسلمانوں کی قومی مذہبی کتاب کے طور پر نہیں پیش کرنا چاہیے ۔ ہماری گفتگو سے یہ پیغام جائے کہ
- اسلام تمام انسانوں کی فلاح و نجات کا راستہ ہے۔
- قرآن مجید خدا کی جانب سے تمام انسانوں کے لیے خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے رہ نمائی ہے۔
- حضرت محمد ﷺ ہم تمام انسانوں کی ہدایت اور رہ نمائی کے لیے اسلام کے آخری پیغمبر بنا کر خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں ۔
- ہندو، عیسائیت اور بودھ مذہب کا مطالعہ کر لینا چاہیے ، اس طرح مشہور مذہبی کتابوں مثلاً وید، رامائن ، مہا بھارت ، گیتا اور بائبل کا ضروری حد تک مطالعہ کر لینا مفید ہوگا۔
- مخاطبین کی زبان سیکھنے کی کوشش کریں۔
- مسلکی باتوں کو بالکل پیش نہ کیا جائے ۔
- ہندوستان کے دستور کے منتخب حصوں کا مطالعہ ضروری ہے۔
پروگرام کے دوران ان کے سوالات کو غور اور صبر سے سن کر نرمی ، حکمت اور دلسوزی کے ساتھ جوابات دیے جائیں۔ بے صبری ، عجلت پسندی اور اشتعال سے بچیں۔
مسجد کے پروگراموں کے سلسلے میں چند مشورے
- مسجد کے پروگراموں کے دعوت نامے منتخب برادران وطن سے ملاقات کرکے انھیں پیش کریں۔
- کوئی متنازعہ بات نہ چھیڑیں ۔ زائرین کی طرف سے ایسی کوئی بات آجائے تو حکمت و نرمی کے ساتھ اس کا جواب اس طرح دیں کہ ماحول کا سکون متاثر نہ ہو۔
- مسجد میں برادرانِ وطن کے ان پروگراموں میں پولیس آفیسر کو بطور چیف گیسٹ مدعو کرنا بہتر ہوگا۔
- ان پروگراموں میں اظہار خیال کے بعد سامعین کے لیے سوال و جواب کا موقع رہناچاہیے۔
- کلیدی گفتگومیں زبان سادہ اور آسان ہو تو بہتر ہے۔ مدعوئین کی زبان میں اظہارِ خیال سب سے بہتر ہے ۔ یہ نہ ہو سکے تو آسان اردو اور ہندی ملا کر اظہارِ خیال بہتر ہوگا ۔ اردو کے مشکل الفاظ بر ادر انِ وطن سمجھ نہیں پاتے ہیں۔
- ان پروگراموں کے پہلے اور دورانِ پروگرام اور بعد میں بھی برادران ِوطن سے نہایت محبت و شفقت اور احترام سے پیش آنا چاہیے۔
- مساجد میں منعقد ہونے والے ان پروگراموں کے آخر میں ضیافت کا اہتمام کرنا چاہیے ۔ برادرانِ وطن کے جانے سے قبل ان کو بنیادی کتابوں اور فولڈرکے سیٹ تحفتاً پیش کرنا بہتر ہوگا۔
- پورے پروگرام کے دوران صفائی اور ستھرائی کا معقول انتظام کرنا چاہیے۔
- ہر پروگرام کے بعد تاثرات لینے کا مناسب انتظام کریں۔ ان کے تاثرات کا مطالعہ کرنے کے بعد معلوم ہوگا کہ پروگرام اپنے مقصد کے حصول کے اعتبار سے کتنا کامیاب ہوا اور برادران ِوطن کی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں کتنی مد دملی ۔
- مسجد کو دین کے تعارف کا موثر ذریعہ بنانے کے سلسلے میں اہلِ محلہ اور ائمہ مساجد اپنی مسجد کی انتظامیہ کی ذہن سازی کریں۔ ان حضرات کا بھر پور تعاون اور تائید ضروری ہے۔
خلاصہ
مسجد اسلام کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ اور مقام ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مسجد کے اس کردار کو سمجھیں ، اس تعلق سے اپنی ذمے داری کو محسوس کریں اور مسجد کے اس کردار کی ادائیگی کے سلسلے میں جہاں تک ہوسکے بہتر سے بہتر طریقے اختیار کریں۔







