مولانا سلطان احمد اصلاحیؒ بحیثیت مترجم

فضل الرحمن اصلاحی

مولاناسلطان احمد اصلاحی ؒ کا شمار ایک اچھے مصنف کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب مترجم کی حیثیت سے بھی ہوتا ہے اور انہوں نے کئی اہم کتابوں کا ترجمہ کیا ہے ۔ اس مقالہ میں اسی پہلو کا جائزہ  لینے کی ایک طالب علمانہ کوشش کی گئی ہے ۔

عصر حاضر میں ترجمہ کی اہمیت ومعنویت ماضی کی طرح برقرارہے اور آج اس نے ترقی کے مراحل طے کركے ایک ترقی یافتہ فن کی شکل اختیار کر لی ہے۔

ترجمہ کے معنی نفس مصدر کو مطلوبہ زبان میں منتقل کرنے کو کہتے ہیں۔

ترجمہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف ایک کلمہ کو دوسری زبان میں منتقل کر دیا جائے بلکہ ترجمہ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بنیادی قواعد کی روشنی میں معلومات متعینہ کو حاصل کرنا اور لکھنے والے کی فکر اور اسلوب کو اس ترجمہ میں ملحوظ رکھنا۔

محققین کے نزدیک ترجمہ ایک نازک فن ہے ، مترجم کو دونوں زبانوں پر بیک وقت عبور ہونا چاہئے ۔ مولانا اجمل ایوب اصلاحی کے نزدیک مترجم کے اندر مندرجہ ذیل اوصاف درمار هیں :’’۔۔۔۔۔۔اسے دونوں زبانوں پر پوری طرح سے دست رس حاصل ہو۔ ان کے مزاج ، اسالیب اور کیفیات سے جان کاری ہونا ضروری اور لازمی ہے ۔ مزاج کو پہچاننا اور الفاظ کی تہہ تک پہنچ کر معنیٰ کا ادراک كرسکے ، ورنہ ترجمہ ایک سپاٹ سا ترجمہ ہوکر رہ جائے گا ۔ اس کے علاوہ جس دور کا ترجمہ کیا جائے اسی ماحول میں ہونا چاہئے ‘‘۔ (۲)

مولانا سلطان احمد اصلاحی مرحوم نے ترجمہ کے فن پر اپنی رائے ان الفاظ میں تحریر فرمائی ہے ۔

’’ ترجمہ کے سلسلے میں ہماری ناچیز رائے ہے کہ الفاظ کی پابندی کرکے اس کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا ۔ ترجمہ کی اصل خوبی یہ ہے کہ ایک زبان میں کہی ہوئی بات دوسری زبان میں اس کے اپنے اسلوب اور طرز ادا کو ملحوظ رکھتے ہوئے بیان کی جائے ۔ یہ مقصد لفظی ترجمہ سے کسی صورت حاصل نہیں ہوسکتا ہے۔‘‘ (۳)

مولانا سلطان اصلاحی مرحوم نے ترجمہ نگاری اس انداز سے کی ہے کہ اصل کتاب کا گمان ہوتا ہے اور عمدہ ترجمہ کا حال یہی ہوتا ہے کہ قارئین کواحساس ہوکہ وہ کوئی ترجمہ نہیں بلکہ اصل کتاب کا مطالعہ کر رہا ہے اور بقول علامہ سید سلیمان ندوی ؒ  :  ’’ترجمہ کی خوبی تو یہی ہے کہ وہ ترجمہ محسوس نہ ہو ‘۔(۴)

اب اس وسیع تناظر میںمولانا مرحوم کی ترجمہ نگاری کا ایک جائزہ پیش خدمت ہے ۔

’’دعوتِ دین کے علمی تقاضے‘‘  ، مشہور مفکر علامہ یوسف القرضاوی کی معروف کتاب ’’ ثقافۃ الداعیۃ‘‘ کا اردو قالب ہے ۔اس میں کل ۳۶۸ صفحات ہیں۔ یہ مرکزی مکتبہ اسلامی نئی دہلی سے شائع ہوتی ہے ۔ راقم کے پیش نظر اس کا ۲۰۱۱ء کا ایڈیشن ہے ۔

فاضل مترجم نے اس کتاب پر عرض مترجم کے تحت اس کتاب کا تعارف ان الفاظ میں کرایا ہے ۔

’’ کتاب کا موضوع جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے داعی فکری تیاری کے سلسلے میں ان اہم نکات کی نشان دہی ہے جن کا لحاظ کئے بغیر دعوتِ دین کے کام کا حق ادا نہیں کیا سکتا ۔ ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے ذہن رسا پایا ہے اور ان کی نظر وسیع ہے ۔ اس کے علاوہ وہ صرف ایک صاحب نظر اہل قلم ہی نہیں بلکہ ایک پرجوش مبلغ داعی بھی ہیں ۔ اس لئے ان صفحات میں ان کے علمی خیالات و آراء ہی نہیں بلکہ ان کے دعوتی تجربات و مشاہدات کا ایک بڑا حصہ بھی صفحہ ٔ  قرطاس پر منتقل ہوگیا ہے ،  امید ہے کہ خاص طور پر دعوتی حلقے اور نوجوان زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔‘‘ (۵)

مختصر تعارف :

اس کتاب کا نام  ثقافۃ الداعیۃ ، یوسف القرضاوی ، مؤسسۃ الرسالۃ ، بیروت ۔ شارع بنایۃ صمدی و صالحۃ ۔ الطبعۃ الحادیۃ عشر ۱۴۰۷ ھـ  ۱۹۸۷  م ہے ۔ یہ کل ۱۵۱ صفحات پر مشتمل ہے ۔

اب اصل کتاب سے چند اقتباس پیش کئے جارہے ہیں تاکہ اس کی روشنی میں ترجمے کی نوعیت کا جائزہ لیا جاسکے ۔

(وبعد) فان الدعوۃ الی اللہ تعالی ۔ ہی مہمۃ الرسل والانبیاء الذین ہم خبرۃ اللہ من عبادہٖ الی خلقہٖ ، وہی مہمۃ خلفاء الرسل وورثہم من العلماء العالمین ، والربانییّن الصادقین، وہی افضل الاعمال بعد الایمان باللہ تعالی، لا نّ ثمرتہا ہدایۃ الی الحق وتحبیبہم فی الخیر، و تنفیرہم من الباطل والشرّ ، واخراجہم من الظلمات الیٰ ومن احسن قولاً ممن دعاء الی اللہ و عمل صالحاً وقال : اننی من المسلمین‘‘

مولانا اصلاحی مرحوم مذکورہ اقتباس کا سلیس ترجمہ ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں :

’’ دین کی طرف دعوت دینا اور اللہ کے راستے کی طرف بلانا اس کا بیڑہ سب سے پہلے حضرات انبیاء علیہم السلام نے اٹھایا جنہیں اللہ تعالی نے تمام انسانوں کے درمیان سے خاص اس کام کے لئے منتخب فرمایا اور انہیں ان کے پاس اپنا پیغامبر بنا کر بھیجا ۔ ان کے بعد اس بوجھ کو ان کے سچے جانشینوں نے اپنے کندھوں پر اٹھایا، جو اس کام کے سلسلے میں ان کے وارث قرار پائے۔ یہ وہ برگزیدہ شخصیتیں تھیں جو علم کے ساتھ عمل کا پیکر اور صدق و اخلاص کا کامل ترین نمونہ تھیں۔اور واقعہ یہ ہے کہ جس کام کو انہو ںنے اپنے ذمہ لیا اس کا حق ادا کرکے دکھایا۔ کون نہیں کہے گا کہ خدا تعالیٰ پر ایمان کے بعد سب سے افضل عمل اگر کوئی ہوسکتا ہے تو وہ یہی دعوت الی اللہ ہے ۔ اس لئے کہ اس کی بدولت لوگوں کو حق کی طرف رہنمائی ملتی اور سچائی کا راستہ روشن ہوتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں لوگ بھلائیوں اور نیکیوں سے محبت کرتے اور بدی اور برائی سے ان کے اندر نفرت پیدا ہوتی ہے ۔ خلاصہ یہ کہ لوگ اس کی بدولت اندھیروں سے نکل کر اجالے میں آجاتے ہیں اور زندگی کے سفر میں ان کے لئے حق وصواب کا راستہ روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے دعوت دین کی اس بات کو سب سے بھلی بات اور اسے سب سے اونچا کام قرار دیا ہے :

وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِنَّنِی مِنَ الْمُسْلِمِیْنَo       (فصّلت ۳۳)

اس شخص سے زیادہ بھلی بات اور کس کی ہوسکتی ہے جو بلائے اللہ کی طرف اور نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں ۔(۶)

آگے علامہ قرضاوی کا اہم اقتباس دعوت کی تشریح و تفہیم کے لئے لائق مطالعہ معلوم ہوتا ہے ۔ مولانا نے مندرجہ ذیل اقتباس کےمفہوم کو  پیش کیا ہے ۔

’’ فالداعیۃ وحدہ ہو فی غالب الأمر ۔ الادارۃ و التوجیہ والمنہج والکتاب والمعلّم وعلیہ وحدہ یقع عِبء ہذا کلّہ ۔‘‘

ایک ماہر مترجم کی حیثیت مندرجہ بالاعبارت کی ترجمانی ان الفاظ میں کی گئی ہے ۔

’’غرض یہ کہ اس پورے نظام میں از اول تا آخر جو کچھ ہے وہ سب یہی داعی کی شخصیت ہے اور اسی کے گرداس کا پورا نظام گردش کرتا ہے ۔ یہی ادارہ ہے ، یہی اس کا نظام الاوقات ہے ، یہی اس کا نصاب ہے ، اسے ہی معلم کے فرائض انجام دینے ہیں اور اپنے پورے قافلے کو جو رخ بھی دینا ہے وہ اسی کے ذمہ ہے ۔ کتنا بھاری ہے یہ بوجھ جو اسے اٹھانا ہے اور کتنی اہم ہے یہ ذمہ داری جو اسے انجام دینی ہے ۔‘‘ (۷)

یہاں پر عبارت کا آخری ٹکڑا ’’ یقع عبء ہذا کلّہ ‘‘۔ ایک نو آموز مترجم یا ناتجربہ کار مترجم ہو تو عب ء کی جگہ عَبْ ء اگر سمجھ لے تو ترجمہ کچھ کا کچھ کر ڈالے گا اور مذکورہ بالا عبارت کا مفہوم ہی غارت ہوجائے گا ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا کو دونوں زبانوں پر کتنا عبور حاصل تھا ، عبور ہی نہیں بلکہ الفاظ کی نزاکت پربھی ان کی گرفت کتنی مضبوط تھی۔

شیخ قرضاوی حفظہ اللہ اپنی کتاب کی غرض و غایت اور داعیوں کے لئے چند بنیادی باتوں کی نشان دہی کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’وحدثنا فی ہذا البحث عن ہذاالجانب خاصّۃ : الجانب الفکری اوالثقافی المطلوب للداعیۃ المسلم کیف یعدّ الداعیۃ نفسہ ، أو کیف نعدّہ نحن الاعداء الثقافی المنشود ؟ ۔۔۔۔

اس ڈھائی سطر کی ترجمانی مولانا اصلاحی نے نکات کی صورت میں بہ تفصیل کی ہے ، چنانچہ لکھتے ہیں :

اس پس منظر میں ایک داعی کے لئے چند باتوں کی نشان دہی کی ہے اور اس کے سامنے کچھ مطالبات رکھے ہیں ۔ ان مطالبات کو درج ذیل عنوانات کے تحت سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے :

۱۔اسلام اور اس کے عناصر ترکیبی ۔                                           ۲۔تاریخ                                          ۳     ۔ادب                                           ۴۔انسانیت یا سماجی علوم

۵۔سائنسی علوم اور                                              ۶۔حالاتِ حاضرہ پر نظر (۸)

اور ثقافی کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی ہے ۔ ثَقِفَ    َ   ثَقِفًا ذہین و ہوشیار ، دانش مند و زیرک ہونا ۔ ایک معنی مہذب ہونے کے بھی آتے ہیں ۔

مراجع :

۱۔ویکیپیڈیا انٹرنٹ             ۲۔اخلاق احمد ،اوراق زندگی ص ۸۳

۳۔مولانا سلطان احمد اصلاحی دعوت دین کے علمی تقاضے ، مرکزی مکتبہ اسلامی نئی دہلی ۲۰۱۱ء ص ۹

۴۔محمود حسن ندوی ، حیات عبدالباری ص ۲ و ۴

۵۔دعوت دین کے علمی تقاضے  ص  ۷،۶۔ایضاً ص ۱۱ ۔ ۱۲

۷۔ایضاً               ص  ۱۴                   ،۸۔                             ایضاً                               ص

مئی 2019

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau