حیا کا مفہوم اور تقاضے

(2)

مولانا انعام اللہ فلاحی

عربی کا شاعر کہتا ہے      ؎

وَرُبَّ قبیح ما حال بینی

و بَیْنَ رُکوبہا إلا الحیاء

’’بہت ساری برائیوں کے ارتکاب سے روکنے والی چیز حیا ہوتی ہے‘‘

اگر انسان کے اندر حیا کی صفت ختم ہوجائے تو پھر وہ جس طرح چاہے زندگی گزارے۔ نہ تو اسے خدا کے عذاب کی پروا ہوتی ہے اور نہ سماج اور معاشرے کی ملامت کی فکر۔

إذا لَمْ تخشیٰ عَاقبۃَ اللیالی

وَلَمْ تستحیی فَاصْنَعْ ما تشاء

’’جب تم برے کام کے انجام بد سے بے خبر ہو اور حیا سے عاری ہوتو جو چاہو کرو‘‘

فلا واللہ ما فی العیش خیر

ولا الدنیا إذا ذھب الحیاء

’’اگرحیا ختم ہوجائے تو بخدا نہ زندگی میں کوئی خیر ہے اور نہ دنیا میں کوئی بھلائی‘‘

یعیش المرو ما استحیا بخیر

و یبقی العود مابقی اللِّحَاء

’’حیا کے بغیر انسان کی زندگی ایسی ہے جیسے چھلکے کے بغیر لکڑی‘‘ یعنی انسان بالکل ننگا اور بے پردہ ہوکر رہ جاتا ہے‘‘۔

جس شخص کے اندر حیا کی صفت بڑھی ہوئی ہو تو اس کو کم کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’حیا سراپا خیر ہے‘‘۔ (الحیاء خیرکلہ) آپ ﷺ نے حیا پر ملامت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ  ایک شخص کے پاس سے گزرے وہ ایک دوسرے شخص کو حیا کے سلسلے میں ملامت کر رہا تھا اور اس سے کہہ رہا تھا کہ تم اس قدر حیا کرتے ہو، اس سے تم کو نقصان پہنچے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اسے چھوڑ دو ، اس لئے کہ حیا ایمان کا جز ہے‘‘۔ (بخاری۔ عن ابن عمرؓ)

حیا ایمان کا حصہ ہے ۔ ایمان میں انسان اپنی  پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے حوالے کرنے کا عہد کرتا ہے۔ حیا معصیت اور نافرمانی سے بچنے کا رنگ ہے۔ لکل دین خلق و خلق الِاسلام الحیاء‘‘ اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ ہر دین کا ایک رنگ ہوتا ہے،اس کا مزاج ہوتا ہے۔ وہی اس کے ظاہر وباطن پر چھایا ہوتا ہے۔ دین اسلام کا وہ رنگ ’’حیا‘‘ ہے ۔ اگر حیا  نہیں ہے پھر دین اسلام بے رنگ ہے۔ وھب بن منبہ کا قول ہے:

الاِیمان عریان ولباسہ التقویٰ وزینتہ الحیاء ۔

’’ایمان بے پردہ ہوتا ہے اس کا لباس تقویٰ ہے اور اس کی زینت حیا ہے‘‘۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا ایمان جو تقویٰ اور حیا سے خالی ہو وہ بے جان اور بے وزن ہے۔

حیا کی مختلف حالتیں ہیں:

(۱) اللہ تعالیٰ سے حیا

(۲) انسانوں سے حیا

(۳) فرشتوں سے حیا

(۴) نفس سے حیا۔

اللہ سے حیا:

اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

اَلَمْ یَعْلَمْ بِأَنَّ اللہَ یَریٰ۔        (العلق: ۱۴)

’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے‘‘۔

إِنَّ اللہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْباً۔ (النساء:۱)

’’یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ تم پر نگرانی کر رہا ہے‘‘۔

بندے کا گناہوں کی پروا نہ کرنا، شریعت کے احکام کی خلاف ورزی کرنا، اس بات کا اشارہ ہے کہ اس کا دل اللہ تعالیٰ کی عظمت و ہیبت سے خالی ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا کچھ بھی پاس ولحاظ نہیں ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ سے حیا کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کی پابندی کرے اوراس نے جن امور سے منع کیا ہے ان سے اجتناب کرے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اللہ تعالیٰ سے حیا کرو جس طرح اس سے حیا کرنے کا حق ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: الحمد للہ ہم اللہ تعالیٰ سے حیاکرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا اس کا یہ مطلب نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ سے پوری طرح حیا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے سر اور جو کچھ اس میں ہے اس کی حفاظت کرے اور پیٹ اور جو کچھ اس سے متعلق ہے اس کی حفاظت کرے، موت اور دنیا کے فنا ہوجانے کو ہروقت یاد رکھے اور جو شخص آخرت کی کامیابی چاہتا ہے وہ دنیا کی زینتوں سے محبت کو چھوڑ دے۔ جس شخص نے ان امور کو انجام دیا اس نے اللہ تعالیٰ سے حیا کرنے کا حق ادا کیا‘‘۔ (ترمذی، عن ابن مسعودؓ)

اس حدیث میں پہلی بات یہ کہی گئی ہے کہ سر اور اس میں جو کچھ ہے اس کی حفاظت اور نگرانی کی جائے یعنی عقل ، زبان، کان، آنکھ اور ان کے ذریعے انجام دیے جانے والے اعمال کی نگرانی کی جائے۔ عقل سے انسان وہی سوچے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہو۔ آنکھوں سے وہی چیزیں دیکھے جو اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے والی ہوں۔ کانوں سے انہیں باتوں کو سنے جن میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی ہو۔ زبان سے وہی بات کرے جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ہو۔ کیونکہ ان سب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے یہاں سوال ہوگا ان کے ذریعے انجام دی جانے والی تمام سرگرمیوں کی جوابدہی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’یقیناً آنکھ کان، اور دل سب ہی کی باز پرس ہوگی‘‘۔ (الاسراء۔ ۳۶)

’’أن تحفظ الرأس وماوعی‘‘ اس تعبیر میں ’’سر‘‘کو ایک برتن اور ظرف سے تشبیہ دی گئی ہے، جس میں ناپسندیدہ اخلاقی رذائل ہیں اور اس سے بچنے اور اپنی حفاظت اور نگرانی کا حکم دیاگیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ زبان آنکھ اور کان یعنی تمام ظاہری حواس کو کنٹرول میں رکھو۔ اس لئے ان کی حفاظت اور نگرانی میں ہی زندگی ہے۔ عربی شاعر کہتا ہے                               ؎

لسان الفتی نصف و نصف فوادہ

فلم یبق إلا صورۃ اللحم والدم

’’انسان کے وجود میں نصف زبان ہے اور نصف دل و دماغ۔ اس کے بعد تو گوشت اور خون کا وجود ہی باقی رہتا ہے‘‘۔

حدیث کادوسرا ٹکرا ہے:  ولیحفظ البطن وماحوی: ’’پیٹ اور جو کچھ اس سے متعلق ہے  اس کی نگرانی کرے‘‘۔یعنی پیٹ کو حرام کھانے اور پینے، ناجائز اور حرام مال کے استعمال سے محفوظ رکھے، کیونکہ وہ جسم جس کی پرورش حرام مال سے ہوئی ہو، حرام کھانے پینے سے ہوئی ہو، اللہ تعالیٰ اس کی عبادت کو قبول نہیں فرماتا ہے۔

اسی طرح اپنی شرم گاہ کو فحش اور برے کاموں سے محفوظ رکھے، عریانیت اور بے حیائی سے اس کی حفاظت کرے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ۙ وَالَّذِيْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَ۝۵ۙ اِلَّا عَلٰٓي اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَيْرُ مَلُوْمِيْنَ۝۶ۚ فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْعٰدُوْنَ۝۷ۚ                                                                (المؤمنون:۷۔۵)

’’اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملک ییمن میں ہوں کہ ان پر محفوظ نہ رکھنے میں وہ قابل ملامت نہیں ہیں۔ البتہ جو اس کے علاوہ چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں‘‘۔

حدیث میں آگے کہا گیا : ’’موت اور دنیا سے فنا ہوجانے کو یاد رکھے‘‘۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’لذتوں کو ختم کردینے والی یعنی موت کو کثرت سے یاد کرو‘‘۔ (ترمذی) مومن موت کو نظروں کے سامنے رکھتا ہے ۔ اس کا یہ احساس ہوتا ہے کہ اس دنیا میں ہمارا وجود عارضی اور چند روزہ ہے، اس لئے یہاں کی نعمتیں آسائش، آسانیاں ، رنگینیاں اور رعنائیاں محض چند روزہ ہیں۔ یہاںکی کلفتیں، الجھنیں، تکالیف اور مسائل سب عارضی ہیں۔ ابدی اور دائمی زندگی صرف آخرت کی ہے۔ حقیقی ناکامی اور کامیابی وہاں کی کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ۔(آل عمران:۱۸۵)

’’کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتش دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیاجائے‘‘۔

وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَى النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰى۝۴۰ۙ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِيَ الْمَاْوٰى۝۴۱ۭ                               (النازعات:۴۰)

’’اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا اور نفس کو بری خواہشات سے پاک رکھا جنت اس کا ٹھکانا ہوگی‘‘۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے حیا کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کرے، منکرات و فواحش سے اجتناب کرے۔ اپنے آپ کو ہروقت اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں محسوس کرے، یہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اور اس کے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے، چاہے وہ کھلے میں ہو یا چھپے میں، گھر کی چہار دیواری کے اندر ہو یا میدان میں ، تنہائی میں ہو یا سماج میں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ۝۰ۚۖ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ۝۱۶           (سورہ ق۔۱۶)

’’ہم نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے دل میں ابھرے ہوئے وسوسوں تک کو ہم جانتے ہیں۔ ہم اس کے رگِ گردن سے بھی زیادہ قریب ہیں‘‘۔

انسانوں سے حیا:

انسانوں سےحیا کا تعلق ان امور سے ہے جنہیں مکارم اخلاق کہا جاتا ہے۔ اس میں ہر وہ کام شامل ہے جس کا تعلق اچھے کام، اچھی بات اور عفت و پاکیزگی سے ہو۔ اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں:

ایک یہ کہ برائیوں سے انسان صرف اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے بچے۔ اسے صرف اسی کی پکڑ کا خوف ہو، ساتھ ہی اسے لوگوں کی ملامت کابھی ڈرہو۔ یہ حیا کی کامل شکل ہے کیونکہ وہ اصلاً اپنے خالق و مالک کی رضا کا طالب ہوتا ہے اور اس کے عتاب و عقاب سے خائف رہتا ہے۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے بندوں کی ملامت سے بھی ڈرتا ہے جس کی وجہ سے برے کاموں کے ارتکاب سے باز رہتا ہے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ انسان بے شرمی اور بے حیائی کی باتوں اور کاموں سے محض لوگوں کے ڈر سے باز رہے۔ یہ شخص جب لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے، تو ان کے ارتکاب میں اسے کوئی باک نہیں ہوتا۔

یہ بھی حیا ہے لیکن اس میں نقص اور کمی ہے اور اس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ ایسے لوگوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی عظمت اوراس کے جلال، اس کے عقاب اور پکڑ کی یاد دہانی کی ضرورت ہے۔ خالق حقیقی کے احسانات اور کرم فرمائیوں کو یاد دلانے کی ضرورت ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی زمین میں ہرچیز سے واقف ہے ۔ بندوں کے سارے احوال سے برابر آگاہ رہتا ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ اصلاح وتذکیر کے نتیجے میں اس کی کمی دور ہوجائے۔

ایسے لوگوں کو سوچناچاہئے کہ وہ انسانوں سے تو حیا کرتے ہیں جو نہ دنیا میں نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ آخرت میں اور اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے جو دنیاو آخرت کے نفع ونقصان کا حقیقی مالک ہے۔ یہ کس قدر ناسمجھی کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تو وہ ہے جس سے انسانوں کا کوئی لمحہ اور ادنیٰ کام بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتا، حقیقی انعامات و اکرامات اسی کے ہیں اس لئے حیا بھی اسی سے کرنی چاہئے۔

رہے وہ لوگ جن کو نہ اللہ تعالیٰ سے حیا ہے نہ بندوں سے، یہ وہ لوگ ہیں ، جو ایسی بے حیائی اور بے شرمی کا ارتکاب کرتے ہیں جس کا دائرہ صرف ان کی ذات تک نہیں محدود رہتا ہے بلکہ پورے سماج اور معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔ کھلے عام بے حیائی کے کام کرنے والوں کی برائی   پورے سماج اور معاشرے کے لئے مہلک خطرہ ہے۔ عفت و پاکدامنی، شرافت و فضیلت کے کاموں کے لئے کھلا ہوا چیلنج ہے۔ آج کے سماج میں اس طرح کی بے حیائی عام ہوتی جارہی ہے ۔ اب عام راستے اور شاہراہیں بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ معاشرے میں مختصر اور عریاں لباس اور میڈیا کی طرف سے آزادی اور فیشن کے نام سے بے حیائی کو جس طرح بڑھاوا دیا جارہا ہے، اس سے شرم وحیا کا جنازہ نکلتا جارہا ہے۔ اس کو برا ماننے والوں کو پچھڑا ہوا اور بنیاد پرست سمجھا جارہا ہے۔

فرشتوں سے حیا:

اللہ تبارک وتعالیٰ  نے فرشتوں کو ہمارے اعمال کی نگرانی کے لئے لگا رکھا ہے۔ کچھ فرشتے اطاعت وفرماں برداری کرنے والوں کےساتھ ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر علم کی طلب میں نکلنے والوں کے ساتھ فرشتے رہتے ہیں۔ حدیث میں ہے:

’’فرشتے طالب علم کی خوشی کے لئے اپنے پر بچھاتے ہیں‘‘۔ (ابوداؤد)

اسی طرح ذکر کی مجلسوں میں فرشتے موجود ہوتے ہیں۔  رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے گلیوں اور راستوں میں چکر لگاتے رہتے ہیں اس غرض سے کہ کہاں کون لوگ اللہ تعالیٰ کو یاد کر رہے ہیں جب وہ کچھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی یادمیں مشغول پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو پکارتے ہیں کہ یہاں آئو، یہاں وہ لوگ ہیں ، جن کو تم تلاش کرتے تھے، تو ایسے لوگوں کا آسمان تک اپنے پروں سے احاطہ کرلیتے ہیں‘‘۔ (بخاری۔ عن ابی ہریرہؓ)

مریض کی عیادت کرنے والوں کے ساتھ بھی فرشتے ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ ایک حدیث میں فرمایا:

’’جو بھی مسلمان صبح میں کسی مسلمان کی عیاد ت کرتا ہے ، ستر ہزار فرشتے غروب آفتاب تک اس کی مغفرت کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں اور جو مسلمان شام کو کسی مسلمان کی عیادت کرتا ہے ستر ہزار فرشتے صبح تک اس کی بخشش کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں۔(ترمذی۔ عن علیؓ)

اسی طرح کچھ فرشتے ایسے ہوتے ہیں جو ہر وقت ہمارے ساتھ ہوتے ہیں۔ جو ہمارے اعمال کا ریکارڈ تیار کررہے ہوتے ہیں، قرآن کریم میں ہے:

وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ۝۱۰ۙ كِرَامًا كَاتِبِيْنَ۝۱۱ۙ يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ۝۱۲     (سورہ الانفطار:۱۰۔۱۲)

’’یقیناً تم پرنگراں مقرر ہیں ایسے معزز کاتب جو تمہارے ہر کام کو جانتے ہیں‘‘۔

اس لئے ہمیں ان تمام فرشتوں سے حیا کرتے ہوئے گناہ اور بے حیائی کے کاموں سے اجتناب کرنا چاہئے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

’’بے پردہ ہونے سے بچو! یقیناً تمہارے ساتھ فرشتے ہوتے ہیں جو تم سے صرف اس وقت الگ ہوتے ہیں جب تم قضائے حاجت کے لئے جاتے ہو اور جب تم اپنی بیوی کے پاس جاتے ہو۔ اس لئے ان فرشتوں سے حیاکرو اور ان کی عزت کرو‘‘۔

نفس سے حیا:

نفس سے حیا عفت و پاکدامنی سے عبارت ہے۔ انسان خلوت و تنہائی میں بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی سے بچے اس لئے کہ خلوت میں انسان کا نفس اس پر غالب ہونا چاہتا ہے ۔ شیطان انسان کو ورغلاکر اسے نافرمانی کی راہ پر ڈالنا چاہتا ہے۔ طرح طرح کے وساوس اس کے ذہن وخیال میں ڈالتا ہے۔ ایسی صورت حال میں ’’نفس سے حیا‘‘ انسان کے لئے پاسبان اور محافظ ہوتا ہے۔

انسان کو اپنی کمزوریوں کا اعتراف بھی ہونا چاہئے۔ انسان جہاں نفس مطمئنہ سے بہرہ ور ہوتا ہے وہیں نفس کی شرارتوں سے بھی ہر وقت خطرے سے دوچار رہتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے جس کا اعتراف کیا ہے:

وَمَآاُبَرِّئُ نَفْسِيْ۝۰ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوْۗءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّيْ۝۰ۭ اِنَّ رَبِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۵۳              (سورہ یوسف: ۵۳)

’’میں کچھ اپنے نفس کی برأت (پاکی) نہیں کر رہا ہوں، نفس تو بدی پراکساتا ہی ہے الا یہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو، بے شک میرا رب غفور و رحیم ہے ‘‘۔

یہی اعتراف انسان کو نفس کے ہر وار سے چوکنا اور ہوشیار رکھتا ہے۔ اور یہی نفس سے حیا کا مقصود ومطلوب ہے۔ اس طرح نفس سے حیا یہ ہے کہ انسان خلوتوں اور تنہائیوں رات کے اندھیروں اور لوگوں کی نظروں سے چھپ کر بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتا رہے۔

ہمیں اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ ہر لمحہ اپنے نفس سے مجاہدہ کرتے رہیں کہ خلوت و جلوت ، ظاہر وباطن ، کسی جگہ بھی وہ حرام کے بارے میں آمادہ نہ ہو۔ اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ ہمارا نفس ،نفس مطمئنہ ہو۔

اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نفس کی شرارتوں اور شیطان کی چالوں سے محفوظ رکھے ۔ ہماری غلطیوں پر پردہ ڈال دے اور لغزشوں سے درگزر فرمائے۔ آمین!

جولائی 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau