مثالی خاندان

سید محی الدین علوی

مرد اور عورت جب رشتہ ازدواج میں منسلک ہوتے ہیں تو ایک خاندان بنتا ہے اور اولاد کے تولد ہونے کے بعد یہی خاندان مستحکم ہوتا ہے ۔ ایک خاندان کو اسلامی خاندان بنانے میں باپ سے زیادہ ماں کا کردار اہم ہوتا ہے ۔ بچے کی تربیت کے ایام اس کے تولد ہونے کے ساتھ شروع ہوجاتے ہیں ۔ اس کی پرورش اگر اچھے طور پر ہو رہی ہو تو  اس کی تعلیم و تربیت کے لیے  یہ عرصہ قیمتی ہوتا ہے ۔بچے سے اگر بیجا لاڑ و پیار نہ کیا جاے تو ایسا گھر جنت کا  نمونہ بن جاتا ہے ۔ ایک اچھا خاندان اسلام کا مضبوط قلعہ ہوتا ہے ۔

مشتركہ خاندان:

خاندان دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ایک مشترکہ خاندان اور دوسرے سنگل فیملی یا زوجین و اولاد پر مشتمل خاندان۔مشتركه خاندان كے   بعض فائدے ہماری نظروں میں رہتے ہیں ۔ لیکن بعض موانعات ایسے ہیں جن کی وجہ سے ایک خوشحال اور برسکون زندگی حاصل نہیں ہوسکتی  ۔ مشترکہ خاندان میں عورت کو جبکہ وہ نئی نویلی دلہن ہوتی ہے بالعموم شوہر کے علاوہ ساس خسر نندوں دیور اور جیٹھ  سے سابقہ پیش آتاہے۔  ساس یہ چاہتی ہے کہ گھر میں اسی کی حکمرانی چلے اور بہو کی ایک نہ چلے ۔نندیں چاہتی هیں کہ ان کا بھائی ان  پر جان چھڑکےظاهر هےبیوی یہ چاہتی هے کہ وہ شوہر کی تنہا منظور نظر ہو ۔ ایسا گھر اجیرن بن جاتا ہے اور زندگی بے کیف ہوجاتی ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ شوہر اور بیوی کی نجی زندگیprivacy باقی نہیں  رہتی ۔اس لیے اسلام میں مطلوبہ خاندان وہ ہو سکتا ہے جو  زوجین اور بچوںپر مبنی ہو ۔

زوجین پر مشتمل خاندان:

مشترکہ خاندان کو نامطلوب قرار دینے کے بعد اب ہم علیٰحده خاندان پرغور کرتے ہیں تو اس میں میں فایدے زیادہ اور نقصانات کم نظر آتے ہیں  ۔ مشترکہ خاندان میںاپنی اولاد کی صحیح تربیت نہیں کر سکتے ہیں ۔جب کہ اللہ تعالی نے اہل ایمان سے ارشاد فرمایا ہے ۔

مسلمانو تم اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ کی آگ سے بچاو ( 6  : التحریم )

اولاد کو غلط ماحول اور برے اثرات سے بچانے کےلیے اور بہتر طور پر نگرانی کرنے  کے لیے علاحدہ نظم از حد ضروری ہے ۔اولاد پر کنٹرول مشترکہ خاندان میںدشوار ہے ۔اگر کسی بات پر انہیں ٹوکا جائے یا روکا جائے تو وہ صاف کہ سکتے ہیں کہ ہمارےچچازاد بھائی کزنس تو ایسا اور ایساکرتے ہیں اور انہیں کوي روکنے دالا نہیں ہے ۔پھر آپ لوگ ہمیں کیوں روکتےہیں یہ بات وہ ٹی وی موبايل اور انٹرنیٹ کےغلط استعمال پر بھی کہ سکتے ہیں ۔

موازنہ:

کہا جاسکتا ہے کہ گھر کی بہت سی سہولتوں کے مشترک ہونے کی وجہ سے کفایت ہوتی ہے اور معاشی اعتبار سے بچت ہوتی ہے ۔یہ بات صحیح ہے لیکن گھر ایک ساتھ ہوگا تو کھانا بھی ایک ساتھ ہوگا اور ایک طرح  کا ہوگا اپنی پسند اور ترجیحات کا اس میں میں کوي دخل نہیں ہوگا ۔ گھر میں سب چیزیں مشترک ہونگی تو بھیڑ بھاڑ ، کشمکش اور اژدھام کی کیفیت ہوگی اور بے اطمینانی چھاي رہے گی ۔اسلام نے جو خاندانی نظام کا نقشہ کھینچا ہے اس میں محبت و مودت ، باہمی تعاون اور ہمدردی اہم شرط ہے ۔ مشترکہ خاندان میں یه ممکن العمل نہیں ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اپنے اہل خانہ کے کام کا بوجھ ہلکا کرنے کے ليے بنفس نفیس ہاتھ بٹاتے تھے ۔حضرت عايشہ صدیقہ رضی اللہ تعا لی عنہا سے رسول اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کی گھریلو زندگی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے بتایا کہ اللہ کے رسول جب گھر میں ہوتے تو آپ گھر کے کام کاج میں لگے رہتے اور جب نماز کا وقت آتا تو آپ سیدھے مسجد تشریف لے جاتے ۔دوسرے موقع پر اس کی تفصیل یوں بیان ہوي ہے کہ آپ اپنی بکری کا دودھ خود دوہتے اور اپنی ضرورت کے دوسرے کام کرتے ۔ نیز اپنے کپڑے سیتے ، اپنے جوتے گانٹھتے اور وہ تمام کام کرتے جو دوسرے مرداپنےگھروں میں کرتے ہیں ۔یه كام ایک گھر کے یونٹ میں بہتر طور پر انجام پاسکتے ہیں ۔ لیکن بڑے گھر میں جہاں مشترکہ رہايش ہے ایسا ممکن نہیں ہے ۔

مشترکہ خاندان میں کچھ افراد زیادہ کمانے دا لےہوتے ہیں اور کچھ افراد کی آمدنی کم ہوتی ہے ۔ اس كا امكان ہے کہ کمانے والے افراد صدر خاندان کو اپنا مال خوشدلی سے نہ دیں ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے ،

سن لو گسی آدمی کا مال دوسرے کے ليے حلال نہیں  ہوتا جب تک کہ وہ خوشدلی سے نہ دے ۔

عدم مساوات:

ایک اور اہم بات جو مشترکہ خاندان میں دیکھی جاتی ہے وہ ناگزیر نابرابری ہے ۔ افراد خاندان میں جو زیادہ کمانے والا ہوتا ہےاس کی زیادہ قدر کی جاتی ہے اور اسے سر آنکھوں پر رکھا جاتا ہے ۔ بیوی بچے بھی اپنی تاناشاہی چلاتے ہیں ۔جو نہیں کماتا  وہ احساس کمتری میں مبتلا ہوتا ہے ، اس کے بیوی بچوں پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے ۔ اسلامی  تعلیمات کی رو سے یہ رویہ صحیح نہیں ہےحدیث هے تمہیں جو رزق ملتا ہے وہ ان لوگوں کی وجہ سے ہے جو کمزور ہیں ۔

مشترکہ خاندان میں ایک نقصان کی چیز یہ بھی ہے کہ گھر کے سامان و ظروف استعمال کرتے وقت کبھی ٹوٹ پھوٹ بھی ہوجاتی ہے توگھر میں جھگڑے اور فساد شروع ہوتے ہیں ۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے ہے کہ کھیل ہی کھیل میں بچے لڑ پڑتے ہیں۔

فاصلے كی ضرورت:

بچے ایسے ہوتے ہیں کہ لڑتے بھی ہیں اور منٹوں میں ملتے بھی   ہیں لیكن  دیکھا گیا ہے کہ مائیں اس کا برا اثر لیتی ہیں ۔  ۔اور ایک دوسرے سے لڑ پڑتی ہیں اور اس کا اثر دیرپا ہوتا ہے  ۔ حالانکہ اسلام عفو و درگزر کی تعلیم دیتا ہے ۔اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ایک بھائی دوسرے بھائی سےقطع تعلق نہ کرے اور اگر قطع کلا می ہوگئی ہے تو تین یوم کے اندربات اور سلام میں پیش قدمی کر ے۔ یکجائی کی معاشرت میں رشتہ دار او قر یبی دوست احباب ملاقات کے لئے آتے رہتے ہیں ۔اس سے افراد خاندان میں کچھ خوش ہوتے ہیں تو کچھ ناراض ہوتے ہیں ۔ بعض کو ضیافت کرکے خوشی ہوتی ہے تو بعض کبیدہ خاطر ہوتےہیں ۔ اس سے حسن معاشرت کی اقدار متاثر ہوتی ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہاپنے گورنر حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا تھا ”           رشتہ داروں کو حکم دو اپنے گھروں کو ایک دوسرے سے دور رکھیں۔

ایک دوسرے حکیم اکشم بن سیفی نے بھی اس سلسلہ میں بڑے پتہ کی بات کہی ہے ۔

’’  اپنے قریبی لوگوں میں گھروں کو ایک دوسرے سے فاصلے پر رکھو  اس سے آپس میں دوستی اور محبت میں اضافہ ہوگا‘‘  نکاح ہونے کےبعد شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے لئے اجنبی نہیں ہوتے بلکہ ایک دوسرے کے ساتھی اور غمگسار ہوتے ہیں ۔اور گویا ایک جان دو قالب ہوجاتے ہیں ۔شاید اس کی دجہ سے ماں کو اپنے بیٹے سے اور بہنوں کو اپنے بھائی سے شکایت ہو سکتی ہے کہ ان سے پہلے جیسی محبت نہیں رہی ۔ شادی سےپہلے وہ کچھ تھے اور شادی کے بعد کچھ اور هوگئے۔مشترکہ خاندان میں اس طرح کی شکایت کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ۔

ہندوستان جیسے ملک میں ساس کو بہو سے اور بہو کو ساس سےگوناگوں شکایات ہوتی ہیں ۔ پہلے کھسر پھسر ہوتی ہےپھر غیبت اور بہتان تک نوبت پہنچ جاتی ہے ۔یہ سب مشترکہ خاندان میں ہوتا ہے ۔

بڑھاؤ نہ آپس میں ملت زیادہ

مبادا کہ ہوجائے نفرت زیادہ

 مرد خلیجی ممالک میں نوکری کرکے آتے ہیں تو انکا کر و فر  عجیب رنگ دکھاتا ہے ۔ہوٹل کے کھانے آنے لگتے ہیں ۔صاحب چاہتے ہیں کہ اپنے بچوں کو وہ کھانا کھلاؤں جو وہ خلیج میں کھاکرآئے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ  ان کےسامنےگھر کے دیگرافراد بھی ہوتے ہیں انہیں یہ کام چوری چھپے کرنا ہوتا ہے۔ ایک وقت ایسابھی آجاتا ہے کہ گھر میں سرکاری کھانے الگ پکنے لگتے ہیں اور غیر سرکاری الگ۔  مطلوبہ خاندان جو اسلام چاہتا ہے سنگل فیملی هے ۔یہی مثالی ہے ۔

تربیت:

آپ بچے کی ڈھنگ سے تربیت کر سکتے ہیں ۔ اور اسے سچا مسلمان بناسکتے ہیں ۔ اور اگر لڑکی ہو تو صحابیات کی زندگی  کے طریقہ پر لے  جاسکتے ہیں ۔

سنگل فیملی میں بچے کی اٹھان صحیح طور پر ہو سکتی ہے ۔لڑکی ہو یا لڑکا ان کی تعلیم و تربیت پر بہتر طور پر ایک ماں اثرانداز ہوسکتی ہے ۔اپنے بچوں کو شروع سے قرآن و حدیث اور اسلامی لٹریچر کی  تعلیم بآسانی دی جاسکتی ہے۔ ان میں خداخوفی اورقیامت کے دن اللہ تعالی کے حضور حاضری کا احساس پیدا گیا جاسکتا ہے۔ لڑکی ہو تو فیشن کے نام پر غیر ساتر لباس اسے نہیں پہنانا چاہیے۔ اور پردے کا اہتمام کرایاجائے ۔ کالج کی مخلوط تعلیم سے دور رکھا جائے ۔موبايل اور انٹرنیٹ سے دور رکھا جائے ۔مسلم لڑکیوں كو غیر مسلم لڑکیوں سے خلا ملا نہ كرنے دیا جائے ورنہ یہ میل جول انہیں اسلامی عقیدہ سے انحراف کی راہ دکھا سکتا ہے ۔

جون 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau