ائمہ مساجد سے بدگمانی

احسن مستقیمی

’’زندگیٔ نو‘‘ جنوری ۲۰۱۵ء کے شمارے میں ایک مضمون بعنوان ’’امت کا وظیفہ دعوت نہ کہ لعنت‘‘ شائع ہوا ہے۔ مضمون نگار نے اپنے طور پر کچھ ایسے مفروضے قائم کرلئے ہیں اور انہیں شائع بھی کرا رہے ہیں جو بالکل بے بنیا ہیں۔بلکہ پوری ملت اسلامیہ پر صریحاً الزام کی حیثیت رکھتے ہیں ۔موصوف کے  ارشادات ملاحظہ ہوں:

اگر ہم اپنی مساجد میں جمعہ کے روزپڑھے جانے والے بعض عربی خطبوں کا جائزہ لیں تو تعجب ہوتا ہے کہ امت دعوت ….. جن دعاؤں پر سب سے زیادہ زور دیتی ہے وہ بلاوجہ اور بلا تفریق تمام غیر مسلم، کفار ومشرکین کولعنت  اور عذاب الٰہی کا مستحق قرار دیتی ہیں‘‘ اور یہ کہ ’’اس طرح کی عمومی بددعائیں کرنا قرآن وحدیث سے ثابت شدہ اور سندیافتہ رویہ نہیں ہے‘‘ اور ایسا کرنا ’’صراط مستقیم سے ایک طرح کا انحراف ہی ہے‘‘۔

مزید ارشاد ہوتا ہے: ’’افراد امت یا ائمہ مساجد کا کفار و مشرکین کو مستقل طور پر لعنت اور بددعائوں کا ہدف بنا لینا خود امت مسلمہ کے مقصد وجود کے منافی اور دین دعوت کے مزاج کے خلاف ہے‘‘۔

یہ ارشاد بھی ملاحظہ ہو ’’علی الاطلاق ایسی دعائیں مانگنا کہ صفحۂ ہستی سے سارے غیر مسلموں کا وجود ختم ہوجائے ناجائز ہے‘‘۔

مسلمانوں اور ائمہ مساجد کےتعلق سے مضمون نگار نے جو مفروضہ قائم کیا ہے اور جس کا وہ انکشاف فرما رہے ہیں وہ صریحاً بے بنیاد ہے بلکہ ایک شرمناک اور سنگین الزام ہے جو وہ بے دریغ مسلمانوں پر لگا رہے ہیں۔ انہیں خطبہ جمعہ کی وہ عبارت پیش کرنی چاہیے تھی جس میں سارے غیر مسلموں کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالنے کی بددعا ء کاذکر ہے۔ میں پورے وثوق کے ساتھ عرض کر رہا ہوں کہ کسی مسجد کاکوئی خطیب کوئی مقرر اور واعظ حتیٰ کہ کوئی ایک  عام مسلمان علی الاطلاق ایسی دعاء مانگنا تو درکنار  ذہن کے کسی گوشے میں  اس کا تصور تک نہیں لاسکتا کہ وہ تمام غیر مسلموں کو صفحۂ ہستی سے مٹا ڈالنے کی بددعاء کرے۔

جب یہ مفروضہ ہی بے بنیاد اور باطل ہے تو پھر اس اندیشے کا امکان اور اس کااظہار بھی بے معنی ہے کہ ’’غیرمسلم تعلیم یافتہ برادران وطن پر اس کا کیا ردعمل ہوتا ہے‘‘ کسی غیر مسلم کے لئے تو یہ ایک مشکل امر ہے کہ وہ جمعہ کے عربی خطبے کا جائزہ لے کر کوئی تشویشناک بات اخذ کرسکے اور پھر اس پر اپنا ردعمل ظاہر کرے۔ البتہ مضمون نگار نے ضرور یہ موقع فراہم کردیا ہے کہ غیر مسلم ہی نہیں بلکہ ہر ایک مسلمان بھی اس مضمون کو پڑھ کر دانتوں تلے انگلی دبائے گا۔

یہودی علماء اور دانشوروں نے انتھک کوشش کی کہ کسی طرح قرآن حکیم سے ان تمام آیات کو حذف کرا دیں جن میں ان کے مکروہ چہروں اورشرمناک سازشوں کی تصویر کشی کی گئی ہے اورانہیں مغضوب قرار دیاگیا ہے ، مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے اور تاقیامت کامیاب نہ ہوسکیں گے۔ البتہ انہیں اپنی اس کوشش میں قدرے کامیابی ہوئی ہے کہ انھوں نے بعض مسلم اور عرب ممالک کے اندر اسکولوں میں پڑھائی جانے والی درسیات سے ان اسباق اور عبارتوں کو نکلوا دیا جن میں ان کی ’’اصل تصویر‘‘ جھلک رہی تھی۔

اس طرح اپنے ملک کے اندر بھی کچھ فسطائی  طاقتوں کی طرف سے یہ آواز اٹھتی رہتی ہے کہ قرآن کے اندر ’’کفار ومشرکین‘‘ کے تعلق سے جو آیات ہیں انہیں قرآن حکیم سے نکال دیا جائے اس کے لئے ماضی میں عدالت کے دروازے پر بھی دستک دی گئی۔ مگر انہیں منھ کی کھانی پڑی۔ جس کتاب کی  حفاظت کا ذمہ اللہ رب العالمین نے لے رکھا ہو اس پر کسی طرف سے کوئی آنچ کیوں کر آسکتی ہے۔

مضمون نگار خود تسلیم کرتے ہیں کہ ’’جہاں تک تعلق ہے عمومی انداز میں ظالموں اور مفسدوں پر لعنت کرنے کا تو یہ مسلمان اور غیر مسلمان سب کے لئے عام ہے‘‘۔ اُن کو معلوم ہونا چاہیے کہ خطبہ جمعہ اور دیگر تقاریر کے اندر یہی عمومی انداز ہوا کرتا ہے۔ ماضی میں اپنے ملک کے اندر جگہ جگہ فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جن میں مسلمانوں کے خون سے کھل کر ہولیاں کھیلی گئیں، ان کی عزت وآبرو پر حملے کئے گئے، ان کے مکانات جلائے اور لوٹے گئے، ان کی جائدادیں تباہ وبرباد کی گئیں اور انہیں کو جیلوں میں قید کیاگیا۔ ایسے نازک اور خوفناک حالات میں علمائے کرام کی ہدایت پر ائمہ مساجد نے دعائے قنوت نازلہ کااہتمام کیا۔ حالات معمول پر آجانے کے بعد یہ سلسلہ بھی رک گیا۔ اس میں  بھی ’’علی الاطلاق غیرمسلم برادران وطن کو لعن وطعن کا نشانہ بنانے کا سرے سے کوئی تصور ہی نہ تھا۔ کسی شخصیت ، کسی پارٹی، کسی قوم اور نسل کا کوئی ذکر نہیں۔ وہ دشمنانِ دین نگاہوں کے سامنے تھے جو کھلے عام فساد برپا کرنے والے اور قتل وخونریزی کے مرتکب تھے۔

الاخوان المسلمون کے ساتھ مصر میں اور تحریک اسلامی کے ذمے داران اور کارکنوں کے ساتھ دیگر بعض ممالک میں خود نام نہاد مسلم حکمرانوں کے ہاتھوں  شرمناک اور انسانیت سوز روش اختیار کی گئی اور ہنوز اس کا سلسلہ جاری ہے ۔چنانچہ مظلومین بھی اپنے حق کا استعمال کرتے ہیں اور اللہ رب العزت سے دعائیں کرتے ہیں کہ وہ ان ظالموں کا قلع قمع کردے ۔ اور خود انہیں صبر وثبات اورتائید وتوفیق سے نوازے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کے اندر دینی شعور کو بیدار کیا جائے۔ انہیں اپنے اس مقام ومنصب کا احساس ہو جس پر اللہ وحدۂ لاشریک نے انہیں فائز کیا تھا۔ وہ اپنے فرائض منصبی سے واقف ہوں اور ان پر عمل پیرا ہوں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ برادران وطن کے سامنے خدا پرستی کا پیغام پیش کیا جائے۔ اس دین سے انہیں واقف کرایا جائے جو اللہ رب العالمین کا پسندیدہ اور تمام بندگان خدا کے لئے ارسال کردہ ہے۔ غیرمسلم برادران وطن سے دعوتی روابط مضبوط ہوں۔ قرآنی اصطلاحات کفر، کافر ، شرک مشرک، جہاد وغیرہ کی عام فہم انداز میں توضیح وتشریح کی جائے تاکہ ان کی غلط فہمیاں رفع ہوں۔ یہ سارے کام اگرچہ انجام پا رہے ہیں مگر رفتار کار انتہائی سست ہے۔ اس میں تیزی آنی چاہئے۔ یہ کام خلوص، للہیت، یکسوئی اور عزم وحوصلے کا طالب ہے۔

اپریل 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau