ایک غلطی جو اکثر شادی شدہ عورتوں سے ہوتی ہے یہ ہے کہ نجی زندگی میں شوہر کی ناپسندیدہ باتوں یا غلطیوں کی شکایت پڑوسیوں یا اپنی سہیلیوں سے کردیتی ہیں۔ اس بات کا خدشہ بھی رہتا ہے کہ عورت بعض باتوں کو بیان کرنے میں مبالغہ آرائی کرجائے ، پھر سہیلیاں اس گفتگو کو اپنے شوہروں کے سامنے بیان کردیں، اور ان میں سے کسی ایک کا شوہر مذکورہ خاتون کے شوہر سے بات کرنے اور نصیحت کرنے پہنچ جائے کہ اپنی بیوی کےساتھ اچھا سلوک کیا کرے۔ ایسی صورت میں مذکورہ عورت کا شوہر پڑوسیوں اور عام لوگوں کے سامنے اپنی سبکی محسوس کرے گا۔ اسے گمان گزرے گا کہ لوگ اس کی بیوی کے توسط سے اس کی ازدواجی زندگی کے ہر راز سے واقف ہو رہے ہیں۔ اس بات سے شوہر مزید پریشان اور تنگ آجائے گا۔ مشکلات حل ہونے کی بجائے بڑھتی جائیں گی اور اپنی بیوی پر سے اس کا اعتماد اٹھتا جائے گا۔
دونوں کے درمیان جو ذاتی زندگی کی شرکت (پرائیویسی) ہے اس کی نوعیت کا ادراک و احساس بیوی کو ہونا چاہیے۔ اسے یہ احساس رہنا چاہیے کہ ازدواجی زندگی کے راز و اسرار کا گھر سے باہر نکلنا درست نہیں ہے۔ یہ باتیں باہر نکل بھی کیسے سکتی ہیں جب کہ ان کی حیثیت ایک امانت کی ہے جس کا بار گھر کے ہر فرد کی گردن پر ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:
“کوئی شخص بات کرے اور پھر ادھر ادھر مڑ کر دیکھے تو وہ امانت ہے۔” (سنن ابی دائود: ۴۸۶۸)۔
یعنی کوئی شخص اپنے بھائی/ دوست سے بات کرتے ہوئے اس خوف سے ادھر ادھر دیکھے کہ کوئی اس کی بات سن نہ لے تو اس قسم کی گفتگواس شخص کے لیےجسے وہ سنا رہا ہے، ایک امانت ہے۔ چنانچہ اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس راز کو کسی دوسرے کے سامنے افشا کرے۔ ایسا کرے گا تو امانت میں خیانت کا مرتکب ہوگا۔
دو آدمیوں کے درمیان رازداری سے کی جانے والی عام گفتگو کے سلسلے میں جب حدیث کا یہ حکم ہے تو اس گفتگو کی کیا حیثیت ہوگی جو گھر کے اندر شوہر اور بیوی کے درمیان طے پا رہی ہو، اور شوہر کو یہ یقین بھی ہو کہ ان دونوں کی گفتگو کو اللہ کے سوا کوئی نہیں سن رہا ہے؟ کیا بیوی سے گفتگو کرتے وقت اسے یہ اطمینان نہیں رہتا ہوگا کہ یہ گفتگو کسی کے کانوں تک نہیں پہنچے گی؟!
زوجین کے درمیان ہونے والی گفتگو عظیم امانت ہے۔ یہ بات ہر عورت اور ہر مرد کے لیے سمجھ لینی ضروری ہے۔ گھریلو باتیں، جن کے سلسلے میں ضروری ہے کہ زوجین کے علاوہ کسی کو ان کی بھنک نہ لگے اور اگر دونوں میں سے کسی کو معلوم ہوجائے کہ باہر کا آدمی ان سے واقف ہو گیا ہے تو ناراض ہوجائے، تو ایسی باتیں امانت ہیں اورامانت کا خیال نہ رکھنا اور ایسے راز کا فاش ہوجانا سنگین بات ہے۔ حدیث میں فرمایا گیا ہے:
“جب امانت ضائع کر دی جائے تو قیامت برپا ہونے کا انتظار کرو۔” (بخاری: ۶۱۳۱)
اسلام یہ نہیں چاہتا کہ گھر کے معاملات سرعام لائے جائیں اور تمام لوگوں کے سامنے عیاں کردیے جائیں۔ اسی لیے اگر زوجین کے درمیان اختلاف و مسائل پیدا ہوجاتے ہیں اور دونوں ہی انھیں حل کرنے یا ان پر قابو پانے میں ناکام رہتے ہیں تو اسلام نے ’تحکیم‘ کا اصول مقرر کیا ہے اور ایک حَکَم (ثالث) شوہر کے گھر سے اور ایک حکم بیوی کے گھر سے مقرر کرنے کی ہدایت دی ہے جو اس ’تحکیم‘ کو انجام دیں گے۔ (دیکھیں: النساء: ۳۵)
یہ اصول اس لیے مقرر کیا گیا ہے تاکہ گھر اور خاندان کے راز فاش نہ ہوں اور عام لوگ ان سے واقف نہ ہوں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دونوں حَکَم شوہر اور بیوی کے ہی گھرانے سے ہوں گے تو ان کی تمام تر کوشش وخواہش زوجین کے درمیان صلح و موافقت کرانے کی ہی ہوگی۔ یہاں اگر زوجین، یعنی شوہر اور بیوی میں سے کوئی اپنی طرف سے مقرر کردہ رشتے دار کو راز کی باتیں بتا بھی دے گا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔
لغزش کے جواب میں بدمزاجی
بیوی کے سلسلے میں شوہر سے کوئی لغزش یا خطا ہو جائے تو بعض عورتیں گھریلو زندگی میں کڑواہٹ و تلخی پیدا کرنے کا انداز اختیار کر لیتی ہیں۔ گھریلو زندگی میں کڑواہٹ یا تلخی مختلف طریقوں سے گھولی جا سکتی ہے۔ سب سے کم ناگوار انداز یہ ہے کہ بیوی شوہر کے سامنے منہ پھلائے رہے۔ اسے اپنے چہرے کی مسکراہٹ اور فطری و دلکش نظروں سے محروم رکھے۔ اسلام نے تو عام مسلمانوں سے ملاقات کے وقت مسکراہٹ اور خندہ پیشانی سے پیش آنے کا حکم دیا ہے اور اسے اللہ سے قربت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ حدیث میں ہے:
تمھارا اپنے بھائی کے لیے مسکرانا صدقہ ہے۔(ترمذی : ۱۹۶۵، صحیح ابن حبان: ۴۷۴، ۵۲۹)
اپنے شوہر کے سامنے بیوی کا کھِلے ہوئے چہرے کے ساتھ آنا بلا شبہ اللہ سے قربت و تعلق کا ذریعہ ہوگا اوراس وقت اور زیادہ محبوب و پسندیدہ قرار پائے گا جب وہ اس عمل کواللہ کے حضور قابل اجر تصور کرے گی۔ بعض عورتیں ازدواجی زندگی کو تلخ و ترش بنانے میں ماہر ہوتی ہیں۔ اس میدان میں مختلف ہنر آزما کر وہ ازدواجی زندگی کو بہ آسانی تباہ و برباد کر دیتی ہیں اور انھیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ بعد میں شکایت کرتی ہیں کہ ان کا شوہر ظالم ہے، سختی کرتا ہے اور ان سے برائے نام محبت کرتا ہے۔ بات یہ ہے کہ ازدواجی زندگی کی تلخی کبھی بھی کسی گھریلو مسئلے کو حل کرنے کی وجہ نہیں بنتی، اور نہ اس وجہ سے کبھی شوہر اپنی اس حرکت سے باز آتا ہے جس کی وجہ سے وہ اس سے نفرت و ناپسندیدگی کا اظہار کرتی ہے۔ بیویاں جن باتوں کو شوہروں کی غلطیاں تصور کرتی ہیں ان کی اصلاح کا طریقہ صرف یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو سمجھیں، نہ کہ عورت بدمزاجی اور ترش روئی کا رویہ اختیار کرلے۔ اندیشہ ہے کہ ترش روئی کا یہی رویہ بعد میں شوہر کے ساتھ سرد مہری اور بے رخی کی شکل اختیار کرلے گا۔
‘میلیسا سینڈرز’ (Melissa S Sander)نامی امریکی خاتون نے تقریباً ایک ہزار ایسی خواتین کے درمیان سروے کیا جن کی شادی کو تین سے بیس سال مکمل ہو چکے تھے۔ اس تحقیقاتی سروے سے وہ اس نتیجے پر پہنچیں کہ ازدواجی زندگی سے شوہر کے انحراف کی بیش تر وجہ بیویوں کی سرد مہری اور بے اعتنائی ہوتی ہے۔ (How to Win Friends By Dale Carnegie)
مرد اپنی فطرت کے اعتبار سے اَڑیل اور ضدی ہوتا ہے۔ بیوی کا اسے چیلنج کرنا ناگوار ہوتا ہے۔ اس کے خیال سے بیوی کا بدمزاجی کے ساتھ پیش آنا قابل سزا بغاوت و سرکشی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس لیے سمجھ لینا چاہیے کہ ازدواجی زندگی میں تلخی و ترشی مشکلات میں اضافے کا ہی سبب بنے گی نہ کہ انھیں حل کرنے میں معاون ہوگی۔ باشعور اور سمجھ دار بیوی وہ ہوتی ہے جو اپنے شوہر کی سرگرمیوں یا ناخوش کرنے والی غلطیوں کو نگاہ میں رکھے اور اسے مشتعل کیے یا غصہ دلائے بغیر انھیں درست کرنے کی کوشش کرے۔ بیوی کے علم میں یہ بات بھی رہنی چاہیے کہ عورت جب اپنے شوہر کا سکون غارت کرتی ہے یا اس کی زندگی میں تلخی پیدا کرتی ہے تو ایک سنگین گناہ کی مرتکب ہوتی ہے اور اپنی ازدواجی زندگی کو تباہ کرنے میں شیطان کی پیروی کرتی ہے۔
شوہر کی غلطیوں کو سدھارنے کے لیے حکمت و صبر اور خوش گوار رفاقت کی ضرورت ہے۔ شوہر کے ساتھ خوش گوار زندگی، اس کے ساتھ خوش اسلوبی اور اس کی اطاعت و فرماں برداری ایسے تمام اسباب کا صفایا کردیتی ہے جن سے زوجین کے درمیان کڑواہٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ اس طرح شوہر اپنی بیوی کو معاف کرنے اور اس کے ساتھ درگزر کا رویہ اختیار کرنے کی طاقت ور تحریک پاتا ہے اور ٹھہر کر اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ بیوی کا رویہ اچھا ہو تو شوہر کو بھی یہ احساس ہوگا کہ اس کی بیوی اس کے غلط رویوں کے باوجود اس کی خوشی کا خیال کررہی ہے، اس لیے بیوی کی اس بردباری اور صبر کی اسے قدر کرنی چاہیے۔ بلا شبہ یہ طریقہ شوہر کے رویے اور سلوک میں بہتری لانے کا سبب بنے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (فصلت: ۳۴)
(اور اے نبیؐ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔ )
عام انسانوں سے اس طرح کا حسنِ سلوک اختیار کرنے کا حکم ہے تو ان کے ساتھ کیسا سلوک ہونا چاہیے جوہمیں محبوب ہیں اور ہم انھیں محبوب ہیں؟!! کیا اولیٰ و احسن یہ نہیں ہوگا کہ اگر شوہر غلطی کرے تو حسن سلوک کے ذریعے اس کی اصلاح کی جائے؟!
حد سے زیادہ جھگڑنا
کبھی کبھی بیوی اپنے شوہر کی کسی غلطی کا جواب جھگڑے کی شکل میں دیتی ہے۔ اگرچہ غلطی کرنے والے سے جھگڑا ہوجانا ممکن بات ہے، لیکن اس کی کچھ شرطیں ہیں۔ سب سے اہم شرط یہ ہے کہ وہ غلطی واقعی جھگڑے کو دعوت دینے والی ہو اور جھگڑا یا تنازع ہو جائے تو اس میں حد سے تجاوز نہ کیا جائے۔ بعض عورتیں ہیں کہ جھگڑے کو حد سے پار لے جاتی ہیں اور چھوٹی اور معمولی باتوں پر انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ جھگڑے کو حد سے زیادہ طول دینے سے اسلام نےعام معاملات میں روکا ہے تو شوہر کے ساتھ جھگڑنے میں اس کامظاہرہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟!
ام المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اللہ رسولﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو جھگڑے میں حد سے آگے بڑھ جانے والا ہو۔‘‘(بخاری: ۲۳۲۵، مسلم: ۶۷۲۲)
عام جھگڑوں کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کا یہ حکم ہے تو ازدواجی زندگی میں تو اس کی شدت اور بڑھ جاتی ہے، اور وجہ یہ ہے کہ شادی ذاتی معاملات میں شرکت یعنی پرائیویسی والا رشتہ ہے اور لڑائی جھگڑا اس رشتے کی تباہی کا باعث بنتا ہے۔ ہماری نظر سے ایسے بہت سے لوگ گزرے ہیں جنھوں نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی۔ طلاق دینے کا بنیادی سبب یہ تھا کہ ان کی ہر حرکت و سرگرمی کے سلسلے میں ان کی بیویاں حد سے زیادہ حساس رہتی تھیں۔ جھگڑا کر نے کے لیے پر تولے رہتی تھیں۔ نہ مفاہمت کے لیے آمادہ ہوتی تھیں اور نہ معذرت قبول کرنے کے موڈ میں ہوتی تھیں۔
ایسے رویے سے اور کسی کی معذرت یا عذر قبول نہ کرنے سے اللہ کے رسولﷺ نے بچنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’ جو اپنے بھائی کے سامنے عذر پیش کرے اور وہ اس کے عذر کو قبول نہ کرے تو وہ اسی طرح گناہ گار ہوگا جس طرح ناجائز محصول لینے والا گناہ گار ہوتا ہے۔ ‘‘ (ابن ماجہ: ۳۷۱۸)
حدیث میں ’مکس‘کا لفظ استعمال ہوا ہے اور’مکس‘ ایک طرح سے لوگوں کا مال ناجائز طور پر ہڑپنے کو کہتے ہیں۔ ایسے شخص کو اللہ کے رسولﷺ نے جہنم کی آگ اور برے انجام کی وعید سنائی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’ (ناجائز محصول وغیرہ کی شکل میں) مال ہڑپنے والاجنت میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘ (ابوداؤد: ۲۹۳۷)
واقعات گواہی دیتے ہیں کہ بیوی کے معاملےمیں شوہر سے کوئی غلطی ہو جائے اور وہ اس کے ردعمل میں بے تحاشا لڑنے جھگڑنے لگے تو اس سے معاملات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں اور مسئلے کا حل نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سے دونوں کے درمیان فاصلہ الگ بڑھتا ہے اور شوہر بیوی کے ساتھ صلح و مصالحت سے مایوس ہو جاتا ہے۔ اسے یہ اچھا نہیں لگتا کہ بار بار بیوی کے سامنے معذرت کرتا رہے، بلکہ عمومی طور پر مرد حضرات کو [بیوی کے سامنے] معذرت کرنا یا عذر پیش کرنا گوارا نہیں ہوتا۔ یہ مرد کی طبیعت اور مزاج کا معاملہ ہے۔ معذرت کرنا اس کے لیے بھاری عمل ہوتا ہے۔ وہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف عورت کے مزاج میں آسانی سے معذرت کر لینا ہے۔ ’’مجھے افسوس ہے‘‘ ، ’’مجھے معاف کردو‘‘ یا اسی طرح کے الفاظ ادا کرنے میں اسے کوئی تکلف نہیں ہوتا۔
ایک ماہر نفسیات ایوان کرسٹن لکھتی ہے:
’’کسی کے تعلق سے غلطی کر جانے پر اس کے سامنے افسوس کے اظہار کا نام معذرت ہے۔ اکثر مرد کی بنسبت عورت غلطی کا اعتراف کر لیتی ہے، اس لیے کہ اپنی غلطی تسلیم کرنا اس کے لیے آسان ہوتا ہے۔ مردوں کے یہاں اصل مسئلہ ’’مرتبے‘‘ کی برتری و کم تری کا ہوتا ہے۔۔۔ اور معذرت مرد کو نچلے مرتبے پر پہنچا دیتی ہے، اس لیے وہ ایسا کرنے سے بچتا ہے۔ ‘‘
ایوان کرسٹن کے مطابق مرد کی طرف سے عذر ومعذرت کا اظہار ایک مشکل امر ہے، البتہ عورت کے تعلق سے یہ اتنا مشکل نہیں ہے۔ اس کی وجہ دونوں کے مزاج و فطرت کا فرق ہے اور یہ کہ چیزوں کو دونوں الگ الگ نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس لیے آپ شوہر سے لڑنے جھگڑنے میں حد سے تجاوز نہ کریں۔ ہر بار ایسا نہ ہو کہ آپ مرد سے ہی معافی مانگنے کا مطالبہ کریں۔ وہ ایسا کرے گا ہی نہیں اور نہ اس طرح سے معاملات کبھی درست ہوں گے۔ آپ معاملات کو خوش اسلوبی سے نمٹائیں، معذرت قبول کرلیں، صبر اور درگزر سے کام لیں تو شوہر کی طرف سے بھی خوش معاملگی اور ہر طرح کی محبت پائیں گی:
هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (الرحمن: ۶۰)
(نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ )
مستقل نکتہ چینی اور بے چینی
شکوہ شکایت کرنا، ہر وقت مضطرب و پریشان رہنا، ضد اورہٹ دھرمی کا مظاہرہ، یہ وہ صفات ہیں جنھیں عورتیں خاص طور سے شوہر کے معاملے میں اس وقت بہت جلد اختیار کر لیتی ہیں جب وہ ان کی پسند کے خلاف کام کردے، یا کسی معاملے میں اس سے کوئی غلطی ہوجائے۔ مثال کے طور پر وہ بیوی کی کوئی فرمائش پوری کرنا بھول جائے، حالاں کہ نئی نئی فرمائشوں سے اسے پریشان کیے رکھتی ہو، جس کی وجہ سے وہ بعض چیزوں کو ملتوی (delay)کردیتا ہو۔ کوئی کام پورا نہ کرنے پر یہ تک کہہ گزرتی ہے کہ ’’میں ہزار بار تم سے یہ کام کرنے کے لیے کہہ چکی ہوں۔۔۔‘‘۔ اسے بیوی کی شکایت و ملامت سننی پڑتی ہو۔ مرد عام طور پر ایسی عورت کو پسند نہیں کرتے، نہ انھیں شکوہ شکایت اور کسی کام کے سلسلے میں اصرار یا اس قسم کا حکم دینا پسند ہے کہ ’’فلاں چیز کیوں نہیں لائے؟ میں نے تم سے کہا تھا کہ مجھے وہ چیز چاہیے، تمھیں میری باتوں کی کوئی پروا ہی نہیں ہے۔۔۔‘‘
مرد حضرات (شوہر) کو پسند نہیں کہ انھیں حکم دیا جائے۔ انھیں حکم دینا پسند ہے نہ کہ حکم قبول کرنا۔ ایوان کرسٹن کہتی ہے: ’’مرد حضرات کو یہ برداشت نہیں ہوتا کہ ان پر نکتہ چینی کی جائے یا انھیں ان کی ذمے داری یاد دلائی جائے۔ وہ تو حکم ماننے کی جگہ حکم دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔‘‘
بسا اوقات شوہر کو غلط تصور کرنے میں عورت خود بھی غلطی کر جاتی ہے، خاص طورسے اس وقت جب کوئی معاملہ اسے بے چین اور فکر مند کر دینے والا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت ہر چیز کے بارے میں سوچنے اور اسے دماغ میں لیے رہنے کی عادی ہوتی ہے۔ کسی مسئلے کے سلسلے میں وہ یہ کہہ سکتی ہے کہ اسے ڈر ہے کہ آگے چل کر کچھ غلط ہو نے والا ہے، یا بچوں کے مستقبل کے سلسلے میں ہر وقت پریشان و بے چین رہتی ہے وغیرہ۔ ایسے بہت سے معاملات ہیں جن کے سلسلے میں وہ سوچ سوچ کر پریشان اور بے چین رہتی ہے۔ ان معاملات میں شوہر اس کی پریشانی میں شریک نہ ہو تو اسے منفی مزاج کا حامل انسان سمجھنے لگتی ہے۔ وہ یہ تصور کرلیتی ہے کہ شوہر کو کسی چیز کی پروا نہیں ہے اور گھر اور بچوں کے معاملات میں دلچسپی نہیں لیتا۔ وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ بیوی کی فکرمندیوں میں شریک نہیں ہوا۔ حالاںکہ عورت کو یہ حقیقت معلوم رہنی چاہیے کہ مرد عام طور پر عورتوں کی بہ نسبت کم پریشان اور بے چین ہوتے ہیں، اگرچہ بعض مرد ایسے بھی ہو ں گے جو مضبوط ارادے کے مالک نہیں ہوتے۔ پریشان وفکر مند تو مرد حضرات بھی ہوتے ہیں، لیکن عموماً عورتوں کی بہ نسبت وہ کم ہی اس کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بیوی کا پریشان رہنا اور ہر وقت کی شکایات شوہر کے لیے ناقابل حل مسائل کا سبب بن جاتی ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بیوی سے علیحدگی اختیار کرنے پر مجبور ہوجائے۔ بعض عورتوں کے معاملےمیں عملاً ایسا ہوا بھی ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض لوگ یہ اعتراف تو کرتے ہیں کہ ان کی شریکِ زندگی اچھی بیوی اور اچھی ماں ہے، لیکن یہ بھی کہتے ہیں کہ’’ اب اس کے ساتھ زندگی گزارنا ممکن نہیں رہا۔‘‘
حقیقت یہی ہے کہ بیوی کا حد سے زیادہ پریشان و مضطرب رہنا اور ہمیشہ شکایتیں کرتے رہنا ازدواجی زندگی کو ایک مشکل مشن بنا دیتا ہے، جس کا بوجھ اٹھانے کی ہمت شوہر نہیں کر پاتا، اس پر مستزاد یہ کہ بیوی خود کو غلط نہ سمجھتی ہو۔ آپ اس سے پریشانیوں کا سبب دریافت کریں گے تو وہ یہی جواب دے گی کہ’ پریشانیوں کی وجہ شوہر ہے۔ اسے کسی چیز کی پروا ہی نہیں ہے۔‘ مخلص و وفادار بہن! اگر آپ خوش گوار زندگی کی خواہاں ہیں تویہ نصیحت ضرور سن لیجیے:
اپنی بے چینی کو کم کریں، شکایات کا سلسلہ کم کریں، صبر کرنے کی عادت کو مضبوط کریں، شوہر سے زیادہ سے زیادہ محبت کریں اور فرمائشوں کے لیے ضد نہ کریں، کیوں کہ ضد نفرت کا سبب بنتی ہے۔
دوسرے مردوں سے شوہر کا موازنہ
عورتوں کی باہم گفتگوئیں اپنے شوہروں کے ذکر سے خالی نہیں ہوتیں۔ اکثر عورتیں اپنی خوش گوار گھریلو زندگی کا ذکر کرتے ہوئے مبالغہ آرائی سے کام لیتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ شوہر ان کے حقوق کا بہت خیال رکھتا ہے۔ بعض عورتیں تو جھوٹے سچے قصے بھی گھڑ لاتی ہیں تاکہ خود کو دوسری عورتوں سے بہتر ظاہر کر سکیں۔ اور جو عورت ان باتوں کی حقیقت کی تہہ تک نہیں پہنچ پاتی وہ دوسری عورتوں کی زبانی ان کے شوہروں کے قصے سن کر یہ خیال کرنے لگتی ہے کہ اس کا شوہر تو اس کی خدمت میں کوتاہی کرتا ہے، وہ تو ایسے اور ایسے کرتا ہے۔ حالاں کہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس عورت کا شوہر باقی دوسری عورتوں کے شوہروں سے اچھا ہو اور دوسری عورتیں حقیقت بیان نہ کر رہی ہوں، یا اصل حقیقت کو توڑ مروڑ کر بیان کر رہی ہوں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے شوہروں میں بہت سی خرابیاں ہوں لیکن وہ اس عورت کے سامنے بیان نہیں کرتی ہوں۔
غرض جو عورت ایسی گفتگوؤں اوران میں کی جانے والی مبالغہ آمیز باتوں کی حقیقت سمجھ نہیں پاتی اسے اپنے شوہر کے سوا باقی تمام مرد ایک مثالی صورت میں نظر آتے ہیں۔ دراصل اپنے شوہر کی تو اچھائیاں اور برائیاں دونوں اس کی نگاہ میں رہتی ہیں، لیکن دوسرے شوہروں کی صرف اچھائیاں ہی اسے سننے کو ملتی ہیں۔ چنانچہ اسے اپنی ازدواجی زندگی پر جھنجھلاہٹ اور غصہ آنے لگتا ہے۔ اپنے شوہر کی انھی حرکتوں اور رویوں پر تنقیدیں کرنے لگتی ہے جن پر پہلے نہیں کرتی تھی۔ شوہر کی سکت سے باہر کے مطالبات شروع ہو جاتے ہیں، حالات جنھیں پورا کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ شوہر انکار کردے تو کہتی ہے: ’تم فلاں اور فلاں کی طرح کیوں نہیں ہو؟!! ان کے اور ہمارے حالات تو ایک جیسے ہی ہیں۔ اس کے باوجود وہ یہ اور وہ چیزیں خریدتے ہیں، ایسے اور ویسے رہتے ہیں۔‘ یا شوہر کو مشورہ دے گی کہ ’تم اس ملازمت کو چھوڑ کر فلاں کی طرح دوسری ملازمت کیوں نہیں کر لیتے۔ وہ تو بہت خوش حال ہے اور پیسہ بھی اس کے پاس خوب ہے۔‘ وغیرہ وغیرہ
عورت دوسروں کی زندگی کے حالات جان کر اپنے شوہر کی غلطیاں سدھارنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے وسائلِ معاش کو اپنے گھر پر منطبق کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ حالاں کہ اگر وہ عورت اپنے اندر جھانک لے تو اسے معلوم ہوگا کہ ہر چھوٹی بڑی چیز میں دوسروں کی نقالی کرنا، دوسروں کے پاس کیا ہے اس پر نظر رکھنا، انھیں حرص و خواہش کی نظر سے دیکھنا اور ہمیشہ اپنی اور دوسروں کی زندگی کے درمیان موازنہ کرتے رہنا بہت غلط طریقہ ہے۔ یہ طریقہ مشکلات و مسائل کو بڑھا دینے والا ہے۔ اس سے معاملات میں پیچیدگی کےسوا کچھ نہیں ہوتا۔
مسلمان عورت کو دوسروں کے پاس کیا ہے، اس پر نظر نہیں رکھنی چاہیے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:
وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٓ ٖ اَزْوَاجًا مِّنْـهُـمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا لِنَفْتِنَـهُـمْ فِيْهِ ۚ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْـرٌ وَّاَبْقٰى (طہ: ۱۳۱)
(اور نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھو دُنیوی زندگی کی اُس شان و شوکت کو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے۔ وہ تو ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے دی ہے، اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق حلال ہی بہتر اور پائندہ تر ہے۔)
عورت جب دوسروں کے مال و اسباب پر نظر رکھے گی تو اپنے وسائل زندگی پر اسے شکایت ہوگی اور اللہ نے جو نعمتیں اسے دی ہیں انھیں حقیر سمجھے گی۔ شریعت میں اس سے روکا گیا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: ’’ اس کو دیکھو جو تم سے(مال و اسباب میں) کم تر ہے، اس کو مت دیکھو جو تم سے بہتر ہے- اس لیے بہتر یہی ہے کہ تم اللہ کی نعمتوں کی ناقدری نہ کرو۔‘‘ (مسلم: ۷۳۵۶، ترمذی: ۲۵۱۳)
عورت کو اپنے شوہر کا موازنہ دوسروں کے شوہروں سے کبھی نہیں کرنا چاہیے۔ ہوسکتا ہے خود اس کا شوہر زیادہ خوش حال و بہتر ہو، لیکن اسے اس کا اندازہ نہ ہو۔ بے شک دوسروں کے حالات و وسائل پر نظر رکھنے سے شیطان دل کے اندر راستہ پا لیتا ہے اور اس بنیاد پر اسے غم زدہ اور پریشان کرتا ہے۔ اس لیے ہمیں شیطان کے جال میں نہیں پھنسنا چاہیے۔
شوہر کی اجازت کے بغیر گھر چھوڑنا
عورت کے ذہن میں یہ بات آ سکتی ہے کہ شوہر حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرے تو اس کی اجازت کے بغیر گھر چھوڑ کر چلے جانے سے شوہر کی اصلاح ہو جائے گی یا وہ دوبارہ بیوی کے حقوق میں کوتاہی سے باز آ جائے گا۔ اس کا ایسا سوچنا غلط ہے۔ اس لیے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر گھر چھوڑنا بذات خود ایک بڑی غلطی ہے۔ یہ حرکت اس غلطی سے بھی بڑی ہو سکتی ہے جو شوہر اس کے حقوق کے سلسلے میں کر رہا ہے۔ یہ کوئی معقول بات نہیں ہے اور نہ درست ہے کہ غلطی کی اصلاح ایک دوسری غلطی یا اس سے بڑی غلطی انجام دے کر کی جائے۔ شوہر کی اجازت لیے بغیر گھر چھوڑ کر جانا اس کے دل میں رنجش و کدورت کا باعث بنے گا اور وہ اسے اپنے خلاف زیادتی اور بغاوت تصور کرے گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شوہر اس پر شدید غصے کی شکل میں فوری ردعمل ظاہر کرے۔ اس طرح تو یہ قدم مسئلے کو حل کرنے میں معاون ہونے کے بجائے مزید مشکل کھڑی کر دے گا۔ ایسے بیش تر معاملات میں ہم نے یہ پایا ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے مصالحت پرعدم آمادگی کے ساتھ یہ تہیہ کر لیتا ہے کہ اسے خود آنا ہوگا تو آ جائے گی۔ ایسا کہنا اس کا حق بھی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بیوی بھی مصر ہوجائے کہ جب تک معاملات صاف نہیں ہوں گے وہ واپس نہیں آئے گی۔ صورت حال اس طرح پیچیدہ تر ہو جائے گی اور نوبت طلاق تک پہنچ سکتی ہے۔
ایک بات تو یہ ہوئی۔ دوسری بات معروف ہے کہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے بیوی کا نکلنا ممنوع ہے۔ حضرت نافع بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت صاحب مال و دولت تھی۔ اس نے اپنے شوہرسے حج پر جانے کی اجازت چاہی۔ شوہر نے اجازت نہیں دی تو اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: ’’ اس کے لیے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر حج کے لیے نکلنا جائز نہیں ہے۔ ‘‘ (سنن البیہقی: ۱۰۲۵۸)
حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ بیوی پر شوہر کا یہ حق ہے کہ وہ شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو اس وقت تک فرشتے اس پر لعنت بھیجیں گے جب تک وہ واپس آکر توبہ نہ کر لے۔ ‘‘ (سنن ابی یعلی: ۲۴۵۵)
گھر چھوڑنے میں بیوی کو جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے، ورنہ بغیر اجازت گھر سے نکلنے کی گناہ گار ہوگی۔ اس کے برخلاف اسے حکمت ودانش مندی سے مسئلے کو حل کرنا چاہیے۔ اگر اسے لگتا ہے کہ شوہر اس کے حق میں غلطی کر رہا ہے اور اس کی غلطیوں کو برداشت کرنا اس کے لیے ممکن نہیں ہے، یا وہ اسےاذیت و تکلیف سے دوچار رکھتا ہے تو ’تحکیم‘ کا سہارا لینا چاہیے۔ یعنی ایک’حَکَم‘(ثالث) شوہر کے گھر والوں کی طرف سے اور ایک بیوی کے گھر والوں کی طرف سے آئے۔ شوہر اور بیوی دونوں اپنی باتیں اپنے اپنے حَکَم کے سامنے بیان کریں۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ ان کے درمیان صلح کی صورت پیدا کر دے، دونوں کے نقطۂ نظر میں قربت آ جائے اور اگر شوہر قصور وار ہے تو بیوی کے سلسلے میں سرزد ہونے والی غلطیوں سے باز آ جائے اور اگر بیوی شوہر پر زیادتی کر رہی ہے اور اس کے خلاف جانب داری سے کام لے رہی تو ہوش سے کام لے۔ اس طرح ممکن ہے دلوں کی کدورتیں صاف ہوجائیں۔ البتہ بہتر یہ ہے حکم مقرر کرنے سے پہلے شوہر اور بیوی خود اختلافات کو ختم کرنے اور معاملات کو حل کرنے کی کوشش کریں، کیوں کہ کبھی کبھی جنھیں حَکَم یا ثالث مقرر کیا جاتا ہے وہ بھی باشعور نہیں ہوتے اور دونوں مخالف فریق پر ذمے داری ڈال کر اپنے فریق کی غلطیوں کو درست قرار دینے لگتے ہیں۔ اس سے معاملات پیچیدہ اور مزید بگاڑ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آج کے دور میں تو ایسے گھرانے بھی کم ہی ہیں جو غیر جانب دار و انصاف پسند ہوں اور خطاکار سے یہ کہہ سکیں کہ تو غلطی پر ہے خواہ وہ ان کا رشتے دار ہو یا ان کی نظر میں بڑا آدمی ہو۔ اب تو زیادہ تر لوگ ایسے ہی ہیں جو دوسروں کو مورد الزام ٹھہرا دیتے ہیں۔ حَکَم کے معاملے میں لوگوں کو اللہ سے ڈرنا چاہیے اور عدل کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا كُـوْنُـوْا قَوَّامِيْنَ لِلّـٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَـاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓى اَلَّا تَعْدِلُوْا ۚ اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى ۖ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ خَبِيْـرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (المائدہ: ۸)
(اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے۔)
شوہر کی خوبیوں سے انکار یا فراموشی
شوہروں کی غلطیاں بیان کرتے وقت یا ان کی غلطیوں کی اصلاح کے سلسلے میں بیویوں سے عموماً ایک غلطی ہو جاتی ہے۔ وہ یہ کہ وہ شوہر کے ہر احسان کا انکار کر دیتی ہیں، اس کی اچھائیوں کو بھول جاتی ہیں اور صرف برائیوں کو یاد رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر کہیں گی: “اس نے کبھی میرے لیے کچھ اچھا نہیں کیا، وہ تو ایسا اور ایسا ہے۔” اور اس کے عیوب اور غلطیاں گنوانی شروع کردیں گی۔ اس طرح وہ شوہر کے دل میں نفرت و رنجش بھر دیتی ہیں۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ بیوی کے ساتھ کتنی ہی بھلائی کرے وہ آخرکار سب کچھ فراموش کر دے گی، بلکہ اس کے تمام اچھے کاموں کا انکار ہی کرے گی۔ اس قسم کی عورتیں اسلام میں ناپسندیدہ ہیں کیوں کہ یہ ناشکری ہوتی ہیں اور احسانات کا انکار کرتی ہیں۔ ایسی عورتیں اللہ کی ناراضگی کو دعوت دیتی ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ نےاس قسم کے رویے سے ہوشیار فرمایا ہے۔ (جاری)







