انسانی اقدار اور ہندومت کی تعلیمات

مریم جمیلہ

آج دنیا کے سامنے ایک اہم مسئلہ بنیادی انسانی اقدار کی بحالی کا ہے ۔روزمرہ کی خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کے تقریباً تمام ممالک کہیں نہ کہیں دہشت گردی ، قتل وغارت گری ،تخریب کاری ،ناانصافی ،عدم مساوات ، انسانی حقوق کی پامالی کی زد میںہیں ۔ بدعنوانی ،جرائم ،خوں ریزی اور دہشت گردی کے مسلسل بڑھنے کی وجہ سے انسان عدم تحفظ کے احساس سے دوچار ہے ، اور کسی بھی قیمت پر امن وامان اوراپنی جان کی بقا کا خواہش مند ہے ۔ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے ، وہ بھی انہیں ممالک کی فہرست میں شامل ہے ۔یقینا ہندوستان میں ان جرائم کو ختم کرنے کی بڑے پیمانے پر کوششیں کی جارہی ہیں ۔ وسائل اس تعلق سے خرچ کیے جارہے ہیں مگر نہ امن کا قیام عمل میں آرہا ہے اورنہ جرائم وبدعنوانی کا خاتمہ ہورہاہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سلسلے میں کی جانے والی کو ششوں پر نظر ثانی کی جائے اورایسے پر امن طریقوں کو اختیار کیا جائے جو ہندوستان کے بہتر مستقبل کی تخلیق کے ضامن ہوں ۔

ہندوستان ایک قدیم ملک ہے ۔دنیا کے جن خطّوں میں پہلے پہل انسانی تہذیب وتمدن نے اپنی آنکھیںکھولیں ، ان میں ہندوستان کو بھی شمار کیا جاتاہے ۔ بلاشبہ ہندوستان مختلف مذاہب اورتہذیبوں کا گہوارہ ہے ۔ جہاں مختلف رنگ ونسل کے باشندے پائے جاتے ہیں ۔واقعہ یہ ہے کہ عدم تحفظ ، بدعنوانی اورانسانی قدروں کی پامالی کے خاتمے اورعالمی سطح پر امن کے قیام میں مذاہب انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ ہندومت بھی اسی ہندوستان میں پیداہونے والا دنیا کے مذاہب میں ایک قدیم مذہب ہے ۔اس میں رواداری کے بہت سے تصورات موجود ہیں۔

ہندو مت کارول

لفظ ہندو فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی سیاہ کے ہیں ۔اس لفظ کو مسلمانوں نے ان لوگوں کے لیے استعمال کیا جو دریائے سندھ کے اس پار رہنے والے تھے۔ ۱؎    چنانچہ آریوں کا جو پہلا گروہ ہندوستان آیا انہوںنے سندھ ندی ، جو ایران اورہند کی سرحد پر پڑنے والی پہلی ندی ہے اس کو ہند کہا اور اس سندھ ندی کے پار جتنے لوگ بسے ہوئے تھے انہیں ہندو کہا ۔اوران لوگوں کے دھرم کو ہندو دھرم کا نام دیا ۔

ہندومت میں قدرت کی طاقتوں کے تقدس کا تصور ملتا ہے۔ اخوت ،نیکی اورسچائی کی ترغیب بھی موجود ہے۔ خالقِ کائنات کو مالکِ کل سمجھنا اور اس کی پرستش کی تلقین بھی روایات کا حصّہ ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ ہندو مذہب کی روایات پیچیدہ اورمنظم ہیں ۔ واضح اورمتعین مذہبی اصول نہیں ملتے۔  اس کے باوجود جابجا انسانی اقدار کی تعلیمات نظر آتی ہیں ۔نیکی پر ابھارا گیا ہے۔ اوراس کی جزا ء بیان ہوئی ہے ۔ بدی سے اجتناب کی تلقین ہے اوراس کی سزائیں بھی متعین کی گئی ہیں ۔

ویدوں کی اخلاقی تعلیمات

ہندو مذہب کی بنیاد کےطور پر وید مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وید ہی ہندومت کی مذہبی کتب کی بنیاد ہیں ۔ ہندوؤں کا سوادِ اعظم کسی نہ کسی ذریعہ سے وید سے اپنے آپ کو وابستہ کرتا ہے ۔ اپنیشد ، پران ، دھرم سوتریعنی مذہبی کلیات اور برہمن گرنتھوں کی اصل وید ہی ہے ۔ وید کے معنی ہیں علم کا منبع۔ یہ وِدْ مادہ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیںگیان ، شروتی یا علم حاصل کرنا ۔۲؎ ویدوں کی تعلیم کے نمونے درج ذیل ہیں۔

رگ وید میں مذکورہے :

’’اے میرے مالک !ہمیں تہمت لگانے والا ، باتونی اوربخیل نہ بنا ئیو۔ میرے سارے اعمال تو تیرے ہی لئے ہیں ۔‘‘۳؎

دوسری جگہ مذکور ہے :

’’بدعمل انسان راہ حق پر نہیں چل سکتا ۔‘‘۴؎

برے اعمال کی ممانعت میں رگ وید کا کہنا ہے : ــ

’’اے جواری !جوا مت کھیل، کھیتی کر، خوب سوچ سمجھ کر اپنی دولت کا استعمال کر۔ وہاں گائیں ہیں ، تیری بیوی ہے  ان کی خیر خبر لے۔ یہ نصیحت پرمیشور انسانوں کو کرتا ہےــ‘‘۔۵؎

اتھر وید اخلاقِ حسنہ کی تعلیم دیتے ہوئے کہتاہے :

’’بھائی بھائی سے حسد نہ کرے ،بہن بہن سے حسد نہ کرے۔حسنِ اخلاق سب کا شیوہ اوریکساں اعمال سب کا وطیرہ ہوں‘‘ ۔۶؎

’’بیٹا باپ کے پیچھے چلنے والا (اطاعت شعار)اور ماں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آنے والا ہو۔ بیوی شوہر سے بھلی اور سکون پہنچانے والی بات کرے‘‘۔ ۷؎

بھائی چارے اور مساوات کی دعوت دیتے ہوئے اتھر ویدکے کانڈ ۳ کے ایک منتر کا مفہوم اس طرح ہے:

’’تمہارے پانی کی جگہ ایک ہو، تمہارا مطبخ بھی ساتھ ساتھ ہو،میں تمہیں ایک ہی گروہ میں جوڑتا ہوں ، تم سب مل کر خدا کی عبادت کرو ‘‘۔۸؎

یجروید میں مذکور ہے :

’’خدایا! میری نظر میں استحکام پیدا فرماتا کہ سب لوگ مجھے دوستانہ نظر سے دیکھیں ۔اس طرح میں بھی سب کو دوستانہ نظر سے دیکھوں اورہم سب لوگ ایک دوسرے کو دوستانہ نظر سے دیکھنے لگیں‘‘ ۔۹؎

’’کسی کے مال و دولت کی حرص نہ کرو ‘‘۔۱۰؎

’’راہ حق پر چلو‘‘۔۱۱؎

گیتا کا اخلاقی فلسفہ

ہندو عوام میںجس کتاب کو انتہائی اہمیت حاصل ہے وہ شریمد بھگوت گیتاہے ۔ گیتا کاتعلق مہابھارت کی جنگ سے ہے ۔اسے مہا بھارت کے ’’بھیشم پرو‘‘کا ایک جزء تصور کیا جاتا ہے ۔اس میں فلسفہ، توحید، شرک، معرفت، تخلیق کائنات ، موکش(نجات)، اوتار واد، وحدت ادیان اور روح کے مباحث فلسفیانہ انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ گیتا اخلاقی فلسفہ پر زور دیتی ہے مثلاً:

گیتاکے ادھیائے ۶ کے شلوک ۵ میں لکھاہے :

’’انسان کو چاہیے کہ خود کے ذریعہ اپنی اصلاح کرے۔اپنے کو تباہی میںنہ ڈالے ۔کیونکہ وہی خود فانی چیزوں کا دوست ہے ،وہی اپنا دشمن ہے ‘‘ ۔۱۲؎

شری کرشن جی یہ اُپدیش دیتے ہیں :

’’بے خوفی ، ذہن کی پاکی ،فلسفہ ، عرفان میں بے باکی ، ایثار ،غصہ نہ کرنا ، مذہبی کتب کا پڑھنا ، مخیر ہونا،استقامت ،درگزر کرنا ، عدم تشدد ، ریاضت ،انکساری وحوصلہ وغیرہ اعلیٰ صفات ہیں ۔‘‘۱۳؎

’’ بیشک نفرت اور حسد کے بغیر جینے والا ، تمام مخلوقات سے دوستی اور محبت رکھنے والا ، رحم کرنے والا،بے غرض رہنے والا ، غرور اور گھمنڈ سے دور رہنے والا ، راحت اور مصائب پر صبر کرنے والا، معاف کرنے والا ، مطمئن اور قانع، ہمیشہ عبادت میں لگا رہنے والا ، نفس کو قابو میں رکھنے والا ، عہد کا پابند شخص  جو اپنے نفس اور عقل کو میرے حوالے کردیتا ہے اور جو میرا عابد بھی ہے، وہ مجھے بہت زیادہ پسند ہے‘‘۔ ۱۴؎

’’روح کو تباہ کرنے والے جہنم (نرک)کے تین دروازے ہیں شہوت، غصہ، اور طمع۔ اس لئے ان تینوں کو چھوڑ دینا چاہئے‘‘۔ ۱۵؎

’’اپنے اپنے کرم (فرائض)میں لگا ہوا آدمی’’پرم سدھی ‘‘یعنی نجات کو پاتا ہے‘‘۔۱۶؎

منو اسمرتی قانون کی مشہور کتاب ہے ۔گو اخلاقی تعلیمات بھی ملتی ہیں: مثلاً

’’تین طرح کے اعمال دماغی ناستک پن ہیں چوری، بدخواہی ونفرت اور حسد‘‘۔۱۷؎

’’تین طرح کے جسمانی اعمال بددینی ہیں ،چوری ،ظلم ، زنا ۔جو جیساکرتاہے ،ویسا پاتاہے‘‘۱۸؎

ہندو فلسفہ اخلاق کا تذکرہ ’ابو ریحان البیرونی‘نے اپنی مشہور تصنیف’’کتاب الہند‘‘ میں ذکر کیا ہے، وہ کہتے ہیں:

’’ عمدہ خصلت وہ ہے جس کو مذہبی احکام میں بیان کیا گیا ہے۔ ہندوؤں کے مذہب کے اصل اصول ، فروعات کی کثرت کے باوجودمندرجہ ذیل نو(۹) کلیات میں جمع ہیں۔

۱۔ قتل مت کرو۔

۲۔ جھوٹ مت بولو۔

۳۔ چوری مت کرو۔

۴۔ زنا مت کرو۔

۵۔ ذخیرہ اندوزی نہ کرو اور مال مت جمع کرو۔

۶۔ پاک اور صاف رہنے کا التزام کرو۔

۷۔  مسلسل روزہ رکھواور موٹے جھوٹے کپڑے پہنو۔

۸۔ تسبیح و شکر کے ساتھ خدا کی عبادت پر قائم رہو۔

۹۔  زبان پر لائے بغیر دل میں ہمیشہ ـ’اوم‘ کا کلمہ دہراتے رہو جو تخلیق کا کلمہ ہے۔‘‘۱۹؎

الغرض مذاہب کی اخلاقی تعلیم کی طرح ہندومت بھی فلسفہ اخلاق کا قائل ہے ۔آج ہمارے ملک میں جو بدامنی وبدعنوانی پھیلی ہوئی ہے اس میں انسانی جان کی کوئی قیمت باقی نہیں رہ گئی ۔ جگہ جگہ ظلم وزیادتی رواہے ، انسانی حقو ق کی پامالی کا دوردورہ ہے ۔ ایسے نادیدنی احوال وکوائف میں ہندومت کی یہ تعلیم ملک کے تمام باشندوں کو یاد دلائی جانی چاہیے۔ ملک کا موجودہ پراگندہ ماحول نہ صرف بنیادی انسانی قدروں کی خلاف ورزی ہے ، بلکہ ملک کے روشن مستقبل کی تعمیر میں عظیم رکاوٹ ہے ۔اہل فکر ونظر اورہندوستان کے بہی خواہوں پریہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ملک میں ظلم وجبر سے پاک فضا کے قیام کی کوشش کریں ۔

مراجع ومصادر

1-Murtabin Billah Fazlie: Hinduism and Islam, p17,1998,Islamic Book Service,New Delhi.

۲؎      مولوی سید احمد دہلوی: فرہنگ آصفیہ، ج۴، ص۶۵۹، نیشنل اکیڈمی، دہلی

۳؎ رگ وید  :   منڈل ۷، سوکت ۳۱، منتر۵

۴؎ رگ وید  : منڈل ۱۰، سوکت ۱۱۷، منتر ۴

۵؎  رگ وید :  منڈل ۱۰،سوکت۳۴،منتر۱۳

۶؎ اتھر وید :  کانڈ ۳، سوکت ۳۰، منتر ۳

۷؎ اتھر وید :    کانڈ ۳، سوکت ۳۰، منتر ۲

۸؎ اتھر وید :   کانڈ ۳، سوکت ۳۰، منتر ۶

۹؎ یجر وید  : ادھیائے ۴۰، منتر  ۱

۱۰؎ یجر وید  :  ادھیائے۴۰،منتر۱

۱۱؎ یجر وید : ادھیائے۷،منتر۴۵

۱۲؎ گیتا  :  ادھیائے ۶، شلوک۵

۱۳؎ گیتا  :   ادھیائے ۱۶، شلوک ۱۔۲

۱۴؎ گیتا :  ادھیائے ۱۲، شلوک۱۳۔۱۴

۱۵؎ گیتا  : ادھیائے ۱۶، شلوک۲۱

۱۶؎ گیتا   :  ادھیائے ۱۸، شلوک۴۵

۱۷؎ منو سمرتی : ادھیائے ۱۲، شلوک۵

۱۸؎ منو سمرتی   : ادھیائے ۱۲، شلوک ۷۔۸۔

۱۹؎ ابو ریحان البیرونی:  کتاب الہند(ترجمہ) ،  ص  ۱۷،  ۲۰۱۱ء ؁ ، بک ٹاک، لاہور۔

مارچ 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau