جدید تعلیم یافتہ طبقہ اور علمِ دین

(3)

سید عبد الباری

علی گڑھ کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے سرسید نے اپنے دل کو اس روشن تمنا سے منور کیا تھا کہ ’فلسفہ ہمارے دائیں ہاتھ میں نیچرل سائنس بائیں ہاتھ میں اور لاالٰہ الا اللّٰہ کا تاج سر پر‘‘مگر ابھی چند قدم بھی راستا طے نہیں کیا تھا کہ یہ روشن چراغ ٹمٹمانے لگا ۔ قافلے کی رہ نمائی ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں آگئی، جو اس قسم کے مقصد اور تصور سے قطعاً بے نیاز تھے اور مسلمانوں کو حکمراں طبقے کا وفادار، نمک خوار اور ہاں میں ہاں ملانے والا بنانا چاہتے تھے۔ چاہے اس کے لیے انھیں ایمان کی حرارت، اخلاق کی گرمی اور تمدنی روایات کی متاع گراں سب کچھ قربان کرنا پڑے۔ نصاب تعلیم میں مغربی علوم، مغربی فلسفے ، نیچرل سائنسز ، مغربی نظریات و افکار سب من وعن شامل کرلیے گئے اور سارے تعلیمی نظام پر ان کو محیط بنا دیاگیا۔ ساتھ ہی برائے نام فرض پورا کرنے یا رسم ادا کرنے کے لیے دینیات کی چند کتابیں بھی شامل کردی گئیں اور یہ سمجھا گیا کہ یہ تبرک سارے الحادزندقہ کو دھو دے گا اور تمام غلط نظریات کا محل مسمار کردے گا۔ یہ برائے نام مذہبی تعلیم اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کیاجائے تو بڑی مضحکہ خیز بات معلوم ہوتی ہے۔

سرسید کے اسی تصور اصلاح تعلیم وتربیت سے ملتا جلتا تصور مولانا مناظر احسن گیلانی نے بھی اپنی تصنیف ’نظام تعلیم وتربیت ‘ میں پیش کیاہے۔ اس کی وضاحت خود انھی کے الفاظ میں ملاحظہ کریں:

’’میں نے بزرگوں کے اسی طرز عمل کو پیش کرتے ہوئے عرض کیا تھا کہ دینیات کی عمومی تعلیم کے لیے انگریزوں سے پہلے ہندوستان میں مسلمانوں کے تعلیمی نظام میں جب تین یا زیادہ سے زیادہ چار کتابوں کا پڑھ لینا کافی خیال کیاگیا تھا اور زیادہ وقت غیر دینی علوم ہی کی تعلیم میں صرف ہوتا تھا تو کیا آج بھی یہ ممکن نہیں کہ غیر دینی علوم کے اس حصے کو جس کے اکثر نظریات ومسائل مسترد ہوچکے ہیں ، کم از کم دنیا میں ان کی مانگ باقی نہیں رہی ہے ،نکال کر عصر جدید کے مقبول علوم اور عہد حاضر کی دفتری زبان انگریزی کے نصاب کو قبول کرکے مذہب کی تعلیم کو انھی تین کتابوں کے مطابق باقی رکھتے ہوئے دینی ودنیاوی تعلیم کے مدارس کی اس تفریق کو ختم کردیا جائے۔ میرا یہ مطلب ہے کہ مسلمانوں کے لیے حکومت سے یہ استدعا کی جائے کہ جیسا پہلے ان کی تعلیم میں دین کا عنصر ایک لازمی اور ضروری مضمون کی حیثیت رکھتا تھا، اب بھی اس عنصر کو لازم کردیاجائے اور اس طرح لازم کردیاجائے کہ جیسے درس نظامیہ سے فارغ ہونے والے دین کا علم ان کتابوں کے معیار کے مطابق اپنے پاس رکھتے تھے۔ اس طرح بی۔ اے کی تعلیم سے فارغ ہونے والے اس زمانے میں بھی اس حد تک مذہب کے عالم ہوکر نکلا کریں۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں پھر دینیات کے مدارس کے نام سے الگ عام مدرسوں کے قائم کرنے کی ضرورت مسلمانوں کو باقی نہیں رہے گی۔ ہر عالم اس صورت میں گریجویٹ ہوگا اور ہرگریجویٹ عالم، عالم وتعلیم یافتہ کی تفریق کا دور ختم ہوجائے گا‘‘۔

یہاں پر مولانا نے یہ بات فراموش کردی ہے کہ قدیم نظام تعلیم میں دینیات کی چند کتابوں کے علاوہ جو اور مضامین ہوتے تھے، ان کی نوعیت اور جدید علوم کی نوعیت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ وہ مضامین بنیادی اعتبار سے مثبت مزاج کے حامل تھے اور دین کے نظریات سے متصادم نہ تھے۔ وہ دراصل دینیات کی چند کتابوں سے رکھی گئی بنیاد پر پورا ایک محل تیار کردیتے تھے، جو دین سے ہم آہنگ ہوتا تھا۔ وہ سب دینی مزاج کے سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے۔ اس کے برعکس آج کے جدید مغربی سائنسوں اور نظریوں کی حیثیت بالکل منفی ہے۔ یہ اسلام کے جڑوں سے متصادم ہیں۔ یہ دینی بنیاد پر عمارت تیار کرنا تو دور رہا اس بنیاد ہی کو ڈھا دینے کے درپے ہوتے ہیں۔ یہاں وہ پرانا فلسفہ کارآمد نہیں ہوسکتا۔ منطقی نوعیت سے تو ہر بات سمجھ میں آجائے گی، لیکن گہرائی میں اترنے کے بعد اور تجربات سے دوچار ہونے کے بعد اس کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے۔ دینیات کی چند کتابوں کی حیثیت اس دہکتے ہوئے آتش کدے کے مقابلے میں پانی کی چند چھینٹوں کی سی ہے جو اس آگ کو بجھانے اور طمانیت قلب کا سامان بننے سے عاجز ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ مولانا جیسے بالغ النظر انسان کی طرف سے اس قسم کی ناقص تجویز آئی جب کہ موصوف نے اپنی عمر کاایک طویل حصہ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے مزاج کو سمجھنے اور دینیات کے برائے نام نصاب اور تین چار کتابوں کے باوجود وہاں کے پھیلتے ہوئے فتنوں کا مشاہدہ کرنے میں صرف کیاتھا۔ غالباً ملت کے نوجوانوں کو معروف کا پرجوش حقیقی علم بردار دیکھنے کے بجائے موصوف ان کی برائے نام دیندارانہ اور دفتری حیثیت پر ہی قانع تھے۔

ندوۃ العلماء

علی گڑھ جب ملت کے درد کا علاج نہ کرسکا تو سوچنے والوں کی نگاہیں، اصلاح تعلیم وتربیت کے دوسرے طریقے کی طرف اٹھیں اور ندوہ کا تخیل ذہنوں میں ابھرا۔ اب تک انگریزی اور مغربی تعلیم کل تھی اور دینی تعلیم جزو۔ اب دینی تعلیم کو کل اور باقی کو جز بنانے کا احساس دلوں میں پیدا ہوا۔ خود دینی تعلیم کو ترقی پذیر بناکر اور اسلامی درسگاہوں کا نصاب ضروریات زمانہ کے مطابق بدل کر ایسے علمائ اور اہل دین پیدا کرنے کی طرف توجہ ہوئی، جو اس دور کے سارے فتنوں کی جڑاکھاڑ سکیں اور مغرب سے بلا مرعوب ہوئے اور بغیر کہے اسلامی افکار ونظریات کے جاوداں نقوش دلوں پر ثبت کرسکیں۔ یہ وہ تخیل تھا جو مشرق وسطیٰ کے مصلحین شیخ محمد عبدہ وغیرہ سے ہم آہنگ تھا ۔ بل کہ اس کی ایک دوسری شکل۔ اس کو ہم دوسرے لفظوں میں قدیم علماءاور علی گڑھ کے علمبرداروں کے درمیان نقطۂ مفاہمت اور خط اتحاد کہہ سکتے ہیں۔ تہذیب اخلاق وشائستگی اطوار اور اسلامی مزاج کا جو فقدان علی گڑھ میں تھا اسے دور کرنے، مذہبی طبقے کو بیدار کرنے اور مسلمانوں کے اندر صحیح اسلامی شعور وبیداری پیدا کرنے کے لیے اس خاکے میں رنگ بھرا گیا تھا۔ اس کی بنیاد علامہ شبلی کے ہاتھوں سے ڈالی گئی اور جدید وقدیم دونوں طبقوں کی طرف سے اس کی ہمت افزائی ہوئی۔ اس کی بنیاد کے پیچھے جو تخیل کارفرما تھا اس کا قدرے تفصیل کے ساتھ جائزہ لینا چاہتا ہوں۔ یہاں ملت کی اصلاح دنیوی سے زیادہ اصلاح دینی ملحوظ نظر تھی اور اصلاح دینی کے لیے یہ ناگزیر تھا کہ امت کو صحیح دینی تعلیم دی جائدے اور تمام طبقات ملت کا جہل دور کیاجائے۔ اس کے لیے ایسے علمائ روشن ضمیر افراد کی حاجت تھی، جو حالات کے تقاضے کو سمجھ سکیں اور دین کے ساتھ ہی موجودہ ترقی یافتہ علوم سے بھی آشنا ہوں۔ انھیں تیار کرنے کے لیے ایسی درس گاہ کی ضرورت محسوس کی گئی، جہاں علوم دینیہ وعربیہ کی تعلیم وطرز تعلیم کی اصلاح تہذیب وتسہیل ممکن ہوسکے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اس کے مقصد وجود کی ان الفاظ میں وضاحت کی تھی:

’’ندوہ ایک ایسی تعلیم گاہ ہے، جو اپنی تعلیمی خصوصیتوں کے لحاظ سے دوسری تعلیم گاہوں سے امتیاز رکھتی ہے۔ اس کا اصلی مقصد یہ تھا اور ہے کہ اس سے جو علمائ، فارغ التحصیل ہوکر نکلیں وہ اپنے علوم میں ماہر ہونے کے علاوہ دوسری زبانوں سے بھی ﴿جیسے کہ انگریزی زبان﴾ کسی قدر آشنا ہوں تاکہ ایک طرف وہ اشاعت اسلام جیسے مقدس اور مہتم بالشان فرض کو ادا کرسکیں ،دوسری طرف وہ ان غیر مذہب والوں کے حملے سے بھی واقف ہوں اور ان کے جوابات دیتے رہیں جو اپنا فرض سمجھ رہے ہیں کہ اسلام کو دنیا کی نگاہوں میں نہایت کمزور وضعیف ثابت کریں۔ ندوہ کا یہی وہ اعلیٰ اور اہم مقصود تھا جس نے مسلمانوں کو بہت جلد اپنی طرف کھینچ لیا اور ندوہ کایہی وہ نصب العین تھا جس نے اسے اور اسلامی مدارس سے ممتاز بنا دیا‘‘۔

مولانائے محترم مزید لکھتے ہیں:

’’غرض کہ اصلاح وتجدید کا وہ کنز مخفی جس کی تلاش میں تمام مصلحین گزشتہ سرگرداں رہے مگر بہت کم افکارعالیہ تھے جن کی ان تک رسائی ہوئی۔ احیائے ملت کا وہ مقصد عالی جس کو اگر سمجھنے والوں نے سمجھا پر اس کے انجام دینے کی مہلت کسی نے نہ پائی ۔ تحریک دینی کا وہ مشروع معظم جس کو بایں ہمہ سطوت ووسعت سلطان عبدالحمید نہ حاصل کرسکا۔ اور خدیو مصر نے سید جمال الدین سے اس کا وعدہ کیا، مگر ہمت ہاردی۔ اصلاح اسلامی کا وہ مطلوب عزیز جس سے دارالخلافت اسلامی کے جوامع خالی رہے اور جس کا جمال اصلاح دس برس کی سعی وجستجو کے بعد بھی جامع ازہر کے ستونوں کو نصیب نہ ہوا۔ وہ یوسف گم گشتہ جس کی آرزوتیونس کے جامع زیتونی میں کی گئی۔ مگر پوری نہ ہوئی اور جس کو مراکش کے جامع ابن خلدون میں پکارا گیا۔ مگر جواب نہ ملا۔ یعنی وہ کہ نامور محمد عبدہ ساری عمر اس کے عشق میں رویا ’’وابیضت عیناہ من الحزن فہو کظیم‘‘ مگر اسے نہ پاسکا ۔ قاضی القضاۃ ترکستان نے چالیس برس اس کی حسرت میں کاٹے کہ ’’واسفی علی یوسف!‘‘ مگر محروم رہا۔ خاک ہند کی چند ہمم عالیہ اور افکار صحیح کی کوششوں کی بدولت ندوۃ العلمائ کے نام سے وجود میں آیا اور باوجود فقدان اشخاص ، احاطۂ جہل و جمود وموانع چند درچند وصدمات پے درپے و مخالت اناس وتصادم اغراض واہوابالآخر فنا وہلاکت کے عہد سے گزر کر اس حد تک آگیا کہ ایک محکم وقائم زندگی حاصل کرلیتا اور شاید چند تغیرات و مساعی کے بعد ایک وقت آتا کہ اصلاح ملت کے جن نتائج کو سلاطین عہد وفرمانروایانِ عصر حاصل نہ کرسکے اور عالم اسلامی کے بڑے بڑے مصلحین اس کی آرزو اپنے ساتھ لے گئے ، کفرآباد ہند کی ایک درسگاہ فقر وفقراء سے ظاہر ہوتا ۔ وماذالک علی اللّٰہ بعزیز۔

مولانا موصوف نے اس مقصد عظیم کے سلسلے میں ہونے والی بے پناہ مایوسی وناکامی کا ذکر کیا ہے ۔ ندوہ کے اس تخیل کی انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز میں اکثر وبیشتر علماء نے موافقت کی۔ حالی کا بھی خیال تھا:

’’مجھے امید نہیں بلکہ یقین ہے کہ عربی کی کامل تعلیم اور انگریزی کی بقدر ضرورت ہماری قوم میں ایسے لائق مضمون نگار اور مصنف پیدا کرے گی کہ آج تک انگریزی دانی ایک بھی نہ پیداکرسکی‘‘۔

غرض بڑی توقعات وبڑی تمناؤں کے ساتھ وقت کی رفتار کو سمجھ کر اور زمانے کے تقاضوں کا اندازہ لگاکر کے اپنے وقت کے سوچنے اور سمجھنے والے روشن دماغ اور چوٹی کے علماء و رہبران ملت نے اس کی بنیاد ڈالی۔ علی گڑھ سے جو دیندار طبقہ مایوس ہوگیا تھا اور جو دیوبند کو عصر حاضر کے تقاضوں سے نابلد سمجھتا تھا، اس نے اپنی توقعات اس کے ساتھ وابستہ کردیں اور ملت کے ایک تابناک مستقبل کی تعمیر کا خواب دیکھنے لگے۔ مگر اس ادارے کی بنیاد کو بھی استحکام نصیب نہیں ہوا۔  زمانے کے نشیب وفراز اور وقت کے تھپیڑوں کے بالمقابل وہ متوازن نہ رہ سکا۔ علی گڑھ اور دیوبند کے درمیان اسے جو معتدل حیثیت حاصل کرنی تھی وہ برقرار نہ رہ سکی۔ ندوہ نے عربی تعلیم کے لیے درس نظامی سے ہٹ کر جدید اور سائنٹفک نصاب مرتب کیا، جس کے فیض سے عربی کے بے مثال انشائ پرداز اور ادیب پیدا ہوئے اور بعض خزف ریزوں کو اس نے اتنی تابناکی عطا کی کہ

وہ ستارے بن گئے۔ مگر عصر جدید کے تقاضوں اور عہد حاضر کی روح کو سمجھنے ، محسوس کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے سے یہ بھی عاجز رہے۔ عربیت اور ادبیت کا پلہ بھاری ہوگیا اور تحریکیت وتفہیم مسائل کا پلڑا اوپر اٹھ گیا۔ تفقہ و اجتہاد کی روح نہ پیدا ہوسکی۔ نگاہیں محدود ہوگئیں اور پرواز مختصر بن گئی۔ چنانچہ اس کے سب سے بڑے مؤید اور بانی مبانی شبلی نعمانی آخر وقت میں اس کے وجود سے بالکل اسی طرح مایوس وغیر مطمئن ہوگئے جس طرح سرسید علی گڑھ سے آخری لمحات میں اپنی اعلیٰ توقعات کا رشتہ منقطع کرچکے تھے۔ شبلی نعمانی کے یہ الفاظ اس بات پر گواہ ہیں: ’’میرا نصب العین ایک مذہبی عام انجمن ہے۔ وہ ندوہ ہوسکتا تھا۔ لیکن وہ مولویوں میں پھنس گیا اور یہ فرقہ کبھی وسیع الخیال اور بلند ہمت نہیں ہوسکتا‘‘ شبلی ہی کی طرح مولانا ابوالکلام آزاد بھی جو ایک زمانے تک اس کے سب سے بڑے ہمدرد ومعاون تھے آخر میں شدید مایوسی کا شکار ہوگئے۔ الہلال کے صفحات پر بکھرے ہوئے متعدد مضامین ندوہ میں پیدا ہونے والی مختلف بنیادی خامیوں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ مندرجہ بالا سطور میں مذکورہ اعلیٰ توقعات سے قطع نظر ندوہ کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے وجود نے علی گڑھ کے ذریعے پھیلتی ہوئی لادینیت اور دنیاطلبی پر بریک لگائی۔ اس نے کتنے ایسے لوگوں کو اپنے دامن میں پناہ دی جو مغربیت اور مشرقیت دونوں سے اکتا چکے تھے اور جن کو نہ صومعہ و خانقاہ کی فضا راس آئی تھی نہ جدید طرز کے ایوانات علم وفکر ہی سکون عطا کرسکتے تھے۔ ندوہ نے بعض ایسی تحریکوں کو پورے دینی شعور اور دنیاوی بصیرت کے حامل ایسے قافلہ سالار عطا کیے ہیں جو ملت کا گرانقدر سرمایہ ہیں۔ ندوہ نے ایسے ذکی الحس لوگوں کا خمیر اٹھایا ہے جنھوںنے وقت کے فتنوں کی کامیاب نبض شناسی کی ہے۔ عالم اسلام کے امراض اور ملت کے درد کو آشکار کیا ہے اوراس کے علاج کے لیے اپنی جا نیں بھی کھپائی ہیں۔ ندوہ نے ایسے صاحب فراست و اہل تدبر افراد کو جنم دیا ہے جنھوں نے معروف کا چراغ جلایا ہے اور حوادث زمانہ کی اتھاہ تاریکیوں کا مسلسل مقابلہ کیا ہے ۔ اس کے حلقے سے ایسے جواں ہمت بھی اٹھے ہیں جنھوں نے حق کی آواز کو پورے جوش وخروش کے ساتھ بلند کیا ہے۔ ایسے محقق بھی پیدا ہوئے ہیں جنھوں نے عہد حاضر کے فلسفوں کی دھجیاں اڑا دینے کی کوشش کی ہے اور اسلام کی تجدید و توسیع کا نازک فریضہ انجام دیا ہے۔ ان سب کے باوجود میں اس کے ایک عمومی مزاج سے بحث کر رہا ہوں ۔ ایسے چند برگ وبار لانے والے بے پناہ قوت نمو رکھنے والے بیج تو ہر مٹی سے پھوٹ پڑتے ہیں اور ہر سرزمین میں ہزار ناسازگاری حالت کے باوجود پھلتے پھولتے ہیں۔ کوئی ادارہ اور کوئی تربیت گاہ ایسے غیرمعمولی افراد سے یکسر خالی نہیں ہوا کرتی۔ آج جو اس ﴿ندوہ﴾ کی حالت، رفتار کار اور رجحانات ہیں ان پر اگر غور کیا جائے تو شدت کے ساتھ محسوس ہونے لگتا ہے کہ اس نے اپنی نگاہیں بہت تنگ اور اپنے حوصلے بہت پست کرلیے ہیں۔ اب بازوئوں میں وہ قوت مفقود ہے جس سے الحاد کی سرکش لہروں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ اب یہاں سبک سار ان ساحل تو پیدا ہورہے ہیں مگر موج وگرداب پرحکمرانی کرنے والے نہیں اٹھ رہے ہیں۔ مغربی افکار کے تھپیڑوں سے خود تو کسی نہ کسی طرح محفوظ رہ سکتے ہیں ، لیکن آگے بڑھ کر ان کا رخ پلٹ دینے کی سکت نہیں۔ عصر حاضر کے طوفانوں کا شیرازہ بکھیر دینے اور اس کے درمیان عزم وہمت کا چراغ روشن کرنے کا حوصلہ نہیں۔ یہاں فضائیں بڑی ساکت و جامد ہوچکی ہیں۔ یہاں قلوب پر تعطل نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں۔ آتش نمرود میں بے خطر کو دپڑنے والے اورفرعون کے جبرو شقاوت کے باوجود دعوت موسوی کی موافقت و حمایت میں آواز بلندکرنے والے کم ہیں۔ یہاں عزیمت کے جادۂ کشادہ پر سفر کرنے کے بجائے رخصت کی تنگ گلیوں اور پیچدار وادیوں میں ٹھکانا تلاش کیاجاتا ہے۔ جدید افکار و نظریات سے ناواقفیت نے بے حسی پیدا کردی ہے۔ غرض یہاں کی فضا نے دیندار و دین فہم عالم تو ضرور پیدا کیے اور کر رہی ہے مگر زندگی کے تمام شعبوں میں فکر اسلامی کا پرچم بلند کرنے والے اور باطل والحاد سے چومکھی لڑائی لڑنے والے وقت کے فتنوں کو سمجھنے اور زمانے کی رفتار کا شعور رکھنے والے اہل حق نہیں ڈھال سکی۔ آج سرزمین ہند سے پھوٹنے والے کتنے زہریلے چشموں، پیشانی عالم پر کتنے مہلک ناسوروں اور سینۂ ملت کے کتنے خوفناک زخموں تک اس کے احساس کی شعاعیں نہیں پہنچ سکی ہیں۔ آج یہ عمومی پیمانے پر ان اعلیٰ توقعات کو پورا کرنے سے عاجز ہے جس کے تحت وجود پذیر ہوا تھا۔

﴿جاری﴾

جولائی 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau