جدید تعلیم یافتہ طبقہ اور علم دین

سید عبد الباری

اس عہد میں اسلامی نظام حیات کی تشکیل وترتیب اور نشاۃ ثانیہ کے لیے اسے بروے کار لانے اور متحرک بنانے کے لیے اسے موجودہ سماجی افکارو نظریات پر غالب کرنے، اس کی خصوصیات و صفات کو واضح کرنے اور اس کے غلبے کے امکانات، ذرائع و وسائل پر روشنی ڈالنے کے لیے ایسے افراد کی ضرورت ہے، جو ایک طرف مغرب کے غیرخداپرستانہ ومادیت زدہ رجحانات کے نبض شناس ہوں، شہنشاہیت، سرمایہ داریت، فسطائیت، اشتراکیت اور جمہوریت کا سہارا لے کر، معاشی سماجی اور سیاسی مسائل میں گزشتہ صدیوں میں دنیا نے جو تجربات کیے ہیں ان سے آگاہ و باخبر ہوں، انسانیت کے المناک حادثات، تباہ کن واقعات ، گوناگوں انقلابات پر نظر رکھتے ہوں، خیروشر، حق وباطل اور روشنی و ظلمت کے پیہم تصادم کاجائزہ لے چکے ہوں اور دوسری طرف ان کی نگاہ اس سرچشمے پر بھی ہو جہاں سے نئے نظام کا سوتا پھوٹنے والا ہے۔ وہ اسلامی نظریۂ زندگی کاگہرا شعور رکھتے ہوں۔ کتاب اللہ اور سنت رسول کے بحر بے کراں کے شناور ہوں اوراس مخزن نور سے وہ اتنا اکتساب نور کرچکے ہوں اور اس روشنی نے ان کے ذہن و دماغ اور قلب و نظر کو اتنا تاب دار بنادیاہو کہ تاریکی کی اتھاہ طغانیوں اور ظلمتوں کے طوفانوں سے گزرتے ہوئے ان کے شعور و احساس پر سیاہی کا کوئی دھبہ تک نہ لگ سکے۔

اسلامی افکار کی باوقار، متاثر کن اور عالمانہ نمایندگی اور جدید مسائل اور تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہوکر نئے اسلوب میں ترجمانی کافریضہ وہ لوگ انجام نہیں دے سکتے ہیں، جنھوں نے اپنی پوری زندگی مغرب کے سرمایۂ فکرو نظر کو ٹٹولنے اور اپنے اندر جذب کرنے میں توصرف کی ہے، مگر علوم دینیہ کے مطالعے سے محروم ہیں۔ ایسے لوگوں کے اندر اسلام کی حقیقی قدرو منزلت کا احساس نہیں پیدا ہوسکتا۔ ایسے لوگ اسلام کی ہمدردی میں ڈوب کر جب کبھی اس کی ترجمانی کرتے ہیں تو وہ اکثر ناقص و غیر معقول ہوتی ہے۔ یہ لوگ حق کو کچھ فائدہ پہنچانے کے بجائے اس کی غلط فہمیوں کا سبب بن جاتے ہیں۔ اگرکہیں خدانخواستہ یہ تجدد ، تفقہ اور اجتہاد کی طرف رخ موڑدیں تو وہ تعجب خیز کارنامے انجام دیتے ہیں، جس کا کم از کم ان کے نام کے ساتھ آپ قیاس بھی نہیں کرسکتے۔ دوسری طرف اسلام کی پروقار اور معقول اور سائنٹفک ترجمانی ان کے بھی بس کی بات نہیں، جنھوں نے تنگ وتاریک حجروں اور ہوا اور روشنی سے محروم حصاروں میں رہ کر اپنی زندگیاں فقہ و منطق، نحو وصرف کی موٹی موٹی کتابوں کے بے روح مطالعہ و حفظ پر گنوائی ہیں۔ نئے مسائل اور نئے تقاضوں سے بے نیاز ہوکر علم دین کایک طرفہ مطالعہ ، انفرادی اصلاح، باطنی پاکیزگی اور ایمانی پختگی کے لیے تو مفید ہوسکتا ہے، لیکن حق کی عظمت وسطوت کااحساس دلانے اور خیرکے جاوداں نقش دلوں پر ثبت کرنے کی صلاحیت نہیں پیدا کرسکتا۔ معدودے چند شخصیتوں کو چھوڑکر موجودہ دینی درس گاہوں کے پرداختہ اہل علم اور طلبا کا جائزہ لیجیے تو آپ کو محسوس ہوگاکہ مغرب کے آگے ہتھیار ڈال دینے اور اس کی چمک دمک سے مرعوب ہونے میں وہ جدید تعلیم یافتہ ’گم کردہ راہ‘ نوجوانوں سے بھی آگے رہے ہیں۔ انھوں نے بھی اکثر ابھرتے ہوئے فتنوں کااستقبال کیاہے اور ہر رطب و یابس کو اپنے دامن میں سمیٹاہے۔ غیرحق کو حق ثابت کرنے کے لیے تاویلات کے انبار لگادیے ہیں اور مرعوب زدہ ذہنیتوں کے ساتھ حق کو چھپانے کے لیے یا اس کی ملمع کاری کے لیے سوسوجتن کیے ہیں۔ ان بے روح اداروں اور بے جان فضائوں کاسارا ڈھانچہ ہی ان بنیادوں پر بن گیا ہے، جو اِنسان کو حرکت کے بجائے جموداور عظمت کے بجائے پستی میں ڈال دیتے ہیں۔

نشاۃ ثانیہ کا راستا

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دو راستوں کو اختیار نہ کرنے پر آخر وہ کون سا تیسرا راستہ ہوگا جو اس کمی کو پورا کر سکے گا، جسے آج شدت کے ساتھ محسوس کیاجارہاہے۔

میں یہاں پر سب سے پہلے یہ ضرورت محسوس کررہا ہوں کہ اس پس منظر کی طرف اشارہ کروں جس کے تحت علم جدید اور دینی علوم نے الگ الگ اپنے راستے بنالیے ہیں اور ان میں آج بعدالمشرقین سا محسوس ہوتاہے۔ کہیں دور دور تک ان کی سرحدیں ملتی ہوئی نظر نہیں آتیں۔ ساتھ ہی اس تفریق دین و دنیا نے جسم قسم کاذہن و دماغ اور فکرو شعور رکھنے والے انسان پیدا کیے ہیں اور اس افتراق پسند تعلیم نے جدیدنسلوں کے ذہن پرجو اثرات مرتب کیے ہیںان کی بھی وضاحت کروں۔ بعد میں ان کوششوں کی طرف بھی اشارہ کروں جو اس تفریق کو ختم کرنے اور اس خلا ء کو پُرکرنے کے سلسلے میں کی گئی ہیں۔

تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے ہندستان کے تعلیمی نظام کا نقشہ کچھ اور ہی تھا۔ اس وقت یہاں ایک تعلیمی وحدت تھی۔ اخلاقیات اور روحانیت کے پیمانوں میں تمام انسانی معلومات کو پیش کیاجاتاتھا اور زندگی کی اعلیٰ قدروں کے سانچے میں ڈھال کر عقل وشعور کی ساری کاوشوں کو سامنے لایاجاتاتھا۔ جغرافیہ، تاریخ، ریاضی، طب اور دوسرے تمام علوم کی بنیادیںانسان کی اخلاقی تہذیب پرتھیں۔ مکتبوں اور مدرسوں میں دینیات کی بنیادوں پر تمام علوم وفنون کی عمارتیں کھڑی کی جاتی تھیں۔ اس طرح وہاں سے نکلنے و الوں کادامن پائیدار اقدار حیات سے مالامال ہوتاتھا۔ وہ اپنا مقصد حیات اور مطمح نظر لے کر زندگی کی ہماہمی میں داخل ہوتے تھے۔ ابہام و تشکیک، انتشار وپیچیدگی کے علائق ان پر اثرانداز نہ ہوتے تھے۔ جادہ زندگی پر وہ فکر واحساس کی صحت مندی و توانائی کے ساتھ قدم بڑھاتے تھے۔ وہ نقطۂ نگاہ اور وہ گداز جو انھوں نے دردمندانسانوں میں حاصل کیاتھاوہ انھیں اس قدرپختہ بنادیتاتھا کہ زندگی کے نشیب وفراز سے گزرنے کے بعدبھی ان قدروں کی حرارت و تابانی ان کے دلوں میں ماند نہ پڑتی تھی، جو انھوں نے مکاتب کے فیض سے حاصل کی تھی۔ یہ علم ان کی طمانیت قلب اور سکون دل کا سامان بنتاتھا اور ان کے قلب کو بصیرت اور نگاہوں کو بصارت عطا کرتاتھا۔

مغربی افکار کا رد عمل

انیسویں صدی میں یورپ کے مادی انقلاب اور سائنٹفک ارتقا نے ذہنی وفکری دنیا میں انقلاب برپا کردیا۔ مغرب نے اپنی قوت متخیلہ کے سہارے نہ جانے کتنے بت تراشے اور ساری دنیا کی توجہ اس کی دل کشی، آب وتاب اورچمک دمک کی طرف مبذول ہوگئی۔ عقلی بے راہ رویوں اور فلسفیانہ کج دماغیوں نے وہ زہر تیار کیا جو دیکھتے ہی دیکھتے فضامیں سرایت کرگیا۔ انسانی اور اخلاقی قدریں شکستہ و پامال کرڈالی گئیں۔ قلب و روح کے فطری رجحانات کا گلا مروڑدیاگیا۔ انسان کے اندروں کے تقاضے جلاکر خاکستر کردیے گئے۔ فلسفوں نے فطرت انسانی کے بہائو پر پہرے بٹھادیے۔ مسموم نظریات آدمی کی روشن جبیں پر ناگ بن کر لپٹ گئے۔ یورپ کی بوسیدہ روایات مادیت و الحاد کے اس تھپیڑے میں سلامت نہ رہ سکیں۔ مغرب کی پارینہ اقدار اس طوفان کی نذر ہوگئیں، مذہب کا کم زور ڈھانچہ اس سیلاب میں سلامت نہ رہ سکا۔ خوف و ہراس کی تاریکیاں چھاگئیں۔ جو چند ٹمٹماتے ہوئے چراغ باقی رہ گئے تھے، انھوں نے بھی آنکھیں بندکرلیں۔ اس طوفان کا مقابلہ نہ کرنے اور اس میں اپنا سب کچھ کھودینے کے بعد آج مشرق کو اپنی بے سروسامانی کا احساس ہورہاہے۔ دوسری طرف مغرب اپنے کیے پر ہاتھ مل رہاہے۔ اکثر مغربی مفکرین کی دبی دبی آوازیں آرہی ہیں کہ کاش اس ذہنی اور فکری ابھار اور سائنسی اور مادی ارتقا سے پہلے ہم اپنی بنیادوں کو درست کرلیتے اور ان اقدار و روایات پر استحکام کے ساتھ اپنا قدم جمالیتے جن کے فقدان نے آج ہماری سماجی و انفرادی زندگی کا سارا توازن بگاڑکر رکھ دیا ہے۔

یورپ کی اس جدید کروٹ نے پورے ایشیا کو متاثر کیا ۔ بالخصوص وہ ممالک خود اس کے ساتھ ہی ساتھ شانہ بہ شانہ تباہی و ہلاکت کے غار میں گرے جو اس کے زیراثر و زیراقتدار تھے۔ چناں چہ ہندستان پر مغرب کے تمام رجحانات کاپورا عکس پڑا۔ انگریزوں نے یہاں پر اس قسم کے نظام تعلیم کی بنیاد ڈالی جو انسانوں کو معاشی جانور بناسکے اور انگریزی اقدار کی گاڑی کو کھینچنے کے لائق کرسکے۔ علم برائے علم، علم برائے تفریح اور علم برائے کسب معاش کا یہیں سے آغاز ہوا۔ انگریز حکمرانوں کے زیرسایہ پروان چڑھنے والی ان درس گاہوں نے مغربی افکارو نظریات کا پورا پورا اثر قبول کیا۔ اس چالاک قوم نے اپنے مادی ارتقا کے اصل راز سے تو اہل ہند کو محروم رکھا اور جستجو وتحقیق اور سائنٹفک اسپرٹ کی ایک جھلک بھی ان پر نہ پڑنے دی۔ لیکن اپنے تمام فاسد، اخلاق سوز، شعورو ضمیر کو کچلنے والے، دولت پرست، خودغرض اور تنگ مزاج بنانے والے رجحانات ان کے ذہن و دماغ میں پیوست کردیے۔ دوسری طرف معاشی حالات کا انھیں غلام بناکر اور رزق کی کنجیاں اپنے ہاتھوںمیں لے کر انھیں وہ سب کچھ قبول کرنے اور ہر اس اشارے پر سرگرداں ہونے کے لیے مجبور کردیا جو مغرب کی طرف سے آتاتھا اور والیان نعمت کی طرف سے صادر ہوتاتھا۔ اس طرح انیسویں صدی کے اختتام تک یہاں ایک کثیر طبقے نے اخلاق ومذہب کے سرمایے کو ناکارہ اورناقابل استعمال سمجھ کر تج دیا اور بڑے ذوق وشوق کے ساتھ جدید رنگ میں رنگ اٹھے۔ اب جدید نسلوں کی تعلیم اس بنیاد پر ہونے لگی کہ آقائے نام دار کی بارگاہ میں بلند مراتب حاصل کرسکیں۔

غرض کہ یہاں تک آتے آتے انسانی علوم دو بڑے خانوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک خانہ تو جدید علوم اور یورپ سے آنے والے اندوختہ کے لیے بنایاگیا۔ اس خانے میں ساری قوتیں صرف کی گئیں اور اس کی طرف ساری توجہات مرکوز ہوگئیں۔ ان سارے علوم سے اس کی زینت و آرایش کی گئی جو جدید عہد میں پھل پھول رہے ہیں۔ سائنس، فلسفہ، نفسیات، عمرانیات، معاشیات وسیاسیات، تاریخ وجغرافیہ غرض ہر شعبے میں یہاں مغز پاشیاں ہورہی ہیں اور آئے دن ان سے فکر وتعقل کے نئے نئے سوتے پھوٹ رہے ہیں۔ دوسرے خانے میں مشرق کی اسلامی تعلیمات کو سمیٹ دیاگیا، جن کی طرف حسب ضرورت تھوڑی سی توجہ دی گئی اور یہ معدودے چند اور مخصوص طبقے تک محدود ہوگیا۔ جدیدصنعتی اور مادی دور اس کے حصار اور وسعت کو دن بہ دن مختصر کرتاگیا۔ یہاں تک کہ دبتے دبتے اس کاوجود ہی معدوم سا ہوکر رہ گیا۔ اس کی پہلی سی شادابی اور توانائی ختم ہوگئی۔ یہ جامد اور معطل ہوکر رہ گیا۔ زندگی کے مختلف پہلوؤں سے اس نے دلچسپی لینا ختم کردیا۔ چنانچہ اس حلقے میں جو چند سخت جان باقی رہ گئے تھے۔ انھوں نے بھی یہاں سے رخ پھیرکردولت وعزت کے مرغ زاروں کی طرف چھلانگ لگادی۔ اس تفریق کو جدید عہد کے سیکولر مزاج نے اور تقویت پہنچائی۔ جب پوری انسانی زندگی ہی دوخانوںمیں بٹ جائے تو تعلیم وتربیت میں بھی پھوٹ پڑنا ناگزیر ہے۔ اس سیکولرمزاج نے دین و دنیا کے خانے الگ الگ کردیے ہیں۔ دنیا کاخانہ زندگی کے سیاسی، معاشی، معاشرتی اور اجتماعی پہلوؤں پر مشتمل ہے اور دوسرا خانہ عبادات، عقائد رسوم و روایات کاذاتی زندگیوں کی حد تک پیروی کے لیے محدود ہوگیا۔ آج آپ مختلف ہوش مندوں، رہ نمائوں اور دانشوروں کی زبان سے یہ بات سنیں گے کہ مذہب کو ذاتی زندگی تک محدود رکھو۔وہ بس وہیں تک کے لیے ہے۔ اجتماعیات میں اس کو کوئی دخل نہیں۔ اگر یہاں بھی اسے لاگو کیاجائے گا تو تفریق، انتشار، پستی، ذلت اور رجعت کے تاریک غاروں میں ہمیں گرنا ہوگا۔ اس دور کے مادی اور تہذیبی ارتقا کا ساتھ دینے کے لیے اس عہد کی سائنٹفک روح سے خود کو ہم آہنگ کرنے کے لیے ہمیں مذہب پرلگام لگانی ہوگی اور اسے محدود کرنا ہوگا۔ اس مزاج کا نتیجہ تھا کہ انسانی علوم اور انسانی ذہن و دماغ بھی دو شعبوں میں بٹ گیا۔

جدید تعلیم یافتہ طبقے سے مراد

غرض جب زندگی کا معاشرتی اور اجتماعی شعبہ مذہب کے اثر سے آزاد ہوا اور اس کی بنیاد انسانی عقل کے سانچے میں ڈھلے ہوئے مادی، معاشی اور جدید اجتماعی فلسفوں پر استوار کی گئی تو گویا پوری زندگی پر انسانی عقل اور ناقص فلسفوں کی حکمرانی ہوگئی۔ دنیا کے تمام معاملات کی زمام ان کے ہاتھ میں آگئی۔ زندگی کاکوئی ایسا اہم گوشہ نہیں رہ گیا جسے مذہب کے حوالے کیاجاسکے۔ ان جدید نظریات ، جدید فلسفوں اور جدید افکار کو تقویت پہنچانے کے لیے جب افراد کی ضرورت محسوس کی گئی تو یہ عظیم الشان علمی ادارے، یہ پرشوکت تربیت گاہیں اور تحقیقی مراکز وجود میں آئے جن کے فارغین کو آج ہم جدید تعلیم یافتہ طبقہ کہتے ہیں۔ جدید تعلیم یافتہ طبقے سے ہماری مراد موجودہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں علم حاصل کرنے والے ان نوجوانوں سے ہے جو مغرب کے افکار و نظریات کی بنیادپر مختلف علوم سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ یہ سوشل سائنسز مغرب کے دامن میں پھلتی پھولتی ہیں اور وہیں کے سانچوں میں ڈھل کر یہاں ارسال کی جاتی ہیں۔ ان کا ارتقا ایک مخصوص پس منظر میں ہوتا ہے۔ اسی مزاج اور نقطۂ نگاہ کو ہم اگر گہرائی کے ساتھ دیکھیں تو تمام سماجی علوم میں کار فرما پائیں گے۔ یہ حکمائے یونان سے لے کر اب تک ایک تاریخی تسلسل قائم کرتے ہیں اور اس تاریخی تسلسل کے پس منظر میں جدید رجحانات ، استدلالات اور تھیوریز کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان تمام علوم کے دو موٹے خانے ہوسکتے ہیں۔ ایک انسانی زندگی سے دلچسپی رکھنے والے، مثلاً سیاسیات، معاشیات، عمرانیات، نفسیات، فلسفہ وغیرہ۔ دوسرے کائنات سے دلچسپی لینے والے یعنی سائنس اور اس کی مختلف شاخوں سے متعلق علوم مثلاً جو مادہ کی خصوصیات، اس کے کیمیاوی عمل، کائنات کی طبعی قوتیں، کائنات اور مختلف سیاروں کا نظام ان کی گردش اور ان کے نظم و ترتیب اور اس سے پیدا ہونے والے موسمی مدوجزر۔ اس دوسرے شعبے میں تو یورپ کی تحقیقات بجا اور قابل تحسین ہیں۔ یہ انسانی معلومات میں اضافہ کرتی ہیں اور فطرت کی قوتوں اور کائنات کے ذرائع و وسائل پر قابو پانے کی اس کے اندر کی صلاحیت پیدا کرتی ہیں۔ لیکن پہلا شعبہ جو انسانی زندگی کی تزئین و آرائش اور تنظیم وتربیت سے براہ راست متعلق ہے، اس کی بے راہ روی اور گم راہی نے آج ساری انسانیت کو فتنے میں مبتلا کر رکھا ہے اور وہی ہمیں صورت حال کاجائزہ لینے اور صحیح لائحہ عمل کی طرف اشارہ کرنے پر مجبور کررہا ہے۔

یہاں یہ سوال پیداہوسکتا ہے کہ جدید تعلیم یافتہ طلبا مغربی علوم پر عمر کا ایک حصہ صرف کرنے کے بعد کیا ضروری ہے کہ پھر ایک مدت عربی زبان وادب کے گہرے مطالعے پر وقف کریں۔ جب کہ اردو اور انگریزی زبانوں میں دینی معلومات کا اتنا بڑا ذخیرہ موجود ہے جو کافی ثابت ہوسکتاہے۔ اس قسم کی باتیں عربی زبان میں علم دین کے پوشیدہ بحربے کراں سے واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے ذہن میں آجاتی ہیں۔ ورنہ اگر غور سے دیکھاجائے تو اس دریا کے ابھی چند قطرے ہی ان زبانوں میں منتقل ہوسکے ہیں۔ تجربات و مشاہدات، اس بات پر شاہد ہیں کہ قرآن کے اردو تراجم و تفاسیر احادیث کے تراجم وتوضیحات ، فقہ و سیرت کی کتابیں اور تاریخ اسلام کا مواد ایک اسلامی نقطۂ نظر کی توضیح و تحقیق اور عالمانہ نمائندگی کرنے والے کے لیے قطعاً ناکافی ہیں۔ ان پر جن لوگوں نے اکتفا کیا ہے اور صرف ترجمہ سمجھ لینے والی عربی کی بنیاد پر ان نازک مرحلوں میں قدم رکھا تو انھیں سخت قسم کی ٹھوکریں لگی ہیں۔ ایک عمومی اور سادہ لوح ذہن کی تشفی کے لیے تو یہ کافی ہوسکتے ہیں مگر اسلامی شعور اور اسلامی مزاج کی تشکیل کے سلسلے میں یہ قطعاً ناکافی ہیں۔ ان سے غورو فکر اور ان پر قطعی بھروسا کرنے کے سلسلے میں مدد نہیں مل سکتی ہے۔ عموماً ایسا ہوتاہے کہ توضیحات و تفاسیر میں لوگ کسی مخصوص نقطۂ نظر یامزاج کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ چند مسائل کو خصوصی توجہ و اہمیت کا مستحق سمجھتے ہیں اور کچھ کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ کسی خاص موضوع، کسی خاص مذاق اور کسی خاص رجحان سے الگ ہوکر اور خالص علمی بنیاد پر توضیح و تفسیر کاحق ادا کرنا ذرا مشکل ہے۔ علم دین کے براہ راست حصول اور عربی زبان کے مطالعے کے بغیر وہ بصیرت وگہرائی پیدا ہونا مشکل ہے جو ایک اہل علم کے لیے اعلیٰ پیمانے پر دین کی خدمات انجام دینے کے لیے ضروری ہے۔ دین کی بنیادی معلومات کو سبھی حاصل کرلیتے ہیں مگر اس مخزن ہدایت وصداقت تک براہ راست رسائی کے بغیر حل مسائل کی صلاحیت اور نگاہ دوراندیش کاحصول محال ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس کے بغیردین کی اس گہرائی کاصحیح اندازہ بھی نہیںہوسکتاجو اس کاطرۂ امتیاز ہے۔ ہم ائمہ امت کے کارناموں کی صحیح قدر نہیں کرسکتے۔ اس ذخیرے پر نگاہ ڈالے بغیر اس بات کا امکان ہے کہ ہم کتنے ایسے مسائل جو پہلے حل کیے جاچکے ہیں ان میں ناحق سر ٹکراتے رہیں۔ اس طرح ذہنی انتشار اور گم راہی کے اندیشے کے ساتھ ہی ساتھ ضیاع وقت و صلاحیت کا بھی امکان رہتا ہے۔ ماضی کے تمام مفید کارناموں کو جذب کرنے اور پچھلے تمام کارناموں سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کے لیے بھی عربی زبان کی تحصیل ضروری ہے۔ تاکہ اس نازک دور میں ہمارے اوقات اعادہ اور تلاش وتحقیق میں ضائع نہ ہوں۔

جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لیے اس نصاب کو لاگو کرنے کی یہ مدت جو کم از کم ۳ یا چار سال پر محیط ہوگی۔ جدید تعلیم یافتہ نوجوان کے ذہن و دماغ سے سارے وساوس کو دھل دے گی اور سوچنے کے نئے انداز عطا کرے گی۔ فکرو شعور کو نئی بالیدگی عطا کرے گی۔ قوت عمل کو بیدار کرے گی۔ تعمیر سیرت وکردار کی مستحکم بنیاد ڈالے گی۔ ہرابھرتے ہوئے فتنے کی تہہ تک بہ یک نگاہ پہنچ جانے اور ہر اٹھتے ہوئے طوفان کا بے خوفی سے مقابلہ کرنے اور اس کے رخ کو پھیردینے کی طاقت عطا کرے گی۔ مگر جیساکہ میں پہلے عرض کرچکاہوں کہ اس سانچے میں اشرفیاںہی ڈھل سکتی ہیں۔ سستے اور ناقص سکوں کی یہاں گنجائش نہیں۔ یہاں جواہرریزروں ہی کو تراشا جاسکتا ہے۔ خزف ریزوں پر نقش آرائی یہاں ممکن نہیں۔ اس لیے جدید تعلیم یافتہ طبقے کاوہی جز کارآمد ہوگاجس کے اندر غیرمعمولی صلاحیتیں ہوں۔ مادہ پرستانہ عناصر اس کی بصیرت کو ضائع نہ کرچکے ہوں، حوادث دوراں نے اس کی حرارت ایمان بالکل سلب نہ کرلی ہوں۔ وہ اپنے اندر کم از کم اتنی طاقت و توانائی رکھتاہوکہ اس دور کے تمام مادی تقاضوں سے دامن کش ہوسکے یا ان ترغیبات کا مقابلہ کرسکے۔جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لیے یہ نصاب تعلیم اصل ڈھانچہ نہیں، بل کہ بنیاد ہے اورظاہر ہے کہ بنیاد ہی پرسارا دارومدار ہوتاہے۔ پھر اس کے بعد مختلف معمار برسوں تک تعمیر کا کام مکمل کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے بڑی گہرائی، بڑی محنت وجفاکشی بڑے پختہ اور مستحکم قسم کے مسالوں، پتھروں اور اینٹوں کی ضرورت ہے۔ عام حالات میں کارآمد نہیں ہوسکتاہے ۔

تحریک اسلامی نے مندرجہ بالا خوبیاں رکھنے والے مذکورہ بالا نصاب کو اپنی تمام و کمال جامعیت کے ساتھ مرتب کیاہے اور ملت کی ایک اہم ضرورت اور شدید تقاضے کو پورا کرنے کے لیے اپنے پورے ممکنہ وسائل وذرائع کے ساتھ کوشاں ہے اور تقریباً ساٹھ سال یعنی ۱۹۵۰سے اس کا تجربہ بھی کررہی ہے اور اس تجربے میں اسے کافی حد تک کام یابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ تحریک نے موجودہ ذہن کی پیاس اور طلب کو محسوس کیا ہے۔ آج کے ناقص اور متضاد تعلیمی نظریات کی مضرتوں اور بدانجامیوں کو سمجھا ہے۔ مادیت کے امڈتے ہوئے سیلاب اور اس کی زد میں آکر خداپرستی، مذہب و اخلاق اور انسانیت کے قصر کو متزلزل دیکھ کر وقت کی نزاکت کا پورا پورا اندازہ لگایا ہے۔ چنانچہ اس سیلاب کا رخ پلٹ دینے اور اس پر بند باندھ دینے اور اس کی ہولناکیوں کو زمین کے سینے میں دفن کردینے کے لیے ایسے افراد کی تیاری مقدم سمجھی گئی جو امام تیمیہؒ ، امام غزالیؒ  اور امام ابوحنیفہؒ  جیسی بصیرت و دانائی، فہم وتدبر، تنقید وتجزیہ کی صلاحیت اور اخلاق وکردار کی پختگی و بلندی کے حامل ہوں۔ تحریک جانتی ہے کہ یہ کام نہ تو گورنمنٹ پر زور ڈال کر مسلم یونی ورسٹی کی طرح دوسری یونی ورسٹیوں میں دینیات کی چند کتابیں داخل کرواکر پورا ہوسکتا ہے اور نہ فی الحال چندہ جمع کرکے اور حکومت کے لوگوں کی عنایات کاسہارا لے کر کوئی نئی قومی یونی ورسٹی، جدید جامعہ، ماڈرن ندوہ کھول کر اس مقصود کو حاصل کیاجاسکتا ہے۔ موجودہ اضطراری حالات میں سب سے زیادہ قابل عمل اور زوداثر طریقہ یہی ہے کہ جدید تعلیم یافتہ طلبا کے لیے دینی تعلیم کے اس ثانوی نصاب میں ان کی نفسیات کا پورا پورا لحاظ کیاہے۔ جدید ماحول کے مسائل اور تقاضوں کو سامنے رکھ کر ہی ان کی ذہنی تربیت وتہذیب کا کام شروع کیاہے۔ وہ موجودہ فضاؤں سے الگ کسی تصوراتی کائنات میں غیرفطری اور ناقابل عمل منصوبہ نہیں بنارہی ہے۔ ایک جانب اس کی انگلیاں جدید علوم اور جدید افکار و نظریات کی نبض پر ہیں۔ دوسری جانب اس کی نظر میں انسانی فطرت کے عین تقاضوں سے ہم آہنگ اس شاہراہ صداقت پر ہے جس پر چل کر ہی آج کائنات فلاح حاصل کرسکتی ہے۔

تحریک اسلامی اس مخصوص ادارے کے لیے موجودہ جدید تعلیم یافتہ معاشرے سے باصلاحیت افراد کو کھینچنے اور اس طرف راغب کرنے کے لیے اس تعلیمی اسکیم کو ملک میں پورے طورپر متعارف کرانا چاہتی ہے۔ اس کی اہمیت افادیت کا احساس دراصل اس احساس پر مبنی ہے کہ جو آج کے فاسد اور زوال پزیر ماحول وواقعات کو سامنے رکھ کر ہردردمند دل میں پیدا ہونا چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم یونی ورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والی جدید نسلوں کو اس ذمّے داری اور اس کے تقاضوں کا احساس دلائیں اور معقولیت و سنجیدگی کے ساتھ اس کاتعارف کرائیں تو وہ یقینا اس قلیل مدت کا اپنی تعلیمی زندگی میں اضافہ کرنے پر آمادہ ہوسکتی ہیں، حالات کی ناشائستگی کا علم و عمل کی ازخود رفتگی و بے بضاعتی اور ماحول کی پراگندگی اور افسردگی نے اس آمادگی کے امکانات میں اضافہ کردیا ہے۔ وقت کے ہزار فتنوں کے باوجود مادیت کے اتھاہ سیلاب کے باوصف ملت اسلامیہ میں ابھی اتنی زندگی، اتنی حرارت، اور دین کے لیے اتنی غیرت اور لگن ہے کہ اگر نتائج کی کام یابی اور اہمیت پر اسے کامل اطمینان دلایاجاسکے اور اپنے خلوص فکر وعمل سے اس کا اعتماد حاصل کرلیاجائے اور اس کی صحیح رہ نمائی کااسے یقین کرایاجاسکے تو وہ علی گڑھ، جامعہ اورندوہ کے تلخ تجربات کے بعد بھی اس اقدام کا استقبال کرنے اور اس کے لیے قربانیاں کرنے پر آمادہ ہوسکتی ہے۔ آج ملت اسلامیہ کی ذہنی قیادت اور امامت و رہ نمائی کامسئلہ بڑا اہم اور نازک بن گیا ہے۔ اس کے پاس بہت کم ایسے روشن چراغ ہیں، جو آج اس کی صحیح منزل کی طرف رہ نمائی کرسکیں۔ باربار کی ٹھوکروں اور ناکامیوں نے اسے افسردہ خاطر بنادیا ہے۔ آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ملت کے اس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے باصلاحیت، روشن دماغ اور مدبر افراد کو تیار کیاجائے۔ جو اس کے معاشی، معاشرتی، سیاسی وسماجی اور انفرادی واجتماعی مسائل کو حل کرسکیں اور ان خوفناک غاروں، مہیب کھائیوں، تباہ کن وادیوں سے بچابچاکر اس قافلے کو آگے لے چلیں جو آج ہر ہر قدم پر سامنے آرہی ہیں، ایسے افراد کو ڈھالنا آج کی قومی، ملی، سرکاری درس گاہوں اور تعلیمی اداروں کے بس کی بات نہیں۔تحریک اسلامی کے مجوزہ نصاب کی اصولی وعملی کام یابی البتہ اس بات پر شاہد ہے کہ وہ کافی حد تک اس ضرورت کو پورا کرسکتا ہے۔ اس نصاب کو مختلف ادارے اور تنظیمیں مطلوبہ روح اور اسپرٹ اور مطلوبہ صفات کے حامل اساتذہ کی موجودگی میں اختیار کرسکتی ہیں اور انھیں حسب استطاعت اختیارکرنا چاہیے۔

جدید علوم کیسا ذہن تیار کرتے ہیں

انسانی زندگی سے متعلق ان علوم یا Social Scienceنے انسان کو آفاقی نقطۂ نگاہ اور دوراندیشی سے محروم کردیاہے۔ ان کا الجھاؤ اور تضاد آدمی کو تصوراتی خلا میں پھینک دیتاہے۔ اس کے اندر عملی بصیرت کا فقدان ہوجاتاہے۔ یہ انسانی روح کو اتنا جامد اورمعطل بنادیتے ہیں کہ وہ سستی فکر Losse thinkingکا عادی ہوجاتا ہے۔ خدا سے بغاوت، روح سے انکار ، مذاہب سے نفرت، مادی طلب و منفعت کاجذبہ دلوں میں کروٹیں لینے لگتا ہے۔ یہ انسان کو موشگافیوں، خیال آرائیوں اور لاحاصل تحقیقی چھان بین کا فن تو اچھی طرح سکھادیتے ہیں مگر زندگی کی اصل حقیقت سمجھنے، اپنے داخلی اضطراب کو ختم کرنے اور انسانیت کے پیچیدہ مسائل حل کرنے یا ان سے حقیقی دلچسپی اور ہمدردی کااظہار کرنے کی صلاحیت نہیں ابھرتی ہے۔ یہ علوم انسان کو انسان سمجھ کر نہیں بل کہ حیوان یا چند مادی ضروریات کے تابع اور دوسرے جانداروں کے مقابلے میں زیادہ حساس مشین سمجھتے ہیں۔ یہ ادارے انسان کو ایک مصنوعی اور تخیلی فضا میں داخل کردیتے ہیں جہاں وہ اپنی ذہنی تشکیل و تہذیب کے بجائے لامقصدیت کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے۔ رنگ برنگے فلسفوں اور بھانت بھانت کے نظریوں کی خاردار جھاڑیاں اس کے دامن سے الجھ جاتی ہیں۔ یہ آدمی کو اتنا مجہول کرکے رکھ دیتے ہیں کہ اس کے اندر سے تخلیقی، تنقیدی اور غورو فکر کی صلاحیت مفقود ہوجاتی ہے۔ آدمی کے اندر خدا سے بیزاری (Theo-phobia)کے جراثیم گھرکرلیتے ہیں۔ انسانی عقل سے بالاترکسی ہستی سے کوئی رہ نمائی تسلیم کرنے یا اس پر غور کرنے کامادہ ختم ہوجاتاہے۔ خودپرستی و خوش فہمی انسان کو اتنا محدود بنادیتی ہے کہ وہ اپنی ذات سے آگے کچھ دیکھ نہیں پاتا۔ عقلیت پرستی آدمی کو کہیں کا نہیں رکھتی۔ فطرت پرستی (Naturalism)کا گمان اسے ہر قدم ٹھوکریں کھانے اور اپنی فطرت کی حقیقی طلب کو مجروح کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ محسوس و مادی نتائج کو اپنے سارے شعورو آگہی کی بنیاد بناکر یہ اس روشنی اور رہ نمائی کے لیے اپنی فہم کا داروازہ بند کرلیتا ہے جو خدائی ہدایت کے ذریعے اس تک پہنچتی ہے۔ یہ ارباب عقل اپنی ذہنی بلند مائیگی کے بارے میں اتنا حسن ظن رکھتے ہیں کہ ان علوم کے ذریعوں کے علاوہ اور جو کچھ دوسرے راستوں سے ان کے پاس آتاہے اس کی ان کی نگاہ میں کوئی قدر نہیں ہوتی۔ بالخصوص مذہب اور اخلاقی اقدار حیات کے ذریعے یہ کوئی بات تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔ حالانکہ یہ خود مغرب کی تقلید جامد میں مبتلا ہوتے ہیں۔ معقولات کے بجائے منقولات کے تابع ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ خود فریبی انھیں ہر چیز کاغلط اندازہ لگانے اور ہر قیاس میں دھوکا کھانے پر مجبور کرتی ہے۔ بالخصوص مذہب کو وہ ایک قدما کی طفلانہ بازی گری سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ زندگی کی بنیادی حقیقتوں کا احساس نہ ہونے کی وجہ سے وہ ان جواہر ریزوں کے انبار کو ریت کا تودہ سمجھتے ہیں، جو ماضی کے ذخائر میں محفوظ ہے۔ حکمت و تدبر کے سارے خزانے ان کی نگاہ میں دفتر بے معنی بن کر رہ جاتے ہیں۔

﴿جاری﴾

مئی 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau